54.7K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

مجھے پہلے پہل لگتا تھا ذاتی مسئلہ ہے۔
مَیں پھر سمجھا محبت کائناتی مسئلہ ہے۔
پرندے قید ہیں تم چہچہاہٹ چاہتے ہو۔
تمہیں تو اچھا خاصا نفسیاتی مسئلہ ہے۔
پانچ منٹ بعد. واش روم سے نکل کر وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی جلدی سے بالوں کو کنگھی کئے وہ بنا میک اپ کئے موبائل اٹھائے وہ روم سے باہر بهاگی تھی. … پارکنگ میں اسے سامنے ہی وائز کی کار نظر آئی تھی. ..بنا دیر کئے وہ اس کی طرف بڑھی. ..
آگئی. … فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھتی پهولی سانسوں کے ساتھ بولی تھی. …
پورے سات منٹ لیٹ ہو. … ایک نظر اسے دیکھتے ..گاڑی سٹارٹ کر کے پارکنگ سے نکال کر ڈور پر ڈالی تھی. ….
تو کیا میں نائیک ڈرس میں ہی آجاتی. … اسکی طرف آئبرو اچکاتی بولی تھی. …
مجھے کوئی مسئلہ نا ہوتا. .. خیر دلہن بن کر تو تم ابھی بھی نہیں آئی. .. ڈرائینگ پر فوکس کرتا سنجیدگی سے گویا ہوا. …
تو کیا آپ دلہا بن کر آئیں ہیں. … اسکی بات اسکے کے منہ پر ماری تھی. …
تم زیادہ بولنا نہیں شروع ہوگئی. … اسکی بات اگنور کئے. .. اپنا سوال دغا تھا. …
وہ کچھ نہیں بولی تھی خاموش ہوگئی تھی. … پتا نہیں کدھر سے اتنی ہمت آگئی تھی کہ وہ کل سے پٹر پٹر بول رہی تھی. .. اب اچانک وائز کی اتنی سرد آواز سن کر زیان تالو سے لگی تھی. .. گلابی نازک لبوں کو دانتوں سے مسلتی ونڈو سے باہر دیکھنے لگی تھی. …
اتنے میں ہی وائز نے گاڑی ایک بہت بری بلڈنگ کی پارکنگ میں پارک کی. ….
آجاو. …. سیٹ بیلٹ کھولتا …علیزے کو دیکھتا بولا. ..
بنا چوں چراں کئے وہ بھی اسکے ساتھ باہر نکل آئی تھی. …
ہم یہاں کیوں آئے. .. جب وائز بنا کچھ بولے بلڈنگ کے اندر لفٹ میں داخل ہوا تھا. .جبھی علیزے عادت سے مجبور دوبارہ بولی تھی. ..
وائز اسکی طرف مڑا تھا. … ایک گہری نظر اس پر ڈالی تھی. .. جو پچھلے کچھ دنوں سے اس کے اعصاب پر سوار ہو کر رہ گئی تھی. …
بے بی پینک ٹی شرٹ وائیٹ جینز پہنے. … بالوں کو کھلا چھوڑے. .. بنا میک اپ کے. .وہ آج کچھ زیادہ ہی سادی لگی تھی. .. مگر وہ آج پھر ہر بار کی طرح اسکے چہرے کی معصومیت پر کهو گیا تھا. ..
کھویا کھویا وہ اسکے قریب ہوتا. ..ہاتھ اسکے ڈرے معصوم سے چہرے کی طرف لے کر گیا تھا. … ابھی اسکا گال چھوتا کے ایک مخصوص آواز کے ساتھ لفٹ رکی تھی. …. بنا لمحے کی دیری کئے علیزے وہ پہلے ہی اسکے یوں قریب ہونے پر ڈر گئی تھی. .باہر بهاگی. ..
وہ آنکھوں کے ساتھ مٹھیاں بھی میچ گیا تھا. … گلے بازوں کی رگیں تن گئی تھی. …. گہرا سرد سانس کھینچتا وہ بھی باہر نکل کر سامنے ایک خوبصورت فلیٹ کی طرف بڑھا تھا. .. جینز کے پاکٹ سے کیز نکال کر دروازہ کھول کر علیزے کو اندر جانے کا اشارہ کیا تھا. ..
وہ جو کب سے حیران پریشان سی کھڑی چاروں طرف نظریں گھما رہی تھی. ..وائز کے اشارہ کرنے پر. .. مرے مرے قدموں سے اندر داخل ہوگئی تھی. ..اسکے پیچھے ہی وائز کی اندر داخل ہوتا ڈور لاک کر گیا تھا،….
کیسا ہے. . لائیٹز آن کرنے کے بعد پردے ہٹاتا سرسری سا بولا تھا. ..
مجھے یہاں کیوں لائے. …. علیزے نے خوشک پرتے لبوں کو تر کرتے ہوئے کہا تھا. .. اسے کسی انہونی کا احساس ہورہا تھا. …
رہنے کے لیے. ..میرے ساتھ ادھر ہی رہو گی اب…. یہ میرا اپنا فلیٹ ہے. ..جو کسی کو نہیں پتا. ..فام ہاوس بھی ہے مگر وہ ڈیڈ کو پتا ہے. …اس لئے ادھر ہی رہیں گے. …. صوفے پر گرنے کے اندر میں بیٹھتا اسے گہری نظروں سے دیکھتا بولا تھا. ..
وہ توپہلے سے بڑی آنکھوں کو اور بڑا کئے. … اسے دیکھ رہی تھی. … ان نے تو ساری بات میں سے ایک ہی بات سنی تھی کہ وہ اسکے ساتھ ادھر رہے گی. …
م مجھے ہاسٹل جانا ہے. …. حلق تر کرتے. ..ہوئے بولنے کے ساتھ اسکے پاس ہی صوفے پر بیٹھی تھی. .. آنکھیں لبالب آنسوؤں سے بھری تھی. ..
ہمم…. ابھی تو دیکھانے لایا تھا. … باقی کل آئیں گے. .. تم بھی ادھر سے جا کر اپنی پیکنگ کر لینا. … صبح میں پک کرلوں گا. .. اسکے قریب ہوتا. ..اسکا سر اپنے سینے سے لگائے. .. نرم لہجے میں بولا تھا. ..ساتھ ہی سکون سے آنکھیں موند گیا تھا. … کتنے دنوں بعد اسے سکون نصیب ہوا تھا. ….
مجھے. ..واپس جا جانا ہے. ..نہیں رہنا. ادھر…. پہلے تو وہ اسکے اتنے نرم لہجے پر حیران ہوئی تھی. .وہ تو ہر وقت مرچیں چباتا تھا. …. پھر ہمت کرتی. .. اسکا خود گے گرد احصار توڑنے کی کوشش کرتے بولی تھی. … دل کی دھڑکنیں منتشر ہوئی تھی. ….
شیششش. … نہ مت کیا کرو مجھے. .. اسکے لبوں پر اپنا بهاری ہاتھ رکھے اسکے خاموش کرواتا. ..مخمور لہجے میں بولا تھا. دوسرے ہاتھ سے شرٹ کے اوپری دو بٹن کھول چکا تھا. ….. دل اسکا بھی کانوں میں گونج رہا تھا. … سانسیں بهاری سی ہوگئی تھی. …
علیزے نے آنکھیں بند کر لی تھی. ..بولنے تو کچھ ہو نہیں رہا تھا. ..جبھی پلکوں کے بالر گرا دئے تھے. … اسے دور ہونے کی کوشش بھی تر کر دی تھی. …کیونکہ ایسا کرنے پر وائز نے گرفت کافی حد تک سخت ترین کردی تھی. ..
وہ مخمور سا ہوتا. دنیا و مافیا بهلائے .. اسکا خوبصورت معصوم چہرہ دیکھنے میں مگن تھا. … مگر اس بے خودی کو وائز کے موبائل کی رینگ ٹون نے توڑا تھا. ..
وہ جی جان سے بد مزہ ہوا تھا. …گہری سانس ہوا کے سپرد کرتے وہ اسکا سر دوبارہ اپنے سینے سے لگائے. ..موبائل پاکٹ سے نکال کر کال اٹھا چکا تھا. ..
علیزے زور سے اس کی شرٹ مٹھیوں میں میچے آنکھیں بھی میچ چکی تھی. .. دل زوروں سے دھڑک رہا تھا. ……
■■■■■
..بلیک جینز. ..ریڈ شرٹ پر بلیک سٹائلش شارٹ جیکٹ پہلے. .. بالوں کو ہائی پونی کئے … گاگلز آنکھوں پر لگاتی وہ یونی سے نکلی تھی. …سامنے ہی اپنی کار کی طرف جاتی جاتی رکی تھی. .. کیونکہ سامنے ہی راجر کی کار کھڑی دیکھ لی تھی. ..مگر پھر اسے اگنور کئے وہ اپنی کار کی طرف بڑھی تھی. …..
رکوو. .. کار کا فرنٹ ڈور کھولتا ہاتھ. ..راجر کی سٹاپ آواز پر پل بھر کو رکا تھا. … وہ مڑی نہیں تھی مگر دروازہ بھی نہیں کھولا تھا. ..یوں ہی کھڑی رہی. …. دوسرے ہاتھ سے آنکھوں سے گاگلز بالوں پر لگا لئے تھے. ..
اسنے پوری رات خود سے لڑتے لڑتے گزار دی تھی. …. وہ خود اپنی فیلنگز کو کوئی نام نہیں دے سک رہی تھی. .یا پھر دینا ہی نہیں چاہ رہی تھی. …… وہ جتنا دور رہنا چاہتی تھی راجر سے وہ اتنا ہی قریب ہوتا جا رہا تھا. ….
اگنور کیوں کیا. … جب دیکھا تھا میں کھڑا ہوں تو ادھر کیوں آئی. …اسکے سامنے آتا بازو سینے پر باندھے بلکل سٹاپ انداز میں اس سے گویا ہوا. …
ہمم. … میں اگر تمہیں بلاتی اور پھر اگنور کرتی تو تمہارا پوچھنا بنتا تھا. ..مگر میں نے نہیں بلایا. … گاڑی کے دروازے سے اپنا ہاتھ ہٹاتی. ..اپنے سامنے کھڑے راجر کو بغور دیکھتی. .اسی کے انداز میں گویا ہوئی. ..
وائیٹ شرٹ. . جس کے اوپری تین بٹن ہمیشہ کی طرح کھلے تھے. .. بلو پینٹ پہنے. ..بالوں کی چھوٹی سے پونی بنائے. … وہ اپنی پوری وجاہت کے ساتھ اسکے سامنے کھڑا سٹاپ نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا. ..
مگر میں تم سے ملنے آیا ہوں. ..اور یہ بات تم جانتی ہو. ….. اسے نظریں ہٹا کر سامنے یونی سے نکلتے سٹوڈنٹس کو دیکھنے نارمل انداز میں بولا تھا. ..
کیوں آتے ہو میرے پیچھے. … اس دن ہلپ کردی. ..شکریہ کہہ دیا تھا. ..بات ختم. … اب سے نا میں تمہیں جانتی ہوں نام مجھے. …. وہ قدرے ترخ کر بولی تھی. ..وہ بھی بس ہورہی تھی. … اسکا دل گھٹنے ٹیکنے کا کہہ رہا تھا. ..اسکا دل کہیں اندر. .بہت اندر کہہ رہا تھا کہ مان جائے وہ ہار گئی تھی. …. اب اسے آنے والے وقت میں فرض اور محبت میں سے کسی ایک کو چننا تھا. …جو یقیناً اسکے لئے مشکل ..یا پھر ناممکن ہونا تھا. …
کیونکہ اچھی لگتی ہو. . وہ اسکے تاثرات کو جانجتی نظروں سے دیکھتا بولا. …. وہ بالکل اطمینان سے اسکا اطمینان غارت کرگیا تھا
نیناں حیرت سے گنگ ہوتی اسے دیکھے جارہی تھی. .. چہرے کا رنگ لال ہوگیا تھا. … دل کی دھڑکنیں کانوں میں ڈھول پیٹنے لگی تھی. …. دل بغاوت پر اتر آیا تھا. … اپنے فرض سے بغاوت پر. …. دل کی باتوں کو. … خواہش کو یکسر مسترد کرتی وہ نگاہوں کا زاویہ بدل گئی تھی. ..چاہنے کے باوجود وہ وہ اپنے دلی جذبات چہرے پر نا آنے سے محفوظ نہیں رکھ سکی تھی. …..
. راجر چہرے پر بہت دھیمی مسکراہٹ لئے اس کا ایک ایک تاثر پر غور کر رہا تھا. ….. جیسے جاننا چاہتا ہو کہ اسکے اندر کیا تھا. …وہ کیا سوچ رہی تھی. … یا وہ اس بارے میں کیا سوچتی تھی. …
کچھ سوچتا وہ اسکے قریب. .. بلکل قریب ہوا تھا…. اپنا چہرہ اسکے اسکے چہرے کے قریب لے کر جاتا. … اسکے کان کے قریب ہوتا بولا تھا. ..بولتے ہوئے اسکے لب نیناں کے کان کی لو سے مس ہررہے تھے. …
……………………………………. I think I am in love with you.
بولنے ساتھ اسکے کان کو ہلکا سا چھوتا وہ یک دم پیچھے ہوا تھا. …..گرین شوخی لیے آنکھیں اسکے خوبصورت. .چہرے پر جما لی تھی. …
وہ تو پہلے ہی اتنی حیران سی ہوئی تھی. ..پھر اچانک اسکے قریب آنے. .. اسکی بات. … اسکے لمس پر وہ مرنے والی ہوئی تھی. ….. دل مانو باہر آنے کو مچل رہا تھا. …..
چہرے پر جھولتی کچھ آوارہ لٹوں کو ہاتھ کی مدد سے پیچھے کرتی وہ خجل سی ہوتی چاروں طرف دیکھنے لگی تھی. ..یوں جیسے اسنے کوئی چوری کی ہو. ..مگر غلطی سے بھی راجر کی طرف نہیں دیکھا تھا. …. جو ٹکٹکی باندھے اسکی کو دیکھ رہا تھا. .جیسے اپنے نگاہوں کی پیاس بجھا رہا ہو. …..
اب اتنا لڑکیوں کے بارے میں نہیں جانتا. .. کبھی لڑکیوں کے قریب رہا نہیں. . ورنہ یہ چہرے سے بال تمہیں پیچھے نا کرنے پڑتے. …. وہ اسے بال کان کے پیچھے کرتے ہوئے دیکھ کر بولا تھا. ..
ہ ہٹو. … دوسرا ہاتھ اسکے سینے پر رکھے دور کرتے ہوئے کہا. .مگر جب اپنا ہاتھ شرٹ کے بجائے اسکے سینے پر محسوس ہوا. ..وہ خجل ہوتی. ..بوکهلائی ہوئی گاڑی کا دروازہ کھول چکی تھی. ..پھر بنا اسکی طرف دیکھے گاڑی سٹارٹ کردی. .. مگر اسے ..جاتے جاتے راجر کے زندگی سے بھرپور قہقہے کی آواز سنائی دی تھی. ..اسکا دل کیا کہ رک کر اسے دیکھے مگر پھر خود کی خواہش پر لعنت فرمائی. ..گاڑی بھگا کر لے گئی. ….
وہ پیچھے چہرہ آسمان کی طرف کئے کهل کر ہنستا رہا تھا. .کئی لوگ ایک حیران نظر اسپر ڈال کر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوجاتے تھے. ..
وہ قہقہہ لگاتے لگاتے یک دل رکا تھا. .. چہرہ نیچے کیا تھا. … جو بالکل سٹاپ تھا. ..لگ نہیں رہا تھا کہ وہ کچھ لمحے پہلے پاگلوں کی طرح ہنس رہا تھا. …..
ایسے کیسے تم مجھے نہیں جانتی اور میں تمہیں نہیں جانتا. ..شرٹ پر لگی گاگلز اتار کر گرین پرسرار آنکھوں پر لگائے وہ خود ہی سے بڑبڑایا تھا. …..ساتھ ہی چہرے پر ایک دلکش مگر پرسرار مسکراہٹ آگئی تھی. ..
ایک نظر چاروں طرف ڈالنے کے بعد وہ ایک لمحے کو رکا تھا. … شاید اسے لگا تھا کہ اسے کوئی دیکھ رہا تھا. …مگر پھر اگنور کرتے وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھا تھا. ……
لٹی سیدھی چالیں چل کر. …
آنکھ بچا کر مہرہ بدل کر…..
شاطر قسمت ہنسی جائے. …
مات ہوئی ہے مات ہوئی ہے. .
■■■■■
بات وفاؤں کی ہوتی تو کبھی نہ ہارتے
بات نصیب کی تھی کچھ کر نہ سکے🤎
رات کا وقت ہوگیا تھا. .. صبح 9 بجے کی نکلی وہ ابھی 9 بجے ممبئی پہنچی تھی. ….. آئش. .راکیل کناٹ پہلے کے ہی پہنچ چکے تھے. …. اور اب وہ ایک اوپن ریسٹورنٹ میں بیٹھے ڈنر کررہے تھے. ..
کل کے کنسرٹ کے بارے میں کیا سوچا ہے. … جوس کا سپ لیتا آئش ہیر سے بولا تھا. ..
وہ جو فرائیڈ چکن فاک کے کھانے کے بجائے کھیل رہی تھی. ..آئش کی آواز سن کر یک دم جیسے ہوش میں آی تھی. … اسکا دهیاں کی چیز میں نہیں لگ رہا تھا. …رہ رہ کر راج پر غصہ آرہا تھا. …وہ یہ سوچ رہی تھی کہ اب تک آئش کو پتا کیوں نہیں چلا تھا کہ اسکی بہن گھر سے غائب ہے دو دن سے. … وہ پورے رستے بھی یہی سوچتی آئی تھی پھر اوپر سے کارلوس. … اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کرے گا کرے کیا. …. سہی وقت پر سہی پریشانیاں آئی تھی. … میوزک کنسرٹ. .. ڈانسنگ. ..وہ کس کس کو ٹائم دیتی. …
آئش تمہاری بہن کدھر ہے. .. وہ بے دھیانی میں بے اختیار ہی پوچھ بیٹهی تھی. ..
آئش کو کب سے اسے اتنا کھویا کھویا نوٹ کرہا تھا. … اب اسکے اتنے ان اسپیڈ سوال سے حیرت سے اسے دیکھنے لگا تھا. ..ساتھ ہی اسے الیانہ کا خیال آیا تھا. … وہ جب سے ادھر آیا تھا. .. دو تین دفعہ بات ہوئ تھی اس سے. .پچھلے دو دن میں تو وہ کال بھی نہیں اٹھا رہی تھی. ..پھر اسنے ہاشم کا کال کی تھی جس سے پتا چلا تھا کہ وہ ٹھیک ہے. .. وہ مطمئن تو نہیں ہوا تھا. ..مگر خاموش ہوگیا تھا. …
کیوں. … آئش کی حیرت سے ڈوبی آواز پر وہ ہوش میں آئی تھی. …. اس نے ایک نظر آئش کو دیکھنے کے بعد راکیل اور کناٹ کی طرف دیکھا تھا. ..وہ بھی کھانا چھوڑے اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے. … مطلب آئش نے کیا پوچھنا تھا اور وہ کیا کہہ رہی تھی. …
ن نہیں میرا مطلب کہ. ..نہیں. .ایسے ہی پوچھ لیا. ..وہ ایک دم سب کو خود کو دیکھتا پا شرمندہ سی ہوتی. … بولی تھی اسے بھی پتا چلا تھا کہ وہ کیا اور کس وقت بول چکی تھی. …
مجھے لگتا ہے تمہیں آرام کی سخت ضرورت ہے. .. ہم کل کے میوزک کنسرٹ کے بارے میں کل ہی بات کرلیں گے. ..تم تهکی ہوئی ہو ابھی. … تبھی اناب شناب بولے جا رہی ہو. … آئش نیپکن سے منہ صاف کرتا فکرمندی سے گویا ہوا. .. وہ الگ بات تھی کہ وہ ہیر کے منہ سے الیانہ کا سن کا کافی شاک ہوا تھا. .. ساتھ ہی اسکے دماغ میں کلک ہوا تھا کہ وہ الیانہ کی فوٹو دیکھنے کے بعد ہی اتنی کنفیوز سی ہوگئی تھی. . ڈانس. کمپیٹیشن میں اسکی پرفارمنس. ..پھر اچانک جاپان چلے جانا اور پھر اب اچانک اسکا الیانہ کے بارے میں پوچھنا. ل.. اسے حیران کرگیا تھا. .. اس سب کے جواب بعد میں لینے کا سوچ کر وہ بل کرتا اٹھا تھا. … اسکے اٹھتے ہی راکیل اور کناٹ کی کوئی بات کرتے نکل گئے تھے. ..
آئش نے ایک نظر ہیر کو دیکھا تھا. … جو نجانے کون سی دنیا میں تھی. ..پلیٹ میں فاک پھیرتی وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی. …
ایک سرد سانس ہوا کے سپرد کرتا وہ اٹھا تھا. ..ساتھ ہی گلاس زور سے ٹیبل پر بجایا تھا. ..
ہیر سر جھڑکتے اسکی طرف مڑی تھی. … اسے ایک دم شرمندگی سی ہوئی تھی. .راکیل اور کناٹ کو نا دیکھ کر. ..نجانے وہ کب آٹھ کر چلے گئے تھے. …
سو سوری…. شاید میں درد ہے شاید اسی لیے. ..وہ کہنے ساتھ ہی اپنا لکچ اٹھائے ..بنا اسے دیکھے گاڑی کی طرف بڑھی تھی. …
سو سوری. … اور ہیر. .. ہمم شاید سچ میں سر میں بہتتتتت درد ہے. … ورنہ ہیر اور مجھے سوری. ..ناممکن. ..اسکے جاتے ہی کچھ لمحے شاک میں اسے دیکھنے کے نظر کئے وہ شاک کی کیفیت میں خود سے بڑبڑاتا. ..ان کے پیچھے بھاگا تھا. ….
■■■■■■
اس کی مرضی وہ جسے چاہے پاس بٹھا لے اپنے
اس پر کیا لڑنا کہ فلاں……. میری جگہ بیٹھ گیا
وہ کافی دیر باہر دیکھنے کے بعد اب آخر ایک فیصلہ پھر پہنچی تھی. .. اسے یہاں سے بھاگنا تھا. ..ہر صورت. … ابھی گھنٹے پہلے ہی راج نے اسے بتایا تھا کہ وہ کسی ضروری کام کے سلسلے میں جا رہا ہے اور لیٹ آئے گا اسی لئے وہ سو جائے. … مگر وہ کیسے سوجاتی. … اب اس پورے گھنٹے میں پورا گھر دیکھنے کے بعد اسے بیک ڈور ملا تھا. ….
اپنے جاگرز اتار کر ہاتھ میں پکڑے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی باہر کی طرف نکلی تھی. .. بیک ڈور پر کیونکہ گارڈز نہیں تھے. …اسے مسئلہ نہیں ہوا. …. باہر نکلنے کے بعد. … جاگرز پہنتی. … چاند کی روشنی میں اس گهنے جنگل کو دیکھتی جنگل کی طرف بهاگی تھی. …….. کئی بار بھاگتے ہوئے وہ گری بھی تھی. … مگر پھر سے اٹھ کر بھاگنے لگی تھی. .. اسے جو بھی کر کے نکلنا تھا. … اس راج نہیں تھا. ..پھر نجانے کب اسے یہ موقع ملتا. … مسلسل دو گھنٹے بھاگنے کے بعد اسے چاند کی روشنی میں ہی ایک کچا رستہ نظر آیا تھا. …. اسنے رفتار اور بڑها دی تھی. ….
کچے راستے پر آکر اسنے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر گہرے گہرے سانس لئے تھے. ..
اوور گاڈ. …… .کیا کروں. …. اس گرین مونسٹر کے ہاتھ لگ گئی ہے بچو گی نہیں. .. پلیز گاڈ بچا لو. …جاؤں کس طرف. …. وہ کافی دیر سانسیں ہموار کرنے کے بعد اس کچے راستے کو دیکھتی خود ہی سے پریشانی سے بولی تھی. … رستہ آگے دو رستوں میں بٹ گیا تھا. …اب اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے. ..
جب کچھ سمجھ نہیں آیا تھا ادھر ہی ایک بڑے سے پتھر پر بیٹھ گئی. …..
اسے بیٹھے اب پندرہ بیس منٹ ہی ہوئے ہوں گے کہ اسے دور سے موٹر سائیکل کی آواز آئی تھی. …
یہ کون ہے. …. کیا کروں لفٹ لوں. …. وہ بائیک کو دیکھتی ہوئی بولی تھی. ….
مگر وہ بائیک خود اسکے پاس رکا تھا. …..جس پر دو موٹے کالے افریقن نیچے اتر کر اسکی طرف بهرے تھے. ..
وہ انہیں. اپنی طرف آتا دیکھ کر خوف سے کامپی تھی. … اسے تو اچھا تھا. ..راج پیلس ہی رہا لیتی. ….
اوور آج کی رات کے لئے بیوٹی ڈھونڈنے سے پہلے ہی مل گئی ہے. …. ان میں سے ایک کالا اسکے ہاتھ کو چھوتا. . انگریزی میں بولا تھا. .. جب کہ دوسرا بندہ بھی اسکے قریب ہوا تھا. ..
الیانہ کی جان لبوں پر آئی تھی. .. آج سے پہلے اسے ایسی کسی سچویشن کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا. .. اب وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کیسے بچائے ان سے خود کو. ..
دیکھو مجھے جانے دو. ..پلیز. دور ہٹو. … اسنے قدرے چیختے ہوئے ان دونوں کو خود سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا. … آسنو لڑیوں کی مانند بہہ رہے تھے. …
آہہہہ. …. اسکی بات کو اگنور کرتے دوسرے حبشی نے بازو سے پکڑ کر اسے نیچے پھینکا تھا. … جبھی درد کی شدت سے وہ چلائی تھی. .
بچا. ..بچاووو. .. پلیزز. … چهووڑوو مجھے. …پلیززز. ..دور ہٹو. … اس حبشی کو خود کے قریب ہوتا دیکھ کر بے بسی سے چلائی تھی. … مگر ان دو درندوں پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا. ….
ابھی وہ اسپر جھکتا کہ گولی چلنے کی آواز کے ساتھ ہی وہ واپس اسپر گرا تھا. ..سارا خون الیانہ کی گردن پر بہہ رہ تھا. …..
آہہہہ. .. وہ خوف سے چلائی تھی. …مگر جیسے ہی اسنے آنکھیں کھولی تھی. .. اسکی بهوری آنکھیں. … گرین کولڈ آنکھوں سے ٹکرائی تھی. … جو بالکل سٹاپ اسے گھور رہی تھی. … ایک اور گولی چلنے کی آواز کے ساتھ ہی دوسرا کالا حبشی کو بهاگ رہا تھا. ..وہ بھی زمین بوس ہوا تھا. …. اس سب میں راج کی بلکل سٹاپ آنکھیں ایک پل کے لیے بھی الیانہ سے نہیں ہٹی تھی. .. جن کوشش کر کے اس بندے کی لاش کو خود سے دور دکهیلا تھا. ..مگر سکائے بلو فراک اب اسے خون سے لال ہوگیا تھا. .. وہ روتی ہوئی پاگلوں کی طرح ہاتھ کبھی گردن چہرے پر رگڑ کر اسکا خون صاف کرنے کی کوشش کررہی تھی. .جو صاف ہونے کے بجائے زیادہ پھیل گیا تھا….
وہ سٹاپ نظروں سے اسے دیکھتا اسکے پاس ہی نیچے بیٹھا تھا. …
میری بات کو اگنور کر کے تم کیسے باہر نکلی رپینزل. … وہ اسکے بالوں کی لٹ کان کے پیچھے کرتا بلکل سٹاپ لہجے میں گویا ہوا. …
ی یہ. ..یہ صا. .صاف کرو. ..خو خون صاف کرو. …وہ پہلے تو اسکی اتنی کولڈ آواز سن کر اور ڈری تھی پھر ہمت کرتی خود پر لگے خون کو کانپتے ہاتھوں میں رگڑتی روتے ہوئے بولی تھی. ..بس بے ہوش ہونے کی کمی رہ گئی تھی. .. ورنہ تو خوف سے اسکا دل پهٹ رہا تھا. ….
اپنے شوہر کے پاس سے بھاگنے کا بہت شوق ہے نا تمہیں. …کسی چیز کا خوف نہیں ہے تمہیں. .سوائے اپنے شوہر کے. … اسکے بولوں پر گرفت سخت کرتا. اسکے خون سے بهرے وجود کو دیکھتا ..انتہائی غصے کے عالم میں بولا تھا. …
مجھے تمہارے پاس نہیں رہنا. …مجھے جانے. ……
شیششششش. ….. ایسے نہیں کہتے رپینزل ڈارلنگ. …. ایک ہاتھ اسکے لبوں پر رکھ کر اسکے خاموش کرواتا واپس لٹا چکا تھا. ..جبکہ دوسرے ہاتھ سے اپنی شرٹ کے بٹن کهول کر اسے اتار چکا تھا. …
وہ خوف زدہ سی اسے دیکھ رہی تھی. … آنکھیں رو رو کر لال ہوگی تھی. .. اب تو وہ یہ سوچ کر پاگل ہورہی تھی کہ ان گنڈوں سے تو راج نے بچا لیا اب راج سے اسے کون بچائے گا. ..اوپر سے اسکا اتنا کولڈ لہجا. ….وہ تو دو دن سے بہت نرمی سے بات کررہا تھا. …اسے تو اس لہجے کولڈ لہجے سے بہت ڈر لگا تھا. …
ڈارلنگ یہ شرٹ خود پہنوں گی کہ یہ نیکی بھی میں خود ہی کروں. .اپنی شرٹ اسکی طرف بڑھتا جذبات سے عاری لہجے میں بولا تھا. ..
م میں کیسے چینج کروں . … وہ ایک نظر شرٹ کو دیکھے رونا بھول کر پریشانی سے بولی تھی. ..
جبھی تو کہا میں پہنا دیتا ہوں. ..تاکہ تمہیں پتا چل سکے کیسے پہنتے ہیں. .اسکے ہاتھ سے شرٹ لئے سٹاپ انداز میں بولا تھا. ..ساتھ ہی دوسرے ہاتھ سے اسکے جاگرز کے لیسیز کهول کر انہیں اتار کر دور اچھال چکا. ..نجانے کیا چل رہا تھا اسکے دماغ میں. ….
ن. .نہیں ادھر مڑو م. میں خود پہن لیتی ہوں. … پہلے ہی حیرانگی سے اپنے شوز کو دیکھتی پر جلدی اس کے ہاتھ سے شرٹ لیے بولی تھی. ..
مگر وہ بلکل سٹاپ انداز میں اسے ہی دیکھ رہا تھا. ….پھر کچھ سوچتا اسکے قریب ہوا تھا. ….