54.7K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

کبھی یہ دعویٰ کہ وہ میرا ہے فقط میرا ہے
کبھی یہ ڈر کر وہ مجھ سے جدا تو نہیں
کبھی یہ دعا کے مل جائیں
اسے سارے جہاں کی خوشیاں
کبھی یہ خوف کہ جوش وہ میرے بنا تو نہیں
کبھی یہ تمنا کہ بس جائوں اس کی نگاہوں میں
کبھی یہ ڈر کہ اس کی آنکھوں کو کسی نے دیکھا تو نہیں
کبھی یہ خواہش کہا منتظر ہو زمانہ اس کا
کبھی یہ وہم وہ کسی سے ملا تو نہیں
کبھی یہ آرزو جو مانگے مل جائے اسے
کبھی یہ وسوسے اس نے میرے سوا کچھ مانگا تو نہیں
پورے کمرے میں اندھیرا اور دهواں پھیلا ہوا تھا. .. وہ بیڈ پر بیٹھا کراون سے ٹیک لگائے. .سگریٹ پر سگریٹ پئے جا رہا تھا… ہر وقت ہنس مکھ رہنے والا اب تاریکی میں پناہ ڈھونڈ رہا تھا. …اسے روشنی سے وحشت سی ہونے لگی تھی. .زندگی کی حقیقت اتنی تلخ تھی کہ وہ یکدم سے قبول ہی نہیں کرپا رہا تھا. ..پہلے ہیر کا اتفاقیہ ملنا. ..پھر الیانہ کا نایانگہ جانا. ..پھر آئش کا دبئی جانا. ..ہیر سے ملنا. .. اسکی عادت ہونا. ..اسکا ضروری ہونا. ….پھر ہاشم کا فون. .آنا. ..پھر سب ہی الٹا ہونا شروع ہوگیا تھا. … ہیر. .اسکی پہلی محبت. …وہ کون تھی. …کیا تھی. …کیسی تھی. ….وہ سب جان گیا تھا. …الیانہ کدھر ہے وہ جان گیا تھا. ..نہیں جانا تو بس اتنا کہ کیا وہ بھی اسے چاہتی تھی. ..
اسے یاد تھا کہ ورن سے ملنا. … ورن کو اسنے سب بتا دیا تھا. … وہ اچھا دوست تھا. .گھر آتا جاتا تھا. ….تو اسلئے اسنے سب بتا دیا تھا. …ورن نے اسے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس کی مدد ضرور کرے گا. ..اور پھر اسسنے کی بهی. ..مگر وہ باتیں اسکو پتا چلی وہ کافی دیر تک یقین ہی نہیں کرپایا تھا. …
یہ کہ الیانہ ہیر نے بهائی منان کے پاس ہے. .اور بالکل ٹھیک بھی ہے..یہ بھی کہ وہ ریا ہے. ..ایک گینگسٹر گرل. … راج. ..راجر. …ایک ایسا گینگ جس کے پیچھے آدهی دنیا خوار ہے. …جو موسٹ وانٹڈ کریممل ہیں. ….اسنے نجانے کتنوں کو بے گناہ مارا. .قتل کیا. … کیا کیا. ….وہ شاک ہوگیا تھا. ..وہ تو اسے ایک نازک سی لڑکی سمجھتا تھا. …. مگر وہ تھی کیا. ….اسنے کوشش کی کہ وہ نفرت کرسکے. ..اسے بھول سکے. ….مگر وہ بہت بری طرح ناکام ہوا تھا. …پوری پوری رات اسے سوچ کر وہ گزار دیتا تھا. …. نفرت ت دور کی بات وہ اسکے بارے میں سوچنا بھی نہیں چھوڑ سکتا تھا. …
انسان اپنا آدھا زہنی توازن تو تب کهو دیتا ہے. ..
جب اپنے من پسند شخص کو کسی اور کے ساتھ دیکھتا ہے. ..
شام میں ہی ورن. ..کناٹ اور راکیل اسے زبردستی ریسٹورنٹ لے گئے تھے. …مگر جیسے ہی وہ انٹر ہوئے. ….سامنے ہی اسے ہیر نظر آئی تھی. ..جہاں اسے اتنے دونوں بعد دیکھ کر اسے سکون ملا تھا وہیں اسکے ساتھ بیٹھے کارلوس کو دیکھ کر دل میں ٹیس سی اٹھی تھی. …کافی دیر وہ بس کھڑا ان دونوں کو دیکھتا رہا تھا. …
پھر کناٹ اسے دوسری طرف لے گیا تھا. …تب جب وہ پیچھے مڑا وہاں کارلوس نہیں تھا. .اور ہیر بهی نکل رہی تھی. ….
ورن اور کناٹ کے ساتھ وہ آکر بیٹھ گیا. …راکیل ان سے اکسیوز کرتی باہر نکل گئی. ..وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ کدھر گئی. .مگر دل نے چاہا تھا کہ وہ ہیر کو لے آئے. …اور پھر وہ آگئی. …اسکے سامنے وہ تلخ نہیں ہونا چاہتا تھا. …مگر اسکا یوں بے پروا ہوکر بیٹھنا اور پھر کارلوس کو سوچ کر وہ خود پر ضبط نہیں کرسکا تھا. ….
جب سے وہ وہاں سے آیا تھا. .تب سے کمرے میں پڑا بس سگریٹ پیئے جا رہا تھا. … بار بار اسکو وہی لمحہ یاد آرہا تھا جب ہیر کارلوس کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی. …دماغ اسکا شل ہورہا تھا. …ابھی وہ ایک اور سگریٹ سلگاتا کہ باہر سے آواز سنائی دی. ..سگریٹ پاس پڑی آیش ٹرے میں مسلتا وہ …سائیڈ بلینکٹ اتارتا ..سلیپر پاؤں میں اڑیستا باہر کی طرف بڑھا تھا. ….
آواز الیانہ کے کمرے سے آرہی تھی. …. وہ جانتا تھا ادھر میرب ہی ہوگی. ..گلاس ڈور سلائیڈ کرتا وہ اندر آیا. ..سامنے ہی میرب الیانہ کے بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے ووڈن فلور پر بیٹھی ہوئی تھی. ..
الیانہ. ….الیانہ. … میری بچی. ..کدھر چلی گئی ہو. ..کہاں ڈھونڈو میں تمہیں. ….کیسی ہو گی. .کس حال میں ہو. …میرب کب سے الیانہ کی فوٹو سینے سے لگائے روئے جارہی تھی. .. مہینے سے زیادہ ہوگیا تھا. .مگر الیانہ کا کچھ بهی پتا نہیں چلا تھا. …. اب تو رہ رہ کر بھی تهک گئی تھی. ..اوما اور ہاشم کی طبیعت خراب تھی. ….
آئش کبھی ایک تو کبھی دوسرے کو سنبھال رہا ہوتا ….
مومم، …اٹھیں. .اوپر. …سب ٹھیک ہوجائے گا. ..پلیز آپ ہمت نہ ہاریں. ..آئش ان کو سہارا دیتا بیڈ پر بیٹھاتے ہوئے بولا. ….ان سے زیادہ خود کو تسلی دے رہا تھا. …
م میری. ..ب ب بچییی. ..کدھر ہے. …وہ غنودگی میں جاتی بہت دھیمی آواز میں بولی تھی. ….
مومم. … ہمت کریں اٹھیں. ..ہاسپٹل جانا ہے ہمیں. ..پلیزز. …. آئش انکی بگڑتی حالت دیکھتا پریشانی و فکرمندی سے بولا. ..ساتھ ہی انہیں سہارا دیتا باہر لایا . …وہ بہوش تو نہیں ہوئی تھی مگر ہوش میں بھی نہیں تھی. …
کتنا صبر کرتی آخر ایک ماں کا دل رکھتی تھی. ..
انہیں آرام سے نیچے لاتا گاڑی میں بیٹھایا تھا. … جلدی سے ڈرائیور سے چابی لیتا وہ خود بھی گاڑی میں بیٹھتا گاڑی زن سے بھگا کر لے گیا. ….. .بکهرے بال. ..سرخ آنکھیں. …بهیچے لب. …چہرے پر پتھریلے تاثرات چهائے ہوئے تھے. …دل اندر ہی اندر کسی بچے کی طرح رو رہا تھا. .بلک رہا تھا. …مگر آنکھوں سے ایک آنسوؤ بھی نہیں نکلا تھا. ….وہ سب کو سمیٹتے سمیٹتے خود بکهر گیا تھا….
اے حرف تسلی. ..تیرے مشکور ہیں لیکن. …
یہ ‘ خیر ہے’ سے بہت آگے کا دکھ ہے. …
■■■■■
گاڑی میں بالکل خاموشی چھائی ہوئی تھی. ..وائز سنجیدہ تاثر لئے ڈرائیو کر رہا تھا. .جبکہ ساتھ بیٹھی علیزے. .پریشانی و خوف کے باعث انگلیاں مڑوڑ رہی تھی. ….
ریڈ لانگ سلیو لیس میکسی پہنے. .. آنکھوں پر مسکارا. .ڈیپ ریڈ لپ اسٹک لگائے. … ہلکے پھلکے میک اپ میں. ..بالوں کو درمیاں میں مانگ نکالے …کرل کئے. … وہ غضب ڈها رہی تھی. ….
وائز ریڈ ٹی شرٹ. .بلیک جینز پہنے. … بالوں کو جیل سے سیٹ کئے. .. کافی خوبرو. .لگ رہا تھا. ….وہ علیزے کو دیکھنے سے اجتناب ہی برت رہا تھا. …
جب اسنے علیزے کو گاڑی میں بیٹھتے دیکھا وہ کچھ لمحے ساکت کھڑا اسے دیکھتا رہا تھا. …. اب وہ اسے دیکھنے سے ڈر رہا تھا. …وہ اسکے سامنے …اسکے حسن کے سامنے ہارنا نہیں چاہتا تھا. ..مگر ہار گیا تھا. ..وہ یہ بات جانتا تو تھا. .مگر مانتا نہیں تھا. ….
انہیں سوچوں کے درمیاں گاڑی آکر ایک بہت بڑے ہوٹل کے سامنے رکی تھی. …
آجاو باہر. ..سیٹ بلٹ کھولتا بنا اسکی طرف دیکھے بولتا باہر نکل گیا تھا. …
علیزے نے پہلے حیرانگی سے ہوٹل کو دیکھا پھر رونی شکل بناتے باہر نکل آئی تھی. ….اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ رو رو کر ..لوگوں کو جمع کر لے. …اور اچھی خاصی چهترول کروائے اس پاگل کی. ..
آپ مجھے یہاں کیوں لائے ہیں. ..علیزے نے دوبارہ نظریں ہوٹل کی بلند عمارت پر ڈالتے وائز سے پوچھا. ….
بتایا تو تھا. ..مگر شاید تم چاہ رہی ہو کہ میں تمہیں دوبارہ بتاؤں. … علیزے کا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ کی گرفت میں لیتا ایک نظر اسکے قیامت خیز حسن پر ڈالتا وہ بلڈنگ کی طرف بڑھا. ….
علیزے حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی. ..جو اب کاونٹر پر کھڑی لڑکی سے. کیز لے رہا تھا. ….
یہ زکوٹا جن مجھے ادھر کیوں لایا ہے. …… وہ اسکی سخت گرفت میں اپنا مومی ہاتھ دیکھتی خود سے ہی بڑبڑائی. .. مگر جب نظریں اوپر اٹھائی وہ وہ اسے ہی گھور رہا تھا. ..شاید. ..نہیں یقیناً اسنے علیزے کی گوہر افشائی سن لی تھی. ..
میں نے کچھ نہیں کہا آپکو. … وہ اسکو دیکھتے اعتماد سے بولی تھی. …مگر دل میں کہیں وہ پتھر یاد آیا تھا. ..
وہ ہنکار بھرتا اسکو ساتھ لئے لفٹ کی طرف آیا. … تھرڈ فلور پر رکتا اندر روم کی طرف بڑھا. …علیزے دم چهلی بنی اسکے پیچھے پیچھے چل رہی تھی. ..
آ بهی جاو. ..وائز دروازہ کھولتا جب اندر چلا گیا. .علیزے کو دروازے پر ہی کھڑا دیکھتے بولا تھا. …
علیزے حیرت سے سارے روم کو دیکھ رہی تھی. … لائیٹ کے بجائے پورے روم میں خوبصورتی سے بتیاں لگی ہوئی تھی. … کھلے کمرے میں گلاس وال پر ہلکے گلابی رنگ کے پرے لہرا رہے تھے. … درمیان میں رکھے کینگ سائز بیڈ پر سفید بیڈ شیٹ. .اور ریڈ کمفرٹر پڑا تھا. ….
دائیں جانب بڑی خوبصورتی سے سجائی گئی تھی. …ریڈ اور وائیٹ بیلونز کے درمیان ٹیبل اور دو کرسیاں رکھی ہوئی تھی. …ٹیبل کے دو سائیڈز پر بهی موم بتیاں رکھی گئی تھی. …ٹیل کے اوپر چاکلیٹ کیک اور ڈنر رکھا گیا تھا. ….
و وائزز ی..یہ سببب. ..علیزے ڈرتے ہوئے بولی تھی. ..چھٹی حس شدت سے کچھ غلط ہونے پتا دے رہی تھی. … آے سی کی فل کولیگ کے باوجود اسے پسینہ آرہا تھا. ….
وہ دلکشی سے مسکراتا اسکی طرف بڑھا تھا. …علیزے نے اسے اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر بے اختیار دو قدم پیچھے ہوئی. ..اسکے پیچھے ہونے کی وجہ سے دروازے سے لگتی دروازہ بند ہوگیا تھا. … اسنے آنکھیں سختی سے بهیچ لی. ..دل کانوں میں دھڑک رہا تھا. …..
وہ اسکے بالکل قریب ہوتا. ..ایک ہاتھ ناب پر رکھ کر لاک لگایا تھا. ..پیاسی نگاہیں اسکے چہرے کا طواف کر رہی تھی. …
ڈر کیوں رہی ہو. …دوسرے ہاتھ سے بال کان کے پیچھے کرتا سرگوشی نما بولا تھا. …وہ دونوں کافی قریب کھڑے ہوئے. ..اتنا کہ ایک دوسرے کی سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کر رہے تھے. …ڈھول کی مانند بجتی دھڑکنوں کو بخوبی سن سکتے تھے. …..
وائ وائز. …گ گھر جانا. ..ہے. ….بنا آنکھیں کھولے کپکپاتے لبوں سے بولی تھی. ..اسکی زرا سی قربت اسے پاگل کررہی تھی. ..
ادھر بھی تم میرے ساتھ اکیلی ہی ہوگی. …مجھ سے فرار ناممکن ہے آج. ….اسکے کان کے پاس جهکتا دهمیی آواز میں بولا تھا. .ساتھ ہی اسکے کانوں پر اپنا دہکتا لمس چھوڑا تھا. …ایک سرور تھا جو پورے وجود میں پھیل رہا تھا. ..ایک انوکھا سا سکون پورے جسم میں سرائیت کر گیا تھا. ..صدیوں کی وحشت کو قرار سا آرہا تھا. ….
وا وائز مجھے. .پاکستان. .جانا. …..
شیشششش. ..آجاو پہلے ڈنر کرلو. ..پھر بات کرتے ہیں. …اسکی بات اسے یقیناً پسند نہیں آئی تھی جبھی اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی اسکے لبوں پر شہادت کی انگلی رکھتا اسکے خاموش کرواتا. … بولتے اپنے ساتھ لئے ٹیبل تک آیا تھا. ….چئیر کھسکاتا اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے خود بھی اپنی چئیر پر بیٹھا تھا. ..چہرے پر جہاں پہلے محبت. ..جنون. ..دیوانگی کے سے تاثرات تھے اب بالکل سٹاپ چہرہ تھا. …..
علیزے لب کاٹتی پلیٹ میں چمچ گهما رہی تھی. ..ننھا سا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا. … اسے بیکوقت رونا اور ڈر ہونے لگ رہا تھا. …. اسنے نظریں اٹھا کر وائز کو دیکھا جو کھانا چھوڑے اسے ہی دیکھ کم گھور زیادہ رہا تھا. ..علیزے نے فٹ سے چمچ منہ میں ڈالی. ..
کیک کاٹ لو. ..کھانا کھانے کے بعد کیک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا. ..
ن نہیں. …. نفی میں سر ہلاتی وہ کیسے بھی کر کے کوئی فرار کا رستہ ڈھونڈ رہی تھی. ….
و وائز نہیں. …..ہوش تو تب آیا جب وائز نے بازو سے پکڑتے اسے اٹھاتے بیڈ کی طرف بڑھا تھا. …….
لیٹ جاوو. …. اسے سختی سے کہتا خود بھی دوسری طرف آکر لیٹا تھا. ….
اب دونوں چت لیٹے چهت کو دیکھ رہے تھے. ….وائز سنجیدہ سا تھا. .جبکہ علیزے ہولے ہولے کپکپا رہی تھی. ….
کل شام کو ہم پاکستان کے لئے نکل رہیں ہیں. …دل چیرتی خاموشی کو وائز کی بھاری آواز نے توڑا تھا. …
ہیںںںںںں. …. علیزے تقریباً چلاتے ہوئے اٹھی تھی. …وائز کے قربت ہوتی وہ حیرت و خوشی کی مورت بنی. ..مومی گڑیا اسے بن پیئے بہکا رہی تھی. …
ہمم. …تمہیں تمہارے پرینٹس سے ہمیشہ کے لیے مانگ لو گا. ….وائز اسکا نازک ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں لیتا مخمور لہجے میں بولا تھا. ….
لیکن. .میرے بابا…میری شادی اس کاشف سے کروا. …..
شششش. ..اسی بات پوری ہونے سے پہلے ہی جھٹکے سے اسے خود پر گراتا اسے مزید بولنے سے روک چکا تھا. … وہ تو تب علیزے کو کسی اور کے ساتھ برداشت نہیں کرتا تھا. .جب وہ اسکی تھی بھی نہیں. …اب تو وہ اسکی ملکیت بن گئی تھی. … وہ اسکے معاملے میں حد سے زیادہ پاگل ہورہا تھا. … اسنے تو صرف ضد میں اسے اپنایا تھا. .مگر اب وہ اسکی ضدی ضد سے زیادہ جنون. .اسکا عشق بن گئی تھی. . اسکی روح میں بس گئی تھی. .. اب تو دستبرداری ناممکنات میں سے تھی. ….وہ تو اسے اپنا فقط اپنا اسی لئے بنانا چاہتا تھا کہ وہ پھر جدا نا ہوسکے. …..اسے کہیں نا کہیں ڈر تھا کہ ریان یا کوئی اسے قبول نا کرے. ..اور علیزے کو اسے دور کر دیں. .یا پھر. ..علیزے خود ہی اسے چھوڑ نا دے. … کتنا برا کیا تھا. ..مارا بھی تھا. … کہیں جدا نا ہو جائیں. ..
و وائزز. …پ پلیز پیچھے ہوں. …. وائز کو اپنے اوپر جهکتا دیکھتی جان نکلتی محسوس ہوئی تھی. … وہ تو ابھی پاکستان جانے کے خوابوں میں گهم تھی. .جب وائز نے کروٹ لیتے اسکے اوپر جھکتے دیکھتی کپکپاتے ہوئے بولی. ..
آج مت بولو کچھ. …. خاموش ہوجاو. ..مجھے محسوس کرو. .. میری محبت محسوس کرو. … دھیمی آواز میں کہتا اسکے لبوں پر جهکتا چلا گیا. …..
وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کی آج رات کی وفائی. .کیسے بیوفائی میں بدلتی ہے. ..وہ نہیں جانتا تھا کہ وصل کے کچھ لمحے ملنے کے بعد ہجر کیسے جان نکالتا ہے. ..سب سے انجان وہ دنیا بهلائے اس میں مگن تھا. …..
کہاں وفاؤں کا صلہ دیتے ہیں لوگ. .
اب تو محبت کی سزا دیتے ہیں لوگ. ..
پہلے سجاتے ہیں دلوں میں چاہتوں کے خواب. .
اور پھر اعتبار کو آگ لگا دیتے ہیں لوگ
■■■■■■
کیاااا. ….وہ تقریباً چلاتے ہوئے صوفے سے اٹھا تھا. … رنگ لٹهے کی مانند سفید پڑ گیا تھا. …..
میں ٹھیک کہہ رہا ہوں. ..وہ پچھلے پندرہ بیس دنوں سے نہیں ہے. …کچھ دن یونی آئی تھی. ..مگر پتا نہیں کدھر رہتی تھی. …سونیا نے کہا وہ کچھ دونوں سے کافی اپسٹ تھی. …اسکے پوچھنے پر بھی کچھ نہیں بتایا. … وکی فون کان سے لگائے پریشانی سے بولا. …
میں نے اسے تمہاری نگرانی میں دیا تھا. ….وہ معصوم نجانے کدھر وہ گی. ..اور تمہیں مجھے اسی دن بتانا چاہئے تھا. ..تم مجھے بیس دنوں بعد بتا رہے ہو. ..آدیان غصے سے چلاتا بولا. …اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وکی اسکے سامنے ہو اور اسکا سر پھاڑ دے. ….
میں نے پوری کوشش کی اسے ڈھونڈنے کی. ..میں نے سوچا. ……
سوچا …..تم نے سوچا. …یو فول. ..یو بلڈی. … علیزے کو کچھ بھی ہوا. … وکی میں تمہاری جان لے لوں گا. …میں نے ان بیس دونوں میں تم سے بیس ہزار دفعہ پوچھا تھا کہ کیسی ہے. .کدھر ہے. ..تم نے مجھے بنک بھی نہیں پڑنے دی کہ وہ بیس دنوں سے لاپتہ ہے. …اتنے برے ملک میں میں نے تمہاری زمہ داری پر اسے بھیجا. …آدیان آدیان کنپٹلی مسلتا ….دھیمی آواز میں غراتا ہوا بولا تھا ساتھ ہی بنا اسکی سنے کال کاٹ دی. …غصے اور پریشانی سے سر پھٹے جا رہا تھا. ….
دوسرا نمبر ملاتا فون کان کے ساتھ لگایا. ..سانس پھول سا گیا تھا. ..
زین ….جاپان کی ارجنٹ ٹکٹ بک کروا. …کہتے اسنے کال کاٹی تھی. ..پیکنگ کرنے کی غرض سے روم کی طرف جانا چاہا. ..مگر سامنے کھڑے ریان کے دیکھ کر رکا تھا. …اور پھر انکی طرف بڑھا. ….
ڈیڈ. ..آپکی. ..ضد. .بےجا نفرت. …کی وجہ سے آج میری معصوم بہن پچھلے بیس دنوں سے لاپتہ ہے. ….یاد رکھنا. ..اگر میری بہن کا بال بھی بکا ہوا نا. …وہ میری ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آپ کو چھوڑ کر چلا جاؤں گا. …ایک معصوم لڑکی سمجھ کر ہی اسکے لئے دعا کر لینا کے وہ جہان بھی ہو ٹھیک ہو. … ورنہ. ..وہ انکی طرف دیکھتا سٹاپ انداز میں کہتا بات ادھوری کرتا آگے بڑھا تھا. …جہان ہانیہ آنکھوں میں ڈھیروں آنسو لئے ریان کی طرف دیکھ رہی تھی. ….
میں جا رہا ہوں. ..اسے لے کر ہی لوٹوں گا. ..ورنہ اکیلا میں کسی صورت واپس نہیں آؤں گا. ..آدیان انہیں ساتھ لگائے تسلی دیتا بولا تھا. …
ریان ہارے ہوئے جواری کی طرح صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھا تھا. …چہرہ آنسوؤں سے تر ہوگیا تھا. .. یہ تو وہ ہی جانتا تھا کہ علیزے کے جانے کے بعد ایک پل بھی سکون نصیب نہیں ہوا تھا. .. بیٹی تھی وہ. … مگر ایک امید تھی کہ وہ جہاں ہوگی ٹھیک ہوگی. . وہ جانتا تھا کہ آدیان نے ہی اسے کہیں بھیجا تھا. ..ورنہ وہ اسے عادت سے واقف تھا کہ وہ کتنی ڈرپوک تھی. .. ایک امید تھی. .جو آج ٹوٹتی انہیں بھی ٹکڑوں میں تقسیم کر گئی تھی. ……
لہجہ ایسا کہ مطمئن کردے. ..
اتنے سچے تھے جھوٹ اسکے..
■■■■■■■■
نیناں جو کال سنتے ہی ہاسپٹل پہنچی تھی. … یہ وہ ہی جانتی تھی کتنی مشکل سے وہ پہنچی تھی. …ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو وہ اسے ساتھ تھا. ..اور اب ..کیوں. .کیسے کب. .مشینوں سے جهکڑا آئی سی یو میں موت اور زندگی کے لئے لڑ رہا تھا. .. یقین کرنا جنتا مشکل تھا. .اتنا ہی ضروری بھی تھا. ….دماغ کو ہار مان گیا تھا. .مگر دل کمبخت لمحے کے لیے بھی نہیں بہل رہا تھا. … اسکی ایک ہی ضد تھی. ..راجر کو زندہ سہی سلامت سامنے دیکھنے کی. …. وہاں منان اور ریا کو دیکھ کر پل میں پہچان گئی تھی کہ وہ ریا اور راج تھے. ….تھوڑا بہت جو شک تھا وہ انکی مخصوص گرین آنکھوں نے پورا کر دیا تھا. … مگر ان دونوں کی حالت قابل رحم تھی. …ریا. .. جو بلیک وے کی ممبر تھی. ..جس نے نجانے کتنے قتل کئے تھے. ..وہ سسک سسک کر رو رہی تھی. ..
راج. … جو ایک نامور کریمنل تھا. … جس کی دہشت بلیک ولڈ کے برے برے گینگز میں پھیلی ہوئی تھی. .. جو آنکھوں میں دیکھ کر بات کرنے کا عادی تھا. ..نجانے کیوں. .اسکی نظریں …آٹھ نہیں پا رہی تھی. .. وہ نجانے کیا تلاشنا چاہ رہا تھا زمین پر. ….اتنا بڑا دکھ لگا تھا کہ روتی سسکتی اکلوتی بہن کو تسلی دینے کے لیے الفاظ نہیں تھے. … وہی وقت تھا. ..پانچ سال پہلے کا منظر چهایا ہوا تھا. … وہی ڈر. ..کچھ غلط ہوجائے کا ڈر. .کسی پیارے کو کهو دینے کا ڈر. .
ڈاکٹر ان کے پاس آکر کھڑا ہوا تھا. اسکے ساتھ نرس بھی کھڑی تھی. .وہ دونوں شدید خوفزدہ لگ رہے تھے. ..رنگ فقط تھے. …..ریا بینچ سے اٹھتی ان کے قریب آئی تھی. .. نیناں بھی سانس روکے ..آنکھیں موندے ..کھڑی تھی. …
دیکھئے منان سر. …. پیشینٹ کو پہلے بھی گولیاں لگی ہوئی تھی. … پانچ سال پہلے بھی وہ اسی کنڈیشن میں ادھر لائے گئے تھے. … مگر تب انکی قسمت ان کے ساتھ تھی. ..کہ. ….
آدیان کیسا ہے. ..اسکی اتنی بڑی بات سننے اور سمجھنے کا وقت اور حوصلہ نہیں تھا جبھی سبز سرد نگاہیں ڈاکٹر پر ٹکائے سرد آواز میں پوچھا …
سوری. .ہم نے ہر ممکن کوشش کی. .مگر ہم نہیں بچا پائے. ..وہ ڈرتے ہوئے بولا تھا جیسے غلطی اسی کی تھی. ..وہ تینوں ساکت ہوگئے تھے. …..تینوں ہی پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہے تھے اور یقین کرنا چاہ رہے تھے کہ وہ اسنے بولا وہ سچ ہے کہ ..خواب. ..ایک ڈراؤنا خواب. …وہ ڈراونی تو تھی. ، مگر خواب نہیں حقیقت. ….
ہیرر. …تم یہاں. ..آئش نے ہیر کے سامنے آتے حیرت سے پوچھا تھا. ….اسکی بهاری اونچی آواز بھی ان تینوں پر چھائے سکوت کو توڑ نہیں سکی تھی. …
راج کی پتھریلی نگاہیں آئی سی یو کے دروازے پر جمی ہوئی تھی…آنسوؤں کا نام و نشان بھی نہیں تھا. ..
ریا کی خالی نگاہیں بھی آئی سی یو کے دروازے پر جمی ہوئی تھی. ..پورا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا. …….
نیناں ویران سی نگاہوں سے کبھی آئی سی یو. .تو کبھی ریا راج کی طرف دیکھ رہی تھی. ….
چاہنے کے باوجود رو نہیں پائی تھی. … کوئی حق نہیں تھا. .. تو سوگ کیسا. ..
دل کا معاملہ تھا. …وہ دونوں تو اسکے اپنے تھے خونی رشتے تھے. .انکا رونا بلکنا بنتا تھا. ..وہ بلک بلک کر رو سکتے تھے. ..
وہ تو رو بھی نہیں سکتی تھی. ….
‘موت جب گلے لگے گی نا. ..تو یہ کیا اس سے بڑے بڑے کڑوے گھونٹ بھی خودبخود نگلے جائیں گے. .میری سزا ہی میری جزا بن جائے گی. ..اور تم. .تمہاری. .مگر تم. تمہاری زندگی نا سزا کے قابل رہے گی نا ہی جزا کے.مجهے خود مار کر یا اپنے سامے مرتا دیکھ کر تم سو دفعہ مرو گی ..میرے مطابق. ..زندگی سزا اور موت جزا ہے..یوں دیکھا جائے تو مجھے جزا اور تمہیں سزا ملے گی. …’…کوئی پرانی یاد. ..کافی شدت سے یاد آئی تھی. …..
ڈاکٹرز. ..راجر کی ڈیڈ باڈی کو سٹریچر پر ڈالے باہر لائے تھے. ..شاید پوسٹ مارٹم کرنا تھا. …..
..آدیان.. تم تو سچ میں مجھے زندگی کا قیدی بنا کر خود موت کو گلے لگا کر آزاد ہوگئے ہو….کاش میں تمہاری مان کر. …زندگی کی تلخ تلخیوں اور حقیقتوں پر مٹی ڈالتے. ..تمہارے ساتھ ..ایک نامعلوم مگر ..خوبصورت منزل کی مسافر بن جاتی. ..تو آج شاید تم زندہ ہوتے. …سٹریچر پر پڑی اسکی لاش کو دیکھتی وہ دھیمی. ..بہت دھیمی آواز میں بڑبڑائی تھی. …آنسوؤں کی وجہ سے منظر دھندلا سا گیا تھا. ….
اسکے مرنے پر مت دے دلاسہ. ..
مرنا بنتا تھا فقط رو رہا ہوں میں. .
ت تم یوں. .خاموشی سے موت کو گلے لگائے. ..ی یوں اچھے. .نہیں لگ رہے. ..تم تو رعب جھاڑتے. ..غصہ کرتے. …تم تو بولتے اچھے لگتے ہو. …خدارا یہ خاموشی توڑو. …جو مجھے چیخنے پر مجبور کررہی ہے. …آواز روند سی گئی. ..آنسوؤں ساری حدیں بهلائے تواتر بہہ رہے تھے. …
ملک سے وفائی کرتے کرتے میں. .خود سے بیوفائی کر گئی. …ش شاید. .ملک کے جو محافظ ہوتے ہیں. ..انکی زات. .بات. .جان صرف ملک کے لئے ہی ہوتی ہے. …با خدا اگر آج میں اپنا سینہ چھلنی کروا کر مررہی ہوتی نا تو سکون ہوتا. ….سینہ چھلنی تو ہوگیا ہے. .جان تو نکل رہی ہے. ..مگر موت….موت نہیں آرہی. …جان گنوا دیتی تو کوئی غم نا ہوتا. .مگر یہاں خسارا دل کا ہوا تھا. …..نجانے کب وہ سوچتی سوچتی باہر نکل آئی تھی. ….سڑک کے درمیان میں چلتی وہ اپنی ہی دنیا میں گم تھی جو. …گاڑی کے مسلسل ہارن کی آواز اسے ہوش میں نہیں لا سکی تھی. ….
گاڑی چلانے والا بھی شاید نشے میں تھا جو بریک نہیں لگا رہا تھا. …..
ایک کانوں کو چیڑتی چیخ ہرسو گونجی تھی … گاڑی جا چکی تھی. ….
وہ دور سڑک پر اوندھے منہ پڑی تھی. … سر سے نکلتا خون تیزی سے پھیل رہا تھا. …چہرے پر تکلیف سے تاثرات ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہے تھے. ..ہاں البتہ ایک دلفریب مسکراہٹ چهائی ہوئی تھی. ….
لوگوں کو ہجوم بڑهه رہا تھا. ……..
ہر موڑ پر مل جاتا ہے ہمدرد کوئی. ..
محسن تیری بستی میں اداکار بہت ہیں. …