Khud gharz Ishq by Sandal readelle50031 Episode 10
Rate this Novel
Episode 10
♥♥
گھر سے نکلے ہیں اس غبار میں ہم
رونے لگتے تھے انتظار میں ہم
آپ سے کس نے کہہ دیا ہے حضور؟
آپ کے بن رہے قرار میں ہم
چھوڑو تم میں خود کرلوں گی. .. الیانہ نے غصے سے بیوٹیشن کو کہا جو راج نے اسے تیار کرنے کے لیے بیجهی تھی. …
میم آپنے یہ ڈرس پہننا ہے. .. بیوٹیشن مونا نے دوبارہ ہمت کر کے دوسرے ڈرس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا. ..
الیانہ راج کے بتائے ڈرس کو چھوڑ کر دوسرے ڈرس لے کر واش روم جا رہی تھی جبهی بیوٹیشن کی بات سن کر رکی تھی. …
تم ایسا کرو کہ اپنی شکل گم کرو مجھے بتا ہے میں نے کیا کرنا ہے … مجھے مت بتاؤ. … ایک دم اسکی طرف مڑتی قدرے اونچی آواز میں بولی تھی. .. اب غصہ کسی پر بھی نکالنا ہی تھا. ..جبهی اسے بیوٹیشن ملی تھی. … اور اب غلطی نا ہونے پر بھی چپ چاپ سن رہی تھی. .. ایک طرف الیانہ تھی جو کچھ مان ہی نہیں رہی تھی. . دوسری طرف راج جس نے سختی سے بتایا تھا کہ کیسے کیا. .تیار کرے. .مگر الیانہ تواسی ہاتھ بھی لگانے نہیں دے رہی تھی. .تیار کرنا تو دور کی بات. ..
کچھ دیر میں ڈرس پہن کر باہر آئی تھی. ….. مونا کو ایسے اگنور کیا تھا جیسے وہ تھی ہی تھی. ..
ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے سٹول پر بیٹھتی اب ادھر رکھا میک اپ دیکھ رہی تھی. .دل تو اسکا زرا نہیں تھا مگر نہیں چاہتی تھی کہ مونا اسے پیسٹری بنا دے جبهی اب خود ہی لگی ہوئی تھی. ….
سنو تم. .تم میرے بال بند کردو. .. تاکہ چھوٹے بن جائیں تنگ ہوگئی ہوں میں ان سے….
بلش ان لگاتی بنا اسے دیکھے حکمیہ لہجے میں کہا تھا. …
اب مونا اس پریشانی جی کو دیکھ کر سوچ رہی تھی کہ اب وہ کیا کرے کس کی سنے. .کیونکہ راج نے سختی سے کہا تھا کہ بالوں کو کھلا ہی چھوڑے. …
سنا نہیں. … اسے بنا ہلے دیکھ کر میک اپ برش گال سے ہٹاتی مونا کو دیکھتی بولی تھی. … اسے مونا سے
تو کوئی مسئلہ نہیں تھا. .مگر وہ راج کی بیجهی تھی جبهی اسپر غصہ نکال رہی تھی. …
میم کو سر نے بال بند کرنے سے منع کیا ہے. .. انگلیاں مڑورتی بولی تھی. ..
تمہیں تمہارے بال بند کرنے سے منع کیا ہو گا. .کھول لینا تم بعد میں پہلے میرے بند کرو. … فیش ٹیل بنا ….. ایک نظر اسے دیکھتی دوبارہ شیشے کی طرح خود کو دیکھتی گویا ہوئی. ….
مونا نے حیرت سے اسے دیکھا تھا. … اب وہ یہاں سے کھسکنا چاہ رہی تھی کہ راج کو جا کر بتائے. …ابھی وہ مڑی تھی کہ سامنے ہی گلاس ڈور سے ٹیک لگائے وہ بڑی فرصت سے اسے دیکھ رہا تھا. .. مونا کی پریشان شکل دیکھ کر اسنے اسے وہاں سے جانے کا کہا خود اسکی طرف بڑھا تھا. …
گلوس لگاتی جب اسنے شیشے میں دیکھا تھا وہ سینے پر ہاتھ باندھے اسے ہی دیکھنے میں مصروف تھا. ….
مجھے نہیں پتا تھا کہ تم اتنی خوش ہو کہ خود ہی میرے لیے تیار ہورہی ہو. .. وہ اب آگے آکر بالکل اسکے پیچھے کھڑا اسے دیکھتا بولا تھا. …
زیادہ ہوائیوں میں اڑنے کی ضرورت نہیں ہے. … مجھے کوئی پیسٹری بننے کا شوق نہیں ہے جو اس مونا ڈوبا کے سامنے بیٹھ جاتی. .. بدتمیز پتا نہیں کدھر چلی گئی کہا بھی تھا کہ بال بند کرو. ….. پہلے اسکی خوشفہمی دور کرتی آخر میں غصے سے بولی تھی. ….
ہمم چلو کبھی تو میرے لئے خوشی سے تیار ہوگی ہی. … آج اسی پر ہی کام چلا لوں گا. … بے ساختہ امنڈ آنے والی مسکراہٹ ضبط کرتے سنجیدہ لہجے میں بولا تھا. .ہاں البتہ آنکھوں میں شوخی واضع تھی. …مگر وہاں آنکھیں دیکھ کون رہا تھا. …
تیار ہوں میں. .. ختم کرو میں بس بکواس جلدی. .میں تهک گئی ہوں اب. .. اپنے بالوں کوسمبهالتی ناگواری سے بولتی اٹهی تھی. ….
چهوڑووو. … الیانہ نے اسے دور کونا چاہا تھا
راج نے بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا تھا. … وہ دونوں اب کافی قریب کھڑے تھے. … الیانہ اسکا ہاتھ بازو سے ہٹانے کی کوشش کررہی تھی. ..جبکہ راج آنکھیں بند کئے خود پر ضبط کررہا تھا. ..آج تک تو کسی نے اس سے بدتمیزی سے بات نہیں کی تھی. .. اور وہ الیانہ پر غصہ نہیں کرنا چاہتا تھا. ..
آج کے بعد یوں بدتمیزی مت کرنا … راج نے اسکا بغور جائزہ لیتے ہوئے نرمی سے کہا تھا. ..
ٹی پینک لانگ فراک پہنے. … جس کے آگے گھٹنوں تک کٹ لگا ہوا تھا. .. جس سے چلتے ہوئے اسکی ایک ٹانگ نظر آتی تھی. … سلور ہائی ہیل پہنے. ..بلکل تھوڑے سے میک اپ کے ساتھ. ..کھلے بال کو اسپر بکهرے سے تھے. .. وہ کافی اچھی لگ رہی تھی. .. راج کچھ پل اسے دیکھتا رہ گیا تھا. …….
کروں گی بد تمیزی. ..تو کیا کر لو گے. .. الیانہ نے بازو چھوڑ کر اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا. ..
تو میں بھی پھر بد تمیزی کرو گا. …. بازو پر گرفت کم کرتا اسے تھوڑا اور قریب کیا تھا. .. دوسرا ہاتھ اب اسکی کمر پر رکھ دیا تھا. ..
میں تو کرو گی جو دل کیا. ..کرنا تم بھی بد تمیزی. … اسے دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بے دلی سے کہا تھا. ….
وہ جو کب سے اس کے گلابی ہونٹوں کو دیکھ رہا تھا. ..اسکی بات سن کر اسکے ہونٹوں پر جھک گیا تھا. … ایک سرور سا اسکی رگوں میں دوڑا تھا. ..ایک سکون ملا تھا اسے. .. جو شاید آریان اور عائشہ. ..یا پھر ہائیشم کی موت کے بعد اسے کبھی بھی نہیں ملا تھا. ..
تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی. … کافی دیر خود کا سیراب کرنے کے بعد وہ پیچھے ہوا تھا. ..جبهی الیانہ چلائی تھی. … چہرہ سرخ ہوگیا تھا. .. حیا غصے کے تاثرات سے. …. سانسیں اکهڑر سی گئی تھی. ….
آج کے بعد اگر یوں ہی بدتمیزی کی. .یا مجھے تم تم بولا. … تو میں بھی پھر اپنی مرضی ہی کروں گا. .جو تمہیں شاید. .آہہہ ..نہیں یقیناً پسند نہیں آئے گی. … ہلکے سے دوسرے ہاتھ کے آنگوٹهے سے اسکا سرخ گیلے لبوں پر آنگوٹها پھیرتا. .. سنجیدگی سے بولا تھا. … سانسیں اسکی بھی بھاری ہوگئی تھی. … اسکی زرا سی نزدیکی سے اسے اپنے اندر کی احساسات پیدا ہوتے محسوس ہوئے تھے. ..دل کانوں میں بج رہا تھا. ….
دور ہٹیں. … الیانہ نے پوری قوت لگا کر اسے پیچھا کیا تھا. .. راج کی گرفت کافی ہلکی تھی جبهی وہ پیچھے ہوگیا تھا. .ساتھ ہی ہوش کی دنیا میں لوٹا تھا. ..
آجاو باہر. …. بنا اسے دیکھے کہتا وہ باہر نکل گیا تھا. ..
چهچهوڑا. ..گرین مونسٹر. … الٹے ہاتھ سے ہونٹ صاف کرتی خود سے ہی بولی تھی. ……
■■■■■■■■■
جس پہ جالا بُنا تھا مکڑی نے
کاش جائیں اُس ایک غار میں ہم
یہ نصیبوں کی بات ہوتی ہے
یار ہو ہم میں اور یار میں ہم
پلیز آپ ہیں کون …کیوں پیچھے ہی پڑ گئے ہیں میرے چھوڑیں مجھے. … علیزے نے اپنا بازو اسکی انتہائی سخت گرفت سے نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا. . جو کھینچ کر نجانے اسے کہاں لے کر جا رہا تھا. …
وہ ابهی ہاسٹل سے نکل کر مال جانے کے لیے کر گاڑی کی طرف بڑھ رہی تھی جبهی وہ بلا نجانے کدھر سے بازل ہوئی تھی. . آج سونیا کی طبعیت خراب تھی جبهی کچھ ضروری چیزیں منگوانی تھی. .وہ تو جا نہیں سکتی تھی جبهی علیزے کو اکیلا ہی نکلا پڑا تھا. …. ..
بیٹھو اندر. .. گاڑی میں اسے تقریباً پٹختا بولا تھا. .. دروازہ بند کر کے خود ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کی تھی. …..
مجھے کدھر لے کر جا رہیں ہیں. ..پلیز میں نے کیا بگاڑا ہے. .جو پیچھے ہی پڑ گئے ہیں. .. علیزے نے ہمت جمع کرتے ہوئے اونچی آواز میں کہا تھا. ..
.کل کی بات اسنے مارک اور سونیا کو نہیں بتائی تھی. ..اسنے سوچا تھا کہ اب اسے دور ہی رہے گی. … جو نجانے کون ہے جنم کا بدلہ اس سے لے رہا تھا. … اسے تو ایسا لگ رہا تھا کہ پچھلے جنم میں اسکا کوئی ادھار لیا تھا جو دینے سے پہلے مر گئی. ..جو اب وہ اسے یوں ٹریٹ کررہا تھا. ….
کوٹ جارہیں ہیں. …. ایک نظر اسے دیکھتا بلکل سٹاپ لہجے میں بولا تھا. ..
ک کوٹ کیوں. .. اب اسے ادھار والی بات سچ لگنے لگی تھی. .جبهی تو وہ بھی اب کوٹ گھسیٹ رہا تھا. ..
کوٹ کیوں جا سکتے ہیں. …. گاڑی ایک سائیڈ پر روکتا اسکی طرف مڑتا جواب کے بدلے سوال کرنے لگا تھا. …
مجھے کیا پتا. .کوٹ آپ کو اپنے کام سے جانا ہوگا. … کام ہی ایسے ہیں جبهی تو کوٹ کچاریوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں. .. اسکی طرف دیکھی معصومیت سے بولی تھی. ….
مگر اسکو کها جانے والی نظروں سے خود کو گھورتا دیکھ کر وہ ایک دم ونڈو کی طرف مڑی تھی. … ایک ہاتھ سے بال کان کے پیچھے کرتی وہ ایسے پریٹنڈ کررہی تھی کہ جیسے وہاں اس کے علاوہ کوئی ہو ہی نا. .جیسے اس نے تو کچھ کہا ہی نا ہو. …
بے بی پینک پلین ٹی شرٹ. .. پینک ہی فلیپر پہنے. .. بالوں کو ہمیشہ کی طرح کھلا چھوڑا ہوا تھا. ..مگر بس سے زیادہ اسے اسکی معصومیت نے اٹریکٹ کیا تھا. .. وہ اسے کوئی چھوٹی سی معصوم بچی لگی تھی. ….وائز اسے دیکھتا رہ گیا تھا
مگر دو منٹ بعد ہی وہ ہوش میں آیا تھا. .اسے پھر وہ سب علیزے کا اسکا دھیان خود کی طرف کرنے کے لیے ڈرامہ ہی لگا تھا. .. . اسے دوبارہ وہ لمحے یاد آئے جب. .. وہ وکی کے گلے لگی رو رہی تھی. .. جو بھی تھا. .تھا تو غیر ہی. .. تھا کہ وہ خود بھی غیر ہی. … مگر سمجھتا کون. .پھر جب مارک کے اسکے چہرے سے بال پیچھے کئے تھے. … ایک دفعہ پھر اسکی رگیں تن گئی تھی. … ماتھے پر پرے بلوں میں اضافہ ہوا تھا. .. سٹرانگ پر رکھے ہاتھ کی گرفت بجی سخت ہوئی تھی. …..
کوٹ میرج کرنے. ..دوبارہ گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے بلکل نارمل انداز میں بولا تھا. ….
تو جائیں نا. ..مجھے کدھر ساتھ گھسیٹ رہیں ہیں مجھے مال جانا تھا. … علیزے دوبارہ اسکی طرف مڑتی جھنجلا کر بولی تھی. …
تم چلی جاؤ گی تو ادھر میرا کیا کام اکیلے. .. اطمینان میں رتی برابر فرق نہیں آیا تھا. ..
تو جائیں مجھے ادھر کسی مال کے پاس اتار دیں میں وکی کو یا پھر مارک کو بهلا لوں گی. .آپ جا کر گھر والوں سے چھپ کر بیشک کوٹ میرج کریں نا. … وہ جلدی جلدی کہتی آخر میں اسپر طنز کرنا نہیں بھولی تھی. .
گاڑی دوبارہ ایک جھٹکے سے رکی تھی. .جس کی وجہ سے اسکا سر ڈشنگ بورڈ پر لگتے لگتے رہا تھا. ..
.
وہ تو جانتی ہی نہیں تھی کہ وہ ایک ہی بار میں دو غلطیاں کر چکی تھی. …ایک تو مارک اور وکی کا نام لے کر دوسرا. .اسپر طنز کر کے. …
بہت شوق ہے نا تمہیں وکی اور مارک کے پاس جانے کا. .. ایک موقع مجھے تو دو سب شوق پورے کردوں گا. .. کچھ لہمحیں گہری سانسیں لے کر غصہ کنٹرول کرتا کاٹ دار لہجے میں بولا تھا. … اسکا طنز کرنا بنتا تھا. ..مگر اسکے منہ سے مارک اور وکی کو بلانے کا سن کر اسکا پہلے سے خراب دماغ پھر ہی گیا تھا. ..
آپ چهوڑ دیتے تو ہاسٹل کیسے جاتی جبهی تو بولا. … علیزے کو تو س، سمجھ ہی نہیں آررہا تھا کہ وہ اتنا غصہ کیوں ہو رہا ہے جبهی دھیمی آواز میں بولی تھی. ..
ہممم ابھی تو مجھ سے نکاح کرلو نا پھر چلی جانا. .. گہری سانس لیتا گاڑی ایک دفعہ پھر سٹارٹ کر گیا تھا. ..
م میں کس سے نکاح کروں. .. علیزے نے اپنی بڑی بڑی آنکھوں اور اور بڑا کرتے ہوئے حیرت سے کہا تھا. ..
اب میں وکی یا مارک سے تمہارا نکاح کروانے سے رہا. ، ظاہر سی بات ہے مجھ سے ہی کرو گی نا. .. اب وہ اسکی حالت سے خوش ہوتا بولا تھا. ..
گاڑی روکیں. ..کیا پاگل ہوگئے ہیں جو یہ بول رہے ہیں. ..میں پاکستان سے اسی لئے بھاگ کر آئی. ..اور آپ ادھر مجھ سے نکاح کررہیں ہیں. .. گاڑی روکیں. … وہ حیرت سے چلاتی ہوئی بولی تھی. .. اسکا بس نہیں چل رہا تھا کے اسکا سر ہی پهاڑ دے جو بلکل اسے اگنور کئے ببل چبا رہا تھا. ..ساتھ ہی ساتھ کچھ گنگنا رہا تھا. ..
سمجھ آرہی ہے اپکووو. ..ایک بازو سے اسے جهنجهوڑتئ بولی تھی. .
دیکھا لیزا. ..تم مجھ سے نکاح کرلو بس …اور تو میں کچھ نہیں کہہ رہا. .. اسنے جیسے اسے بهلانا چاہا تھا. .البتہ شادی کی وجہ سے پاکستان سے بھاگ کر آنے والی بات پر وہ حیران ضرور ہوا تھا مگر ظاہر نہیں ہونے دیا تھا. ….
کیوں کروں میں آپ سے نکاح. … دیکھیں مجھے چهوڑ دیں. .ورنہ میں اپنے بھیا کو کال کر کے بتا دوں گی. .. علیزے نے اسے ڈرانا چاہا تھا. .
ٹھیک ہے. .تب تک جب تک تمہارا بھائی آئے گا تب تک میں تمہیں اٹھا کر لے گیا ہوں گا. … دیکھو تم ابھی چار سال ہو ادھر. … ہم کنٹریکٹ میرج کریں گے. .. بس 6 مہینے بعد ڈائیوس دے دوں گا. .. کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا. ..
وہ اب بھی اطمینان نے گاڑی چلتا بولا تھا. .علیزے کا اطمینان غارت کر کے. …
■■■■■■■■
اب جو سوچیں تو خود پہ ہنستے ہیں
کتنے پاگل تھے تیرے پیار میں ہم
لوگ تو کتنی بار سوچتے تھے
ہو گئے تیرے ایک بار میں ہم
اسکی نظروں کو اپنے ہونٹوں پر ٹکے دیکھ کر وہ رخ موڑ گئی تھی. . دل زوروں سے دھڑک رہا تھا. … اسکے یوں گریز سے وہبی ساختہ مسکرایا تھا. … اسکا تو کوئی ارادہ نہیں تھا ایسا. .. وہ تو یوں ہی دیکھنے لگا تھا. …
خیر گاڑی دوبارہ سٹارٹ کر چکا تھا. .چہرے پر مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی. .. اس کے بعد نینا نے کچھ بولنا تو دور کی بات ..اسکی طرف مڑی بھی نہیں تھی. …
آجاو یار باہر مجھے لگ رہا ہے تم چاہ رہی ہو کہ ایک دفعہ پھر تمہیں میں اپنی بانہوں میں اٹهائوں. …. راجر گاڑی بیچ کر روکتا باہر نکلا تھا. .جب کچھ دیر تک نینا باہر نہیں نکلی جبهی ونڈو پر بازو رکھا آئی ونک کرتا بولا تھا. …
ہٹو. … اسکی بات پر وہ ایک دم حرکت میں آئی تھی. .. بولتی دروازہ کھول کر باہر نکل آئی تھی. …
اب بتاؤ کیوں لائے ہو ادھر. … ایک ہاتھ سے بال کان کے پیچھے کرتی. .سمندر کی لہروں کو دیکھتی بولی تھی. … مگر راجر کی خود پر ٹکی ہوئی نظروں کے باعث کافی نروس بھی ہورہی تھی. وہ کافی غور سے اسے دیکھ رہا تھا آج پہلی دفعہ. . دماغ میں کہیں کلک ہوا تھا کہ شاید اسے کہیں دیکھا ہوا تھا. .. . دماغ پر کافی زور دینے کے باوجود اسے کچھ خاص یاد نہیں آیا تھا. ..
دل بے وجہ ہی دھڑکن کی رفتار بڑھا چکا تھا. … وہ جانتی تھی وہ کون تھا. .کیا تھا. ..وہ یہ بھی جانتی تھی. .وہ خود کون تھی اور کیا تھی. .. اسے اپنی ڈیوٹی پتا تھی. وہ ایک سیکرٹ ایجنٹ تھی. .. اور راجر. .. ایک خطرناک کریمنل. .. .. وہ جانتی تھی وہ ایک کریمنل تھا. .. جلد یا بدیر اسے یا تو جیل ہو جاتی یا پھر انکائونٹر. … ہوجانا تھا. … کچھ بھی ہو سکتا تھا. .. اور دکھ تو اسے اس بات کا تھا کہ یہ سب کرنے والی وہ خود ہونی تھی. .پہی دفعہ نہیں دوسری دفعہ. .. .. وہ اسکی وجہ سے ہی یا تو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتا یا پھر مر جاتا. پچھلی بار بھی تو اسی نے اسکا انکائونٹر کیا تھا. .مگر وہ قسمت لے کر پیدا ہوا تھا جبهی تو دل کے پاس تین گولیاں لگنے کے باوجود وہ آج ہٹا کٹا بنا اس کے سامنے تھا. . مگر پہلے اور اب میں بہت فرق تھا. ..نہیں بھی تھا تو بھی اسے لگا تھا کہ کہیں کچھ تو تھا. .پہلی بار تو اسنے بے دھڑک تین گولیاں اسکے سینے میں اتار دی تھی. .کیا اس بار اتنا ہی آسان ہوگا. .اسے مارنا. ..یار پائے گی …؟.. یہ سوچتے ہی دل تڑپا سا تھا. … وہ سوچتی سوچتی کافی آگے آگئی تھی. .. سمندر کا ٹھنڈا پانی اب ٹخنوں سے اوپر آگیا تھا. ..سینڈل اس نے پہلے ہی اتار کر ہاتھ میں پکڑ لی تھی. ..
نینا. .رکو تو. ..راجر اسکا ہاتھ پکڑتا اسے روکتا بولا تھا. .. وہ کب سے اسے گم سم دیکھ رہا تھا. .. جب وہ زیادہ آگے جا رہی تھی جبهی اسکے روکنا پڑا تھا. ..
ہممم. راجر کی آواز سن کر وہ ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھا تھا. . وہ اب قریب کھڑے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے. … نینا کے بال ہوا کی وجہ سے اڑ کر اسکے چہرے پر بکھرے ہوئے تھے. .جنہیں پیچھے کرنے کی کوشش نہیں کی تھی. …..
کدھر گم ہوگئی تھی تم. .. ایک ہاتھ اسکے چہرے کے پاس لے کر جاتا. .چہرے سے بال کان کے پیچھے کرتا بولا تھا. ..
نہیں تو. ..وہ. .نہیں بس کچھ بھی نہیں تو. … اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اسے نا محسوس انداز میں اسے دور کیا تھا. .. اب وہ دوبارہ سمندر کی طرف مڑ گئی تھی. .. دونوں ہاتھ سینے پر باندھے وہ آگے بڑھ رہی تھی. ..راجر کو وہ آج پہلی دفعہ کی نسبت کافی پریشان. .اداس اداس سی لگی تھی. … ورنہ تو وہ لڑتی چیختی چلاتی. .مگر وہ خاموش تھی. ..اور راجر کو اس کی خاموشی کچھ خاص پسند نہیں آئی تھی. …
تم کافی پریشان سی لگ رہی ہو. … وہ بھی اب اسکے ساتھ چل رہا تھا. ….اسکی طرف دیکھا فکرمندی سے بولا تھا. ….
وہ اسے کیا بتاتی کہ اسے پکڑوانے یا پھر مروانے کی وجہ سے وہ پریشان سی ہوگئی تھی. ..اسنے راجر کی آنکھوں میں اپنے لئے پسندیدگی دیکھی تھی. … اور شاید وہ بھی اس کے لیے کچھ فیل کرتی تھی. .. .. کیا،کب سے یہ تو وہ بھی نہیں جانتی تھی. .تب سے شاید جب اس نے فرسٹ ٹائم اسے ہاسپٹل میں دیکھا تھا. . یا جب. .وہ زبردستی اسے اسکے گھر چھوڑنے آیا تھا. ..یا جب. ….جب. ….. کب.. نجانے کب. ..وہ اور کچھ نہیں جانتی تھی. …
کیا ہوا طبیعت ٹھیک ہے. ..اسے دوبارہ سے گم ہوتا دیکھ کر راجر نے پوچھا تھا. ..
…شاید سر درد کررہا ہے. .ہاسٹل چهوڑ دو. .. دونوں ہاتھ سینے پر باندھتی بولی تھی. ..وہ فلاحال تو اکیلی رہنا چاہتی تھی. ….
ہممم چلو پھر. .. اس کے ہاتھ سے اسکا فون لیتا گاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا. .
نینا کی جان لبوں پر آئی تھی. … اس میں تو ایسا بہت کچھ تھا کہ وہ جان لیتا کہ جس سے اسے محبت ہوئی وہ تھی کون. …
دو ادهرر. .. اچانک اس کے ہاتھ سے موبائل کھینچا تھا. …کیونکہ اس میں تو راجر کے خلاف بھی کئی ثبوت تھے. ..وہ اگر دیکھ جاتا تو. ….اس سے آگے وہ نہیں سوچ سکی تھی. …
نمبر ڈائل کررہا تھا یار. .. کوئی چور تو نہیں ہوں جو لے کر بھاگ جاؤں گا. .. راجر نے آس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا. ..اسے آج نینا کی حرکتیں مشقوق سی لگی تھی. .خود مشقوق ہونے کے باوجود. ..
.کاش صرف ڈاکو ہوتے. .. وہ موبائل سختی سے پکڑے گاڑی کی طرف بڑھتے خود سے بڑبڑائی تھی. …
کچھ پل اسکی پیٹهه کو دیکھنے کے بعد وہ اسکے پاس پہنچ گیا تھا. ..
یہ لو اس میں اپنا نمبر ڈائل کردو. .. تمہارے موبائل کے ساتھ تو ہیرے لگے ہوئے ہیں. .. قیمتی موبائل. … گاڑی میں بیٹھتے اپنا موبائل اسکی طرف بڑھاتا بولا تھا. ..اسکے ہاتھ میں سختی سے پکڑے موبائل پر ٹونٹ کرنا بهولا تو نہیں تھا. ..
اوکے. . جلدی سے اسکے ہاتھ سے موبائل لیتی اپنا نمبر ڈائل کر کے واپس اسکی طرف بڑھا دیا تھا. …
دل اب بھی دهگ دهگ کررہا تھا. … جیسے کوئی چوری پکڑی گئی ہو. ….
کچھ لمحے اس کے کپکپاتے ہاتھوں میں اپنا موبائل دیکھنے کے بعد ایک جانجتی نظر اسپر ڈال کر موبائل لے لیا تھا. ….
سرد سانس ہوا کے سپرد کرتا گاڑی سٹارٹ کرگیا تھا. .. نینا اب ہیل پہن رہی تھی. ..موبائل پر گرفت اب بھی سخت تھی. .جو راجر کی تیز نظروں سے چھپی نہیں تھی. .. وہ اب سوچ رہا تھا کہ ایسا بھی کیا تھا فون میں جو وہ اتنا ڈر گئی تھی. …
ساری سوچوں پر مٹی ڈالتا اپنی توجہ ڈرائیونگ پر لگا چکا تھا. ..نینا اب ونڈو پر بازو رکھے باہر کے نظارے کررہی تھی. …. بال سارے ہوا میں اڑ رہے تھے. …
■■■■■■■
اب بھی تم لوٹ کر نہ آئے تو
پھر ملیں گے فقط مزار میں ہم
وہ جیت کر اداس ہوئے
اور بہت خوش ہیں اپنی ہار میں ہم
Past♥
میم نینا اور میم برنٹ آپ دونوں ساتھ رہیں گے ….. میم لنڑا میک اور آرم سر ساتھ ہوں گے اور میں اور میں اور امبار سر بعد میں آئیں گے. ..آج ہمیں بلیک ویل گینگ کو ختم کرنا ہی ہوگا. …ہماری کوشش ہوگی کہ ہم انہیں سڑنڈر کرنے پر مجبور ہوجائیں. .. جنتی انفارمیشن ملی ہے آج تک تین لوگوں نے ہی مڈر کئے ہیں. … مگر آج چونکہ انکا ٹارگٹ پورے جاپان کے سب سے بڑے بزنس مین. .بنیڈرک ڈیزل ہیں. جن کے ہاں آج بہت بڑی کوئی پارٹی ہے. .. . .تو شاید وہ زیادہ تیاری سے آئیں. ..ہمیں ہر حال میں آج ہی انہیں کا کھیل ختم کرنا ہوگا. .. اگر وہ سڑنڈر کرنے پر نا مانیں تو ہمیں مجبوراً ان سب کا انکائونٹر کرنا ہوگا. .. کیا آپ سب سمجھ گئے. ..یا کوئی سوال جواب. ….؟؟؟ سر بیٹراس ٹیلر پہلے سب کا پیئر بنانے کے بعد ساری بات سمجھاتے آخر میں ان کی رائے لی تھی. ….
ایک ہال نما کمرے میں وہ چھ نفوس کھڑے تھے. .. تین مرد اور تین عورتیں. … جو سیکرٹ ایجنٹ تھے. .. ساروں نے بلیک جینز پینٹ کے اور بلیک ہوڈیز پہنی تھی سر پر بلیک کیپس اور بلیک ہی ماسک پہنے وہ تیار نہیں. … اور اب انہیں ایک بہت بڑے گینگ کو ختم کرنا تھا. ..جس نے پچھلے کچھ سالوں سے ایک دنیا کے ناک میں دم کر رکھا تھا. …اور کئی بڑے بڑے ممالک ان کو پکڑنے کی سر توڑ کوششیں کررہے تھے. .مگر وہ شاید شاطر کھلاڑی تھے. … مگر آج کافی سال بعد انہیں پتا چلا تھا کہ ان کا اگلا ٹارگٹ ایک جانا مانا بزنس مین تھا. .. اس کی سیکورٹی بڑھانے کے علاوہ وہ اب کی بار یہ کھیل ہی ختم کر دینا چاہتے تھے. ..جبهی آج وہ سب تیار تھے. …..
سر سر ہم سمجھ گئے. .. پانچوں نے بیقوقت کہا تھا. ..
گڈ. … جس کے سامنے جو آیا. … پہلے اسے سڑنڈر کے لیے فورس کرنا ہوگا. .نہیں توبنا ٹائم زیادہ کئے انکائونٹر کر دینا. … وہ دوبارہ ان . کی طرف دیکھتے بولے تھے. …
وہ لوگ اب اپنے ریفلز چیک کرتے باہر نکلے تھے. .. انہیں چہرہ دیکھانے کا آڈر نہیں تھا. .جبهی ماسک پہنے ہوئے تھے. … چہرہ بلکل چھپا تھا. . سوائے آنکھوں کے. …….
■■■■■■
میں کہانی نہیں ! میں فسانہ نہیں !
کوئی پوچھے تو تم نے بتانا نہیں !
Past♥♥
ایسا نہیں ہوسکتا ہم تین بہت ہیں ہم کسی اور کو کیوں اپنی وجہ سے مشکل میں ڈالیں. .. راج سے سختی سے راجر سے کہا تھا. …
انہیں آج بینڈرک کو ہر حال میں ختم کرنا تھا. .. وہ تینوں تیار کھڑے تهے. … بلیک جینز پینٹ پر بلیک شرٹ پہنے. ..بلیک ہی لیدر کی جیکٹس پہنے. .. تیار تهے. … ریا نے بالوں کی ہائی پونی کی ہوئی تھی. .. چہرے ان کے بلیک ماسک سے چھپے ہوئے تھے. .جن پر بلو ویل سی بنی ہوئی تھی. …. گرین آنکھیں انہوں نے بلیک لینز سے چھپائی ہوئی تھی. ..مگر وحشت ویسی ہی تھی. .. ان تین سرد آنکھوں میں. ..
راجر ہمیں اور کسی کو نہیں لے کر جانا چاہئے راج ٹھیک کہہ رہا ہے. .. یہ ہمارا بدلہ ہے. .. ہماری جنگ ہے. ..ہم تین کے علاوہ کسی کی نہیں. .. اگر کوئی بے گناہ مارا گیا تو کون حساب دے گا. …ریا نے پسٹل پر پھونک مارتے ہوئے راجر کو سمجھانا چاہا تھا. ..جو کہہ رہا تھا کہ ان کی ٹیم بھی جائے گی کیونکہ سیکورٹی ہائے تھی. ..
ٹھیک ہے …مگر میری ایک بات کان کھول کر تم دونوں سن لو. .. اگر تم دونوں میں سے کسی کو خراش تک بھی آئی تو. .. جان میں خود لوں گا پھر. .کیونکہ اب مار دهار نہیں کرنا چاہتا. .. تم دونوں کسی اور کے باتھوں مر گئے تو اور بدلہ کهل جائیں گے. .. اس لئے اگر لگا کہ خطرہ زیادہ ہے تو ادھر مت جانا. … اپنے بلو ٹوتھ کا خیال رکھنا. ..ڈس کنیکٹ کسی صورت نہیں ہونا چاہئے. …. راجر نے ایک بار پھر کئی بار بولی بات دوبارہ بولی تھی. ..باپ. .پھر. جڑواں بھائی. …پھر ماں. ..ایک کے بعد ایک اور کهو کر اس اس میں کسی اور کهونے کی ہمت نہیں تھی. …. اسلئی وہ تو ریا کے جانے پر تو راضی ہی نہیں تھا. ..مگر اسکی ضد کی وجہ سے ماننا پڑا تھا. .. . … لانگ شوز میں چاقو ڈالتے. .. اپنی سائلنس ریوالورز پینٹ کے دونوں پاکٹس میں چھپائے وہ فل تیاری کے ساتھ بینڈرک کے ویلا کی طرف نکلے تھے. .. آج ان کا بدلہ پورا ہونا تھا. .کیونکہ اب صرف بینڈرک ہی رہ گیا تھا. .. یا شاید انہوں نے خود ابهی تک اسے چھوڑا ہوا تھا. ….
■■■■■■■■■
کوئی تو سمجھے محبت کی۔۔۔۔۔ بے زبانی کو
کوئی تو ہاتھ پہ چپکے سے۔۔۔ پھول دھر جائے
بس ایک بار وہ اپنا۔۔۔۔۔۔۔ مجھے کہے تو سہی
وہ اپنی بات سے چاھے۔۔۔۔۔۔ تو پھر مکر جائے
Past♥♥
چونکہ وہ گھر کے سیکرٹ وے کو کے بارے میں پہلے سے جانتے تھے. .جو زمین میں سے بنایا ہوا تھا. .جبهی وہ اس رستے سے اندر گئے تھے. .کیونکہ وہ راستہ کسی کو پتا نہیں تھا جبهی وہاں سیکورٹی ہائی نہیں تھی. ….
جو گاڈر انہیں ملتا اسے مار کر وہ آگے بڑھے تهے. …. اب وہ لوگ ایک بہت بڑے ہال نما کمرے میں تهے. ..جہاں بہت سا اسلحہ تھا. …. ہر طرح کے ہتھیار ادهرر تهے. .کمرے میں روشنی زیادہ تو نہیں تھی مگر وہ آسانی سے دیکھ سکتے تھے. .. کمرہ چاروں طرف سے انہیں بند ہی لگا تھا. .. جیسے زمینی راستے کے علاوہ کوئی رستہ ہو ہی نا. ……
یہ کیا ہے … یہاں سے آگے کدھر جانا ہے. ..آخر خاموشی کو ریا کی حیرت بهری آواز نے توڑا تھا. …
چپ کرو جلدی مرنا ہے. … راج نے چاروں طرف کا جائزہ لیتے ہوئے سرگوشی نما آواز میں اسے ڈپٹا تھا. ….
جبکہ راجر زمینی راستے کی طرف غور سے دیکھ رہا تھا. .اسے لگ رہا تھا کہ جیسے وہاں سے کوئی آرہا ہو. …
ہےےےے. .. چهپ جاو. .کوئی آرہا ہے. .. اب جو بھی ہوگا وہ یہاں سے اندر جانے کا رستہ تو جانتا ہو گا. .. اس کے پیچھے ہی ہمیں احتیاط سے سے نکلنا ہو گا..پھر کہہ رہا ہوں احتیاط سے. … راجر انہیں وارن کرتا. .ریا کو ہاتھ سے پکڑے اپنی طرف کھینچتا سرگوشی نما آواز میں بولا تھا. . آواز اتنی کم تھی کہ بمشکل ان تینوں نے سنی تھی. … راج دور چهپ گیا تھا. ..جبکہ راجر نے ریا کو پکڑ کر اپنے پاس ہی کھڑا کیا تھا. ..بیشک وہ کافی بہادر تھی. .. ہر امتحان میں کامیاب ہوئی تھی. .. مگر پھر بھی تھی تو ایک نازک کمزور لڑکی ہی. .. وہ ہر لمحہ اسپر نظر رکھتا تھا. . خاص کر جب وہ کسی مشن پر ہوں. .زرا سی جو وہ نگاہوں سے اوجھل ہوجاتی. .. اسکی جان لبوں پر آجاتی تھی. ..وہ راج ریا کسی میں سے کسی کو نہیں کهو سکتا تھا. .راج تو مرد تھا. .اپنی حفاظت ہر ممکن طرح سے کر سکتا تھا. .. مگر ریا کو وہ جانتا تھا. ..جو زیادہ کریٹیٹکل سچویشن میں گھبرا جاتی تھی. .جبهی وہ سائے کی طرح اس کے پاس رہتا تھا. ..
راجرر چھوڑو بچی نہیں ہوں. .رہا نے جھنجلا کر اسکی سخت ترین گرفت سے اپنا بازو نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا. …
آواز نکلی اب تو ایک تھپڑ لگے گا. . راجر اب قدرے غصے سے بولا تھا کیونکہ آنے والا کافی قریب پہنچ گیا تھا. ….
وہ کوئی چهه لوگ تهے. … جنہوں نے پلین وائیٹ جینز پینٹ پر وائیٹ ہی شرٹ پر ریڈ لیدر کی جیکٹس پہنی ہوئی تھی پ..چہرے ماسک سے چھپے ہوئے تھے
وہ سب اب ان کی ہی طرح راستہ ڈھونڈ رہے تھے. ….
ہمیں یہاں شور کرنا ہوگا. .. جس کی وجہ سے سیکورٹی اندر آئے. .. اسی میں ہمیں نکلنا ہو گا اندر کے لیے. .کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے. .. ورنہ سزا کے لئے تیار رہنا. .. ان کا لیڈر تھا شاید جس سے بس سے الگ بلیک جیکٹ پہنی ہوئی تھی. .. اپنی بهاری سخت لہجے میں بولا تھا. …
یہ تو کوئی ہماری طرح ہے شاید بینڈرک کا کائی دشمن. ..ریا اپنی عادت سے مجبور دوبارہ راجر کے کان کے پاس منمنائی تھی. ..مگر وہ سن کہاں رہا تھا. … وہ کسی اور دنیا میں پہنچا ہوا تھا. …
بهیااا. .. اسے مراقبے میں میں دیکھ کر دوبارہ بولی تھی. ….
ہ ہاں. .نہیں کچھ نہیں. .لگ رہا ہے یہ کوئی دشمن ہے بینڈرک کا. … جبهی اسے بھی راستے نہیں آتا. … مگر بینڈرک ہمارا ٹارگٹ ہے. ..صرف ہمارا. ..اس سے پہلے ہمیں بینڈرک تک پہنچنا ہوگا. .. جیسے ہی راستے ملے نکلنا ہے. .. ریا کی آواز سے ہوش میں آکر سرد آواز میں بولا تھا. .
تو ہوش میں رہتے نا. .کس لڑکی کی یاد آگئی تھی. .میں نے بھی ابهی دو منٹ پہلے یہی فرمایا تھا. ….ریا نے اسے اپنی بات رپیٹ کرتے دیکھ کر دانت پیس کر کہا تھا. .. جواب میں راجر بیچارے نے اسے ایک سخت گوری سے نوازنے پر اکتفا کیا تھا. ..
… دوسری طرف راج بلو ٹوتھ میں ان کی تو تو میں میں سن کر مٹھیاں میچ گیا تھا. ..
تب ہی فضا میں لگا تا تین گولیوں کی آواز نے ایک شور برپا کیا تھا. ..ساتھ ہی وہ سارے چهپ گئے تھے. …..
سائرن کی آواز کان پهاڑ رہی تھی. …. تب ہی راجر اور ریا کے پیچھے والی دیوار جیسے ہلی تھی. .راجر نے ایک دم رہا کو لئے دور ہوا تھا. .ساتھ ہی وہ دیوار ایک گیٹ کی طرح کھلی تھی. .کوئی سیکورٹی گارڈ اب چیونٹیوں کی طرف اندر آگئے تهے. .
راج بیٹھ کر نکلو جلدی. . راجر نے اپنا اور ریا کا ماسک ٹھیک کرتے راج سے کہا ساتھ ہی وہ دیوار سے چپکتا چپکتا ایک ہاتھ میں رہا کا ہاتھ لئے گیٹ کراس کرگیا تھا. .. راج بھی موقع دیکھ کر نکل گیا تھا. ..
اب ان چاروں نے ماسک اتار دئے تھے. .کیونکہ اب جہان وہ تهے وہاں بہت سے لوگ پارٹی انجوائے کررہے تھے. .اب وہ بھی گیسٹ ہی لگ رے تهے. .. انٹرس پر چیکنگ ہونے تھی جو یقیناً سب کی ہوئی بھی ہو گی. .. اور اب سب بے فکر گھوم رہے تھے. ….
وہ دوسرے لوگ اندر نہیں آئے. ..ریا نے پیچهے دیکھتے ہوئے کہا …وہ تینوں تو نکل آئے تھے. .مگر ان دوسری چهه افراد کا کوئی پتا نہیں تھا. ……
وہ دیکھو. … راج نے سامنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا. …
جہاں اسی اندر والی ڈریسنگ والا ایک لڑکا کھڑا ہاتھ میں وائن لئے کچھ بول رہا تھا. .اس کے ساتھ تو کوئی نہیں تھا جس سے وہ بات کررہا ہوتا یقیناً وہ بلو ٹوتھ پر تھا. ..
ارے یہ اندر کب آیا سب سے پہلے تو میں اور راجر نکلے ہم پاس تهے. . مگر یہ تو نکلے ہی تهے. ……اور اب دیکھو کیسے ادھر ادھر گھور کر ساری انفارمیشن. دوسروں کو دے رہا. …. دوسروں سے یاد. آیا دوسرے ساتھی ہیں کدھر اس کے کہیں وہ بینڈرک تک پہنچ کر اسکا کام ہم سے پہلے ختم نا کریں. .. ریا سامنے اس وائیٹ پلس ریڈ ڈرس اپ لڑکے کو دیکھتے ہوئے بولی. … آخر میں فکرمند ہوتی بولی تهی …..
راج تم دیکھو اس طرف جاو. ..باتوں باتوں میں پوچھو کسی سے بینڈرک کا کدھر ہے کسی صورت بھی ان سے پہلے ہمیں بینڈرک تک پہنچنا ہوگا راجر دوسری طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا تھا. .. غصے. .نفرت کے علاوہ اب اسے فکر بھی ہورہی تھی. … کہ کہیں کوئی اسکا شکار شکار نا کرلے. …. راج ہمم پر اکتفا کرنا بلو ٹوتھ سیٹ کرتا لفٹ سائیڈ چلا گیا تھا. …
ریا دیکھو جاو تم سیدھا آگے کی طرف. ..مگر یاد رکھنا. … خراش تک نہیں آنی چاہیے. ..مرنا نہیں ہے تو. .. پتا کرو بینڈرک کا کیونکہ ابهی تک تو آیا نہیں ہے. .جلدی جاو جو پتا چلے. سیکنڈ میں انفارم کرو. ..راجر ابهی ریا کی طرف متوجہ ہوتا فکرمندی سے گویا ہوا. …
ہمم … جلدی چلو تم بھی. .. موقع کی نزاکت کا احساس کرتی وہ تحمل سے بولتی آگے بڑھی تھی. ..
کچھ دیر اسی کو جاتا دیکھنے کے بعد وہ اب رائیٹ سائیڈ کی طرف چلا گیا تھا. ….
■■■■■■
