Khud gharz Ishq by Sandal readelle50031 Episode 26
Rate this Novel
Episode 26
راج کے جاتے ہی وہ اٹھی تھی بیڈ سے. .. اپنے کپڑے دیکهتی منہ بناتی ..واڈروب ے وائیٹ شارٹ ڈرس لئے وہ فریش ہونے چلی گئی. ….
کچھ دیر بعد باہر آئی. ..ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہوتے بال ڈرائے کرنے کے لیے ڈرئیر نکالا تھا. ….
پتا نہیں یہ مونسٹر کرتا کیا ہے. ..جو گھر ہی نہیں آتا. …. بال خشک کرتی وہ خود سے ہی بڑبڑائی. ..
کہیں. .میری طرح. … اور لڑکیوں کو بھی تو کڈنیپ نہیں کیا ہوا. ….نہیں نہیں. .ایسا لگتا تو نہیں ہے … خود سے ہے سوال کرتے خود کو ہی جواب دیا تھا. …
اگر ایسا ہوگیا تو. … دل مطمئن نہیں ہوا تھا. ..
ایسا نہیں ہوگا … اس نے ایک یقین سے کہا….
ڈرائیر بن کرتی. ..وہ ابھی ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ رہی تھی. ..جبھی آسے لگا جیسے کوئی اسکے پیچھے ہے. ..جبھی وہ پیچھے مڑی تھی. …
مگر اس سے پہلے ہی کسی نے اسکے چہرے پر مضبوطی رومال رکھا تھا. ..چند ہی پل میں وہ اسکے بازوؤں میں جهول گئی. .
سر جلدی کریں … کوئی دیکھ نا لیں. …. جیک. . ( راج ویلا کا مین گارڈ) نے ورن کو کہا تھا. ….
ورن جس کی نظریں الیانہ کے وجود کا ایکسرے کررہی تھی. ..چونک کر اسکی طرف مڑا تھا. ….
ہممم. .. الیانہ کندھوں پر ڈالے وہ آگے بڑھا تھا. …
سر یہ خفیہ رستہ ہے. … یہاں کیمرے نہیں ہیں. .ادھر سے نکل جائیں. …یہ راستہ زمین میں بنا ہوا ہے. .جنگل کے اینڈ میں کھلے گا. …ادھر آپکی گاڑی بجھوا دی ہے. …جیک نے اسے سارا راستہ سمجھایا تھا. ….
پتھر ہٹا کر وہ اندر ہوا تھا. …جب اچانک پیچھے مڑا تھا. ….
ٹهاهه. … گولی کی آواز گونجی تھی. .اور ساتھ ہی جیک زمین بوس ہوا تھا. ..
سالہ. ..جو اپنے مالک سے وفا نا کرسکا. … وہ کسی اور کا کیا ہوگا. …ورن نے نفرت و حقارت سے اسکے وجود کو دیکھتے بولا تھا. .پسٹل واپس پینٹ کے پاکٹ میں ڈالے وہ آگے بڑھ گیا. ……
کارلوس نے پہلے ہی جیک کو کافی پیسے دے کر اسے خرید لیا تھا. … اب راج کے نکلتے ہی جیک نے سب گارڈز کو بہانے سے وہاں سے ہٹا دیا تھا پھر کارلوس کو کال کر کے خبر دی. .کچھ ہی دیر بعد ورن وہاں پہنچ گیا تھا. ..
مسلسل ایک ڈیڑھ گھنٹہ چلنے کے بعد وہ گاڑی کے پاس پہنچ گیا تھا. .. تب تک الیانہ کو بھی ہوش آگیا تھا. …
ک کون ہو. ..تم. ..کدھر لے کر جارہے ہو. .الیانہ نے اسکی کمر پر مکے مارتے پرخوف لہجے میں چلا کر کہا. ….
آواز آئی تو ادھر ہی کام تمام کردوں گا. ..ورن نے اسے گاڑی میں پٹختے ہوئے کہا تھا. .خود آکر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی تھی. …
و ورن. ..ت تم. … الیانہ نے بمشکل کہا تھا. …
تم تم مجھے بھائی کے پاس لے کر جارہے ہو نا. …… اسکو بازوں سے جھنجھوڑتے خوشی سے کہا. ….
جب چہرے پر پڑنے والے تهپر سے اسکا سر گھوم گیا تھا. … ابھی سر سمبهلا نہیں تھا جب. .. ورن نے اسکے بازو کمر پر باندھے تھے. ..اور منہ پر بھی ٹیپ لگا دی. …….
وہ حیرت سے گنگ ہوگئی تھی. ….. وہ تو آئش کا بہترین دوست تھا. ..کافی دیر بعد وہ ایک پہاڑی پر آکر رکے تھے. …کچھ دیر اندر ہی بیٹھنے کے بعد جب ایک جاپانی لڑکے نے آکر ورن کو کچھ کہا جهی ورن نے دروازہ کھولتے اسے منہ کے بل باہر پٹخا تھا. …….
ابھی ایک شاک ختم نہیں ہوا تھا. .جب گاڑی سے بلیک ہڈی بلیک جینز. ..پہنے ورن کو دیکھتے وہ دونوں شاک ہوگئے تھے. …..
ورن نے بےدردی سے الیانہ کو بازو سے پکڑتے تقریباً گھسیٹتے ہوئے کارلوس کے قریب پاؤں میں پھینکا تھا. …. برہنہ ٹانگوں سے خون رس رہا تھا. … فراک کی کافی خراب ہوگیا. …..
الیانہ. … وہ بہت دھیرے سے بڑبڑایا تھا. …چہرہ آنسوؤں سے تر ہوگیا تھا. .. جسے کبھی سوئی تک نہیں چهبنے دی تھی. ..آج اسکو قابلِ رحم حالت میں دیکھتے اسکا دل جیسے ساکت ہوا تھا. ….
الیانہ جہاں اتنے دونوں بعد کسی اپنے کو دیکھ کر خوش ہوئی تھی. .وہیں اسکی اور اپنی حالت دیکھتے پہلے سے زیادہ خوف محسوس ہوا. …. آنکھوں میں ڈھیروں آنسو لئے وہ بے آواز روتی آئش کو دیکھ رہی تھی. ….
آہہہہہ. ..جب اچانک کارلوس نے اسکے چہرے سے ٹیپ کھینچ کر اتاری تھی. ..
اسکی چیخ بے ساختہ تھی. …آنسوؤں میں روانی آگئی. ..
تم. …تمہیں دوست سمجھا تھا. …تم تو آستین کے سانپ نکلے ورن کو دیکھتا وہ سٹاپ لہجے میں بولا. …
پیسا پھینک تماشہ دیکھ. ….اسکے پاس آتا اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتا آنکھ مارتا مزے سے بولا تھا.
ا انہیں چھوڑ. .دو. …ت تمہیں خدا کا واسطہ ہے. ….ا ان کا کیا قصور. … ہیر کارلوس کی طرف دیکھتی التجایانہ انداز میں بولی. … گرین آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے. ….
خدا. …کون خدا. ..جس کو میں مانتا ہی نہیں تم اسکا واسطہ دے رہی ہو. … چہرے پر جھولتی لٹ کو کھینچتا وہ فاتحانہ انداز میں بولا. …
اور یہ… اسکے بولنے سے پہلے ہی آئش کی طرف اشارہ کرتے دوبارہ بولا. ..
اس کی موت یقینی ہے آج. … باقی تمہیں اور اس. …زہر خند لہجے میں کہتے الیانہ کی طرف اشارہ کیا. …
تمہیں اور اس چڑیا کو کچھ نہیں کہوں گا. … وہ راج کی کمزوری ہے. … اس کے زریعے میں راج کو تڑپا تڑپا کر ماروں گا. ..اور پھر اسے بھی. .اور پھر میں اور تم اپنی نئی زندگی شروع کریں گے. …. اسنے جیسے سارا پلین پہلے سے ہی بنایا ہوا تھا. ..
اور تمہیں کیا لگتا ہے اس کے بعد میں تمہیں قبول کروں گی. …اسکا ہاتھ چہرے سے جھٹکتے وہ نفرت سے بولی. ….
تمہارے پاس دوسرا کوئی آپشن نہیں چھوڑوں گا. … جنونیت سے کہتا اسکا بازو ایک جھٹکے سے چھوڑا تھا. …..
بهیو. …م مجھے گھر لے جاؤ. .پلیز. ..مجھے ادھر ڈر لگ رہا ہے. .الیانہ آئش کے پاس جاتی ڈرتے ڈرتے کارلوس کو دیکهتی دھیمی آواز میں بولی تھی. …
میں جلدی لے جاؤں گا تمہیں. ..تم فکر مت کرو. ….آئش نے جیسے اس سے زیادہ خود کو تسلی دی تھی. ..اسے کارلوس کے ارادے اتنے سستے نہیں لگ رہے تھے. …کہ اتنی آسانی سے وہ انہیں جانے دیتا. ….
میں نے سنا ہے تم وہاں جیک کو مار آئے. .کارلوس ورن کے پاس آتا اسکا کندھا تهپتهپاتا بولا تھا. .. پوچھا تھا یا بتایا تھا … یہی سمجھ نہیں آسکی تھی. ..
ہاں مجھے لگا کہ جو اپنے مالک کا نا ہو سکا وہ ہمارے ساتھ کیا وفا کرے گا. .جبھی مار آیا. … ورن نے کافی فخر سے بتایا تھا. ….
اسنے مالک کے ساتھ غداری کی اسے تم نے سزا دے دی. .. کارلوس نے شاباش دینے والے انداز میں کہا. …..
بالکل ورن نے مسکراتے ہوئے کہا. ..مگر کارلوس کی اگلی بات سن کر مسکراہٹ غائب ہوگئی تھی. …..چہرے پر خوف چها رہا تھا. ….
اس نے مالک سے غداری کی اسے سزا مل گئی. ..تم نے تو دوست جیسے خوبصورت رشتے میں غداری کی. ..اپنے لئے کیا سزا تجویز کی. .. انداز بالکل سٹاپ تھا. …
ہیر اور آئش دونوں جانتے تھے اب کارلوس کا کیا انجام ہونا تھا. .جبکہ الیانہ منہ پر ہاتھ رکھے سسکیاں روکتی سب دیکھ اور سن رہی تھی. …اسے کارلوس کافی خطرناک لگا تھا. .دل نے شدت سے دعا کی تھی کہ کاش راج آجائے کہیں سے. …
میں. .میں تمہارا وفادا. ………
ٹهاهه. …ٹهاهه. ..ٹهاهه. …. اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی کارلوس کے ریوالور سے نکلتی گولیاں اسے اور بولنے سے روک گئی تھی. ….
غداری دوستی میں ہو. … غلامی میں ہو…یا محبت میں. ..انجام ایسا ہونا چائیے کے دس دس میل دور بهی کھڑے لوگ غداری تو دور ایسا کرنے کا سوچیں بھی نا …ریوالور پر الٹا ہاتھ پھیرتا چاروں طرف کھڑے اپنے بندوں کو دیکھتا سرد لہجے میں گویا ہوا. ….
دو قدم. ..پھر دو. .. وہ سینے پر ہاتھ رکھے لڑکھڑا کر پیچھے ہوا. .. دو قدم اور پیچھے ہوتا. .. ایک کالوں کو چیرتی چیخ کے ساتھ بلند پہاڑ سے نیچے گرتا چلا گیا. ….
الیانہ سانس تک روک گئی تھی. … آنکھیں موندے وہ گہرے سانس لے رہی تھی. ..
جبکہ آئش اور ہیر آنکھیں پھاڑے اس سفاک کو دیکھ رہے تھے. … جس نے ایک پل سوچا نہیں تھا … سیدھا شوٹ کردیا تھا. ……جبکہ کارلوس کے بندے بالکل سٹیچو کی طرح کھڑے تھے… .
اب کیا خیال ہے. ..اپنی سوکن کو بھی اسکے یار کے پاس پہنچایا جائے. ….طنزیہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے. … وہ ہیر کی سبز آنکھوں میں جھانکتا سرد لہجے میں بولا. ….
ن نہیں. .ہمیں ج جانے دو. …ہم کسی کو نہیں بتائیں گے. .. الیانہ کو جیسے ہی محسوس ہوا کہ وہ. آئش کی بات کررہا تھا. .جبھی تڑپ کر بولا تھا. ..اتنے دنوں بعد کہیں جا کر کوئی اپنا ملا تھا …..اب دل خوف سے کانپنے لگا تھا. …
تم تو بالکل گڑیا جیسی ہو. .خوبصورت. .معصوم. …مجھے دکھ رہے گا کہ میں نے اپنی خوبصورت معصوم گڑیا کی بات نہیں مانی. ….. الیانہ کی طرف دیکھتا وہ قدرے نرم لہجے میں بولا. ..لہجے میں کوئی دوسرا تاثر نہیں تھا. ..
تم ان دونوں کو جانے دو…. می میں تمہارے ساتھ جانے کو تیار ہوں. ..اگر تم نے انہیں کچھ کہا تو میں خود کو شوٹ کردوں گی. .مسئلہ میں ہوں تو ختم بھی مجھے ہی ہونا چاہیے. یکدم ہی پاس کھڑے روبوٹ نما انسان کے ہاتھ سے گن کھینچتے اپنی کنپٹی پر رکھی ضدی لہجے میں بولی. …
آئش نے حیرت سے اسے دیکھا. .وہ کیوں جانے کو تیار تھی اسکے ساتھ. ..
ان تینوں کی نظریں ایک ساتھ ہیر پر گئی تھی. ….الیانہ کی اب نظر پڑی تھی ہیر پر اسے لمحہ نہیں لگا تھا اسے پہچاننے میں. … کوئی بھی پہچان سکتا تھا کہ وہ راج راجر کی بہن تھی. ..اسے یہاں. .یوں دیکھ کر اسے کافی کے ساتھ ساتھ فکر بھی ہوئی تھی. ….
آئش اور کارلوس دونوں کی سانسیں پل کے لیے رکی تھی. …دونوں ہی اپنی اپنی جگہ اسکی ضدی طبیعت کو جانتے تھے. ..
پسٹل نیچے کرو ورنہ اسے شوٹ کردوں گا. .کارلوس نے بھی ریوالور کا رخ آئش کی طرف کرتے سٹاپ انداز میں کہا. .. پل میں کہیں خوف ضرور تھا. ..کہ کہیں سچ میں ہی کچھ نا کردے. ….
ٹھیک ہے. .تم نہیں چھوڑ رہے انہیں. … ریوالور کنپٹی پر ہی رکھے ٹریگر پر انگلی رکھی. …
”مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ !
میں نے سمجھا تھا کہ تُو ہے تو درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غمِ دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صُورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سِوا دُنیا میں رکھا کیا ہے ؟؟؟
تُو جو مل جاۓ تو تقدیر نگوں ہو جاۓ
یُوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جاۓ …
اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت کے سِوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سِوا
اَن گِنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم
ریشم و اَطلس و کَمخواب میں بنواۓ ہوۓ
جابجا بِکتے ہُوۓ کُوچہ و بازار میں جسم
خاک میں لتھڑے ہوۓ خون میں نہلاتے ہوۓ
لوٹ جاتی ہے اِدھر کو بھی نظر کیا کیجیئے
اَب بھی دلکش ہے تیرا حُسن مگر کیا کیجیئے !
اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت کے سِوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سِوا
مجھ سے پہلی سی مُحبت میرے محبوب نہ مانگ !
■■■■
وائز اسکے پاس کہنی کے بل لیٹا دوسرے ہاتھ میں پکڑا گلاب کا پھول اسکے چہرے پر پهیر رہا تھا …دلفریب مسکراہٹ چہرے کا احاطہ کئے ہوئے تھی. …
علیزے نے برا منہ بنایا یقیناً اسے کسی کا یوں اپنی نیند میں خلل سپند نہیں آیا تھا. … جبھی منہ بنا رہی تھی. .
نئی زندگی کی پہلی صبح مبارک مائے گرل. …. اسکے کان کے پاس ہوتا گھمبیرتا بولا تھا. .توقع کے عین مطابق اسنے جهٹ سے آنکھیں کھولی تھی. .،، کچھ پل خاموشی سے چھت کو گھورتے گزاری. .جیسے یاد کررہی ہو کہ کدھر ہے. ..کچھ یاد آنے پر ایک دم سے کمفرٹر اپنے اوپر سہی سے اوڑھا تھا. ….سانسیں منتشر ہوتی. ..چہرے پر گلال سا بکهر گیا. .. آنکھیں سختی سے میچ لی تھی. ..
وائز کو محسائز سا ہوا اسکے آنکھیں میں نیند کی خماری دیکه رہا تھا. ..اسکا خود کو چھپاتا. ..اسکی مسکراہٹ گہری کر گیا تھا. …
اب تو کافی دیر ہوگئی ہے. ….. اب کیوں چھپا رہی ہو. ….. اسکا کمفرٹر کو دبوچے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتا سرگوشی نما بولا تھا. ….ساتھ ہی کمفرٹر ہٹانے کی کوشش کی جو علیزے نے ناکام بنا دی. …..
و وائز. ..پیچ پیچھے ہٹیں آپ. … ہنوز آنکھیں بند کئے وہ خشک پرتے لبوں کو تر کرتی بے چارگی سے بولی. ….
اسکی بات پر کان نہ دھرتے کمفرٹر اسپر سے ہٹاتا اسپر جھکتا دونوں پر کمفرٹر ڈال گیا تھا. ….. اسکی گردن سے بال ہٹاتا پہلے سے بنے اپنی جنونیت کے نشانات کو اور گہرا کر رہا تھا. ……
علیزے اسکے کمفرٹر ہٹانے پر سانس روک گئی تھی اسے خود پر جھکتا محسوس کرتی اسے ایک دفعہ پھر رات والی ٹون میں آتا دیکھتے جان ہوا ہوئی تھی گردن پر پہلے ہی جلن ہورہی تھی اور اسکے شدت بهرے گرم لمس محسوس کرتی وہ روہانسی ہوئی ہوئی تھی. …آنکھیں لبالب آنسوؤں سے بھر گئی. …
کیا ہوا رو کیوں رہی. ….وائز اسکی سسکی سنتا گردن سے چہرہ نکالتا فکرمندی سے بولا. …
م مجھے چھوڑیں مجھے آپ سے بات ہی نہیں کرنی. …لب کاٹتی آنسو روکتی وہ سٹاپ انداز میں بولی. …
رنج ایسا بهی نہیں کہ میں چیخوں اسپر. ..
بات ایسی بهی نہیں کہ بھلائی جائے. ..
وجہ. … اسکا لہجہ دیکھتا وہ حیران ضرور ہوا تھا. …
کیونکہ اپکو میری کوئی فکر نہیں. .. میری بات کی کوئی ویلیو نہیں. … میں کچھ معنی نہیں رکھتی. .آپکے لئے. …اپنی مرضی مسلط کرنی آتی ہے. .. پہلے زبردستی نکاح. .پھر ہاسٹل سے بنا کیسی کو بتائے اپنے ساتھ لے گئے. .پھر مارا بهی. …. اکیلا چھوڑ گئے. .. اور اب رات میں. … میری زرا نہیں سنی. ..مجھے نہیں چاہئے آپ. … ہٹو میرے سے. … آنسوؤ بہاتے وہ ایک ایک کر کے ساری غلطیاں گنواتی آخر میں اسے خود سے دور کرنا چاہا تھا. …..
کیا اتنا کافی نہیں کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں. .. لہجہ بالکل سرسرا تھا. .. وہ اس پرسے ہٹتا آٹھ بیٹھا تھا. ..ساتھ ہی اپنی شرٹ اسکی طرف اچھالی تھی. …
مجھے نہیں نہیں چاہئے ایسی محبت. .. جلدی سے شرٹ سے پہنتی وہ دکھ امیش لہجے میں بولی. …
لیکن اب تو تم میری ہوگئی ہو. .. یکدم اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتا اسکے خود کے قریب تر کرتے بے باکی سے بولا. …..
ت تو اپکو میری محبت سے. .. کوئی غرض نہیں. …اپکو بس، میرا وجود چاہیے. …..جذبات سے عاری لہجے میں بولی تھی جبکہ آنکھیں ایک پل بھی خشک نہیں ہوئی تھی. …
وائز حیرت سے گنگ ہوتا کچھ لمحے اس معصوم گڑیا کو دیکھتا رہا. .. وہ کتنی معصوم تھی جب ملی تھی. ..اور اب..کتنی گہری ہوگئی تھی. …
فرق اتنا نا سہی حوس و عشق میں لیکن. ..
میں تو مر جاؤں. ..تیرا رنگ بهی میلا کر کے. .
میں نے. …میں نے ایسا کچھ نہیں کہا. ..نا مجھے تمہارے وجود کی چاہ ہے. ..میں نے تمہاری روح سے محبت کی. ..جسموں کی محبت ہوتی تو تمہارے پاس نا آتا. … جسم آجکل خریدنے جاتے ہیں. …مجھے جسم کی چاہ ہوتی تب ادھر جاتا. ….جیب خالی نہیں ہے میری. …. یکدم ہی اسے چھوڑتا بیڈ سے اٹھتا …اشتعال میں اپنے بهورے بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ جیسے خود پر ضبط کرتا بولا. …..
تو. …ثابت کریں. .چل پل تو وہ اسکے تیور رکھتی ڈر گئی تھی. …مگر خود کو نارمل کرتی وہ بے لچک لہجے میں بولی. …
کیسے. ….
مجھے واپس جانے دیں پاکستان. ..سوال کے ساتھ ہی جواب آیا. ….
میں نے رات میں کہا تھا کہ آج ہم جائیں گے. ….وائز نے جیسے اسے یاد کروانا چاہا تھا. …
ہم نہیں صرف میں. ….اسے فلحال اس عذاب سے نکلنے کی جلدی تھی. … لوہا گرم تھا….اسے ابھی ہی وار کرنا تھا. ….
تو میں. …میں کیسے رہوں گا تمہارے بغیر. ….. وائز اسکی بات سمجھتا حیرت سے بولا. ….
جیسے مجھے مار کر گئے تھے تب رہے تھے تب. …..بس مجھے جانا ہے. ..نہیں رہنا آپکے ساتھ …..مجھے زرا نہیں اچھے لگتے آپ. …بیڈ سے اٹھتی وہ دھیمے لہجے میں بولی تھی. …
واپس. ..کب. ..آو گی. …..ہار مانتے وہ لب بیچهے وہ سٹاپ انداز میں بولا. … اگر وہ اسکی محبت کا جسم کی چاہ نا کہتی تو وہ ہر گز اسے نا جانے دیتا. ……کچھ آنا آڑے. آگئی تھی. ….
اگر کبھی دل نے آپکی محبت تسلیم کر لی تو. … .. واش روم میں داخل ہوتے یکدم رکتی واپس مڑتے بولی تھی. …
وائز بس بند دروازے کو کھڑا دیکھتا رہا. . تھا. … دل ہمک ہمک کر کہہ رہا تھا روک لے معافی مانگ لے. … مگر دماغ مسلسل اسے منع کررہا تھا. …
دل و دماغ کی جنگ میں. .پھر ہمیشہ کی طرح دماغ بازی لے گیا تھا. …
■■■■■
آہہہہہہہ. … اسکی چیخ نے پورے ویلا کی در و دیوار ہلا دی تھی. ….
اپنے سیکرٹ وے کے پاس کھڑا جیک کی لاش کے پیٹ پر بے دردی سے لات مارتا وہ چیخا تھا. …..،
کچھ دیر پہلے ہی وہ ویلا لوٹا تھا. .. الیانہ کو جب ہر جگہ دیکه لیا وہ نہیں ملی تو اسکی جان لبوں کو آئی تھی. ..وہ اتنا تو جانتا تھا کہ وہ ایک دفعہ پھر بھاگنے کی کوشش ہرگز نہیں کرے گی اوپر سے دن کی روشنی میں تو بالکل بھی نہیں. ….
پاگلوں کی طرح پورا ویلا چھان مارنے کے بعد جب وہ اپنے سیکرٹ وے کی طرف آیا. ..وہاں خون میں لت پت جیک کی لاش کو دیکه کر وہ حیران ہوگیا تھا. ..جبھی پورے ویلا کے گارڈز کو جمع کیا تب اسے پتا چلا کہ جیک کے کہنے پر ہی وہ لوگ ساتھ کھانا کھانے کے لئے جمع ہوئے تھے. …
ضروری کال کا کہتا جیک وہاں سے ہٹا تھا پھر واپس نہیں آیا. .. اور نا ہی انہوں نے پھر دیکھنے کی کوشش کی تھی. …..
وہ سمجھ گیا تھا. … کہ جیک نے غداری کی تھی جسکی سزا اسے مل گئی. .مگر اسکی الیانہ کودور کرنے کی کوشش کی اور کامیاب بهی ہوگیا. ..مگر اسکی کامیابی ہی اسکی بربادی بنی. ….اسے غصہ آرہا تھا کہ کیوں مرا وہ. …
کون ….کون. .کون. … کون لے گیا اسے یہاں سے. .. کون ہے اتنا شاطر جو راج ویلا کے اندر آگیا. .اور مجھے خبر ہی نہیں ہوئی. … کمرے میں آتا وہ خود ے بڑبڑایا تھا. … جان جیے لبوں پر آئی ہوئی تھی. …..اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ساری دنیا کو بهسم کر دے. ..اور بس کہیں سے الیانہ کو لے آئے. ….
سگریٹ سلگاتا وہ ٹریس پر کھڑا ہوا تھا. …..سبز رنگ آنکھیں لہو ٹپک رہی تھی…گردن بازوؤں کی رگیں تنی ہوئی تھی. …ضبط کے مارے پورا چہرہ لال ہوگیا. …
آہہہہہ. ..اسنے پورے قوت سے سگریٹ دور پھینکتے چیخا تھا. ….جیسے ساری غلطی ہی اسکی ہو. …..
تمہیں کوئی مجھ سے دور نہیں کرسکتا. …تم میری تھی میری ہو. .میری ہی رہو گی. .تمہیں ہر قیمت پر میرا رہنا ہوگا. …ورنہ تمہیں ختم کر کے خود بهی ختم ہوجاوں گا. …، خیالات میں اسے تصور کرتا جنونیت سے بولا تھا. …..اسکے لہجے میں الگ سی دیوانگی تھی. .ایک الگ سا جنون تھا. ….
مت سناو فسانہ بیچ محفل اس طرح. .
کہہ دیا نا. .دل کی اتنی سادگی نہیں اچھی
مگر ہو کہاں. ..کون لے گیا. … آخر میں اسکی سوئی وہیں آکر رکی تھی. …
آئش. …. یکدم ہی اسکی آنکھوں کے سامنے آئش کی جانچتی آنکھیں گھومی تھی. ….. وہ بھاگتا ہوا باہر نکلا تھا. .جنون سا سوار ہوگیا تھا سر پر. …جسے پانے میں سال لگ گئے وہ کیسے کوئی پل میں اس سے دور کر سکتا تھا. ….
■■■■■
دو سال بعد. …
پورے کمرے میں نیم اندھیرا چھایا ہوا تھا. …..صرف نائٹ بلب کی روشنی کمرے میں چهائی ہوئی تھی. ….
ایسے میں وہ نازک وجود بیڈ پر چت لیٹا چهت کو گھور رہا تھا. …..
بلیک سوئیٹر بلیک ہی جینز پہنے. .. بال بکھرے سے. .آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے. …زرد پڑتی رنگت. …. وہ دو سال پہلے والی ہیر ہرگز نا تھی. …وہ تو کوئی اور ہی لگ رہی تھی. ……
کچھ یاد آنے پر وہ اٹهی تھی بیڈ سے. ….بالکل کسی روبوٹ کی طرح. …
ابھی وہ ڈریسنگ روم کی طرف جاتی کے دروازہ کھلتا پهر بند ہوا تھا. ..
وہ اسکی طرح کھڑی رہی تھی. … جم گئی تھی. .مڑ کر دیکھنے کی ذحمت تک گوارا نہیں کی. .جیسے جانتی ہو آنے والا کون ہے. ….
کیسی ہو. … اسے پیچھے سے آکر ہگ کرتا وہ دلفریب لہجے میں سرگوشی نما بولا. …
ہیر سانس روکے سبز آنکھیں موند گئی تھی. …
کب چھوڑو گی اپنی یہ ضد اسے خاموش پا کر کندھوں سے پکڑتا اپنی طرف کرتا وہ سٹاپ لہجے میں بولا تھا. …
کون سی ضد. … ہیر نے نامحسوس انداز میں اسے پیچھے کرتے سمجھتے بوجهتے ناسمجھی سے پوچھا. ..انداز خاصا بے زار سا تھا. …..
کارلوس لب بیچهے بس اسے دیکھے جا رہا تھا. …اسنے بخوبی اسکے لہجے میں بےزاری اور اسکا خود سے دور کرنا محسوس کیا تھا. ….
میری ہو جاو نا اب. … اور کتنا ستانا ہے اب مجھے. .. اسکے اور قریب ہوتے الٹے ہاتھ کی پیشت اسکے روئی جیسے نرم گال پر پھیرتا وہ بوجھل گھمبیر آواز میں بولا تھا. ….
وہ لب بیهچے آنکھیں موندے اسکی سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کرتی سانس روکے کھڑی تھی. …ٹانگیں کامپ رہی تھی. ..جیسے اب گری کہ تب. .وہ تو کارلوس کے بازوؤں کی گرفت کے سہارے کھڑی تھی. …
وہ مضبوط لڑکی اب کافی ڈرپوک ہوگئی تھی. ..ہوتی بهی کیوں نا. .پچھلے دو سالوں سے وہ ایک نان مسلم کے قید میں تھی. …اور تھی بهی اکیلی. .اسے اپنی ضد اور انا سے زیادہ پیاری اپنی عزت تھی. ….وہ کسی صورت اس پر سمجھوتہ نہیں کر سکتی تھی. …
ہیرررر. …دو سال تو انتظار کرلیا ہے. .. اب میرا انتظار ختم کردو نا یاررا میری زات کا ادھورا پن مجھے میسر ہو کر مکمل کردو نا. ..اسے ہنوز خاموش دیکھ کر بیچ موجود فاصلہ مکمل ختم کرتا اسکی شہ رگ پر انگوٹھا پھیرتا سرگوشی نما بوجھل آواز میں بولا. …….
م مجھے جانے دو. …. ہیر تو اسکو اتنے قریب آجانے پر ڈر گئی تھی. .سونے پر سہاگہ اسکی باتیں. … آج تک وہ آئش کی یادوں کو بهلا نہیں پائی تھی. ..وہ آج بھی اسے یادوں میں یاد تھا. .. اسے یاد کرتے ایک ٹیس اٹهی تھی دل میں. ..
مجھ جیسا شخص اگر قہقہوں سے بھر جائے. .
یہ سانس لیتی اداسی تو گهٹ کے مر جائے. ..
وہ میرے بعد ترس جائے گا محبت کو. ….
اسے کہنا. .اگر ہوسکے تو مر جائے. ….
تم جانتی تو ہو تم اپنی فیملی کی حفاظت کی قیمت ملی ہو مجھے. …. جب تک تم میرے پاس. رہو گی. …میں تمہارے کسی فیملی ممبر کو دیکھوں گا بهی نہیں. ..اور تمہارے مجھے چھوڑنے کی صورت میں میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا. .یہ بات تو تم جانتی ہی ہو. … قتل کرنے سے. .کسی کی سانسیں چھین لینے سے مجھے کتنا سکون ملتا ہے. .. اور اپنے سکون کے لئے میں کیا کیا کر سکتا ہوں. . یہ تو تمہاری یہاں موجودگی بنا رہی ہے. .. آج آخری بار تمہارے منہ سے جانے کا سنا اور برداشت کیا ہے. ..اگلی بار بنا تمہاری مرضی کی پروا کئے. ..تمہارے وجود کی گہرائیوں سے تمہاری روح میں اتر کر تمہیں اپنے نام کرلوں گا. ..شدت سے کہتا اسکی شہ رگ پر زور بڑها دیا تھا. .پل میں سیاہ آنکھیں لہو چھلکنے لگی تھی. …..
تم. .تم تو مجھ سے محبت کرتے ہو نا. …. اسکی بات سے ڈرتے وہ جلدی سے بولتے بات بدلی چاہی تھی. …
تمہیں کس نے کہا میں محبت کرتا ہوں تم سے. …اسکی سبز آنکھوں میں اپنی سیاہ پرسرار نظریں گاڑھے وہ جواب کے بدلے سوال دغ گیا. ..ساتھ ہی اسے پورا ڈریسنگ ٹیبل سے جوڑ کر کھڑا کر دیا. ….
تم میرا جنون ہو. ….تم میرا پاگل پن ہو. ……تم وہ نشہ ہو جسے صرف دیکھتے ہی میں بہک جاتا ہوں. …جانتی ہو ..ان دو سالوں میں ، میں نے نشہ کرنا چھوڑ دیا ہے. ..بس تمہیں دیکھ کر ہی بہک جاتا ہوں. …تم سب ہو بس محبت نہیں. …پیاسی نگاہیں اسکے چہرے پر ٹکائے وہ گھمبیر آواز میں بولا تھا. …
مجھے جانے. …….
ابھی اسکی بات پوری ہوتی کہ کارلوس نے ایک جھٹکے سے اسے بیڈ پر پٹخا تھا. …سیاہ آنکھیں لہو چھلک رہی تھی رگیں تن گئی تھی. ….
کا. .کارلوس. ..ی یہ. ..نہیں. …. اسکو شرٹ کے بٹن کھولتے سرد تاثر لئے خود پر جھکتے دیکھ کر وہ کپکپاتے لہجے میں بولی تھی. .جان لبوں کو آئی تھی. ..بےبسی سے چیخ چیخ کر رونے کا دل چاہا تھا. ..
