54.7K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 02

تمہاری بات پہ میں اعتبار تو کر لوں🔥
مگر یہ عمر نہیں ہے فریب کھانے کی💯✨
ایک اور آخری بات …جو بہت اہم ہیں. .. آج ہماری آخری میٹنگ تھی. .. آج کے بعد تب تک ہم نہیں ملیں گے. .جب تک بلیک وے. . گینگ ختم نا ہوجائے. … آج سے ہم سب الگ الگ ہیں. … کوئی کسی دوسرے کو اپنے پلین کے بارے میں نہیں بتائے گا. .. جو بھی کرنا ہے خود کرنا ہے. .. ہم جو کام کرتے ہیں. .اس میں ہمیں ہمارے ہی دوسرے ہاتھ پر یقین نہیں کرنا چاہیے. … اب سے ہم پانچوں انجان ہیں. … کوئی کسی پر بھروسہ نہیں کرے گا. .. یہ ہمارا کام کا ایک اہم رول ہے. …
. سر بٹرائس نے سب کو مخاطب کرتے ہوئے سنجیدہ آواز میں کہا. اس کے بعد مس برنٹ،.لنڑامیک، سر آرم اسٹرنگ. .. اور سر لومبار اپنی اپنی چیزیں اٹھاتے ایک دوسرے سے ملتے باہر نکل گئے. …سر بٹرائس دوبارہ لیپ ٹاپ پر مشغول ہوگئے تھے. ..
○○○○○○○○○○○
یار … میرے ساتھ تو راکیل ہے. ..تم ہی اپنا پاٹنر ڈھونڈو. .. ورنہ ہم کوالیفائیڈ نہیں سکیں گے. … کناٹ. .. گٹار کو اس کے سٹانڈ پر رکھتا آئش کی طرف مڑا. .. فکرمندی سے گویا ہوا. …
تین مہینے بعد. انٹر نیشنل لیول پر ڈاسنگ کمپیٹیشن ہونا تھا. … جن کے بینڈ کی صورت حصہ لے سکتے تھے. .. مینیمم 4 اور میکسیمم 9 لوگ ہوسکتے تھے. .. اس سے پہلے پریکٹس کے لیے سب سے دبئی جانا تھا. . ادھر چھوٹے چھوٹے کمپیٹیشن ہونے تھے. .. پھر ادھر سے کوالیفائیڈ ہونے کے بعد ہی امریکہ جانا تھا. .. جدھر. . فائنل ہونا تھا. .. تین مہینے کے لئے اب وہ تینوں دو دن بعد دبئی جارہے تھے. ..مگر مسئلہ یہ تھا کہ وہ تین تھے. .. ایک ممبر کم تھا. .. اتنا جلدی کوئی اچھا ڈانسر ملنا مشکل تھا. .. اب وہ صبح سے اسی مسئلے کو حل کرنے کی کوشش میں ہلکان تھے. ..
وہ سب دهرانی ہاوس کے میوزک روم جو آئش نے بنوایا تھا ادھر تھے. …
ملٹی کلر تھیم، ، دیواروں پر مختلف سنگینگ سے ریلیٹڈ پوسٹرز لگے ہوئے تھے. .. گٹار. . وائلن. .. مائیک. . میوزک سے منسوب ہر آلہ تھا. .. ایک کونے میں پڑے صوفے پر آیش… لمبا چوڑا قد. .. کالی آنکھیں. .. ستون کھڑی مغرور ناک. .. عنابی ہونٹ. .. کالے بال ماتھے پر بکھرے. .. گرے ٹی شرٹ وائیٹ پینٹ پہنے وہ پریشان سا کناٹ کے ساه بیٹھا تھا. . کناٹ بھی ایک خوبرو. .مرد تھا. . راکیل ان کے سامنے سٹول پر بیٹهی ہوئی تھی. .. وائیٹ شاٹ شرٹ. .جس سے پیٹ اور کمر نظر آرہی تھی. . وائیٹ ہی شاٹس پہنے ہوئے تھی. .. جینز کی جیکٹ کمر پر بندھی ہوئی تھی. . وہ بھی ایک غیرمعمولی نقوش کی لڑکی تھی. .. وہ تینوں بچن کے بہت اچھے دوست تھے. .. راکیل اور کناٹ سنگینگ میں نہیں گئے کیونکہ ان کی آواز کچھ خاص نہیں تھی. . البتہ آئش کی آواز بہت خوبصورت تھی. . اسی لیے وہ آسانی سے چلا گیا. .اور کافی کامیاب بھی ہوگیا تھا. .. جب سے اسے ڈانسگ کا شوق چڑھا تھا. . اس نے کناٹ اور راکیل کو بھی ساتھ ملا لیا. .. تین چار سالوں میں وہ کافی اچھا ڈانس کرلیتے تھے. ..کافی کمپیٹیشن بھی جیت گئے تھے. .. مگر اب مسئلہ بن رہا تھا. ..
ہممم پہلے ادھر تو چلتیں ہیں. ..مجھے امید ہے ہماری طرف کوئی دوسرے بھی اس وجہ سے پریشان ہوں گے. .کیونکہ ایسا پہلی بار ہوا ہے. .. تو ہمیں ضرور کوئی اچھا ڈانسر مل سکتا ہے. .. آئش نے. .. سامنے پڑہے کانچ کے ٹیبل سے وائن کا پیگ بناتا بولا تھا. …
ہممم. … چلو. .. سب ٹھیک ہوگا. .مل جائے گا کوئی. … کناٹ بھی مطمئن ہوتا پیگ بنانے لگا تھا. ..
مگر ہم ادھر تین مہینے رہیں گے کدھر. . اتنا عرصہ ہوٹل میں قیام رہ نہیں سکتے. .. راکیل کو اپنی پریشانی لگ گئی تھی. ..
یہ کون سی بڑی بات ہے. .. کوئی فلیٹ رینٹ پر لے لیں گے. .. وائن کا کپ اس کی طرف کرنا کناٹ بولا تھا. .. جانتا توتا کہ وہ صبح صبح وائن نہیں پیتی مگر عادت سے مجبور. …
اچھا اب تم لوگ جاو. . جانے کی تیاری کرو. . دو دن بعد جانا ہے. .. مینے آج ایک میوزک کنسرٹ میں جانا ہے. ..لیٹ نا ہوں جاوں. .. آئش اٹھتے ہوئے بولا تھا. . اس کے ساتھ ہی وہ دونوں بھی اٹھے تھے. .. ان سے ملتا وہ باہر نکل گیا تھا. .. پیچھے وہ دونوں ایک دفعہ پھر بیٹھ گئے تھے. …….
پاگل پن دیاں ساریاں لیکاں میرے ہتھ وچ کیوں۔۔۔۔۔۔
جنوں چاواں میں ای چاواں۔۔۔۔
میں ای چاواں کیوں۔۔۔💯🔥❤️
○○○○○○○○○○
بوللل. .. بوللل کون ہے. .کس کے لیے کام کرتا ہے. .. ورنہ انتہائی دردناک موت دوں گا. . بتا دے گا تو شاید کچھ کم سزا ملے. … چھ فٹ سے نکلتا قد. .. گرین پرسرار آنکھیں. .. خوبصورت نقوش. . ماتھے پر بے شمار بل سجائے. بڑے بڑے بال پونی میں کئے. بلیک شرٹ پینٹ. . .. راجر. .. چاقو. . اس زمین پر پڑے وجود کے چہرے پر پھیرتا سفاکیت سے انگلش میں بولا تھا. . چہرے سے سردمہری ٹپک رہی تھی. .. گرین آنکھیں لہو برس رہی تھی. .. گردن اور ہاتھ بازوؤں کی رگیں تنی ہوئی تھی. ..
م میں کچھ نہیں جانتا. .. مجھے چھوڑ دو. .میں نے کچھ نہیں کیا. ..میں نہیں جانتا میں ادھر کیسے آگیا. . تم لوگوں کو غلطفہمی ہوئی ہے. ..مجھے معاف کردوو. .. نیچے گرا وجود خوف سے کانپتے ہوئے بولا تھا. .. حالت زندگی کے بجائے موت مانگنے کی تھی. … وہ موت کے بجاے زندگی مانگ رہا تھا. . اور یہی بات راج اور راجر کو اور طیش دلا رہی تھی. …
بلیک شرٹ پینٹ پہنے. .. کندھوں تک آتے بال کھلے تھے. . جبڑے بیچے ہوئے تھے. . رگیں تنی ہوئی تھی. … گرین آنکھیں بے تاثر تھی. …
ان دونوں کی آنکھوں کے ساتھ ساتھ باقی نقوش بھی کافی حد تک ملتے تھے. .. کوئی بھی انہیں دیکھ کر بتا سکتا تھا کہ وہ دونوں بھائی ہیں. .. راجر تیس سال اور راج ستائیس سال کا تھا. .. دونوں وجاہت میں بھی ایک دوسرے سے بڑھ کر تے. ..
مار دے اس—کو. .. یہ ہمارا وقت برباد کر رہا ہے. .. اور کچھ دیکھ لیں گے. . مل جائے گا کوئی اور سراغ. .. راج نے بے تاثر لہجے میں. . اپنی بهاری گمبھیر آواز میں راجر سے کہا تھا. …
ساتھ ہی کمرے میں چیخیں گونج رہی تھی. . راجر نے پہلے اس کے بازو کاٹے تھے پھر. … چہرے پر ان گنت کٹ لگائے تھے. .. پھر وہی چاقو اس کے سینے میں گهوپ دیا تھا. .. سینہ چیڑتا وہ اس کا دل تک نکال چکا تھا. ..
اسے نکالتے کے بعد اس کا سر بھی کاٹ دیا تھا …. راجر کے ہاتھ. اور کپڑے خون سے رنگے ہوئے تھے. ..چہرے پر بھی چھینٹیں تھی. … البتہ راج تھوڑا دور کھڑا تھا ایسے جیسے کہ وہ ڈورے مون دیکھ رہے ہوں. …
اس– کا سر اور گردن پیک کر کے کسی پبلک پلیس پر چھوڑ دینا. … ہم تو نہیں جانتے کہ کس کے کہنے پر راج پیلس میں گھسنے کی کوشش کی تھی. ..مگر جب لوگ اسے دیکھیں گے. ..بات پھیلے گی. .. تو وہ خود ہی جان جائے گا. … ساتھ ہی. نوٹ چھوڑ دو کہ اب سامنے آئے کب تک یہ چھپن چھپائی کهیلنی ہے. .. راجر ٹشو پیپر وکٹر سے لیتا اس سے چاقو صاف کرتا. .سٹاپ لہجے میں گویا ہوا تھا. اس کی بات سنتے ہی وکٹر نے ایک بڑے سے ڈبے میں اس کا سر اور دل ڈال رہا تھا. وہ بائیس تیئس سال کا خوبرو لڑکا تھا. … وہ کئی سالوں سے ان کے ساتھ تھا. . پہلے پہل تو ایسا کچھ دیکھنے ہی اس کی شلوار گیلی ہوجاتی تھی. .مگر اب وہ عادی ہوگیا تھا. . بلکہ اگر دو تین ایسا خون خرابہ دیکھے تو کچھ کمی کمی لگتی تھی. .
.. راج سٹاپ چہرے سے سر کٹے ہوئے بندے کو دیکھ کر اسے داد دے رہا تھا. .. جو اتنی دردناک موت مرا تھا. ..مگر پھر بھی اپنی باس کا وفادار ہی بنا رہا. .. جانتا تو تھا ہی کہ مرنا ہے ہے ہی پهر وفا دار ہو کر مرے کے دھوکہ دے جائے. .. اور وہ جانتا تھا کہ. .. وہ بلیک ورلڈ میں ہی کسی کا کتا تھا. .. اور بلیک ورلڈ میں لڈو کهیلنی نہیں ہوتی. . ان کی بہت. .سخت ٹریننگ ہوئی تھی. .. وہ لوگ ایک دفعہ جن کے ہوائیں پهر انہی کے ہو کر مرجاتے تھے. .. اور اگر کوئی غداری کرے تو اسے نا جینے کے لئے چھوڑتے تھے نا مرنے دیتے تھے. … اسی لیے زیادہ لوگ اپنے باس کے لیے مر تو جاتے تھے مگر منہ سے قفل نہیں ہٹاتے تھے. ….
ریا آئی نہیں کافی دنوں سے. …….
وکٹر کے جانے ہی راجر راج کی طرف مڑا تھا. .. خون سے رنگے ہاتھوں کو ٹیشو سے صاف کرتا دور پھینکتے بولا تھا. . قدم بلیک روم سے باہر اٹھا لیئے تھے. . مگر اس سے پہلے ایک چھوٹا دروازہ کھولا نہیں مڑا تھا. .دروازہ کھلتے ہی. .. تین بڑے بڑے کالے خوفناک کتے باہر نکلے تھے. .. خون کی خوشبو سنگهتے اس آدهی لاش پر ٹوٹ پڑے تھے. .ٹیشو سے . خون صاف تو نہیں ہوا بلکہ اور پھیل گیا تھا. .. ابھی وہ ایسی حالت میں تھا کہ کوئی. .نارمل انسان اسے دیکھ کر بنا ٹکٹ کے اوپر جا سکتا تھا. ..
ہاں. .. فون آیا تھا کہ معروف ہے کچھ دن تو مشکل ہو سکتا ہے. .. راج بولتا اس کے پیچھے ہی باہر نکل گیا. .. آٹو لاک دروازہ خود ہی بند ہوگیا تھا. .
اچھی بات ہے. .. دور رہے اس سب سے. .. کہہ کہہ کر تو تهک گیا ہوں. .. ادھر مت آیا کرے. .. اس دنیا سے دور ہی رہے. .. مگر. . ریا ہی کون ہو جو مان لے. … دنیا کی کوئی چیز پریشان نہیں کرتی سوائے اس دهان پان سی لڑکی کے. … بس ڈرتا ہوں اسے کوئی تکلیف نا ہو جائے. .. کہیں کوئی نقصان نہ پہنچ جائے. .. مگر وہ. .. راجر بولتے ہوئے باہر لاونچ میں آگیا تھا چہرے پر فکرمندی. . غصہ بے بسی واضع تھی. . ایک مسکراہٹ بھی تھی… جس سے انداز لگایا جا سکتا تھا کہ. .. وہ کسی خاص کی بات کررہا تھا. .جس سے محبت ہو. جس کی فکر ہو. . .. جو صرف راج اور ریا کے لیے ہی آتی تھی. .. راج کی طرف اسکا بھی ڈمپل پڑتا تھا. .. .. راج بھی آکر صوفے پر بیٹھ گیا تھا. ….راجر کھڑا ہی تھا. ..
کچھ نہیں ہوگا اسے. . وہ اپنی حفاظت کرنا جانتی ہے. .پهر ہم دونوں ہیں اس کے ساتھ. .. اس کی فکر کرنے کے لیے. .. ہاں یہ تو ٹھیک ہے کہ وہ ادھر کم ہی ہوا کرے. . ادھر کبھی بھی کوئی بھی دشمن اٹیک کرسکتا ہے. .. بس. .تو اسے زیادہ ڈانٹآ نا کر. . جانتا ہے. . وہ. .جتنا منع کرو گے اتنا ہی وہی کام کرے گی. . البتہ اگر اسے پیار سے سمجھایا جائے تو جلدی مان جاتی ہے. .. بس اس کی ٹریننگ ابھی ختم نا کرو. . اور ٹریننگ کی ضرورت ہے اسے. . اس سے زیادہ سکیور ہوگی وہ. .. راج اسے سمجھاتے ہوئے بولا تھا. … ریا کے زکر پر وہ بھی دل سے مسکرایا تھا. . ڈمپل نمایاں ہوتا اسے اور دلکش بنا گیا تھا. …
ہممم جانتا ہوں. .. خیرر. . میں جاتا ہوں روم میں. .. تم وکٹر کو دیکھ لو ..سمجھا دو. .کیا کیسے. .کب کرنا. .کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے. .. راجر موبائل جیب میں ڈالتا دوبارہ سے سردمہری کا لبادہ اوڑھے بولا تھا. . ساتھ ہی لاونچ سے نکل گیا. ….
راج بھی وکٹر کو دیکھنے باہر نکل گیا تھا. ….
اس نے کہا کیسے سمجھوں تیرے درد کو 💔
میں کہا ۔عشق کر ۔۔بہت کر ۔۔انتہا کر ۔۔اور ہار جا🖤🖤
○○○○○○○
علیزےے. .. علیزےے. .. دروازہ کهولو. .. آدیان. . کب سے دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا. .. مگر وہ تھی کہ بس روئے جا رہی تھی. …
یہ لو بیٹا. … یہ کهولو. ..دروازہ. .. ہانیہ بیگم نے نے ڈبلیکیٹ کی اس کی طرف بڑھاتے بولی تھی. …
علیزےے چپ کرو. ہانیہ نیگم اس کے پاس بیٹھتی بے چینی سے بولی تھی … وہ کہاں اپنی بیٹی کو روتا دیکھ سکتی تھی ..
ممی. … مجھے. ..کوئی. … شادی نہیں کرنی. ..ڈیڈ سے بولیں نا. …. وہ ان کی گود میں سر رکھتے. .. روتے ہوئے بولی تھی. ….
علیزےے. .. میری جان. .. میں بات کروں گی. .تم رونا بند کرو. .. انہوں نے پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی بولی تھی. .. اس سے زیادہ خود کو تسلی دے رہی تھی. .جانتی تھی کہ ریان کبھی اپنی بات سے نہیں مکریں گے. ..
برو. … وہ روتی ہوئی آدیان کے سینے لگی تھی. . جو ان کے ساتھ ہی بیڈ پر بیٹھا تھا. .
میری شہزادی. … رونا نہیں ہے. .میں ہوں نا. … اس نے اس کے سر پر پیار کرتے کہا. ..
برو … وہ. .. وہ تو بہت بڑا ہے. .. اور. ..مجھے تو پڑھنا تھا. .. مجھے ماسٹر کرنا ہے. .. مجھے شادی نہیں. …کرنی. …پلیززز نا. .. ڈیڈی سے بات کریں نا. …. وہ آپ کی بات سنتے ہیں. …پلیزز. .. وہ اس کے گلے لگی روتی جا رہی تھی. …
ہانیہ بیگم دونوں بہن بھائی کو چھوڑ کر چلی گئیں تھی. …
میری شہزادی بہن ہے نا. … بہت معصوم ہے. .. میں ایسے تو کسی کو تو نہیں دے سکتا نا. …. تم فکر نہ کرو. .. ابھی تم پڑھو. .. جدھر تک چاہتی ہو. .. شادی بھی تمہاری پسند ہی ہوگی… تم بس رونا بند کرو….
اس نے پیار سے اسے بہلاتے ہوئے کہا تھا. .. وہ پریشان تو خود بھی تھا. .کیونکہ جانتا تھا کہ. . ریان اس کے بارے میں آدیان کی بھی نہیں سنتا تھا. .. او اب تو اس نے زبان دے دی تھی. .. اسے اب بہت مشکل لگ رہا تھا. ..مگر ایک دفعہ بات تو کرنی ہی تھی نا. …
اچھا بس اب. … چپ. … مجھ پر یقین رکھو. .. اس کے آنسو صاف کرنا محبت سے بولا تھا. …
آپ. .. ضرور بات کرنا. .. ورنہ میں بہت روئوں گی. .. اس کی شرٹ سے ناک صاف کرتی معصومیت سے گویا ہوئی. ..
آرے. .. یہ دیکھو. .. پھر شرٹ خراب کردی ہے میری. .. ابھی تو چینج کی تھی. .. ویسے تم جتنی روندو ہو کہ تمہارے شوہر کو تو دن میں دس دفعہ چینج کرنی پڑے گی. …. شرارت سے کہتا باہر بھاگا تھا. ..
پہلے تھوڑی دیر سمجھنے میں لگانے کے بعد چینخی تھی. …
بروووو. … کوشن اٹھا کر دروازے کی طرف پھینکا تھا. .. مگر وہ تو جا چکا تھا. …
اپنا ٹیڈی خود سے لگاتی. .. لیٹ گئی تھی. .. کچھ تسلی تو ہوئی تھی کہ اب آدیان بات کرے گا. ..مگر ڈر بھی تھا وہ جانتی تھی کہ اتنا جلدی تو وہ نہیں مانے گیں. … مگر پهر بھی مطمئن ہوکر موبائل لے کر لیٹ گئی تھی. ..
تمہاری بات پہ میں اعتبار تو کر لوں🔥
مگر یہ عمر نہیں ہے فریب کھانے کی💯✨
○○○○○○○○
وہ یونی سے فارغ ہونے کے بعد مال آگئی تھی. .ٹام اور ایبک کے ساتھ. .. جو اس کے بچپن کے دوست تھے. ..تھے تو دونوں ننمسلم. ..مگر اس کے اچھے دوست تھے. .. کئی مسلم دوست بھی تھے. .. مگر چونکہ ان تینوں کے گھر کے ساتھ بھی ساتھ تھے تو وہ زیادہ اچھے دوست بن گئے. . ٹام اور ایبک تو کزن بھی تھے. .. اب وہ ہی اسے ہی مال لے آئے تھے. .. لنچ کرنے کے بعد. . وہ اب اسے اس کونے میں لے آئی تھی. … جہان کئی لوگ جمع تھے. . وہاں ایک خاتون بیٹهی. .. ان کے ہاتھ. .. دیکھ کر انہیں ان کی قسمت کے بارے میں بنا رہی تھی. .. اپنی نالج کے حساب سے. .. وہ ساتھ ساتھ یہ بھی بولتی تھی کہ. .. وہ صرف وہ بنا رہی ہے اسے جو لگ رہا ہے. .. یہ سب ضروری نہیں کہ وہ سہی ہی کہہ رہی ہو. . مگر لوگوں کا کہنا تھا کہ اس کی کئی باتیں کافی حد تک درست ہوتی تھی. …
چلو یار الیانہ ہم بھی دیکھاتے دیکھاتے ہیں. .. جسٹ فار فن. .. ایبک اسے کھینچتی آگے بڑھی. ….
یار پیچھے ہٹوو. .مجھے ان فضول خرافات پر زرا یقین نہیں ہے. .. الیانہ نے ایبک کو آگے سے ہٹاتے. .. گاڑی کی طرف بڑھتی بولی تھی. ..
یار ایلی. .. پلیزز ایک دفعہ ….ہمارے لیے. .. یہ کہتے ہیں کہ یہ جو بتاتی ہے 99 فیصد سہی ہوتا ہے. .. ایبک آکر اس کا راستہ روکتی بولی تھی….
ہاں ایلی ایک دفعہ. ..پلیززز. .. دیکھتے ہیں ہماری قسمت کیا ہے. .. ٹام بھی اسے مناتے ہوئے بولا تھا…
گاڈ کے علاوہ کسی کو نہیں پتا کہ کیا نصیب ہے ہمارا. … اور چلو اب گھر میں سب ویٹ کررہے ہوں گے. .. جلدی فارغ ہونا تم لوگ. .. صرف ساتھ ہی جائوں گی ہاتھ نہیں دیکهاوں گی. … آخر ہار مانتے ہوئے اب اندر کی طرف بڑھی تھی اس کے پیچھے ہی ٹام اور ایبک بھی اندر بڑهه گئے. ….
سفید رنگت. .. بهوری چھوٹی چھوٹی آنکھیں. … لال ڈرس میں وہ سامنے بیٹھی کسی لڑکے کا ہاتھ دیکھ دیکھ کر اسے کچھ بتا رہی تھی. …. چہرے پر بےتحاشا میک اپ کیا ہوا تھا. …. وہ اسے خوبصورت بنانے کے بجائے خوفناک بنا رہا تھا. . کم از کم الیانہ کو تو ایسا ہی لگا تھا. .. بے زاری سے منہ پھیر لیا تھا. … کچھ دیر بعد ان کا نمبر بھی آگیا. . باہر نکل کافی رش تھا مگر جدھر وہ بیٹهی تھی وہاں باری باری پر ہی سب جارہے تھے. ..
اس کی سنے بغیر وہ اسے بھی ساتھ ہی اندر لے گئے. … امبروز نامی وہ خاتون اب پوری طرح ان کی طرف متوجہ ہوگئی تھی. .. مگر نظریں الیانہ پر ٹک گئی تھی. .. بلو آف فراک پہنے. . بازو اور ٹانگیں نظر آرہی تھی. … کالے لمبے بال جو فیش ٹیل میں ہونے کے باوجود اس کی کمر سے نیچے گر رہے تھے. .. کچھ لٹیں شفاف. . انتہائی خوبصورت چہرے پر طواف کررہی تھی. .. چہرے پر بےزاری چلهائی ہوئی تھی. . وہ دل چسپی سے اسے کم اس کے خوبصورت بالوں کو زیادہ دیکھ رہی تھی. .. ہر کسی کی طرح اسے بھی شاید اس کے بال انتہائی خوبصورت لگے تھے. … وہ اب ٹام اور ایبک کے ساتھ ہی کرسی پر بیٹھ گئی تھی. …
ٹام اور ایبک کے بعد امبروز نے اس کی طرف دیکھا. .. جیسے منتظر ہو کہ وہ اپنا ہاتھ آگے کرے. .. اس سے تو زیادہ اب اسے اس کا ہاتھ دیکھنے کا دل کررہا تھا. …
مجھے نہیں دیکھانا اپنا ہاتھ. … اس کی نظروں کا مفہوم سمجھ کر وہ خود ہی جاپانی زبان میں بولی تھی. ..
کیوں قسمت سے ڈرتی ہو. ..کہ کہیں کچھ غلط نا ہوجائے. .. کچھ دیر اسے دیکھنے کے بعد وہ بغور اس کے تاثرات دیکھتی بولی تھی. ..
نہیں. .. مجھے یقین ہے. .گاڈ نے میرے لیے اچھا ہی سوچا ہوگا. … اس کے بجائے ادھر ادھر دیکھی بے نیازی سے بولی تھی. .. گاڈ وہ اس لئے بولتی تھی کیونکہ جاپان جیسے ملک میں ہر مذہب کے لوگ رہتے تھے. ..
ہممم … مگر مجھے دیکھنا ہے. .. اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتی بولی تھی. ..الیانہ کے ساتھ ساتھ ٹام اور ایبک بھی حیران ہوگئے تھے. .اس کی زبردستی پر. ..
21 سال کی زندگی کافی خوش گزاری ہے. … کوئی تکلیف نہیں ملی. .. بلکہ تکلیف جیسے لفظ سے ناآشنا ہو. .. ایک نظر اس کے ہاتھ پر ڈالنے کے بعد اس کا حیرت میں ڈوبا خوبصورت چہرہ دیکھتی.مسکراتی ہوئی بولی تھی. .. پھر دوبارہ نظریں اس کے ہاتھ پر جما دی. …
مگر کچھ ہی پل میں اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی تھی. .جیسے ہو ہی نا. ..
د دوسراا. .. دونوں ہاتھوں کو غور سے دیکھ رہی تھی. .. چہرے پر ترس. .فکر. .حیرت. .پریشانی جیسے تاثرات واضح ہونے لگے تھے. .. جھٹکے سے اس کے ہاتھ چھوڑتی اب اٹھ کر اس کے سامنے آگئی تھی. … ٹام ایبک پریشانی سے جبکہ الیانہ بے زاری سے اسے دیکھ رہی تھی. …
کچھ عجیب سے عمل کرتی. . پیپرز پلٹتی اس کی طرف آئی تھی. .. اس کے بالوں کی چوٹی. ہاتھوں میں پکڑے انہوں عجیب سے دیکھ رہی تھی. .
یہ اتنے تو نہیں ہیں. … اس کے بالوں کو دیکھتی … بولی تھی. .. الیانہ کو کوفت ہورہی تھی. .اسکی عجیب حرکتوں سے. .
ہاں یہ. . آدھے ہیں. .. فولڈ کر کے بند کئے ہیں تب اتنے لگ رہے ہیں. . الیانہ کے بجائے ایبک بولی تھی. ..
یہ. .. یہ سیاہ بال ہی اس کی سیاہ بختی کی وجہ بنیں گے. … ان خوبصورت کالے بالوں کی وجہ سے ہی تم برباد ہوجاو گی. .. تڑپو گی. .سسکو گی. … موت چاہو گی. .. وجہ سے کالے خوبصورت بال ہی ہوں گے. …
وہ خوفزدہ سی کہتی رکی تھی. .. بالوں کو ایک جھٹکے سے چھوڑ دیا تھا. .جس سے اسے درد تو ہوا مگر عمر کا لحاظ کرتی دانت پیس کر رہ گئی. .. اسے اس سب میں دلچسپی تو نہیں تھی. .مگر ٹام اور ایبک سہی معنوں میں ڈری تھے. …
تم انہیں کٹوا دو ابھی وقت ہے. . کٹوا دو. .. ورنہ پشتهاو گی. بہت کم وقت ہے. ..بہت کم وقت ہے تمہارے پاس خوشیوں کا. …. حسین لڑکی. .. تمہاری زندگی سنگین ہونے والی ہے. … جاووو. … جاوو. .کٹوواو. ..اگر نہیں کٹواتی تو. . انہیں کبھی کھول کر مت جانا کہیں. .. چھپا کر رکھنا انہیں. .. غلطی سے بھی باہر کھلے بالوں کے ساتھ نا جانا. .. کوئی تلاش میں ہے تمہاری. .. مجھے نظر ارہا ہے. .. اسکی تلاش ختم ہوتی جا رہی ہے. .. وہ مصیبت ہے تمہارے لیے. … بچووو اسسےے. ..جاووو. ….وہ اور بھی کچھ کہہ رہی تھی. ..مگر الیانہ کا سخت موڈ خراب ہوا تھا. .تب ہی اسے بولتا چھوڑتی … باہر نکل گئی غصے سے. …. اس کے پیچھے ہی ٹام آر ابیک بھی ڈرے ڈرے چہرے کے ساتھ نکل گئے. .. وہ جانتے تھے کہ ..امبروز کی بنائیں باتیں ایک حد تک سہی ہوتی ہیں. ….
الیانہ. … پلیززز رکوو. .. پلیززز. . ابیک اسے آوازیں دیتی اس کے پیچھے باگی تھی. .. جو بنا اسے دیکھے. . پہلے سے کھڑی اپنی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوگئی تھی. … پیچھے وہ دونوں ابھی بھی پریشان تھے. …..
○○○○○○○○
Boys they’re handsome and strong but
Always the first to tell me I’m wrong
Boys try to tame me, I know they tell me
I’m weird and won’t let it go. ….
اس کی خوبصورت آواز سن کر سب اپنی جگہ مسمائیز ہوگئے تھے. ..
ایک ہاتھ سٹینڈ والے مائک پر رکھے. . دوسرے سے گلے میں ڈلے گٹار کو بجاتی. . خوبصورت آواز میں انگلش سانگ گا رہی تھی. .. کافی فینز کی فرمائش پر. ..
یہ ایک بہت بڑا میوزک کنسرٹ تھا. .. بہت سے فیمس سنگرز موجود تھے ادھر. . وہ بھی انہی میں تھی. .. کئی سنگرز نے اپنے فینز کی ڈیمانڈ پر سانگ گائے تھے. .. مختلف رنگوں سے روشن سٹیج. .. نیچے بہت سے لوگ تھے. .. جو انہیں لائو دیکھنے آئے تھے. .. آگے بڑھ بڑھ کر سٹیج کو ہاتھ لگانے کی کوشش کررہے تھے. .کوئی فارغ سنگرز اور سیلیبریٹیز سے آٹو گراف لینے کی کوشش میں تھے. ….
انہی میں آئش اندر داخل ہوا تھا پروٹوکول کے ساتھ. … گارڈ اس کے سامنے سے لوگوں کو ہٹاتے اس کے آگے بڑھنے کی کوشش کررہے تھے. .. مگر فینز چیونٹیوں کی طرح جمع تھے. …
وہ مشکل سے بچتا بچاتا اندر داخل ہوا تھا. .. اس کے بالکل سامنے سٹیج تھا. ..
No I’m fine m lying on the floor again
Cracked door , I always wanna let you in
Even after all of the shit , I’m resilient
Cause, a princess doesn’t cryy. ( noo hooo)
A princess doesn’t cryy ( oo hoo oo ) ……..
……..
وہ جو ادھر ادھر لوگوں کی بھیڑ دیکھ رہا تھا. … ایک جکڑ لینے والی آواز سنتے ہی اسنے بے اختیار سٹیج کی طرف دیکھا تھا. .. جو اسے دیکھنے ساتھ ہی پہچان گیا تھا کہ وہ ہیر مرزا ہے. .کبھی آمنے سامنے ملا تو نہیں تھا مگر بہت جگہ اس کی آواز چرچے سنے تھے. .. ٹی وی. . نیٹ پر اس کو دیکھا ہوا بھی تھا. …
اسے ماننا پڑا تھا کہ اسکی آواز بہت خوبصورت تھی. … لائو پہلی بار سن رہا تھا. .
اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ وہ ایک کامیاب ڈانسر بھی ہے. . ابھی سے نہیں بچپن سے ہی. .اسے ادھر اتنا بیغم سنگنگ کرتا دیکھ کر حیران ہوا تھا کہ وہ دبئی کیوں نہیں گئی. ..پهر یہ سوچتا کہ وہ بھی تو ادھر ہی تھا. .، اب اسے سن رہا تھا. .. اسکی آواز اسے اپنے سحر میں جکڑ رہی تھی. ..
Burning like a fire, fell in all inside, but
Wipe your teary eyes, ……..
Cause princess doesn’t cry. …
Don’t cryy, , don’t cryy, , don’t cryy.
Cause princes don’t cry… don’t cryy. .cryy
گانا اب اس کا ختم ہوگیا تھا. .. وہ اب گٹار اتار رہی تھی. .. ایک کانوں کو چیڑتا شور ایک ساتھ اٹھا تھا. … ہوٹنگ ہورہی تھی. .. اسکا نام پکار رہے تھے. . کوئی اس کی پوسٹرز لہرا رہا تھا. ..وہ اب ہلکا سا مسکراتی ہوئی نیچے اتری تھی. ….وہ آئش سے بہت دور نہیں تھی. . اسے مسکراتا ہوا دیکھ رہا تھا. . اسکی تهوری پر پڑتا ڈمپل .. اسے حیران کر گیا تھا. .. وہ اب سوچ رہا تھا کہ وہ زیادہ خوبصورت ہے یا اسکی آواز. …
وہ اب لوگوں کے ساتھ پکچرز لے رہی تھی. .. کسی کسی کو مسکرا کر جواب بھی دے رہی تھی. .تو کسی کو آٹو گراف. … وہ جنہوں نے اسے انوائیٹ کیا تھا. . اس کانسلٹ پر. . وہ انہیں بهولے بس ہیر کو دیکھ رہا تھا. .. وہ اب مسکراتی ہوئی لوگوں کی طرف ہاتھ ہلاتی اسکے قریب آتی جا رہی تھی. ..
رو پڑا وہ فقیر بھی میرے ہاتھ کی لکیروں کودیکھ کر* کہتاھے تجھے موت نھیں کسی کی یاد مارے گی‎*
○○○○○○○○