54.7K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 01

Japan : nagoya
وہ آج اس سے پوچھنا چاہتا تھا کہ وہ کون ہے. … کیوں اس کے خوابوں میں آتی ہے. … وہ آج اس کے سامنے تھی. …
پانی کے بیچ بڑے سے پتھر پر بیٹھی. … ریڈ کلر کا سلیو لیس ..گھٹنوں تک آتا فراک پہنے. .. نیچے بلیو جینز کا شاٹس پہنے. … جس سے اس کی ٹانگیں گھنٹوں سے نیچے نظر ارہی تھی. …. ریڈ پینسل ہیل ساتھ ہی پتھر پر پری تھی. .. اس کے پاؤں پانی میں تھے. …. لمبے. ..کالے بال پتھر پر بکھرے تھے. ….. کافی بڑے ہونے کی وجہ سے وہ پتھر سے نیچے پانی میں لگ کر گیلے ہورہے تھے. …. ہمیشہ کی طرح وہ آج پھر اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکا. .. اس کا رخ دوسری طرف تھا. …..
وہ پانی ہاتھ میں بھرتی اوپر اچھالی تھی. … ساتھ ہی اس کی ہنسی گونجی تھی. … وہ ہلکا سا پلٹی تھی. ..مگر پھر رک گئی. … اب راج کی طرف اس کا سائیڈ پوز تھا. .. بہت تھوڑا سا ہی سہی وہ اس کا چہرہ دیکھ سکا تھا. ….
وہ آگے بڑھا تھا. … وہ آج اس سے دوٹوک بات کرنا چاہتا تھا. … وہ قدم قدم اس کی طرف بڑھ رہا تھا. … وہ ابھی اس سے کچھ فاصلے پر تھا کہ ..
. ایک دم وہ اٹھی تھی. … ہیل ہاتھ میں پکڑ کر وہ اس پتھر سے نیچے اتری. … چھوٹے چھوٹے پتھروں پر محتاط سے پاوں رکھتی رکھتی. .. وہ اس سے دور جارہی تھی. …. اس کے بال پانی میں لگتے. . اس کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے. ….. ایک سحر انگیز سا منظر تھا. ….
رپینزل. ….. اسے پکارا تھا چینخ کر. …
راج نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا. ….. اسے روکنا چاہا. ..مگر وہ جارہی تھی. …
رپینزلللللل. .. وہ ایک دم چینخ کر اٹھا تھا. …. سانسیں بے ترتیب تھی. …. اس نے ہاتھ بڑھا کر بٹن ان کیا تھا. .. کمرہ کے درمیان میں لگا فانوس روشن ہوگیا تھا. …
اے سی کے باوجود وہ پسینے سے بھرا تھا. …
رپینزل. … آج پھر. … کون ہے تم لڑکی. … تم یوں راج پر راج نہیں کرسکتی. … میں تمہیں ڈھونڈ لوں گا. .. پھر تمہیں کہیں بھی جانے نہیں دوں گا بس تم مجھے ایک دفعہ مل کر جاو. …
کمفرٹر خود اس ہٹاتا وہ پاوں کلنگ سائز بیڈ سے نیچے اتار کر خود سے بولا تھا. ..
چھ فٹ سے نکلتا قد.. کسرتی جسم. … سیکس پیک. … بهورے بال جو بے ترتیب سے ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے. …. گرین آنکھیں …جو لال ہورہی تھی. …. جو اسے اور بھی پرسرار بناتی تھیں. …. مسلسل تین سال سے اسے ایک ہی طرح کے خواب ارہے تھے. .. جس میں وہ ایک انتہائی خوبصورت لمبے بالوں والی لڑکی کو دیکھتا تھا. .. اب تو اسے اس خواب کی عادت ہوگئی تھی. .. جس رات اسے یہ خواب نہیں آتا وہ ہر چیز سے بے زار رہتا تھا. … اس نے سونا بھی جلدی شروع کردیا تھا …. وہ بس اب اسے دیکھنا چاہتا تھا. ..خواب میں ہی سہی. .. وہ اس کا چہرہ دیکھنا چاہتا تھا. ….
وہ اسے خود سے ہی رپینزل کا لقب دے چکا تھا. ….
وہ اٹھ کر واش روم گیا تھا شاور لینے. …. کچھ دیر بعد وہ باہر آیا تھا. … صرف وائیٹ ٹرائوزر پہنے. … بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ اپنے کمرے میں وجود سیکرٹ روم میں چلا گیا تھا. …. جہاں لائیٹ ت نہیں تھی. …مگر فیری لائیٹ لگی ہوئی تھی. .. بہت سے سیکچ بورڈ. .جن کے سائیڈ پر مختلف رنگ کی فیری لائیٹز لگی تھی. .کمرہ اسی کی وجہ سے روشن تھا. ….
وہ ایک. . بورڈ کے پاس آکر رکا تھا. … اس پر سے پیپر اتار کر نیا پیپر لگایا تھا. . اتارے ہوئے کو اس کے سامنے دیوار پر چپسا دیا تھا. …
واپس آکر اسے بورڈ کے پاس کھڑا ہوا. .. اپنا ضرورت کا سامان پاس رکھ کر. ..برش ہاتھ میں پکڑ کر گرین پرسرار آنکھیں بند کر گیا تھا. ….پھر اس کا مضبوط ہاتھ پیپر پر چل رہا تھا. …. تقریباً بیس منٹ بعد اس کا ہاتھ رکا تھا. …. ساتھ ہی اس گرین آنکھیں کھول گئی تھی. …
سامنے پیپر پر دیکھتے. .. اس کے چہرے پر مسکراہٹ کھیل گئی تھی. .جس سے اس کے دائیں گال پر پڑتا ڈمپل نمایاں ہوا تھا. ….
پیپر پر بالکل وہی منظر تھا جسے اس نے آج رپینزل کو دیکھا تھا. .. وہی پانی میں پتھر پر بیٹھی. .لال فراک میں. … نازک وجود. ….
اس کمرے میں ہر جگہ رپینزل کے سیکچ تھے جو اس نے پہلے دن سے جب سے اسے وہ خواب میں آنا شروع ہوئی تھی تب سے لے کر آج تک کی. ..ہر روز کے. .. جب جب وہ اس کے خواب میں آئی. ….
وہ اسے چھوڑتا. …ہاتھ میں .spray colour.. لیئے سامنے والی دیوار کے پاس آکر رکا تھا. . جس پر بھی رپینزل کی پکچر بنائی ہوئی تھی. … سفید سیم فراک میں. . … کھڑی تھی. ..مگر بیک سے. …
لال کلر سے اس تصویر کے نیچے رپینزل لکھ یا اور خود کرسی گهینچتا اس کے سامنے بیٹھ گیا تھا. ….
کبھی تو ملو گی. .رپینزل. …. کبھی تو خوابوں سے نکل کر سامنے آو گی. .. مجھے یقین ہے. .مجھے تم جلد ہی مل جاو گی جانممم. … اب تو خوابوں میں بھی میں تمہارے قریب آگیا ہوں. … پہلے تو ایک جهک دیکھا کر غائب ہوجاتی تھی. … اب کافی ترقی کرچکا ہوں. … جب تک تمہیں حقیقت میں دیکھ نا لوں تب تک تو دوری برداشت کررہا ہوں. ..مگر جس دن تم میرے سامنے آئی میں تمہیں بهری دنیا میں سے چرا لوں گا. …. تمہیں صرف راج کا ہونا ہوگا. … تمہاری دنیا صرف راج کے گرد گھومے گی. .. اور کوئی نہیں. ..تم خود بھی نہیں. .. صرف میں. …. تم میرا ان دیکھا عشق ہو. .. جنون ہو. … پاگل پن ہو میرا. .. تمہیں میرا. .. عشق. .. جنون. .. پاگل پن. ..سہنا ہی ہوگا. …. اپنے نازک مومی وجود پر. … میری وحشتوں کو قرار دینا ہو گا. .. پیاری رپینزل. …. تھوڑا جی لو. . پھر صرف راج. .. اور … اس کی رپینزل ہوگی. … صرففف. … وہ جنونی انداز میں خود سے ہی بڑبڑا رہا تھا. .. سبز آنکھیں لہو ٹپک رہی تھی. … وہ کوئی جنونی پاگل ہی لگ رہا تھا. …..

○○○○○○○○
Japan: osaka
الیکٹرک ٹریڈ مل پر دوڑتے اس کا سانس پھول گیا تھا. … پسینے میں شرابور وجود اب تهک گیا تھا. .. بهاگ بهاگ کر. … بلیک جاگینگ سوٹ میں. .. لائیٹ برائوں ڈائے کیئے ہوئے بال ہائی ٹیل میں مقیم تھے. …. جو بھاگنے کی وجہ سے ہل رہے تھے. …. مشین بند کر کے. . وہ نیچے اتری تھی. … سامنے ہی لٹکا ٹاول سے چہرے پر سے پسینہ خشک کرتی وہ ادھر ہی ون سیٹڑ رکھے صوفے پر آکر بیٹھ گئی تھی. … تب ہی. .. لورا گلاس ڈور ناک کرتی اندر آئی تھی. …. گلاس میں فریش جوس اس کے سامنے کیا تھا. .. جسے اس نے پی کر گلاس واپس ٹرے میں رکھ کر کھڑی ہوگئی تھی. …
موم ڈیڈ. . اٹھے. … اس نے اپنی خوبصورت آواز میں پوچھا تھا. ..
جی میم وہ تو ابھی نہیں اٹھے. .. رات کو وہ لیٹ نائیٹ آئے تھے … شاید تبھی. .. لورا نے اسے تفصیل سے بتایا. .. وہ ایک ہندو لڑکی تھی جو کئی سال سے ان کے ہاں کام کررہی تھی. …
ہمم جاو تم. .. میرے لیے ناشتہ نہیں لگانا. .میں باہر کرلو گی. … اس نے بالوں سے پونی اتارتے ہوئے کہا. ..کمر تک آتے بال اب بکهر گئے تھے. …..
لورا کے جانے کے بعد وہ اپنے کپڑے لیتی واش روم میں گھس گئی تھی. … آج. . اسے ایک میوزک پروگرام میں انوائیٹ کیا ہوا تھا. ..
کچھ دیر بعد وہ باہر نکلی تھی. … ڈریسنگ روم میں آکر اس نے اپنے گیلے بال ڈرائے کیئے تھے. … ہلکا سا میک اپ کرنے کے بعد. .. بالوں کو کنگھی کر کے کھلا ہی رہنا دیا تھا. …. کانوں میں نفیس سے ائیر رنگ ڈال کر. .. وہ بیڈ پر آکر بیٹهی تھی. .پہلے سے رکھی. .. سلور ہیل پاوں میں پہن کر وہ دوبارہ آئینہ کے سامنے کھڑی ہو کر اپنا تفصیلی جائزہ لیتی. . غرور سے مسکرائی تھی. ….
ریڈ ٹاپ. .. بلیو جینز جو گھٹنوں سے پھٹی ہوئی تھی. … ہلکے میک اب میں اس کا چہرہ اور دلکش لگ رہا تھا. .. گرین بڑی بڑی آنکھیں. .. چھوٹی سی ناک. .. باریک تراشے ہوئے. .. نرم و نازک لب. .. تهوری پر پڑتا ڈمپل. …. وہ ایک انتہائی خوبصورت لڑکی تھی. .. اور وہ یہ بات جانتی تھی. ..
موبائل اور اپنی سپورٹس کار کی چابیاں اٹھاتی. .. روم سے نکل گئی. .. مرزا ویلا کے دوسرے پورشن پر اس کا روم تھا. … تیزی سے سیڑھیاں سے نیچے اترتی وہ موبائل پر کسی کو میسج کر رہی تھی. .. جب اچانک. .. سامنے سے آتے ہو فولادی وجود سے ٹکرائی تھی. … اس کا سر وائز کے کندھے پر لگا تھا. . وہ سر پکڑ کر کھڑی ہوگئی تھی. ….
لڑکی ہوش میں رہا کرو. .. ہر وقت تا تهیاں. .تا تهیاں نہیں چلتا. .. سیڑھیاں اترنے وقت توکم از کم یہ ناچنا بند کردیا کرو. .. جب دیکھو ناچ رہی ہوتی ہو. .. وائز نے اس کے ڈانس کرنے پر چوٹ کی تھی. .. چه فٹ قد. …. بهوری آنکھیں. .. ہلکی بڑهی شیو. .. عنابی لب. .. جو اس کی بہت سگریٹ اور نشہ کرنے کی گواہی دیتے تهےے. . مضبوط جسم. .. وائیٹ ٹو پیس پہنے. .. بالوں کو جیل سے سیٹ کیئے. .. ہاتھ میں نفیس گهڑی پہنے. .. وہ وجہی شخصیت کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا تھا. .. کافی ہینڈسم تھا. .. حالانکہ وہ جان کر ٹکرایا تھا. . اس سے لڑے بغیر ناشتہ جو ہزم نہیں ہوتا تھا. ..
واٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹ. … تم. … تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ پر ٹونٹ کرنے کی. اور میں گھاس نہیں چڑتی. ..مجھے پتا ہے تم جان کر ٹکرائے مجھ سے اس کے ہاتھ کمر پر رکھے لڑاکا انداز میں کہا. ….
مجھ کوئی شوق نہیں ہے جو تم سے ٹکراتا پهروں. …. اور یہ لو. … ارررے لوو تووو. … اس نے والٹ سے آے ٹی ایم کارڈ نکال کر اس کی طرف زبردستی بڑھاتے ہوئے کہا. .
ہٹووو مرو. . آگے سے صبح صبح. …. دماغ کی دہی کرنے آجاتے ہو. ..قسم سے دل کرتا ہے قتل کر کے جیل چلی جاؤں. …. ہیر نے اس کے کارڈ کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے کہا. ..
ارے موم آپ آگئی دیکھیں تو اپنی لاڈلی کو. …. یار موم آپکی زرا ترس نہیں آتا نا اس پر. … دیکھیں تو پھٹے ہوئے کپڑوں میں ہے. ….میں نے آفر کی میرا کارڈ لے جاو بہن مگر کپڑے لے لو مگر. … چلیں مرضی اسکی. … لوگ کہیں سے سوتیلی ہے تب کہہ رہا تھا. .. وائز نے عالیہ کے گرد بازو پھیلاتے ہوئے کہا. .. جو اس دونوں ٹوم اینڈ جیری کی نوک جهوک صبح صبح دیکھ رہی تھی. ..
ہیر کا منہ کھلا کا کھلا ہی رہ گیا. … مطلب پہلے اس کے ڈانس کرنے پر ٹونٹ. .. اب تو حد ہی ہوگئی. …. مگر ٹائم کا خیال کرتی. .. وہ پاوں پٹختی غصے سے باہر نکل گئی. …..
..
وائز. ..میری جان. ..کیوں تنگ کرتے ہو …دیکھو تو خفا ہو کر چلی گئی ہے. .. کتنی دفعہ کہا ہوا ہے کہ کم از کم صبح شروع نا ہوا کرو. .. میری بیٹی کو خفا کردیتے ہو. … عالیہ نے اس کو سمجھاتے ہوئے کہا. .
ارے میری سوئیٹ سی موم. .. میں کیا کروں مجھے سکون نہیں ملتا جب تک اس کو تنگ نا کرلوں. .. کھانا ہزم نہیں ہوتا ہے نااا. .. مگر میں پھر کی کوشش کروں گا کہ صبح صبح آپکی بیٹی کو معاف کرسکوں. .. وائز نے مسکراتے ہوئے ہزار دفعہ بولی گئی بات ایک دفعہ پھر دہرائی
. .،
چلو شاباش. .. اب اجاو. … فیض بھی اٹھ گئے ہوں گے. .. ناشہ کرلو. .. میری بچی کو تو خفا کر کے بھیج دیا. … وہ ڈرائینگ روم کی طرف جاتی بول رہی تھی. . وائز بھی چپ چاپ ان کے پیچھے چلا گیا. …..
محبتوں میں شمار کیسا سوال کیسا جواب کیسا
محبتیں تو محبتیں ہیں محبتوں میں حساب کیسا
○○○○○○○○
Japan: Tokyo
ارے میری بیٹی کیسی ہے. …. ہاشم نے اپنی لاڈلی بیٹی کو نیچے آتا دیکھ کر محبت سے کہا تھا. ….
سرخ و سفید رنگت. … بهوری بڑی بڑی آنکھیں. … سرخ گلاب کی پتیوں سے ہونٹ. .. کالے سٹریٹ بال جو گھٹنوں سے بھی نیچے تک آتے تھے. .,
بلو گھٹنوں تک آتا سلیو لیس فراک ..نیچے جینز کی شاٹس پہنے. ..جس سے اس کی ٹانگیں گھٹنوں سے نیچے نظر ارہی تھی. .. وائیٹ سینکر شوز پہنے… کندھے پر کالج بیگ گرائے. … ہاتھوں میں موبائل اور بال پکڑتی نیچے آئی تھی. …
ڈیڈییی. … کیسے ہو آپ. .. ہاتھ سے چیزیں صوفے پر رکھتی . ہاشم کے ساتھ بیٹھتی محبت سے بولی تھی. …
ہمممم. .. پہلے توٹهیک نہیں تھا مگر اب اپنی بیٹی کو دیکھ لیا نا. .. . بلکل ٹھیک ہوگیا. …. اس کے بال چہرے سے ہٹاتے اسے اپنے ساتھ لگاتے بولا تھا. …
اچهاا. .. چلیں ڈیڈی میں نا اب. ..اوما سے بال بنوا لوں … پھر یونی بھی تو جانا ہے لیٹ نا ہوجاوں. …اور یہ ممی کدھر ہے نظر نہیں ارہی. …
اس سے الگ ہوتی. .. اٹھتی. .. بولی تھی. ..بال اس کے بکهرے ہوئے تھے. …
ممی آپکی تو آئش کے دوست آئیں ہیں نا ان کے پاس گئی تھی. … اور جائیں آپ کہیں لیٹ نا ہوجائیں. … اسے دیکھتے ہوئے بولے تھے.
… وہ ان کی بیٹی تھی جس کے لیے اس نے کئی منتیں مانگی تھی. … پچهلی تین نسلوں میں یہ پہلی لڑکی تھی… جو شادی کے 9سال بعد پیدا ہوئی تھی. … تب ہی وہ ہاشم .. میرب. .. کی بہت لاڈلی تھی. … اوما. .. دادی* کی تو جان بستی تھی اپنی پوتی میں. .. آئش بھی بہت پیار کرتا تھا. .. اپنی چھوٹی سی معصوم سی بہن سے. … وہ اس سے 7 سال بڑا تھا. … الیانہ 20 سال کی اور آئش 27 سال کا تھا. ..ہاشم صاحب اپنی جوانی میں ہی اپنی ماں کے ساتھ جاپان کے شہر Tokyo میں آگئے تھے. یہاں ہی انہیں میرب ملی. … اور ادھر ہی شادی بھی کی. … .. اور اب ان کا بزنس کی دنیا میں ایک بہت بڑا نام تها،… وہ چاہتے تھے کہ آئش اور الیانہ ان کا بزنس سنبھالیں ..مگر آئش کا سارا انٹرسٹ. .سنگنگ اور ڈانسنگ میں تها. . وہ ایک بہت بڑا سنگر تها. .. ڈانسنگ کا شوخ اسے بعد میں ہوا اسی لیے اب وہ اس کی طرف زیادہ متوجہ تها. … …
الیانہ ایک آرٹ یونی میں تھی. .. اسے پینٹنگ سکیچنگ کا شوق تھا. … اس لئے اس نے آگے آرٹ ہی رکھا. … ہاشم نے ان دونوں کو روکا نہیں تها. .. آئش آفس بھی جاتا رہتا تھا مگر وہ مستقل بزنس میں نہیں آنا چاہتا تھا. ….
اوماااا. .. الیانہ نے کمرے کے گلاس ڈور ناک کرتے اندر آکر ان کے گھر باہیں پھلائیں تھی. …
اوماااا کی جانن. .. کیسی ہے بیٹی میری. … اور یہ کیا آج تو ہماری شہزادی لیٹ ہے میں کب سے انتظار کررہی تھی. .. انہوں نے اسکا ہاتھ پکڑتے اسے اپنے سامنے بیٹھتے. .، محبت سے ماتھا چومتی بولی تھی. ..
وہ ایک ستر سال کے لگ بھگ کی عمر کی خاتون تتلی. .. صاف رنگت. … خوبصورت نقوش. .. وائیٹ کھلی شرٹ اور کهلا سا ٹرائوزر پہنا ہوا تھا. .. وہ اس عمر میں بھی کافی صحت مند تھیں. … جس کی وجہ میرب اور ہاشم تھے جو ان کا بہت خیال رکھتے تھے. …
بس رات کو مووی دیکھنے سینما گئے تھے. .، تو وہاں سے لیٹ آئے اسی لیے لیٹ اٹهی. .. اب پلیززز آپ جلدی جلدی میرے بال بند کرین تاکہ میں لیٹ نا ہوں. .. لیٹ ہوگئی تو ایبک نے تو جان نکال لینی ہے میری. .. اور یہ بال بھی میں نے آپ ہی کی فرمائش پر اتنےےے بڑے رکھے ہوئے ہیں ورنہ تو مجھے زرا نہیں پسند اتنے بڑے بال. ..اپنی بہت بولنے والی عادت سے مجبور وہ بولتی گئی تھی. … ساتھ ہی اٹھ کر ان کے سامنے بیٹھ گئی تھی. .. وہ اب اس کے بال بنا رہے تھے. .. ساتھ ساتھ سمجھا رہی تھی کہ لیٹ نائیٹ گھر آنا بہت بری بات ہے. .. وہ بس مسکرا کر سن رہی تھی. ..
اوکے اوماااا … لنچ شاید باہر ہی کرلیں ہم تو. .. زیادہ ویٹ نا کرنا .، وہ ان کے سامنے سے اٹھتی. .. ان کا گال چومتی بولی تھی. .. بالوں کو ڈبل کر کے فیش ٹیل بنا دی تھی. . درمیان میں خوبصورت سے پھول کی شیپ کی پینز لگائی ہوئی تھی جو ڈرس کے میچ کررہی تھی. ..
.. خیال رکھنا پترر. .. وہ اسے دیکھتی بولی تھی جو اب دروازے سے باہر نکل گئی تھی. ..
باہر آکر صوفے سے اپنی چیزیں اٹھاتی باہر نکل گئی. … سامنے کوئی تها نہیں ورنہ ناشتہ نا کرنے پر ڈانٹ پڑ سکتی تھی. ..
اسکو باہر آتا دیکھ کر ڈرائیور نے گاڑی کا دروازہ کھلا تھا. .. شان سے بیٹھ گئی تھی. . ڈرائیور دروازہ بند کرتا .. فرنٹ سیٹ پر بیٹھتا گاڑی. . بنگلے سے باہر نکال چکا تھا. …
○○○○○○○○○
Pakistan: karachi
علیزے. . بچے. .. اٹهو. .. کتنا ٹائم ہوگیا ہے. .بیٹا پر تمہارے ڈیڈ غصہ کریں گے ہانیہ بیگم نے محبت سے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے اپنی لاڈلی بیٹی سے کہا تھا. .. جو مزے سے سو رہی تھی. .. مگر لفظ. .. ڈیڈ … سنتے ہی وہ ایک دم اٹهی تھی. …
کالی خوبصورت بڑی بڑی آنکھیں. … گلابی کٹاودار ہونٹ. … چھوٹی سی ناک. .. سرخ و سفید رنگت. …. وہ انتہائی خوبصورت تھی. . سب سے زیادہ اس کی بڑی بڑی کالی آنکھیں تھی. .. چہرے پر بلا کی معصومیت تھی. … اسے دیکھتے ہی ہانیہ بیگم نے دل ہی دل میں ماشاءاللہ کہا تھا. ..
ممی. .. ڈیڈی. . اٹه گئے. … میرا تو نہیں پوچھا نا. .. جلدی جلدی اٹھتی بالوں کو. جوڑا بناتی بولی تھی. .لہجے میں ڈر واغع تها. ..
ابھی تک تو نہیں آئے… ناشہ کے لیے جلدی پہنچو. .. ان سے پہلے ..ورنہ پھر میں یا آدیاں نہیں بچا سکیں گے. …. اس کا ماتھا چومتی باہر نکل گئی. .. علیزے جلدی سے. ڈرس لے کر واش روم میں بھاگی تھی. ….
کچھ دیر بعد وہ ڈرائینگ روم میں داخل ہوئی تھی. .. وائیٹ شارٹ فراک. . بلو جینز پہنے. . .. بالوں کی درمیان سے مانگ نکالے. .. کهلا چھوڑا ہوا تھا. .. …
مگر اس کی بدقسمتی تھی کہ ریان صاحب پہلے سے ادھر بیٹھے تھے. . ساتھ ہی آدیاں اور ہانیہ بیگم بھی بیٹهی ہوئی تھی. .. اسے دیکھ کر ہانیہ بیگم نے اندر آنے کا کہا تھا. .. وہ ڈرتی ڈرتی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی. .. ڈائینگ ٹیبل تک آئی تھی. … آدیاں کے ساتھ والی کرسی نکال کر اس پر بیٹھ گئی تھی. ..
اسلام و علیکم. .. دهیری آواز میں سلام کر کے پلیٹ میں ٹوسٹ رکھتی اسے کھانے لگی تھی. ..
ہمم. .. اپ کچھ زیادہ جلدی نہیں اٹھ گئی. … جوس کا گلاس لبوں سے لگاتے غصہ بهری آواز میں بولے تھے. …..
سوری ڈیڈ. .. پلیٹ اس نے آگے سرکا دی تھی. ..
ناشتہ کرو سہی سے علیزے. ..، آدیاں نے اسے پلیٹ پیچھے سرکتا دیکھ لیا تھا. .تب ہی بولا تھا. …
…… کالی آنکھیں. … کهری مغرور. ناک. . سفید رنگت. .. چہرے پر بلا کی سنجیدگی. .. وائیٹ ٹی شرٹ. .. بلیک پینٹ پہنے وہ کافی ہینڈسم لگ رہا تھا. …
دو دن میں ہارون اپنی فیملی کے ساتھ ارہا ہے. … کاشف کے لیے علیزے کا رشتہ مانگنے. .. یہ صرف ایک فارمیلٹی ہے … بات ہوگئی ہے. .میری. .. اور مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے. .. نہ اور کسی کو ہونا چاہیے. … ریان صاحب نے دهیری مگر سنجیدہ آواز میں کہہ کر ان تینوں کے سر پر بم پھوڑا تها. …
مگر ڈیڈ میں آگے پڑھنا. ….
یہ میرا آخری فیصلہ ہے. .. اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی قدرے اونچی آواز میں دھارے تھے. .. ٹیبل سے موبائل اٹھاتے نکل گئے. …ان کے جاتے ہی. . علیزے روتے ہوئے اپنے روم کی طرف بھاگ گئی تھی. …
یہ ڈیڈ کو مسئلہ ہے اب. .. کبھی اسے سکون سے رہنے نہیں دیتے. .. آدیاں نے غصے سے پلیٹ پیچھے سرکائی تھی. ..
ہمیشہ سے ہی وہ علیزے کے ساتھ ناانصافی کر جاتے تھے. … جتنی نرمی سے آدیاں سے پیش آتے اتنی ہی سختی سے علیزے سے. .. انہیں آدیاں کے بعد کوئی اولاد نہیں چاہئے تھی. ..نا لڑکا نا ہی لڑکی. … وہ ہانیہ سے بہت محبت کرتے تھے مگر دوسری دفعہ ان کی ماں بننے کی خبر سن کر وہ بلکل خوش نہیں ہوئے تھے. .. پھر علیزے کی پیدائش سے لے کر اب تک اس سے سختی سے ہی پیش آتے تھے. … پیار کے علاوہ دنیا کی ہر ضرورت پوری کی تھی. .. مگر کبھی محبت سے بات نہیں کی. …
بیٹا. ..وہ لڑکا کاشف وہ تو. .. بہت بگڑا ہوا ہے. .. شرابی ہے. .. میری علیزے تو بہت معصوم ہے. .. اور ابھی تو چھوٹی ہے بہت. .. ہانیہ بیگم نے فکرمندی سے کہا. .
ہمم جانتا ہوں. .موم. .. آپ پریشان نہ ہوں. .. میں اپنی اتنی معصوم بہن کو برباد نہیں ہونے دوں گا. .. آدیاں نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا. .. دل اپنا بھی ڈرا ہوا تھا. …
اب اس کو دیکھو. .. رو رہی ہو گی. .میری بچی. .. مطمئن تو وہ نہیں ہوئی تھی. ..پھر بھی مسکرا کر اسے کہا تھا. ..
دیکھتا ہوں. .. آپ نے پریشان نہیں ہونا. .. محبت سے ان کے سر پر ہونٹ رکھتا وہ علیزے کے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا. …..
○○○○○○○○○○
Japan:Tokyo
یہ ایک بہت بڑا ہال نما کمرہ تھا. .. لکڑی کا فرش. . گلاس وال. .. پورے ہال کے درمیان میں ایک گول برا کانچ کا میز تها. . جس کے اعتراف میں کرسیاں تھی. .. جن میں سے پانچ کرسیوں پر پانچ افراد بیٹھے تھے. .. تین مرد اور دو عورتیں. . پانچوں تیس سال کے لگ بھگ لگ رہے تھے. .. دونوں لڑکیوں نے بلیک بزنس سوٹ پہنا. .بلیک ہائی ہیل. .. بالوں کو پونی ٹیل کی ہوئی تھی. … باقی کے تین مردوں نے بلیک ہی ڈنر سوٹ پہنا ہوا تھا. .. دو مرد اور عورت جاپانی لگ رہے تھے. . باقی ایک عورت اور مرد انگریز لگ رہے تھے. ..
یہ تینوں ایک بہت بڑے خطرناک کریمنل ہیں. … بلو ویل کے بعد یہ ہمارا دوسرا ٹارگٹ ہے. … جیسے ہم نے بلو ویل گینگ کو ختم کیا تھا. .. اب ہمیں یہ. . بلیک وے گینگ بھی ختم کرنا ہے. … یہ ان سے بھی زیادہ خطرناک …ہمیں بہت محتاط رہ کر کام کرنا ہوگا. … خاموشی کو سربراہی کرسی پر بیٹھے. .سر بٹرائس ٹیلر نے بھاری آواز میں ادھر بیٹھے نفوس سے کہا جو انہیں توجہ سے سن رہے تھے. ….
دو لڑکے اور ایک لڑکی. … راج، راجر، اور ریا… تین ہیں. … یہ دیکھیں. .. انہوں نے دوبارہ بولنا شروع کیا تھا ساتھ ہی لیپ ٹاپ .. ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے. . سر لومبار کے سامنے کیا. …سر لومبار نے لیپ ٹاپ اپنے اور باقی کے تینوں کے درمیان رکھ دیا تھا. .. ساتھ ہی کی بورڈ پر کلک کیا. .. سلائیڈ شو میں فوٹوز پلے ہونی شروع ہوئی تھی. ..
جس میں تین افراد تھے. .. تینوں کی بلکل ایک جیسی گرین پرسرار آنکھیں. .. کالے لمبے ایک جیسے چوغے، جن کے بیک پر. . راج. . راجر. . اور ریا لال رنگ سے لکھا ہوا تھا. .. چہرہ مکمل ماسک سے چھپا ہوا تھا. .. گرین پرسرار آنکھیں ہی صرف نظر آرہی تھی. ….. فوٹوز کئی پوز میں تھی. .. اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں دیکھ سکے تھے. ..
سر. . مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ یہ بلو ویل کے ہی فرد ہیں. .. ان کی جسمانت سے مجھے ایسا لگ رہا ہے. .. اور ان کا طریقہ واردات بھی تقریباً ایک جیسا ہے. .کہیں ہم پہلے کوئی غلطی تو نہیں کر بیٹھے. .. جب فوٹوز ختم ہوگئی تو تب. . مس برنٹ نے اپنے خدشات سے سب کو آگاہ کیا تھا. ..
ایسا کیسے ہوسکتا ہے. ….مس برنٹ …ہم نے خود ان کا انکائونٹر کیا ہے. ..وہ 9 لوگ تھے سب کے سب مارے گئے. .. اس میں کوئی شک نہیں ہے. . اپکا شک بلا جواز ہے …. اس کی بات سن کر مس لنڑا میک نے اسے ٹوکا تها. … سب نے بیقوقت گرین آنکھوں والی لنڑا میک کو دیکھا تھا. ….
مس برنٹ. . مس لنڑا میک بکل ٹھیک کہہ رہی ہیں. .. جیسا آپ کہہ رہی ہیں. . ایسا ہونا ناممکن ہے. … سر آرم نے دوبارہ سکرین پر نظریں جمائے کہا. .
خیر. .. ہم اس کیس پر ابھی کام کررہے ہیں. .. آپس میں اختلاف کرنا چھوڑیں. … بلکہ کیس پر کانسنٹریٹ کریں. … ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ. .مس برنٹ کا شک درست ہو. ..کیونکہ وہ ایک بہت بڑا. . گینگ تها. ..ان سے کچھ بھی توقع کی جا سکتی ہے. . ان کو آپس میں بہس کرتا دیکھ کر سر بٹرائس نے انگلش لب و لہجہ میں کہا گیا. ..
وہ پانچوں اب دوبارہ اس کی تفصیل سن رہے تھے. …
○○○○○○○○○○○