Khud gharz Ishq by Sandal readelle50031 Episode 22
Rate this Novel
Episode 22
وہ بیڈ پر چپ لیٹی چهت کو گھور رہی تھی. .. بےبی پینک سلک کی نائیٹی پہنے. ..بال پورے بیڈ پر بکھرے ہوئے تھے. .. پاؤں اور اور دونوں ٹانگوں پر پٹی کی ہوئی تھی …. وہ لیٹ لیٹ کر تهک گئی تھی. .تهکنے کے ساتھ ساتھ اپنے دوبارہ بھاگنے سے توبہ کی تھی. …
اسے نہیں پتا تھا کہ راج اسے کب لایا ..کیا ہوا. ..بس اسے صبح ہوش آیا تھا. . پٹی ہوئی ہوئی تھی. .. اور اس سے چلا نہیں جارہا تھا. .. تکلیف الگ. .. اسے یہ غم کهائے جارہا تھا کہ وہ ایک دفعہ پھر کسی کی محتاج ہو کر رہ گئی تھی. .. جولی اسکے ساتھ ہی ہوتی تھی ہر وقت. .. اسکے بعد سے اسنے ابھی تک راج کو نہیں دیکھا تھا. . جولی اسے روم میں ہی کھانا لا دیتی تھی. ..وہ بس کمرے میں ہی رہتی تھی. ..ہفتہ گزر گیا تھا. .. زیادہ تو نہیں مگر کسی حد تک درد کم تھا اب. ..
کمفرٹر خود سے اتارتی وہ اٹھ کر بیٹھی تھی. .. گلاس والز سے اسنے باہر دیکھا ..وہاں کوئی بھی نہیں تھا. … جولی بھی نجانے کدھر تھی. …
بال اسنے بے زاری سے پیچھے کئے تھے. ..ایک نظر پاؤں پر ڈالنے کے بعد وہ اٹھی تھی. ..
پاؤں سے ٹیس سی اٹھی تھی. ..مگر وہ اگنور کر گئی تھی. ….
چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائے وہ دروازے کی طرف بڑھی تھی. . ناب پر ہاتھ رکھا. .دروازہ کھلتا چلا گیا تھا. .. کہیں دل میں وہ سوچ رہی تھی کہ شاید اب راج دروازہ بند ہی رکھے. ..مگر دروازہ کھلا دیکھ کر وہ خوش ہوئی تھی. .. ایک طائرانہ نظر چاروں طرف ڈالتے وہ آگے بڑھی تھی. .. پاؤں میں درد تو ہورہا تھا مگر وہ کمرے میں رہ رہ کر اب تنگ ہوگئی تھی. .جبھی سبھی بهلائے وہ گھوم رہی تھی. .. اسے راج ویلا آئے مہینہ ہونے کو تھا. .مگر وہ آج پہلی بار کمرے سے باہر گھوم رہی تھی. ..اسے راج نے منع تو نہیں کیا تھا. .. مگر وہ پھر بھی کبھی باہر نہیں گھومی تھی. …
وہ لاونچ میں رکھے صوفے کے پاس سے گزر رہی تھی جب اسکا پاوں صوفے میں اٹکا تھا. …..
آوچچچ. … سسکی بھرتی وہ نیچے ہی بیٹھتی چلی گئی. …
دائیں پاؤں کو اسنے بائیں ٹانگ پر رکھے وہ اپنے پٹیوں سے جکڑے پاؤں کو دیکھ رہی تھی…. اسنے پھیکی مسکراہٹ چہرے پر سجائے اپنے پاؤں پر ہاتھ پھیرا تھا. ..کئی آنسوؤں گرتے چہرہ بھیگا رہے تھے. ..یکدم سے منظر بدلا تھا. …
آہہہہہہہہ. ….ممی. …اسکی چیخیں پورے ویلا میں گونج رہی تھی. .. وہ اپنا پاؤں پکڑے ون سیٹر صوفے کے پاس نیچے بیٹهی. ..چیخ رہی تھی. ..
ک کیا ہوا. …کیا ہوا میری بچی کو. …. اوما دس سالہ الیانہ کے پاس آکر گھٹنوں کے بل بیٹهی. ..فکرمندی سے گویا ہوئی. ….
کیا ہوا. الیانہ تم ٹھیک ہو. …میرے اور اٹھارہ سالہ آئش بھی بھاگ کر اسکے پاس آئے تھے. …
اب صورتحال یہ تھی کہ الیانہ پاوں پکڑے درمیاں میں بیٹهی ہوئی تھی. .. کالے سیاہ بال کمر سے نیچے تک جهول رہے تھے. ..اور وہ تینوں اسکے پاس بیٹھے ہوئے تھے. … چہرے پر فکرمندی. .محبت کے تاثرات واضح تھے. ..وہ تو ان کی ننی سی جان تھی. ..ان سب کی جان بستی تھی اس نازک سے مومی گڑیا میں. ….اسے تکلیف میں دیکھ کر درد انہیں محسوس ہورہا تھا. ..
م مجھے د درد ہورہا ہے. …. الیانہ نے روتے ہوئے پاوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا. .
کچھ نہیں ہوتا بچے ابھی ٹھیک ہوجائے گا. …آئش تم اسے سہارا دے کر بیڈ پر بیٹهاو. … اور تم جا کر ہلدی والا دودھ لاو. .. اور کوئی زخم پر لگانے کے لیے دوا بھی لاو. .. میری بچی تکلیف میں ہے. .اوما نے پہلے آئش کو دیکھتے اور پھر میرب سے کہتے الیانہ کے چہرے سے بال پیچھے کئے تھے. ..آئش نے سہارا دے کر الیانہ وہ بیڈ پر بیٹھایا تھا. ..میرب جا چکی تھی. …
کیا یار الیانہ تم دیکھ کر کیوں نہیں چل رہی تھی. .دیکھو پاؤں پر لگوا کر بیٹھ گئی ہو. ..آئش نے الیانہ کو دیکھتے. .. غصے اور فکرمندی سے بولا تھا. ..
ہاں. .بیٹا … کیوں دھیان نہیں دیا. …اوما اسکے پاس بیڈ پر بیٹھتی اسکا پاؤں گود میں رکھتی بولی تھی. ….
ہاں. .میں نے ..تو دعوت دی تھی نا کہ..آو آکر میرے پ پاؤں پر مارو. .الیانہ بائیں ہاتھ کی پیشت سے گال صاف کرتی غصے سے بولی تھی. …ساتھ ہی اپنا پاؤں اوما کی گود سے ہٹانا چاہا مگر ..انہوں نے اشارے سے منع کرتے ..منہ ہی منہ میں کچھ پڑھ کر پھونک رہی تھی. ..جبھی میرب ہاتھ میں ٹرے لیے اندر آئی. ..ہاتھ میں پکڑی ٹیوب آئش کو پکڑتی خود دودھ کا گلاس لے کر الیانہ کے پاس بیٹھ گئی. …
میں دودھ نہیں پیتی. …موم پلیز. .. بهیا …آرام سے یارررر. … مجھے درد ہوریا. .. افف موم کہہ رہی نا. ..بس. .اور نہیں پیئے جارہا. … اوما کیا کررہی. .. اتنا درد نہیں جتنا اپنے بنا لیا. ….الیانہ خاموشی سے گلاس ختم کرو. ….تم چپ کرو مجھے سبق پڑھنے دو. ..مجھے پتا ہے میری بچی کو کسی کی نظر لگ گئی ہے. .افف یاد الیانہ بار بار پاؤں مت ہلاو. ..دس دفعہ لگا چکا ہوں. ..بار بار بیڈ شیٹ پر لگا کر خراب کردیتیی. …
دھیرے دھیرے منظر بدل رہا تھا. ..دماغ میں اتنی ساری آوازیں ایک ساتھ سنائی دے رہی تھی. .. خوبصورت چارہ آنسوؤں سے تر ہوگیا تھا. …. منظر بالکل بدل گیا تھا. … ایک چیز سیم تھی. ..وہ آج بھی پاؤں پکڑے صوفے کے پاس پاؤں پکڑے بیٹهی ہوئی تھی. .. پہلے وہ صرف موچ آئی تھی. ..اب تو پاؤں کی حالت خراب ہوگئی تھی. ..مگر کوئی بھی نہیں تھا جو پریشان ہوتا. .. اسکے آگے پیچھے رہتا. ..اسکے لئے فکرمند ہوتا. .. اسکی تکلیف خود پر محسوس کرتا. ….
اسنے تلخی سے سوچتے دونوں ہاتھوں کی پیشت سے دونوں گیلے گال صاف کئے تھے. ..مگر آنسوؤ تھے کہ تهمنے کا نام نہیں لے رہے تھے. …
اسنے ایک نظر پاؤں پر ڈالتے صوفے کا سہارا لیتے کھڑا ہونا چاہا. .. پاؤں میں ٹیس اٹهی تھی. … ہر درد نظر انداز کرتی وہ صوفے اور پھر گلاس وال کا سہارا لیتے ..کمرے میں پہنچ ہی گئی تھی. ……
وہ سبز آنکھیں ضبط کے چکر میں لال ہوگئی تھی. … دونوں مٹھیاں سختی سے بھینچی ہوئی تھی. …گردن اور بازوں کی رگیں تنی ہوئی صاف نظر آرہی تھی. .. وہ سرد نگاہوں سے ووڈن فلور پر اسکے قدموں کے نشانات کی طرف دیکھے جارہا تھا. .. صوفے سے کمرے تک. .. نشان تھے. .لال نشانات .خون کے نشانات…. اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ساری دنیا کو ہی آگ لگا دے. ..وہ تکلیف میں تھی. .انتہائی تکلیف میں. … زخموں سے زادہ اسے اپنوں کی جدائی مار رہی تھی.اسکا اندازہ اسنے الیانہ کی درد میں بھی مسکراہٹ سے لگایا تھا. .جیسے وہ درد میں کسی ہمدرد کو یاد کررہی تھی. .. .. وہ جانتا تھا. ..مگر وہ بھی تو بےبس تھا. .. اسکے بغیر جینے کا تصور بھی جان نکالتا تھا. ..تو کہاں وہ اسے دور جانے دے سکتا تھا…وہ تو اسکے سوتے ہی کمرے میں اجاتا تھا اور پھر پوری رات جاگ کر گزارتا تھا. ..پورے ہفتے میں کوئی رات وہ سو نہیں سکا تھا. ….
اب بھی وہ اسے ہی دیکھنے آیا تھا. .. آج جولی اپنے کسی کام کی وجہ سے لیٹ تھی. .جبھی وہ وقفے وقفے سے چکر لگا رہا تھا. .. مگر اب جب آیا تھا اے الیاس کہیں نظر نہیں آئی. ..اسنے پورے کمرے میں دیکھا تھا. .. پھر وہ باہر آیا. .. ابھی وہ لاونچ سے گزرنے لگا تھا کہ اسے الیانہ کی سسکیوں کی آواز آئی. .. اسکے تکلیف ہوئی تھی. …. اسنے تھوڑا اور آگے ہوتا دیکھا. ..وہ پاؤں پر ہاتھ پھیرتی سسکیاں بھرتی مسکرا رہی تھی. … وہ دیوانہ تھا اسکی مسکراہٹ کا. .مگر اس وقت وہ پھیکی مسکراہٹ اسے زہر لگی تھی. .. وہ آگے بڑھنے لگا ہی تھا کہ الیانہ اٹهی تھی. ..وہ سائیڈ پر ہوگیا تھا. …..اور پھر اسے گلاس وال کا سہارا لیتے جاتے دیکھتا رہا. …
اے عشق ادھر آ تجھے عشق سکهائوں…
در یار میں تجھے بیٹها کر بعیت کروائوں…
تهک جاتے ہیں لوگ اکثر تیرے عین پر آکر…
عین ، شین سے آگے تیرے قل میں سماوں…
اے عشق تیرا عشق ہوں آ سنگ تو میرے…
سینے سے لگا کر تجھے سر مست بنائوں…
تو جھوم اٹھے دیکھ کر دیوانگی میری…….
آ وجد کی حالت میں تجھے رقص دکهائوں. …..!
■■■■■■■
*بقایا زخم ! اضافی دئیے گئے مجھ کو
*میرے لئے تو تیرا انتظار کافی تھا
یلو ٹو پیس کے نیچے وائیٹ پلین شرٹ پہنے. … وائیٹ ہی ہائی ہیل شوز پہلے. .. بالوں کو درمیان سے مانگ نکالے کانوں کے پیچھے کئے. … گرین سرد خوبصورت آنکھوں کو گاگلز کے پیچھے چھپائے وہ گاڑی سے باہر نکلی تھی. ….
دروازہ لاک کرتے اس سے سرد سانس ہوا کے سپرد کرتے. .الٹے ہاتھ سے گاگلز اتارتے. ..سامنے ریسٹورنٹ کو دیکھا تھا. ….رات کی سیاہی پھیل رہی تھی. ….. رائٹس ہر جگہ روشن ہوگئی تھی. … میں رش بھرتا جا رہا تھا. .. کافی بڑا فیمس ریسٹورنٹ تھا. ….کوئی گاڑیوں میں بیٹھ رہے تھے. .کوئی اتر رہے تھے. .. لڑکے لڑکیاں مسکراتے ہوئے اپنے میں گم تھے. ….اسے یہ منظر بھی بہلا نہیں سکا تھا. … ایک آخری نظر چاروں طرف ڈالتے. ..اسنے قدم اندر کی طرف بڑھائے تھے. …..
اندر بھی رش تھا. .مگر بس اپنی اپنی جگہ بیٹھے ہوئے تھے. … وہ ایک خالی ٹیبل پر جا کر بیٹھ گئی تھی. … چہرے پر بےزاری کے تاثرات واضح تھے. ..
ابھی اسے انتظار کئے پانج دس منٹ ہی ہوئے تھے کہ داخلی دروازے سے اسے وہ اندر آتا دکھائی دیا تھا. … وائیٹ جینز ،شرٹ پر آف وائیٹ جیکٹ پہنے بالوں کو ماتھے پر گرائے. .شاہانہ چال چلتا وہ اندر داخل ہوا تھا. ..گاگلز اتارتے اسنے چاروں طرف دیکھا. …اسکی نظر ایک طرف ٹھہر گئی تھی. ..چہرے پر دلفریب مسکراہٹ سی چھا گئی. .. وہ مسکراتا ہوا اسکے پاس آتا ..چیئر گهسکاتا بیٹها تھا. ..نظروں کو مرکز صرف ہیر تھی ایک پل بھی اسنے نظریں نہیں ہٹائی تھی. ..
ہائے. .کیسی ہو ہیر. …. کارلوس نے ہیر کو دیکھتے خوشدلی سے کہا تھا. …
میں یہاں حال حوال. ..پوچھنے. .بتانے نہیں آئی ہوں. … تو جو بات ہے وہ کرو. ..میرا وقت اتنا فضول نہیں ہے کہ تم پر برباد کرتی پھیروں. …ہیر نے دونوں ہاتھ کانچ کے ٹیبل پر رکھتے سٹاپ انداز میں کہا. …
کارلوس نے سختی سے لب بهیچے تھے. ..جتنا وہ نرمی سے پیش آنا چاہ رہا تھا. ..وہ اتنا ہمارے غصہ دلا رہی تھی. ..
ایک آفر ہے تمہارے لیے. …. تمہیں چاہتا ہوں اسلئے پریشان نہیں دیکھ سکتا. ..کارلوس نے سرد سانس ہوسکے سپرد کرتے. …سنجیدگی سے ہیر کی آنکھوں میں جھانکتے کہا. …..دونوں ہاتھ مٹھیوں کی صورت بهیچے ہوئے تھے. .رگیں تنی ہوئی صاف نظر آرہی تھی. ….
ہاہاہاہاہاہ. …آفر. …محبت. ..تم ….میں. …لائیک سیریسلی ….. پہلے اسکی بات پر قہقہہ لگاتے. .پھر تنزیہ لہجے میں کہا تھا. .سبز آنکھوں میں حقارت سے ساتھ ساتھ نفرت بھی واضح تھی. ..اسے شدید نفرت تھی. ..اسکی زات سے. ..اسکی بات تھی. …اس سے جڑی ہیر ایک شہ سے. ..اسے نفرت تھی. ….
کارلوس خامشی سے اسے دیکھتے گیا تھا. ..اسکے لہجے میں طنز. .. اسکی آنکھوں میں حقارت سے زیادہ تکلیف اسے اسکی خوبصورت سبز آنکھوں میں موجود نفرت سے تکلیف ہوئی تھی. …کافی لمحے خاموشی کے نظر ہوگئے تھے. … ہیر بےزاری سے باہر کی طرف دیکھ رہی تھی. .جبکہ وہ چہرے پر ازیت بهری مسکراہٹ لئے اسکو دیکھ رہا تھا. .کہاں خوب محبت ہوئی تھی. ..دل نے کہیں کہا تھا کہ وہ اسکے لئے بنی ہی نہیں ہے. ..وہ اسکا نصیب ہی نہیں ہے. …مگر. ..محبت کے لئے وہ قسمت تک سے لڑنا چاہتا تھا. ..وہ کسی بھی حد تک جانا چاہتا تھا. ..بس اسے ہیر چاہیے تھی. ..اسکا پیار چائیے تھا. …
ایک دفعہ سن لو. …ڈسیزن ان آن یو. …کارلوس نے بالکل سٹاپ انداز میں کہا تھا. .نظروں کا مرکز ہوئی دشمن جان تھی. …
اوکے. ..ہری آپ. ..آئے ایم گٹنگ لیٹ. .ہیر نے اسکے دیکھے سرد لہجے میں کہا. ..وہ جانتی تھی اسنے کوئی بکواس ہی کرنی تھی. …
میری ہو جاؤ. …یقین مانو بس بھول جاؤں گا. ..کوئی بدلہ نہیں ..کوئی نفرت نہیں..بس میری ہو جاو. ..کارلوس نے کسی امید کے تحت کہا تھا. ..جواب توجانتا تھا. ..مگر نجانے کسی امید تھی. ..وہ بول گیا تھا. ….
ہیر نے چونک کر اسکی طرف دیکھا. …اسکے لہجے میں موجود التجا …وہ شاک ضرور ہوئی تھی. ..وہ جانتی تھی. ..وہ مافیا ولڈ کا ایک بہت بڑا کنگ تھا، ،،، تو اسکا ہیر کے سامنے گھٹنے ٹیکنا. …قابل یقین تو نہیں تھا. ….مگر جلد ہی اپنے تاثرات پر قابو کرتے. ..طنزیہ ہنسی ہنسی تھی. …
میں مر تو کسی ہوں. …مگر تمہاری کبھی نہیں ہوسکتی. ….اور کیا کہا تم نے. ..وہ کولڈ لہجے میں کہتی کہتی رکی تھی. ..چہرے پر مصنوعی پرسوچ تاثرات سجائے تھے. ..
ہاں. ..بدلہ. ….تم کس بات کا بدلہ لینا چاہ رہے ہو. …. وہ بدلہ. ..زیادتی. .ظلم نہیں تھا. ..تمہارے باپ کا قتل کرنا ریئکشن تھا. .. اس اکشن تھا. ..جب تماہرےباپ نے ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے باپ کو مارا. ..پھر ہمارے بھائی. ..اور پھر ماں. ..تمہارے باپ کی ایک جان لی. .تین جانوں کے بدلے. ..دیکھا جائے تو دو جانوں کا بدلا رہتا ہے. …ہیر نے بمشکل خود پر ضبط کرتے دهمیے مگر سخت لہجے میں کہا تھا. ..سنز آنکھوں لہو چھلکنے لگ گئی تھی. ..وہ سب باتیں. ..آریاں. ..موم. .ڈیڈ کو یاد کرتے. …دل میں ایک ٹیس سی اٹھی تھی. …
یہ آفر قبول نہیں تو ٹھیک ہے. ..ایک اور آفر ہے میرے پاس. .قابلِ قبول بھی ہے. .وہ مان لو. ..میں پیچھے ہٹ جاؤں گا. ..اسکی بات کو یکسر نظرانداز کرتا اپنی بات کہہ گیا تھا. ..وہ بات الگ تھی کہ ہیر سے اتنا کچھ سنتے وہ چونکا ضرور تھا. ..وہ سب حقیقت. .سہی تو نہیں جانتا تھا. ..کہ کیا ہوا تھا کیا نہیں. .وہ تو بس اپنے باپ کے قتلِ کا بدلہ چاہتا تھا. ..اپنی ماں کی موت کا دکھ ..جو غصہ بن کر خون میں دوڑنے لگا تھا. .. اسکو شانت کرنا چاہتا تھا. ..مگر ہیر کے منہ سے سچائی جان کر کچھ پل تو ٹهٹکا ضرور تھا. .مگر اپنے تاثرات پر قابو پا لیا تھا. .اس بات کا بعد میں کنفرم کرنے کا سوچتے وہ اپنے مطلب کی بات اسکے بولا تھا. .
.ہماری آنکھیں تجھے دیکھنے کی عجلت میں
بہت سے خاص مناظر کو چھوڑ آئی ہیں🖤
ہیر نے تاسف سے اس ڈھیٹ کو دیکھا تھا. …ل کافی حد تک وہ خود پر قابو پا گئی تھی. .. ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھاتے اسنے لبوں سے لگایا تھا. ..ساته ہی اشارے سے اسکو بات جاری کرنے کا بھی کہا. …
تم. ….تم اس آئش درانی سے دور رہو گی. .بلکل دور. ..اسکے بارے میں کوئی کچھ سوچو گی بھی نہیں. .اس کے بارے میں ہی نہیں صرف. .کسی..اور. .کے بارے میں بھی..اور ڈانسنگ بھی نہیں کرو گی…اور. ….اور بس. …اتنا جھک گیا ہوں. ..آگے خود کو بچانے کے لیے تمہیں جھکنا ہی پڑے گا. ..کارلوس اسے دیکھتا جنونیت سے بولا تھا. …
پانی پیتے پینے ہیر کو اچھو لگ گیا تھا. ..کھانستے ہوئے اسنے گلاس ٹیبل پر رکھتے. ..ٹشو سے منہ صاف کرتے ہونقوں کی طرح اسے دیکھ رہی تھی. .جو نجانے کیا اناب شناب بولے جا رہا تھا. …زادہ حیرت تو اسے ہیر سے دور رہنے کی بات سن کر ہوئی تھی. ..
تم جانتے بھی ہو تم کیا بکواس کررہے ہو. … تم ہوتے کون ہو. .ہو آر یو مین. ..ہو آر یو ٹو سے می دیٹ. ..ہیر نے حیرت اور غصے ملے جلے انداز میں کہا. ..
جانتا ہوں. .کیا کہہ رہا ہوں. ..تم سے دور تمہارے ہے لئے توہوسکتا ہوں. .مگر تمہیں تمہارے ہی لئے. ..اس. ..باسٹرڈ. ..آئش کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا. ..اور یہ تمہیں ہر حال میں ماننا ہوگا. .کارلوس نے اسے دیکھتے سٹاپ انداز میں کہا. .آئش کے زکر پر اسکے لہجے میں بے پناہ. ..نفرت سی در آئی تھی. ….
اور اگر نا مانو. ..تو. …ہیر نے قدرے جھک کر اسکی سیاہ آنکھوں میں اپنی سبز آنکھیں ڈالتے. .چیلنجنگ انداز میں کہا. …آواز پرسرار. .مدھم سی تھی. ..
دن گیٹ ریڈی فار ریونج. .ایڈ بلیو می. ..اٹس ٹوو ڈینجرس فار یو. …اینڈ یوئر فیملی. ..انکلوڈ آئش درانی. ..اینڈ از فیملی. ..اینڈ ..ون تهنگ مور. ..ڈونٹ ٹیک می سو لائیٹ. .کارلوس بھی تھوڑا سا ٹیبل پر جھکتا اسکی کے لہجے میں بولا تھا. .سفاک. ..ہر جذبات سےعاری لہجہ. ….
آئے ایم ویٹنگ. ….آیند بلیو می. ..آئے ایم سو آکسائیڈ فار پلئینگ آ گیم. ..گیم لائیک. ..لائیف آر ڈیتهه. .آئے ول انجوائے. …اٹس گونا. .فن. .. پرسرار سی مسکراہٹ چہرے پر سجائے. ..سرسرا انداز میں اسکی آنکھوں میں دیکھتی بولی. ..آواز مدھم سی تھی. ..
ہممم. ..ایز یو وش. …بٹ ٹرسٹ می. ..یو ویل ناٹ انجوائے اٹ پراپرلی. ..بیکز. .آئے ویل پلے دس گیم آن. ..یوئر. ..پیپل. .اینڈ. ..یو ویل ناٹ انجوائے اٹ. ..آئز آئے ویل انجوائے. ..بیکز. .آئے ہیو نو ویکنس. ..کارلوس اسکے پل پل بدلتے رنگ کو دیکھتا طنزیہ انداز میں کہتا. .پاؤں سے کرسی پیچھے کرتا کھڑا ہوا تھا. …
جسٹ ویٹ اینڈ واچ…اینڈ دن پرے. ..مائے لو. … اسکی طرف دیکھتا بولتا باہر نکل گیا تھا. …..
ہیر کی نظروں نے اس کے گم ہونے تک اسکا پیچھا کیا تھا. ..اسکے خوبصورت چہرے پر پریشانی سی چها گئی تھی. .. وہ اپنے لیے. .اپنے پر تو کچھ بھی سہ سکتی تھی. ..مگر. اپنے. .اسکی کمزوری تھے. … جو کہ کارلوس کے نہیں تھے. ..وہ تو کہیں کمزور نہیں تھا. ..عالیہ اور فیض کے ایکسیڈنٹ کے بعد وہ ویسے بھی ڈر سی گئی تھی. …
کچھ سوچتے. ..اپنا موبائل اور پرس اٹھاتی گاگلز آنکھوں پر لگاتے وہ بھی باہر طرف بڑھی تھی. ………..
کھاتا جا حالات کے پتھرخود راحت ہو جائے گی
دورانِ زخم اذیت دیں گے پھر عادت ہو جائے گی
■■■■■■
وہ نیناں کے پاس سے آتا اپنی گاڑی کے پاس کھڑا ہوا تھا. .. سبز سرد آنکھیں لہو ٹپک رہی تھی. … لب بهیچهے وہ گاڑی کھولتا گاڑی میں بیٹھے گاڑی زن سے بھگا کر لے گیا تھا. … اسٹرانگ پر گرفت انتہائی سخت تھی. ..
اسنے ایک جھٹکے سے گاڑی روکی تھی. …. سارا روڈ ویران سا تھا. . اسکی گاڑی کے عین سامنے ایک گاڑی اور اس گاڑی کے آگے پیچھے ہیوی بائیکس تھی. ….جن کا شور چارسو پھیلا ہوا تھا. …
راجر نے کوفت سے سامنے دیکھا تھا. … وہ اسوقت تنہائی چاہتا تھا. .کسی سے بھی نہیں الجھنا چاہتا تھا. ..وہ لب بهیچهے سرد سبز آنکھوں سے سامنے دیکھے جارہا تھا. …..دماغ پہلے سے ہی خراب تھا. …
اسنے گیئر لگاتے ریس پر پاؤں رکھتے فل سپیڈ سے گاڑی چلائی تھی. … سامنے والے نے بھی شاید یہی عمل کیا تھا جبهی دونوں گاڑیاں فل سپیڈ میں بڑهه رہی تھی. ……
جیسے ہی گاڑیاں قریب پہنچی راجر نے فوراً موڑ مورتے گاڑی آگے بڑھا دی تھی. .مقابل گاڑی بیلنس برقرار نا رکھنے کی وجہ سے درخت سے لگی تھی. …ویران سی سڑک پر اب شور برپا ہوا ہوا تھا. ..
راجر گاڑی آگے بڑھا رہا تھا. ..وہ بائیکس مین. … نے اسکا رستہ روکنا چاہا مگر وہ انہیں کچلتا آگے بڑها تھا. … دو بائیکس گری تھی. …
اسنے گاڑی کچھ آگے لے کر جاتے گاڑی روکی تھی. .. گاڑی میں ہی سیکرٹ پاکٹ میں سے اپنا پیسٹل نکالتا. .. وہ دروازہ کھولتا باہر نکلا تھا. … الٹے ہاتھ سے پیسٹل لوڈ کرتا اسنے سامنے خود پر نشانہ لیتے لڑکے پر تانی تھی. .. اس لڑکے کے ساتھ ساتھ دو اور لڑکے بھی اپنا پیسٹل اٹھاتے اس پر تان چکے تھے. …ان سب کے چہرے ماسک کے پیچھے چھپے ہوئے تھے. ..
ٹهاه …ٹهاه. ..ٹهاه. ..
اسسے پہلے ان میں سے کوئی فائر کرتا. .. اوپر پیچھے تین فائر کرتے راجر نے تینوں کو زمین بوس کیا تھا. …..
ان کے گرتے ہی راجر الٹا ہاتھ پیسٹل پر پھیرتا. ..پرسرار سا مسکراتا. ..ان کی طرف بڑھا تھا. …ہاں البتہ اسکی سبز آنکھیں ہر تاثر سے عاری تھی. …. بلکل سٹاپ. …وہ ان کے قریب آتا. .پیسٹل میں موجود باقی گولیاں بھی ان بس میں اتار گیا جو زخمی تھی. ….اب وہاں ہو سی خاموشی چھائی ہوئی تھی. … لمحے بعد کسی کے کرانے کی آواز آتی پهر خاموشی. ….راجر نے بے تاثر نگاہوں سے سامنے گاڑی کو دیکھا. .. جس سے اب دھواں نکل رہا تھا. …ایک تنزیہ مسکراہٹ اسپر اچھالتے اسنے اپنا پیسٹل جینز کے پاکٹ میں ڈالا تھا. ….
مجھ پر کون حملہ کروا سکتا ہے. ..کون ہے جو مجھے جانتا ہے. ….مجھے ہی یا پھر ہمیں. ..ہم تینوں کو. ….اسنے سامنے گاڑی کو دیکھتے خود ہی سے بڑبڑایا تھا. ..ماتھے پر کئی بل پڑ گئے تھے. ..لب بهیچهے وہ ان لاشوں کو دیکھ رہا تھا. ..وہ جانتا تھا اگر ان میں سے کسی کو پکڑ بھی لیا تفشیش کے لیے. .تو وہ وقت کی بربادی ہی ہوگی. ..، پہلے کی طرح. …کوئی پکا کھلاڑی تھا. … جس کے بندے بھی سخت جان تھے. ..مرتے مر جاتے. .مگر زبان نہیں کھولتے تھے. …
ٹهاه. …..ٹهاه. …ٹهاه. ..
وہ گھٹنوں کے بل نیچے گرا تھا. …….پاؤں اور کندھے کے پاس اسے انتہائی درد محسوس ہوا تھا. … اسنے تکلیف سے لب بهیچهے پہلے کندھے اور پهر پاؤں کی طرف دیکھا. .جہاں سے خون بہہ رہا تھا. …. وہ پیچھے مڑا دیکھنے کے لئے کہ کون تھا. ….اسکے دیکھنے سے پہلے ہی وہ شخص وہاں سے بھاگا تھا. … پر راجر اسے دیکھ چکا تھا. …..
آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا. … اسنے موبائل دیکھنا چاہا مگر اسے یاد آیا وہ تو گاڑی میں تھا. …
وہ اوندھے منہ گرتا چلا گیا تھا…… منہ سے خون نکلتا. .چہرے سے ہوتا. .زمین پر لگ رہا تھا. ..بال چہرے پر آئے ہوئے تھے. .مگر دو سرد آنکھیں. .کھلتی بند ہوتی نظر آرہی تھی. ….
راجر نے آنکھیں کهولنی چائی. ….مگر وہ بند ہورہی تھی. ..اسکی سانسوں کی طرح. .. منہ سے خون نکلنا بند ہوگیا. ..مگر اچھا خاصا خون زائع ہوگیا تھا. …..
بند ہوتی آنکھوں کے سامنے. ..راج اور ریا کے چہرے آئے تھے. .لب اور سختی سے بهیچ لئے تھے. …
اور پھر ایک. .دلکش سا. ..چہرہ ابھرا تھا. …بهیچے لب پھیل گئے تھے. ..ڈمپل نمایاں ہوتا پهر غائب ہوا تھا. …..حرکت کرتے ہاتھ تهم گئے. ..پھیلے لب نارمل سے ہوگئے تھے. …..آنکھیں آخری دفعہ کھلتی بند ہوئی تھی. ..دلکش چہرہ آنکھوں کے سامنے سے بلکل ہی غائب ہوگیا تھا. ..جسم کے ساتھ ساتھ جیسے سانسیں بھی تهم سی گئی. ….
..
اندھیرا پھیل رہا تھا. …ہو سی خاموشی ہنوز قائم تھی. ……وہ خون میں لت پت پڑا. ..زندگی کی تلخیوں سے یکسر …..دور ہوگیا. …تھا. ….
تو بہت روکے گی لیکن میں جدا ہو جاؤں گا
زندگی اِک روز میں تجھ سےخفا ہو جاؤں گا
آخری سیڑھی پہ جاکر تو پکارے گی مجھے
اور میں نیچے کھڑا تیری صدا ہو جاؤں گا
تو مصلے پر میری نیت تو باندھے گی مگر
میں نمازِ عشق ہوں، تجھ سے قضا ہو جاؤں گا
چاہتوں کے دائرے میں آؤ دوڑیں ایک ساتھ
تم نے مجھ کو چھو لیا تو، میں تیرا ہو جاؤں گا
میں جسے کرتا رہا اپنی دعاؤں میں شمار
کیا خبر تھی میں اُسی کی بددُعا ہو جاؤں گا
بے وفائی کا دیا اُس نے حسنٓ طعنہ مجھے
اور اب میں احتجاجاً بے وفا ہو جاؤں گا
■■■■■
وہ بیڈ پر چت لیٹی چهت کو گھور رہی تھی. … سر پر اب صرف سنیپلاس لگی ہوئی تھی. …پٹی آج ہی اتروائی تھی ہاسپٹل جا کر. ..
ہفتے سے زیادہ ہوگیا تھا وہ یونی نہیں گئی تھی. ..اب اسے یونی کی بھی ٹینشن لگی ہوئی تھی. ….اسکے بعد سے اسنے وائز سے بات تک نہیں کی تھی. ..وہ کوئی بات کرتا تو ہاں ہوں کا جواب دے دیتی. ..ورنہ خاموشی سے اپنے موبائل یا پھر بکس لے کر بیٹھ جاتی. … وائز نے اسے سوری تک نہیں کہا تھا. … اسی بعد کاسے دکھ تھا. … وہ غلطی پر ہوتے ہوئے بھی غلطی نہیں مانتا تھا. ..شاید اسے ایسے زیادہ اپنی سوکولڈ آنا عزیز تھی. ..سوچتے ہوئے اسکی آنکھیں نم ہوگئی تھی. .. سوگوار سے چہرے پر ازیت بهری مسکراہٹ بکهری تھی.
.. اسے کبھی بھی مکمل محبت ملی ہی نہیں تھی. ..ریان بھی تو اسے بوجھ ہی سمجھتا تھا. ..اگر نہیں بھی سمجھتا تھا تو. ..پیار بھی نہیں کرتا تھا. …ہانیہ اور آدیان ہی تھے جو اسکا خیال رکھتے اسے محبت کرتے. ..اور اب تو وہ بھی نہیں تھے. ..اسے ان دو دنوں میں آدیان اور ہانیہ کی یاد شدت سے آئی تھی.
….وہ ابھی انہی سوچوں میں گم تھی جب وائز ہاتھ میں ٹرے تھامے اندر داخل ہوا تھا. ..بلیک ٹی شرٹ. .وائیٹ ٹرائوزر پہنے. ..بالوں کو لاپرواہی سے ماتھے پر گرائے. ..دونوں لبوں کو سختی سے ایک دوسرے میں بهیچے وہ کافی ہینڈسم لگ رہا تھا. …مگر وجہی چہرے پر بکھرے سنجیدہ تاثرات دیکھ کر علیزے خوشک پڑتے لبوں کو تر کرتی بمشکل آٹھ کربیٹهی تھی. ..
یہ ختم کرو جلدی پهر میڈیسن بھی لینی ہے. .وائز نے سوپ کا کپ اسکی طرف کرتے قدرے نرم لہجے میں کہا. ..اسے علیزے کی ایسی حالت اور خاموشی تنگ کررہی تھی. … وہ چاہتا تھا وہ پهر ویسی ہی بن جائے. .. اسے تنگ کرے. .مگر اسے بات کرے.مگر خاموش نا ہو ..اسے ڈرے. .مگر خوفزدہ نا ہو. ..اسے لڑے مگر یوں خفا نا ہو. ….مگر وہ اسے بول نہیں سکتا تھا. ..سکتا تھا بھی تو بھی نہیں بول رہا تھا. ..ایک ایک بےمول سی انا انکے انمول رشتے میں آگئی تھی. .جسے لانے والا بهی وہ خود تھا. . اور اسے ہی جھجک قبول بهی نہیں ہورہی تھی. .علیزے کو تکلیف دے کر وہ خود بھی تکلیف میں تھا. ….مگر اپنے کسی عمل سے اسے لگنے نہیں دیا تھا. …
وہ نا ہی علیزے پر ہاتھ اٹھانا چاہتا تھا نا ہی اسے تکلیف دینا چاہتا تھا. ..اس رات کو وہ عالیہ اور فیض کے ایکسیڈنٹ کا سن کر وہ کافی پریشان ہوگیا تھا. .. وہ علیزے کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا تھا. .مگر لے کر بھی نہیں جاسکتا تھا. .پهر علیزے کی ضد دیکھ کر اسکا دماغ ہی خراب ہوگیا. … بلکل ہی بے دھیانی میں اسکا ہاتھ آٹھ گیا تھا. …اسے تب ہی احساس ہوگیا تھا. .. مگر تب جانا لازمی تھا. …
پهر وہ ہفتے تک واپس نہیں آیا تھا. .ایسا نہیں تھا وہ علیزے کو بھول گیا تھا. ..وہ ایشانی اپنی میڈ کو اسکے پاس چھوڑ گیا تھا. .اور اسے علیزے کے بارے میں بھی پوچھتا رہا. .. مگر اس سب کی بھنک بھی علیزے کو نہیں لگنے دی تھی. …شاید اسے ڈر تھا. .بے مول ہوجائے کا ڈر. ….اسے لگتا تھا وہ یہ جان کر کہ وہ اسکا سکون تھی.. محبت تھی. .جان تھی. وہ یہ جان. کر اسے بے جان نا کرجائے. …اسے اب ڈر لگتا تھا علیزے کو کھونے سے. ..وہ اگر لفظوں سے اظہار نہیں کرتا تھا تو وہ بھی تو اسکی آنکھیں نہیں پڑھتی تھی. …
علیزے نے سوپ ختم کرتے بائول وائز کی گود میں رکھی ٹرے میں رکھنے کے بجائے پٹخا تھا. … وہ کب سے اسے یوں کسی گہری سوچ میں پڑا دیکھ رہی تھی. .جلدی جلدی ختم کرتے کپ اسی لئے تیزی سے رکھا تھا کہ وہ ہوش میں آئے. ..اور ہوا بھی ایسا ہی تھا. ..وائز نے چونک کر پہلے کپ اور پهر علیزے کو دیکھا تھا. ..
س سوری غلطی سے ہوگیا. ..اسکی نظریں خود پر دیکھتے ہی وہ جلدی سے بولی. .موبادہ پهر کہیں غصہ نا کرلے. …. ایک ہاتھ سے بال کان کے پیچھے کرتی واپس لیٹی تھی. …
میڈیسن …وائز نے ہاتھ میں پکڑی ٹیبلیٹس کی طرف اشارہ کرتے کندھے اچکائے ہوئے کہا. ..
اب ابھی دل نہیں کررہا. ..م میں بعد میں لے لوں گی. .. علیزے نے مسکین سی صورت بناتے ہوئے کہا
ہمم وائز ہمم پر اکتفا کرتا ٹرے لئے نکل گیا تھا. …
اسکے جاتے ہی علیزے نے ایک پرسکون سانس ہوا کے سپرد کی تھی. …مگر یہ سکون کچھ ہی دیر کا تھا. … وہ کچھ ہی پل میں واپس آگیا. …ہینڈل سے ٹاول اتارتا ہاتھ صاف کرتے واپس رکھتا. ..بیڈ کی طرف آیا تھا. ….
بیڈ کے پاس آکر ایک نظر علیزے پر ڈالی جو سونے کی ناکام ایکٹنگ کررہی تھی. ..ایک دلفریب سی مسکراہٹ اسکے چہرے پر پھیل گئی تھی. .. واپس مڑتا …کرٹن آگے کرتا وہ بیڈ پر آکر لیٹ گیا تھا. .. ہاتھ بڑھاتے لیمپ آف کرتا. ..علیزے کی طرف مڑا تھا. ..پهر دوسرے ہاتھ سے اسے بازو سےپکڑتے اپنی طرف کھینچا. … اسکی پیشت وائز نے کسرتی سینے سے لگی تھی. … دونوں ہاتھ اسکے پیٹ پر باندھے وہ اسے سختی سے خود میں بهیچتا سکون سے. آنکھیں موند گیا. ……
دوسری طرف علیزے جو اسکے بیڈ کے پاس آنے پر ہی نروس ہوگئی تھی. ..اس اچانک حملے پر حیران بهی نہیں ہوسکی تھی. …دو تین دفعہ کچھ بولنے والے لئے لب وا کئے مگر بول کچھ نہیں سکی تھی. ..دھڑکنیں الگ ہی زاویے پر دوڑ رہی تھی. .. چہرے پر گلال سا پھیل گیا تھا. ….
سیاہ بخت🥀دشت کی طرح کا بہتے ہوے دھارے جیسا کوئی تو شخص ملے ہم کو ہمارے جیسا
کون سہتا ہے کسی اور کی لہروں کے ستم اتنا آساں تو_ نہیں ہونا کنارے جیسا
