Khud gharz Ishq by Sandal readelle50031 Episode 04
Rate this Novel
Episode 04
یوں ہی گزر گئے دن رنجشوں میں
کبھی وہ خفا. ……..کبھی ہم خفا
کیا ہورہا ہے کیوٹی. … آئش نے کمرے میں داخل ہوتے ہی آلیانہ سے پوچھا تھا. ..
وائیٹ پلین شرٹ پر پینک شٹائیلش جیکٹ. ..پینک ہی جینز پہنے. … وائیٹ سینکر شوز پہنے. … .. بال پونی میں مقیم کیے ہوئے تھے…. ہلکے پھلکے میک اپ میں وہ کافی دلکش لگ رہی تھی. ..، وہ بہت کم ہی پینٹ شرٹ پہنتی تھی. .. زیادہ تر اپنا مخصوص شارٹ فراک ہی پہنتی تھی. .. آج بھی کافی ٹائم بعد پہنی تھی. … لمبے کالے بال بھی آج روزانہ کی نسبت کم پر بکهے سے تھے. . پونی ٹیل میں ہونے کے باوجود گھٹنوں تک جا ہی رہے تھے. .. جن سے وہ تنگ بھی بہت تھی مگر. … کیا کرتی. .. خفا بھی تو ہونا تھا اوما سے. … اپنے سوٹ کیس میں کچھ پینٹنگ کی کچھ ضروری چیزیں ڈالی آئش کی آواز پر دروازے کی طرف مڑی تھی
ارے بهیو. .. آو نا. ..خیر آتو گئے. ..اب بیٹھ جاؤ. … اسے صوفے پر بیٹھتا دیکھ کر ناک سکور پر بولی تھی. ….
الیانہ …. وہ رکا تھا. ….
تمہیں پتا ہے یوں اکیلی تم پہلی بار کہیں دور جارہی ہوں. … اسے دیکھتا بولا تھا. .لہجہ ضرورت سے زیادہ ہی نرم رکھا تھا. .جانتا تھا کہ ابھی تو وہ پہلے سے خفا ہو گی. ….
یار بهیو. … ہمیں کل شام کو جانا ہے. .. اور اب میں چھوٹی تو نہیں ہوں نا. …. 20 کی ہوگئی. ..یونی جاتی ہوں. …. اور ویسے بھی میں اکیلی کدھر جارہی ہوں. . میں ٹام ایبک. لورا. .. عائشہ. . ہما. .. اور بھی کچھ فنڈز ہیں.. nagoya جارہے ہیں. .. زیادہ کوئی دور تو ہے نہیں. .. ہفتے میں آجائیں گے. .. اور میں ضرور آپکے ساتھ جاتی مگر آپتو . صبح دبئی کے لئے نکل رہے ہیں. .. تو تین مہینے بعد واپسی ہوگی. ..اتنا ایک میری کے لیے تو کوئی انتظار نہیں کرے گا نا. … مجھے جانا ہے ..بهیو. ..میں پیکنگ کرچکی ہوں. … اب پلیز منع نا کرنا. … مجھے جانا ہے تو بس جانا ہی ہے. …مجھے اور کچھ نہیں پتا. ….
پہلے اسے مطمئن کرتی آخر میں اپنے ازلی ضدی انداز میں بولی تھی. …
ہمممممم. … اتنا بڑا لیکچرر. ..کیا بولوں اببب. .. سرد سانس بھرتا بولا تھا. ..
اچھا چلیں. .آپ بھی جائیں ..صبح نکلنا ہے اپکو تو. .. پیکنگ کریں ..جا رسٹ. .. اور ہاں موم اور اوما کو منا لینا. …. ڈیڈ کو تو میں پہلے ہی منا چکی ہوں. .. واپس اپنے کام پر لگتی لاپرواہی سے گویا ہوئی. ….
خیر. … مگر یہ تم اتنی رات کو پنکی بن کر کدھر جارہی. … صوفے سے اٹھتا باہر کی طرف جاتے جاتے رکتا آلیانہ کے بال کھنچتا شرارت سے بولا تھا. .. دل مطمئن تو نہیں تھا کہ وہ اکیلی جائے. .مگر جانتا تھا رکے گی تو نہیں. .. اب بہس کرکے خفا نہیں کرنا چاہتا تھا. ….
بهیوووو. …یار اتنی مشکل سے ٹکائے ہوئے ہیں بال اور آپ. .. قدرے اونچی آواز میں مصنوعی خفگی سے گویا ہوئی. …
اچهااا. ..اب تو روز ہی ٹکانے پڑیں گے. .کیوٹی. .. اور بتاؤ تو جا کدهر رہی اتنی رات میں. … اسے دیکھتے نرمی سے بولا. ..
میں کہیں نہیں جارہی بهیو. .. وہ عائشہ اور ایبک آرہی ہیں. ..انہیں کوئی کام تھا. .. بیڈ سے چیزیں سمیٹی بولی. ..
اوکے پهر. …صبح ملتے ہیں. .. اسکے سر پر پیار کرتے .بولتے ہی باہر نکل گیا. ..
پیچھے الیانہ. . اپنی پیٹنگ کی چیزیں بیڈ سے اٹھاتی … روم سے منسوب دوسرے روم میں چلی گئی. …..
○○○○○○○○
یہ علیزے ناشتے پر کیوں نہیں آئی. … وہ ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھے تھے. .جب ریان بولا. ….
پتا نہیں ڈیڈ. …میں دیکھتا ہوں. … بولنے ساتھ ہی وہ اسکے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا. …..
دیکھا. .. زرا جو میری بات کو سیئرس لے. .. کتنی دفعہ بولا ہوا ہے. .ناشتہ کے ٹائم مجھے کوئی بہانہ نہیں چائے مگر. .. غصے سے بولتے وہ جوس کا گلاس منہ سے لگا گئے. …
ہانیہ بیگم تو تاسف سے انہیں دیکھتی رہ گئی. ..جہنیں بیٹی سے زیادہ عزیز انا تھی. ….
موم …. علیزے تو روم میں نہیں. … کدهر ہے. .. آدیاں واپس آتا … پریشانی سے ہانیہ بیگم سے بولا. ..
بیٹا. . ادھر ہی ہوگی. .. وہ تو صبح کہیں جاتی بھی نہیں. .. واش روم میں ہوگی. . اسے دیکھتی بولی تھی. ..فاک ہاتھ سے واپس پلیٹ میں رکھ دیا تھا. …
سیمااااااا. ….. آدیاں نے میڈ کو آواز دی. ..
جی چھوٹے صاحب. .. سیما دوپٹے سے ہاتھ صاف کرتی بولی. ..
سیما یہ علیزے. .کدهر ہے. .. روم میں تو نہیں ہے. ..کہیں دیکھا ہے اسے. … آدیاں نے فکرمندی سے پوچھا. ..کیونکہ وہ کمرے کے ساتھ ساتھ آمنے سامنے بھی دیکھ چکا تھا. …..
صاحب. .وہ تو رات سے اپنے روم سے نہیں نکلی. ..سیما نے انجان بنتے کہا. .
وہ تینوں سچ میں فکرمند ہوئے تھے. .. ریان صاحب کو تو خطرے کی بو آرہی تھی. .جبھی جلدی سے نیپکن سے منہ صاف کرتے اسکے کمرے کی طرف بڑھے. .. پیچھے پیچھے وہ دونوں بھی ایک نظر ایک دوسرے کو دیکھتے ان کے پیچھے گئے تھے. ..
واڈروب کو کھول کر جب دیکھا تو انہیں اپنے پاؤں کے نیچے سے زمین سکرتی محسوس ہوئی. ….کیونکہ واڈروب تقریباً خالی ہی تھا. ….وہ بے اختیار دو قدم پیچھے ہوئے. ….
ہانیہ اور آدیاں بھی حیرت سے خالی واڈروب کو ہی دیکھ رہے تھے. ..
تب ہی ریان صاحب کی نظر سائیڈ ٹیبل پر رکھے پیپر پر پڑی. ..
تهکے ہارے قدم اٹھاتے اسکی طرف بڑھے تھے. .پیپر سے پیپر ویٹ اٹھاتے. ..پیپر کھولا تھا. …
“سوری موم ڈیڈ. .. آدیاں بهیو. ……!
مگر میں نے کہا تھا کہ مجھے کاشف سے شادی نہیں کرنی مگر آپ نے مانا ہی نہیں. .. میں نے سب سے کہا. ..مگر ڈیڈ کو مجھ سے زیادہ اپنے دوست عزیز ہیں. ..سوری ڈیڈ. …میں جارہی ہوں ادھر سے. .. گھر سے بھاگ نہیں رہی. … بس کچھ عرصے کے لیے دور جارہی ہوں. .. آگے یونی میں آڈیشن لے لوں گی. .. پهر واپس آجاوں گی. .. اگر ڈیڈ نے آنے دیا تو. …
بهیو. .آپسے خفا نہیں ہوں. .اپنے میری مدد کرنی چاہی. ..مگر آپ بھی ڈیڈ کے سامنے مجبور ہوگئے. … اب تک میں بہت دور جاچکی ہوں گی. .. مجھے مت ڈھونڈنا. ..میں خود لوٹ آئوں گی. .. ڈیڈ شاید تب تک اپکو بھی شاید احساس ہوجائے. ..کہ میرے پیدا ہونے میں میری کوئی غلطی نہیں تھی. ..
خیر اللہ حافظ. ..سوری آگین. …”
پیپر ہاتھ سے گر گیا تھا. .. وہ ادھر ہی بیڈ پر تقریباً گرتے ہوئے بیٹھے تھے. .. آدیاں نے آگے بڑھ کر انہیں سہارا دیا تھا. … ہانیہ بیگم ڈرتی کانپتی نیچے سے پیپر اٹھا کر پڑا تھا. … اپنی. .معصوم بیٹی کا یوں چلے جانا. .. وہ اب ہچکیوں میں رو رہی تھی. …
پلیززز موم ڈیڈ. ..رلیکس یار. … پہلے سوچنا چاہیے تھا نا. .کہ کیا کررہے ہیں. ..اب چلی گئی ہے وہ. …نجانے کدهر گئی ہوگی. … ایک قدم تو اکیلی جا نہیں سکتی تھی. .. ان دونوں کو یوں دیکھتا وہ. . جھنجھلا کر بولا تھا. .. اوپر سے علیزے کے لیے پریشان تھا. ..
ہانیہ تو روتی ہوئی باہر نکل گئی تھی. .جبکہ ریان نجانے کن سوچوں میں گم ہوگئے تھے. .. جیسے بھی تھے. .، مگر جانتے تھے کہ. .ان کی علیزے تو بہت معصوم تھی. .. ڈری سی. .نجانے کدهر گئی ہوگی. .. مگر سوچنا تو پہلے چاہیے تھا نا جب. .جان کر اسے آندهے کیواں میں دھکیل رہے تھے. ..
○○○○○○○
خالی سڑک پر اکا دکا گاڑیاں اجارہی تھی. ….وہ بھی. .. بلیک شرٹ ..بلو جینز پہنے. .. کندھے تک آتے بالوں کو پیچھے پونی میں کئے. .. گلے میں کئی لاکٹ ڈالے. .. ہاتھوں میں بھی. . بہت سے بریسلٹ پہنے. . گریں پرسرار آنکھوں پر بلیک ہی گلاسز لگائے چھپایا ہوا تھا. … گاڑی چلانے کے بجائے اڑا رہا تھا. .. جبرے بیچے ہوئے تھے. .. چہرہ بلکل سٹاپ تھا. …
جب اچانک ہی کوئی اسکی گاڑی کے سامنے آکر گرا تھا. …. گاڑی جھٹکے سے روکی تھی. .. ایک ہاتھ سے گلاسز اتارتے دوسرا ہنوز سٹرینگ پر تھا. …
صبح صبح کس کی موت آئی ہے. .. نحوست سے سوچتا گلاسز پٹخ چکا تھا. ..پہلا تو سوچا مرنے دو. ..جو بھی ہو. .بلا سے. ..مگر بھی. .. سرد آہہ بھرتا …گاڑی سے نکل ہی آیا. ….
اوووو میڈم. ..کون ہووو. .. سامنے ہی سڑک پر کوئی نازک وجود پڑا تھا. .. چہرہ زمین پر تھا. .. بلیک ہاف شرٹ. .بلیک ہی جینز پہنے. .. وہ جو کوئی بھی تھی شاید بہوش ہوگئی تھی. .جبهی راجر کی آواز پر بھی ہلی بھی نہیں. ..
مجبوراً اسے نیچے بیٹھ کر اسے سیدھا کرنا پڑا تھا. .. خوبصورت نقوش. .سفید رنگت. … بهورے بال جو اب چہرے پر بکھرے ہوئے تھے. …
وہ غور سے اسے دیکھ رہا تھا. .. جو اب اسکے ایک بازو پر پڑی تھی. … پہلی دفعہ یوں وہ کسی لڑکی کو دیکھ رہا تھا. .. اپنی 32 سال کی زندگی میں وہ ..نائیٹ کلب. .. پارٹیز. … نشہ. .سب کرتا تھا. ..مگر ..کبھی کسی لڑکی میں کوئی انٹرسٹ لیا. .. اکثر کئی لڑکیاں اسکی پرسنیلٹی سے امپرس ہوکر اسکے قریب آتی تھی. .مگر وہ کسی کو لفٹ نا کرواتا. .. یہ پہلی دفعہ کوئی نازک وجود اسکی بانہوں میں تھا. ..
مرااا. …. اس لڑکی کو بھی ابھی ہی. .نا آئی مرنا تھا. .. اب کدهر پیرو اس معصیت کے ساتھ. .. اسے کسی چیز کی طرف ٹٹولتا بے زاری سے خود ہی سے بولا تھا. …
چھوڑو. .مرنے دو ادھر ہی میرا کون سا بل آرہا ہے. .. واپس زمین پر اسکا سر رکھتا. . سفاکیت سے گویا ہوا. …
ابھی پلٹا ہی تھا کہ. .واپس رکا. …
چاہ کر بھی وہ اسے یوں چھوڑ کر نہیں جاسکتا تھا. ..کیونکہ ..وہ اسکی گاڑی سے لگ کر گری تھی. … ماتھے پر چوٹ بھی گہری آئی تھی. … سر سے خون بھی بہہہ رہا تھا. .. اور زیادہ دیر تک ادھر ایسے ہی پڑا رہنے سے کچھ بھی ہوسکتا تھا. .اور یہ سڑک ویران ہی تھی. .، کوئی کوئی گاڑی کافی دیر بعد ہی نظر آتی تھی. .. وہ تو جنگل میں رہتا تھا. .. ابھی ادھر ہی جارہا تھا. .کیونکہ رات کو وہ وانگ کے ساتھ اسی کے پیلس میں رہ گیا تھا. ..اب صبح ہوتے ہی جب راج پیلس واپس جارہا تھا. .تب ہی مصیبت …یا. .. شاید اپنی. .. بدقسمتی سے ملا تھا. …
ساری سوچیں جٹهکتا وہ اسکے نازک مومی وجود کو اپنی مضبوط بانہوں میں بھرتا گاڑی تک لایا تھا. … دل نجانے کتنے سالوں بعد آج کسی احساس کے تحت دھڑکا تھا. … اسے احتیاط سے گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر اتارتا خود بھی آکر ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکا تھا. …
اسکے بعد دوبارہ اسی خول میں بند ہوچکا تھا. .. بالکل سنجیدہ سٹاپ چہرہ. ..گرین آنکھوں لال ہوگئی تھی. .. دوبارہ اسے دیکھنے کی کوشش نہیں کی تھی. ….
○○○○○○
گرے فلیپر. .. بلیک ہی سلیولیس شارٹ شرٹ پہنے. .. بالوں کو ڈھیلی سی پونی میں کئے. .. آنکھوں پر بڑے سٹائلش سے گاگلز لگائے. چہرہ پر ماسک لگایا ہوا تھا. .. گرے کلر کی ہی ہائی ہیل پہنے. ایک ہاتھ میں سوٹ کیس سنبھالی. .. دوسرے میں موبائل پکڑے وہ بھی جہاز میں سوار ہوئی تھی. .گاگلز اتار کر ہاتھ میں پکڑ لئے تھے. … آئر ہوسٹ سے اپنی سیٹ کا پوچھتی وہ اب اپنی سیٹ کے پاس پہنچی تھی. .. تین سیٹوں میں سے دو پر تو دو لڑکے بیٹھے تھے. .. ایک نے جیکٹ چہرے پر رکھی ہوئی تھی. .تو دوسرا. . کانوں میں ہینڈ فری ڈالے موبائل فون میں مگن تھا. …
سوٹ کیس سیٹ کرنے کے بعد اب وہ ان کی طرف مڑی تھی. .. کیونکہ ان کے آگے سے گزر کر ہی اپنی سیٹ پر بیٹھنا تھا. … کیونکہ اسکی سیٹ ونڈو کے سائیڈ تھی. …
ایکسیوز مییییییی. … جب کافی دیر تک وہ بیچاری کھڑی رہی. ..مگر وہ دونوں ہلے بھی نہیں. .تب ہی دانت پیس کر کہا. …
اپنے سر پر آواز سن کر کناٹ نے اوپر دیکھا تھا. ..
پلیززز. … اسکی سوالی نگاہیں دیکھ کر امڈ آنے والے غصے کو دباتی. . مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ اسے راستہ دینے کا اشارہ کرتی گویا ہوئی. ..
ارے آئش. .ہٹ. .رستہ دے. .. اسکی بات سمجھتا وہ اپنے ساتھ بیٹھے. ..کم سوئے زیادہ آئش کو جهنجهلاتا بولا. ….
آئش ..کناٹ راکیل. .تینوں بهی اسی فلائیٹ سے دبئی جارہے تھے. .جس سے ہیر نے بهی جانا تھا. …. راکیل کی سیٹ تو آگے تھی. .. آئش اور کناٹ کی سیٹیس ساتھ ہی تھی. .. آئرپوٹ پر انہیں دیکھ کر کافی ہجوم بنا تھا. .لوگ مکھیوں کی طرف ان کے قریب ارہے تھے. .. کافی بچ بچا کر وہ ادھر تک پہنچے تھے. .. آئش کی تو نیند پوری نہیں ہوئی تھی تب ہی آکر اب سو رہا تھا. .جب کناٹ کے جگانے پر. .. کوئی موٹی سی گالی دیتے دیتے رکا تھا. …
کیا مو…….. ابھی اسپر چیختا تب ہی سامنے کھڑی ہیر کو دیکھ کر چپ ہوگیا تھا. .. چہرے پر ماسک ہونے کے باوجود وہ پہچان گیا تھا کہ وہ ہیر ہی تھی. .. پہلی ملاقات کے بعد اسے ہر جگہ ہیر ہی دیکھ رہی تھی. .. اب ہی اسے سامنے دیکھ کر وہ گهنگ ہوگیا تھا. ..یہی حال کوئی ہیر کا بهی تھا. .. یہ سوچ سوچ کر اسکا دماغ آئوٹ ہورہا تھا کہ اب پورا سفر اس ڈفر کے ساتھ کرنا تھا. …
وہ دونوں اب اٹھ کر سائیڈ پر ہوگئے تھے. .تب ہی پاؤں پٹختی وہ سیٹ پر بیٹھی تھی. …اس کے بیٹھتے ہی آئش پهر کناٹ بهی بیٹھ گئے. …
ہائے. … آئش نے ہی پہل کی تھی. ….
ہائے. ..مروّت اسے بھی مسکرا کر بولنا ہی پڑا. …
کیسی ہو. .. اس کی گرین خوبصورت آنکھوں میں دیکھتا پوچھا تھا. .
سر میں درد ہے. … یہ سوچ کر بولا تھا کہ شاید خاموش ہوجائے. .،،
پین کلر لے لو. .. مشہورہ مفت جو ہے تو کیوں نہ دیتا. .. ویسے وہ جان گیا تھا کہ. اس سے جان چھڑانے کے لیے ہی جھوٹ بولا تھا. .. اب تو تپانے میں اور ہی مزا آتا. ….
ہمممممم. .بس ہم پر ہی اکتفا کیا. ….
میں دے دوں. … اسے دیکھتے سنجیدگی سے بولا مگر آنکھوں میں شرارت واضح تھی. ..
کین یو پلیز شٹ یوور مائوته. … سارا لحاظ بلائے طاق رکھتی … جلے ہوئے لہجے میں بولی کم چلائی زیادہ تھی. …
آہہ آہہ آہہ. … آئش کا قہقہہ بے ساختہ تھا. … کافی لوگ حیرانی سے اسکی طرف مڑے تھے. …
آئشش. .. لوگوں کو اپنے طرف دیکھتا پا کر. . دانت پیسے ہوئے بولی تھی. ..
اوکے. ..اوکے. .سوری. .. اچھا ہوا جلدی ہی اصلی چہرہ دیکھا دیا. .ورنہ مجھے لگا کہ کافی دیر آپ جناب چلے گا. … ہنستی کنٹرول کرتا. .. بولا تھا. ..
ڈفرر. .. اپنا کام کرو. .. ناک سکور کر کہتی دوسری طرف مڑ گئی تھی. ..
البتہ آئش خود کے لیے ڈفر سنتا ہی بہوش ہونے کو تھا. ..
واٹٹٹٹ. …. ت تم نے مجھے ڈفر کہا. .. بازو سے پکڑ کر اپنی طرف موڑتا. .. اونچی آواز میں بولا تھا. …ایک دفعہ پھر سب اسکی طرف مڑے تھے…کناٹ بچارہ تو آئش کو دوڑے پڑتے دیکھ رہا تھا. …
ہاں. .پاگل. .ڈفر. … وہ بھی اسی کے انداز میں گویا ہوئی. .
یو. .یو. نکچڑی. ..پاگل. .. تم. .. اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ کیا کہے. ….
واٹٹٹٹ. ..مجھے نکچڑی کہا تم نے. … ہیر کا منہ ہی کھلا رہ گیا تھا. …. لڑتے لڑتے اسکا ماسک بهی اتر گیا تھا. … اب لوگ دا گریٹ ہیر مرزا اینڈ دا گریٹ آئش درانی کو بچوں کی طرح لرتا دیکھ رہے تھے. …
کناٹ حیران پریشان سا. ..اپنا بڑا کا منہ آگے بلکل ان کے سامنے لے گیا تھا. ..کبھی حیرت سے آئش تو کبھی ہیر مصیبت کو دیکھ رہا تھا. … آج سے پہلے اسنے بهی اسے ٹی وی نیٹ پر دیکھا تھا. اور اب سوچ رہا تھا کہ کاش اس عظیم ہستی کو ٹی وی پر ہی دیکھتا. … جو کہیں سے بھی ایک کامیاب سپر سٹار اور ایک کامیاب ڈانسر نہیں لگ رہی تھی. ..
اسکا چہرہ بکل اپنے اٹھے بیٹھتے ہاتھوں اور چہرہ کے پاس دیکھ کر وہ دونوں ہی خاموش ہوئے تھے. …
آہہہہ. … اسکی ہلکی سی چیخ نکلی تھی. ..جب آئش نے اسکے بالوں سے پکڑ کر اسے دور کیا تھا. …..
ہیر منہ کے زاویے بگاڑتی دوسری طرف مڑ گئی. … آئش نے بھی لوگوں کو خود کی طرف دیکھتا پا کر خاموش رہنا ہی مناسب سمجھا. ..ورنہ تو دل تو کررہا تھا کہ اسے ناکوں چنے چبوائے. …کناٹ دل ہی دل میں جلدی پہنچنے کی دعا میں مصروف ہوگیا تھا. ……..
○○○○○○
اسکو جاپان آئے ایک دن ہوگیا تھا. … اور آج ہی وہ یونی آئی تھی. … جاپان کی ایک اچھی یونیورسٹی میں اسکا آڈیشن ہوگیا تھا. . کبھی اکیلی گھر سے باہر نا جانے والی آج گھر سے بہت دور جاپان میں اکیلی تھی. …. اوپر سے بلا کی ڈرپوک. … کچھ کلاسز لینے کے بعد وہ باہر آگئی تھی …. زیادہ لوگوں میں تو کمفٹیبل ہوتی نہیں تھی جبهی یونی کی بیک سائیڈ پر آگئی. .. جہاں اکا دکا سٹوڈنٹ ہی تھے. .
ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی جب اسے تین جاپانی لڑکے اپنی طرف آتا دیکھ کر اسکی جان لبوں کو آئی تھی. ….
وہ تینوں اب اسکے سامنے اگئے تھے. .دیکھنے سے ہی لوفر ٹائپ لگ رہے تھے.
وہ ڈری سہمی ان تین جاپانی لڑکوں کو دیکھ رہی تھی. ..وہ اسے دیکھ کر جاپانی زبان میں ہی کچھ کہہ کر خباثت سے ہنس رہے تھے. … وہ سمجھ تو نہیں پارہی تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں مگر اسے محسوس ہورہا تھا کہ وہ اس کے بارے میں فضول بات کررہے تھے. .. وہ اب ڈرتی ہوئی پیچھے گسک رہی تھی. ……
ارے یہ تو کوئی ان چھوئی کلی لگ رہی ہے. …. اب ان میں سے پہلے والے نے اس کی طرف قدم بڑھاتے انگلش میں کہا تھا. .. اسکے آگے بڑھنے پر دوسرے دو لڑکے بھی ہنستے ہوئے آگے بڑھے تھے. …
علیزے خوف سے کامپتی ادھر ادھر دیکھ رہی تھی. .یہ یونی کی ایک ویرانی سی جگہ تھی. …..
کون ہو. .تم لوگگ. ..مجھے. … ج جانے دو. …… وہ کچھ اور قدم پیچھے لیتی خوف سے کپکپاتے ہوئے بولی تھی. ….
ارے ڈارلنگ … یہاں اکیلے میں کس کا انتظار کیا جارہا تھا. .. لگتا ہے وہ تو نہیں آئے گا. .ہم ہی آگئے. .. مس بیوٹی ہم سے ہی کام چلا لو. .. ناامید نہیں کریں گے. … دوسرا لڑکا اس کے بالکل قریب آتا خباثت سے آنکھ ونک کرتا بولا تھا. …. ایک بازو سے پکڑ کر اپنے طرف جھٹکا دیا.
چهوڑووووو. .. وہ اس کے خود کو چھوتے ہی خوف سے چیخی تھی. ….
وائز جو چیرٹی کے لیے فنڈ دینے آیا تھا. … اور اب واپس جا رہا تھا. .. ایک نسوانی چیخ سن کر وہ روکا تھا. … پہلے تو جانے لگا،مگر پھر کچھ سوچتا اس آواز کی طرف بڑھا تھا. ..مگر سامنے کا منظر دیکھ کر اسکا دماغ ہی گھوم گیا. .
کیا ہورہا ہے یہاں. ..چھوڑو لڑکی کو. .. غصے سے سرخ ہوتا. . اپنی بهاری گھمبیر آواز میں دھاڑا تھا. … یہ ایک آزاد ملک تھا. .. یہاں یہ سب عام تھا. .اگر لڑکی کی بھی. مرضی ہوتی تو وہ کچھ نہ کہتا. .مگر وہ روتی ڈرتی خود کو چھڑا رہی تھی
اسکی آواز سن کر وہ لڑکے بے زاری سے پیچھے مڑے تھے. . ابے نکل یہاں سے. .. جا کر کوئی اور ڈھونڈ ….. یہ کلی ہماری ہے. .. ان میں سے اس کی طرف بڑھتا ناگواری سے بولا تھا. …
آہہہہ…. مگر سامنے سے وائز نے اپنے بهاری ہاتھ کا مکا بنا کر اسکے منہ پر مارا تھا. …
چیختا وہ بے اختیار دو قدم پیچھے ہوا تھا. .. منہ سے خون نکل رہا تھا. …..
اپنے ساتھی کی ایسی حالت دیکھ کر وہ دونوں لڑکے بھی غصے میں اسکی طرف بڑھے تھے. ..مگر وائز سے تھوڑی سی خاطر تواضع کروا کر ہی آدھ موئے ہوگئے تھے. …..
علیزے خوف سے چہرہ نیچے کئے سسکیوں کی روتی جارہی تھی. …
نکلو اب …اور ہاں آج کے بعد کسی لڑکی کے ساتھ زبردستی کی تو یہ کچھ خاطر تواضع یاد کرلینا. …… ایک لات اسکے کے پیٹ پر مارتا نحوست سے بولا تھا. ..اسکے بولتے ہی وہ تینوں لڑکے جان بچا کر. . بنا پیچھے مڑے بھاگے تھے. …
ان کے جانے ہی وائز کوٹ سے نادیدہ دھول جهڑتا قدم واپسی کی طرف بڑھاتا. .. کچھ سوچ کر رکا تھا.
اووو میڈم. .. اب نکلو گی یا. .کسی اور کے آنے کا انتظار ہے. .. پیچھے مڑتا اس روتی ہوئی لڑکی کو دیکھتا بولا تھا. … علیزے کے چہرے پر آنسوؤں کی وجہ سے کچھ لٹیں چپک گئی تھی. .. چہرہ نیچے کئے وہ بس روئے جا رہی تھی. …. نا ہی اسکی کوئی بات سنی تھی. ..
ہیلووو کون ہوو. .سن رہی ہو کہ ڈوری ہو. .. اسکو بنا ہلے دیکھ کر وہ قدرے. اونچی آواز میں بولا تھا.
مگر سامنے بھی پھر علیزے تھی. . بنا کسی کی پروا کئے بس روئے جارہی تھی. … روتی بھی کیوں نہ آج پہلا دن تھا یونی میں اور آج ہی یہ حادثہ ہوگیا. ..
زندہ ہوو. …اسکے سامنے جاتا اکے بازو سے پکڑے جهونجهڑا تھا. ..
وہ جو بس روئے جارہی تھی. .کسے کہ یوں جھنجھوڑنے پر وہ کٹی ڈال کی طرح اسکے سینے سے آ لگی تھی ….. وہ حیرت سے ایک نازک سے وجود کو اپنی بانہوں میں دیکھ رہا. …تھا. ..دل الگ ہی سپیڈ پر دھڑکا تھا. …
س. .سوری. ..وہ کپکپاتے ہوئے اسکی طرف دیکھتے نہایت دھیمی آواز میں بولی تھی. …
مگر وہ ساکن ہوگیا تھا. ..اسکی بھیگی بڑی بڑی کالی آنکھوں کو دیکھ کر. … اسکے کپکپاتے لبوں کو دیکھ کر …. اسکا دل زوروں سے دھڑکا تھا. … اسکی آنسوؤں سے بھری آنکھوں میں گم سا ہوگیا تھا. …..
ی. .یہ. ..نکال. .دیں. … وہ جو اسے پیچھے ہونے لگی تھی. .مگر اسکے گلے میں ڈالا لاکٹ اسکے سوٹ کے بٹن میں ہی پهس گیا تھا. … اسلئے تب ہی دوبارہ اسے دیکھتے بےبسی سے گویا ہوئی. …
اسکی دھیمی سریلی آواز سن کر جسے وہ ہوش میں آیا تھا. … سر جھٹکتے وہ اسکی طرف متوجہ ہوا تھا. …..
اسے لگا تھا کہ اسکی آنسوؤں بهری کالی آنکھیں. .. اسے اپنے سحر میں مبتلا کردیں گی. ….. اسے اسکی آنکھوں سے ڈر لگا تھا ایک پل کو. …اسے یوں لگا تھا جیسے وہ ان آنکھوں میں ڈوب جاتا …
اسکا لاکٹ بٹن میں پهسا دیکھ کر اسکی کمر میں دوسرا ہاتھ ڈال کر اپنے اور قریب کیا تھا. …. ایک کا دل خوف سے تیز تیز سے دھڑک رہا تھا تو دوسرے کا. . نجانے کس احساس کے تحت. … وہ دونوں ایک دوسرے کے نہایت قریب تھے. . اتنا کہ ایک دوسرے کی سانسیں اپنے چہرے پر پڑتی محسوس ہورہی تھی. .
انوسنٹ گرل. ..وہ اسکی آنسوؤں بهری آنکھوں میں دیکھتا زیرلب بڑبڑایا تھا. .
وہ خوف سے اسے ہی دیکھ رہی تھی. اسے بس اس کے ہونٹ ہلتے محسوس ہوئے. .تھے. .
ہوگیا. ….اچانک اسے پیچھے کرتا اسے ہی دیکھتا بولا تھا. ..
اسکے چھوڑتے ہی علیزے نے گہرے گہرے سانس لئے تھے .. وہ بغور اسے ہی دیکھ رہا تھا. .. وائیٹ گھٹنوں سے کافی اوپر تک آتا سفید فراک. . ساتھ بلیو جینز پہنے. . بلو ہی سینکر شوز. .پہنے. . بالوں کو درمیان سے مانگ نکال کر کھلا چھوڑا ہوا تھا. .. آنسوؤں کی وجہ سے کچھ بال چہرے اور گردن پر چپک گئے تھے. .وہ ایک ہاتھ سینے پر رکھے دوسرے سے کالج بیگ پر گرفت مضبوط کئے گہرے سانس لے رہی تھی. … اسے پہلی ہی نظر میں وہ بہت خوبصورت اور معصوم سی لگی تھی. .. سب سے زیادہ اسکی آنسوؤں بهری کالی بڑی بڑی آنکھیں. … مگر یہ سوچ اسکی کچھ پل میں ہی ختم ہوگئی تھی. ….
جب دور سے بھاگ کر آتے لڑکے نے اسکے پاس آکر علیزے کو اپنے سینے میں بینچا تھا. … ..علیزے بھی اسکے گلے لگتی سسک کر روتی گئی. ….
نجانے کیوں مگر وائز کو اس وقت وہ لڑکا نہایت برا لگا تھا. ..یا شاید اسکا علیزے کو چھونا. .. یا پھر علیزے کا اس سے لگ کر رونا. … مگر اسکو وہ شدید برا لگا تھا. …
●●●●●
