54.7K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

.محبت چھوڑ دی ہم نے…!
یہ تم سے کہہ دیا کس نے
کہ تم بن رہ نہیں سکتے
یہ دکھ ہم سہہ نہیں سکتے
چلو ہم مان لیتے ہیں
کہ تم بن ہم بہت روۓ
کئی راتیں نہیں سوئے
مگر افسوس ہے جاناں
کہ اب کہ تم جو لوٹو گے
ہمیں تبدیل پاؤ گے
بہت مایوس ہوگے تم
اگر تم پوچھنا چاہوں
کہ ایسا کیوں کیا ہم نے
تو سن لو غور سے جاناں
پرانی اک روایت تنگ آکر توڑ دی ہم نے
محبت چھوڑ دی ہم نے۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا ہیر تم کیوں پریشان ہو اتنا. …ہم ٹھیک ہیں. … عالیہ نے ہیر کے گال پر ہاتھ رکھتے محبت سے کہا تھا. …
ہیر جو کافی دیر سے انہیں دیکھتی کسی غیر مرئی نقطے پر غور کررہی تھی. ..عالیہ کی آواز سن کر چونک کر ان کی طرف متوجہ ہوئی. ….
نہیں. .بس. .ایسے ہی ڈر گئی تھی. ..ہیر نے انکا ہاتھ اپنے گال پر ہٹاتے اپنے ہاتھ میں پکڑتے بمشکل مسکراتی بولی. …
ہیر وہ صرف ایک ایکسیڈنٹ تھا. .بارش تھی بہت تب ہی ڈرائیور سے غلطی ہوگئی. .. اور اب ہم ٹھیک ہیں. ..تم فکر نہ کرو. … عالیہ کو پتا تھا وہ کافی پریشان تھی جبھی اسے بہلاتے ہوئے کہا. …..
ہیر بس مسکرا کر رہ گئی ……
سے یاد تھا جس دن وہ واپس آئی تھی. .. مگر گھر میں کوئی نہیں تھا. ..وائز کو کال کی تب اس سے پتا چلا تھا کہ عالیہ اور فیض کا بہت برا ایکسیڈنٹ ہوا تھا. … عالیہ کو تو زیادہ نہیں لگی. .مگر فیض صاحب کو کافی چوٹیں آئی تھی. …. اور ڈرائیور تو موقع پر ہی مر گیا تھا. … وہ ابھی اسی شوک میں کھڑی تھی. .جب اسکا موبائل بجا تھا. .. اسنے غیر دماغی سے کال پر کرتے کان سے لگایا تھا. …
ہیلوو. .. اسنے تھکے ہارے لہجے میں کہا. …
کیسا لگا سرپرائیز. ..کارلوس کی بهاری تمسخر اڑاتی آواز اسے ہوش کی دنیا میں لائی تھی. ..
اسنے موبائل کان سے ہٹاتے نمبر دیکھا تھا. .. وہ ایک پرائیویٹ نمبر تھا. ..جس سے صرف کال آسکتی تھی. .کی نہیں جا سکتی تھی. .،، نا ہی نمبر ٹریس کیا جاسکتا تھا. … اسنے دانت پیسے تھے. .. نجانے کب آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی مگر وہ ضبط کرگئی تھی. ..
یہ تم نے کروایا. … ہیر نے بالکل سٹاپ لہجے میں پوچھا. ..
افکورس ڈارلنگ. … میں نے ہی کروایا. … میرے علاوہ کون کروا سکتا ہے. …دوسری طرف کلب میں بیٹھے کارلوس نے وائن کا گلاس منہ کو لگاتے فاتحانہ انداز میں کہا تھا. …اسکے چہرے پر خوشی کی چمک نمایاں تھی. ….
تمہاری لڑائی ہمارے ساتھ ہے. ..ہم سے لڑو. … دوسروں کو بیچ میں مت لاو. ..ہیر نے دانت پیس کر کہا تھا. … وہ اسکا ضبط آزما رہا تھا. ….
نہیں. ..تمہارے ساتھ میری کوئی لڑائی نہیں ہے. ..تمہیں کچھ نہیں کہوں گا. ..موقع ملا بھی نہیں. … بس تمہارے تینوں بھائیوں کو برباد کردوں گا. ….اس کے بعد بس میں اور تم. .. ارےےے میں بھی نا. ..سب سے اہم بندے کو تو بھول ہی گیا. .. آئش دہرانی بھی تو ہے. ..میرا دشمن. ….جس کی نظر میری سب سے قیمتی چیز پر ہے. … صوفے سے ٹیک لگاتا. … اپنے پاس آتی ایک گوری لڑکی کو ہاتھ کے اشارے سے روکتا کاٹ دار لہجے میں گویا ہوا
تمہیں یہ سب مہنگا پڑے گا. ..تم اگر آسمان زمین پر بھی لے آو. ..ہیر مرزا اتنی سستی نہیں ہے کہ تمہیں مل جائے. …. اور آدیان، ، منان اور وائز کا تم کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے. … تو اچھا ہے اپنے دماغ میں بھرے خناس کو ابھی سے ختم کردوں. … سرد مہری سے کہتی وہ باہر گاڑی کی طرف بڑھی تھی. ..وائز نے ہاسپٹل کی لوکیشن سینڈ کردی تھی. ..
ہاہاہاہاہاہاہاہا. ….. ڈی مو دکھایا تھا. …مگر تم کسی کی لاش دیکھ کر ہی مجھے مانو گی. .. زیادہ انتظار نہیں کروائوں گا. ..بہت جلد تمہیں تمہارے بہت پیارے کی لاش دیکھنے کو ملے گی. … بہت جلد ملیں گے. ..بہت بڑے سرپرائیز کے ساتھ. … اور ہاں میرے بارے میں تم کسی کو کچھ کلئیر نہیں بتا سکو گی. ..تو جاناں. .مت خوار کرنا خود کو …قہقہہ لگا کر سفاکیت سے کہتا وہ بنا اسکی سنے کال کاٹ گیا تھا. …
ہیر نے ایک نظر موبائل کو دیکھا. .. غصے سے اسکا خوبصورت سفید چہرہ لال ہوگیا تھا. .. غصے کے ساتھ ساتھ ایک ڈر بھی تھا. ….وہ عالیہ اور فیض کا ایکسیڈنٹ کروانے کے بعد جان گئی تھی کہ کارلوس کچھ بھی کرسکتا تھا. ….
■■■■■
پھر چاند کھلا پھر رات ہوئی
پھر دل نے کہا ہے تیری کمی
پھر یادوں کے جھونکے مہک گئے
پھر پاگل ارماں بہک گئے
پھر گزرے لمحوں کی باتیں
پھر جاگی جاگی سی راتیں
پھر ٹھہر گئی پلکوں پہ نمی
پھر دل نے کہا ہے تیری کمی۔
تم خاموش کیوں ہو. ..جب سے آئی ہو سب خاموشی سے سمندر کو دیکھ رہی ہو. .. اسے ہی دیکھنا تھا تو مجھے کیوں بلایا. …راجر نیناں کو کافی دیر سے سمندر کی شور کرتی لہروں کو دیکھتا پا کر آخر جل کر بولا تھا. ..
اسے نیناں نے خودملنے کے لیے بلایا تھا. ..اور اب خاموشی سے سمندر کو دیکھ رہی تھی. .جیسے اسے تو جانتی ہی نا ہو. …..
نیناں نے سمندر کی لہروں سے نظر ہٹائے راجر کو دیکھا تھا. … گرے کھلی ہڈی. .بلیک جینز پہنے. ..بالوں کو چھوٹی سی پونی میں مقیم کئے. وہ کاپی خوبرو لگ رہا تھا.ہڈی پر کچھ لاکٹس نظر آرے تھے. .گاگلز بھی ہڈی پر لگایا ہوا تھا. .. گرین پرسرار کی آنکھیں بلکل سرد تھی. ..کسی کو بھی خوف میں مبتلا کرسکتی تھی. .مگر سامنے بھی نیناں تھی. …..
. پورے ہفتے بعد وہ آج اسے دیکھ رہی تھی. .. یہ وہ ہی جانتی تھی کہ یہ ہفتہ اسنے کس طرح گزارا تھا. ..اسنے راج.. ریا …راجر تینوں کی ایک ایک حرکت پر اسنے نظر رکهوائی ہوئی تھی. .جسکے بارے میں ان کے فرشتوں کو بھی نہیں پتا تھا. …. پورا ہفتہ خوار ہونے کے بعد بھی اسے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا تھا. .ان کے خلاف. …پورے ہفتے کے ایک ایک دن. .چار سے پانچ افراد کا کافی بے دردی سے قتل کیا گیا تھا. … سی سی کی فوٹیج میں وہی تین پرسرار آنکھوں والے تین افراد نظر آرے تھے. … ہر جگہ سی سی کی فوٹیج تو نہیں ملی مگر جدھر سے بھی کچھ ملا انہی کے خلاف تھا. …مگر وہ صرف آنکھوں کے کلر سیم ہونے کی بیس پر انہیں اریسٹ نہیں کرسکتی تھی. .. اسے کوئی ٹھوس ثبوت چاہئے تھا. … وہ تو جانتی تھی کہ آدیان ہی راجر تھا. .مگر اسے یہ بات ثابت کرنی تھی. ….اور تو اور اسنے ریا اور راج کے چہرے بھی نہیں دیکھے ہوئے تھے. …. یہی ایک الگ مسئلہ تھا. ..پھر اسے اوپر سے کافی پریشر تھا. .. مگر مجال ہو جو اسے کوئی ثبوت ملے. ..اسے نہیں پتا تھا کہ آگے کیا ہونا تھا. .. یا وہ جو کررہی تھی و سہی بھی تھا کہ نہیں. ..یا وہ آخر تک تک ثابت قدم رہ بھی سکے گی کہ نہیں. .وہ نہیں جانتی تھی. .. نا سوچ رہی تھی نا ہی سوچنا چاہ رہی تھی. …
کیوں. ..پریشان ہوگئی ہو. ..راجر نے اسے اپنی طرف دیکھتا پا کر طنزیہ انداز میں کہا. .چہرے پر مسکراہٹ چها گئی تھی. .. گال پر پڑتا ڈمپل اپنی شان سے نمودار ہوا تھا. …نیناں بس دیکھتی رہ گئی تھی. … دل کی دھڑکنیں منتشر ہوگئی تھی. ..اسنے بے ساختہ نظر ہٹائی تھی. …وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی. …. دل کی خواہش کو دل میں یہ دفنا دینا چاہتی تھی. … جو بغاوت کرنے پر تلی ہوئی تھی. ….
اسکے یوں خجل ہو کر نظریں پھیرنے پر راجر کی مسکراہٹ اور گہری ہوئی تھی. .وہ اب بے قاعدہ اسکی طرف متوجہ ہوگیا تھا. ….
برائون شرٹ. .. بروان ہی ٹرائوزر پہنے. …بالوں کو جهوڑے میں مقیم کئے. .. وہ کافی پریشان سی لگ رہی تھی. .. ہوا کی وجہ سے کچھ بال چہرے پر آرے تھے. .جنہیں پیچھے کرنے کی کوشش نہیں کی گئی تھی. …
وہ بے اختیار سا ہوتا آگے بڑھا تھا. …..اسے دونوں شانوں سے پکڑ کر اپنے قریب کیا تھا. ..
وہ بس لب بهیچے خاموشی سے کھڑی تھی. ..دل کانوں میں بج رہا تھا ..راجر کو دیکھنے سے اسنے گریز ہی کیا. …
کیوں تھکا رہی ہو خود کو. …مجھے نہیں ہرا پاو گی. … مگر خود کو لہولہان کرلو گی. …مت بھاگو سہراب کے پیچھے. ..میرے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملے گا تمہیں. .. کچھ نہیں ملے گا. .. ایک ہاتھ سے اسکے چہرے سے بال کان کے پیچھے کرتا. .. سنجیدگی سے بولا تھا. .. وہ جانتا تھا وہ کتنی ڈسٹرب تھی. . اور وجہ بھی وہ خود تھا. ..وہ اسے پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا. .. وہ خود بھی تو کافی ڈسٹرب ہوگیا تھا. …
.
تیرے بن جینا ہے ایسے. .
دل دھڑکا نا ہو جیسے. .
یہ عشق ہے کیا..دنیا کو.
.ہم سمجھائیں کیسے. ..
تو پهر کیا کروں میں. …. کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے میرے پاس. … ایک ہی راستہ دیا گیا ہے مجھے. .. اور ساتھ یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ اس رستے کی کوئی منزل نہیں ہے. ..اور پھر بھی مجھے اسی ..بے نام منزل کے رستے پر سفر کرنا ہے… اور اگر. .قسمت. ..یا پھر بدقسمتی سے مجھے کوئی منزل مل بھی گئی. .. تو بھی وہ میری منزل نہیں ہوگی. ادھورے سفر کی ادھوری منزل کے ساتھ. .میرا انت بھی ادھورا ہی رہ جائے ..راجر کا ہاتھ چہرے سے ہٹاتی کرب آلود لہجے میں بولی. …لاکھ چاہنے کے باوجود …آنسو ضبط نہیں کرسکی تھی. ..
آہ دلوں کی ان راہوں میں. .
ہم کچھ ایسا کر جائیں. ..
اک دوجے سے بچهریں تو. .
سانس لئے بن مر جائیں. .
راجر حیرت سے اسے دیکھے جا رہا تھا. …وہ دونوں اب بھی کافی قریب کھڑے تھے. ..مگر ان میں بہت فاصلہ تھا. ..جس نے نجانے کبھی ختم ہونا بھی تھا کہ انہیں ہی ختم کردینا تھا. ..
او خدا. .بتا دے کیا لکیروں میں لکھا. …
ہم نے. تو. …ہم تو عشق ہے کیا. ..
سب چھوڑ دو. ..میرے ساتھ چلو. نیناں. .. ہم بہت دور چلیں جائیں گے. .. سب چھوڑ دیں گے. .. وہ یکدم اسکے چہرے کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں بھرے. ..بولا تھا. …لہجے میں ایک بےبسی. ..ایک التجا سی تھی. … وہ اس وقت خود کو بہت بے بس محسوس کررہا تھا، ….. نیناں کے آنسو. .. لفظوں. ..اور لہجے میں موجود کوب نے اسے دوہری تکلیف میں مبتلا کردیا تھا. … اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیسے سب سہی کرے. … سب اتنا خراب ہوگیا تھا کہ اب کوئی امید بھی نہیں تھی. …
او خدا. …بتا دے کیا لکیروں میں لکھا. …ہم نے. تو.
..ہم نے توبس عشق ہے کیا. ..
نیناں نے آنسوؤں بھری آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا تھا. …. وہ کیسے کہتی کہ چاہتی تو وہ بھی یہی تھی. … وہ سچ میں ہی تو تهک گئی تھی. .. اب سکون چاہتی تھی. …..اور سکون جس چیز میں تھا. ..وہ پہنچ سے کافی اور رکھی گئی تھی کہ اس تک پہنچتے پہنچتے نجانے اسے کیا کیا سہنا پڑنا تھا. ..پھر بھی یہ ضمانت نہیں دی گئی تھی تھی اسکا سکون اسے ملے گا …کہ نہیں. …
آج اپنے رنگوں سے بچهری ہیں تصویریں. .
ہاتھ میں کہیں ٹوٹ رہی ہیں مل کر دو تقدیریں. ..
. خواب کیوں دیکھا رہے ہو. ..اس لئے نا کہ جب ٹوٹیں تو ساتھ مجھے بھی توڑ کر رکھ دے. . اتنے ٹکرے ہوجائیں کے سمیٹنے کے لیے مجھے تمہاری اشد ضرورت ہو… سنا تھا محبتیں کامیاب ہوں یا ادھوری. .انسان کو توڑ دیتی ہیں. .. آج جب اپنا وجود ..اپنی ہی آنکھوں کے سامنے زیرہ زیرہ ہو کر بکھر رہا ہے نا. ..تو سمجھ آرہا ہے کہ ..محبت گناہ نا ہوتے ہوئے بھی کیوں گناہ ہے. .. آنسوؤں بهری آنکھیں سے اسکی گرین آنکھوں میں دیکھتی ازیت سے بولتی جانے انجانے میں اعتراف کر
. … راجر حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا. .. اسکے چہرے پر ہاتھوں کی گرفت مدھم. .اور پھر ختم ہوگئی تھی. .. خالی ہاتھ رہ گئے تھے. ..
سبز آنکھوں میں حیرت سموئے وہ اسکے دیکھ رہا تھا. . پھر حیرت. ..کرب. ..اور پھر نمی میں بدلی تھی. … دل میں ایک ٹیس سی اٹھی تھی. ..اسکے دل نے شدت سے کہا تھا کہ کاش.. کاش..کہ وہ نیناں کے دل کا حال نا جانتا. .. ساری زندگی اسی سہارے گزرا دیتا کہ اسکی محبت یکطرفہ تھی جبھی ناکام ہوگئی. ..، اب کیسے سمجھاتا دل کو. ..وہ تو جان گیا تھا. .. محبت یکطرفہ نہیں تھی…. بے مول سا بهرم بلکل ہی بےمول ہوکر رہ گیا تھا. …
اس سے پہلے کہ ضبط کا بهرم بھی ٹوٹتا اسنے قدم پیچھے کی طرف اٹھائے تھے. ….
نیناں جو خود کو نارمل کئے اب کھڑی تھی. .. اسکے حرکت کرتے ہی اسکی نظر سامنے ہی ہٹتی راجر کے قدموں کی طرف اٹھی تھی. .. جو دور ہورہے تھے. .
دنیا یہ جیت گئی. .دل ہار گیا. ..
نہیں سوچا تھا مل کر کبھی ہوں گے جدا. ..
او خدا…. بتا دے کیا لکیروں میں لکھا. ہم نے تو
..ہم نے تو بس عشق ہے کیا
. پاؤں سے نظر ہٹاتے اسنے راجر کے چہرے کی طرف دیکھا … جو ضبط سے لال ہوگیا تھا. .. اور پھر وہ مڑتا لمبے لمبے ڈانگ بھرتا بلکل دور چلا گیا. …نیناں اسے دیکھتی رہ گئی تھی. .. اسکی سبز آنکھوں میں وہ نمی بخوبی دیکھ چکی تھی. … ایک اور تکلیف. … وہ گھٹنوں کے بل نیچے گری تھی. … آنسوؤں لڑیوں کی مانند بہہہ رہے تھے. .. تکلیف ناقابلِ برداشت سی ہوگئی تھی. . اسے اپنی بے اختیاری پر بھی غصہ آرہا تھا. .. کیا ضرورت تھی. .اس کا اعتراف کرنے کی جو دل میں چھپایا ہوا تھا. .. ابھی تک تو اسنے یہ اعتراف خود سے نہیں کیا تھا. ..پھر کیسے وہ اسکے سامنے کرگئی تھی. .. اور اسی بات کی وجہ سے تو اسکی آنکھوں میں نمی آئی تھی.
کافی دیر بیٹهی دل کا بوجھ ہلکا کرتی رہی. … جب اچانک اسکا موبائل بجا تھا. ..اسنے الٹے ہاتھ کی پشت سے گال سے آنسوؤ صاف کرتے. .. گہری سانس لیتے کال پک کرکے کان سے لگائی. .مگر سامنے. سے نجانے کیا کہا گیا. . اسکے چہرے پر حیرت کے تاثرات چها گئے تھے. ..ابھی وہ حیرت سے گهنگ تھی کہ.. دوسری بات سنتے اسے لگا وہ اگلا سانس بھی نہیں لے سکے گی. ..موبائل ہاتھ سے ریت پر گر گیا تھا. .. ہاتھ بے جان سا ہوتا پلو میں گرا تھا. ..آنسوؤں میں روانی آگئی تھی. …..
او خدا. ..بتا دے کیا لکیروں میں لکھا ہم نے تو. ..
ہم نے تو بس عشق ہے کیا. .
او خدا …بتا دے کیا لکیروں میں لکھا ہم نے تو …
ہم نے تو عشق ہے کیا.