Khud gharz Ishq by Sandal readelle50031 Episode 19
Rate this Novel
Episode 19
آئش راکیل کے اور ورن سے ساتھ کھڑا بات کررہا تھا. .جب اسکا موبائل بجا. .. وہ دونوں سے اکسیوز کرتا شور سے دور ہوتا سائیڈ پر کھڑا ہوتے موبائل کان سے لگا گیا. .فون ہوشم کا تھا. .کاپی دنوں سے بزی ہونے کی وجہ سے وہ ان سے بات نہیں کرسکا تھا نا ہی ان میں سے کسی کا فون آیا. ….. اب کافی دنوں بعد وہ ان سے بات کررہا تھا. …
ہیلوو ڈیڈ. …کیسے ہیں. اور گھر سے سب کیسے ہیں. فون کان سے لگاتے مسکراتے ہوئے کہا. …
میں ہوں. ..دوسری طرف سے ہاشم کی تهکی ہوئے سی آواز آئ تھی. …
کیا ہوا ڈیڈ آپ پریشان ہیں. ..اوما ٹھیک ہیں. …آئش ان کی پریشان سی آواز سن کر خود بھی پریشان ہوتا. .سنجیدگی سے بولا تھا. ….
دوسری طرف لمبی خاموشی چھا گئی تھی. …..
ڈیڈی. ..سب ٹھیک ہے پلیز. .بتائیں مجھے ٹینشن ہورہی ہے. .. آئش حقیقتاً پریشان ہوتا ڈرتے ہوئے بولا تھا. …. وہ کسی قسم کی بھی کوئی بری خبر نہیں سننا چاہتا تھا. ..کسی بھی بارے میں. ….
وہ …وہ بیٹا. .. ہاشم نے پاس بیٹھی. ….سسکتی میرب کو دیکھتے کچھ بولنے کی کوشش کی مگر الفاظ کا چناؤ نہیں کرسکے تھے. ..
.دو دن پہلے ہی انہیں ٹوم اور ایبک سے پتا چلا تھا …وہ الیانہ سے ملنے آئے تھے. ..مگر وہ تو پہنچی ہی نہیں تھی. ….. تب سے ہاشم ہر ممکن کوشش کرچکا تھا الیانہ کو ڈھونڈنے کی مگر اسکا کچھ بھی پتا نہیں چلا تھا. ..پہلے تو انہوں نے سوچا کہ آئش کو چھوڑ دیں نا بلائیں مگر اب حالات قابو میں نہیں آرے تھے. .میرب کا رو رو کر برا حال تھا. …اوما کی طبیعت کافی خراب ہوگئی تھی. ….وہ ہر وقت الیانہ کا پوچھتی یا پھر کمرے میں بند ہوکر رہ جاتی تھی. ….. وہ آئش کو نہیں پریشان کرنا چاہتے تھے وہ ادھر اپنا شوق پورا کرنے گیا تھا. ..مگر اس کے شوق سے زیادہ ضروری الیانہ تھی. ..جهی آج انہوں نے آئش کو کال کی تھی. …
ڈیڈ کیا ہوا. .ممی کیوں رو رہی ہیں. .پلیز کچھ تو بولیں. ..ا الیانہ کدھر ہے ڈیڈ وہ تو nagoya گئی تھی. ..وہ کیسی ہے ڈی. .آئش ان کی خاموشی اور پھر میرب کے رونے کی آواز سن کر یکدم الیانہ کو یاد کرتا تقریباً چلایا تھا. ..دل میں شدت سے دعا کی تھی کہ وہ ٹھیک ہو. ….
وہ وہ. .بیٹا. …. ہاشم کی تو ہمت نہیں ہورہی تھی. .جبھی ان کے ہاتھ سے موبائل میرب نے لیا تھا. ..
آئش. ..م میری بیٹی. .مجھے واپس لادو. …. پتا نہیں وہ کس حال میں ہوگی. …الیانہ کو واپس لا دو پلیززز. ….میرب سے سسکیوں کے درمیان بات پوری کرتے آئش کی سانسیں تھما گئی تھی. .
ک کیا مطلب. ..الیانہ ک کدھر ہے. .موم. … وہ زبان سے ہونٹ تر کرتا انہوں دیکھے ڈر کے زیر اثر بولا تھا. .. دھڑکنیں تیز ہوگئی تھی. .یہ سوچ کر ہی کہ الیانہ نہیں ہے. …
وہ وہ. .بیٹا. ..وہ نہیں آئیnayaga سے. … وہ ہفتہ دس دن پہلے وہاں سے اکیلی نکل آئی تھی. .م مگر وہ ا ادھر نہیں آئی. ہاشم ہر جگہ پتا کروا چکے ہیں جدھر اس کے ہونے کا امکان ہوسکتا تھا. ….مجھے. ..مجھے میری الیانہ لا دو آئش. …وہ روتی ہوئی بولی تھی. …
وہ گهنگ ہوکر رہ گیا تھا. …بولتا ہی کیا. … ایک دو دن کی بات ہوتی تو وہ کچھ کرپاتا مگر دس دن. … اور جب ہاشم ہر جگہ اسے ڈھونڈ چکا تھا تو وہ کیا کرتا. ..کس حال میں ہوگی الیانہ. …اسے کچھ ہو نا گیا ہو. .. یہ سوچ ہی سوہانِ روح تھی. ….
موم. .آپ. .پریشان نا ہوں. ..میں ارجنٹ فلائیٹ لے کر نکلتا ہوں. …م میں کچھ نہیں ہونے دوں گا اسے. ..وہ مل جائے گی. … میں آتا ہوں. .. آئش ان سے زیادہ خود کوتسلی دیتا. …نرم لہجے میں کہتا کال کاٹ چکا تھا. …. اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرتے سرد سانس ہوا کے سپرد کی. …..
آئش کیا ہوا تم ٹھیک ہو. ..اپنے پیچھے ہیر کی آواز سن کر وہ پیچھے مڑا تھا. …
ہیر جو آئش کو ڈھونڈتے ادھر آئی تھی. .مگر اسے پریشانی سے فون پر بات کرتے دیکھ کر وہ ٹهٹهکی تھی. … پہلا خیال ہی الیانہ کا آیا تھا. … وہ آئش سے پوچھنے اس تک آتی بولی. .
ہا. .ہاں. .نہیں کچھ نہیں. ..ایمرجنسی ہوگئی ہے. .مجھے جلد ہی جانا ہوگا جاپان. … میں فلحال آگے کسی کمپٹیشن میں حصہ نہیں لے سکوں گا. ..آئش ہیر نے بجائے سامنے دیکھتا بولا تھا. … ہیر کو اسکے لہجے میں بے بسی محسوس ہوئی تھی. ..اسے اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی تھی کہ وہ الیانہ کی گمشدگی کے بارے میں جان گیا تھا. … وہ کافی دیر چپ چاپ ادھر ہی کھڑی رہی. ….
کیا ہوا ….کوئی بڑا شاک لگا ہے. … ہوش اسے کارلوس کی اپنے کان کے قریب آتی آواز سے آیا تھا. ….
اسنے حیران نظروں سے دیکھا آئش کہیں بھی نہیں تھا. … وہ نجانے کب چلا گیا. …..
ت تممم. .. وہ سریت سے پیچھے مڑتی تقریباً چلاتے ہوئے بولی. …
ہمم مجھے لگا تم کافی پریشان ہوگئی ہو گی. ..تو سہارا دینے آگیا. …..کارلوس ہاتھ سینے پر باندھے تنزیہ انداز میں مسکرا ہیر کا خون جلا گیا تھا. ..
ان دونوں کے چہرے کے علاوہ سارے وجود رنگوں میں نہایا ہوا تھا. .. چہرہ وہ دھوتے رہے تھے. .. ورنہ اسکا حال بھی مختلف نا ہوتا. …
مجھے کیا شاک لگ سکتا ہے. …اور تم گم کرو شکل اپنی. … ہر جگہ منہ اٹھا کر آجاتے ہو. ..اور سہارے کا کیا خوب کہا. … تمہارا سہارا. .. میں آخری سانس لیتے وقت بھی قبول نا کروں. ..ابھی تو پھر زندہ ہوں. … ہیر شہادت کی انگلی اسکی طرف کئے نفرت و تمسخر اڑانے انداز میں بولی تھی. ..سفید چہرہ غصے کی شدت سے لال ہوگیا تھا. …اے نفرت سے کارلوس سے. … جسے دیکھ کر اسے اپنا بکهرا بچپن یاد آتا. …
کارلوس سینے پر ہاتھ باندھے کافی دیر اسے دیکھتا رہا تھا. …..وہ غصے سے بھرا لال خوبصورت چہرہ تو اسے اب ہر چہرے سے زیادہ خوبصورت لگنے لگا تھا. .. اب تو وہ ضد کے ساتھ ساتھ محبت بھی بن گئی تھی. ..نجانے یہ سفر کون کون ے گھٹن رستے دیکھانے والا تھا. … اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ اب ہر صورت وہ اسے چائیے تھی. …
محبت اور جنگ میں محبت کی جیت ہوتی ہے ڈارلنگ. .. وہ کچھ قدموں کا فاصلہ طے کرتا اسکے چہرے کے قریب ہوتا بهاری گھمبیر آواز میں بولتا اسے ساکت کرگیا تھا. …
ہیر نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھا. ..وہ کون سی محبت اور جنگ کی بات کررہا تھا. .محبت کو تو دفعہ کرو. …تو کیا وہ ان کے بیچ جنگ سے واقف تھا. ..اگر ایسا تھا تو یہ ان کے لیے بہت بری خبر تھی. …. ریا. .راج. .راجر کو چہرہ آج تک کسی نے نہیں دیکھا تھا. … اور وہ تو ان کا سب سے بڑا دشمن تھا. …..جو انہوں بے نقاب کرسکتا تھا. …اور اگر ایسا ہوتا تو ان کی پوری لائف برباد ہوجاتی. …
کو کون سی جنگ. …میں تمہیں جانتی بھی نہیں. .. تو جنگ کدھر سے آئی ہمارے بیچ. .. وہ پل میں سنبھلتی ایک ہاتھ سے بال کان کے پیچھے کرتی سٹاپ انداز میں گویا ہوئی. ..ایک نظر بھی کارلوس پر ڈالنی گوارا نہیں کی تھی. .. جو اب پیچھے ہٹے. اسے ہی فرصت سے دیکھ رہا تھا. …اسکی بات سنتا اسکا قہقہہ بے ساختہ تھا. ….
چہرہ آسمان کی طرف کئے وہ ہنس رہا تھا. .. وہ ہنستا کافی پرکشش لگتا تھا. .. کوئی لڑکی بھی اس پر دل ہار سکتی تھی. .مگر وہ اپنی سب سے بڑی دشمن پر دل ہار بیٹها تھا. ….
اوکے اوکے ہنستا. … ہیر کو دیکھا جو اسے ہی کها جانے والی نظروں سے گھور رہی تھی. .جبھی دونوں ہاتھ اوپر کرتا صلہ آمیز لہجے میں بولا. ..
مگر میں نے اتنی فنی بات کی نہیں تھی. .جو تم لوٹ پوٹ ہورہے تھے. …سرد تاثر سجائے ایک ایک لفظ چپا کر بولی تھی. ..اسے کارلوس کا ہنسنا ٹھیک نہیں لگا تھا. …وہ جانتی تھی. .خاموش قہقہے بڑے طوفان لاتے تھے. …
ارے یار تم بھی نا. …میں تو تمہاری جلد بازی اور بیوقوفی پر ہنسا تھا. … وہ پیاسی نگاہوں سے اسے دیکھتا بولا. ..
کیسی بیوقوفی اور جلدبازی. .. کندھے اچکائے ناسمجھی کے انداز میں اسے سر پھرے کو دیکھتی بولی. ..
خاص نہیں. ..بس اتنا ہی کہ تم ریا ہو. ..جبھی تم نے محبت کی بات اگنور کرتے سیدھا مدعے کی بات. ..یعنی جنگ کو نوٹ کیا. …ورنہ تم جنگ کے ساتھ ساتھ. .محبت پر بھی بهس کرتی. … وہ جیسے جیسے بول رہا تھا. ..ریا کا رنگ فقت ہورہا تھا. ….. وہ تو اب تک اسلحے دهرلے سے اسکے سامنے گھوم رہی تھی کہ وہ اسے جانتا نہیں تھا. …مگر اسکی بات سن کر وہ سانس تک روک گئی تھی. …
…. کیا ہوا بےبی. ایک ہی دن میں دن بڑے شاک. آج کی تاریخ میں بس ایک اور شاک ملے گا …جو یقیناً ان دونوں سے بڑا اور تکلیف دہ بھی ہوگا. …. کارلوس نے اسے خاموش دیکھا تو تمسخر اڑانے انداز میں کہا
ک کیا بکے جارہے ہو کون ہو تم. .کون ریا. ..کون ریا…کیسا شاک…مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی ہے. .خود کونارمل ظاہر کرتی سخت لہجے میں گویا ہوئی …مگر دل اندر کامپ رہا تھا. … ایک انجانا سا خوف بیٹھ گیا تھا. .اس میں اب اور کیا شاک ملنا تھا اسے. …
کارلوس بینڈرک ہوں جانم. … اسی بینڈرک کا بیٹا. .جیسے تم اور تمہارے دونوں بھائیوں نے مل کر مار دیا. .اسی دکھ میں میری موم مر گئی. .. اسے اناتھ کردیا تم تینوں نے. …برباد کردیا مجھے. … اب میں لوٹ آیا ہوں. …بدلہ لینے. ..برباد کرنے سب. …مافیا مین واپس آگیا ہے. .مافیا گرل. ….اب دیکھو کیا حال کروں گا میں سب کا. ..آہاں. ..تم پریشان نہ ہو، ….تم محفوظ ہو مجھے انتقام سے. .. کارلوس اسکی طرف دیکھا سرد لہجے میں کہتا آخر میں اسکا گال تهپتهپاتا بولتا بنا اسے سنے وہاں سے جا چکا. …
وہ سن سی کھڑی اسے جاتا دیکھ رہی تھی. … اسے یہ سب راجر کو بتانا تھا اسے جانا تھا جلدی. …..
■■■■■■
الیانہ سنو. …. راج نے بک پڑھتی الیانہ دیکھتے ہوئے کہا. .. جو سفید ٹی شرٹ ٹرائوزر پہنے. .. بالوں کو کھلا چھوڑے کائوچ پر بیٹھی کوئی ناول پڑھ رہی تھی. ..راج کی آواز سن آبرو اچکا کر اسکی طرف دیکھا تھا. …
چلو تیار ہو ہم باہر لنچ کے لئے جارہیں ہیں. …. راج اسے دیکھتا نرم لہجے میں گویا ہوا. …
الیانہ نے خوشی اور حیرت اسے راج کی طرف دیکھا. .. جو گرے ٹی شرٹ. .بلیک جینز پہنے. ..بالوں کو ماتھے پر گرائے. … وہ کافی ہینڈسم لگ رہا تھا. … اسکے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی. …وہ کتنا پرکشش تھا. … اور کتنا ظالم بھی. ….پل میں پانی ہوجاتا. .پل میں آگ. …
کدھر جائیں گے. .. الیانہ سے نظریں راج پر سے ہٹائے ناول بند کرتے چپل پاؤں میں اڑیستے ہوئے کہا. ..دل بے وجہ ہی تیز رفتار سے دھڑکنے لگا تھا. …
تم تیار ہولو. …پھر بتاؤں گا. … واڈروب سے گرے پاؤں کو چھوتی فراک نکال کر اسکی طرف کرتا بولا. …
الیانہ نے ایک نظر فراک و ایک نظر راج کو دیکھتے وہ آگے بڑھتی. .. دوسری ضرورت کی چیزیں لیتے چینج کرنے چلی گئی. ..راج بند دروازے کو کچھ پل دیکھتا. .ایک ہاتھ سے ہاتھ ماتھے سے پیچھے کرتا باہر نکل گیا. .. چہرے پر ازلی سرد مہری چها گئی تھی. .. جو اسکی زات کا خلاصہ تھی. .بس الیانہ کے سامنے ہی چہرے کے نرم تاثرات آتے تھے. … ورنہ الیانہ سے پہلے تو وہ ان سے انجان تھا. ….
وہ تقریباً آدھے گھنٹے سے گاڑی میں بیٹھا اب اکتا گیا تھا. … غصے الگ آرہا تھا اسپر جو آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی. ….اچانک ہی اسکے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ بکهرا گئی تھی. .. گرین آنکھوں میں جذبوں کا طوفان سا اٹھا تھا. …
وہ سامنے اس ہی کی طرف آرہی تھی. …. گرے سلیو لیس پاؤں کو چھوتا فراک پہنے. لمبے کالے سیاہ بالوں کو کرل کئے ہائی پونی میں مقیم کئے. .. ..بلیک ہائی ہیل پہنے وہ تیز تیز قدم اٹھاتی اس تک آئی تھی. .. جلدی سے دروازہ کھولتے اندر بیٹھ گئی. …..
او سوری بس بال بند کرنے میں وقت لگ گیا. … الیانہ راج کو دیکھتی جلدی سےبولی. … اے ڈر تھا کہ کہیں وہ باہر لے کر جانے سے مکر ہی ناجائے. .. کتنے دنوں بعد وہ اس جنگل سے باہر نکلتی. ..یہی سوچ کر وہ زیادہ ہی خوش ہورہی تھی. …
ایک طلسم تھا جو ٹوٹا تھا. … وہ الیانہ کی طرف مڑا. … جو اپنے قیامت خیز حسن سے بے نیاز اب سیٹ بلٹ باندھ رہی تھی. … اسنے گہری سانس بھرتے گاڑی سٹارٹ کی. … مگر تھوڑا دور جا کر ہی وہ رکا تھا. .. اسے لگا جیسے وہ کسی کی نظروں میں ہو. .. اسے درختوں کی میں معمول سے ہٹ کر حرکت دیکھی تھی. … اپنا خیال سمجھتا وہ گاڑی دوبارہ سٹارٹ کرچکا تھا. ….
الیانہ نامحسوس انداز میں راستے یاد کررہی تھی. …. نظریں چاروں طرف تھی مگردهیان صرف رستے پر تھا. …
کافی دیر بعد وہ آبادی میں آئے تھے. … … راج نے اسی بریج کے پاس گاڑی روکی جہان پہلی بار اس نے الیانہ کے دیکھا تھا. .. گاڑی روکتے ہی الیانہ کو باہر نکلنے کا اشارہ کرتے وہ خود بھی باہر نکلا. ….الیانہ بھی سیٹ بلٹ کھولتی باہر نکلی تھی. ….سامنے بریج پر نظر پڑتے ہی کیا کچھ یاد نہیں آیا تھا. ..ٹوم ایبک. .. اسکی خوشیوں بھری زندگی. … اسکے دوست. ..ماں باپ. … آئش. ..آزادی. …. جب وہ پہلی بار آئی تھی کتنا خوش تھی. …. کیا جانتی تھی کہ وہ اسکی آخری خوشی تھی. … پھر وہ ایک مونسٹر کی قید میں آگئی. … سب ختم سا ہوگیا. ….صرف بے نام سی زندگی بچ گئی تھی. ….. اسنے آنسوؤں سے بھری آنکھیں اٹھا کر راج کی طرف دیکھا. .جو بازو سینے پر باندھے سٹاپ چہرے سے اسے ہی دیکھ رہا تھا. … الیانہ نے ایک دم دوسری طرف مڑتے آنسو صاف کئے. .. اسے رونے کا حق بھی کدھر تھا. …..تکلیف تھی. .بہت تھی. .مگر رونا نہیں تھا. کیوں اسکا رونا راج کو تکلیف دیتا تھا… تو پھر اسکی کا کیا. .. اسکے زخموں کا کیا. … جو چھپاتے چھپاتے ناسور بن گئے تھے. ..جو اب اسے اندر ہی اندر ڈستے تھے. اور وہ رو تک نہیں سکتی تھی. ..وہ راج کے ساتھ مطمئن تھی. … اسے اب ایک عادت سی ہوگئی تھی. .اسکے سینے پر سر رکھ کر سونے. … اسکا چہرہ صبح سب سے پہلے دیکھے کی. … اسکی سرد گرم رویے کی. … اسکی محبت کی اسکے غصے کی. ..مگر چند روز کی یہ عادت. … بیس سال کی عادتوں پر. .محبتوں پر. ..حاوی تو نہیں ہوسکتی تھی. … یہ عادت. .یہ محبت. .. ان پختہ عادتوں. .محبتوں کے آگے تو کچھ بھی نہیں تھی. …
الیانہ. …. اسے خاموش اداس دیکھ کر راج نے غصہ ضبط کرتے دانت پیس کر اسے پکارا. … وہ اسے اداس نہیں کرنا چاہتا تھا. ….اور وہ تو اداس ہونے کے ساتھ ساتھ رونے کا شغل بھی فرما رہی تھی. …وہ نئی یادیں بنانے کے بجائے ..پرانی کیوں یاد کررہی تھی. … یہی سوچ اسے مزید غصہ دلا رہی تھی. …اسکے معاملے میں وہ کافی خود غرض تھا. ..اسکا عشق خود غرض تھا. …وہ اسے اپنے لئے ہنستا مسکراتا روتا دیکھنا چاہتا تھا. .. وہ جانتا تھا کہ وہ راتوں کو اکثر جاگ کر روتی تھی. ..اسی کے سینے لگی اسی سے گلے کرتی. ..اسے ہی برا بھلا کہتی. .. سب کو یاد کرتی. … اسے تکلیف ہوتی تھی. ..مگر وہ بھی بے بس تھا. … اسے خود سے دور سے بانٹ سکتا ہی کب تھا. … وہ دیکھ کر بھی نظر انداز کرجاتا تھا. .جان کر بھی انجان بن جاتا. …وہ خودغرض تھا اسکے معاملے میں. ….وہ صرف اپنا سوچ رہا تھا کہ وہ نہیں رہ سکتا تھا اسکے بغیر. .. نا ہی اسکے ساتھ کسی دوسرے. ..برداشت کرسکتا تھا. . اسکا عشق. .. ایک مونسٹر کا عشق تھا یہ. ..’خودغرض عشق’ تھا. جسے صرف اپنی زات دکھتی تھی. .. اسے بس الیانہ چائیے تھی. .اپنے لئے اپنے پاس. .. بس. .. اور وہ کچھ بھی نہیں جانتا تھا. .یا شاید اور کچھ جاننا ہی نہیں چاہتا تھا. …
چلو آو لنچ کریں. …پھر میں بریج پر لے کر جاؤں. .نئی یادیں بنا لینا. … پرانا سب بھول جاؤ. … وہ سفاکیت سے کہتا اسکو بازو سے پکڑتا اندر کی طرف لے گیا. ..الیانہ نے تڑپ کر اسے اسکی بات اور پھر اسکی انتہائی سخت گرفت میں اپنا بازو دیکھا تھا. …اسکی سخت گرفت میں اسکے بازو کا درد اسے درد نہیں لگا تھا. .. اسکی بات نے اسے زیادہ تکلیف دی تھی …کتنی آسانی سے کہ دیا تھا بھول جاؤ سب. .. وہ آخر بهولتی تو بهولتی کیا. .. وہ اپنی زات تو بھول سکتی تھی. ..راج کو توبهول سکتی تھی. .مگر. .موم ڈیڈ. ..اور آئش کو تو نہیں بهول سکتی تھی. …..کئی آنسوؤ بہتے بے مول ہوئے تھے. …
راج نے لاکر اسے ووڈن کرسی پر بیٹھایا تھا. .. بنا اسکی طرف دیکھے خود بھی بیٹھتا … آڈر کر دیا تھا. …اور اب کرسی سے ٹیک لگائے سنجیدہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا. ….
کیا میں یہ سمجھوں کہ مجھے تمہیں باہر لانا ہی نہیں چاہیے تھا. … الیانہ کا لال ٹماٹر چہرہ دیکھتے سرد مہری سے گویا ہوا. ….
ن نہیں. ..ٹھیک ہوں میں. ..اسنے سامنے ٹشو باکس سے ٹشو لیتے چہرہ صاف کرتے دهمیی آواز میں کہا. ..راج کی طرف دیکھنا گوارا بھی نہیں کیا. …جو بات اسکے غصے کی وجہ بنی تھی. …وہ غصے سے مٹھیاں بینچ گیا تھا. …دونوں لب ایک دوسرے میں پوست کئے وہ الیانہ کو دیکھ رہا تھا. .. جو اسے سرے سے اگنور کئے باہر بریج کی طرف دیکھتے مسکرا رہی تھی اب. .. شادی وہ کچھ یاد نہیں کہ مسکرائی تھی. ….
کچھ ہی دیر میں ویٹر کھانا لگا گیا تھا. ..ان دونوں نے خاموشی سے لنچ کیا. ..بل پے کرتے راج الیانہ کا ہاتھ تھامے باہر آگیا تھا. …
وہ کافی دیر بریج پر گھومتے رہے. .. مگر بولے دونوں کچھ بھی نہیں تھے. ….ایک سرد دیوار سی بن گئی تھی. ..نا الیانہ نے کوئی ٹونٹ کیا. …اسپر. ..نا ہی راج نے اسے پکارا تھا. ..
■■■■■
ہیلو ایوری ون. ..نیناں امبار کے ساتھ والی خالی کرسی پر بیٹھتی بولی. ..وہاں
پانچ لوگوں کے ہونے کے باوجود پن ڈراپ سائیلنس تھی. …..امبار. .برنٹ. ..لورا. ..ارحم. …بیٹراس ٹیلر. …. چاروں بلکل خاموش بیٹھے ہوئے تھے. … چہرے پر پریشانی جھلک رہی تھی. …..
کیا ہوا. .. اتنی ارجنٹ میٹنگ کیوں رکھی. … جبکہ ہمارا رول ہے کوئی بھی مشن کمپلیٹ ہونے سے پہلے ہم نہیں ملتے. ..اور اب ہم یہ رول بریک کرچکے ہیں دوسری دفعہ. …. نیناں. ..کافی دیر خاموشی سے انہیں دیکھنے کے بعد انگلش لب و لہجے میں ان چاروں کی طرف دیکھتی بولی. .. لیکن جینز شرٹ پر بلیک ہی جیکٹ پہنے. .بالوں کی ہائی پونی کئے. .ڈارک میک اپ میں. .. وہ اچھی لگ رہی تھی. ….
یہ کیس بگڑتا جا رہا ہے. ..کل کی ڈیٹ میں. … پانچ قتل ہوئے ہیں. .. اور وہاں کی سی سی فوٹیج سے پتا چلا ہے کہ یہ کام ڈارک وے کا ہی ہے ہمیں یہ کیس جلد سالو کرنے کے آڈرز ملیں ہیں …مجھے ایک بہت ضروری میٹنگ کی وجہ سے فرانس جانا پڑ رہا ہے. انٹرنیشنل لیول پر میٹنگ ہوگی. .بلیک وے پر طرح دوسرے گینگز کی ڈیٹیلز بتائی جائیں گی. … ہمیں زیادہ ٹائم بھی لگ سکتا ہے..مس برنٹ میرے ساتھ چل رہی ہیں… اور میں یہ کیس آپ تینوں کو دے کر جارہا ہوں. ..اور امید ہے کہ میرے واپس آنے تک یہ کیس سالو ہوگا. .سر بیٹراس اپنی بهاری آواز میں بولے تھے. … آخر میں انہوں نے نیناں. ..لنڑا اور امبار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا…
وی ویل مینج سر. .. تینوں نے ایک ساتھ ہی کہا. … نیناں کا دھیان کہیں اور ہی تھا. …
سر کل جو مڈر ہوئے. ..ان کی ٹائمنگ کیا تھی. ..مطلب کتنے بجے کے قریب ہوئے. …. نیناں کانچ کے زمین پر نظریں جمائے سرسری انداز میں بولی. ..
پانچوں قتل. ..دن بارہ سے پانچ بجے کے درمیان ہوئے. ..اتنی بے رحمی سے کے دیکھا نہیں جارہا تھا. ..جواب امبار نے دیا. اسکے لہجے میں افسوس سا تھا. .. وہ ملک کا محافظ ہونے کے باوجود ملک ہی حفاظت نہیں کرسک رہا تھا. ..
نیناں نے چونک کر اسکی طرف دیکھا. ..اسے یہ بات کچھ خاص ہضم نہیں ہوئی تھی. ..
کل دن ایک سے چار بجے تک تو راجر اسکی آنکھوں سے سامنے بیٹها رہا تھا. ..پھر کیسے. ..
سر اپنے سی سی فوٹیج خود دیکھی. .. آئے مین. .کیا پتا کوئی اور ہو. …نیناں بیٹراس ٹیلر کو دیکھتی کھوئے کھوئے لہجے میں بولی. …
مس نیناں. ..نہ میں اس معاملے میں مزاق کررہا ہوں. .نا ہی جھوٹ بول سکتا ہوں. ..میں نے خود ان دو لڑکوں اور لڑکی کو دیکھا فوٹیج میں. … اب کی بار انہوں نے سخت لہجے میں کہا تھا. …
نو سر میرا وہ مطلب نہیں تھا. .سوری. ..نیناں نے یکدم معذرت کی. … مگر دماغ میں کئی سوال ابهر گئے تھے. ..
ہممم. … ٹیم کے لیڈ آپ کریں گی. …کیس کو دوبارہ سنجیدہ ہوکر ریڈ کرلیں. ..یہ کیس جلس سالو ہونا چاہئے. … انہوں نے نیناں کو دیکھتے ہوئے کہا. ..
نیناں نے حیرت سے انہیں دیکھا. … کہاں آکر پهسی تھی. ….وہ تو چاہ رہی تھی وہ یہ کیس ہی نا دیکھے. ..اب کہاں. .ٹیم کی لیڈر بن گئی تھی. ….
اسنے بے بسی سے لب بهیچهے تھے. .. چہرے پر..پریشانی…بے بسی.. حیرت.. تکلیف کے تاثرات کسی نے بخوبی نوٹ کئے تھے. .. تمسخر بهری مسکراہٹ چہرے پر رینگ گئی تھی. ..
اس کے بعد کافی دیر تک میٹنگ چلتی رہی. ….وہ اسی کیس پر بات کرتے رہے تھے. ……….
