54.7K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

.‏ہماری آنکھیں تجھے دیکھنے کی عجلت میں
بہت سے خاص مناظر کو چھوڑ گئے. …
لیزا. ..اٹهو. ..ٹائم دیکھو. …علیزے کے اوپر سے کمفرٹر ہٹاتے وائز نے سنجیدہ آواز میں کہا. …
کیا ہے. ..آپ جائیں میں نہیں اٹھ رہی. ..وہ جوکچه دیر پہلے ہی یونی سے آکر سوئی تھی. ..اب وائز نے جگانے پر سخت بدمزہ ہوتی. ..کمفرٹر دوبارہ خود پر سٹ کرتی بولی. …
آرام سے سننے والوں میں تمہارا شمار ہوتا ہی کب ہے. … کمفرٹر سمیت اسے اٹھا کر کھڑا کرتے تپے ہوئے لہجے میں کہا. ..دو دن میں ہی اس نے تارے دیکھا دئے تھے. ..جتنی معصوم لگتی تھی اتنی وہ تھی نہیں. ….
ہیںںںںں. ….یہ کیا کررہیں ہیں آپ. .نیند سے جھولتے اسکا بازو پکڑتے …مندی مندی آنکھوں کھولتے ہوئے کہا. …
علززےےے. …. جلدی سے فریش ہوکر باہر آو. ..ورنہ یہ نیک کام بھی میں خود کروں گا. … اسکو جھنجھوڑتے ہوئے دانت پیس کر بولا. … جو اب اسے تیش دلا رہی تھی. ..
اسکی سخت آواز پر نیند بھنگ سے اڑی تھی. ..ایک نظر اسے دیکھتے. آنکھیں ملتے وہ برے برے منہ بناتی واش روم کی طرف بڑھی تھی. .. مگر جانے سے پہلے کمفرٹر خود سے اتار کر پھینکا تھا. .جو اب بری طرح زمین پر پڑا کمرے کے پہلے سے بگڑے ہوئے حال میں کچھ اور اضافہ کرگیا تھا. ..
وائز نے حلق تر کرتے پھٹی پھٹی آنکھوں سے کمرے کا جائزہ لیا تھا. ..جس کا حال دیکھنے لائق نہیں رہا تھا. ..یونی سے آنے کے بعد علیزے کمرے میں آگئی تھی جبکہ وائز دوسرے روم میں بیٹھا اپنا آفس ورک کرتا رہا. ..اور اب کمرے سارا بکھرا ہوا تھا. … غصے سے دانت پیستا وہ خود ہی جلدی جلدی چیزیں سمیٹ کر باہر نکل گیا. …
وائیٹ جینز پر یلو سلیو لیس فراک نما سٹائلش شرٹ پہنے وہ باہر نکلی. .کمرے کو دیکھ کر ایک پل تو حیران ہوئی مگر پھر وہ بھی کمرے سے نکل کر باہر آگئی. .جہاں سامنے ہی اوپر کچن میں اسے وائز نظر آگیا تھا. …وائٹ ہڈی. .بلیک جینز. . بالوں کو بے ترتیبی سے ماتھے پر بکھرے وہ کٹنگ بورڈ پر کچھ کاٹ رہا تھا. .علیزے کچھ دیر اسے دیکھتی رہی ..وہ بھرپور وجاہت کا شہکار تھا. ..
ادھر آکر میرے ساتھ کام کرو. ..ڈنر کرنا ہے تو. .. وائز کافی دیر تو اگنور کرتا رہا اسے ..وہ جانتا تھا وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی. .. دل تو اندر ہی اندر خوش ہوا مگر عادت سے مجبور وہ سخت لہجے میں بولا. .ایک نظر اسپر ڈالی بھی نہیں تھی. ..اور یہی بات علیزے تو تپا گئی تھی. .اوپر سے کام کرنا. ..وہ بلا کی کام چور. ..جس کی کچھ جھلکیں تو وہ دیکھا چکی تھی وائز کو. ..
ویسے پچھلے جنم میں آپ شیف تھے یا. ..یا پھر کوئی سفائی کرتے والے ….وہ لائونچ غبور کرتی کچن میں آکر وائز کے قریب ہی کھڑے ہوتے اسکی انگلیوں سے مہارت سے کٹنگ بورڈ پر چلتے دیکھ کر وہ بولی. …..
تم چپ ہو کر. .. آٹا گوندھو. .. اس بات پر بے ساختہ امنڈ آنے والے غصے کو ضبط کرتا ایک نظر علیزے پر ڈالتا بولا تھا. ..وہ نظریں اس پر جم ہی گئی تھی. .. یلو کلر میں اسی صاف رنگت کهل سی گئی تھی. .. لمبے بال کھلے. .. چہرے پر دنیا جہاں کی معصومیت سجائے وہ نیچے دیکھ رہی تھی. .. وائز کا جواب سن کر اسنے نظیریں اٹھائی تھی. .. دونوں کی نگاہوں کا تصادم ہوا تھا. ..
دھڑکنیں الگ ہی وے پر دھڑکنے لگی تھی. ..
وہ اسکی جذبات لٹاتی نگاہوں سے بچنے کے لیے اسکے پاس سے گزر گئی تھی. ..وائز جیسے ہوش میں آیا تھا. .. طلسم ٹوٹ گیا تھا. .. جو اسے زرا پسند نہیں آیا. ..وہ چھڑی پکڑے ہی پیچھے مڑا جہاں. .علیزے اب تھالی میں آٹا نکال رہی تھی. .. آٹا نکال لینے کے بعد وہ جگ میں پانی بهرے اب آٹا گوندھنے لگی تھی. .. گال لال سے ہوئے تھے. .جو دور سے بھی دیکھ سک رہا تھا. .کچھ لمحے یو ہی سر گئے تھے. .وہ سر جهٹکتا واپس مڑا تھا. .. وہ چکن بنانا چاہ رہا تھا. … اب پیاز ٹماٹر باقی ضرورت کی چیزیں کاٹنے کے بعد وہ کوکنگ پین چولہے پر رکھ کر آئل ڈالتے وہ پیاز ڈالتا اب اسے فرائی کرنے لگا تھا. … مگر کچھ کمی محسوس کررہا تھا. .علیزے ہو اور خاموشی. … وہ کچھ حیران ہوتا پیچھے مڑا. ..اسکی آنکھیں پھیل گئی تھی. …اسے اب پتا چلا کہ خاموشی تھی کیوں. …
علیزے جو آٹا گوندھنے لگی تھی. .. مگر وہ حیرت سے اٹا دیکھ رہی تھی. .جو پانی پانی ہوا. .اسکے کپڑوں پر بھی لگ گیا تھا. . وہ پیچھے وہ دونوں ہاتھ اٹھائے. .معصوم شکل بنائے پیچھے مڑی جہان وہ برے مزے سے اب ٹماٹر اور چکن ڈالتا انہیں فرائی کونے لگا تھا. ..کچھ دیر تو وہ اسے دیکھتا رہا پھر یہ سوچ کر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگیا کہ میڈم نے اب کیا کرنا ہے. …
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائے وائز کی طرف بڑھی تھی. … دل میں خوف بھی تھا کہ اب نجانے وہ کیا کہئے گا. ..
و وائز. .. اسکے پیچھے کھڑے ہوتے کپکپاتے لہجے میں اسے پکارا تھا. ..
پین میں چمچ چلاتا ہاتھ ساکت ہوا تھا. .. وہ بہت کم اسے اسکے نام سے پکارتی تھی. .اور جب پکارتی تھی وہ کهو جاتا تھا. .. وہ اب بھی ساکت ہوگیا تھا. ..
اسے یوں ہی خاموش دیکھ کر اسنے آٹے والا ہاتھ ہی اسکے کندھے پر رکھے اسے اپنی طرف متوجہ کیا. ..وائز پیچھے مڑا تھا. … اسکے مڑنے سے علیزے کا آٹے میں ڈوبا ہاتھ اسکے ساتھ ہی گھومتا اب آگے آگیا تھا. ..ایک نظر اپنے کندھے پر اسکا ہاتھ دکها. .پھر علیزے کی طرف دیکھا جو بڑی بڑی آنکھوں میں نمکین پانی جمع کئے آٹے کو دیکھ رہی تھی. چہرے پر بھی آٹا لگا ہوا تھا. …ساتھ ہی نچلا ہونٹ بار بار باہر آرہا تھا. …
کیا ہوا ہے. ..اسکا ہاتھ کلائی سے پکڑتے ہٹاتے اسکی آنکھوں میں جمع نمی کو دیکھتے نرم لہجے میں گویا ہوا. ..
وہ. .وہ آٹا خراب ہوگیا. ..اور میرے کپڑے بھی. .اور. اور میرے ہاتھ بھی. ..پہلے آٹے اور پھر اپنے کپڑوں اور ہاتھ منہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا. ..بس رونے کی کمی رہ گئی تھی. .
ہمممم. ..جاو تم. ..تم چینج کرلو. .میں خود ہی دیکھ لیتا ہوں باقیییی. … اسکے گال سے آٹا صاف کرتا نرم لہجے میں کہا…
علیزے اسکے ہاتھ سے کلائی نکالتے رونی شکل بنائے باہر نکلی تھی. ..شکل تو وائز کی بھی رونے والی بن گئی کچن کی حالت دیکھتے ہوئے. ….
■■■■■■■
کوئی ایسا پل بھی ہوا کرے …!
میں کہوں تو بس وہ سنا کرے
میری فرصتیں میرے مشغلے
سبھی اپنے نام کیا کرے… !
کوئی بات ہو کسی شام کی !
کوئی ذکر ہو کسی رات کا… !
جو سنانے بیٹھوں اسے کبھی !
وہ سنے تو سن کے ہنسا کرے…!
جو میں کہوں چلو اس نگر !
جہاں جگنؤں کا ہجوم ہو…!
وہ پلٹ کے دیکھے میری طرف !
اور مجھ کو پاگل کہا کرے…!
کوئی ایک پل…. تو میرا ھوا کرے. ❤️
یہ ایک بہت بڑا سا میدان تھا. .جو لوگوں سے کھچا کهچ بهرا ہوا تھا. آج ہولی ڈے تھا. ..سب ہی ہولی کھیلنے میں مصروف تھے. …. کافی لوگ ہاتھوں میں رنگوں میں پلیٹس پکڑے ادھر ادھر گھوم رہے تھے. .کچھ کلر واٹر ..واٹر پسٹل سے ایک دوسرے کو کلرڈ پانی سے گیلا کررہے تھے. .. تقریباً سب ہی سفید رنگ کے کپڑوں میں ملبوس تھے. ..، فضا میں بھی رنگ بکھرے ہوئے تھے. ..
ہیر نے لوگوں کے ہجوم سے خود کو نکالتے آگے بڑھی تھی …
کلر فل سلیو لیس شارٹ بلائوزر پہنے. ..ساتھ سفید لینگا پہنے. .بالوں کو کھلا چھوڑے ہلکا سا میک اپ کئے ..نفیس جیولری سیٹ پہنے. .. ملٹی کلر کی ہی ہائی ہیل پہنے وہ کافی خوبصورت لگ رہی تھی آئش لوگوں کو ڈھونڈ رہی تھی نجانے کدھر گم ہوگئے تھے. …
ممبئی میں تھے. .آج ہولی ڈے تھا. .اسے ہولی کھیلنا پسند تو نہیں تھا. .کیونکہ اس میں کپڑے خراب ہوجاتے تھے. .. مگر اس کے باوجود بھی وہ کئی دفعہ ہولی کھیل چکی تھی. …
کل رات سے وہ ڈسٹرب بھی بہت تھی کارلوس کی وجہ سے. ..اسے ایسا لگا تھا کہ کارلوس اسے جانتا تھا. … اسے اس بات کا ڈر بھی تھا. .. راج اور راجر سے بات کرتی تھی. ..مگر کل کافی رات ہوگئی تھی. .. اسلیئے وہ بات نہیں کرسکی تھی. . اور آج صبح صبح ہی تیار ہوکر وہ باہر آگئی تھی. .راکیل تو اسکے ساتھ تھی. .. آئش اور کناٹ کو اسنے رات سے نہیں دیکھا تھا. ..اب وہ پورے گراونڈ میں ان تینوں کو ڈھونڈ رہی تھی. ..جو فون بھی نہیں اٹھا رہے تھے. …
مگر پهر اسکی تلاش جلد ہی ختم ہوگئی. .اسے سامنے ہی کناٹ اور راکیل نظر آئے. .جنہیں پہچاننے میں اسے مشکل ہوئی تھی. .جو مختلف رنگوں میں نہائے اب اور بھی کلر پهینگ رہے تھے ایک دوسرے پر. …
راکیل نے ہیر کی طرف کا ہی لہنگا پہنا ہوا تھا. .بس اسکا بلائوزر اورنج کلر کا تھا. .کناٹ نے بھی وائیٹ شرٹ. . اور وائیٹ ہی جینز پہنی ہوئی تھی. .وہ الگ بات تھی کہ اب وہ وائیٹ نہیں رہیے تھے. …. دونوں کے ہی وائیٹ ڈرس اب مختلف کلرذ میں بدل گئے تھے. .ہیر نے بے اختیار اپنے ڈرس کو دیکھا تھا. … جس پر بھی رنگوں کے کچھ نشان تھے. … لوگوں کے ہجوم میں ہی اسپر بھی کچھ کچھ گر ہی گئے تھے. …
ڈرس سے نظر اٹھاتے ہیر آگے بڑھی تھی. …
ہائے. ..اسنے راکیل کے پاس پہنچ کر ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا. …
ارے ہیر کدھر تھی تم. .مل ہی نہیں رہی تھی. ..اور یہ تم نے ہولی نہیں کهیلنی. …. راکیل کناٹ کو پیچھے دھکا دیتے ہیر کے پاس آتی اسکے کافی بہتر ڈرس کو دیکھتے ہوئے بولی. ..ساتھ ہی پاس پڑہی رنگوں کی پلیٹ اٹھائی تھی. ….
ن نہیں راکیل. .پلیز اسکا ارادہ بھانپتے وہ چلاتی ہوئی بھاگی تھی مگر راکیل کی پھینکی گئی پلیٹ سے رنگ اسے اپنے بیک پر گرتے محسوس ہوئے تھے. ..اسنے کچھ دور جاتے رک کر خود کا جائزہ لیا. ..اسکی بیک برینہ کمر. .بال رنگوں میں نہا گئے تھے. ..وہ دانت پیس کر رہ گئی. .پیچھے مڑ کر دیکھا جہاں راکیل اب کسی اور کے پیچھے بھاگ رہی تھی. .. بالٹی پکڑے. ..وہ تاسف سے سر ہلاتی مڑی تھی جہاں سامنے ہی آئش کھڑا کسی سے بات کررہا تھا. ..
آئش جو کچھ دیر پہلے ہی راکیل کناٹ کو چھوڑ کر ہیر کو ڈھونڈنے گیا تھا. .مگر وہ تو اسے بھی ملی مگر ادھر ہی جاننے والا دوست ورن ملا تھا. .جو دو سال پہلے یونی میں سمسٹر کے لاسٹ میں اسکا دوست بن گیا تھا. ..وہ مل گیا. .وہ کھڑا اس سے بات کررہا تھا جب سامنے ہی اسے خود کی طرف دیکھتی ہیں نظر آئی. .. آئش کے اسے دیکھتے ہی ہیر نے نظریں پهیری تھی. .مگر آئش کی نگاہیں تهم گئی تھی. .. اسکے قیامت خیز سراپے پر. ..وہ بلا کی خوبصورت لگ رہی تھی. ..یک ٹک وہ اسے دیکھے جا رہا تھا. …
ہیلوو. .. کہاں گم ہوگئے. ..ورن نے اسکا کندھے ہلاتے ہوئے کہا. ..
وائٹ کرتا سوٹ میں. .. وہ کوئی ہندی تھا. .. کالی سیاہ آنکھیں. .. بهورے بال. .غیر معمولی نقوش. .. کسرتی جسم. .وہ بھی کافی ہینڈسم تھا.
ورن کے پکارتے وہ ہوش میں آتا اس سے اکسیوز کرتا ہیر کی طرف بڑھا جو اسے اپنے پاس آتا دیکھ کر دوسری طرف بڑھی تھی. …
ورن کی تیز نگاہوں نے اسکا پیچھا کیا تھا. ….
ارے آج تو بڑے لوگ آئیں ہیں. … کیا بات ہے. ..صبح سے کہاں چھپی ہوئی تھی. … آئش نے اس کے سامنے آکر اسکا رستہ روکتے ہیں دلچسپی سے دیکھتے ہوئے کہا. .. وہ خود بھی سفید شرٹ پینٹ پہنے ہوئے تھا. …. رنگوں سے ابھی تک وہ بھی محفوظ تھا. …. ..
افففف . … میرا سر نا کهائو. .. ہٹو آگے سے. … ہیر اسے اپنے پاس دیکھ کر جی بھر کر. ….بدمزہ ہوتی بولی. .موڈ تو پہلے ہی راکیل کی وجہ سے خراب ہوگیا تھا. ..
ایسے کیسے ہٹ جاوں ابھی تو جا کر ہاتھ آئی ہو. … وہ بھی اپنے نام کا ایک ہی تھا. ….
ہیر. .. غصے سے اسے دیکھ رہی تھی. .. اچانک اس کی نظر اپنے پاس ہی پڑہی. . مختلف رنگوں سے بڑی. .. تهالی پر گئی. … اس کے دلکش چہرے پر مسکراہٹ رینگ گئی تھی. . ہمیشہ کی طرح آئش کهو گیا تھا اس مسکراہٹ میں. .. وہ مسکراتے ہوئے اور بھی حسین لگتی تھی. …
نکچڑییی. ….یہ. … ہوش میں تب آیا تھا جب ہیر نے رنگوں سے بھری تهالی اس کے سر پر الٹی تھی. … وہ مختلف رنگوں میں نہا گیا تھا. …..
ہاہاہاہہہہہہہاہاہ. .. اور مائے گاڈ. . ڈفر تم تو اب ڈفر بھی نہیں لگ رہے یہ تم اب کوئی اور ہی مخلوق ہی لگ رہے ہو. … وہ اسے ایسے دیکھ کر لوٹ پوٹ ہوگئی تھی. .. اس کا چہرہ رنگوں کی وجہ سے چھپ سا گیا تھا. …
تمہیں اب میں چھوڑوں گا نہیں. .. اس نے دوسری تهالی اٹھانی چاہی مگر ہیر نے فٹ اسے ہاتھ مار کر گرا دیا تھا. …
ایسے تو پر ایسے ہی سہی. … آئش نے آگے بڑھ کر اسے کمر سےپکڑ کر خود کے فولادی وجود سے لگایا تھا. …
ہیےے. … کیا کررہے ہو چھوڑو. .. ہیر نے اسے پیچھے کرنا چاہا مگر وہ ایک انچ بھی نہیں ہلا تھا. …
اپنا چہرہ اسکے چہرے کے قریب کرتا اپنا گال اس کے گال سے مس کیا تھا. . پھر دوسری طرف بھی یہی کیا. .. مگر شاید دل بهرا نہیں تھا. .. تب ہی ایک ہاتھ اس کے بالوں میں ڈال کر چہرہ اوپر کیا تھا. .. اب اس کی گردن پر اپنا چہرہ سہلا رہا تھا. …. دونوں کا دل الگ ہی زاویے پر دوڑ رہا تھا. .. ہیر نے آنکھیں میچ لی تھی. ….دل کانوں میں دھڑک رہا تھا. ..
ہپی. .ہولی. .. وہ اسکو چھوڑتا پیچھے ہوا تھا. … ہیر کا چہرہ پر بھی اب مختلف رنگ لگ گئے تھے گردن پر بھی. ..
چیپ. . ڈفرر. .. گھٹیا انسان. … مرو ادھر. … وہ ایک دم اپنی ٹون میں واپس آئی تھی. ….. دل اب بھی کانوں میں دھڑک رہا تھا. ….واپس پلٹی تھی. .مگر کلائی آئش کے ہاتھ میں تھی. .. اس نے اسے واپس اپنی طرف کھینچا تھا. .. وہ تیار نہیں تھی تبھی اس کے چوڑے سینے سے لگی تھی. ….
.. کچھ بھول رہی ہو… وہ اس کے چہرے کے پاس اپنا چہرہ کرتے ہوئے بولا تھا. …
کیا بھول رہی ہوں میں. … پیچھے تو ہٹو. .. ہیر نے اسے پیچھے کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا تھا. ..
کچھ دن پہلے تم مجھ سے. . ڈانس کمپیٹیشن ہار گئی. …. اور تم نے کہا تھا اگر ہار گئی تو وہ کرو گی جو میں کہوں گا. … اور میں نے تمہیں آدهی دنیا کے سامنے ہرایا. .. اب تمہیں میری بات ماننی پڑے گی. ..ہیر ڈارلنگگگ. .. اسے اور خود سے قریب تر کرتا بوجھل آواز. میں اسکے کان کے پاس سرگوشی نما کہتا اسکے کان کی لو کو اپنے ہونٹوں سے چھویا تھا.. آنکھیں اس کی قربت سے خمار آلود ہوئی تھی. . آواز بھی بھاری ہوگئی. ..
می. .میں کچھ نہیں مان رہی. …..امممم. … بلکہ بولو کیا مانوں … اور گم کرو اپنی یہ شکل. …. پہلے تو اس نے مکرنا چاہا. .مگر پھر یہ سوچ کر کہ وہ اسی طرح چپکا رہے گا مان ہی گئی. …
زیادہ بڑی بات نہیں ہے. .. بس تمہیں. …ہمارا بینڈ جوائن کرنا ہوگا. … اب کے بعد ہم ایک ٹیم میں ہوں گے. … سینگینگ ہو یا. . ڈانسنگ. .. ہماری ایک ہی ٹیم ہوگی. … ہم ایک دوسرے سے مقابلہ نہیں کریں گے. …. بلکہ دوسروں سے کر کے انہیں ہرائیں گے. … یقین مانو تم ولڈ فیمس سینگر اور ڈانسر بن سکو گی. .. اور اگر ایسا نہ کیا تو آگے بہت سے کمپٹیشن ہوں گے تمہارے میرے ساتھ. .سارے ہرا دوں گا تمہیں میں. .. پھر جو آج کل ونر کہلاتی جاتی ہے. .. وہ لوزر ہوجائے گی. . .. وہ بنا اس کے تاثر دیکھے بولے جارہا تھا. .. کمر چھوڑ دی تھی. . اب سامنے دیکھے ہوئے کہہ رہا تھا. ..
ہہاہاہاہا. .. اور تمہیں کیوں لگا میں یہ بیوقوفی کروں گی. …. مجھے جیتنے کے لیے. .تمہاری یا تمہارے بینڈ کی کوئی ضرورت نہیں ہے. ….. اور یہ خوش فہمی ختم کردو کے ہیر مرزا. . تمہارے انڈر ہوسکے گی. … اور جہاں تک بات ہے مجھے ہرا کر لوزر بنانے کی تو… ایک کمپیٹیشن جیتے ہو. … بائے لک. … زیادہ ہوا میں مت آڑو. …. مجھے. .ہیر مرزا کو کہیں کوئی نہیں ہرا سکتا. … نا کوئی جیتنے سے روک سکتا ہے. .. بو غرور سے بولی. .. رکی نہیں تھی. .. ایک مسخر بهری مسکراہٹ اس کی طرف اچھال کر آگے بڑھ گئی تھی. ..
نا نا. .. ہیر ڈارلنگ. … آنا تو تمہیں ہو گا میرے پاس. …. سب چھوڑ کر. … میرے لیے. …. دیکھتا ہوں کیسے نہیں آتی آنا . کیونکہ جو میرا ہے وہ بس. .. میرا ہے اپنا بھی نہیں. … اس کی پشت کو دیکھتا. .. جنونی انداز میں بولا تھا. کل کے واقعہ کے بعد وہ کافی جنونی ہوگیا تھا. .ایک انجانا سا خوف تھا کہ کہیں ہیر سچ میں اس سے جدا نا ہوجائے.. بهوری آنکھیں غصے سے لال ہوگئی تھی. .. ماتھے پر بل پڑے ہوئے تھے. .. دل تو کررہا تھا. .. ابھی جا کر دماغ ٹھکانے لگا دے. .. مگر وہ خاموش تھا..
ایک سمندر ہے جو میرے قابو میں ہے
اور ایک قطرہ ہے جو مجھ سے سنبھالا نہیں جاتا
اک عمر ہے جو بتانی ہے اس کے بغیر
اور اک لمحہ ہے جو مجھ سے گزارہ نہں جاتا…
■■■■■■
بقایا زخم ! اضافی دئیے گئے مجھ کو
میرے لئے تو تیرا انتظار کافی تھا🥀🌚
راجر کیوں لائے ہو مجھے یہاں. ..نیناں نے راجر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو اسے دیکھتا کسی گہری سوچ میں گم تھا. …
بلیک ہڈی . جس پر کچھ لاکٹس اور گاگلز لگے ہوئے تھے.. بلیک ہی پینٹ پہنے. .. شانوں تک آتے بالوں کو کھلا ہی چھوڑے. . پرکشش چہرہ کسی گہری سوچ میں غرق تھا. …
نیناں کی آواز سن کر اسنے ٹیبل پر پڑے گلاس نے نگاہیں ہٹا کر نیناں پر ٹکائی تھی. …جو وائیٹ پلین شرٹ پر ریڈ شارٹ لیڈر کی سٹائلش جیکٹ جو کمر سے اوپر تک آتی تھی. .پہنے. ..ریڈ ہی جینز پہنے. ..بالوں کو ہائی پونی میں مقیم کئے گاگلز بالوں پر ٹکائے کافی خوبصورت لگ رہی تھی. … اسے ہر بار ہی وہ ہر بار سے زیادہ اچھی لگتی تھی. … وہ خاموشی سے اسے دیکھے جا رہا تھا. ..
یونی کے بعد وہ اسے زبردستی ہی ساتھ لے آیا تھا. .اب خاموشی سے بیٹھا تھا. ..
کیا ہوا. .کچھ بولنا بھی ہے کہ جاوں میں. ..مجھے بہت کام ہوتے ہیں. .تمہاری طرح فارغ نہیں ہوں. .نیناں نے اسے خود کو تکتا پا جی موبائل پر ٹائم دیکھتے ہوئے بے لچک لہجے میں کہا. ..اسے یوں راجر کا دیکھنا کنفیوز کررہا تھا. ..وہ جتنا بچنا چاہ رہی تھی. .. وہ اتنا ہی پاس آتا جا رہا تھا. ..وہ اب راجر کے بجائے خود سے ڈرنے لگی تھی. .خود کے جذبات سے ڈرتی تھی. ..جو بغاوت پر اترے ہوئے تھے. .. مگر وہ جذبات میں بہہ کر اپنا اور اپنے ملک کا نقصان نہیں کرنا چاہتی تھی. …وہ راجر کو ایک کریمنل کے توڑ پر ہی ٹریٹ کرنا چاہتی تھی. .مگر ہائے رے..بدبخت دل. …
تم. ..تم بس یونی اور ریسٹورنٹ میں ہی جاب کرتی ہو یا. .کچھ اور بھی. ..راجر نے سامنے پڑے گلاس میں انگلیاں پھیرتے نگاہیں نیناں کے تاثرات پر جمائے. .سرسری انداز میں پوچھا. …
نیناں ایک پل کو سٹپٹا کے رہ گئی تھی. ..وہ راجر کے ایسی بات کی توقع نہیں کررہی تھی. .دل میں چھپے شک یقین میں بدلنے لگے تھے …..
ہاں بس. … خود کو نارمل ظاہر کرتی سرد سانس ہوا کے سپرد کرتی راجر ہی کی طرف دیکھتی بولی. ..
ہممم ..انٹرسٹنگ. … راجر نے ایک نظر نیناں کو دیکھتے ہوئے کہا. .ساتھ ہی ویٹر کو دیکھا جو چیزیں میز پر رکھتا کافی غور سے اسے دیکھ رہا تھا. .. راجر کے دیکھتے ہی سٹپٹا کر آخری پلیٹ رکھتا یہ جا وہ جا. …راجر نے حیرت سے ویٹر کو دیکھا تھا. …..
نیناں نے بھی ویٹر کی حرکت نوٹ کی تھی. .مگر پھر اگنور کرگئی تھی. …
چلو لنچ کرو. .. راجر نے ہاتھ میں فاک پکڑے کھانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا. ..نیناں چپ چاپ فرائیڈ چکن اپنی پلیٹ میں ڈال گئی تھی. ….
تم نے مجھے بلایا کیوں. .تب تو برا کہہ رہے تھے کہ ضروری بات ہے. …مگر یہاں کھانے کے علاوہ کچھ نہیں کررہے. .. فاک منہ میں لے کرجاتی نیناں نے راجر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا. …
اچھا. ..تم کچھ کرنا چاہتی ہو کھانے کے علاوہ. ….چمچ منہ میں لے کر جاتا نیناں کو گہری نظر سے دیکھتا معنی خیزی سے بولا. …
م میں نے ایسا نہیں کہا. … جو ضروری بات کرتی تھی کرو. .مجھے جانا ہے پھر. …نیناں نے سٹپٹا پر کہا. … اسکی معنی خیز بات سے بیٹ مس ہوئی تھی. ..
بات ہی کرنا چاہتا تھا. ..بلکہ یہ کہہ سکتی ہو کہ صاف صاف بات کرنا چاہتا تھا. .مگر. ..راجر فرائیڈ رائس کے ساتھ انصاف کرنا بولتے بولتے اسے دیکھتا رکا تھا. ….
مگر. .مگر کیا. .. جوس کا گلاس منہ سے لگاتی حیرت سے پوچھا
مگر یہ کہ تم نے شروع میں ہی جھوٹ کا سہارا لیا ہے. ..تب ہی چھوڑ دی. … راجر نے بنا اسے دیکھتے سرسری سا کہا. ..
ک کون سا جھوٹ. ..نیناں فاک پلیٹ میں رکھے پلیٹ پیچھے کھسکا گئی تھی. ..
راجر نے بھی چمچ اور فاک پلیٹ میں رکھتے پلیٹ کھسکا کر اسکی طرف متوجہ ہوا. .
یہی کہ تم صرف ریسٹورنٹ میں کام کرتی ہو. ..نگاہیں اسکے چہرے پر ٹکائے. .بے لچک لہجے میں کہا. …
ا اس میں جھوٹ کیا ہے. ..نیناں نے بھی اسکی کے انداز میں کہا. .البتہ دل کانوں میں دھڑکتے لگا تھا. …
ہمم …مگر یہ پورا سچ تو نہیں ہے نا ڈارلنگگگ. … اسکی بهوی آنکھوں میں اپنی گرین پرسرار آنکھیں ڈالے سرد لہجے میں گویا ہوا. ..
ت تو اور کیا سچ ہے پورا. … نیناں نے راجر کی طرف ہی دیکھتے زبان نے خشک پڑتے لب تو کرتے ہوئے کہا. …
وہی سچ جو. ..میرا تم سے. .تمہارا مجھ سے. ..چهپ کر بھی نہیں چھپا ہوا. ..وہی سچ جو … بہت کڑوا ہے. .اتنا کہ نا ہم اگلنا چاہ رہے ہیں نا ہی نگلنا. .وہی سچ جو ہماری کہانی میں ولین کو کردار ادا کررہا ہے. ..بلکہ یوں کہنا زیادہ سہی ہوگا کہ. ..جو ہماری کہانی میں ہیرو کا کردار ادا کررہا ہے. اور یہ تو ڈن ہے..کہ کہانی کے اختتام پر جیت ہیرو کی ہی ہوگی. …نظریں نیناں سے ہٹا کر سامنے دروازے پر ٹکراتے سرد و سٹاپ لہجے میں کہتا سکون سے اسکا سکون غارت کرگیا تھا. ….
نیناں گهنگ سی ہو کر رہ گئی تھی. … وہ راجر کی آدھی ادھوری بات پوری سمجھ گئی تھی. دل کی دھڑکن کچھ پل کو تهم سی گئی تھی. ….الفاظ ختم ہوگئے تھے. .نگاہیں راجر پر ٹکی ہوئی تھی. …جو باہر ایسے دیکھ رہا تھا جیسے کہ وہاں اسکے فیورٹ ساس بہو کے سیریل کی اپیسوڈ لگی ہوئی ہو. ..
ہممم. … جب اتنا جانتے ہو تو یہ بھی کہہ دو. .محبت کا بھی ڈھونگ رچایا تھا. .. نگاہیں اسکے چہرے پر جمائے سرد لہجے میں کہا. ..مگر وہ جانتی تھی کہ یہ بولتے ہوئے دل کتنا دکھا تھا. …
اسکی بات سن کر راجر یک دم اسکی طرف مڑا تھا. ..پہلے سے سرد تاثرات اور ماتھے پر پڑے بلوں میں کافی اضافہ ہوا تھا …
میں ان گھٹیا لوگوں میں سے نہیں ہوں جو. ..دوسرے کو ہرانے کے لیے ان کے جذبات سے کھیلتے ہیں. .. میں تو خود ہار گیا ہوں. ….ایسی مات مرا ہوں کہ نا کچھ بچا ہے نا کچھ چهنا ہے. ..پھر بھی بری مات ہوئی ہے. …. اسکی طرف دیکھتا سرد لہجے میں دهمیی آواز میں غرا تھا …..
ہمم. … اچھا. .پھر یہ بھی جانتے ہو گے کہ کہانی کے اینڈ میں مات تمہاری ہوگی. ..یہ کڑوا سچ. ..تمہیں نگلنا پڑے گا. .. اسکی ناقابلِ برداشت کڑواہٹ تمہی برداشت کرنی پڑے گی. … اسکی گرین سرد آنکھوں میں اپنی بهوری سرد آنکھوں میں جھانکتی کاٹ دار لہجے میں بولی. ….
ہاہاہاہاہا. ….موت جب گلے لگے گی تو. .یہ کیا. .اس سے بڑے بڑے کڑوے گھونٹ خودبخود نگلے جائیں گے. . .میری سزا ہی میری جزا بن جائے گی. ..مگر تم. ..تمہاری زندگی. ..نا سزا کے قابل رہے گی نا ہی جزا کے. …مجھے خود اپنے ہاتھوں سے مار کر یا پھر اپنے سامنے مرتا دیکھ کر سو بار مرو گی…میرے خیال سے موت جزا. .اور زندگی سزا ہے. …یوں دیکھا جائے تو. .میرے حصے میں جزا اور تمہیں سزا ملے گی. .وسکی کا گلاس ہاتھ میں ہلاتے اس میں ہلتے شراب کو غور سے دیکھتا سرد لہجے میں بولا تھا. ..
وہ بالکل خاموش ہو کر رہ گئی تھی. ..جواب میں کہنے کے لئے کچھ بھی نہیں رہا تھا. ..اسے راجر کی ایک ایک بات سہی لگی تھی. ….. گلے میں ایک گلٹی ابهر کر ختم ہوئی. … دل چیخ چیخ کر رونے کا کررہا تھا. …. مگر وہ سسک بھی نا سکی تھی. ….
ہمم ..ٹھیک ہے تو پھر تم مجھے میرا کا…….وہ ابھی اپنی بات پوری کرتی کہ راجر نے بیچ میں ہی اسے ٹوک دیا تھا. ….
ہمم ٹھیک ہے. .تم اپنا کام کرو. …میرے خلاف ثبوت جمع کرو. ..ہوگئے تو مجھے سزا دلوا دینا. ..اگر دلوا سکی تو. ..یا پھر پہلے ہی کی طرح میرا انکائونٹر کرنے کی کوشش کرنا. ..مگر یاد رہے ضروری نہیں اس بار سینے پر تین چار چار گولیاں کھانے کے باوجود میں بچ جاؤں. …میں کہیں بھی رکاوٹ نہیں بنو گا تمہاری کسی راہ میں. ..میں بس دیکھنا چاہتا ہوں. ..اس بار جب ہم مقابل ہوں گے تو. ..فرض جیتے گا یا عشق. ….. مقابلہ سخت ہے. ..اور سخت جگر کی ضرورت پڑے گی. ..جو تم نہیں رکھتی. .. نیناں کو دیکھتا کہتا ساتھ ہی اپنی کرسی پاؤں سے گھسیٹ کر کھڑا ہوگیا تھا. … دو قدم چل کر نیناں کے قریب ہوتا ..بنا اسے سوچنے کا موقع دیئے. .. اپنے دہکتے لب اس کے اس کے گال پر رکھ چکا تھا. ..
دونوں کی دھڑکنیں تیز ہوگئی تھی. ….. کچھ لمحے یوں ہی سرک گئے. ..جو پیچھا ہوتا بنا اس کی طرف دیکھے موبائل باہر کی طرف نکل گیا. …
آنکھوں میں نمی لئے وہ کافی دیر اس کو جاتا دیکھتی رہی تھی. …..بے بسی حد سے زیادہ سوار ہوگئی تھی. …..
اُنکی صحــبت میں گئے، ســنبھلے، دُوبارہ ٹُوٹے
ہم کــــسی شخص کو دے دے کے ســہارا ٹُوٹے
یہ عجب رســـــم ہے بالکل نا سمجھ آئی ہمیں
پیار بھی ہــــــم ہی کریں، دِل بھی ہمارا ٹُوٹے..🍁🍁
■■■■■■■
حالت یہ ہے کہ گردشِ حالات کے سبب
دل بھی میرا تباہ ہے، ہمت بھی پست ہے
تم سوچتی بہت ہو تو پھر یہ بھی سوچنا
میری شکست اصل میں کس کی شکست ہے!
ہائے. …ہیر موبائل پر راجر کو میسج پڑھ رہی تھی جب اچانک سے ایک جانی پہچانی آواز سن کر اسنے سر اٹھا کر دیکھا تھا. .جہاں کالی سیاہ آنکھوں اسپر ٹکائے کارلوس کھڑا مسکرا کر اسے ہی دیکھ رہا تھا. ..
وائیٹ شرٹ پر اورنج جیکٹ پہنے. ..وائیٹ جینز. .پہنے. .جو اب وائیٹ سے مختلف رنگ میں بدل گئے تھے. ….گولڈن بال جنہیں جیل سے سیٹ کیے ہوئے تھے. …. کسرتی جسم. ..ہو کافی ہینڈسم لگ رہا تھا. .مگر سامنے بھی ہیر تھی. .. جو اب پوری طرح رنگوں میں ڈوبی ہوئی تھی. ….
آئش کے پاس سے جانے کے بعد وہ ایک دفعہ پھر کناٹ اور راکیل کے ہاتھ لگ گئی تھی. .پھر کیا تھا. .. راکیل نے اسے پکڑا تھا اورکناٹ نے کافی پلیٹس اس پر الٹی تھی. ..ابھی تو چہرہ دهو کر وہ شکل سہی کر کے آئی تھی. ..اور اب کارلوس کو دیکھ کر اچھا خاصا موڈ آف ہوا تھا. …..
کیا مسئلہ ہے تمہارا. ….کیوں پیچھے پڑ گئے ہو. … دونوں ہاتھ سینے پر باندھتے اسکی طرف دیکھتی سٹاپ لہجے میں گویا ہوئی. …
پہلے کے تو بہت سے مسئلے ہیں پر ایک نیا مسئلہ تم بن گئی ہو جو حواسوں پر سوار ہوگیا ہے. … حل کردو نا میسئر ہوکر. ..اسکو قیامت خیز سرہانے پر نظریں گاڑے معنی خیزی سے بولا تھا. ..
ہیر کا دماغ ہی گھوم گیا تھا. ….اسکی بےباک بات سن کر. ..اوپر سے اسے کارلوس کو دیکھ کر اپنی بکهری فیملی یاد آجاتی تھی جو اسکے باپ ہی کی وجہ سے برباد ہوکر رہ گئی تھی
یو. .بلڈی–…. دوبارہ ایسی فضول بات کی نا تو یاد رکھنا ہیر مرزا دوسری دفعہ بتاتی نہیں ہے. ..عمل سے سمجھاتی ہے. …تو آج کے بعد یہ منحوس شکل دور رکھنا مجھ سے. … ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا. ..ہیر نے شہادت کی انگلی اسکی طرف کرتے قدرے اونچی آواز میں اسے وارن کرتے انداز میں کہا …آس پاس کئی لوگ رک کر انہیں دیکھنے لگ گئے تھے. ….. اسے پہلے کارلوس کچھ کہتا ..راکیل بوتل کے جن کی طرف نمودار ہوتی اسے اپنے ساتھ کھینچتے ہوئے لے گئی تھی. ..
کارلوس نے ایک نگاہ چاروں طرف ڈالی تھی. … لوگ اسپر تمسخر اڑاتی نظر ڈالے اپنے میں مگن ہوگئے تھے. ……
غصے اور زلت کے احساس سے اسکا چہرہ لال ہوگیا تھا. .. لب اور مٹھیاں بهینچ لی تھی. …
اسنے ایک نظر دور جاتی ہیر پر ڈالی تھی. …ایک سوچ اسکے بهینچهے لبوں کو پھیلا گئی تھی. ..مکرو مسکراہٹ چہرے پر چها گئی تھی. …
ایک غلطی. ….ایک سزا. ..اسنے ہاتھ اوپر کرتے ایک ایک کرکے دو انگلیاں کھولتے پرسرار آواز میں کہا. ..
مگر سزا تمہیں نہیں. ..تمہارے پیاروں کو ملے گی. …اور تم. .تمہارے پاس میرا ہونے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچے گا. ..ابھی جن قدموں میں گئی ہے. .بہت جلد انہی سے واپس آو گی. ….اور اس آئش کا کچھ انتظام کرنا پڑے گا. … اسنے دور کھڑے آئش اور ہیر کی طرف دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں کہا جو شاید اب ڈانس کرنے کی تیاری کررہے تھے. ..
میں ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻧﺎ ﻣﯿﮟ ﺁ ﺟﺎؤں ﺗﻮ ﺍﺟﯿﺮﻥ ﮐﺮ ﺩوں
ﺗﺮﮮ ﺭﺍﺑﻄﮯ،ﺗﺮﮮ ﺿﺎﺑﻄﮯ،ﺗﺮﮮ ﺳﺎﺑﻘﮯ۔ﺗﺮﮮ ﻻﺣﻘﮯ