Khud gharz Ishq by Sandal readelle50031 Episode 03
Rate this Novel
Episode 03
یہ فقیروں کی بزم ہے چلے آؤ میاں..🥀
ہم بھلے لوگ ہیں اوقات نہیں پوچھتے.
وہ اس کے پاس آکر رکی تھی. . اس کو ایک نظر دیکھنے کے بعد وہ آگے بڑھنے لگی تھی. .پهر اچانک رکی تھی. . گرین آنکھوں میں الجھن پهر شناسائی رقم ہوئی تھی. .
آئش اب بھی اسے اپنے سامنے دیکھ رہا تھا. … بنا اسے مخاطب کئے وہ آگے بڑھ گئی تھی. ..
اسے دور جاتا دیکھ کر وہ یکدم ہوش میں آیا تھا. … وہ اب دور ہوگئی تھی. .. وہ بنا دیر کئے اس کے پیچھے بھاگا تھا. ..
ہیلوو. .. دور سے ہی پهولی ہوئی سانسوں کے ساتھ کہا تھا. ….
اسکی ٹک ٹک کرتی ہیل رکی تھی. .. پهر کچھ پل بعد پیچھے مڑی تھی. …
ہیلووو. .. چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجا کر کہا تھا. .. اسے اس طرح آئش کا روکنا اچھا نہیں لگا تھا. .. اور پھر اسے خود کو ٹکٹکی باندھے دیکھتا دیکھ کر اسے پہلی نظر میں ہی اسے بہت برا لگا تھا. ….
ہائے. .. مائے سلف آئش درانی. … ہاتھ اسکی طرف بڑھتا بولا تھا. …
ہیر مرزا. .. دو منٹ اسکے بڑھائے ہاتھ کو دیکھنے کے بعد اپنا نازک ہاتھ اسکے مضبوط ہاتھ سے ملاتے ہوئے کہا. .. وہ چاہ کر بھی چہرے سے بےزاری کے تاثرات نہیں مٹا سکی تھی. .. جو سامنے آئش نے بھی محسوس کیا تھا. …مگر نظر انداز کر گیا. …
ویسے تم ادھر. .. مطلب تمہیں تو دبئی جانا چاہیے تھا نا. .. ہاتھ واپس لیتا. .پہلی ہی ملاقات میں آپ جناب کے تکلف چھوڑے سیدھا تم پر آگیا تھا. ..
کام تھا. .. مختصر جواب دیتی آگے بڑھ گئی تھی. .. مطلب صاف تھا کہ جا سکتے ہو. ..مگر وہ بھی پهر آئش تھا. ….
اچھا. .مطلب جاو گی. .. اور کمپیٹیشن میں بھی حصہ لے رہی ہو. …؟؟ اسکے پیچھے بڑھتا بولا اسے محسوس تو ہو چکا تھا کہ وہ بات نہیں کرنا چاہ رہی. . وہ جان کر اسے زچ کررہا تھا. …
ہاں جاؤں گی. .کمپیٹیشن میں بھی حصہ لے رہی ہوں. .. اور کچههههه. .. اب کی بار رک کر سینے پر بازوں باندھتی. . دانت پیستے ہوئے کہا. …
ہاں. … اور یہ کہ اس کی بار تو اکیلا نہیں ہوسکتا. .. بینڈ ہونا ضروری ہے. .. اور جہاں تک میں جانتا ہوں کہ تم سنگنگ اور ڈانسنگ اکیلی کرتی ہو. … تو میں. ……
مسٹر یہ میرا مسئلہ ہے. .. آپکو میری فکر کی ضرورت کرنے کی ضرورت نہیں ہے. .. اور اب میں جا سکتی ہوں. .. میرے اور بھی بہت کام ہیں. … اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی جلے ہوئے لہجے میں کہا. .. دل میں کررہا تھا کہ سامنے کھڑے وجہی چہرے کے نقشے بگار دے…مگر ہائے رے قسمت. … وہ سوچ کر ہی رہ گئی. ..
آہاں. .. چلوو. . پهر دبئی میں ملیں گے. .. آخر اسنے معاف کر ہی دیا. .. دل تو اس کو زچ کر کے خوش ہورہا تھا. .. مگر یہ سوچ کر کہ. دوبارہ کبھی موقع نہیں گنوائے گا. ….
دبئی میں ملنے والی بات پر تو اسکا دل کیا کہ اسکا دماغ سٹ کردے مگر ٹائم کا سوچتی ..بنا کچھ کہے. .. اپنی سپورٹس کار کی طرف بڑھ گئی. .. گاڑی لے کر وہ نکل گئی تھی. ..آئش کی نظروں نے اسکی کار اوجھل ہوجائے تک اسکا پیچھا کیا تھا. .. اسکے غائب ہوتے ہی وہ سر جٹکتا اندر واپس چلا گیا. .. اسکے چکر میں تو وہ بھول گیا تھا کہ وہ ادھر آیا کس لیے تھا. …
○○○○○○○○○
آجاو. .. بنا کتاب سے نظریں اٹھائے کہا تھا. ….
آدیان اندر آکر ان کے سامنے بیٹھ گیا تھا. .. اسے دیکھ کر انہوں نے عینک اتار کر ہاتھ میں پکڑ لی تھی. …
آفس کیوں نہیں آئے تم آج. .. انہوں نے غصیلی آواز میں پوچھا تھا. ..
وہ. … سر درد تھا تب نہیں گیا. .. ان کی غصیلی آواز سن کر وہ مایوس ہوا تھا. ..
ہمم اور تم جانتے ہو ..لاپرواہی مجھے نہیں پسند. .. سر درد تو صرف بہانہ ہے. .. اصل مسئلہ تو کچھ اور. .. انہوں نے تنزیہ لہجے میں کہا تھا. .جیسے کہہ رہے ہوں باپ ہوں. ..
ڈیڈ وہ نہیں کرنا چاہتی شادی. .. ابھی چھوٹی ہے وہ. .پڑھنا چاہتی ہے. .. آپ کب سے انتا بیکوڈ ہوگئے. …کچھ ت خیال کریں. .بیٹی ہے آپکی. .. اس کا لہجہ بھی اب غصیلہ ہوگیا تھا. … اپنی بہن کو کسی صورت جان بوجھ کر اندھے کنویں میں نہیں جھونک سکتا تھا. ..
ہمم اچھا. … انہوں نے سوچنے کی ایکٹنگ کی تھی. … اسکا باپ میں ہوں آدیان تم نہیں. .. میں جانتا ہوں کہ اس کے لیے کیا اچھا ہے کیا نہیں. .. پڑھ وہ شادی کے بعد بھی لے گی. ..منگتوں کو نہیں دے رہا اپنی بیٹی. . سمنهال سکتے ہیں وہ اسے. . ابکی بار آواز قدرے اونچی تھی. .. غصے سے کتاب کو بھی ٹیبل پر پٹخا تھا. .. اور وہ ارے ہیں کل ڈنر پر اپنی ماں کو بنا دو کے تیاری کر لے کوئی کمی نہیں ہونی چاہیے. . اور علیزے کو بھی بنا دینا اچھی بیٹی کی طرف خاموشی سے مان جائے. .. اسے دیکھتے. .. بولے تھے. ..
اوو اچها. .. آپ اپنی بیٹی کا اچها سوچ رہے ہیں. ….! آئے سی. .. آپ جانتے ہیں کہ کاشف کیسا لڑکا ہے. . نشئی. .. جواری. .کتنی لڑکیوں کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں اسکے. .. اور علیزے. ..؟؟ کتنی چھوٹی معصوم ہے. . اور آپ اسے شادی جیسی اتنی بڑی زمےداری دے رہیں ہیں. .. اور اپنے کہا کہ اچھی بیٹیوں کی طرف خاموشی سے مان جائے. .. ؟؟؟ واہ کیا کہنے ہیں. . اسنے کہنے ساتھ تالی بجائی تھی. .. . ..وہ بھی ایک اچھی بیٹی بن جائے گی. .اگر آپکو ابھی نہیں لگتی تو. . . پہلے تو آپ ایک بیٹی کے اچھے باپ بن جائیں.. آگر اچھے باپ ہوتے تو. . اسے خاموش کروا کر جہنم میں نا بھیجتے. … اور ہاں اگر آپ ایک باپ کا فرض نہیں نبھا سکتے تو. .میں کچھ نہیں کرسکتا. .. اور مجھے بھائی کا فرض ادا کرنے سے آپ بھی روک نہیں سکتے. .تاسف سے کہتا. .وہ اٹھا تھا. …. ایک شکوہ کناں نظر ان پر ڈالتا ان کو سوچوں میں ڈوبتا چھوڑ کر باہر..کی طرف بڑھا. .. دروازہ کھولا. .. سامنے ہی علیزے. . منہ پر ہاتھ رکھے سسکیوں کا گلہ گھونٹ رہی تھی. اسے باہر آتا دیکھ کر وہ اندر بھاگی تھی. .
علیزے. .رکوو. . اسنے اسے روکنا چاہا مگر وہ جا چکی تھی. …
پیچھے آدیان. . لاونچ میں رکھے صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گیا تھا. .. اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے. ..کیا نا کرے. .. سر ہاتھوں میں گرا کر وہ ادھر ہی بیٹھ گیا. ….
○○○○○○○
ارے. .کیا ہوا الیانہ. .. اتنا پریشان کیوں بیٹھی ہے میری بچی اور کیا سوچ رہی ہو. . میرب نے الیانہ کے ساتھ صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا. …
وہ جو بے بی پنک ٹی شرٹ ..ٹرائوزر پہنے. . بال بکھرے ہوئے تھے. . صوفے پر. . ہاتھ میں مارش ملو سے بھرا بائول پکڑے امبروز کی کہی باتیں سوچ رہی تھی. . میرب کی آواز سن کر ہوش کی دنیا میں آئی تھی. ..
ارے نہیں موم. .میں تو کچھ نہیں سوچ رہی. .. مارش ملو منہ میں ڈالتی. .لاپرواہی سے بولی. ..
اچها. .مگر جهے ایسا لگا کہ میری بیٹی کچھ پریشان ہے. .انہوں نے پیار سے اس کے چہرے سے بال ہٹاتے ہوئے کہا. …
موم. …وہ کہتے کہتے رکی تھی. …
موم آپکو. . اسٹرالوجسٹ پر یقین ہے. .. ان کے تاثرات جانجتے. باول ان کی طرف بڑھاتے ہوئے ہوئے کہا. .
نہیں بیٹا. ..مجھے تو نہیں یقین. . مگر کیا ہوا. .کسی سے ملی ہو. . انہوں نے قدرے حیرانی سے کہا تھا. …
ہمم ملی تھی نا. … بلکہ. .. ٹام اور ایبک زبردستی لے گئی. .. وہ جو. ..—مال میں بیٹھتی ہے. .لوگوں سے سنا تو ہے اسکا کہا سچ بھی ہوتا ہے. .. بہت عجیب عجیب سی باتیں کررہی تھی. … مجھے تو ڈرا ہی دیا تھا اسنے. .. کہہ رہی تھی کہ. .یہ تمہارے سیاہ بال ہی. .تمہاری سیاہ بختی ہے. . انہیں کٹوا دو نہیں تو پچهتاو گی. … اسنے صاف گوئی سے امبروز کی کہی ساری باتیں انہیں بنا دی. .. اسی دوران اوما بھی آکر ان کے ساتھ بیٹھ گئی تھی. … وہ کوئی بھی بات ان سے نہیں چهپاتی تھی. .
اسکی بات سن کر وہ دونوں بھی ڈر گئی تھی. .. وہ بھی امبروز کو جانتی. . ایک زندگی جاپان میں گزاری تھی. .. وہ جانتی تھی امبروز کے بارے میں. .. الیانہ کے منہ سے ساری بات سن کر ان دونوں کا ہی دل دهل گیا تھا. …
ارے. . موم اور اوما. . آپ دونوں تو پریشان ہی ہوگئے. .. آپہی تو کہتی ہیں. . قسمت صرف اللہ لکھتا ہے. . صرف اسے پتا ہے کہ میرا نصیب کیا ہے. . اور ..یہ بھی کہ. .وہ جو بھی لکھتا ہے قسمت میں. . وہ. .انسان کے لئے اچها ہوتا ہے. . پھر. .کیوں پریشان ہوگئی. ..پہلے تو مجھے یقین ہے ایسا کچھ نہیں ہونا. .اگر ہوا بھی تو. .اللہ نے لکھا ہوگا. . اور وہی میرے لیے اچها. ..اور بہترین ہوگا. .. اس نے ان کو انہی کی سمجھائی باتیں سمجھائی….
ارے کچھ نہیں ہوگا بیٹا. .تم ایسا نہ کہو. .. اسکی آخری بات سن کر وہ تڑپی تھی. ..
اففف اچها چھوڑیں سب. . ایسے ہی پریشان ہوگئے آپ دونوں. .. مجھے بتانا ہی نہیں چاہے تھا. .. اس نے سر اوما کے کندھے پر رکھتے منہ بنا کر کہا تھا. .
اچها مجھے ایک اور بات یاد آئی. .. اچانک کچھ یاد آتے وہ سیدھی ہو کر بیٹھتی. .بولی تھی. ..
ہاں. .بیٹا بولو. .میرب نے بجهے دل سے کہا تھا. ..الیانہ کی بات پر اب بھی ڈر رہی تھی. .
وہ موم ہم کچھ فرینڈز آوٹنگ پر جانے کا سوچ رہے ہیں. . مارش ملو اب میں دباتے ہوئے کہا تھا. .
یہ نئی بات تو نہیں ہے بیٹا. .، روز ہی کہیں نا کہیں گئے ہوتے ہو. . گھر ہوتے ہی کب ہو. .. اوما نے قدرے خفگی سے کہا تھا. .ہوتا بھی تو یہی تھا. .وہ گھر لیٹ ہی آتی تھی. ..
ہاں. . مگر اس بار ہم تھوڑا دور جارہیں ہیں. .. آوٹ آف سٹی. . اور سٹے کریں گے. کچھ دن. .یونی سے بھی چھٹیاں ہیں. .. بنا ان کے ہوائیں اڑتے چہرے کی طرف دیکھے لاپرواہی سے کہا. .
دماغ تو سٹ ہے نا الیانہ اپکا. ..اوما نے سختی سے کہا تھا. . میرب تو بس خاموش ہوگئی تھی. .پہلے امبروز کی کہی باتیں ..اب الیانہ کا دور جانا. .ان کا دل دهل رہا تھا. .جانتی جو تھی اپنی ضدی بیٹی کو کہ اب وہ کسی کی نہیں سنے گی. ..
اس میں دماغ خراب والی کون سی بات ہے اوما. . پچھلی بار کی اپنے نہیں جانے دیا. .کہ ابھی چهوٹی ہو. .. اب میں بڑی ہوگئی ہوں. .اپنا خیال رکھ سکتی ہوں. .. اطمینان میں رتی برابر بھی فرق نہیں آیا تھا. ..
کہیں نہیں جارہی آپ الیانہ. ..آئش کل پرسوں دبئی جارہا ہے. .تین مہینوں کے لیے. .. وہ آئے گا اسکے ساتھ جہاں آپ چائیں جا سکتی ہیں. ..اسے پہلے کہیں نہیں. .. اوما نے اس کا اطمینان سیکھتے. .سختی سے کہا تھا. .آواز قدرے بلند تھا.
الیانہ نے پہلے بے یقینی سے انکا غصیلہ لہجہ دیکھا تھا. .وہ عادی تھی ہی کب ایسے لہجوں کی. ..
میں نے کہہ دیا تو کہہ دیا. ..جا رہی ہوں روم میں. ..نہیں کرنا ڈنر مجھے. .کوئی نا بلائے. . مارش ملو کا باول کانچ کے ٹیبل پر پٹختے. . غصے سے کہتی. . بالوں کو سمبهالتی. .. آنکھوں میں آئے آنسو کو اندر ہی دھکیلتی. . سیڑھیاں چڑھتی اوپر اپنے روم میں بهاگ گئی. …وہ کبھی اس لہجے میں. .اونچی آواز میں اوما یا موم سے بات نہیں کرتی تھی. . آج پہلے تو امبروز کی بات سے ٹینس تھی اوپر سے اوما کا منع کرنا. اور غصہ کرنا. ..اسے غصہ ہی آگیا تھا. …
پیچھے اوما اور میرب پریشانی سے اسے غائب ہوتا دکھتی رہ گئی. ….
○○○○○○○
بلیک پراڈو آکر راج پیلس میں رکی تھی. .. اسکے رکتے ہی تیزی سے آگے بڑھ کر گارڈ نے دروازہ کھولا تھا. …
بلیک جینز. .پلین وائیٹ شرٹ پر بلیک ہڈی والا اپر پہنے. .. جس کے سامنے سرخ رنگ کا دھاڑتا ہوا شیر بنا تھا. .. جو اپر کی زپ کھلی ہونے کی وجہ سے دو حصوں میں بٹ گیا تھا. …بلیک ہی ہائی ہیل والے شوز پہلے. … بال کمر پر کھلے بکهرے تھے. .سر پر بلیک ہی کیپ پہنے. .. چہرے پر بلیک ماسک لگائے. جس سے گرین. .پرسرار آنکھوں کے علاوہ کچھ نظر نہیں آرہا ها…وہ باہر نکلی تھی…
وکٹر اسے دیکھتے ہی اسکے پاس آیا تھا. ..
ہیلو. .ریا میم کیسی ہیں. .کافی دنوں بعد آئی ہیں. .. وکٹر نے خوشدلی سے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا. .
ہاں بس مصروف تھی. ..تب ہی آسکی. ..تم بتاؤ. .کیسے ہو. .اور یہ خاموشی کیوں ہے. .راج اور راجر بھیا کدھر ہیں. .. اسنے بھی ہاتھ ملاتے ایک ساتھ ہی کئی سوال پوچھ لئے. ..
وکٹر کو عادت تھی اسکی اس عادت کی ..تب ہی ہاتھ واپس لیتا ہولے سے مسکرایا تھا. .
میں فٹ ہوں. .اور راجر بھیا اور راج بھیا بھی اندر ہی ہیں. . کافی سیئرس میٹنگ ہورہی ہے انکی. .کچھ دنوں سے. .مجھے بھی نہیں بیٹھنے دیتے. . وکٹر. . سموکنگ روم کی طرف بڑھتا. .مصنوعی ناراضگی سے بولا تھا. .
ہاہاہاہاہ. .. وکٹر. . ہم جو کام کرتے ہیں. .اس پر تو خود پر بھی پورا یقین نہیں کرسکتے. ..کب خود کو خود ہی دھوکہ دے دیں. .. پھر وہ تم پر کیسے یقین کرلیں. . ہنستے ہوئے وہ اسکے پیچهے چلتی ہوئی بولی تھی. . چہرے سے ماسک اتارنے کی کوشش نہیں کی تھی. .. وہ ماسک راج پیلس میں بھی نہیں اتارتی تھی. .کیوں یہاں بہت سے ورکرز تھے. .. کوئی بھی اسے دیکھ سکتا تھا. ..
لو جی. . کچھ دن پہلے تک تو آپ میرے ساتھ تھی. . اب دیکھیں کیسے گرگٹ کی طرح رنگ بدل لیا. .. سلائیڈ ڈور ہٹاتا بولا تھا. … جواب میں وہ خاموش ہی رہی ..کیوں اندر راجر اور راج کو دیکھ چکی تھی. .. اندر جانے ہی وکٹر نے سلائیڈ ڈور اے کردیا تھا خود باہر نکل گیا تھا. ..
کیوں آئی ہو. … راجر نے ویکسی کا گلاس ہاتھ میں ہلاتے بنا اسکی طرف دیکھے. . اپنی بهاری گھمبیر آواز میں پوچھا تھا. . البتہ راج اب بھی سگریٹ کے کش لے رہا. . جیسے آگے کی ساری بہس جانتا ہو. ..
عجیب قسم کے بھائی ہیں میرے. . ارے اتنے دنوں بعد چهوٹی بہن آئی ہے. . کچھ اچها بولنے کے بجائے پوچھ رہے ہیں کیوں آئی. … راجر کے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھتی مصنوعی ناراضگی سے گویا ہوئی. …
ریا. .کتنی بار کہا ہوا ہے. .مت آیا کرو ادھر. . کسی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے. .. ہم تو خود کو بچا ہی لیں گے. .تم کیا کرو گی. .. ویکسی کا گلاس واپس پٹختے ہوئے کہا. .
مجھے کچھ نہیں. ..ہونا … میں خود کی حفاظت کرسکتی ہوں. ..آپ میری فکر نہ کیا کریں نا. .. ہزار دفعہ کی گئی بات ایک دفعہ پھر دہرائی تھی. .یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس نے اگلی دفعہ پھر یہی سب کہنا تھا. …
چھوڑو اسے. .. اسکی بات پر وہ ہمیشہ کی طرح خاموش ہوگیا تھا. .جانتا تھا وہ اسی کی بہ بہن تھی. .جسے سمجھانا پتھر سے سر بجانے کے مترادف تھا. .. مگر اسکا ہاتھ ویکسی کی آدھی بوتل کی طرف بڑھتا دیکھ کر ایک دفعہ پھر اسکا دماغ گھوما تھا تبھی اسکا ہاتھ جڑکتے. . قدرے اونچی آواز میں بولا تھا. ..
تو خود کیوں پیتے ہیں. . وہ بھی پهر ریا تھی. .کہاں چھوڑنے والی تھی. ..
اچها نہیں بولتی کچھ. .. اسکی گرین آنکھوں کو غصے سے لال ہوتا دیکھ کر آخر احسان کرنے والے انداز میں کہا
اچها راج تم بتاؤ کہ تمہاری خوابوں والی پرنسز ملی. . اب کی بار وہ راج سے بولی تھی. .وہ جو سگریٹ کے کش لیتا رپینزل کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا .. ریا کی بات پر ہوش میں آیا تھا. .
مل جائے گی. . اس سے زیادہ خود کو بہلایا تھا. ..
پهر کیا کرو گے. .. ریا نے کچھ سوچتے ہوئے کہا. ..
اپنے پاس لے آئوں گا. .. سگریٹ آیش ٹرے میں مسلتا بولا. ..
اگر وہ نہ رہی تو. .. اس کے تاثرات . جانجتے ہوئے کہا. …
اب راجر بھی ان ہی کی طرف متوجہ تھا. ….
رہنا تو پڑے گا ہی. .ہر ق قیمت پر. . لہجے میں دیوانگی بهر آئی تھی. ..
اور اگر وہ خوابوں کی شہزادی. . صرف خواب ہی ہوا. ..مطلب کبھی ملی ہی نا. …
نجانے وہ کیا سننا چاہ رہی تھی. ….
راج کی گرین آنکھوں میں لال ڈهوریاں آگئی تھی. .. جبرے بهیچ لئے تھے. . وہ تو یہی سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا. .. اب اسے ہر حال میں رپینزل اپنے پاس. . اپنی آغوش میں چائے ہی تھی. .. وہ اسکا جنون بن گئ تھی. . وہ نہیں جانتا تھا کہ. .اگر وہ خواب صرف خواب ہی ہوا ہے وہ کیا کرے گا. .کیسے رہے گا. .. وہ ایسا سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا. .. غصے سے اسکی رگیں تن گئی تھی. .مگر وہ ریا پر غصہ نہیں کرنا چاہتا تھا. .تب ہی لمبے لمبے ڈانگ بڑھتا. . سلائیڈ ڈور ہٹاتا باہر نکل گیا. …
اسے کیا ہوا. .کندھے اچکاتے راجر سے پوچھا. .
چھوڑو. ..مجھے بتاؤ. .. کیا کررہی ہو آجکل. . کافی عرصہ بعد آئی. .. اسنے ریا کا دھیان بٹھانا چاہا. ..
ابھی تو پوچھ رہے تھے کیوں آئی. . اور اب گلہ کررہیں ہیں کہ لیٹ کیوں آئی. . ریا نے منہ بناتے ہوئے کہا. ..
اچها یاد آ اسی آیا. .. وکٹر بتا رہا تھا کہ کوئی خاص میٹنگ ہورہی تھی. . آجکل کس کی بینڈ بجائی ہوئی ہے. … اسکے کچھ کہنے سے پہلے سے پہلے ہی کچھ یاد کرتی بولی تھی. ..
راجر کا دل کیا کہ وکٹر کا منہ نوچ لے. .جسے کتنا بھی کہنے کے باوجود وہ ہر بات رہا ہے بتا ہی دیتا تھا. .پهر کیا ہوتا تھا. .جتنا بھی مشکل. . مشن ہو. .. ریا ضد کرکے ساتھ جاتی تھی. .کئی دفعہ گولی بھی لگی. .مگر وہ سنتی ہی کہاں تھی. .. اسے ایڈونچر کا شوق تھا. . جس کے لئے کچھ بھی کرتی تھی. ..
کچھ خاص نہیں بس ایسے ہی. .. اسنے پهر اسے بہلانا چاہا. ..
پهر ایک نا ختم ہونے والی بہس شروع ہوگئی تھی. ..
○○○○○○○
کیا ہوا موم آپ ادھر ..پریشان کیوں بیٹھی ہوئی ہیں. . وائز نے ہاته سکول کوٹ صوفے پر رکھتے. . ہوئے کہا. …. ساتھ ہی ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا تھا. .
بس بیٹا یہ ہیر ابھی تک نہیں آئی تب ہی. .. اوپر سے فیض کی بھی طبیعت سہی نہیں ہے. .بس تب ہی. . عالیہ نے پریشانی سے کہا تھا. …
ہیر کا تو آج میوزک شو تھا. . اسکی کچھ دیر پہلے مجھے میسج آیا تھا. .کہہ رہی تھی کہ کچھ فرینڈز کے ساتھ باہر ہی لنچ کر رہی ہے. .تو لیٹ ہوجائے گی. .. وائز نے انہیں دیکھتے ہوئے کہا. ..
اچها. ..یہ لڑکی بہت تنگ کرتی ہے. . کہہ رہی تھی کہ تین مہینے کے لئے دبئی جا رہی ہے … اب بھلا میں کیسے اتنا دور جانے دوں. .. وہ اب بھی مطمئن نہیں تھی. .
موم آپ ایسے ہی ٹینشن لے رہی جانتی تو ہیں وہ جاتی رہتی ہے. .پهر ساتھ سیکورٹی بھی ہوگی. .پریشان نہ ہوں. .. وائز نے محبت بھرے لہجے میں انہیں پرسکون کرنا چاہا. …
بیٹا تمہیں ہیر کیسی لگتی ہے. .. عالیہ نے اس کے تاثرات سیکھتے ہوئے کہا. .
اچھی ہے نا. . سرسری سا. کہتا آنکھیں موند گیا. . مگر اگلی بات پر پٹ سے آنکھیں کھولی کم پهاڑی زیادہ تھی. .
تو اس سے شادی کرو نا. . وہ اب بھی اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہی تھی. .
موم کہیں ڈیڈ کی جگہ آپ ت بیمار نہیں ہوئی نا. . یہ کیسی باتیں کررہی ہیں. .بہن ہے کہ میری. . کچھ لمحوں تو وہ کچھ بول ہی نہیں سکا تھا. .
سگی بہن تو نہیں ہے بیٹا. . مجھے اسکی بہت فکر لگی رہتی ہے. .مجھے نہیں لگتا کہ وہ اب تک آدیان کو بهولی ہو. .یا اس سے نا ملتی ہو. . وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولی. …
موممم. ..کیا ہوگیا ہے یار. .. کیسی باتیں کررہی ہیں. . وہ بھول گئی ہوگی اب تک انہیں. . آپ اسے کچھ یاد نہ کروائیں. .. وہ آپکی بیٹی اور میری بہن ہیر مرزا ہے. .اور کوئی نہیں. .. آور اپنے آج تو یہ کہہ لیا موم. ..پلیز آئندہ ایسا کچھ نہیں سوچنا. .. وائز کو تو آج دھچکے پر دھچکے لگ رہے تھے. . ان باتوں کو تو وہ بھول گیا … کون آدیان. .کون منان. . کون ایمان..کون. .آریان. .. .ایسے تو بس ایک خواب ہی لگتا تھا. .مگر آج عالیہ سے سن کر اسے یاد آیا تھا کہ وہ خواب نہیں حقیقت تھی. .جو بدلی نہیں جاسکتی تھی. ..
اچها. . تو کیا میرے بیٹے کو کو کوئی پسند ہے. .. وہ بہل تو گئی تھی. . تبھی وائز سٹ محبت سے پوچھا. .
نہیں موم ابھی تک تو نہیں ملی مجھے کوئی. .. وائز اب مطمئن ہوگیا تھا. .
تو کیسی لڑکی چاہیے میرے شہزادے کو. … محبت سے اس سر کو اپنی گود میں رکھتی گویا ہوئی. …
ہممممم. .. بلکل الگ. .. سب سے مختلف. .. انوسنٹ سی. .کیوٹ سی. .. جو پہلی نظر میں ہی دل کو چھو جائے. … جسے ایک دفعہ دیکھنے کے بعد بار بار دیکھنے کا دل کرے. .. جو آجکل کی تیز ترار لڑکیوں جیسی نا ہو. . وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولا رہا تھا. ..
اچها چلو اللہ ملا دے گا تمہیں تمہارے نصیب سے. .. انہوں نے محبت سے کہا. ..
پهر کافی دیر تک وہ دونوں ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے. ….
○○○○○○○
