Khud gharz Ishq by Sandal readelle50031 Episode 06
Rate this Novel
Episode 06
دیکھ ! ہر درد کو نکھار کے ہم
آ گئے اپنا آپ مار کے ہم
اب تو نقصان بھر صداؤں کا
تھک گئے ہیں تجھے پکار کے ہم
وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر سیدھا لیٹا الیانہ کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا. … کل رات خواب میں اسنے الیانہ کا چہرہ بھی دیکھا تھا. ..تب ہی اسے کوئی کنفیوژن نہیں تھی. … اور دن کو اپنی رپینزل کو اپنے سامنے دیکھ کر وہ سرشار ہوگیا تھا. .. وکٹر نے اسے شام تک اسکی ساری ڈیٹیلز پتا کروا دی تھی. .. ہر بات وہ جان گیا تھا. .. اب وہ خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کررہا تھا. … دل سے ایک بوجھ ہٹ سا گیا تھا. … وہ خوش تھا بے انتہا خوش تھا. …
بہت کر لیا میں نے انتظار تمہارا. رپینزل. … اب ختم ہوگیا ہے. .. اور مجھے میرے صبر اور انتظار کا پھل بہت میٹھا ملا ہے. …اب تمہیں میں بہت جلد اپنے پاس لے آؤں گا. .. راج کی دنیا میں. … جہاں صرف راج کا راج ہوگا. .. تم پر بھی. .. اب تم اپنی بھی نہیں رہی. .. صرف راج کی رپینزل ہو. .. پرنسز ہو. میری. ..، میرا سکون. .. جنون. .عشق. .. دیوانگی. .. پاگل پن. .ضد. .. سب ہو تم راج کا. .. تمہیں آنا ہو گا راج کے پاس. .. اب تمہیں کوئی راج کا ہونے سے بچا نہیں سکتا. … اب آج کی دیوانگی. . پاگل پن. .سہنا ہوگا. … تمہیں سب بهولنا ہوگا. … صرف مجھے یاد رکھنا ہوگا. .مجھے چاہنا ہو گا. ..میرا بننا ہوگا. .کسی بھی قیمت پر. … ہر صورت. .. .
دیوانگی سے کہتا وہ آنکھیں موند گیا تھا. ..
کل ایک اور ملاقات کرتے ہیں پھر. .nayago کا سفر یادگار بنا دوں گا. .. اتنا کہ کبھی بھول نا سکو. ….خود سے ہی بڑبڑاتا. .. کروٹ بدل گیا تھا. ..
ایسے ہی کوئی لوفر ہوگا. …میں کیوں اتنا پریشان ہوں. … وہ ہوٹل کے روم میں اپنے بیڈ پر لیٹی. ..کب سے سونے کی کوشش کر رہی تھی. .. باقی سب سو گئے تھے. ..مگر نیند سکی آنکھوں سے کوسوں دور تھی. …
بار بار دن میں راج کی اور امبروز کی باتیں سوچ سوچ کر ہلکان ہورہی تھی. ..
راج کے جانے کے بعد ہی وہ بنا کسی کو بتائے ہوٹل آگئی تھی. … اور تب سے اسی بات کو سوچ رہی تھی. …
بار بار خود کو دلاسہ دینے کے تھوڑی دیر بعد دوبارہ ڈر جاتی تھی. .. کہیں نا کہیں اسے بھی لگ رہا تھا کہ امبروز کی باتیں سچ لگ رہی تھی. ..
کیا یہ سیاہ بال میری سیاہ بختی کی علامت ہیں. .. اپنے لمبے کالے بالوں کو ہاتھوں میں پکڑے انہیں گهوتے خود سے ہی بولی تھی. …
نہیں. ..ایسا کچھ نہیں ہوسکتا. .. ایسا تو کبھی نہیں ہوا. .. کسی کے ساتھ نہیں ہوا. . پھر میرے ساتھ کیسے ہوسکتا ہے. .. جھوٹ ہے. .. اس لوفر کو بھی سب کی طرح میرے بال پسند آگئے ہوں گے. .تب ہی. …مگر امبروز. …. خود کو دلاسے دیتے دیتے. .دوبارہ امبروز کو سوچ کر پریشان ہوگئی تھی. …
“مجهے دکھ رہا ہے کہ اسکا انتظار ختم ہونے والا ہے. ….”
” بس اب میرا طویل انتظار ختم ہوگیا. .رپینزل. ….”
آنکھیں بند ہونے سے پہلے اسکے زہن میں امبروز اور راج کی آواز ایک ساتھ گونجی تھی. .. اور آخر نیند کو اسپر رحم آ ہی گیا تھا. ……
■■■■■
اففففففف. …کیا ہورہا ہے مجھے. … کیوں وہ لڑکی میرے دماغ سے چمٹ گئی ہے. …. وہ جھنجھلا کر اٹھ بیٹھا تھا. ….
جب سے علیزے سے ملا تھا. .. بس بار بار وہی اسکے زہن میں آرہی تھی. . شام سے وہ عالیہ بیگم کی آدیان. .منان سے ملوانے والی بات پر پریشان تھا. اور علیزے کی وجہ سے بھی ڈسٹرب ہو کر رہ گیا تھا. ….
اسے بے وجہ ہی علیزے پر غصہ آرہا تھا. .. جس کی وجہ سے وہ ڈسٹرب ہوا تھا. ..اب رات کے دو بج رہے تھے. .مگر اسے نیند بلکل نہیں آرہی تھی. …
بس ایک دفعہ مل جاو. .. سیدھا کروں گا. .جادوگری ہو تم پوری. .. تمہاری. .. آنکھیں جادو کرتی ہیں. .جبھی تو میں پاگل ہو رہا ہوں. …. پریٹی گرلللل. …. آخر تهک ہار کر گرنے کے انداز میں لیٹتا خود سے ہی بولا تھا. ….
تمہیں دیکھ کر تو کوئی بھی دیوانہ ہوسکتا ہے. … یہ سوچ آتے ہی اسکے دل میں عجیب سی جلن ہوئی تھی. ….
نہیں. ..کوئی اور کیسے تمہیں چاہ سکتا ہے. …. ماتھے پر بل پڑے تھے. …
اففففففف پاگل ہوجائوں گا یوں تو. ….. کروٹ بدل کر لیٹ گیا تھا. ..نیند تو آرہی نہیں تھی. .پھر بھی کوشش کر رہا تھا. …..
اس نے پوچھا کہ کوئی ایسی جگہ؟ سکھ ہو جہاں؟
میں نے دھیرے سے فقط اتنا کہا میری طرف
زین وہ شخص زمانے کی جفا تھامے ہوئے
ڈھونڈنے آئے گا اک روز، وفا میری طرف
■■■■■■
بیٹھو. .. ڈراپ کر دوں گا تمہیں جدھر جانا ہے. .. راجر نے ہاسٹل سے نکلتے ہوئے نینا سے کہا. …
کل شام میں ہی اسے ہوش آگیا تھا. ..مگر احتیاطاً اسے اسی وقت ڈسچارج نہیں کیا تھا. … وہ بھی اسی کے ساتھ ہی رہا تھا. … اسکے کہنے کے باوجود وہ اسے اکیلا نہیں چھوڑنا نہیں چاہتا تھا. … اور اب صبح صبح ہی اسے ڈسچارج کریا تھا. ..
نہیں آپ جائیں میں اب چلی جائوں گی. .نینا نے بال کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا. …
وہ اسوقت راج کے لائے. .. بلیک ڈرس میں تھی. … شارٹ شرٹ. .. بلیک ہی جینز پہنے. .. برائون بال کھلے تھے. … سر پر پٹی کی ہوئی تھی. …
چھوڑ دوں گا میں. .. فکر نہ کرو. .آدم خور نہیں ہوں جو کها جائوں گا تمہیں. … بے ساختہ آنے والے غصہ کو پیتے ..ہوئے کہا. .. ورنہ کہاں عادی تھا بات دہرانے کا. ..
مگر میں. ……
سمجھ نہیں آتی. …بیٹھو. ….. اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی کاٹ کر. .. گاڑی کا فرنٹ ڈور کھولتا. .. اسے اندر پٹخ کر. . غصے سے بولا تھا. … اسکو اندر بیٹھانے کے بعد خود بھی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی تھی. .. ماتھے پر کئی بل پڑے تھے. ..
اب جو پوچھو. .. آرام سے سہی سہی جواب دے دینا. … ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا. ..سمجهییی. … کچھ دیر خود کو نارمل کرے. .. دھیمی مگر سخت الفاظ میں نینا کو کہا تھا. ….
بڑا آیا. .. برا نہیں ہوگا. .. اسکی بات سنتے ہی وہ بڑبڑائی تھی. .مگر راجر کے تیز کانوں تک آواز پہنچ گئی تھی. ..
اوکے پوچھیں. .. اسکو خود کی طرف کها جانے والی نظروں سے دیکھتا پا کر وہ جلدی سے بولی تھی. ..
کون ہو. .. سامنے دیکھتے پوچھا گیا. …
انسان. .. اتنے ہی تحمل سے خواب بھی آیا. ..
اووو …. شکریہ بتایا کہ انسان ہو. .. مجهے تو نہیں لگی. … وہ بھی پھر راجر تھا. .اپنے نام کا ایک. ….
نام پوچھا ہے. . کون ہو. .کہاں رہتی ہو. .. ماں باپ کدھر ہیں کون ہیں. .. اور سب سے ضروری سوال. .. ادھر کیا کرہی تھی. … سنجیدہ ہو کر پوچھا تھا. . جانتا تو تھا. .پھر بھی اسے پوچھنا چاہتا تھا. ..
اوکے تو ایسے پوچھیں نا. . بڑا کون ہو. .. برا سا منہ بناتی بولی تھی. .
خیر. .نینا سلطان ہوں. .. موم ڈیڈ کی ڈیتهه ہوگئی تھی. .کار ایکسیڈنٹ میں. . پانچ سال پہلے. … یونی. …… انگلیوں پر گن کے بتاتے بتاتے ایک دم کچھ یاد آنے پر رکی تھی. .
اسکے بولتے بولتے رک جانے پر راجر نے اسکی طرف دیکھا تھا. …
میں. ..کیوں بتاؤں. .. ہاں. … ایسے ہی بتانے بیٹھ گئی. …. اسکے گھورنے کو اگنور کرتی فلو میں بولی تھی. ….
نیناااا. …. وہ دانت پیس کر بولا تھا. .. آج سے پہلے کسی کی اتنی ہمت نہیں ہوئی تھی کہ اس سے ایسے بات کرتا. .. یہاں تک کہ راج اور ریا بھی ایک حد میں رہتے تھے. ..مگر یہ کوئی پہلی لڑکی تھی. . جسے نا چاہنے کے باوجود اسنے پر چڑھا لیا تھا. …
اس نے گہری نظر سے اسکا جائزہ لیا تھا. .. و23 سال کی تھی کہیں سے لگ ہی نہیں رہی تھی. ..کوئی 18 19 سال کی. .مومی نازک سی گڑیا لگ رہی تھی. …
ویسے اپنے اپنا نام نہیں بتایا. .. اسے یوں ٹکٹکی باندھے دیکھتا پا کر اسنے سرسری سا پوچھا تھا. …
اسکی آواز اور سوال پر گڑبڑا کر سامنے دیکھنے لگا تھا. ..
نام تو بتا دیں. … اسے دوسری طرف دیکھتا پا کر سانس بحال کرتی دوبارہ بولی تھی. ….
اپنے کام سے کام رکهو. … جبڑے بینچپے. ..سختی سے گویا ہوا. …
بڑااا. … تو آپ بھی اپنے کام سے کام رکھتے مجھ سے کیوں پو………..
اپنے فلو میں بولتی بولتی ایک دم رکی تھی. ..
اسکو غصے سے خود کو دیکھتی. .. اپنی شہادت کی انگلی کو ہونٹ پر رکھ کر خاموش ہونے کا اشارہ دیا تھا. .کہیں اب کی بار سچ میں ہی ایک تهپر ن لگا دے. …
اسکے ایسے کرنے پر. . بے ساختہ ہی راجر کی نگاہیں اسکے نازک گلابی ہونٹوں پر ٹکی تھی. .. گاڑی وہ روڈ کے درمیان ہی روک چکا تھا. … کیونکہ وہ ایک سنسان سڑک سے گزر رہے تھے. …کوئی پروبلم بھی نا ہوئی. ..
ایک دم گاڑی رکنے پر آنے ناسمجھی سے راجر کی طرف دیکھا تھا. .. جس کا سارا دھیان اکے گلابی ہونٹوں پر تھا. .. اسے خطرے کی گھنٹی بجی محسوس ہوئی تھی. ..تب ہی پیچھے سرکی تھی. ..
مگر راجر نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا. .. وہ ایک دم اسے سینے سے لگی تھی. .. ایک ہاتھ راجر کے کندھے پر رکھے دوسرا. .سٹرینگ پر تھا. …
راجر دل کی خواہش پر لبیک کہتا. .. اسکے ہونٹوں پر جھکا تھا. …
نینا کو اپنی جان نکلی ہوئی محسوس ہوئی تھی. ….
وہ پوری شدت سے اپنی سانسیں اس میں انڈیل رہا تھا. … کافی دیر بعد خود کو سیراب کرتا پیچھا ہوا تھا. …
وہ گہرے گہرے سانس لے رہی تھی. … ہاتھ اب بھی راجر کے کندھے پر تھا. …اسے لگا تھا کہ کچھ دیر وہ نہ ہٹا تو اسکی سانسیں بند ہوجائیں گی. .مگر وہ تب تک ہٹ چکا تھا. ….
راجر نے دلچسپی سے اسکے لال ہوتے چہرے اور اکھڑی سانسوں کو دیکھا تھا. .. چہرے پر بے ساختہ ہی مسکراہٹ آئی تھی. … اسی لمحے نینا نے بھی اسکی طرف دیکھا تھا. ….
اسکا ڈمپل دیکھ کر بیٹ مس ہوئی تھی. … اسکی نظریں اسکی وجہی چہرے پر ٹک گئی تھی. .. اسے ماننا پڑا تھا. . وہ بہت ہینڈسم تھا. . اگر ابل چھوٹے ہوتے. …
لگتا ہے تمہیں پسند آئ ہے. .تب ہی پیچھے ہی نہیں ہورہی. .. راجر نے اسے خود کو دیکھتے پا کر کہا تھا. …چہرے پر سنجیدگی مگر آنکھوں میں شرارت واضح تھی. . اپنی 30 سال کی زندگی میں پہلی دفعہ وہ کسی لڑکی کے قریب ہوا تھا. .. ورنہ کلب میں. . راستے میں. . یونی کالج. . کئی لڑکیوں نے اسے فرینڈشپ کرنی چاہی تھی. …مگر وہ اپنے آپ میں رہنے والا لڑکا تھا. .
اسکی بات سن کر وہ جھٹکے سے پیچھے ہوئی تھی. ..
اسکی شوخی نظر اسپر ڈالنے کے بعد راجر نے گاڑی سٹاٹ کرلی تھی. …اسکے بعد باقی کا راستہ خاموشی سے کٹا تھا. ….
غوث قطب سب تیتھوں صدقے
کون فرید فقیر؟ وے سانولا !!!
نہ مار نیناں دے تِیر 🙏
■■■■
اتنے بے جان سہارے تو ——- نہیں ہوتے نا
درد دریا کے کنارے تو ———- نہیں ہوتے نا
رنجشیں ہجر کا معیار ——– گھٹا دیتی ہیں
روٹھ جانے سے گزارے تو —— نہیں ہوتے نا
راس رہتی ہے محبت بھی —- کئی لوگوں کو
وہ بھی عرشوں سے اتارے تو نہیں ہوتے نا
۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیررررر. … اب کی بار اسنے چلا کر آواز دی تھی. …وائیٹ ٹی شرٹ. . بلیک ٹرائوزر پہنے. .. بالوں کو ماتھے پر پھیلائے. .. ننگے پاؤں ہی وہ اوپن کچن میں کھڑا کافی دیر سے ہیر کو آوازیں دے رہا تھا. ..مگر مجال ہو کہ اسے کوئی فرق پڑے. ..
وہ کل آنے کے بعد ہی کھانا کھانے کے بعد سو گئے تھے …
یہ ایک فلیٹ تھا جو وہ پہلے ہی تین مہینے کے لئے رینٹ پر لے چکے تھے. … چار کمرے. .اوپن کچن. .. کے سامنے لائونچ. …فلیٹ ان کے گھر جیسا تو نہیں تھا. .مگر بھی کافی خوبصورت تھا. .ویل فرنیچیرڈ. …. وہ چاروں الگ الگ روم میں اپنا سامان رکھ چکے تھے. ..ہیر نے جانے کا بہت کہا مگر کناٹ کے علاوہ دونوں نے نہیں جانے دیا. .. آئش سے تو اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا. ..مگر راکیل کی وجہ سے مان ہی گئی تھی. …
کیا مسئلہ ہے کیوں صبح صبح. … گلہ پهاڑ رہے ہو. …. گرے شارٹ جینز کے ٹرائوزر. .. بلیک شارٹ سلیولیس شرٹ پہلے. .. بالوں کو جوڑے میں مقیم کئے. .. کچن کی طرف آتی بے زاری سے بولی تھی. ….
اوو میڈم. … یہاں کوئی نوکر نہیں رکھے ہوئے ہم نے. … سب مل کر خود کا کام کریں گے. .. کناٹ اور راکیل سفائی وغیرہ کرریں ہیں. .. اور تم چلو میرے ساتھ ناشتہ بناو. … اس کے آجائے پر چکر کرنے کے بعد کٹنگ بورڈ سامنے رکھتا بولا تھا. ..
واٹٹٹٹ. … میں ناشتہ بناوں. … اس نے جیسے کنفرم کیا. ..
ہاں جی تمم ہی. …. اسی کے لہجے میں کہا تھا. …
میں کوئی تمہارے ساتھ کام نہیں کررہی. … کچن کی شلف پر بیٹھتی بولی. ..
اچھا. .. جاو پهر جاڑو پکڑو. .. جاڑو لگائو … وہ جانتا تھا. .. جاڑو تاکسی صورت. نہیں لگائے گی تب ہی بولا. …
زیادہ فری نہ ہو. .. میں ناشتہ بنانے میں ہلپ کریدتی ہوں. … توقع کے عین مطابق وہ شلف سے اترتی بولی تھی. ….
جب فلیٹ کا ارینج کیا ہے تو کوئی میڈ بھی ساتھ لے آتے. .. ہیر نے چائے کے لئے پانی رکھے آملیٹ بناتے آئش سے بولا تھا. ..
تمہیں لائے جو ہیں. … اسے دیکھتے ہوئے کہا. .لہجہ صاف اسے چڑانے والا تھا. …
واٹٹٹٹ. .. تم نے مجھے میڈ کہا. … وہی چائے کے لئے رکھا پتی ملا پانی اسپر پھینکا تھا. .جی کوسا ہوگیا تھا. ..
پاگل یہ کیا کردیا ہے. .. آیش خود کو پانی میں گیلا ہوتا دیکھ کر صدمے سے بولا تھا. ….
ہاں تو کیوں کہہ. …. اس بات پوری ہونے سے پہلے ہی آئش نے پانی سے بھرا جگ اس پر انڈیلا تھا. … ہیر کے تو فرشتوں کو بھی نہیں پتا تھا …اب وہ دونوں بیهگ گئے تھے. .. آئش پر تو پتی والا پانی گرا تھا. .وہ بھی کوئی اور ہی مخلوق لگ رہا تھا. ….
ڈفرررر. .. وہ چلائی تھی. ….
اپنی غلطی ہے تمہار. …….
ہیر نے پھینٹے ہوئے انڈے اسپر پھینکے تھے. … وہ کوئی اور ہی چیز لگ رہا تھا اب….. وہ اب انڈے اور پتی والے پانی س سے بھیگا ہوا ..اس لمحے کو کوس رہا تھا جب اس نے کناٹ سے کہا تھا کہ وہ اور ہیر ناشتہ بنائیں گے. …
تمہیں تو میں بتاتا ہوں. … وہ پیر سے بولا تھا. .جو ہنس ہنس کر پاگل ہورہی تھی. .. اب ایک دم اسے اپنی طرف آتا دیکھ کر بھاگی تھی. …
آئش بھی اس کے پیچھے بھاگا تھا. .مگر. ..ہاے رے قسمت. .. ٹائیلز کے فرش پر گرے انڈے سے سلپ اور ہر ادھر ہی گرا تھا. ….
ہاہاہاہاہہہہا. … وہ پاگل ہوگئی تھی ہنس ہنس کر. …
آئش فرش پر گرا غصے سے اسے گھور رہا تھا. ….
یہ. …اوو مائے گاڈڈڈ. ..یہ کیا ہوا ہے. .. راکیل اور کناٹ جو ڈسٹنگ کررہے تھے. .. کچن کی طرف سے آتی آوازوں کو پہلے تو اگنور کرتے رہے مگر جب بہت ہنسنے کی آواز آئی تھی مجبوراً دیکھنے آگئے. .مگر سامنے کا منظر دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے. …. ہیر گیلی سی. .. ایک ہاتھ پیٹ پر رکھ کر بےتحاشا ہنس رہی تھی. .. جب آئش فرش پر گرا. . انڈے کالے پانی بھرا غصے سے اسے دیکھ رہا تھا. ..
راکیل تو کچھ سمجھ نہیں سکی. .البتہ کناٹ سمجھ گیا تھا. ..
یار. .. شکر. .تم لوگ آگئے. .. یہ. . آئش کہہ رہا تھا کہ آج پہلا ناشتہ ہم ساتھ کررہیں ہیں. .. تو آج میں خود ناشتہ بناوں گا. .. اور جلدی جلدی میں اپنا یہ حال کر بیٹھا ہے. ..
ہیر. .ہنسی کنٹرول کرتی. .. آئش کی طرف دیکھتی. .مصنوعی افسوس. سے بولی. …مگر آئش اکی بات اور آنکھوں میں شرارت دیکھ کر دانت پیس کر رہ گیا. …
ابھی تو تھوڑی بے عزتی ہوتی مگر اگر بولتا کہ یہ حال کرنے والی ہیر ہے تو کیا عزت رہ جاتی. .. اسی لیے. . ہیر کو آنکھوں ہی آنکھوں میں وارننگ کرتے اٹھا تھا. ..
سمبهل کر. . آئشششش. … وہ دوبارہ سلپ ہوتا کہ ہیر نے پکڑا. .. ننگے پاؤں ہونے کی وجہ سے زیادہ ہی سلپ ہورہا. ….تھا. ..
تیار رہنا. .. ڈارلنگ. .. آئش ادھار نہیں رکھتا کسی کا. .. اسکے کان کے پاس جهکتا سرگوشی کرتا پیچھے ہوا تھا. ..
سفائی کون کرے گا اس بس کی. ..کناٹ اپنا ہی رونا رو رہا تھا. . جبکہ راکیل ان دونوں کو مشکوک نظروں سے دیکھ کم گھور زیادہ رہی تھی. …
کناٹ. . ڈونٹ وری. .میں تمہارے ساتھ ہلپ کروا دوں گی. ….اسکی بات پر آئش کو سینک میں منہ دھو رہا تھا. .. اسے وہ لمحہ یاد آیا جب ہیر نے اسے کہا تھا کہ ہلپ کروا دے گی. .. اور پھر اسے اپنی جیسی حالت میں ہی کچھ دیر بعد کناٹ کو تصور میں دیکھا تھا. . ساتھ ہی دل بنگڑے ڈالنے کا کیا. ..
کناٹ نے بھی ایک نظر آئش کو دیکھا. .. شاید نہیں یقیناً یہ حال اسکا ہیر نے ہی کیا ہوگا. ..، اور پھر خود کو دودھ. .پتی. . انڈے کے مکسچر میں خود کو مکس ہوتے ہوئے سوچا. … جھرجھری بهری تھی. …
نہیں …بہتتتتتتتتت شکریہ. .میں نا اکیلا ہی کرلوں گا. .راکیل کی بھی ضرورت نہیں ہے. .. ہیر کو شکریہ کہنے کے ساتھ ہی اسے راکیل بیچاری جو اب چیزیں سمیٹ رہی تھی. .اسے بھی مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا. .. کہ کہیں. .ہیر کی طرف راکیل بھی دو نمبری نا کرجائے. …
ہیر کی ہلپ سے گاڈ ہی بچائے. …
اور ساتھ ہی آئش اور کناٹ دونوں نے ساته ہی دل میں سوچا تھا. .
اچھا جلدی کرو. .ہیر. .تم بھی فرش ہوجاکر. .. آئش تم بھی جاؤ. … کناٹ سفائی کرلیتا ہے. .تب تک میں ناشتہ بنا لوں. .. پهر ہمیں راہل سر سے بھی ملنے جانا ہے. .. ڈانس کی پریکٹس بھی کرنی. .. جلدی کرو اب. … راکیل جلدی جلدی چیزیں سمیٹتی. .. ان تینوں سے بولی، ….
تیار رہنا. .نکچڑی. . آئش کچن سے باہر آتا اسکے قریب سے گزرتا بولا تھا. .
کیا کہہ رہا تھا. .. کناٹ نے دیکھ لیا تب ہی لگے ہاتھوں پوچھا تھا. ..
کہہ رہا ہے. .خیر ہے. . آج نہیں بنا سکا تو. .کل میں خود بناوں کا تم تینوں کے لیے ناشتہ. .ہیر نے جان بوجھ کر اونچی آواز میں کہا تھا. .تاکہ وہ سن لے. . اور ساته ہی اپنے روم کی طرف بڑھ گئی. …
تمہیں تو میں چھوڑوں گا نہیں. . آئش سن چکا تھا. ..تب ہی دانت پیسے. ہوئے کہا. . ساتھ ہی اسے بندہ لینے کا سوچتے اپنے روم میں آگیا. ..
گھر سے نکلے ہیں اس غبار میں ہم
رونے لگتے تھے انتظار میں ہم
آپ سے کس نے کہہ دیا ہے حضور؟
آپ کے بن رہے قرار میں ہم
جس پہ جالا بُنا تھا مکڑی نے
کاش جائیں اُس ایک غار میں ہم
یہ نصیبوں کی بات ہوتی ہے
یار ہو ہم میں اور یار میں ہم
اب جو سوچیں تو خود پہ ہنستے ہیں
کتنے پاگل تھے تیرے پیار میں ہم
لوگ تو کتنی بار سوچتے تھے
ہو گئے تیرے ایک بار میں ہم
اب بھی تم لوٹ کر نہ آئے تو
پھر ملیں گے فقط مزار میں ہم
زین وہ جیت کر اداس ہوئے
اور بہت خوش ہیں اپنی ہار میں ہم
■■■■■■
الیانہ یار ..کیا ہوا ہے تمہیں. .کیوں اپسٹ ہو یار ایوں. .کوئی فضول لڑکا ہوگا. .. ان اتنی آکسائیڈ تھی تم یہاں آنے کے لیے .. اور اب …. عائشہ نے الیانہ سے کہا. .
وہ اس وقت nayago کے مشہور پارک میں بیٹھے ہوئے تھے. .. کل سے ہی وہ اپسٹ تھی. .. بار بار سب کے پوچھنے پر اسنے راج سےملاقت کے بارے میں بتا ہی دیا تھا. ..
ٹام اور ایبک کچھ پریشان تو ہوئے مگر ظاہر نہیں ہونے دیا. …اور اب وہ بار بار اسے تسلی دے رہے تھے. ..
یار نہیں ہوں. .اپسٹ میں. . بس ایسے ہی. .موڈ ڈیڈ کی یاد آرہی. .کبھی یوں اکیلی آئی نہیں نا تب. .. علیانہ نے خود کو ہشاش بشاش ظاہر کرتے ہوئے کہا. …
اچھا مگر تم نے ہاشم انکل سے کچھ دیر پہلے ہی بات کی. .. اب کی بار ٹام بولا تھا. …
کیا تم لوگ ایک ہی بات کو لے کر بیٹھ گئے ہو. .. الیانہ نے جھنجھلا کر کہا. …
اچھا دفعہ کرو اس گرین مونسٹر کو. … ایبک نے اسی کے انداز میں کہا. .الیانہ اس بلا کا نام تو نہیں جانتی تھی. ..اسی لیے گرین آئیڈ مونسٹر ہی کہہ رہی تھی. ..
ارے تو ادھر میرا زکر ہورہا ہے. …. الیانہ کے بجائے جواب کسی اور نے دیا تھا. ..وہی بهاری گھمبیر پرسرار آواز. …راج سامنے آیا تھا اب ان کے. .. اسکی پیاسی نگاہیں الیانہ کے نازک سراپے پر ٹکی ہوئی تھی. …
ریڈ پائوں تک آتا سلیو لیس فراک. .. ریڈ ہائی ہیل. … کالے لمبے بالوں کو رول کے کے ہائی پونی میں مقیم کیا ہوا تھا. .. رول کرنے کی وجہ سے گھٹنوں تک جارہے تھے. … لائیٹ میک اپ میں. ..وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی. ….
الیانہ نے بھی اسکی طرف دیکھا. …
بلیک شرٹ. .. بلیک پینٹ. .بالوں کو ماتھے پر گرائے. . وہ کافی ہینڈسم لگ رہا تھا. ..
بات کرنی ہے تم سے سائیڈ پر آو. .. الیانہ کو دیکھتا بولا تھا. ..
اسکی بهاری گھمیر آواز سن کر اسے خوف آیا تھا. …
جاو. .مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی. .. کہنے کے ساتھ ہی بینچ پر سے اپنا کیمرہ موبائل وغیرہ اٹھا رہی تھی. …
آہہہہہ. .. چھوڑو. .جنگلییی. … اسکی بات سن کر راج کا دماغ ہی گھوم گیا تھا. .جبھی بنا کسی کی پروا کئے …اسے بازو سے پکڑتا. .. اپنے ساتھ کھینچا ہوا قدرے ویران ایرے کی طرف بڑھا تھا. …
ڈونٹ یو ڈیئر ٹو فالو اس. .. جانے سے پہلے ان سب کو وارن کرنا نہیں بهولا تھا. … کیا تمہیں اِس بات سے شکوہ نہیں؟
کہ اب میں نے انتظار کا مفہوم اپنے تئیں بدل کر کچھ اور رکھ لیا ہے۔
میں نے بناوٹی لہجوں، ناپسندیدہ رسموں، کھردے لفظوں، تلخ زبانوں اور کرخت باتوں کا سامنا کرنا سیکھ لیا ہے۔
کیا تمہیں شکایت نہیں؟
کہ اب مجھے تمہاری فکر برباد نہیں رکھتی نا ہی تمہارا لمس فضا میں محسوس ہوتا ہے۔ اور نا تو میں فرقان سے تمہارا تذکرہ کرتا ہوں نا اب وہ تمہارے بارے مجھ سے پوچھتا ہے۔۔
کیا تم فکر مند نہیں؟
کہ اب میرے آنسو تمہاری یاد کے زمرے میں نہیں آتے۔ میری آنکھیں انتظار کی لذت کھو چکی ہیں۔۔ میرے ہونٹ وہ کہہ نہیں پاتے۔۔ جس کے لیے تمہاری سماعت ترستی تھی۔ میرے قدم ان راستوں سے لاتعلق ہیں جن پر تمہارا بلاوا کسی نا کسی پیڑ تلے منتظر رہتا تھا۔
کیا تمہیں گلہ نہیں ؟
کہ تمہیں یاد کرنے کے لیے اب مجھے سنبھالی ہوئیں چیزوں کچھ تصویروں اور پرانے گیتوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔۔۔
کیا تمہیں اس سے بھی گلہ نہیں؟
کہ اب میں نے تمہارے لیے نظمیں کہنا چھوڑ دی ہیں۔
خیو چھوڑو ! یہ تو بتا دو ۔۔
کیا تمہیں افسوس نہیں؟
تم نے اُس شخص کے دل پر پاؤں رکھا۔۔ جس کا پاؤں نا دانستگی میں کسی چیونٹی پر بھی پڑ جانے سے دکھ جاتا تھا۔
کیا تمہیں شرمندگی نہیں؟
تم نے اُسے چھوڑ دیا جس نے تمہارے زخم دیکھ کر روتے ہوئے راتیں گزاریں۔
تم نے اُس شخص کو توڑ دیا جس نے تمہارے ٹوٹے ہوئے خد و خال، تمہارا حوصلہ اور ضبط جوڑے رکھا۔
کیا تمہیں دکھ بھی نہیں؟
کہ تم نے اُس شخص کو ملنے والے سکھ چوری کر لیے جس کے پاس بچپن سے غموں کے سامان کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں تھا۔۔
کیا تمہیں پچھتاوا بھی نہیں؟
اُس شخص کی موت کا،
جو تمہیں زندگی کی دعائیں دیتے دیتے مر گیا۔۔۔۔
■■■■■■
