Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary NovelR50591 Kaanch Ki Choriyan (Last Episode)Part 2
Rate this Novel
Kaanch Ki Choriyan (Last Episode)Part 2
Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary
“رانیہ کو کال کر دیتی ہوں کہ وہ نیناں کا خیال رکھے،،، نہیں رانیہ کو پتہ چلا تو سب کو پتہ چل جاۓ گا۔”
وہ گھر کی روڈ سے ٹرن لے کر دوسری سائڈ پر کھڑی تھی۔
“ہاں علیحہ از بیسٹ،،، اسے کال کرتی ہوں۔۔۔”
اس نے گہرا سانس لیا۔
“عارش آپ نے مجھے کتنا مجبور کر دیا نا کہ میں حرام موت کو گلے لگانے پر مجبور ہو گئی ہوں۔۔”
وہ آنسو ہاتھ کی پشت سے پونچھتے ہوۓ نمبر ڈائل کر رہی تھی۔
“علیحہ میری بات دھیان سے سنو ۔۔”
ارحہ نے سلام دعا کے بعد نم آنکھوں کہا تو وہ الرٹ ہوئی۔
“میری بیٹی جب بڑی ہو جاۓ گی نا تو اس کو کہنا کہ اپنی ماں کو معاف کر دے مگر بے قصور ہوں ،،، پلیز اسے کبھی بھی میری کمی محسوس نہ ہو ، میری روح تڑپ اٹھے گی اگر کبھی بھی میری بیٹی روئی۔۔ “
ارحہ نے ہچکیوں میں بات مکمل کی۔
“لیکن تم کہاں جا رہی ہو یار؟”
وہ پریشانی سے بولی۔
“آخری منزل۔۔۔”
اس نے سامنے سے آتی گاڑی کو دیکھ کر روڈ کی جانب قدم بڑھاۓ۔
“ارحــہ ۔۔۔۔”
وہ روتے ہوۓ چلائی،،،،دوسری جانب سے آتی آواز گواہ تھی کہ ارحہ کسی گاڑی کی زد میں آ چکی تھی۔
“کیا کروں؟یہ لڑکی کیا کر چکی؟ “
علیحہ روتے ہوۓ نیچے بیٹھی تبھی عارش کا نام ذہن میں آیا۔ اس نے فوراً کال ملائی۔ عارش میٹنگ میں تھا۔ علیحہ کا نمبر دیکھ کر اس نے ایک لمحہ تاخیر کیے بنا پک کی۔
“عـارش بھائی۔۔۔”
وہ سسکی۔
“کیا ہوا علیحہ بچے؟”
عارش کھڑا ہو گیا،،، کچھ انہونی کا احساس ہوا۔
“بھائی ارحہ نے سوسائیڈ کر لی ہے۔۔”
علیحہ کی بات پر وہ چیئر پر گرا۔ سب لوگ اسے نا سمجھی سے دیکھنے لگے۔
“پلیز عارش بھائی جلدی دیکھیے اسے۔۔۔”
وہ روتے ہوۓ گڑگڑائی۔
“میں کرتا ہوں کال۔۔۔۔”
عارش خود کو سنبھالتا وہاں سے نکلا،،،، ارحہ کا نمبر بند تھا ،،، اس کا دل بری طرح کانپ گیا تھا۔ گھر گارڈ کو اطلاع دی ۔۔۔
















“حنان گاڑی روکنا ،،،یہ رش کیوں ہے اتنا؟”
حنا نے آگے لوگوں کا جھرمٹ دیکھ کر کہا۔
“ہمممم۔”
حنان نے گاڑی روک دی۔
“ارحہ ۔۔۔۔۔”
سامنے ارحہ کا لت پت وجود دیکھ کر دونوں چلاۓ۔
“حنان اسے اٹھا کر گاڑی میں ۔۔۔۔”
حنا تو باقاعدہ رونے لگی، حنان نے اسے فوراً اٹھایا۔
“پلیززز جلدی ڈرائیو کرو۔۔”
حنا ارحہ کا سر گود میں رکھ کر مسلسل خون بہتا دیکھ کر چلائی۔ حنان نے فل اسپیڈ پر گاڑی ڈرائیو کی۔
” زرنش بھابھی کو کال کرو اور بولو کہ اسٹریچر جلدی سے باہر لائیں،،، ایمرجنسی میں بھی جگہ خالی کریں۔۔”
حنان نے اسے دیکھ کر کہا تو وہ کال کرنے لگے۔ جونہی وہ لوگ پہنچے، زرنش اور سٹاف دونوں باہر تھے۔
“کون ہے؟”
زرنش بھاگتی ہوئی آگے بڑھی۔
“ارحہ ۔۔۔”
زرنش چلائی۔
“بھابھی اسے فرسٹ ایڈ کی ضرورت ہے پلیز جلدی سے کچھ کیجیے،،، اس کا آگے ہی خون بہت بہہ گیا۔۔۔ “
حنان نے فکرمندی سے کہا تو وہ سر ہلاتی اندر بڑھی۔
“وہ گاڑی والا اور جس گھر کے سامنے ایکسیڈنٹ ہوا اس کا گارڈ کہہ رہا ہے کہ وہ خود آگے ائی تھی۔۔۔”
حنان تھوڑی دیر بعد آیا اور حنا کو بتایا۔
“کیا ؟”
حنا شاکڈ تھی۔
“ہممممم۔”
اس نے سر ہلایا۔۔
“عارش بھائی کو کال کر دو۔”
وہ فکرمندی سے بولی۔
“نہیں یار ابھی نہیں ،،، وہ پریشان ہو گا،،،، ارحہ کو ہوش آ جاۓ تو کرتا ہوں کال۔۔۔۔”
حنان نے نفی میں سر ہلایا۔
“حنان نہیں پلیز، اللہ نہ کرے کوئی مسئلہ ہو گیا تو۔۔”
حنا نے کہا تو وہ سر ہلا کال ملانے لگا۔








عارش دیوانہ وار گاڑی ڈرائیو کرتا گھر آیا مگر گھر سے دس منٹ کے فاصلے پر بلڈ دیکھ کر گاڑی خودبخود رکی۔
“یہ ارحہ۔۔۔”
اس کی سانس رکنے لگی۔
“سنیے؟ یہاں کس کا ایکسیڈنٹ ہوا ؟”
اس نے اس گھر کے گارڈ سے پوچھا۔
“سر کوئی لڑکی تھی مگر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ جان بوجھ کر آگے آئی گاڑی کے۔۔”
گارڈ نے بتایا تو عارش نے خشک لبوں پر زبان پھیری۔
“اس کا نام پتہ آپ کو؟”
عارش نے آس بھری نگاہوں سے دیکھا۔
“نہیں ،، ہاں بعد میں ایک لڑکی اور لڑکا آۓ تھے شاید ارحہ کہہ رہے تھے۔”
گارڈ کے کہنے پر اس کے قدم لڑکھڑاۓ۔۔
“ارحہ ،،، نہیں ارحہ کو کچھ نہیں ہو گا،،، کوئی آئیڈیا کس ہسپتال لے کر گئے۔۔۔ ؟؟؟”
وہ رو دینے کو تھا۔
“صاحب شاید یہاں سے جو قریب ہے ادھر ہی،،، اس کا خون بہت بہہ رہا تھا۔۔۔”
اس نے قیاس آرائی کی۔ عارش گاڑی بھگاتا زرنش کے ہوسپٹل پہنچا۔
یقین تھـا کہ کوئی حادثہ گزرے گا
گمان نہ تھا کہ تجھ سےبچھڑوں گا
“یہاں ارحہ نامی کوئی پیشنٹ ہیں؟”
اس نے کہا تبھی اس کے سیل پر حنان کی کال آئی۔ اتنے سالوں بعد کال دیکھ کر اس نے کچھ سوچ کر پک کی۔
“حنان بات کر رہا ہوں،،، ریلیکس ہو کر میری بات سننا۔”
اس کی بات پر عارش نے سر ہلایا گویا وہ دیکھ رہا ہو۔
“ارحہ کا ایکسڈنٹ ہو گیا ہے، میں اور حنا اسے ابھی۔۔”
اس سے پہلے کہ وہ مزید بولتا عارش بے تابی سے بولا۔
“کس طرف ہو تم لوگ؟”
اس نے پوچھا تو حنان نے بتایا۔
“کیسی ہے وہ؟”
وہ بھاگتا ہوا ان کی جانب آیا۔
“آپریشن چل رہا ہے اس کا۔۔”
حنان نے سامنے اشارہ کرتے ہوۓ جواب دیا۔
“رکو۔۔”
وہ اس جانب بڑھا تو حنان آگے آیا۔
“یار پلیز مجھے جانے دو ،، پلیز وہ تکلیف میں ہے۔۔”
عارش کی آنکھ میں آنسو تھے۔
“اس نے خود کشی کی ہے عارش،،۔۔”
حنان کی بات پر عارش نے گہرا سانس لیا۔
“عارش خود کشی کرنے والوں کا بھی کوئی نہ قاتل ہوتا ہے ،، ارحہ کے مجرم تم ہو، ارحہ مجھے اچھی لگتی تھی اور میں نے سوچا کہ اس کے ساتھ اچھی زندگی گذار سکوں گا، لیکن جب تیرا اور ارحہ کا رشتہ طے ہوا تو اس نے صاف انکار کر دیا یہ کہہ کر وہ خوش ہے بہت،،،، اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اسے تمہارے سنگ خوش دیکھ کر میں بہت خوش ہوا اور وہ حد سے زیادہ خوش تھی، اس نے کبھی بھی مجھ سے کونٹیکٹ نہیں کیا ،۔ وہ تمہارے ساتھ دل سے مخلص تھی ،سچی محبت کرتی تھی تجھ سے، پسند اور محبت میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے ،،،،،تجھے مجھ پر نہ سہی مگر ایٹ لیسٹ اپنی بیوی پر ہی یقین کر لینا چاہیے تھا ،،،۔ تنگ آ کر اس نے زندگی ختم کرنے کا سوچ لیا،،،،،، تجھے ایک بار بھی رئیلائز نہیں ہوا کہ تو نے کیا کیا ہے؟۔ ایک دو مہینے نہیں اتنے سال۔۔۔۔۔۔۔”
حنان غم و غصے کی کیفیت میں بول رہا تھا۔
“غلطی ہو گئی یار۔۔۔۔”
عارش نے سر ہاتھوں پر گرا لیا۔
“کیا آپ کو اندازہ ہو گیا کہ آپ نے ارحہ کو بے وجہ کہ سزا دی ہے،،،، وہ بھی اتنے سال۔۔۔۔”
حنا بھی ان کی جانب آئی۔
“پلیز حنا ! مجھے مزید شرمندہ نہ کرنا۔۔”
عارش پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔
“اٹھ ،،، عارش اٹھ یار اور دعا مانگ۔۔۔ “
حنان نے اسے ساتھ لگایا۔
“یار اگر اسے کچھ ہو گیا تو ۔۔۔۔”
عارش کی سانس رکنے لگی۔
“ان شاءاللہ اسے کچھ نہیں ہو گا۔۔۔”
حنا نے بھی تسلی دی۔
“کیسی ہے وہ؟”
زرنش کو باہر آتا دیکھ کر عارش آگے بڑھـا۔۔
” سرجری ہو گئی ہے،، اگلے کچھ گھنٹے بہت امپورٹنٹ اس کے لیے،،،، دعا کرو۔۔۔ “
زرنش نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی۔
“زرنش امید کتنی ہے؟”
وہ آس بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
“امید صرف اللہ سے رکھو عارش،،، وہ صحت مندوں کو بھی اٹھا لیتا اور ضعیف سے ضعیف ، شدید بیماروں کو بھی شفا دیتا ہے ،،، ٹرسٹ ان اللہ۔۔۔۔”
زرنش نے اسے سمجھایا تو اس نے سر ہلایا۔
“مامو کی کال۔۔۔”
اس نے لب بھینچے۔
“ان کو مت بتایا بلکہ یہ کہنا کہ تم دونوں آؤٹ آف سٹی ہو کسی فرینڈ کی مدر کی ڈیتھ ہو گئی اس لیے بتا کر نہ آ سکا،،، انہیں سچ نہ بتانا۔۔۔”
حنان نے اسے آئیڈیا تو اس نے سر ہلایا۔
“کیوں نہ علیحہ کو ایک وائس نوٹ بھیج دوں، وہ بھی رو رہی ہو گی۔۔۔”
عارش نے سوچا اور واٹس ایپ آن کیا مگر ارحہ کا میسج دیکھ کر اسے ہزار وولٹ کا کرنٹ لگا۔ صبح نو بجے کا میسج تھا، ایک غزل تھی عارش بےتابی سے پڑھنے لگا۔
“ﻗﺴﻢ ﻟﮯ ﻟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﻌﺪ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﻮ
ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﭼﺎﮨﺎ ﮨﻮ ‘
ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮨﻮ
ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺁﺭﺯﻭ ﮐﯽ ﮨﻮ
ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺟﺴﺘﺠﻮ ﮐﯽ ﮨﻮ
ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﮨﻮ ‘
ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﻗﺮﺏ ﻣﺎﻧﮕﺎ ﮨﻮ
ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﻮ ‘
ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺁﺱ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﻮ
ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻣﯿﺪ ﺑﺎﻧﺪﮬﯽ ﮨﻮ ‘
ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭﺍ ﮨﻮ
ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺎﺭﺍ ﮨﻮ ‘
ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺎﯾﺎ ﮨﻮ
ﮐﻮﺋﯽ ﺭﻭﭨﮭﺎ ﮨﻮ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ‘
ﺍﺳﮯ ﺭﻭ ﺭﻭ ﻣﻨﺎﯾﺎ ﮨﻮ
ﺩﺳﻤﺒﺮ ﮐﯽ ﺣﺴﯿﮟ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﮨﺠﺮ ﺟﮭﯿﻼ ﮨﻮ
ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﮐﺎﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﺮﮮ ﺁﻧﮕﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﯿﻼ ﮨﻮ
ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﯽ ﮨﻮ ‘
ﮐﺒﮭﯽ ﯾﮧ ﮨﻮﻧﭧ ﺗﺮﺳﮯ ﮨﻮﮞ
ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺑﮯ ﻭﻓﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﮧ ﻧﯿﻦ ﺑﺮﺳﮯ ﮨﻮﮞ
ﮐﺒﮭﯽ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭨﮫ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﺗﯿﺮﮮ ﺩﮐﮫ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺭﻭﺋﮯ ﮨﻮﮞ
ﻗﺴﻢ ﻟﮯ ﻟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﻌﺪ ﮨﻢ ﺍﮎ ﭘﻞ ﮐﻮ ﺳﻮﺋﮯ ﮨﻮﮞ
ﻗﺴﻢ ﻟﮯ ﻟﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺟﮕﻨﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﺎﺭﮦ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﮨﺘﺎﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﻮ
ﻗﺴﻢ ﻟﮯ ﻟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﻌﺪ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﻮ”
وہ پڑھ کر ریلنگ پر جھک گیا۔ وہ آج ہارا تھا صحیح معنوں میں ،،، اس سے جدائی کا خوف رلا رہا تھا۔
“کاش میں صبح دیکھ لیتا۔۔۔”
دل درد کی زد میں تھا۔
“ارحہ مجھے معاف کر دو،،، پلیز ٹھیک ہو جاؤ،،،، اے میرے اللہ مجھے معاف کر دے،،، ارحہ کو کچھ نہ ہو،،، یا اللہ اسے حرام موت سے بچا لے تو جانتا ہے کہ وہ کتنی عبادت گزار ہے،، یا اللہ اس نے میری وجہ سے۔۔۔ “
اس نے ہاتھ چہرے پر پھیرے۔
کہیں جو میں نے کہا تها تم سے
بغیر تیرے میں جی هی لوں گا
میں بات کر کے مکر گیا هوں
جو هو سکے ___تو لوٹ آؤ![]()















“کیسی ہے ارحہ ؟”
حنا نے زرنش بھابھی کو دیکھا۔
“عارش جو میں تمہیں بتانے جا رہی ہوں ، حوصلے سے سننا ، بہت ہمت کی ضروررت ہے ۔۔۔۔”
زرنش نم آنکھوں سے بولی۔
“پلیز کچھ اچھا بولنا۔۔”
اس نے گزارش کی۔
“ارحہ نہ تو ساری زندگی بول سکے گی اور نہ ہی وہ دیکھ سکے گی ،،،، تمہیں ہمت سے کام لینا ہو گا اب۔۔۔”
زرنش کے کہنے پر عارش کو اپنا وجود آگ میں جھلستا محسوس ہوا۔
“ت،،،،تم مذاق کر رہی ہو نا؟”
عارش ننھے بچوں کی طرح امید سے بولا۔
“نہیں یہ ایک بلکل کڑوا سچ ہے۔۔۔”
زرنش نے کہا تو وہ وہاں ہی بیٹھ گیا۔
“عارش ہمت کر یار۔۔”
حنان نے اس کے کندھے پر دکھ سے ہاتھ رکھا۔ حنا زرنش کے ساتھ ہی اس کے روم میں چلی گئی۔
“حنان میں نے تیرے ساتھ بھی غلط کیا پلیز مجھے معاف کر دے شاید اسی لیے مجھے اتنی بڑی سزا ملی۔۔”
وہ روتے ہوۓ بولا،،،، کوئی دیکھ کر یقین نہ کرتا کہ یہ وہی بے حس عارش ہے جو سنجیدگی میں لاثانی تھا۔
“نہیں یار وہ ٹھیک ہو جاۓ گی۔۔۔”
حنان نے اسے تسلی دی۔
“حنان پلیز تو بھول دے نہ کہ تو نے مجھے معاف کر دیا،،، میری وجہ سے سب ہو رہا۔۔۔”
عارش نے اسے دیکھا۔
“معاف کیا میں نے تجھے گدھے۔۔۔”
حنان نے اسے گلے لگایا تو وہ رو دیا۔
“حنان تو بہت اچھا ہے پلیز دعا مانگ اس کے لیے۔”
عارش نے کہا تو حنان نے بنا کوئی بحث کیے سر ہلایا۔
“آپ مل سکتے ہیں پیشنٹ سے۔”
نرس نے آ کر کہا تو عارش بھاگا ہوا روم کی طرف بڑھا۔
ارحہ کا سر پٹیوں میں جکڑا ہوا تھا۔
“ارحہ ۔۔”
عارش کے دل میں درد اٹھا۔ ارحہ نے آنکھیں کھولیں اور بولنے کی کوشش کرنے لگی مگر جب بولا نہ گیا تو رو دی۔
عارش بھی بنا کچھ کہے اس کے سر کے ساتھ سر ٹکا کر رو دیا۔ ارحہ کا درد اسے بری طرح رلا رہا تھا۔
“کیوں کیا تم نے ایسا؟۔ ارحہ اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو،،، میں اور نیناں مر جاتے تم نے کیوں نہیں سوچا ہمارا۔۔۔”
وہ روتا ہوا شکوہ کرنے لگا مگر وہ مسلسل رونے لگی تو عارش روتا ہوا باہر آ گیا۔
“بابا ماما کو کیا ہوا؟”
نیناں نےفکرمندی سے پوچھا۔
“بیٹا انہیں تھوڑی سی چوٹ لگی ہے،،، وہ جلد ہی ٹھیک ہو جائیں گی ان شاء اللہ ۔۔۔”
عارش نے اسے سینے سے لگا کر خود کو بھی تسلی دی۔











دو ماہ بعد۔۔۔۔
ارحہ بلکل خاموش ہو کر رہ گئی تھی یا تو آسمان کو تکتی رہتی یا پھر روتی رہتی۔ عارش نے اس سمے اس کا دل و جان سے خیال رکھا تھا،،، ایک اتفاق یہ ہوا کہ مامو اور مامی عمرہ کے لیے چلے گئے،،، سو وہ کچھ ریلیکس تھا کہ ان کو یہ دکھ ابھی نہیں ملا تھا،،، آفس بھی وہ کم ہی جاتا تھا،،، ارحہ کچن میں تھی جب عارش آیا تو اسے کچن میں دیکھ کر مسکرایا۔
“اب کیا چاہیے بیٹا؟”
بوا نے پوچھا۔
“میکرونیز۔”
اس نے لکھا تو عارش کی آنکھیں بھر آئیں۔
“وا آج میری مسز کھانا بنا رہی ہیں تو کھانا یقیناً مزے کا ہو گا،،، کتنے مہینے ہو گئے تمہارے ہاتھ کا کچھ نہیں کھایا، آج تو میں خوب پیٹ بھر کر کھاؤں گا۔۔۔۔۔”
عارش نے مسکرا کر کہا تو ارحہ نے سر جھٹکا۔
“ارحہ ۔۔۔”
اس نے کہا تو وہ ہنوز کام میں مگن رہی۔
“صرف ایک بار میری طرف دیکھو۔۔۔”
عارش نے ریکوسٹ کی۔
“اندھوں کو نظر نہیں آتا۔۔۔۔”
ارحہ نے لکھ کر ہوا میں ہاتھ لہرایا ۔۔ پڑھ کر عارش کو اپنا سینہ چھلنی ہوتا محسوس ہوا۔
ْ”ارحہ مجھے معاف کر دو یار، میں نے بہت زیادتی کی تمہارے ساتھ۔۔۔”
عارش دونوں ہاتھ جوڑے گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔
“ارحہ کچھ تو بولو نا؟”
اس کی آنکھ سے آنسو نکل کر گال پر پھیل گیا۔
“گونگے نہیں بول سکتے۔۔۔”
ارحہ نے پھر ٹیڑھا میڑھا لکھا تو عارش رو دیا مگر ارحہ بے حس بنی رہی۔
” اگر ایک پل تم نے سکون کی سانس نہیں لی تو میں بھی پل پل تڑپتا رہا ہوں ،،، تمہاری آنکھوں کی ویرانی میرے دل کو ویران کرتی رہی، نیناں نہ ہوتی تو شاید میں مر ہی جاتا،جانتا ہو ازالہ ممکن نہیں مگر آئم سوری ، میں تمہارا علاج کرواؤں گا ارحہ ،، ارحہ کتنے دنوں سے تمہاری آواز نہیں سنی، تم مجھے دیکھ کر نظر نہیں اتارتی میں نے خود پر توجہ دینا چھوڑ دی ہے،،، تمہارا عارش ٹوٹ گیا ہے اس سے پہلے کہ وہ بکھر جاۓ پلیز اسے سمیٹ لو ۔۔”
اس کی آنکھوں پر چہرے پر کرب تھا،،،، آواز میں شدید نمی تھی۔ ارحہ تو اس ادا پر ہی جان ہار بیٹھی۔عارش نے ان دو ماہ میں ہر لمحہ معافی مانگی،،، اتنا رویا کہ ارحہ کا دل پسیچ گیا۔
مثلِ آتــــــــش ہے یہ __ روگِ محــــــــبت
روشن تو خُوب کرتی ہے مگر جَلا جَلا کر





حنا کچن میں بریانی بنا رہی تھی تبھی اسے کاکروچ دکھائی دیا مگر تبھی حنان کچن میں آ گیا۔
“حنان کاکروچ ۔۔”
حنا چلائی۔
“کیا؟تم مجھے کاکروچ بول رہی ہو۔؟”
حنان لڑاکا عورتوں کی طرح کمر پر ہاتھ رکھ کر بولا۔
“نہیں تمہیں نہیں بولا،، حنان کاکروچ ۔۔”
اسے پھر حنان کے پاؤں کے پاس کاکروچ دکھائی دیا۔
“تم باقاعدہ کہہ رہی ہو کہ حنان کاکروچ اور پھر کہتی ہو کہ کب بولا؟”
حنان نے دانت پیسے۔
“حنان کے بچے کاکروچ ۔۔۔۔”
وہ حنان کے پاؤں پر کاکروچ چڑتا دیکھ کر خوف سے چلائی۔
“خبردار ! مجھے کہہ لو مگر میرے بچوں کو کاکروچ کہا تو تمہیں چھوڑوں گا نہیں ،۔”
وہ اس کی جانب بڑھا مگر تبھی کاکروچ دکھائی دیا۔
“حنا کاکروچ ۔۔۔”
وہ چلا کر شیلف پر بیٹھ گیا اور حنا کا ہاتھ پکڑ کر اسے بھی شیلف پر بٹھایا۔
“حنا یہ کب جاۓ گا؟”
حنا نے ڈر کر لب دانتوں تلے دبائے۔
“مجھے کیا پتہ؟ بلکہ مجھے لگتا کہ یہ اپنے بچوں کا رشتہ مانگنے جا رہا ہے۔۔ “
حنان نے قیاس آرائی کی۔
“ویری فنی،،، حنان میں کچھ سوچ رہی ہوں؟”
اس نے کہا تو حنان نے ابرو اچکاۓ۔
“ہمیں منان کی منگنی کر دینی چاہیے۔۔۔”
وہ کافی سنجیدگی سے بولی۔
“سبحان اللہ ۔۔۔”
حنان نے اس کے گرد بازو حمائل کرتے ہوۓ اسے گھورا۔
“حد ہے بھئی،،، تم دونوں کو پیار محبت کی باتیں کرنے کے لیے یہ کچن ہی ملا ۔۔۔۔”
زرنش نے دونوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔
“بھابھی کاکروچ تھا،،، یہاں ارے کدھر گیا ؟”
حنان نے آگے پیچھے دیکھا ،،، بس بہت ہو گئے تم دونوں کے کاکروچ کے بہانے۔۔۔۔”
زرنش نے ہنستے ہوۓ کہا۔
“بھابھی آپ کی بات ہوئی ارحہ سے؟”
زرنش کو دیکھتے ہوۓ حنا نے پوچھا۔
“ہاں کہہ رہی تھی کہ وہ عارش کو بتا دینا چاہتی ہے یہ ڈرامہ ہے مگر میں نے کہا ابھی رک جاؤ کیونکہ چند دن بعد ویڈنگ اینورسری ہے انکی تو سرپرائز دے۔۔۔”
زرنش نے پانی گلاس میں نکالتے ہوۓ کہا۔
“ہاں یہ سب صحیح ہے،،، ویسے عارش تو اتنا بدل گیا ہے کیا بتاؤں،،، محبت ناکوں چنے چبوا دیتی ہے۔۔۔”
حنان ہنسا۔
“اسلام علیکم گائز۔۔۔”
دعا اور اسوہ ادھر آ گئیں۔
“ارے آپ لوگ؟؟”
وہ تینوں خوشی سے بولے۔
“جی ہم نے سوچا کہ کیوں کچھ پنگے لیے جائیں۔۔۔”
اسوہ ہنستے ہوۓ ان سے ملی۔
“بہت اچھا کیا،،، ہم بھی بور ہو رہے تھے۔۔۔۔”
وہ لوگ بھی مسکرائے۔۔۔ زندگی تو اپنوں کے سنگ ہی حسین ترین ہوتی ہے جو کہ ان سب کی تھی کیونکہ نہ ہی کوئی نند بھابھی کی لڑائی نہ ساس بہو کا جھگڑا،،، اس گھر کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ کون بیٹی ہے اور کون بہو،،، کون بہن اور کون کزن۔ کیونکہ یہاں نفرتوں، حاسدو، سازشیوں کا دور دور تک لینا دینا نہ تھا،، یہاں بس محبت دینے والے رہتے تھے۔









“کل ہماری اینورسری ہے ارحہ ،،، کاش کہ تم ٹھیک ہوتی،، ویسے شکر ہے نیناں نے خود کو سنبھال لیا ورنہ میرے لیے بہت مشکل ہوتا اس کا سنبھالنا۔۔۔”
اس نے لاونج میں ارحہ اور نیناں کو بیٹھا دیکھ کر گہرا سانس لیا۔ پچھلے چند سالوں سے جب بھی اینورسری آتی وہ بس خاموش رہا کرتے تھے اور اس بار۔ مرد رویا نہیں کرتے یہ کہاوت تھی مگر عارش بہت روتا تھا۔







“سب تیاریاں ہو گئی ہیں، اب ہم لوگ جا رہے ہیں بیسٹ آف لک ۔۔۔”
حنان ہادی زرنش اور حنا اس کی ہیلپ کرنے آۓ ہوۓ تھے۔
“بہت شکریہ آپ سب کا۔۔۔”
وہ دل سے مشکور ہوئی۔
“اٹس اوکے لیکن ہمیں کل کیک چاہیے ہر حال میں۔۔۔”
زرنش نے اسے باور کروایا۔
“کیک کیوں بس،،،، ہمیں شاندار سی ٹریٹ چاہیے کہ یہ اندھی اور گونگی نہیں ہے۔۔۔”
حنان ہنسا تو سب ہنس پڑے۔
“ویسے اس نے ایکٹنگ بہت اچھے کی ہے۔۔۔”
ہادی متعرف ہوا۔
“اس نے ایکٹنگ اچھی نہیں کی بلکہ عارش اندھا ہوا تھا۔”
حنان ہنستا ہوا بولا۔
“چلیے بھی اب بارہ ہونے والے ارحہ نے ریڈی بھی ہونا۔۔”
حنا نے کہا تو وہ لوگ خدا خافظ کہتے چلے گئے۔ ارحہ نے میرون کلر کا خوبصورت سا ڈریس زیب تن کیا۔ آج وہ بہت خوش تھی۔ بارہ بجے کا وہ شدت سے ویٹ کر رہی تھی، اس نے بوا کو عارش کو جگانے بھیجا۔
“عارش بیٹا! ارحہ لاؤنج میں گر گئی ہے۔۔۔”
اس کا اتنا کہنا تھا کہ عارش اندھا دھند بھاگتا لاؤنج کی طرف آیا۔
“لائٹس کس نے آف کی؟؟؟”
وہ جھنجھلایا اور لائٹس آن کی مگر سامنے کا منظر دیکھ کر شاکڈ رہ گیا۔
“ارحہ ۔۔۔۔۔”
اس کے لب ہولے سے ہلے۔
“ہیپی ویڈنگ اینورسری مائی ون اینڈ اونلی ہزبینڈ۔۔”
ارحہ مسکراتے ہوۓ شوخی سے بولی۔
“تم بولی؟؟؟؟”
وہ ازحد حیران تھا۔
“ایسے جواب دیتے؟؟”
ارحہ نے گھورا۔
“ارحہ مجھے یہ خواب لگ رہا ہے کہ تم بول رہی۔۔”
وہ بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا اور آنکھیں مسلیں۔
“میں نہ صرف پٹر پٹر بول سکتی بلکہ ٹکر ٹکر دیکھ بھی سکتی،،، ویسے میں سمجھی میرے اندھے اور گونگے ہونے کا فائدہ اٹھا کر آپ دوسری شادی رچا لیں گے پر آپ تو مجنوں ، پنوں ، رانجھا سب کو پیچھے چھوڑ گئے۔۔۔”
ارحہ ہنستے ہوۓ بولی۔
“ارحہ وہ۔۔۔”
وہ بے یقین تھا۔
“سب ایک ناٹک تھا، آپ کو سزا دینے کے لیے، جو کہ حنان زرنش آپی اور حنا نے رچایا تھا۔۔”
وہ معصوميت سے بولی تھی ۔
“آپ کی شکل بڑی فنی لگ رہی۔”
وہ اسے شاکڈ دیکھ کر محظوظ ہو رہی تھی۔
“ارحہ آئی ول کل یو۔۔۔”
وہ اسے سینے سے لگا کر نم آواز میں بولا۔
“آئم سوری۔”
ارحہ نے معذرت کی۔
“نہیں شکر اس پاک ذات کا کہ تم ٹھیک ہو۔۔۔”
عارش نے اس کے سر پر بوسہ دیا۔
“پلیز بہت روۓ آپ،،،، چلیں آئیں کیک کاٹیں۔۔۔۔”
ارحہ نے اس کے آنسو پونچھے۔
“ہیپی ویڈنگگ اینورسری مائی کنگ اینڈ کوئین۔۔ “
نیناں بھی مسکراتی ہوئی آ گئی۔
“نیناں آپکو پتہ آپ کی مما،،،،،۔۔”
ارحہ نے بات اچک لی۔
“نیناں کو پتہ ہے، جانے نہ جانے گل نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے۔۔۔”
ارحہ ہنسی تھی۔
“اور آپ نے مجھے نہیں بتایا،؟ آپ کو پتہ تھا کہ میں کتنا رویا اور آپ ؟؟؟”
عارش نے اسے گھورا۔
“کیا کرتی بابا سب نے منع کیا تھا، بتائیے سرپرائز کیسا لگا آپ کو؟”
وہ مسکرائی۔
“بہت بہت بہت اچھا۔۔۔۔”
عارش خوشی سے بولا۔
“اور آج میں بھی بہت خوش ہوں کہ وی آر ہیپی فیملی ناؤ ود دی گریس آف اللہ المائٹی۔۔۔”
نیناں دونوں کو کس کر کے بولی۔
“چلیں کیک کاٹیں اور سیلفی لیں۔”
ارحہ نے مسکراتے ہوۓ کہا تو وہ کیک کاٹنے لگے۔ قہقے پھر سے گونجنے لگے۔ دونوں بہت خوش تھے۔۔
٠ ![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
“پھوپھو اسے چوڑیاں میں پہناؤں گا۔۔”
عالی نے اسے حبہ کو چوڑیاں پہناتے دیکھ کر کہا۔
“اچھا یہ لو۔۔۔”
حنا نے اسے دے دیں۔
“حنان حنا میں میں سوچ رہی کہ کیوں نا کہ ہم عالی اور حبہ کی منگنی کر دیں۔۔۔”
زرنش نے کہا۔
“نو وے۔۔”
حنان نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
“کیوں بھئی؟؟؟”
زرنش نے گھورا۔
“کیونکہ میں بچپن کے رشتوں پر یقین نہیں کرتا۔۔”
حنان نے کہا۔
“تو ایک بات میری بھی سن لو، رات مما کہہ رہی تھیں کہ جیسے عالی حبہ کا خیال رکھتا ہے ویسے ہی حنان حنا کا خیال رکھتا تھا ،،، مجھے اور میری بیوی کو تو یقین ہے کہ عالی صرف حبہ سے شادی کرے گا ،،، اچھا ہے نا کہ یہ کسی نجومی کے چکر میں نہ پڑے۔۔۔ “
ہادی نے بھی اتفاق کیا۔
“حنا تم کیا کہتی ہو؟ اچھا ہے حبہ ہمیشہ پاس رہے گی۔۔”
حنان نے اسے دیکھا اور خوشی سے بولا۔
“ویسے سچ کہوں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ،،، عالی مجھے حنان کی پرچھائی لگتا ہے۔۔”
وہ لوگ ارحہ کے گھر جا رہے تھے۔
“چلو رشتہ ڈن۔۔۔”
زرنش خوشی سے بولی۔ تو وہ لوگ ہنس دئیے۔
“ہیپی ویڈنگ اینورسری ۔۔”
انہوں نے مسکرا کر کہا۔
“تھینکس آ لوٹ۔۔۔۔”
ارحہ خوشی سے بولی۔
“ارے رے گونگی بول پڑی۔۔”
حنان ہنسا۔
“بدتميز ۔”
ارحہ نے اسے پنچ دکھایا۔
” اندھی دھیان سے چلنا کہیں ٹکر نہ لگ جاۓ۔۔”
حنان ارحہ کو دیکھ کر شرارت سے بولا۔
“عارش سمجھا لیں اپنے دوست کو۔۔۔”
ارحہ نے منہ بنایا۔
“باز آ جاؤ بھئی۔”
عارش نے گھورا ۔
“”اوکے اندھی کے ہزبینڈ۔۔۔”
سب کا قہقہہ بلند ہوا۔ اس کے بعد کافی دیر محفل جمی رہی،، ایک ذرا سی غلط فہمی رشتوں کو ،خوشیوں، دوستوں اور محبت کو کھا گئی، کتنے سال فقط ایک زرا سی غلط فہمی کی وجہ سے بے سکونی کی نظر ہو گئے۔ رشتوں کو بنانا آسسان جبکہ نبھانا ااور بچانا مشکل ہے، اعتماد کو کبھی کسی رشتے سے نہ جانے دیں۔ غصے میں بھی عقل کا دامن نہ چھوڑیں۔
نہ پوچھو حسن کی تعریف ہم سے،
محبت جس سے ہو بس وہ حسین ہے۔






“چاۓ پی لیں آپ؟”
حنا نے کہا۔
“ہیـــں تمہاری طبیعت ٹھیک ہے؟”
حنان نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔
“مما نے بہر عزت افزائی کی کہتی بچوں کو کیا سیکھاؤ گی خود شوہر کو تم کہتی۔۔۔”
حنا نے منہ بنایا۔
“ہم دوست بھی ہیں میری جان، دوستی میں تم بھی چلتا۔”
وہ اس کے گرد بازو حمائل کر کے بولا۔
“مگر مجھے آپ کہنا اچھا لگا۔۔”
وہ مسکرائی۔
“اچھا جی،،،، افف سکون دیتی چوڑیوں کی آواز۔۔”
وہ اس کا بازو ہوا میں لہرا کر بولا۔
“تم پورے دیوانے ہو۔۔۔”
حنا نے مسکرا کر کہا۔
“تمہارا اور تم سے وابستہ ہر چیز کا۔۔۔”
وہ اس کا ماتھا چوم کر بولا۔
“آئی لو یو حنا،،،، اتنا کہ بتا نہیں سکتا۔۔۔ “
وہ محبت سے بولا۔
“بس کرو۔”
حنا بلش کر گئی۔ حنان نے اسے ریلنگ سے آگے دھکیلا اور جب اس کی چیخ بلند ہوئی تو پکڑ لیا۔
“حنان ۔۔۔۔”
اس نے دانت پیسے۔
“جی حنان کی جان۔۔۔”
وہ ہنسا تھا۔
اس قدر پیاری لگتی ہے وہ غصے میں
دل کرتا ہر وقت تنــگ کرتا رہوں اسے
