Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary NovelR50591 Kaanch Ki Choriyan (Episode 12,13)
Rate this Novel
Kaanch Ki Choriyan (Episode 12,13)
Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary
“کیا ہوا ایمرجنسی میں کیوں بلایا؟”
روم میں آتے ہی رانیہ فکر مندی سے بولی۔
“رانیہ میں ، میں بہت اپ سیٹ ہوں ۔”
وہ تمہید باندھنے لگی۔
“کیوں؟”
اس نے الجھ کر دیکھا۔
“میری شادی ہے نیکسٹ منتھ۔”
اس نے گہرا سانس لیا ، آنکھوں میں آتی نمی کو دھکیلا۔
“وٹ اور تم دونوں نے مجھے بتایا بھی نہیں ؟”
وہ شاکڈ سی بولی۔
“بتانے کے لیے ہی بلایا ہے یار ۔۔”
اس نے رانیہ کو دیکھا۔۔
” کب بات پکی ہوئی ، کب منگنی ہوئی ،، میں آپی کے گھر گئی تھی یار مری نہیں جو تم نے کچھ نہیں بتایا مجھے ، ایک اکلوتی دوست تھی تمہاری اور ہزار ارمان تھے میرے اور تم نے خون کر دیا ان کا ظالم لڑکی۔۔۔”
رانیہ نے جذباتی تقریر جھاڑی۔
“تمہارے تو صرف ارمانوں جب کہ میرے خوابوں ، دل ، اعتبار اور احساسات کا خون ہوا ہے۔۔”
وہ چہرہ ہاتھوں پر گرا کر رو دی۔۔
“کیا ، کیا ہوا ہے ارحہ ؟؟ حنان نے چیٹ کیا ہے کیا تجھے؟ آئم سو سوری میں شروع ہی ہو گئی بنا سنے ،،، روؤ مت ،، مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے ؟؟کیا حنان فلرٹ کر رہا تھا؟”
رانیہ اسے چپ کرواتی بوکھکلائی سی بولی۔۔
“نہیں حنان مجھ سے فلرٹ نہیں کر رہا تھا وہ تو سچا اور کھرا بندہ تھا ، قسمت نے چھین لیا اسے۔۔ “
وہ رانیہ ے سامنے ہی تو دل کھول کر رو سکتی تھی۔
“پلیززز بند کرو پہیلیاں،،، کیا ہوا ہے یہ بتاؤ۔۔ “
رانیہ نے اسے دیکھ کر کہاا۔
“حنان سے کچھ بات کرنی ہے بلکہ سمجھانا ہے ۔”
وہ نا سمجھ تھی کہ اس تک بات کیسے پہنچاۓ۔
“یعنی ؟ کیا ہوا ہے یار ؟ تمہاری شادی حنان سے ہے؟؟”
اس کی آنکھیں پیلی ہوتی رنگت دیکھ کر رانیہ اپ سیٹ ہوئی۔
“میری شادی حنان سے نہیں ہے۔”
اس نے آنسو کو بہنے دیا۔
“تو کس سے ہے؟”
وہ حیرانی سے گویا ہوئی ۔
“ع، عارش بھائی سے۔”
آنسو ساون کی بارش کی طرح برسنے لگے ۔
“عارش بھائی سے؟”
وہ صدمے سے بولی تو جواباً اس نے سارا قصہ ماما کی بلیک میلنگ سے لے کر بابا کو ہاں کرنے تک سنا دیا۔
“اتنا سب ہو گیا اور تم نے بتایا بھی نہیں ؟”
رانیہ دکھ سے بولی۔
“رانیہ یہ سب ایک دن میں ہویا ہے ، میں تو سنبھل جاؤں گی مگر حنان ، حنان تو زمین آسمان ہلا دے گا۔”
وہ نمی میں گھلی آواز میں بولی ۔
“تم اسٹینڈ نہیں لو گی؟”
وہ چونک کر بولی۔
“نہیں میں مما کو ناراض نہیں کر سکتی ، عارش بھائی بھی ایک سچے انسان ہیں یار میں ان کو دھوکا نہیں دے سکتی ، اس لیے میں عارش بھائی کو سب بتا دوں گی۔ “
اس نے آخر میں کچھ سوچتے ہوۓ کہا۔
“تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے نا؟؟”
رانیہ نے آخری جملے پر اسے کہا۔
“تو کیا کروں میں ؟؟؟”
اس نے دکھ سے کہا۔۔
“وہی جو بنت حوا کرتی ہے اور اسے زیب دیتا ہے۔”
رانیہ نے کہا تو اس نے الجھ کر دیکھا ۔
“میرا مشورہ مانو گی؟”
رانیہ نے ابرو اچکاۓ تو اس نے فوراً سر اثبات میں ہلایا۔
“ارحہ میری جان خاموش ہو جاؤ،، بیٹیوں کو ہمیشہ خاموشی ہی زیب دیتی ہے ،، پھر چاہے وہ بادشاہ کی ہو یا کنیز کی ، حنان کو سچ بتا دینا سب مگر فی الحال خاموشی ہی بہتر حل ہے کیونکہ ماں باپ جو کرتے ہیں وہ بہترین ہوتا ہے اور عقلمندی اور فرمانبرداری اسی میں ہے کہ ماں کی بات سن لو،،، میں آنٹی کی بات سے اایگری کرتی ہوں کہ عارش بھائی تمہیں خوش رکھیں گے۔”
رانیہ نے اسے سمجھایا۔
“رانیہ مجھے اپنی نہیں یار بس حنان کی فکر ہے ،،۔”
وہ آنسو بہاتے ہوۓ بولی.
“تم اس وقت صرف اپنی ماما کا سوچو ،، ماما زبان دے چکی ہیں کیونکہ ان کو یقین تھا کہ ارحہ کی لائف میں اگر کوئی ہوتا تو وہ بتا چکی ہوتی اب تک ،، سارا قصور ہی تمہارا ہے ، کتنا کہا تھا نا تمہیں میں نے ، حنان نے کہ بتا دو ماما کو مگر تم ، تم کہتی یہ صحیح وقت نہیں ،، کبھی کبھی دوسروں کی مان لینی چاہیے کیونکہ کبھی کبھی صحیح وقت کے انتظار میں وقت ہی نکل جاتا ہے ہاتھ سے،، اب تم کو سنبھلنا ہو گا۔۔۔ “
رانیہ نے دکھ سے کہا۔
“مجھے کیا پتہ تھا یار کہ سب اتنی جلدی ہو جاۓ گا ، عارش بھائی کی طرف تو میرا کبھی غلطی سے بھی دھیان نہیں گیا تھا۔”
اس کی آواز میں نمی تھی ، دکھ تھا ، ملال تھا۔۔۔
“تم کوشش کرو کہ اس بات کا پتہ عارش بھائی کو کبھی بھی نہ چلے کیونکہ یہ تو تم جانتی ہو نا کہ مرد کبھی برداشت نہیں کر سکتا کہ اس کی بیوی۔۔۔”
رانیہ نے کہا تو اس نے سمجھ کر سر ہلایا۔
“پرسوں منگنی کا فنکشن ہے تو حنان سے ملنے کا وقت بھی نہیں ہے نا ، منگنی کے بعد کوشش کرنا کہ اسے سب بتا دو، مجھے امید ہے وہ سمجھ جاۓ گا،، وہ عام لڑکوں کی طرح ضدی اور عزتوں کی اچھالنے والا نہیں ہے، تم نے اب ہر قدم پھونک کر رکھنا ہے میری جان ،، اگر وہ ایموشنل بلیک میل بھی کرے تو بھی نہیں خود کو لڑکھڑانے دینا ،، بیٹی کا قدم ذرا سا ڈگمگاۓ تو سارا خاندان منہ ے بل گرتا ہے ،، مجھے تو لگ رہا ہے کہ وہ سمجھ جاۓ گا بلکہ اسے سمجھنا ہو گا ۔۔ “
رانیہ نے اس کا ہاتھ تھام کر تسلی دی ،، کبھی کبھی جذباتی وقت میں کسی کی ایک غلط گائیڈ لائن ہمیں بھٹکا دیتی اور ایک نصیحت ہمیں بچا لیتی۔۔
“نہیں رانیہ تم نہیں جانتی اسے ، وہ نہیں سمجھے گا ، وہ تو شاید عارش بھائی تک بھی پہنچ جاۓ ، اس نے میری جان کو آنا ہے کہ کب کا تمہیں کہہ رہا تھا کہ گھر بات کرو مگر تم کہتی تھی کر لوں گی ،، ، وہ خاموش نہیں بیٹھے گا، وہ سمجھے گا میں نے بیوفائی کی ہے۔۔ “
وہ روتے ہوۓ بولی تھی۔
“ہر الزام قبول کر لینا، ہر شکوہ سن لینا ، ہر ایموشنل بلیک میلنگ کو رد کر دینا۔ وہ بے وفا کہے تو کہنا ہاں میں بے وفا ہوں ، تمہیں اچھی بیٹی بننا ہے ،، اس سے خوش ہی نہیں پرسکون بھی رہو گی،، اگر وہ بغاوت کا کہے تو سمجھنا کہ اس کی محبت سچی نہیں ،، ارحہ کبھی بھی ماں باپ کو چیٹ نہ کرنا ورنہ لکھوا لو کل یہ حنان ہی تمہیں کہے گا کہ اللہ کرے میری بیٹی تم پر نہ جاۓ ، تب تم پچھتاؤ گی ،،، ماں باپ کی محبت پر ہزاروں حنان قربان ،، وہ دن کبھی بھی زندگی میں نہ آنے دینا جب تمہارا باپ یہ کہنے پر مجبور ہو جاۓ کہ کاش میں بے اولاد ہوتا ، ایسا تب ہی ہو گا جب تم مضبوط بنو گی، اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے جسے ہم وقت پر نہیں سمجھ پاتے اور جب سمجھ آتی ہے تو سوچتے ہیں کہ کتنے پاگل تھے ہم ،، اس وقت ثابت قدم رہو جو کہ ذرا سا مشکل ہے ناممکن نہیں ،، دل کو سمجھاؤ اور دعا مانگو، ایز یو نو اللہ از بیسٹ پلینر،۔۔۔”
رانیہ ایک سچی دوست کا کردار نبھا رہی تھی،، اس کو ڈر تھا وہ جذبات میں کوئی غلط قدم نہ اٹھا لے۔ ارحہ واقعی اس کی ہر بات سمجھ رہی تھی۔
“اس وقت میری نصیحتیں شاید تمہیں بری لگ رہی ہوں مگر سب کو سوچنا ضرور۔۔”
رانیہ نے اس کے لگاتار بہتے آنسو پونچھے۔
“بس کر دو یار۔”
رانیہ نے اپنی آنکھوں کی نمی چھپانے کے لئے اسے گلے لگا لیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
بچھڑنا جن سے نا ممکن سمجھتا تھا
وصی
مجھے ان سے ملے اب زمانہ بیت گیا۔










یہ مجھ میں کس نے_____بھر دی خاموشی
میں تو وہ تھا جو بہت شور کرتا تھا۔![]()
![]()
حنا یونی سے آ کر لاؤنج میں بیٹھ گئی تھی ، لنچ وہ یونی میں ہی کر آئی تھی، حنان کے بنا سب اداس تھا۔۔۔
“اوۓ موٹے ،تم ، تم کیوں آۓ ہو اب ؟ تم نے بولا تھا نا کہ حنان مامو کے آنے سے پہلے نہیں آنا، تو اب کیوں؟ حنان کو تو آنے دیتے نا؟”
حنا نے افنان کو ہگ کرتے ہوۓ لاڈ سے اسے یاد دلایا۔۔
“تو مامو آۓ ہیں ناں ، تبھی آۓ ہیں ہم سب۔”
افنان نے اسے کِس کرتے ہوۓ بتایاا۔
“حنان آیا ہوا ہے؟”
وہ چونکی کیونکہ اسے معلوم ہی نہیں تھا۔
“جی ہاں جی،، وہ تو صبح آ گئے تھے ، میرے لیے پلین لاۓ ہیں ، عمار اور فاہم کے لئے ریمورٹ کار اور حرم کے لیے ڈول اور بینگلز، آپ بھی گفٹس لے لو جا کر۔۔”
وہ معصوميت سے بولا اور ٹوائز سے کھیلنے لگا۔۔
“حنان آ چکا ہے اور مجھے بتایا بھی نہیں ، نہیں ملوں گی میں بھی ،،،،، نہیں حنا فقط ایک ذرا سسی غلط فہمی ہماری بچپن کی دوستی توڑ سکتی ،،، بھاڑ میں گئی یہ انا ،، راضی تو ہو ہی جانا ہے تو ابھی کیوں نہیں۔۔”
اس نے ٹہلتے ہوۓ سوچا۔
“اوکے میں آئی تم یہیں کھیلنا۔۔۔۔”
وہ بھاگتی ہوئی سیڑھیاں چڑھتی چلی گئی۔
“حنان کدھر ہے ؟”
اس نے تائی امی کو دیکھا۔
“وہ روم میں ہے، جاؤ مل لو۔”
تائی امی نے مسکرا کر بتایا تو وہ بھاگتی ہوئی اس کے روم کی طرف آئی ،، حنان ونڈو کے پاس کھڑا تھا ۔
“آدھا گھنٹہ ہو گیا ہے کہ حنا کو آۓ ہوۓ اور ابھی تک مجھ سے ملنے نہیں آئی ،، انا جیت گئی۔۔”
حنان دکھ سے سوچ رہا تھا،، بلاوجہ کی غلط فہمی تھی بلکہ مان تھا دونوں کو وہ پہلے ملنے آۓ ، حنا بنا کھٹکھٹائے روم کے اندر آئی تو حنان چونک کر پلٹا ۔
“حنان۔”
اس نے جذبوں سے بھرپور آواز میں کہا۔
“حنا۔”
وہ بھی خوشی و حیرانی سے بولا۔ جیسے وہ بن مانگی دعا کی طرح آئی ہو وہ بھرپور مسکرایا تھا۔
“چڑیل کیسی ہو؟؟”
وہ خوشی سے بولا۔ سب ناراضی پس پشت ڈال کر۔
“تمہیں کیا لگے کیسی ہوں۔؟”
اس نے مصنوعی غصے سے کہا۔
“کیا مطلب ؟؟؟ کیا ہوا ہے؟؟”
وہ پریشانی سے گویا ہوا۔
“تم نے مجھے کال کیوں نہیں کی ؟”
وہ دکھ سے اس کے پاس آتی ہوئی بولی۔
” وٹ ؟ میں نے کال نہیں کی؟ میں نے ہزار بار کال کی ہے، تم نے پک نہیں کی محترمہ، الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ۔۔”
حنان اس الزام پر تڑپ اٹھا تھا۔
“جھوٹے ،، جھوٹ کم بولا کرو ،دیکھو یہ سیل ، ایک بار بھی کال نہیں کی اور کہہ رہا ہزار بار کی ہے۔”
حنا نے موبائل اسے دیا اور گھورا۔۔
“لیکن یار ، تم یہ میرا سیل دیکھو ، میں نے کتنی بار کال کی ہے ، ایک منٹ ، ایک منٹ ، تمہارا فون فاہم اور افنان لوگوں کے پاس تو نہیں تھا ؟”
اس نے کچھ سوچتے ہوۓ آئی برو اچکا کر پوچھا۔
“ہاں تھا ، کیوں ؟”
وہ الجھ کر بولی ۔
“لُک ایٹ دِس ،آئم بلوکڈ ۔ “
وہ صدمے سے بولا۔
” اووو ہاں، اس دن فاہم سعد بھائی کو کال کر رہا تھا تو اس نے کر دیا ہو گا لیکن تم ۔۔۔۔۔”
وہ سر پر ہاتھ مارتے ہوۓ بولی۔
“میں سمجھا کہ تم،، تم ہی کال کر لیتی تو پتہ چل جاتا۔۔”
اس نے دکھ سے کہا۔
” بدتمیز میں سمجھی کہ تم سچ میں مجھ سے نفرت کرنے لگ گئے ہو ، میں اتنا روئی تھی تو کیسے کرتی کال۔”
وہ فوراً ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رو دی ۔
“اوۓ پگلی ، بچپن کی دوست کزن کرائم پارٹنر ہو یار ، بھلا تم سے کیسے نفرت کر سکتا ہوں ، ہاں غصہ تھا اور غصے میں اتنی بھی عقل کام نہیں کی میری کہ بلاک ہی ہو سکتا ہوں ،، ایکچوئیلی کسی نے کبھی بلاک کیا نہیں توو تجربہ نہیں ہے ، اچھا سوری نا۔”
وہ اس کے ہاتھ چہرے سے ہٹاتے ہوۓ دکھ سے بولا۔
“یو ،،،،،یو رئیلی ہرٹ می، نہیں بولنا اب تم سے”
اس نے روتے ہوۓ کہا اور جانے لگی تو حنان نے اس کی کلائی تھام لی اور بنا مزید کچھ کہے اسے اپنے ساتھ لگا دیا جس سے وہ مزید رو دی ۔
“آئم رئیلی ، ویری ، ایکسٹریملی سو سوری ۔ “
حنان نے اسے خود سے الگ کر کے آنسو پونچھ کر ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی ۔
“نہیں یار ، اٹس اوکے ، ایسے ہی ایموشنل ہو گئی۔”
حنا نے نفی میں سر ہلایا ۔
“تو سیدھا کہتی کہ گلے لگا لو ۔”
وہ ہنسا تو وہ گھورتے ہوۓ رخ موڑ کر کھڑی ہو گئی۔ ۔
“حنا یار سوری ،مجھے پتہ نہیں کیوں سمجھ نہیں چلی ،، غصہ عقل کا دشمن ہے ، چلو سوری ایکسپٹ کرو۔”
وہ پھر بولا کیونکہ وہ واقعی شرمندہ تھا۔
“ایک شرط پر؟”
حنا نے اسے دیکھا تو اس نے سر ہلایا۔
“اگر تمہارا لایا گفٹ پسند آ گیا تو۔؟ “
وہ مسکراتے ہوۓ بولی ۔
“اور اگر میں گفٹ نہ لایا ہوا تو؟”
حنان نے اسے دیکھا ۔
“اول تو یہ پاسبل نہیں ہے، سیکنڈ اگر ایسا ہوا تو آئی ول کل یو۔”
اس نے اپنے ناخن سامنے کیے جو اسریٰ کی شادی کے لیے بڑھا رہی تھی ۔
“جنگلی بلی ، یہ ناخن آنٹی نے دیکھ لیے تو بینڈ بجنی تو بجا ہے نا ؟”
وہ بیگ کھولتے ہوۓ بولا۔
“تمہاری آنٹی سے دو بار ڈانٹ کھا چکی ہوں ،، اب تو ڈیتھ ہو چکی ہوں ۔۔”
وہ ہنستے ہوۓ بولی۔
“یعنی میری طرح تمہارا بھی انسلٹ پیکج ویکلی سے منتھلی ہو گیا ہے اب ۔۔”
وہ ہنستے ہوۓ بیگ کھول کر بولا تو حنا نے قہہقہ لگایا۔
“یہ دیکھو ، کیسا ہے۔”
حنان نے ایک بہت پیارا لیمپ سامنے کیا ۔
“ارے واؤ ، حنان اٹس امیزنگ ۔”
وہ خوشی سے چلائی ۔
“یہ تمہاری شرٹس ہیں دو ۔”
اس نے سامنے کی ۔
“شکر ہے کل میرا فنکشن تھا ، شکریہ ۔ “
وہ خوشی سے شرٹس دیکھتے ہوۓ بولی۔
“کیسی لگی ؟”
حنان نے اسے دیکھا ۔
“بہت بہت پیاری ، سندھی کڑھائی تو بہت اٹریکٹو ہوتی ہے ، بہت بہت شکریہ پارٹنر۔”
اس نے مسکراتے ہوۓ کہا.
“کلوز یور آئیز ۔”
حنان نے کہا تو اس نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
“بند کرو آنکھیں ، انگلش سمجھ نہیں آتی نالائق لڑکی۔”
حنان نے ایک ہاتھ سے اس کی آنکھیں بند کی تو وہ ہنس پڑی ۔ حنان نے اس کی کلائی تھامی تو وہ سمجھ گئی تھی کہ یہ گفٹ ہر بار وہ لاتا تھا مگرکبھی بھی پرانا نہیں لگا تھا بلکہ ہر بار اہمیت بڑھ جاتی ۔
“پتہ تو چل گیا ہے مگر پھر بھی اوپن یور آئیز۔”
وہ مسکراتا ہوا بولا۔
“بیسٹ ایور گفٹ ، بہت بہت بہت پیاری ہیں یہ چوڑیاں ، کہاں سے لی تم نے ؟ حنان تھینکس آلوٹ ،۔ “
وہ خوشی سے کلائی پر پہنی رنگ برنگی چوڑیوں کو دیکھ کر بچوں کی طرح خوش ہو رہی تھی ۔
“نو نیڈ ڈئیر ، کیپ اسمائلنگ اور سن سیٹ اور ساحل پر جو گھر بنایا ان کی پکچرز واٹس ایپ کرتا ہوں۔۔”
وہ اسے مزید بتانے لگا۔۔
“حنان آج میرے پاس واقعی الفاظ نہیں تھینکس کے۔۔”
وہ بے حد خوش تھی۔
“نو نیڈ ، یہ سب میری خوشی تھی۔۔”
وہ اس کی خوشی سمجھ رہا تھا۔
” اب یہ بتاؤ ارحہ کے لئے کیا لاۓ ہو ؟”
اس نے ابرو اچکا کر شرارتی نظروں سے دیکھا۔
“کچھ بھی نہیں ۔”
اس نے نفی میں سر ہلایا۔
“کانٹ بیلیو دِس۔”
وہ شاکی ہوئی ۔
“قسم سے ، ایکچوئیلی میں اس کی پسند نا پسند سے واقف نہیں ہوں اتنا اسی لیے۔”
اس نے بہانہ بنایا۔
“تمہیں کچھ تو لانا چاہیے تھا نا؟”
وہ تاسف سے بولی ۔
“اگر حنا کے دل میں میرے لیے محبت ہوتی تو وہ ارحہ کے کچھ نہ لانے پر ہیپی ہوتی مگر یہ دکھی ہو رہی ہے جس کا صاف اور کلیئر مطلب ہے کہ اسوہ اور میں دونوں غلطی پر ہیں۔ “
حنان نے گہرا سانس لیا۔
“حنان جب اسے معلوم ہو گا کہ تم میرے لیے گفٹس لاۓ مگر اس کے لیے نہیں تو ڈیفینٹلی اسے برا تو لگے گا نا؟”
وہ اب حقیقتاً اپ سیٹ تھی ۔
“وہ ایسی نہیں ہے اور اگر ایسا سوچتی ہے تو مجھے افسوس ہو گا کہ وہ میری چوائس ہے ، حنا میں کسی کو بھی رائٹ نہیں دوں گا کہ وہ تمہارے لیے کوئی چیز لاۓ جانے پر اعتراض کرے ۔ “
وہ سچائی سے بولا۔
“پلیززز یار ، مجھے اچھا نہیں لگے گا یہ ، تم یہ ایک شرٹ اور کچھ چوڑیاں اسے دے دو۔ “
حنا نے فوراً کہا تو وہ آگ بگولا ہوا۔
“حنا تمہارے لاۓ گفٹس میں کسی دوسرے کو نہیں دوں گا ، ویسے بھی میں شادی سے پہلے اسے کوئی گفٹ نہیں دینے والا ، ہاں اگر منگنی ہو جاتی ہے تو پھر سوچوں گا مگر ابھی نہیں جب ہم ریلیشن شپ میں ہیں۔”
اس کی ہر منطق ہی نرالی ہوتی تھی۔
“اوکے بابا اگین تھینکس۔”
وہ چوڑیوں کو دیکھ کر پھر خوش ہوئی ۔
“آلویز ویلکم۔”
وہ بھی مسکرایا تھا۔
“اچھا میں نے کل کیک بنایا تھا۔”
وہ شرٹس اٹھاتے ہوۓ بولی۔
“پھر دو کپ چاۓ اور کیک لان میں لے آنا ۔”
حنان نے بیگ بند کرتے ہوۓ کہا۔
“تمہیں کیسے پتہ کہ میں نے تمہارے لیے رکھا ہے۔”
وہ حیرانی سے گویا ہوئی۔
“کیونکہ تم کوئی چیز میرے بنا کھاتی نہیں ہو، اگر تم نے نہیں رکھی تو اس کا مطلب صاف ہے کہ وہ چیز میرے لیے بہتر نہیں تھی۔ “
وہ کہہ کر ڈریسنگ روم میں چلا گیا۔
“کتنا جانتے ہو تم مجھے حنان، کاش کہ تمہارا دل بدل جاۓ، کاش کہ تم میری قسمت میں لکھ دئیے جاؤ ، اففف حنا کیا سوچ رہی ہو ، اسٹاپ دس۔”
اس نے سر پر چپت ماری اور چلی گئی ۔ چوڑیوں کی کھنکھن سے ماحول میں ارتعاش پیدا ہوا تھا۔۔۔
بہت ہی مان ہے تم پر
سنو پاس وفا رکھنا![]()
سبھی سے تم ملو لیکن
ذرا سا فاصلہ رکھنا![]()
بچھڑ جانا بھی پڑتا ہے
ذرا سا حوصلہ رکھنا![]()
وه سارے وصل کے لمحے
آنکھوں میں سجا رکھنا![]()
ابھی امکان باقی ہے
ابھی لب پہ دعا رکھنا![]()
بہت نایاب ہیں دیکھو
ہمیں سب سے جدا رکھنا![]()









بدلے ہیں مزاج ان کے کچھ دنوں سے
وہ بات تو کرتے ہیں مگر باتیں نہیں
آج اس کی منگنی تھی ۔ پرپل اور اسکن کلر کے امتزاج کا فراک پہنے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی ۔ بیوٹیشن اسے تیار کر رہی تھی ، تبھی موبائل بجا،، حنان کی کال تھی تو اس نے کچھ سوچ کر کال پک کی۔
“دو منٹ پلیز۔”
اس نے بیوٹیشن کو دیکھا تو وہ سر ہلاتی چلی گئی۔
“کیسی ہو؟”
اس نے سلام دعا کے بعد پوچھا۔
“ٹھیک، تم کیسے ہو؟”
ارحہ نے آنکھوں میں آتی نمی کو انگلیوں کے پوروں سے چنا تھا ۔
“میں بھی ٹھیک ہوں ، فرینڈ کی منگنی ہے ادھر ہی جا رہا ہوں، پتہ نہیں کب میری منگنی ہو گی۔۔”
حنان نے منہ لٹکاتے ہوۓ کہا تو ارحہ کو ہزار وولٹ کا کرنٹ لگا ، اسے لگا حنان سب جان چکا ہے۔
“ک ، کس فرینڈ کی ؟”
اس نے پانی کا گلاس اٹھاتے ہوۓ کہا۔
“تم نہیں جانتی اسے ۔”
حنان نے کہا تو وہ خاموش ہو گئی ۔
“نام کیا ہے ؟”
اس نے مزید پوچھا ۔
“حنا ، حنا کیا ہوا ؟ او شٹ آئی جسٹ کم۔”
حنا کی چیخ پر اس نے ٹیرس سے نیچے دیکھا۔ جہاں حنا سر پکڑ کر بیٹھی تھی ، خون بہہ رہا تھا۔
“آئی کال یو لیٹر یار ،،، حنا کو لگ گئی ہے۔ “
وہ سیڑھیاں پھلانگتا ہوا نیچے آیا۔
“حنا ،،، اٹھو حنا ،،،، افففففففف خون۔۔ ۔”
اس نے حنا کا ماتھا دیکھا جہاں سے خون بہہ رہا تھا۔
“ڈرائیور گاڑی نکالو۔”
اس نے چلا کر کہا ، حنا بھاگتی ہوئی آ رہی تھی تو اس کا سر پلر سے ٹکرا گیا تھا۔
بہت خوش نصیب ہوں میں
کیونکہ
تیرے دل کے قریب ہوں میں




“کیا ہوا؟”
رانییہ روم میں آئی تو اس نے جواباً سب بتا دیا۔
“افففففف تو ہزار دوست ہو سکتے ہیں پگلی ۔”
رانیہ نے چپت رسید کی ۔ بیوٹیشن آ کر فائنل ٹچ دے گئی تو دادو اور تنزیلہ بیگم نے اس کی بلائیں لیں۔
“بلا کی حسین لگ رہی ہو۔”
رانیہ نے کہا تو وہ فقط مسکرائی ۔عارش نے بھی اس کے کنٹراسٹ کی ڈریسنگ کی تھی تو وہ اپنی سنجیدگی کے ساتھ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا ۔ چھوٹا فنکشن ہونے کی وجہ سے گھر کے لان میں ہی تھا۔ ہلکا ہلکا میوزک بج رہا تھا ، چند سہیلیاں اسے دوپٹے کی آڑ میں اسٹیج پر لائیں، عارش کی تو نگاہیں ہٹنے سے انکاری تھیں سو اس نے گہرا سانس لے کر خود کو نارمل کیا کیونکہ سب دوست معنی خیز کھانس رہے تھے۔
“چلو بھئی عارش بیٹا رنگ پہنا دو۔”
دادو نے مسکرا کر کہا ۔
“ارحہ ہاتھ دو بچے۔”
تنزیلہ بیگم نے کہا تو ارحہ نے مٹھی بھینچتے ہوۓ ہاتھ آگے کیا تو عارش نے اسکا ہاتھ تھام کر تیسری انگلی میں انگوٹھی پہنا دی ، ارحہ نے لب بھینچے ۔
“ارحہ کنٹرول یور سیلف پلیزز ، عارش بھائی کی نظریں تم پر ہیں ، تم جانتی ہو کہ وہ عقابی نظر رکھتے ہیں۔”
رانیہ نے اس کے کان میں کہا تو اس نے گہرا سانس لیا اور رنگ عارش کو پہنانے لگی ۔ سب نے تالیاں بجائیں اور چند ایک شرارتوں کے بعدد سب کھانا کھانے لگے۔ سٹیج پر اب ان دونوں کے سوا کوئی نہیں تھا۔
اس نے عارش کی طرف دیکھا تو وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
ارحہ نے فوراً نگاہیں جھکا دیں۔
” بہت پیاری لگ رہی ہو۔”
عارش نے پلیٹ ٹیبل پر رکھتے ہوۓ کہا تو وہ بلش کر گئی تھی ، یہ رنگ دیکھ کر عارش مسکرایا تھا۔
اس کے بعد دونوں کی کافی تصاویر کی گئیں۔ عارش بلا شبہ آج بہت خوش تھا، وہ اپنی خوشی کو دل میں چھپا کر جینے والا انسان تھا، ارحہ اس سے بےخبر تھی۔
ارحہ منگنی بعد آکر روم میں رو دی تھی۔
“تم خوش ہو نا؟؟”
دادو نے عارش کو دیکھا۔۔
“کمال نہیں ہو گیا نانو ۔۔”
عارش نے ان کو دیکھا۔
“کیا؟”
نانو نے اسے دیکھا۔
“یہی کہ روز آپ یہی پوچھتی ہیں کہ تم خوش ہو؟؟”
اس نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
“دل کی تسلی کرتی ہوں ،، عارش ایک بات یاد رکھنا کہ ارحہ میرے دل کا ٹکڑا ہے اس کو کبھی کوئی دکھ نہ دینا،، وہ بہت ڈرتی ہے تجھ سے اس لیے ڈانٹنا تو بلکل نہیں ورنہ مجھے دکھ ہو گا۔۔۔”
دادو نے اس کو سمجھایا۔۔
“دادو وعدہ شادی کے بعد کبھی نہیں ڈانٹوں گا۔۔،، شادی سے پہلے کا وعدہ ممکن نہیں ۔۔۔”
وہ شرارت سے کہتا چلا گیا۔
“شریر ۔۔”
دادو ہنس دی تھیں۔
محبت سے پیش آؤ گے تو جان تک قربان کریں گے۔
ضد کرو گے تو ہم اناپرستی کی انتہا رکھتے ہیں۔
“کیسی طبیعت ہے اب بیٹا؟”
تایا ابو نے حنا کو دیکھا جس کے ماتھے پر پٹی تھی۔
“اب بہتر ہوں تایا ابو ۔”
اس کی آواز میں نقاہت تھی۔
“بچے آہستہ چلا کرو، کیا ضرورت تھی بھاگنے کی ، دیکھو سب کتنا اپ سیٹ ہیں، اسپیشلی حنان۔ “
بابا نے حنان کی طرف اشارہ کیا تو اس نےحنان کو دیکھا جس کی سرخ آنکھیں گواہ تھیں کہ وہ واقعی پریشان تھا بلکہ سب ہی فکرمند سے کھڑے تھے۔
“سوری تایا جان ، بابا جان ، ایکچوئیلی میرا دھیان نہیں گیا اور میں ٹکرا گئی تھی پلر سے ۔”
اس نے نم آنکھوں سے کہا۔
“تمہارا دھیان ہو تب نا؟ ہر وقت دھیان اس منحوس موبائل میں رہتا ہے ، جس سے کھانے کا ہوش نہ پینے کا۔”
جویریہ بیگم خفا سی بولیں۔
“افففففف بس کریں اب آپ لوگ ، شی از فائن، اچھا ہوا اسے لگ گئی ، گندہ خون نکل گیا اب شاید نہ کرے اوٹ پٹانگ حرکتيں ۔”
حنان نے آخری جملہ شرارت سے اس کے کان میں بولا تھا جس سے حنا نے گھوری سے نوازا۔
“چلو اب اسے ریسٹ کرنے دو ۔”
فرح بیگم نے کہا تو ایک ایک کر کے سب چلے گئے۔
“کس کے خیالوں میں گم تھی تم جو دنیا و مافیہا سے بے خبر اپنا دماغی توازن کھونے کی پریکٹس کر گئی۔؟”
حنان بظاہر سنجیدگی مگر شرارتی انداز میں بولا۔
“تمہارے پاس آ رہی تھی میں ،؟”
وہ منہ بناتی ہوئی بولی ۔
“میرے پاس کیوں؟ میں بھاگا جا رہا تھا جو تم بھاگی ؟”
وہ آنکھیں گھما کر بولا۔
“میں نے سوچا تھا کہ عارش بھائی کی منگنی پر جاؤں۔”
اس نے جلد بازی کا مقصد بتایا۔
“اووو تو کیا کہوں تم کو نہ تم خود گئی اور مجھے بھی روک لیا چڑیل کہیں کی اب وہ ناراض ہو گا ۔”
یاد انے پر حنان نے خفگی سے کہا۔
“تو کال کر لو ان کو اور بتا دینا کہ میں بیمار تھی۔”
حنا مے اسے آئیڈیا دیا ۔
“کہیں یقین ہی نہ کر لے؟”
حنان نے کال ملائی مگر پہلی ہی کال پر ڈراپ ہو گئی۔
“تو کم بولا کرو نا جھوٹ ۔۔”
حنا نے شرم دلائی۔
“مذاق کرتا ہوں میں ۔۔۔”
اس نے تصیح کی اور دوبارہ کال ملائی۔
“جھوٹ جھوٹ ہوتا ہے مذاق یا سچ نہیں ۔۔”
حنا سنجیدگی سے بولی۔
“بس کر دو یار ، اب وہ کال کاٹ رہا ہے ۔۔”
حنان نے منہ لٹکایا۔
“سوری یار میری وجہ سے تم نہیں جا سکے۔۔۔”
حنا نے افسوس سے کہا۔
“اٹس اوکے یار اب کچھ سوچو ،،، اس کی زندگی کا اہم دن تھا اور میں ہی نہیں تھا۔۔۔”
اسسے اب واقعی افسوس ہو رہا تھا۔
“آئیڈیا ہے میرے پاس ،،،،ہم کل ان کے آفس جا کر سرپرائز کر دیں گے ان کو ، میری چوٹ دیکھ کر معافی کے کافی زیادہ چانسز ہیں۔”
اس نے شرارتی نظروں سے کہا ۔
“بجا فرمایا محترمہ ، چلو شب بخیر ۔”
حنان اٹھتے ہوۓ بولا تو اس نے بھی مسکرا کر کہا ۔
حنان ارحہ کو کال کر رہا تھا جو کہ وہ اگنور کر رہی تھی، اس کو شدید حیرانی کے ساتھ ساتھ اب پریشانی بھی ہو رہی تھی کیونکہ ارحہ ایسا کرتی نہیں تھی ۔ جب کہ وہ نہیں جانتا تھا کہ ارحہ سے حق چھین لیا گیا تھا۔۔۔
نادانیاں جھلکتی ہیں ،،،،،،،میری عادتوں سے
میں خود حیران ہوں مجھے عشق ہوا کیسے







ارحہ رات کو جلد سو گئی تھی ، اس کی آنکھ عجیب سی آواز پر کھلی تو وہ فوراً اٹھی ۔ چند ثانیے اسے سمجھنے میں لگے یہ آواز موبائل وائبریشن کی تھی ۔
“عارش بھائی کالنگ دیکھ کر اس نے لب بھینچے ۔ یہ وہ کال تھی جسے نظرانداز کر کے وہ خطرہ مول نہیں لے سکتی تھی نہ ہی اس شخص سے بیماری کا بہانہ بنا سکتی تھی ، وہ ہر مسئلے کا حل رکھتا تھا۔
“اسلام علیکم۔”
اس نے کال پک ہوتے ہی کہا۔
“وعلیکم اسلام !”
عارش نے بھی جواباً سلامتی بھیجی ۔
” کیسی ہو؟”
اس نے آئینے کے سامنے کھڑے ہوتے ہوۓ پوچھا۔
“الحمدللہ ٹھیک ہوں، آپ کیسے ہیں عارش بھائی ؟”
بھائی کہہ کر اسے رشتہ یاد آیا تو لب بھینچ گئی ۔
“کرم ہے اس پاک ذات کا۔”
اس کے بھائی کہنے پر پتہ نہیں اس کے لبوں کو مسکراہٹ چھو گئی تھی ۔
“بڑی بات ہے عارش بھائی نے طعنہ نہیں مارا ۔”
اس نے حیرانی سے موبائل کو دیکھا ۔
“چلو ٹھیک ہے جلدی آفس آ جاؤ، ہوتی ہے ملاقات ۔”
عارش نے کہا تو اسے کرنٹ لگا ۔ وہ ایک مشرقی لڑکی اپنی فرسودہ رسموں کی پابندی کرنا چاہتی تھی۔
“آج کیسے؟”
وہ اسے صاف انکار نہ کر سکی ۔
“”کیوں آج کیا ہے ؟؟؟”
عارش نے نا سمجھی سے پوچھا۔
“یا عارش بھائی کو یاد نہیں کل منگنی ہوئی ہے یا ایک رتی بھر اہمیت نہیں ہے ان کی نظر نے۔۔۔”
کنپٹیاں سہلاتے وہ گہری سوچ میں گم تھی۔
“ارحہ تم لائن پر ہو۔۔”
اس کی سخت آواز ابھری۔
“جی ،، وہ میں نے اسس دن اتنا زیادہ کام کیا تھا اس لیے آج نہیں آ سکتی میں ۔۔۔”
اس نے حوصلہ متجمع کر کے کہا۔
“تم کتنے دن سے لییو پر ہو ،،، تم آفس آ رہی ہو آج اور وہ بھی ضرور ، آج بہت اہم میٹنگ ہے جس میں تمہارا ہونا سب سے اہم ہے۔”
عارش نے پروفیوم کا چھڑکاؤ کرتے ہوۓ کہا۔
“اچھا ۔”
وہ گہرا سانس لے کر رہ گئی کر بھی کیا سکتی تھی۔
“ہاں بلکل ، اوکے ٹیک کئیر ، سی یو باۓ اور ہاں سنو۔”
وہ کال کاٹنے لگا پھر بولا۔
“جی بولیے؟”۔
وہ بمشکل ضبط کرتی بولی۔
“میں تمہیں پریزنٹیشن بھجوا دو گا بلکہ واٹس ایپ کر دیتا ہوں تم دیکھ کر لو ، غلطی کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ تم جانتی ہو کہ میں غلطی برداشت نہیں کرتا۔”
اس نے گہرا سانس لیتے ہوۓ کہا اور الوداعی کلمات کہ کر کال ڈراپ کر دی جب کہ ارحہ اس کے آخری الفاظ سے کانپ گئی ، ٹھنڈ میں بھی پسینہ آ گیا۔
“اگر ان کو معلوم ہوا کہ میں بھی کسی کے ساتھ ریلیشن شپ میں رہی تھی تو ،،،، نہیں نہیں کبھی پتہ نہیں چلنے دوں گی ،، مجھے اب سنبھل کر چلنا ہے۔۔۔ “
ایک موتی پلک سے گر کر بےمول ہوا تو وہ آنکھیں رگڑتی ہوا شاور لینے چلی گئی ۔
تم نے دیکھا،،،،،،،،، محض مجھے خوش باہر سے
میرے اندر کی چیخیں تیرا دل پھاڑ سکتی ہیں







وہ بابا کے ساتھ آفس آئی تو عارش ریسپشن کے پاس کھڑا کال سن رہا تھا۔
“اسلام علیکم مامو جان ، کیسے ہیں آپ؟؟؟”
وہ مسکرا کر صفدر صاحب سے بغلگیر ہوا۔
“الحمد للہ میں ٹھیک تم کیسے ہو؟؟”
وہ مسکراتے ہوۓ بولے۔۔
“جی میں بھی ٹھیک ہوں ۔”
وہ آہستگی سے بولا۔
“اوکے بیٹا میں میٹنگ اٹینڈ کر لوں ، ارحہ سے مل لو۔”
انہوں نے ارحہ کی طرف اشارہ کیا تو عارش نے اسے دیکھا نیلے رنگ کے اسٹائلش سے کرتے میں وہ کافی حسین اور دل کے قریب لگ رہی تھی۔
“کیسی ہو ؟”
وہ جیبوں میں ہاتھ ڈالے اسے دیکھتے ہوۓ بولا۔
“ٹھیک۔”
اس نے بنا دیکھے کہا۔
“ویلکم اور مس ثمر آپ ان کو کیبن دکھا دیں ان کا ،، میں پانچ منٹ تک آتا ہوں۔۔”
اس نے ثمر کو اشارہ کیا تو اس نے سر ہلایا۔
“اور ہاں مسس ثمر انہیں صرف کیبن کے پاس چھوڑنا ہے ، چیئر پر نہیں بٹھانا اس لیے پانچ منٹ میں واپس آئیں۔”
اس نے ثمر کو کہا تو دونوں پیچ وتاب کھا کر رہ گئیں۔
وہ کیبن میں بیٹھی موبائل کے ساتھ لگی تھی جب عارش آ گیا تو اس نے موبائل سائیڈ پر رکھا۔۔
“یہ کام دیکھ لو۔۔”
عاارش نے لیپ ٹاپ سامنے رکھا اور ایک ہاتھ ارحہ کی چیئر کی بیک پر جب کہ دوسرے سے لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلانے لگا، ارحہ نے اسے دیکھا ، ہلکی بڑھی شیو کے ساتھ وہ ہینڈسم لگ رہا تھا۔
“مجھے بعد میں تسلی سے دیکھ لینا تمہارا ہی ہوں ، فی الحال کام پر فوکس کرو۔۔”
اس نے بنا دیکھے ہی جان لیا کہ وہ دیکھ رہی ہے جب کہ ارحہ شرمندہ ہو گئی۔
“اوکے نہ کچھ سمجھ آۓ تو بتا دینا ۔”
وہ کہہ کر چلا گیا۔
“کھڑوس ،،، دیکھ نہیں رہی تھی میں بھلا اس کو کون دیکھے ، حد ہے۔۔۔۔”
اس نے دانت پیس کر گہرا سانس لیا۔






“حنا کی بچی کدھر رہ گئی ہو تم؟”
حنان نے اسے کال ملائی۔ وہ پارکنگ ایریا میں کھڑا تھا۔
“یار بس آ گئی صرف پانچ منٹ۔”
حنا نے شور کہ وجہ سے اونچی آواز میں کہا ، آج اس کی یونی میں فنکشن تھا سو حنان لینے آیا تھا۔
” کب سے آیا ہوا ہوں میں یہاں ، تمہاری یونی کی حسینائیں بلکہ بلائیں میرے آگے پوچھے گھوم رہی ہیں، یار مجھے ڈر لگ رہا ہے۔”
اس نے منہ بنایا جب کہ آگے پیچھے گذرتی لڑکیوں کا ٹولہ ہنس پڑا تو حنان نے دانت پیسے ۔
“تم اتنے شریف اور معصوم تو بکل نہیں ہو۔۔”
وہ پارکنگ ایریا کی طرف آتی ہوئی بولی۔
” تم آ بھی جاؤ یار اب۔۔۔”
اس نے منہ بنایا۔
” آ بھی گئی ،،،کہاں کھڑے ہو تم ؟”
وہ پارکنگ میں کھڑی گاڑیاں دیکھتے ہوۓ بولی۔
“پارکنگ میں ۔”
وہ اطمينان سے بولا۔
“مسٹر حنان ۔”
اس نے دوبارہ گاڑیاں دیکھتے دانت پیسے ۔
“جی حنان کی جان۔”
وہ گاڑی سے ٹیک لگاۓ بولا ۔
“آپ کی گاڑی پارکنگ ایریا میں نہیں ہے ، ایسا کوئی جادوئی طریقہ ہے بھی نہیں کہ گاڑی پارکنگ سے نکال دی جاۓ سو آپ آگے پیچھے دیکھیے کہ آپ کی شاہی سواری کہاں کھڑی ہے؟”
حنا نے غصے سے دانت پیسے تو حنان سنجیدہ ہوا۔
“اوووووو اووووو سو سوری ، میں کینٹین کے پاس کھڑا ہوں ابھی آیا میری جان۔”
اس نے کال کاٹتے ہوۓ ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔
“ایڈیٹ ۔”
حنا نے بالوں کو کانوں کے پیچھے اڑستے ہوۓ کہا ، پانچ منٹ بعد حنان نے گاڑی اس کے پاس لا کر روکی۔
“لفٹ چاہیے آپ کو؟”
اس نے شرارتی نگاہوں سے حنا کو دیکھا جو ٹی پنک کلر میں سادے سے حلیے میں بھی کافی دلکش لگ رہی تھی۔
“مسٹر تم ایسا کرو کہ بس یا رکشہ خرید لو تاکہ کسی کو لفٹ کا کہتے اچھے بھی لگو نا؟ اب ہر ایک کو کہتے پھر رہے ہو کہ لفٹ چاہیے تو ہضم نہیں ہوتا کہ بظاہر ویل سیٹلڈ دکھنے والا لڑکا کار کو پبلک ٹرانسپورٹ بنا رہا۔۔ “
ایک لڑکی غصے سے تلملاتی کہتی ہوئی چلی گئی ۔
“ہاہاہاہاہا ۔”
حنا تو ہنستی ہوئی گاڑی میں بیٹھ گئی جب کہ حنان پیچ وتاب کھا کر رہ گیا۔
“یہ کون بدتمیز تھی؟”
حنان نے کار اسٹارٹ کرتے ہوۓ حنا کو دیکھا۔
“شاید اسے کبھی تم لفٹ اوفر کر چکے ہو۔”
حنا فرائز کھاتے ہوۓ ہنسی۔
“بدتمیز ۔”
وہ بڑبڑایا تو حنا نے فرائز آگے کیے۔
“حنا ہمیں کہیں جانا تھا ، یاد ہے نا تمہیں ؟”
اسے یاد آیا تو اس نے حنا کو دیکھا ۔
“افکورس یاد ہے ، پھول اور سویٹس لے لو ۔ “
حنا نے اسے دیکھا۔
“تم نے گفٹس لیے تھے نا؟”
اس نے گاڑی سلو کرتے ہوۓ کہا۔
“ہاں لیے تھے ، کیک بھی بیک کیا تھا تم لاۓ ہو نا؟”
اس نے چونک کر حنان کو دیکھا۔
“ہاں لے لیے ہیں۔”
اس نے سر اثبات میں سر ہلایا۔ باتوں باتوں میں وہ لوگ عارش کے آفس کے باہر کھڑے تھے ۔
“ویسے تمہیں لگتا کہ منگنی کے اگلے ہی دن عارش بھائی آفس آ سکتے ؟؟”
حنا ابھی تک بے یقین تھی۔۔
“وہ عارش ہے میری جان اس کا بس چلے تو اپنی فیانسی کو بھی آفس بلا کر کام دے دے۔۔”
وہ کہتا کہتا ریسپشن کی طرف آیا۔
“عارش ہے۔”
اس نے عانیہ کو دیکھا تو اس نے سر ہلایا ۔
“دیکھا؟؟”
اس نے حنا کو دیکھا اور دونوں ہنستے ہوۓ اندر بڑھے۔
“رکیے سر ۔”
عانیہ نے کہا تو وہ دونوں رک گئے۔
“سر سے پرمیشن لے لوں، دومنٹ۔”
عانیہ نے کہا تو وہ مسکرایا ۔
“ڈئیر ہمارا سرپرائز خراب ہو جاۓ گا اینڈ ٹرسٹ می آپ کو عارش کچھ نہیں کہے گا، سو ڈونٹ وری ۔”
وہ دونوں چلے گئے تو عانیہ لب بھینچ کر رہ گئی۔
“اسلام علیکم۔”
وہ دونوں آفس میں آۓ تو وہ چونکا۔۔۔
“وعلیکم اسلام ، کیسی ہو حنا ؟”
وہ مسکرا کر کھڑا ہوا اور اس سے دعا سلام کرنے لگا جب کہ حنان کو اگنور کرنے لگا۔
“عارش بھائی منگنی بہت بہت مبارک ہو۔”
اس نے مسکرا کر کہا ۔
“شکریہ گڑیا۔”
وہ مسکرایا۔
“یار تیری قسم میں آ رہا تھا یہ گر گئی تھی ،، سارے فساد کی جڑ یہ ہے اور تو اس سے ہنس کر مل رہا اور میں جو مکمل تیار تھا اس سے ناراض۔۔ناٹ فیئر۔”
حنان نے منہ لٹکا کر معصوميت سے کہا ۔
“عارش بھائی یہ ٹھیک کہہ رہا ہے کیونکہ میں ٹکرا گئی تھی پلر سے یہ دیکھ لیں ، میں بھی آ رہی تھی۔”
اس نے پیشانی پر لگی چوٹ سامنے کی۔۔
“اووو ہووووو ، چلو معاف کیا ،ان تحائف کے لیے تھینکس آلوٹ اور میری شادی پر نو ایکسکیوز ۔”
اس نے دونوں کو وارن کرتے انٹر کام پر چاۓ اور لوازمات منگواۓ۔
“چل مبارک ہو بہت بہت ۔”
حنان اس سے بغلگیر ہوا۔۔
“شکریہ ،، میری شادی پر کوئی معافی نہیں یاد رکھنا تم دونوں ،، سب کو انوائیٹ کرنے آؤں گا میں ۔۔۔”
عارش نے دونوں کو باری باری دیکھا۔
“آپ فکر ہی نہ کریں ، ہم دونوں خوب ہلہ گلہ کریں گے۔۔”
حنان نے مسکرا کر اسے کہا۔
“”انشااللہ ،،، ویسے عارش بھائی لو میرج یا ارینج؟”
حنا نے اسے شرارتی نظروں سے دیکھا تو اس کی آنکھوں کے سامنے ایک حسین جھجھکتا چہرہ آیا ۔۔
“ٹوٹلی ارینج ، شریف بندہ ہوں میں ۔”
وہ مسکراتا ہوا بولا۔
“کچھ زیادہ ہی۔۔۔”
حنان شرارت سے بولا تبھی اس کا موبائل بجا۔
“ایکسکیوز می ،ہادی کی کال۔ “
حنان اٹھ کر باہر نکل گیا تبھی پانچ منٹ بعد ثمر اور ٹی بواۓ اندر آۓ۔ عارش کو ایک لڑکی کے ساتھ ہنستا ہوا دیکھ کر ثمر کو ہزار وولٹ کا کرنٹ لگا تھا۔
“سر یہ چیزیں بہت ہیں؟”
ثمر نے پوچھا تو عارش نے سر ہلا کر لوازمات کو دیکھا۔
“یسس ، تھینکس ثمر، ناؤ یو کین گو۔”
وہ مسکرا کر بولا تو ثمر کو اور حیرت ہوئی۔
“آخر کون ہے لڑکی ؟ کیا ارحہ کو بتاؤں؟”
وہ سوچتی ہوئی اپنی جگہ پر چلی گئی۔
“عارش بھائی اتنے تکلف کی تو ضرورت نہیں تھی۔”
حنا نے سجی ٹیبل دیکھتے ہوۓ کہا۔
“کچھ نہیں کیا میں نے ، یہ سب میرے سپیشل گیسٹ کے لیے بہت کم ہے ، باۓ دا وے زرنش سے بات ہوئی ؟”
اس نے حنا کو دیکھا ۔
“بہت بار ، اب تو دل کرتا لوٹ آئیں واپس،،، عالیان کی باتیں تو دل کرتا ہر وقت سنوں۔”
وہ مسکراتے ہوۓ اداسی سے بولی ۔
“سو تو ہے وہ بہت بہت پیارا لگتا ہے بولتا ہوا۔”
وہ بھی عالیان کے ذکر پر مسکرایا ۔
“ایک بہت اعلٰی نیوز ہے میرے پاس۔۔”
حنان مسکراتا ہوا روم میں آیا ۔
“کیا ؟”
دونوں نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔
“پرسوں ہادی اور بھابھی پاکستان آ رہے ہیں۔”
حنان خوشی سے بولا تو یہی حال حنا کا تھا۔ جب کہ عارش کو آلریڈی پتہ تھا ۔۔اس کے بعد وہ لوگ مزید تھوڑی دیر بیٹھے اور چلے گئے۔ عارش بھی ان دونوں کی کمپنی بہت انجواۓ کرتا تھا۔











“مجھے تم سے امپورٹنٹ بات کرنی ہے۔”
ثمر اس کے کیبن میں آئی۔
“کیا ہوا؟”
ارحہ نے اسے دیکھا۔
“میں ابھی ابھی عارش سر کے کیبن میں گئی تھی اور۔”
اس نے دانستہ بات ادھوری چھوڑ دی ۔
“اور ؟”
اس نے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹاتے ہوۓ اسے دیکھا۔
“تو سر ایک لڑکی کے ساتھ بیٹے ہنس رہے تھے ، بڑے خوش لگ رہے تھے قسم سے۔۔”
ثمر نے الجھتے ہوۓ کہا ۔
“یار کیا ہو گیا ہے ، وہ ایسے نہیں ہیں ، کوئی کلائنٹ ہو گی۔”
اس نے سر جھٹکا ۔
“نہیں تھی کلائنٹ ، اور تھی بھی کافی پیاری ۔”
اس نے منہ بناتے ہوۓ کہا۔
“کیوں کلائنٹ پیاری نہیں ہو سکتی؟؟”
اس نے ابرو اچکاۓ۔
“افففففففف میرا مطلب سر کلائنٹ سے فرینکلی بات نہیں کرتے جب کہ اس سے کر رہے تھے۔”
ثمر نے فکرمندی سے کہا تو وہ چونکی تھی۔
” اچھا ،، میں دیکھتی ہوں۔۔”
وہ اٹھنے لگی ۔
“میرا قتل کروانا ہے ؟ گھر جا کر پوچھنا۔۔ “
اس نے کہا تو وہ بیٹھ گئی ۔
“لیکن یار کون ہو سکتی ہے لڑکی ، ان کی کوئی دوست بھی نہیں ، کزن بھی نہیں ، کلائنٹ بھی نہیں تو ۔”
اس نے لب کاٹتے ہوۓ سوچا ، پھر کچھ سوچ کر وہ اپنے کیبن سے باہر نکلی مگر ہزار وولٹ کا کرنٹ لگا جب عارش اور حنان کو باہر جاتے دیکھا۔۔
“عارش بھائی اور حنان دوست ہیں، میں ، میں نہیں بچ سکتی ، میرے اللہ میں کیا کروں ، مجھے سب قبول ہے پر اپنے کردار پر ایک بھی الزام نہیں قبول۔۔”
اس نے پانی کا گلاس لبوں کو لگاتے ہوۓ گہرا سانس لیا۔
“میں کیا کروں ۔؟؟؟؟”
وہ بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوۓ گہری سوچ میں غرق تھی تبھی ڈور اوپن ہوا تو وہ چونک گئی۔
“عارش بھائی آپ ؟؟”
اس نے بوکھلا کر کھڑے ہوتے ہوۓ کہا۔
“ہاں میں ۔”
وہ اس کے بھائی کہنے پر بد دل ہوا۔
“تمہیں گھر ڈراپ کرنا ہے ، نانو غصہ ہو رہی ہیں ۔ “
اس نے ارحہ کو دیکھا۔
“بٹ ابھی کام کافی رہتا ہے ۔”
وہ منمنائی ۔
“کام میں کروا لوں گا ،،،،، ابھی تم گھر چلو۔”
اس نے حکم دیا تو وہ بنا ایک لفظ کہے چل دی ۔ گاڑی میں عارش کسی سےکال پر بزی رہا سو ارحہ نے شکر ادا کیا ورنہ اس کے بے تکے سوالوں کے جواب دینا ارحہ کے لیے آسان نہیں تھا۔
“”آپ آئیے اندر۔”
گھر کے باہر گاڑی کھڑی کرتے دیکھ کر اس نے عارش کو دیکھا ،،، مروتاً نہیں دل سے بولا تھا۔
“نہیں مجھے کام ہے تم جاؤ باۓ ۔”
اس نے فوراً نفی میں سر ہلایا تو وہ چلی گئی ۔
“پاگل لڑکی فائل یہاں ہی چھوڑ گئی پھر کہتی ہے کہ میں غصہ کرتا ہوں ، اب میں ان لاپرواہیوں پر پھولوں کے ہار ڈالنے سے تو رہا ،، میٹنگ بھی ہے اور ٹائم کم۔۔۔”
وہ گاڑی سے باہر آتے ہوۓ بڑبڑایا ۔
“تم آفس کیوں گئی تھی ؟”
تنزیلہ بیگم نے کڑے تیوروں اسے دیکھا۔
“گئی نہیں تھی ، زبردستی بلایا تھا آپ کے چہیتے نے ۔”
اس نے رکھائی سے کہا تو عارش دروازے پر رک گیا۔
“تو تم انکار کر دیتی نا ؟ ویسے تو تمہاری پٹر پٹر زبان چلتی ہے تو اسے کہتی کہ شادی تک نہیں جا سکتی ۔”
تنزیلہ بیگم نے اسے گھورا ۔
“میری کہیں سن ہی نہ لیں وہ؟ میرا یقین کریں کہ وہ بندہ ایک ذرا بھی خوش نہیں ہے اس رشتے سے ، اور نہ ہی ان کو میرا احساس ہے کہ ہماری منگنی کل ہی ہوئی ہے ، میرا یقین کریں کہ اس بورنگ بندے کے ساتھ میرے جیسی چینچل لڑکی کا گزارا بہت مشکل بلکہ ناممکن ہے ، ابھی بھی وقت ہے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر لیں اور آج تو آفس میں ایک۔۔۔”
اس سے پہلے کے وہ مزید بولتی نظر دروازے کے پاس کھڑے عارش پر پڑی تو اس کی بولتی بند ہو گئی، شرم سے ڈوب مرنے کی پریکٹس اسے عارش کے سامنے ہو چکی تھی ،، اس نے گہرا سانس لے کر خود کو نارمل کیا۔۔
“میں آتی ہوں ۔”
وہ کہہ کر بھاگ گئی ۔
” عارش تم ۔؟”
تنزیلہ بیگم نے اسے چونک کر دیکھا۔
“بیٹا تم کو پتہ ہے کہ منگنی کے بعد ہزاروں خواب ہوتے لڑکیوں کے تو ۔۔ معافی چاہتی ہوں میں ۔”
تنزیلہ بیگم شرمندہ ہوئیں۔
“کوئی بات نہیں ممانی جان، میں آتا ہوں۔”
وہ اس کے روم کی طرف آیا۔
“اللہ یہ لڑکی پتہ نہیں کیا نکال دے گی منہ سے۔”
تنزیلہ بیگم نے سر تھاما۔
