Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaanch Ki Choriyan (Episode 25)

Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary

“حنا مجھے تم سے بہت امپورٹنٹ بات کرنی ہے۔”

حنان کچن میں آیا،اس وقت گھر پر صرف حنا تھی، زرنــش نے ہاسپٹل جوائن کر لیا تھا دو ہفتے پہلے، جویریہ بیگم اور فرح بیگم محلے میں گئی تھیں جبکہ مرد حضرات آفس، حنان آفس سے ہی آرہا تھا۔۔

“خیریت ہے نا؟”

اسے یوں اچانک دیکھ کر وہ الجھ گئی۔

“کیا تم مجھ پر ٹرسـٹ کرتی ہو حنا؟”

حنان نے اس کے پاس آ کــر کہا۔

“کیـسا عجـیب اور بے تکا سـوال ہے یار، میں تو ڈر گئی۔۔”

حــنا نے نفی میں سر ہلایا اور چاول نکالنے لگی۔

“پلیــز یار، جو پوچھ رہا ہوں؟بس اس کا جواب دو پلیز۔”

وہ کـوفـت سے بولا۔

“افـکورس آئی ٹـرسٹ یو یار، اب بـتاؤ کـیا ہوا ہے؟”

حنا نے چولہا آہستہ کـرتے ہوۓ پوچھا۔

“ایک بات مانـو گـی؟”

آنکھـــوں میـں التجا تھی، حنا نے ناسمجھی سے سر ہلایا۔

“اگــر مجـھ پـر ایــک ذرا سـا بھی یقیـــن ہے تو پلیــز حنا تم گــھر اریـز کے پـروپـوزل کے لیے ہاں کہہ دو۔۔۔”

حنان کی آواز کانپـی تھی مگــر آخـری تین الفاظ کہتے۔

“حـنان۔۔۔”

وہ شوکڈ سی اسے دیکھ رہی تھی۔

“پلیــز حنا میـری ایک گذارش مان لو، مجھ سے وجہ مت پوچھنا، تم اگــر میـری یہ بات مان لو گـی میں تا قیـامت تمہارا مشـکور رہـــــــوں گا،، مان جاؤ پلیزززز ، پلیززززز اٹس ہمبل ریکوسٹ، ہاتھ جوڑتا ہوں۔۔۔”

اس نے دونوں ہاتھ اس کے آگے جوڑ دئیے۔

“حـنــان۔۔۔”

حنــا نے اس کے ہاتھـوں پر ہاتـھ رکـھ دئیے اور نفی میــں سر ہلا کر آنسـو گلے میں اتارے۔۔

“میـں جانتــی ہوں حـنان کہ تم میــرا بُــــرا کـبھی بھی نہیں چاہ سکتے،، اس لیے میں آج ہی ہاں کہہ دوں گی۔”

اس کی آواز میں واضح نمی تھی۔

“تھیــنکـسس، تھینکس آ لووٹ۔”

وہ دکـھ سے بھـری آواز میں بولا۔

“ویلکم۔۔”

اس کی آنکھ سے آنسو نکل کر گال پر گرا مگر وہ مسکرائی تھی، اسے حنان کی خاطر مسکرانا تھا۔

اک آنسو گرا تو ہنس پڑی میں

میری کوشش تھی دوسرا نہ گرے

“آئم ســو ســــــــــوری، جانتا ہوں تمہارے ضبط سے بڑھ کر آزما رہا ہوں لیکن میں مجبور ہوں،، ســوری۔۔”

وہ اس کے آنـسو کو انگلی کے پور سے چـن کـر وہاں سے بھـاگتا ہوا چلا گیا۔ وہ اس کو روتا دیکھنے کا حوصلہ نہیں رکھتا تھا۔ وہ آج بہت دکـھی ہوا تھا۔۔

“حـــــنان ۔۔۔”

وہ دیوار کے ساتھ نیچے بیٹھتی چلی گئـی تھی۔ آنسو گالوں سے بہہ کر فرش پر گرنے لگے تھے۔

“حنان میں کیـسے دوں گی تمہاری جگہ کسـی اور کو،،،، آخــر کون سی مجبوری نے چھین لیا تمہیں مجھ سے۔۔”

وہ گـھٹنوں پـر ســر رکھ کـر دھاڑیں مار مار کر رو دی۔

مجھے معلوم تھا محسن ،وہ میرا ہو نہیں سکتا…… 🔥

مگر دیکھو ،مجھے پھر بھی محبت ہو گئی اس سے ….💔

🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🍁
🍁

اس کے بعد اس نے دعا کو کال کر کے بلا لیا۔ دعا بھی فوراً آ گئی تھی۔

“مجھے امپورٹنٹ بات کرنی ہے آپ سے؟”

اس نے دعا کو دیکھا۔

“ہاں کـرو ۔۔”

دعا نے چاۓ کا سپ لے کر اس کو دیکھا۔

“دعا آپ چاہتی تھیں نا کہ اریز کے پروپوزل کے لیے ہاں کہہ دوں تو اس کے لیے میں راضی ہوں۔۔۔”

حنا نے نظــریں جھـکا کـر نرمی سے کہا۔

“کیـــا ؟”

دعا نے شاکڈ نظـروں سے دیکھا تو حنا نے سر ہلایا۔

“اب یہ ممـکن نہیـں ہے کیـونکـہ اریــز کـا رشــتہ اس کی خالہ کے گھــر ہو چکا ہے اور تمہـارا بـھی ہو چکا ہے۔۔۔”

دعــا نے اطمیـنان سے اسے بتایا۔

“کیـا مذاق ہے؟”

اس نے سر جھـٹکا۔

“مذاق نہیں ہے یہ،،، تمہارا رشـتہ مانگا تـھا تایا ابو لوگوں نے سو بابا نے کل ان کو ہاں بول دی۔”

دعـا نے ایک ایک لفظ پـر زور دے کـر کہا۔۔

“”یہ کیا کہہ رہی ہــیں آپ؟؟”

وہ شـاکــڈ سی اسے دیکـھ رہی تھی۔

” وہی جو تم نے سنا اگلے ہفتے کو تـمہارا اور حنان کا نکاح ہے، کـسی بھی قـسم کـی بے وقوفی سے پـرہیــز کرنا۔۔۔۔”

دعا کہہ کر لاؤنج کی طـرف بـڑھ گئی۔۔

“اوووو مـیرے اللہ ،،، میں کیا کروں؟؟”

وہ سـر ہاتـھوں پر گرا کر بیٹھ گئی۔

“ایک ہی تو زندگی میں کام بولا تھا حنان نے،، پہلی بار اس نے ریکوسٹ کی تھـی اور یہ سب۔۔۔۔”

وہ کنپٹیاں سہلاتے کافی پریشان تھی۔

“کـیا ہوا ؟؟”

حنان آفس سے آیا تو اسے لان میں یوں بیٹھا دیکھ کر ادھر ہی آ گیا، حنا نے نفی میں سر ہلایا۔

” کچھ تو ہوا ہے نا؟؟؟کیا دعا نے تمہیں بتا دیا؟”

اس نے حنا کو دیکھا تو حنا نے سر اثبات میں ہلایا۔

“حنا انکار تمہیں کرنا ہو گا کیونکہ میں نہیں کر سکتا اور حـنا یہ بات یاد رکھنا کہ اگر یہ رشـتہ ڈن ہوا تو تم مجھے ہمیشہ کے لیے کـھو دو گی۔”

حـنان کو جانے کیا ہوا اور وہ ایکدم سے ایموشنل ہوا۔

“یو ڈونٹ وری، میـں کر دوں گی انکار۔”

حـنا نے اس سے زیادہ خود کو تسلی دی۔

“بیسٹ آف لک، مجھے یقین تھا کہ تم سب ہینڈل کر لو گی اور چاۓ بنا دو پلیز، کھـانے کا موڈ نہیں ابھی۔”

حنان نے ریکوسٹ کی ۔

“شیور۔”

وہ اندر چلی گئی۔

“کیوں نا میں حنا کو رئیلٹی بتا دوں ایسے وہ ہرٹ بھی کم ہو گی اور کچھنہ کچھ کر کے ہینڈل کر لے گی ۔ “

حــنان پرسوچ ہوا۔

“اگـر تم نے یہ بات کسی کو بھی بتائی تو۔۔”

اس کے کانوں میں ایک آواز پڑی۔

“نہیں میں نہیں بتا سکتا۔”

نفی میں سر ہلاتا وہ بے چین سا اٹھ گیا تھا۔۔۔

بہت عزیز تھا وہ جان سے بھی بڑھ کر تھا

وہ دوست جو ہم دشمنوں میں چھوڑ آۓ

🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁

“میں نہیں کر سکتی حنان سے شادی۔”

حنا نے سخت لہجے میں کہا۔

“حنا آخر کوئی ریزن تو بتاؤ نا یار۔”

ہادی بھائی نے اسے دیـکھا۔

“اس کا دماغ خـراب اور کیا وجہ ہو گی۔۔”

جویریہ بیگم نے غصے سے کہا۔

“بھائی ایک سے بڑھ کر ایک پروپوزل سے یہ لڑکی انکار کر چکی ہے اور اب حنان کی بار اس کی ایک نہیں چلنے والی،، سانس اس کے بنا نہیں لیتی اور۔۔۔۔۔”

دعـا غصے سے بولی۔

“حــنا بچے حنـان ایک بیسـٹ چوائـس ہے،،، وہ تمہیں سب سے زیادہ جانتا ہے سو بہت خوش رکھے گا۔”

ہادی نے نرمی سے سمجھانا چاہا۔

“کیـسے بتـاؤں آپ کو کہ میـں کس دل سے انکار کر رہی ہوں،، میــں مجبور ہوں اسے کھــو نہیـں سـکتی۔۔۔”

وہ قالین پر نظریں جماۓ خاموش تھی۔

“حـنا یار تم کوئی سولڈ وجہ تو بتاؤ نا کہ کس بنیاد پر ہم ان کو انکار کریں۔۔۔”

زرنــش بھابھی نے محبت سے اسے پچکارا۔

“آپ سب جانتے ہیں کہ وہ فلرٹی ہے۔”

اسے کچھ سمجھ نہ آیا تو یہی کہہ دیا۔

“اور حنا یہ بات تم بھی جانتی ہو کہ یہ سب وہ مذاق میں کرتا ہے اور انتہائی فضول لوجک ہے۔۔”

دعـا نے فوراً ہی گھورا۔۔

“بابا آپ؟ْ”

زرنــش شاہد صاحب کو دیکـھ کـر کھڑی ہو گئـی۔

“ہاں بیٹھیے۔۔”

وہ حنا کے پاس آن کر بیٹھ گئے۔

“بھئی مجھے اپنی بٹیا سے بات کرنی ہے اس لیے ہمیں پرائیوسی دی جاۓ۔”

بابا نے حنا کو ساتھ لگا کر کہا تو سب نکل گئے روم سے۔

“حـنا بیٹا! اس گھـر کے سب مکینوں سے زیادہ پـیاری ہو تم ہم سب کو،، مجھے ہی نہیں اس آنگن کو بھی عادت ہو گئی ہے تمہاری آواز، تمہاری چوڑیوں کی کھنکھن کی۔ حـنان کا رشتہ میرے دل کی سب سے بڑی خواہش ہے بیٹا، دوسری بات تمہارے تایا ابو نے بہت مان اور محبت سے رشتہ مانگا ہے تمہارے لیے بیٹا۔حنان کا رشتہ دعا کے ساتھ صرف تمہاری وجہ سے نہ کیا۔ ہادی اور اسوہ کی شادی میں اس لیے بھی نہیں کر سکا تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو بہن بھائی سمجھتے تھے اور دوسری بات دعا اور اسوہ ایک ہی گھر شادی کرنا چاہتی تھیں۔”

انہوں نے رسانیت سے کہا۔۔

“بیٹا اب اگر میں ایک بار پھر انکار کروں گا تو میرے اور میرے بھائی کے رشتے میں دراڑ آ جاۓ گی۔ میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں کہ مان جاؤ۔”

شاہد صاحب نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ دئیے۔

“بابا نو پلیز، ایسا نہ کرں۔۔”

اس نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔

“بیٹا سچ یہی ہے کہ مجھے یقین تھا کہ تم انکار نہیں کرو گی تبھی میں نے ان کو ہاں بول دی تھی، اب میرا مان رکھ لو پلیز، باپ کو شرمندہ ہونے سے بچا لو۔۔”

انہوں نے اسے بلیک میل کیا جو کہ دعا کی پلاننگ تھی،، وہ کسی بھی حال میں حنا اور حنان کو ایک کرنا چاہتی تھی اسی لیے حنا کی کسی بات کو نہیں سن رہی تھی۔

“بابا میں راضی ہوں ۔۔”

اس نے سر ہاں میں ہلا دیا۔

“شاباش مجھے یقین تھا میری بیٹی میرا مان ضرور رکھے گی، اللہ پاک قسمت اچھی کرے تمہاری آمین۔”

انہوں نے سر ہلا کر اسے سینے سے لگا لیا اور چند ایک باتیں کر کے چلے گئے تھے۔

“کـبھی معـاف نہیں کروں گی آپ لوگوں کو ۔۔۔”

وہ دعا کو غصے سے کہتی چلی گئی۔

“تم مجھے ملے بھی تو یوں ۔۔۔”

حنا نے دروازے سے ٹیک لگا لی ۔

“جب حنان کو پتہ چلے گا تو۔۔”

اس نے نفی میں سر ہلایا۔

ان باتوں پر اکثر پھوٹ پھوٹ کر روتی ہوں میں

جن پر کہہ دیتی ہوں مسـکرا کر کوئی بات نہیں

کچھ سوچ کر اٹھی چہرہ دھویا اور سات رنگ کی چوڑیاں اٹھائیں ،، کیا کیا نہیں یاد آیا تھا ،،، اس سے پہلے آنسو اور بہتے وہ اس کے کمرے کی طرف آ گئی۔

“آ جاؤ حنا ۔”

ڈور نوک ہونے پر حنان نے کہا۔

“پارٹنر خیریت ؟”

وہ اسے دیکھ کر بولا۔

“یس، حنان ایک کام تھا تم سے۔”

اس نے بتایا تو حنان نے سر ہلایا اور سوالیہ دیکھا۔

“چوڑیاں پہنا دو، ہر رنگ کی لائی ہوں ؟ پھر تمہیں کچھ بتانا ہے، اس کے بعد شاید نہ پہناؤ تم”

وہ خشک لبوں پر زبان پھیرتے ہوۓ بولی۔

“تو کیا حنا نے اریز کے پروپوزل کو ہاں کہہ دی ہے۔”

حنان کے دل کی دھڑکن رکی۔

“شیور، چاہے کچھ بھی ہو جاۓ چوڑیاں میں پہناؤں گا۔”

وہ چوڑیاں پہنانے لگا تو حنا نے گہرا سانس لے کر خود کو کمپوز کیا، اسے معلوم تھا کہ وہ ہنگامہ کرے گا۔

“بولو حنا چپ کیوں ہو؟؟؟”

وہ چوڑیوں پر انگلی پھیر کر اسے دیکھنے لگا۔

” حـنان میں ہار گئی۔”

اس کی آواز میں نمی تھی۔

“حـنا ڈونٹ ٹیل می کہ تم نے ہاں کہہ دی ہے۔”

اسے گویا بچھو نے کاٹا۔

“مجھے بابا۔۔”

حـنان نے بات کو اچک لیا۔

“تم نے اچھـا نہیں کیا،میرے سامنے مجبوری کا رونا مت رونا ، لیو رائٹ، رائٹ ناؤ۔۔”

اس نے دراوزے کی جانب اشارہ کیا۔

“حنـان ۔”

وہ تڑپ کر بولی۔

“حـنا گو، اب جو کروں گا میں کروں گا۔۔ “

وہ رخ پھیر کر بولا۔

“میری با۔۔۔”

وہ بولنے لگی جب حنان دھاڑا ۔

“آئی سیڈ گو۔”

اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ اس کے غصے سے خائف ہو کر حنا بھاگتی ہو روم سے نکل گئی۔

“کس کو بتاؤں ؟؟ حنا ، حنا تم نے کیوں نہیں کچھ کیا۔ افففففففف کس سے جا کر مدد کی بھیک مانگوں ؟؟”

وہ سر ہاتھوں پر گرا کر بیٹھ گیا۔

“میں حــنا سے شادی کر کے اسے اذیت نہیں دے سکتا، میں اسے کھو نہیں سکتا۔”

وہ نفی میں سر ہلانے لگا۔

سب کے سامنے ہنسنے والا شرارتی لڑکا

دل میں ہزاروں غم چھــپاۓ رکھتـا ہے (ازخود)

“بابا،، ہاں بابا کو کہتا ہوں ۔۔”

وہ کچھ سوچ کر بھاگتا ہوا زاہد صاحب کے روم کی طرف آیا۔۔

“ماما بابا کدھر ہیں؟”

اس نے فرح بیگم کو دیکھا۔

“وہ تمہارے چاچو کے پاس،، خیریت ؟؟”

انہوں نے اسے استفہامیہ دیکھا۔

“اسـوہ نہیں آئی نا؟ نہ میری کالز پک کر رہی ہے اور نہ ہی میسجز کا ریپلائی کر رہی ہے، فضول ضد۔ “

اس نے بات کا رخ بدل دیا اور بیڈ پر بیٹھ گیا۔

“بہن ہے تمہاری،،، ایک ہی بھائی ہو تم اس کے، ہزاروں سپنے ہیں اس کے، مان لو اس کی بات بیٹا۔”

فرح بیگم نے اس کے بالوں کو سنوارتے ہوۓ کہا۔

” مما کیا میرا میری زندگی پر کوئی حق نہیں ہے ؟؟”

وہ ناسمجھ تھا کہ کیسے سمجھاۓ سب کو۔

“ارے برخوردار! اچھا ہوا کہ تم یہیں مل گئے۔۔”

زاہد صاحب مسکراتے ہوۓ کمرے میں داخل ہوۓ۔

“کیا ہوا بابا؟”

وہ کھڑا ہو گیا۔

“میری دیرینہ خواہش پوری ہو رہی ہے ،، شاہد نے حنا کے رشتے کے لیے ہاں کہہ دی ہے،، آج میں تو زندگی میں سب سے زیادہ خوش ہوں۔۔”

زاہد صاحب کے چہرے پر خوشی عیاں تھی۔حنان نے ماں کو دیکھا، فرح بیگم نے نفی میں سر ہلا کر اسے خاموش رہنے کو کہا۔تو وہ ناچاہ کر بھی چپ کر گیا۔

“کہاں جا رہے ہو؟”

ہادی نے اسے دیکھا جو گاڑی ریورس کر رہا تھا۔

“پھوپھو کے گھر، اسـوہ سے کام ہے۔”

اس نے بتایا اور چلا گیا۔ وہاں گیا تو اسوہ لاؤنج میں بیٹھی کسی غیر مرئی نقطے پر غور کر رہی تھی۔ حنان کو دیکھ کر چونکی۔

“ارے میرا بچہ آیا ہے۔۔”

عفت بیگم نے خوشی سے اس کا ماتھا چوما۔

“مـیں روم میں جا رہی ہوں مجھے کوئی ڈسٹرب نہ کرے۔”

اسوہ کہہ کر چلی گئی، صاف احتجاج تھا کہ نہیں ملنا۔

“پھوپھو دیکھ رہی ہیں آپ؟؟”

حنان نے دانت پیسے۔

“تو بیٹا تم ہی مان جاؤ نا،،، کیا کمی ہے حنا میں ؟”

عفت بیگم نے بھی خفگی سے کہا۔

“یہی بات ہم سب کو سمجھ نہیں آتی کہ یہ کر کیوں رہا ایسا ،، سانس اس کے بنا نہیں لیتا اور،،،،”

سعـد بھی آ گیا۔

“ہاں آ جاؤ تمہاری کمی تھی۔۔”

حنان نے گھورا۔

“ابے سالے ،،، کیا کیا ہے اسوہ کو؟؟ کمرے سے نکال دیا ہے اس نے مجھے، بیٹھ کر رو رہی ہے۔۔”

عمیـر آنکھیں ملتا ادھر ہی آ گیا۔

“حنان تجھے اپرچنٹی مل رہی ہے ایک پرفیکٹ لڑکی سے شادی کـرنے کی اور تُو ،،،، سوچ لے۔”

سعد نے قائل کرنا چاہا۔

“اســوہ سے مل کر آتا ہوں ۔”

وہ اٹھ کر چلا گیا۔

“عجیب ترین مخلوق نہیں آپ کا بھتیجا۔۔؟”

سعد نے عفت بیگم کو دیکھا۔

“پتـہ نہیں ، کیا وجہ ہے؟ عمیر تم جاؤ یہ نہ ہو پھر لڑ پڑیں دونوں آپس میں ۔۔ “۔

عفت بیگم نے عمیر کو دیکھا۔

“اســوہ تم فضول کی ضد لگا کر بیٹھی ہو۔”

وہ اس کے پاس آیا۔

ْ”آپ جا سکتے ہیں براہ مہربانی ۔”

اسـوہ تلملائی۔۔

ماشأاﷲ جدائی نے تمیزدار بنا دیا، پہلی بار آپ بولا ہے۔”

حنان نے مسکراہٹ دبا کر کہا۔

“یار حنان اس دن کی رو رہی ہے یہ بندی،، ہمارے تو گھر سے ٹشو ہی ختم ہو گئے۔”

عمیر نے شرارت سے کہا۔

“آپ تو چپ ہی رہیں۔”

اسوہ نے غصے سے عمیر کو گھورا۔

“اوکے نہیں بولتے ہم۔۔”

عمیر نے ڈرنے کی ایکٹنگ کی۔

“کیا چاہتی ہو تم؟ اتنی معصوم اور انجان تو نہ بنو ،، جیسے تمہیں نہیں معلوم کہ چاچو لوگ ہاں کہہ چکے ہیں،، اب یہ ناٹک کیوں ہاں ؟؟؟؟”

حنان کڑوے لہجے میں بولا۔

“ہاں ہو چکی ہے لیکن تم راضی نہیں ہو اور نکاح میں قبول میں نے تو نہیں کہنا نا؟”

وہ پلٹ کر گھورتے ہوۓ بولی۔

“کـیا فرق پڑتا ہے؟”

اس نے کندھے اچکا کر کہا۔

“ایک ہی بھائی تھا میرا، ہزاروں خواب تھے اسی مان سے ہاں بھی کی اور اس نے۔۔۔”

اسوہ نے آنسو بہاتے ہوۓ کہا۔

“حنان پلیز ۔”

عمیر نے بھی کہا ۔

“عمیر اسے چھوڑئیے،، یہ کر لے اپنی من مانی ،، شادی کے بعد بہنوں کا حق رہتا ہی کب ہے بھائیوں پر؟ خیر تم جا سکتے ہو حنان ، میں اب ساری زندگی وہاں نہیں آنے والی ، چاہے دیر سے سہی مگر مجھے رئیلائز ہو گیا ہے کہ بہنوں کا بھائیوں پر اتنا حق ہوتا نہیں جتنا وہ سمجھ لیتی ہیں، فکر مت کرو جاؤ ، میں معذرت کر لیتی ہوں چاچو سے ، غلطی ہو گئی۔۔ “

وہ روتے ہوۓ بولی اور موبائل اٹھا لیا ۔

“رکو۔۔”

حنان تو اس کے آنسو پر ہی تڑپ گیا تھا۔

“میں راضی ہوں، چلو چلتے ہیں گھـر۔”

اسوہ بھی تو اس کی اکلوتی اور لاڈلی بہن تھی۔کہاں دیکھ سکتا تھا اسے روتے ہوۓ ۔۔۔

“کــــــــــــیا؟؟”

اسوہ کو لگا سننے میں غلط فہمی ہوئی، وہ اتنی جلدی مان جاۓ گا یہ اس نے نہیں سوچا تھا۔

“ہاں۔”

اس کا لہجہ سپاٹ تھا۔

“تھینک یو سو مچ۔”

وہ اس کے گلے لگ گئی تو حنان سر ہلا کر ریڈی ہونے کا کہہ کر باہر نکل گیا۔

“اففف مجھے یقین نہیں آ رہا کہ یہ مان گیا۔۔”

اسوہ نے خوشی سے چلا کر کہا۔

“جتنی اچھی ایکٹنگ تم نے کی وہ مانتا نہ تو اور کیا کرتا؟ وہ تو وہ میں بھی رونے والا ہو گیا تھا۔”

عمیر ہنسا تھا۔

“عمیر سب سے بڑی وش ہے یہ میری،،، حنا اور حنان کی شادی ،،، اب میں کتنی خوش بتا نہیں سکتی۔”

وہ دل سے مسکرائی اور خوشی سے بولی۔۔

“یس آئی نو باۓ دا وے اب واپس کب آؤ گی؟”

عمیر نے اسے دیکھا۔

“واپس مطلب؟ آپ بھی جا رہے ساتھ ، گو اینڈ ریڈی ہو۔”

وہ کہہ کر ڈریسنگ روم میں گھس گئی۔

🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷

وہ گھـٹنوں پر سر رکھے زار زار رو رہی تھی جب عارش گھر آیا تو وہ ہنوز بیٹھی رہی۔

“کـیا ہوا؟”

عارش کو شاک لگا، وہ گھٹنوں کے بل مقابل بیٹھا۔

“وہ،،، وہ کیبل چلی گئی،، وائی فائی بھی خراب۔۔”

وہ روتے ہوۓ بولی۔

“اففف اور تمہارا دماغ بھی۔۔”

عارش نے گـھورا۔

“آج آخری قسط دیکھنی تھی مجھے عہد وفا کی۔۔”

اس نے دانت پیس کر بتایا۔

“رئیلی چلو آؤ دیکھتے ہیں۔۔”

وہ فوراً نرم دل ہوا۔

“سچی پر نیٹ خراب۔”

اس نے منہ بنایا۔

“آؤ تو۔۔”

وہ اسے اندر لے گیا۔

“یہ وائی فائی آپ بند کر کے گئے تھے۔۔”

اس نے دانت پیسے۔

“ہاں کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ خدانخواستہ ڈرامے کا اختتام تمہاری خواہش کے مطابق نہ ہوا تو تم زمین آسمان کو ہلا دو گی۔”

اس نے وجہ بتائی اور اسے ڈرامہ لگا دیا۔ بوا نے کھانا لگا دیا تو دونوں ادھر آ گئے اور ارحہ کا دھیان مکمل ڈرامے کی طرف تھا۔ عارش ہی اسے کھلا رہا تھا کیونکہ محبت میں ناز نخرے اٹھانا ہی تو محبت ہے۔

“کیا ہوا؟”

اس کے چہرے پر اضطراب دیکھ کر عارش نے پوچھا۔

“وہ انڈیا جا رہا ہے۔۔”

اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ عارش اسے تسلی ایسے دے رہا تھا کہ جیسے ارحہ کا پتہ نہیں کیا لگتا ہو وہ۔

“یار ہی از سیو۔۔۔ وہ ویسے سسپنس کری ایٹ کر رہے۔۔”

عاارش فکرمندی سے بولا۔

“اب کـــیا ہوا؟”

تھوڑی دیر بعد اسے روتے دیکھ کر عارش نے پوچھا۔

“سعد نہیں بچے گا۔”

وہ روتے ہوۓ بولی۔۔

“افففف یہ ڈرامے والے رلا ڈالا میری بیوی کو۔۔۔”

اس نے نفی میں سر ہلایا اور لاسٹ پر کلک کیا۔۔

“یہ لو تمہارا سعد زندہ ہے۔۔۔”

عارش نے مسـکراتے ہوۓ اطلاع دی۔

“واقعی؟؟ یہ لارنس کالج ہے اور ان کو پرانا وقت یاد آ رہا ہو گا۔ اررے نہیں سعد واقعی زندہ ہے،شکـــر ہے، افففففف آنٹی انکل دعـا اور رامین کتنی خوش ہوں گی نا کہ سعد زندہ ہے۔۔”

ووہ ننھے بچوں کی طرح خوش ہو رہی تھی اور عارش مسکرا کر اس کی باتوں کو سن رہا تھا کہ جو غیر حقیقی لوگوں کے لیے بھی دیوانی یو رہی تھی۔کہتے ہیں کہ محبت وہ ہوتی محبوب جیسسا بھی ہو اسے قبول کیا جاۓ اور عارش نے ایسا ہی کیا تھا۔۔۔

مجھے زندگی میں بناوٹ نہیں آتی

میرا لہجــہ ،، میرا مــزاج ذاتی ہے

🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷

“”میں حنا کو کیسے اس آگ سے نکالوں ؟؟”

وہ سر ہاتھوں پر گراۓ بیٹھا تھا۔

“ارے وہ دیکھو آسٹرولوجسٹ،،، میں جا رہی۔۔”

وہ لوگ پکنک منا رہے تھے جب حنا نے کہا۔

“حنا تم حنان کو بلا کر لاؤ، تب تک میں اور اسـوہ ہاتھ دکھا کر آتیں۔”

دعـا نے کہا تب ہی وہ سر ہلاتی چلی گئی۔

“حنان یہ تو بڑا پہنچا ہوا آسٹرولوجسٹ ہے یار،،،، بلکل سچ بتا رہا ہے،،، سچی۔۔”

اسوہ نے متاثر کن لہجے میں کہا۔

“ٹھیک ہے تم لوگ جاؤ ،، میں دکھا کر آ جاتا۔۔”

اس نے اشارہ کیا۔

“نو،،،، میں بھی دکھانا ہے۔”

حنا نے ضد کی۔

“اوکے کیری آن، ہم لوگ آتے۔”

وہ دونوں چلی گئیں۔

“”تمہاری زندگی میں بہت مسائل آئیں گے،، جس سے تم محبت کرو گی وہی تمہیں بہت رلاۓ گا اور۔۔”

اس کا اتنا ہی کہنا تھا جب حنان نے اسے زبردستی اسے بھیجا اور وہ بات کو مذاق میں اڑاتی چلی گئی۔

“یہ لڑکی تمہاری دوست ہی نہیں محبت بھی ہے نا؟”

آسٹرولوجسٹ نے اس کا ہاتھ دیکھ کر کہا۔

“ایـسا کچھ نہیں ہے۔”

حنان نے پہلو بدلا۔

“”تمہارے ہاتھوں کی لکیروں میں لکھا ہے صاف صاف۔۔”

اس نے حنان کو گھورا۔

“اور کیا لکھا ہے؟”

حنان متجسس ہوا۔

“کیا ہوا؟”

اس کے چہرے پر پریشانی دیکھ کر حنان نے پوچھا۔

“اگر تم نے اس لڑکی سے شادی کی تو یہ زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ پاۓ گی۔۔””

وہ سہما سا بولا۔

“وٹ؟؟؟”

حنان چلایا۔

“اگر یہ بات تم نے کسی کو بتائی تو وہ بہت پہلے مر جاۓ گی۔۔ چلو میں صاف صاف بتاتا ہوں۔ یہاں ہے کہ تم دونوں کی شادی ہوگئی ہے اور وہ بہت خوش ہے مگر مر جاۓ گی۔ اب یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ مری کیسے مگر یہ کلئیر ہے کہ مری تم سے شادی کے بعد،،، اس راز کو کھولنا مت جب بھی تم کھولو گے تو وہ مر جاۓ گی۔۔”

اس کی باتیں سن کر وہ صدمے میں تھا۔ اس واقعے کے بعد وہ کتنی بار وہاں گیا مگر وہ نجومی نہ ملا۔ اس کو معلوم تھا اس کی دوستی حنا کی کمزوری ہے اس لیے اس نے ملازمہ کے ہاتھ حنا کو بلا بھیجا۔ پرسوں ان کا نکاح تھا۔ وہ مطمئن تھا پر خوش نہیں ۔

“”تم نے بلایا؟”

حنا نے اسے دیکھا۔۔

“اگـر یہ نکـاح ہوا تو تم اپنا سب سے اچھا دوست کھو دو گی حنا ۔”

اس نے ڈرانا چاہا۔

“تو کیا کروں میں ؟؟ “

وہ روہانسی ہوئی۔

“پرسوں نکاح ہے اور ایک مہینے بعد رخصتی ،،،، تم بے بس ہو اور میں مجبور اور اس سب میں بھینٹ چڑھے گی ہماری دوستی سو مائی فرینڈ آج سے ہمارا صرف نفرت لا رشتہ ہے،،، اپنے سارے ارمان پورے لر لینا مگر جب میں روم میں آؤں تو تم مجھے برائیڈل لک میں نظر مت آؤ۔ ناؤ لیو ۔۔۔”

وہ کہہ کر غصے سے چلا گیا۔

خدارا کوئی ان سے اتنــا تو پـوچھے

وہ کیوں آنکھ ہم سے چرانے لگے ہیں

“میں آپکو معاف نہیں کروں گی جسٹ آپ لوگوں کی وجہ سے میں نے اپنا دوست کھویا ہے۔”

وہ دعا لوگوں کو غصے سے کہہ کر روتی ہوئی چلی گئی۔

“are they mad?”

اسوہ نے غصے سے سر ہلایا۔

“قسم سے جان کھا گئے۔”

دعا نے نفی میں سر ہلایا۔

“چلو فکر نہ کرو، کر لیں گے ایکسپٹ تم ڈریس ڈن کرو۔”

زرنش بھابھی نے کہا تو وہ سلیکشن کرنے لگی۔

🎈
🎈
🎈
🎈
🎈

وہ دن بھی آن پہنچا جس کا سب کو بے صبری سے انتظار تھا حنان کے نکاح کا دن۔میرج ہال میں چھوٹی سے گیدرنگ رکھی گئی تھی جس میں فیملی کے چند لوگوں نے شرکت کی تھی ۔ عارش نکاح پر آیا تھا جب کہ ارحہ نے طبیعت خرابی کا بہانہ بنا لیا۔ اس کو نجانے کیسا ڈر تھا۔حنا کو نکاح کے وقت بری طرح رونا آیا ۔ پہلی بار حنان نے اس کے آنسو نہیں پونچھے تھے۔ چند ایک رسموں کے بعد وہ لوگ گھر آ گئے۔ حنا کہیں نہ کہیں خوش تھی آخر محبت جو مل گئی تھی جب کہ حنان ڈسٹرب تھا۔

زندگی دربدر لیے پھرتی ہے بوجھل بدن

روح تو گروی پڑی ہے آســـــتانہ یار پر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *