Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary NovelR50591 Kaanch Ki Choriyan (Episode 15)
Rate this Novel
Kaanch Ki Choriyan (Episode 15)
Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary
“اسلام علیکم! ارحہ سے بات ہو سکتی؟؟”
اسوہ نے نرمی سے کہا۔
“وعلیکم اسلام ، جی کہیے ؟”
ارحہ ناسمجھی سے بولی۔
“آپ ارحہ ہیں؟”
اسوہ نے پوچھا۔
“جی میں ارحہ ہی ہوں ،۔آپ کون پلیز؟”
اس نے ناسمجھی سے پوچھا۔
” ارحہ میں حنان کی سسٹر ہوں ، مجھے تم سے ملنا ہے پلیز آج ہی ،، از اٹ پوسبل؟ ۔”
اسوہ نے تعارف کروا کر گزارش کی۔
“کیوں خیریت ہے نا؟”
ارحہ نا سمجھی اور پریشانی سے بولی۔
“پلیز مل کر بتاؤں گی ، تم بتاؤ کہاں آ سکتی ہو؟۔”
اسوہ نے کہا تو اس نے گہرا سانس لیا۔
“جہاں آپ کہیں آ جاتی ہوں۔”
ارحہ نے حامی بھری تو اسوہ نے اسے ایڈریس دیا۔
“اللہ خیر کرے ، پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے، کیا حنان نے میرے بارے میں گھر بتا دیا اور ۔۔ اففف میرے اللہ ۔”
اس کو تو اب پتہ ہلے تب بھی ٹینشن لگ رہی تھی۔



حنان نیچے آیا تو حنا لان میں ٹہل رہی تھی۔ پتہ نہیں کیوں حنان کو خود پر غصہ آیا تھا۔
“پارٹنر ۔۔”
حنان اس کے ساتھ ہمقدم ہوا اور نرمی سے بولا۔
“بولو۔۔”
وہ بنا چونکے بولی کیونکہ اس کی ہر آہٹ سے آشنا تھی۔
“اسوہ کی ٹیون نے ہرٹ کیا ہے ناں تمہیں؟؟”
حنان نے دکھ سے کہا۔
“نہیں ، ٹیون نے تو نہیں البتہ جلد بازی نے کیا ہے ہرٹ۔۔”
اس نے لب بھینچے۔
“کیا مطلب؟”
وہ الجھتے ہوۓ بولا۔۔
“سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کہوں اور کیا کروں؟؟”
وہ گہرا سانس لے کر بولی۔۔
“آئم سوری یار میری وجہ سے۔۔”
حنان نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
“نہیں یار ،، مسئلہ یہ ہے کہ کتنے پروپوزلز سے میں انکار کر چکی ہوں تمہارے سامنے اور اب تمہارا رشتہ جانا ۔۔۔۔”
وہ بالوں کو کان کے پیچھے اڑستے ہوۓ بولی۔۔
“حنا میں جانتا ہوں یہ بات تمہاری عزت نفس کو مجروح کرتی ہے کہ میں سب کے سامنے کہہ دیتا ہوں کہ مجھے حنا نہیں چاہیے،، بٹ حنا ٹرسٹ می اس کا یہ مطلب نہیں تم مجھے پسند نہیں یا کچھ بھی کہ تمہیں ریجیکٹ کر رہا ہوں ، بس میں تمہیں ایک اچھا دوست ہی رکھنا چاہتا ہوں میاں بیوی کے رشتے میں بندھ کر ہم لوگ دوست نہیں رہ پائیں گے، تم بہت اچھی ہو جس کی لائف میں جاؤ گی بلاشبہ قسم سے وہ لکی انسان ہو گا ،، سچ کہوں تو جتنی اچھی تم ہو میں بھی ڈیزرو نہیں کرتا تمہیں اور تم سے پانچ سال بڑا بھی ہوں ،، آئم رئیلی سوری اف یو،،،”
وہ اس کے ساتھ چلتا سب کہ رہا تھا جب حنا نے ٹوکا۔
“حنان میں جانتی ہوں تم صفائی نہ دو ، میں صرف اس لیے پریشان ہوں کہ انکار کیا کہہ کر کروں بٹ یو ڈونٹ وری ، میں سب دیکھ لوں گی۔۔”
اس نے مسکرا کر حنان سے زیادہ خود کو تسلی دی۔
“تو کیا کرو گی تم؟؟”
حنان کو خوف لاحق ہوا۔۔
“سب ٹھیک کر لوں گی ڈونٹ وری۔”
اس نے مسکرا کر تسلی دی۔
“مجھے بہت غصہ آ رہا ہے اسوہ پر ،، اس نے ہماری اچھی خاصی دوستی اور رنگ برنگی زندگی میں ہلچل مچا دی ہے ، بدتمیز ۔۔۔”
حنان نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔
“اسوہ نے کیا کہا تم سے اس وقت ؟”
اسے یاد آیا تو پوچھنے لگی۔
“کہہ رہی تھی کہ ارحہ کے گھر جاۓ گی اور ارحہ کا نمبر بھی لے لیا ہے اس نے۔۔۔”
اس نے بتایا۔۔
“دیٹس گریٹ نیوز یار۔۔”
اس نے چہکتے ہوۓ کہا۔ ٹوٹ کر ہنسنا آسان نہیں ہوتا۔۔
بچھڑ کر
مجھ سےاس کا دل لگ بھی گیا تو کیا لگے گا۔
وہ تھک جاۓ گا اور میرے سینے سے آن لگے گا
“ہمممم یار خدا جانے کب سب ٹھیک ہو گا۔۔”
وہ اداسی سے بولا۔،
“ہاہاہاہاہا اب بھی سب ٹھیک ہے ،یار سنجیدگی سوٹ نہیں کرتی تمہیں،، اپنا منہ سیدھا کرو اور آ جاؤ گیم کھیلیں ۔۔”
وہ اس کی خاطر ہنسی تھی۔۔
“کیا کھیلیں؟؟؟”
حنان نے اس کے ہمراہ چلتے ابرو اٹھا کر پوچھا۔۔
“اونلائن لڈو۔۔”
وہ مسکرائی تو حنان نے سر ہلایا۔
“ہادی کی کال۔”
حنان نے موبائل جیب سے نکالا۔
“کیسے ہو؟؟”
وہ بے تکلفی سے بولا۔
“ٹھیک ٹھاک،، تو سنا کیسا ہے؟ گھر پر کیسے ہیں سب؟”
ہادی نے مسکراتے ہوۓ پوچھا۔۔۔۔
“سب ٹھیک اللہ کا کرم ہے ۔ تو سنا؟”
حنان بھی مسکرایا ۔
“ایک گڈ نیوز دینا تھی تجھے،، کل ہم لوگ شام چار بجے گھر ہوں گے انشاءاللہ ۔۔۔”
ہادی نے مسکراتے ہوۓ خوشی سے بتایا۔۔
“تم سچ کہہ رہے ہو؟؟ دیٹس امیزنگ نیوز یار ۔ کتنے بجے پلین لینڈ کرے گا پاکستان ؟؟؟ تاکہ ہم آئیں۔”
حنان بے تحاشہ خوش ہوا ، حنا بھی اس کے کان کے ساتھ اپنا کان لگاۓ سن رہی تھی۔
“نہیں ائیرپورٹ پر مت آنا ،،، بس ڈرائیور بھیج دینا، کیونکہ اگر تم آۓ تو سب آنا چاہیں گے اور مزہ کرکرا ہو جاۓ گا اس لیے پلیززززز مت آنا۔۔”
ہادی نے تفصیلا کہا۔
“تو فکر ہی نہ کر،،، ویلکم ویلکم میری جان۔۔”
اس کے بعد اس نے الوداعی کلمات کہہ کر کال کاٹ دی۔
“میں بتا نہیں سکتی کہ میں کتنی خوش ہو رہی ہوں حنان کہ کل بھائی بھابھی عالیان آ رہے،،،،،،، افففففف میں عالی کو پہلی بار اٹھاؤں گی، کب چار بجیں گے کانٹ ویٹ ٹو سی دیم ان پاکستان۔”
وہ بچوں کی طرح گول گھومتے ہوۓ خوشی سے چلائی۔
“سیم ہیئر ،، اب جا کر اس کا روم دیکھ لو ایک بار ، یو نو کتنا پوسیسو ہے وہ روم کے بارے میں ۔۔”
حنان نے مسکراتے ہوۓ کہا تو اس نے سر ہلایا۔
“حنان مجھے بھوک لگی ہے پلیز آملیٹ بنا دو تب تک میں روم سیٹ کروا لوں پلیز ۔۔”
اس نے منہ بنا کر کہا۔
“یہ خوشی میں بھوک لگنے والی جو بیماری ہے ناں اس جا بھی زرنش بھابھی کو کہتا علاج ڈھونڈیں۔۔”
اس نے شرارت سے کہا۔
“حنان ۔۔”
اس نے دانت پیسے تھے۔
“جی حنان کی جان۔”
وہ والہانہ نظروں سے دیکھتے ہوۓ بولا۔
“بہت بے شرم ہو تم ، بتاتی ہوں میں ارحہ کو۔۔”
اس نے اندر جاتے ہوۓ دھمکی دی ۔
“ہاۓ،،،،، نہ بتانا۔”
وہ ڈرنے کی ایکٹنگ کرتا اس کی پونی اتارتا بھاگ گیا۔
“کتا ، کمینہ ۔،”
اس نے تپتے ہوۓ گالیوں سے نوازا۔
“شاباش حنا ، تم یونی پہنچ گئی اور تمیز نہیں آئی۔۔”
جویریہ بیگم نے اسے غصے سے گھورا۔
“یہ دیکھیں، اتنی مشکل سے ہیئر اسٹائل بنایا تھا۔”
اس نے روہانسے ہوتے ہوۓ بالوں کی طرف اشارہ کیا۔
“آنٹی ٹماٹر کہاں ہیں؟”
حنان کچن سے جھانک کر بولا تو جویریہ بیگم کا دھیان ادھر ہو گیا۔
“شولی میلا بے بی، شونا، جانوں، آملیت تھانا ہے میلے بے بی نے، تھولا شا ویت۔”
وہ اس کے پاس آتے شرارت سے مسکراہٹ دباتے ہوۓ بولا۔
“بدتمیز اب سینڈوچ بنا کے لانا ورنہ ناراض۔”
اس نے حکم جاری کیا۔
“جو حکم۔”
اس نے سینے پر ہاتھ لے جا کر جھکتے ہوۓ کہا۔
“ڈرامے بازی بند کرو ، جاؤ بناؤ۔۔”
اس نے حنان کے گال کھینچے اور ہنستی ہوئی چلی گئی۔
“یا اللہ اس کی مسکراہٹ کو یونہی قائم رکھنا۔ آمین۔”
اس نے دل سے دعا مانگی۔
یہ شرارتیں ، یہ نوک جھوک ، یہ محبتیں ہی تو زندگی کو کھٹا میٹھا بناتی ہیں۔۔
دوست
ھو میرے –سدا–کے لیے– ![]()
—
میں –
-زندہ ھوں — تمہاری — وفا —کے لیے ![]()
کر لینا لاکھوں شکوے ” ھم ” سے مگر![]()
کبھی– جدا-
نہ ھونا —– خدا –کےلیے









وہ ریسٹورینٹ پہنچی تو اسوہ وہاں آلریڈی موجود تھی۔ اس نے ڈریس کلر بتا دیا تھا تبھی وہ پہچان گئی۔
اسوہ نے سلام دعا کر کے حال احوال پوچھا۔
“جی کہیے؟؟؟ خیریت سے بلایا آپ نے؟”
ارحہ نے اس کو دیکھا۔
“مجھے حقیقتاً دکھ ہے کہ میں آج اتنی اچھی لڑکی کا دل توڑنے آئی ہوں ، مجھے معاف کر دینا کہ پہلی ملاقات پر ہی تمہارا دل مجھ سے ٹوٹ جاۓ گا۔۔”
اسوہ نے تمہید باندھی ۔
“سوری میں سمجھی نہیں ۔۔”
وہ واقعی الجھی۔
“کتنے ٹائم سے حنان کو جانتی ہو؟؟”
اسوہ نے اسے دیکھا۔
“تقریباً دو سال لیکن کانٹیکٹ ایک سال ہی رہا اور بات بھی کم ہی ہوتی رہی لائک فرینڈز۔”
اس نے صاف گوئی سے بتایا۔۔
“ارحہ تم بہت اچھی ہو، بلاشبہ حنان کی چوائس ہمیشہ کی طرح بہترین ہے، میں تمہیں چند باتیں بتانا چاہتی ہوں بلکہ یہ کہہ لو چند حقیقت پر مبنی باتیں۔۔”
اس نے پھر لگی لپٹی بات کی۔
“جی کہیے آپ ؟؟”
اس نے سر ہلا کر متوجہ ہوتے ہوۓ کہا۔۔
“ایک بہن سے زیادہ اس کے بھائی کو کوئی نہیں سمجھ سکتا یار ،، پتہ ہے حنان تم سے نہیں حنا سے محبت کرتا ہے مگر یہ بات وہ مان نہیں رہا ،،، یہ سچ ہے کہ جیسی لائف پارٹنر اس نے سوچا تھا تم ویسی ہو ۔۔ “
اسوہ نے لب بھینچتے ہوۓ کہا ۔
“تو اس نے مجھے کیوں انگیج کیا؟ کیا وہ میرے ساتھ فلرٹ کر رہا تھا؟؟”
ارحہ کو شاک لگا۔
“نہیں چندا وہ واقعی سیریس ہے تمہارے لیے، رات دھڑلے سے مجھے بولا کہ ارحہ سے شادی کرنی ہے لیکن سچ یہ ہے کہ وہ حنا کے بنا ایک لمحہ نہیں رہ سکتا ،، اسے حنا ایک لمحہ نظر نہ آۓ تو دنیا پلٹ دیتا ہے ،،، کیا تم برداشت کر سکو گی شادی کے بعد ان کا اتنا ساتھ رہنا؟؟؟ میں سچ کہہ رہی ہوں کہ اگر تم بھی میری بھابھی کے روپ میں آتی ہو تو دل سے قبول ہو مجھے ،،،، مگر یہ حقیقت ہے کہ حنان کو اس دن احساس ہو گا کہ وہ حنا سے محبت کرتا ہے جب وہ یہ گھر چھوڑ جاۓ گی،،
وہ کھانا کھانے سے کے کر سونگ تک اس کے ساتھ سنتا ہت ، عادی ہو چکا ہے اسکا ، بلکہ دونوں عادی ہیں ایک دوسرے سے لڑ جتنا مرضی لیں رہنا ساتھ ہے ،، ابھی وہ ہر لمحہ ساتھ ہوتی تو اسے یہی لگ رہا ہے کہ یہ سب فرینڈشپ ہے جب کہ یہ فرینڈشپ نہیں ہے ،، فرینڈشپ وہ ہے جو تم سے ہے ، تم نے بھی نوٹ کیا ہو گا نا کہ وہ تم سے زیادہ باتیں حنا کی کرتا ہے۔۔ آگے تم جو کہو گی مجھے دل سے قبول ہے، یہ سب بتانے کا مقصد بدگمان کرنا نہیں حقیقت سے آگاہ کرنا ہے اگر یہ سب جان کر بھی تم اس کے ساتھ زندگی بیتانا چاہتی ہو تو جب کہو گی ہم رشتہ لے آئیں گے لیکن کل دونوں کو دور نہ کر پاؤ گی۔”
اسوہ نے نرمی سے اسے سمجھاتے ہوۓ کہا تو ارحہ نے گہرا سانس لے کر آسمان کو دیکھا کہ اللہ نے اس کا پردہ کیسے رکھ لیا تھا۔
“آئم سو سوری اگر تم میری وجہ سے ہرٹ ہوئی تو؟؟”
اسوہ نے دکھ سے کہا۔
“نہیں ،، میں بہت ، بہت مطمئن ہوں کہ وہ مجھے نہیں چاہتا اور خوش بھی کہ اس کی لائف میں حنا ہے۔۔”
ارحہ رندھی آواز میں بولی۔
“کیا مطلب؟؟”
اسوہ نے ناسمجھی سے اس کو دیکھا۔۔
“مطلب یہ ۔۔”
اس نے اپنے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا جہاں عارش کے نام کی بیش قیمت انگوٹھی جگمگا رہی تھی۔
“یہ کیا ہے؟؟”
اسوہ کو چار سو چالیس وولٹ کا کرنٹ لگا۔
“میری منگنی ہو گئی ہے ،،کزن کے ساتھ ،، اچھا ہوا کہ آپ نے مجھ سے بات کر لی پہلے ،،، راستہ آسان ہو گیا۔۔”
اس نے آنسو پونچھتے ہوۓ کہا۔
“تم نے حنان کو نہیں بتایا؟؟؟ تمہاری منگنی ہو گئی اور ووہ تمہارے لیے ہم سے لڑتا پھر رہا ہے۔۔”
اسوہ شاکی ہوئی۔
“نہیں میں اسے بت نہیں پائی ، سب اچانک ہوا ہے اور مجھے لائف میں پہلی بار حنان سے ڈر لگ رہا ہے ،سچی اس سے مجھے خوف آ رہا ہے ورنہ میں تو ریلیکس ہوتی تھی اس سے بات کر کے ، اب اس کے ری ایکٹ سے خوف آ رہا ہے کہ پتہ نہیں کیسے بی ہیو کرے گا وہ۔۔”
اس نے آنسو حلق میں اتارتے ہوۓ کہا۔
” افففففف پاگل وہ اتنا بھی برا نہیں کہ تمم اس سے خوف کھاؤ بلکہ تم اسے کل ہی بتا دو ارحہ ، وہ مان جاۓ گا، مانتی ہوں غصہ کرے گا، ہرٹ ہو گا ۔””
اسوہ نے اسے بتانے پر اکسایا۔
“یہ اتنا آسان نہیں ہے جتنا آپ سمجھ رہی ۔”
وہ روہانسی ہوئی۔
“یہ اتنا مشکل بھی نہیں ہے ، بتا دو اس سے پہلے کے مزید دیر ہو جاۓ ، دیر نہ کرو مزید۔۔”
اسوہ نے اس کے ہاتھ پر دباؤ ڈال کر تسلی دی۔
“یہی میں سوچ رہی ہوں کہ اسے آگاہ کر دوں کہ میں اب کسی اور کی امانت بن چکی ہوں۔۔”
اس کی آنکھیں نم ہوئیں ۔
“سمجھ نہیں آ رہی مجھے کہ تمہیں مبارک دوں کہ نہیں؟”
اسوہ نے لب بھینچ لیے۔۔
“افکورس دیں ۔۔”
اس نے دل پر پتھر رکھ کر کہا۔۔
“مبارک ہو ،،، اللہ پاک تمہاری قسمت اچھی کرے آمین۔”
اسوہ نے ریلیکس ہوتے دعا دی ۔
“ثم آمین۔ دعاؤں میں ہمیشہ یاد رکھیے گا۔۔۔”
ارحہ نے مسکرانے کی کوشش کی ۔۔
“شیور اور تم حنان کے بنا خوش رہ سکو گی؟”
اسوہ نے ڈرتے ڈرتے استفسار کیا۔
“جی بلکل ، مجھے ہر جگہ خوشی کی وجہ ڈھونڈنی آتی ہے ، بس حنان مان جاۓ تو ریلیکس ہو جاؤں گی۔”
اس نے گہرا سانس ہوا کے سپرد کرتے کہا۔
ارحہ سچ کہوں تو حنان نہیں مانے گا حنا سے شادی کو۔”
اس نے خدشہ بیان کیا ۔
“فکر نہ کریں آپ ، میں کل مل کر سب کلئیر کر دوں گی، جب میری طرف سے کوئی سگنل نہیں ملے گا تو ڈیفینٹلی وہ حنا کو ہی اپناۓ گا۔۔”
اس نے گہرا سانس لیا تو اسوہ نے شکریہ ادا کیا ۔
“بہت شکریہ یار تم بہت اچھی ہو۔۔”
اسوہ متعرف ہوئی۔
“نہیں سسو اچھی اور سچی آپ ہیں ، مجھے بہت اچھاا لگا ہے آپ سے مل کر۔”
اس نے اسوہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔۔
“خدا تمہاری قسمت اچھی کرے آمین۔۔”
ارحہ کے لیے اس نے سچے دل سے دعا مانگی۔۔۔۔
“ثم آمین۔”
وہ مسکرائی اس کے بعد دونوں نے چند باتیں مزید کی۔
“زندگی رہی تو پھر ملاقات ہو گی ۔۔”
وہ خدا خافظ کہتی چلی گئی۔
جو ذرا چھیڑا کسی نے تو چھلک پڑیں گے آنسو
کوئی مجھ سے نہ پوچھے تیرا دل اداس کیوں ہے







حنان لان میں چاۓ پیتا ٹہل رہا تھا مگر سوچوں کا محور ارحہ تھی۔
“ارحہ کافی بدل سی گئی ہے ، اول کال پک نہیں کرتی اور اگر کر لی تو مصروفیات کا بہانہ کہہ کر کال کاٹ دیتی ہے ، بات تو پہلے بھی زیادہ نہیں ہوتی تھی مگر ایک دوسرے کی خیر خیریت معلوم ہو جاتی تھی ، اسوہ بھی کہہ رہی تھی کہ پوچھ کہ بتاؤں کب گھر جائیں ان کے بٹ وہ تو کالز پک نہیں کر رہی۔۔”
وہ گہری سوچ میں گم تھا تبھی کسی نے آنکھوں پر ہاتھ رکھ دئیے تو وہ مسکرا دیا ، اس لمس کی تو اسے پہچان تھی ۔
“ہاتھ ہٹاؤ آنکھوں سے یہ تم ہو ،،،،،، میں جانتا ہوں۔
تمہیں خوشبو نہیں آہٹ سے بھی میں پہنچانتا ہوں”
حنان نے مسکرا کر شعر پڑھا۔
“واہ واہ موصوف شاعر بن گئے ہیں۔۔”
حنا مسکرا کر سامنے آتے ہوۓ بولی ۔
“کیا ہوا؟؟”
حنا گھوم کر اس کے حلیے کا جائزہ لے رہی تھی تو وہ بولا۔
“یہ تم ملنگ کیوں بنے ہو؟؟”
حنا نے اس کی جینز کے اوپر قمیص کو دیکھ کر کہا۔
“اچھا خاصا تو ہوں ،، یہ ملنگ نہیں ٹرینڈ ہے جاہل۔”
حنان نے تلملاتے ہوۓ کہا۔
“بڑا ہی اچھا ہے ۔۔”
اس نے طنز کیا۔
“تم بھوت کی طرح میرے ارد گرد کیوں گھومتی رہتی ہو ہر وقت ،،، کوئی کام تھا۔۔ “
اس نے حنا کو دیکھا۔
“ارے ہاں ،،دوپٹہ لانا تھا بازار سے ۔۔”
اس نے سر پر ہاتھ مار کر کہا۔۔
“اسریٰ کی شادی تک تم سارا بازار خرید لاؤ گی۔”
حنان نے اس گھورا۔
“جو تم شرٹ لاۓ تھے اس کے ساتھ دوپٹہ نہیں ہے اوع مجھے آج ہی چاہیے پلیز حنان ۔۔”
اس نے منہ لٹکایا۔
“حنان کی جان کل چلیں گے آج نہیں ۔۔”
اس نے حنا کی نقل کرتے ہوۓ کہا۔
“نہیں مجھے آج ہی چاہیے نا۔”
اس نے ضد کی۔
” ارے یاد آیا وہ ڈرائیور جا رہا ہے اسوہ کے گھر کچھ ڈریس دینے ، جلدی جاؤ اسے بتاؤ۔ “
اس نے گاڑی ریورس کرتے ڈرائیور کی طرف اشارہ کیا۔
تو وہ بھاگتی ہوئی ادھر گئی۔
“آرام سے جاؤ گر نہ جانا یار۔۔”
وہ فکرمندی سے بولا تبھی موبائل بجا۔۔
“ہیلو اسلام علیکم ارحہ ۔۔”
اس نے کال پک کرتے ہی بے صبری سے کہا۔
“وعلیکم اسلام ، کیسے ہو؟؟”
اس نے گہرا سانس لیا۔
” تم کو کیا لگے ،، کوئی کام تھا؟؟”
حنان رکھائی سے بولا ، اسے جتانا چاہتا تھا کہ ناراض ہے۔
“ہوں ۔۔۔”
اس نے ہنکارا بھرا۔
“بولو۔”
لہجہ ابھی بھی سرد تھا۔
“کل تم دونوں سے ملنا چاہتی ہوں ، حنا اور تم سے۔۔”
اس نے لب کاٹتے کال کا مقصد بتایا۔
“ہم سے؟؟ کیوں؟؟”
اب کی بار وہ چونکا تھا۔
“کچھ کام ہے اس لیے۔۔”
اس نے گہرا سانس لیا اور ماتھے پر ہاتھ پھیرا۔
“کیسا کام؟؟”
وہ الجھا۔
“کال پر بتانے والا نہیں ،، ملنا ضروری ہے وہ بھی کل۔۔”
اس نے آنکھوں پر ٹھنڈا ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔
“کل نہیں ممکن ،، پرسوں مل سکتے ہیں کیونکہ کل ہادی اور بھابھی آ رہے ہیں پاکستان۔۔”
اس نے بتایا۔
“حنان تھوڑی دیر کے لیے ہی آنا ہے پلیززززز ،،، کل نہ مل پائی تو پھر شاید ہم کبھی نہیں مل پائیں گے۔ باۓ۔”
اس کی آنکھیں نم ہوئیں۔
“کیا مطلب؟؟؟”
حنان الجھا مگر کال ڈراپ ہو چکی تھی۔
“کیا بول رہی تھی یہ؟؟ پاگل ہے ایک دم۔۔۔۔”
وہ نفی میں سر ہلاتا ہوا بڑبڑایا تھا۔۔
“کیا ہوا؟؟”
حنا ڈرائیور کو کہہ کر ادھر ہی آگئی۔
“ارحہ کی کال تھی۔”
اس نے کہا اور جواباً ساری بات بتا دی..
ایک بار الجھنا ہے تم سے
بہت کچھ سلجھانے کیلیے






“کہاں جا رہی ہو تم؟”
تنزیلہ بیگم نے اسے دیکھا۔
“کسی دوست سے ملنے جانا ہے۔”
اس کا لہجہ سرد تھا۔۔
“کس سے؟؟”
انہوں نے جانچتی نظروں سے دیکھا۔
“اسی سے۔۔”
اس نے بنا دیکھے کہا۔
“تم نہیں جاؤ گی، ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔۔”
انہوں نے تنبیہہ کی۔۔
“ماما اگر مجھے کوئی غلط قدم اٹھانا ہوتا تو عارش بھائی سے منگنی ہی نہ کرتی ،، میرا اس سے ملنا ضروری ہے ،،اسے سمجھانا ہے اور بے فکر رہیں اس کی کزن بھی ہو گی ساتھ ،، آپ نے جانے نہ دیا تو نتائج کی ذمہ دار آپ خود ہوں گی مما، آپ جو چاہتی تھیں وہ کر چکی ہیں، اب تو بھروسہ رکھیں بیٹی پر۔ “
اس نے تلخی سے کہا۔۔
“ٹھیک ہے جاؤ اور رانیہ کو لے جانا ساتھ۔”
انہوں نے اجازت دے دی۔
” رانیہ کے ساتھ واپس آ جاؤں گی وہ ادھر ہی ہے۔۔”
وہ کہہ کر چلی گئی۔
“اللہ خیر کرنا سب۔۔”
انہوں نے گہرا سانس لیا۔
ضبط سے بڑھ کر اگر،،، درد چھپایا جاۓ۔
حوصلےٹوٹ کر آنکھوں سے نکل آتے ہیں






ابھی فقط جدائی کا قہر ٹوٹا تو یہ حشر برپا ہے۔
تو کسی اور کا ہو گا،،،،، یہ قیامت ابھی باقی ہے
“کیا کہنا ہو گا ارحہ نے؟؟ یہی کہ اس نے پیرنٹس کو منا لیا ہے ،،، کیا میں سہہ پاؤں گی ؟؟؟؟ سارا قصور بھی تو میرا ہے نا ،،، کہاں سے لاؤں گی حوصلہ میں ۔۔”
وہ بالوں کو برش کرتی گہری سوچ میں گم تھی۔۔
“ہاۓ ریڈی ہو؟؟”
حنان اس کے روم میں آیا۔
“ہممم ہینڈسم لگ رہے ہو۔۔”
حنا نے اسے وائٹ سوٹ میں دیکھ کر تعریف کی، وہ وائٹ بہت کم پہنتا تھا مگر جب بھی پہنتا بہت ہینڈسم لگتا تھا۔
“آج کیسے تعریف کر دی تم نے؟ کچھ دن پہلے تو مجھے وائٹ میں دیکھ کر تم کہہ رہی تھی برفانی ریچھ۔۔”
وہ ہنستا ہوا اندر آیا۔۔۔
“ہاہاہاہاہا میں نے سوچا کہ کچھ دن کے بعد تعریف کا حق صرف ارحہ کو ہو گا تو کیوں نا میں آج کر دوں۔۔”
وہ چوڑیوں کو دیکھتے ہوۓ بولی۔
“تمہیں تعریف کا حق ہمیشہ رہے گا اینی وے یہ چوڑیاں تمہیں ارحہ نے دی تھی نا؟؟”
حنان نے قیاس آرائی کی۔
“یس ،،، بہت پیاری ہیں نا،، چلو اب دیر ہو رہی ہے۔۔”
وہ باہر آتے ہوۓ بولی۔
“
سنو تم کو بھاتے ہیں جتنے بھی رنگ
ویسی سب چوڑیاں ہیں میرے پاس
“تم لوگ کدھر جا رہے ہو؟؟”
دعا نے دونوں کو جاتے دیکھ کر بھاگتے ہوۓ پوچھا۔
“افففففففف یہ دعا نہیں بددعا ہے۔۔”
حنان نے نفی میں سر ہلایا۔
“ہم لوگ کسی کام سے جا رہے ہیں۔۔”
اس نے مڑ کر جواب دیا۔۔
“جو بھی کام ہے پینڈنگ کر دو، بھائی لوگ آنے والے ہیں۔ “
دعا نے دونوں کو گھورا۔
“پینڈنگ نہیں ہو سکتا ہم یوں گئے یوں آۓ۔۔”
وہ ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے ہوۓ بولا۔
“حد ہے۔”
دعا نے دونوں کو گھورا۔۔
“نہیں بے حد ہے ۔”
اس نے ہنستے ہوۓ کہا اور چلا گیا۔
“کیا ہوا؟؟”
اسوہ حرم کو اٹھاۓ آ گئی۔
“مجھے ان دونوں کے لچھن کچھ مشکوک لگ رہے ہیں، تیار ہو کر نکل گئے ہیں دونوں ، مشکوک حرکتيں لگ رہی ہیں مجھے ان دونوں کی۔”
دعا نے اس کو دیکھا اور راۓ دی۔
“یہ تو آل ٹائم مشکوک بندے ہیں جان، تم ٹینشن نہ لو۔۔۔”
وہ آنکھ دباتی ہنسی تھی ۔
“یہ تو ہے ، اچھا میں چاول دیکھ کر آئی ، ان دونوں کو دیکھ کر ادھر آ گئی تھی۔”
دعا کہتی کچن کی طرف چلی گئی۔۔
“اللہ خیر کرنا،، یا اللہ ارحہ سب سنبھال لے۔۔”
اسوہ نے دعا مانگی ۔




وہ لوگ کیفے پہنچے تو ارحہ نہیں آئی تھی ۔
“کیا کھانا ہے؟؟”
اس نے حنا کو دیکھا۔
“میرا تو کچھ بھی کھانے کا موڈ نہیں ہے۔”
اس نے انکار کیا۔
“میرے باپ یا سسرال کا ریسٹورینٹ نہیں ہے ،، انہوں نے اٹھا دینا ہے اس لیے شریفوں کی طرح بتاؤ کیا کھانا ہے؟”
اس نے حنا کو گھورا۔
“کس ریسٹورینٹ میں ہیں ہم؟؟”
حنا کے سوال پر وہ چونکا۔
“تمہارا دماغ ٹھیک ہے نا؟؟”
وہ حنا کی غیر دماغی پر شاک تھا۔
“ہی ہی ہی جسٹ کڈنگ،،،،، فرائز اور شیک۔۔ “
اس کی نظر مینیو کارڈ پر پڑی تو یاد آ گیا ورنہ اس کا دماغ واقعی یہاں نہیں تھا۔
“وہ آ گئی ارحہ ۔۔۔”
اس نے ہاتھ ہلایا اور ارحہ کو اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔
