Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary NovelR50591 Kaanch Ki Choriyan (Episode 28)Part 2
Rate this Novel
Kaanch Ki Choriyan (Episode 28)Part 2
Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary
نہ پوچھ رات بھر جاگنے کی وضاحت اے دل نادان…!!!
محبت میں کچھ—- سوالوں کے جواب نہیں ہوتے…!!! ![]()
حنا روتی ہوئی اپنے کمرے میں آ گئی۔ قالین قالین پر بیٹھ کر سر گھٹنوں پر رکـھے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
“آئی ول نیور فورگیو forgive یوو۔”
وہ نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولی۔ رات کس پہر اس کی آنکـھ لگی اسے پتہ نہ چلا مگر صبح جب آنکھ کھـلی تو سورج کی کرنیں چہرے پر پڑیں۔
“بھـابھی آپ؟؟”
زرنــش کو کرٹین اکھٹے کرتے دیکـھ کر وہ بولی۔
“یـس میں ،، حنان آفس چلا گیا اس کی میٹنگ تھی امپورٹنٹ اور تم نے اسے سی آف بھی نہیں کیا۔”
زرنــش بھـابھی نے اسے دیـکھا۔
“کـر لوں گی کال،،، پلیززززز ناشـتہ ؟؟؟ فیلنگ بھوک۔”
وہ دوپٹہ گلے میں ڈالتی چلی گئی تو زرنــش بھی چلی گئی۔









حنان آفــس میں بیٹھا ہوا تھا ،،،، رہ رہ کـر اپنے کیے پـر غصہ آ رہا تھا۔۔حنا کے آنسو بے چین کیے ہوۓ تھے۔ نہ کسی کام میں دل لگ رہا تھا نہ ہی دھیان۔
“ایک سـوری کہہ دینے سے اگـر حنا کی تکلیف کم ہو سکتی ہے تو یہ بـرا سودا نہیں ہے۔۔”
اس نے کچـھ سوچ کر موبائل اٹھایا۔
“اب یہ کال کیوں نہیں پک کر رہی؟؟”
وہ جھنجھلایا اور اب کی بار لینـڈ لائن پر کال کی۔ اس وقت گھـر پر صرف حنا عالی اور ملازمہ تھی۔
“اب یقیناً یہاں کال کر رہا ہو گا۔”
حنا موبائل کو صوفے پر پھینکتے لینڈ لائن کی طرف آئی۔
“ماما اور تائی امی گھـر نہیں ہیں۔”
اس نے کال پک کرتے ہوۓ بتایا۔
” ہیـلو حــــنا پلیززززز کال نہ کاٹنا۔”
اس نے گذارش کی ،،،حنا خاموش رہی۔
” حنا میں تمہیں تھپڑ نہیں مارنا چاہتا تھا۔”
اس کے لہجے میں شرمـندگی تھی۔
“لیکن تم نے مارا۔ْ”
وہ تڑپ کر بولی۔
” قـسم سے میـــرا مقصـد تمہیں ہرٹ کرنا بھی نہیں تھا۔”
اس نے نفی میں سر ہلاتے صفائی دی۔
“لیکن قسم سے تم نے مجھے ہرٹ بھی کیا۔۔”
آنسو پلکوں سے نیچے آنے کو مچلنے لگے۔
“حــــــــنا۔”
حنان کی آواز میں دکھ تھا، حنا نے فون رکھ دیا۔ کتنی بار کال آتی رہی مگر اس نے نہ پک کی۔موبائل پر کال آئی تو موبائل بند کر کے ڈرا میں رکھ دیا۔
••”-اہم کردار ہوں قصے کا مگر باغی ہوں
ضد پہ آؤں تو کہانی سے نکل جاتی ہوں![]()
“کیا ہوا؟”
تھوڑی دیـر بعد ہادی آ گیا۔۔
“نتھــنگ ۔۔”
اس نے گہرا سانس لیتے خود کو نارمل کیا۔
“اچـھا بابا نے یہ فائل دی ہے اور تجھے میٹنگ اٹینڈ کـرنے کــراچی جانا ہے ، خود گھر چلے جاؤ یا ڈرائیو سے کہہ کر منگـوا لو سامـان۔”
ہادی نے کافی کا کپ لبوں سے لگایا۔
“ہـوں،،،،،،،،، ڈرائیو سے کہہ کر ہی منگـواتا ہوں۔”
اس نے سـر ہلایا۔
“ہادی ایک ســوال پوچھوں؟”
اس نے مصــروف انداز مـیں سـر اٹھایا۔
“ہاں پوچـھو؟”
ہادی نے ســـر ہلایا۔۔
“کیا تم نجومیوں پر یقـین کرتے ہو؟”
اس نے ابـرو اچـکاۓ۔
“نہیں یار ،،، قسمـت اور غیب کا عـلم تو صرف اللہ تعالی کے پـاس ہی ہوتا ہے،، ہاں کبھی کبھی ان کی ایک آدھ بات سچ ہو سکـتی ہے کیـونکہ یار وہ ستـاروں کے عـلم کے مطابق بتـاتے ہیں اور ستـارے گردش بھی کرتے ہیں۔۔”
ہادی نے اپـنی راۓ دی۔
“ہممممممممم ،، اوکے میں ڈرائیو کو سامان کا کہہ دوں۔۔”
وہ چلا گـیا۔
“میـری فـریاد سن لے اے میرے مالک! حنا کو کبھی بھی کچھ نہ ہو ورنہ میں جی نہیں پاؤں گا ،،، تو جانتا ہے کہ حنا میری رگ و جان میں بسـی ہے،،، اسے کھـونے کا حوصلہ میرے اندر نہیں ہے ،،، اس کی سانسیں اگر کم بھی ہیں تو میرے مولا میری بھی سانسیں کم کر دے،،، میری زندگی اس کے نام کر دے،، وہ زندگی جیـنا چاہتی ہے وہ میرے بنا شاید خوش رہ پاۓ مگر میں خوش نہیں رہ سکوں گا،، بلکہ جی ہی نہ سکوں گا۔۔۔”
وہ کوریڈور سے جاتا گہری سوچ میں مگن تھا۔
ہو جاؤ گے مجبور تم بھی کچھ اس طرح…!!!
ھیر کی محبت میں رانجھا تھاجس طرح…!!!!!















” تنہا نہ کٹ ســکے گا سفــــر لوٹ آو تم
سونے ہیں میرے شام و سحر لوٹ آو تم “
“دادو آپ کی عـارش سے بات ہوئی؟”
اس نے دادو کو دیـکھا جو تسبیح پڑھنے میں مگن تھیں۔
“ہاں رات کو بات ہوئی تھی،، تمہاری نہیں ہوئی بات؟”
دادو نے اسے دیکـھ کر پوچھا۔
“نہیں ہوئی ہے میری بھی بات۔”
اس نے بمشکل مسکرا کر کہا۔
“چلو اچھی بات ہے،،، اور بیٹا گھـر چکر لگا آتی اس دن کی ایک بار بھی نہیں گئی تم ؟ “
دادو نے اسے دیـکھا۔
“جی دادو یہی سوچ رہی تھی،، ابھی جا رہی ہوں آپ سے پوچھنے آئی تھی،، چلی جاؤں ۔؟”
اس نے فوراً پلان بنایا۔
“اچھا ایسا کرو کہ ماما کو ساتھ لے جاؤ اور شبانہ کو بھی تا کہ وہ صفائی کروا دے۔۔۔”
دادو نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
“جی دادو۔”
وہ اٹھی۔
“دھیان سے جانا بیٹا۔”
ان کے لہجے میں فکر تھی۔
“جی دادو۔”
وہ محبت سے بولی اور چلی گئی۔












“حنان نہیں آیا ابھی تک؟”
سب لاؤنج میں بیٹھتے تھے جب حنا نے پوچھا۔ رات کے دس بج رہے تھے اسے فکر ہو رہی تھی۔
“بیٹا وہ تو کراچی گیا ہے،،، تمہیں نہیں بتایا؟”
زاہد صاحب نے اسے دیکھا۔
“مجھے۔۔۔۔””
اس سے پہلے حنا کوئی جواب دیتی میسج رنگ ٹیون بجی ،،، اسے زندگی میں پہلی بار کمپنی کا میسج اتنا اچھا لگا تھا۔
“تایا ابو اس کا میسج آ گیا ہے،، میں آتی۔۔”
وہ بھاگـتی ہوئی اپنے روم میں چلی گئی۔
“”حنان کـراچی چلا گیا اور مجھے بتایا بھی نہیں۔۔”
اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
“حنان کیـوں تڑپا رہے ہو تم مجھے اتــنا،،،، میـرے دل
کے حالات سے انجان تو نہیں ہو تم۔۔۔۔”
وہ کنپٹیاں سہلاتے سوچ رہی تھی۔
“تمہارے بنا جینا محال ہے حنان ،،، نہیں سوچا جاتا کچھ ببھی بنا تمہارے،،، میری تو آنکھیں دماغ دل صرف تمہیں ہی سوچنا چاہتے ہیں۔ تمہارے بنا ویران ہے سب۔۔”
وہ اٹھ کر چوڑیوں کے پاس آئی۔
“کتنے دن ہو گئے تمہیں اس کمرے میں آۓ چوڑیوں سے ملے،،،، بہت اداس ہیں چوڑیاں بھی،،، کھنکھناتی ہی نہیں اب،،، تمہارے بنا اداس دھن بجاتی ہیں۔۔”
اس کی آنکھوں سے بہتے آنسو چوڑیوں پر گر رہے تھے۔
“میـرا دل بنـد ہو جاۓ گا، مجـھے مت تڑپاؤ حنان ،، تمہاری جان مر جاۓ گی ورنہ۔۔۔۔۔”
وہ وہاں ہی نیچے بیٹھ گئی۔
کل رات میں خواب میــــں کچھ یوں دیکھا
تم آ تو گئے تھے مگر مجھے دفنا دیا گیا تھا









ارحہ گھر آئی تو ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا نے استقبال کیا،، درخت اور پودے جھوم رہے تھے، یہ کہنا بجا ہو گا،،، ارحہ کا ویلکم کر رہے تھے،،، چنبیلی نے اپنی خوشبو اس کے رستے میں بکـھیری،،، گلاب بھی اپنی پتیوں کو اس پـر نچھـاور کر رہا تھا،،، چند ایک پودے مرجھا کر اس سے اظہار ناراضی کر رہے تھے۔
ہر شے نے استقبال کیا تھا ہمارا
گئے تھے تیرے شہر تیرے بنا ہم
(ازخود)
“کـیا ہوا ارحہ بی بی؟؟ رو کیوں رہی ہیں آپ؟”
شبانہ نے اسے دیـکھا۔
“کچھ نہیں ،، کافی ٹائم بعد گھـر آئی تو دل بھر آیا۔۔۔۔”
وہ آنسو کو پونچھتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
“ہاں یہ تو ہے،،، آپ کو عـارش صاحب اور یہاں گذرا وقت یاد آیا ہو گا۔۔”
شبانہ نے قیاس آرائی کی۔
“ہاں اور تم یہاں کی صفائی کرو میں آتی ہوں ۔۔۔”
وہ لان کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ اندر گئی۔
“افففف سارا دن ویٹ ہوتا کب گھــر جا کر اپنی مسز کا دیدار کروں گا،،،، یار یہ گھــر تو جنـت ہے میری،،، کوئی جان سے گیا اور ان کے لیے ادا ٹھہری۔۔”
ارحہ کے کانوں میں اس کے کہے گئے جملے گونج رہے تھے،،، آنکھیں رو رو کـر اس کو دیکھنے کی فریاد کر رہی تھیں ،،، دل دماغ سب متفق تھے کہ دیکھنا ہے۔
مت پوچـــــھو کیســے گزرتا ہے ہر پل تیــــــــــرے بنا
کبھی بات کرنے کی حسرت اور کبھی دیکھنے کی تمنا












حنان کی میٹنگ تین دن کی تھی،، وہ تین دن سب کے لیے پلک جھپکتے میں گزرے سواۓ ان دونوں کے۔۔۔۔ وہ گھر آیا تو حنا لاؤنج میں تھی،،، فوراً کرٹین کے پیچھے چھپ گئی۔حنان کی متلاشی نظریں ہر جگہ دیکھ رہی تھیں۔
“تائی امی،،، میں جا رہی ہوں۔”
وہ مسکـرا کر ان سے ملی۔
“”حنا بیٹا کیا یہ صحیح ہے؟”
تائی جان نے فکر مندی سے کہا۔
“”مجھ پر یقین رکھیے۔”
وہ الوداعی کلمات کہ کر چلی گئی۔۔۔۔
“”حنا کہاں ہے؟”
ڈنر ٹیبل پر حنان کی نظـروں کا سوال جویریہ بیگم نے پوچھا، حنان چوکنا ہو گیا۔
“وہ تو پھوپھو کے گھــر گئی ہے ،،، بچے بہت ضد کر رہے تھے تو اسے جانا پڑا۔۔۔۔۔”
زرنــش نے بتایا تو حنان نے لب بھینچے۔
وفا پر ، دوستی پر ، پیار پر ایمان رکھتا ہوں
کبھی جب وقت پڑتا ہے تو ان کا مان رکھتا ہوں
محبت ___بڑھتے بڑھتے لو یہاں تک آگئی ہے اب
جہاں وہ پاوں رکھتا ہے وہاں میں جان رکھتا ہوں
تمہارا درد سہہ لینا ___ مجھے آساں نہیں لیکن
میں اپنے آپ کو اس درد سے انجان رکھتا ہوں
نہیں بھولا ہوں میں اب تک کسی کو سوچتے رہنا
وہی ٹوٹا ہوا دل ہے _____ وہی ارمان رکھتا ہوں
زباں پر بے وفائی کے گلے، شکوے تو ہیں ___ لیکن
میں اپنے دل کے ہر گوشے میں اسکا نام رکھتا ہوں
مجھے ، دنیا اس ____کی نسبت یاد رکھتی ہے
یہی پہچان ہے میری ____ یہی پہچان رکھتا ہوں
جب ترا حکم ملا ترک محبّت کر دی
دل مگر اس پہ وہ دھڑکا کہ قیامت کر دی
تجھ سے کس طرح میں اظہارِ محبّت کرتا
لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی
میں تو سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے
تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی
مجھ کو دشمن کے ارادوں پہ بھی پیار آتا ہے
تری الفت نے محبت مری عادت کر دی
پوچھ بیٹھا ہوں میں تجھ سے ترے کوچے کا پتہ
تیرے حالات نے کیسی تیری صورت کر دی
کیا ترا جسم ترے حسن کی حدّت میں جلا؟
راکھ کس نے تری سونے کی سی رنگت کر دی
