Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaanch Ki Choriyan (Episode 19)

Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary

ارحہ ڈنر کیلیئے نہیں آئی تھی اور عارش کو خود پر بہت حیرانی ہوئی تھی کہ دل جیسے انتظار میں تھا ، بے دلی سے وہ کوفی لے کر روم میں چلا گیا جب کہ دوسری طرف ارحہ نیند کی گولیاں کھا کر سو گئی تھی۔ فجر کی اذان پر دادو اسے اٹھانے آئیں تو اس نے نماز ادا کی۔ ہاتھ دعا کے لیے بلند کیے تو اس نے سب کی خوشیوں کی دعا مانگی چاہے وہ حقیقی زندگی کے لوگ تھے یا ڈرامے کے کردار ، اپنی باری آئی تو جیسے مانگنے کو کچھ تھا ہی نہیں ، اس نے سر ہاتھوں پر رکھ دیا اور روتی رہی۔

“یا اللہ جی میرے دل کو سکون دے دے، مجھے اس گلٹ سے نکال دے کہ میں نے حنان کا دل توڑا ہے، یا اللہ جی میرے دل کو سکون دے دے، حنان اور حنا دونوں کی قسمت اچھی کر دے آمین۔”

اس نے روتے ہوۓ دعا مانگی ، ہاتھ چہرے پر پھیر کر وہ اٹھ کر ٹیرس پر آ گئی ۔ ٹھنڈی ہوا کو اندر اتارا۔

“عارش بھائی ادھر ہی ہیں ابھی تک۔”

اس نے عارش کی گاڑی کو پورچ میں کھڑے دیکھ کر خود کلامی کی تبھی تنزیلہ بیگم روم میں آئیں ۔

“کیسی ہو؟”

انہوں نے اس کی پیلی رنگت دیکھ کر دکھ سے کہا۔

“ٹھیک۔”

وہ روم میں آ گئی۔

“ناراض ہو؟”

انہوں نے اسے دیکھا۔

“ناراضی ؟ کیسی ناراضی ماما؟ ایک بہت اچھے انسان کو میں چھوڑ آئی ہوں، اس کا غم تا عمر رہے گا۔۔”

اس کا لہجہ بھیگا تھا۔

“ارحہ تمہاری بہتری کے لیے ہی لیا تھا فیصلہ ۔”

انہوں نے اس کی جانب ہاتھ بڑھا کر بکھرے بالوں کو سلجھایا مگر ارحہ پیچھے ہٹ گئی۔

“بہتری اور دل کی خوشی میں فرق کیوں ہوتا ہے؟”

اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔

“ارحہ بیٹا ۔”

وہ دہل گئی تھیں۔

ہم مشرقی لڑکیوں کو محبت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، ہم اگر محبت کر بھی لیں تو اسے ایسے چھپانا پڑتا ہے جیسے جرم نہیں بلکہ گناہ کبیرہ ہو ، محبت عذاب ہے ہم لڑکیوں کے لئے ، بچپن سے لے کر جوانی کی دہلیز تک بنا کہے ہر خواہش پوری کرتے ہیں مگر اس کی بہت بڑی قیمت وصول کی جاتی ہے ایک ان چاہے انسان کے ساتھ رخصت کر کے ، کون کہتا ہے کہ بیٹیاں نہیں دفنائی جاتی ؟ دفنائی آج بھی جاتی ہیں مگر طریقہ بدل گیا ہے، رونے تک کا حق چھین لیا جاتا ہے اپنی محبت کا واسطہ دے کر۔ ہمارے خواب چھین لیے جاتے ہیں ، مانتی ہوں کہ ماں باپ کے فیصلے بہتریں ہوتے ہیں مگر کچھ فیصلوں پر اولاد مسکرانا ہی بھول جاتی ہے ۔”

وہ گھٹنوں میں سر دیے رو رہی تھی ، آنسو سے در و دیوار تک ہل گئے تھے۔ اس کے الفاظ پر تنزیلہ بیگم رو دی تھیں۔

“”مجھے معاف کر دو بیٹا، میرا یقین کرو کہ تم بہت خوش رہو گی بس اسے مت سوچو ، پلیز مت روؤ تمہارے آنسو میرے دل پر گر رہے ہیں ، میں ماں ہوں تمہارا برا نہیں چاہتی بیٹا ،میں بے سکون ہوں پلیز مجھے معاف کر دو۔ “

انہوں نے روتے ہوۓ اس کے آگے ہاتھ جوڑے۔

“نہیں ، نہیں ماما پلیز نہیں، آپ کا حق تھا یہ ۔ “

اس نے ان کے ہاتھ پر اپنا سر رکھ دیا ۔

“میرا یقین کرو تم عارش کے سنگ بہت بہت خوش رہو گی ، انشاءاللہ ، بیٹا کیا تم میری خاطر مسکرا نہیں سکتی؟

انہوں مے ریکوسٹ کی۔

“یس واۓ ناٹ۔ “

اس نے آنسو پونچھ کر مسکراتے ہوۓ کہا۔

“شاباش اللہ پاک تمہیں ہمیشہ خوش رکھے آمین۔”

انہوں نے اسے بوسہ دیا تو وہ مسکرائی۔

“شاباش، عارش بھی ناشتے کے لیے آ رہا ہے ، تم بھی آ جاؤ ، میں ویٹ کر رہی ہوں، اچھا سا ڈریس پہن کر آؤ۔”

وہ مسکراتی ہوئی چلی گئیں۔

ارحہ نے گہری سانس ہوا کے سپرد کی اور اٹھ گئی۔

“یہ ناشتہ کرنے کیوں نہیں آئی ارحہ ؟”

دادو نے تنزیلہ بیگم کو دیکھا۔

“یہ آ گئی آپ کی ارحہ ۔”

انہوں نے مسکراتے ہوۓ کہا۔ عارش نے بھی سیڑھیوں سے اترتی ارحہ کو دیکھا، وہ اندازہ نہ لگا پایا کہ ارحہ واقعی پیاری لگ رہی تھی یا اس کی آنکھوں کو۔

“تھنک آبؤٹ ڈیول، ڈیول از ہیئر۔”

صفدر صاحب شرارت سے بولے۔

“بابا۔”

اس نے دادو سے مل کر بابا کو احتجاجاً کہا۔

“ہاہاہاہاہا بابا کی جان۔”

انہوں نے مسکراتے ہوۓ کہا۔

“آج آپ آفس نہیں گئے۔”

اس نے بابا کو دیکھا۔

“سنڈے کو ہم نہیں جاتے۔”

انہوں نے اطلاع دی۔

“ہاں میں تو بھول ہی گئی۔”

اس نے سر پر ہاتھ مارا۔

“بیٹا میں سوچ رہی کہ کیوں نا تم لوگ شاپنگ کر لو آج شادی کی، عارش لے جاؤ اسے ساتھ۔”

دادو نے ارحہ کی طرف اشارہ کرتے کہا۔

“جی نانو آئیڈیا تو اچھا ہے۔”

وہ اتفاق کرتا ہوا بولا۔

“نہیں دادو میں نہیں جا رہی، یہ لے آئیں جو مرضی۔”

ارحہ نے دادو کو دیکھتے آہستگی سے انکار کیا۔

“لیکن بیٹا عارش کون سا غیر ہے؟ آپ دونوں اپنی پسند سے کر لو شاپنگ، زندگی کا اہم دن ہے اپنے ارمان پورے کر لو تم دونوں۔”

صفدر صاحب نے کہا۔

“نہیں بابا جان، مجھے آپ سب کی پسند پر بھروسہ ہے۔ “

اس نے نرمی سے کہا۔

“عارش تم کیا کہتے ہو؟”

تنزیلہ بیگم نے اسے بھی شامل گفتگو کیا۔

“جیسے سب کی مرضی۔”

وہ فرمانبرداری سے سر جھکات بولا۔

“ٹھیک ہے تم لے آؤ شادی کے جوڑے۔”

دادو نے اسے دیکھا تو اس نے سر ہلا دیا۔ ارحہ نے اسے دیکھا تو وہ بھی سادہ سے حلیے میں خوبرو لگ رہا تھا، دونوں کی نظریں ملیں تو ارحہ نے نظریں جھکا دیں۔ عارش نے مسکرا کر نظروں کا رخ بدل لیا تھا۔

میں موقع نہيں دیتی اسے اظہار کا

میں جانتی ہوں وہ پسند کرتا ہے مجھے

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

اسوہ اور دعا لوگوں نے دعوت کا اچھا خاصا انتظام کر دیا تھا، وہ سب لوگ اسریٰ کی شادی کی شاپنگ دکھا رہے تھے تو حنا اٹھ کر ٹیرس پر آگئی۔حرم بھی پاس تھی۔

“بور ہو رہی ہوں میں حنان کے بنا، ایک فیملی گیدرنگ میں اس کے بنا نہیں اٹینڈ کر پا رہی تو کیسے میں ساری زندگی اس کے بنا گذاراوں گی؟ سفر زندگی اتنا بھی آسان نہیں ہوتا جتنا ہم سمجھ لیتے ہیں، کاش بچپن کبھی بھی ختم نہ ہوتا نا، تب بچھڑنے کا خطرہ تو نہیں تھا۔”

وہ گہری سوچوں میں گم تھی۔

“آنی آئیں نا پکس لیں۔”

اسری افنان کا ڈائیلاگ بولتے ہوۓ شرارتاً بولی۔

“ہاہاہاہاہا ۔”

حنا ہنسی۔

“تم کیوں آ گئی ادھر؟ حنان بھیا کی یاد آ رہی ہے ؟”

اسریٰ نے کہا تو اس کا دل رک کر دھڑکا۔

“نہیں ایسا کچھ نہیں ہے، میں یہاں سے دیکھ رہی تھی کہ کہاں اسٹیج بہتر رہے گا، اب ہم نے ڈانس بھی تو کرنا ہے۔”

اس نے مسکراتے ہوۓ بات بدلی۔

“سو تو ہے، یاد ہے حنان بھیا اور تم نے وعدہ کیا تھا کہ میری شادی پر ڈانس کریں گے۔”

اس نے یاد دلایا تو حنا نے اثبات میں سر ہلایا۔

“افکورس تمہاری شادی ہی تو بچی ہے سب ارمان نکالنے کو، اب اللہ کرے کہ یہ دو ہفتے جلد گزر جائیں اور تمہاری شادی ہو اور ہم خوب مزہ کریں۔”

وہ ایکسائٹمنٹ سے بولی۔

“انشاءاللہ جلد ہی۔”

اسریٰ شرمیلی مسکراہٹ سے بولی۔

“چلو سیلفی لیں۔”

اس نے مسکرا کر کہا تو اسریٰ نے فوراً پوز بنایا۔ حنا نے کافی پکس لیں سب کے ساتھ نیچے آ کر بھی ۔ پھر حنان کو جلانے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ اس نے ساری پکس کو اسٹیٹس پر ڈال دیا تھا۔ ساتھ طرح طرح کیپشنز دیکھ کر حنان واقعی جلا تھا۔

🍁🌹اتنی خاموش محبت کیوں کرتے ہو ہم سے🌹🍁

🍁🌹لوگ کہتے ہیں اس بدنصیب کا کوئی نہیں🌹🍁

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

ان کے جاتے ہی حنان حنا کے روم میں آیا، چوڑیوں سے بھرا روم بلاشبہ بہت دلکش تھا، کچھ سوچتے ہوۓ وہ روم سے باہر آیا اور کچھ چیزیں لکھ کر ڈرائیور کو دیں اور خود پھر روم میں آ گیا تھا۔ اپنا کام کرنے کے بعد وہ مطمئن ہوا اور ملازمہ نے کھانا بنا کر دیا تو کھا کر وہ چاۓ سے لطف اندوز ہوتا موبائل دیکھنے لگا اور جب اسٹیٹس دیکھے تو سمجھ گیا کہ یہ سب کیوں ہے۔ پھر کچھ سوچتے ہوۓ اپنی اداس سی تصویر لی اور کیپشن لکھ کر اسٹیٹس پر لگا دی۔

میں اس سے روٹھا تھا کہ اپنا سمجھ کر منا لے گا۔

اور اسے تو بہانہ مل گیا تھا

میری ناراضی کا فائدہ اٹھا کر جان چھڑانے کا۔

حنا کو تو واقعی اسٹیٹس دیکھ کر آگ لگ گئی اور سونے پر سہاگہ اس کے دیکھتے ہی حنان نے ڈیل کر دیا۔

“بچو راضی تو نہیں ہونے والی اتنی جلدی، شوخا۔”

اس نے سر جھٹکا، ساری فیملی ساتھ تھی مگر حنان کی کمی اسے بری طرح محسوس ہو رہی تھی۔

میں جو بدلوں تو تغیر ہے میری ذات تک

تو جو بدلے تو شب و روز بدل جاتے ہیں۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

وہ لان میں ٹہل رہی تھی جب عارش اپنے روم کے ٹیرس سے اسے دیکھ رہا تھا۔

“کیا سوچ رہی ہو؟”

وہ ادھر ہی آ گیا۔

“نتھنگ۔”

اس نے نفی میں سر ہلایا۔

“تو پیروں کو کس جرم کی سزا دے رہی ہو؟”

وہ گاڑی سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔

“رانیہ کا ویٹ کر رہی تھی۔”

اس نے بنا دیکھے کہا۔

“کبھی ایسے میرا ویٹ کیا ہے؟”

عارش کی بات پر اسے حیرت کا جھٹکا۔

“جی آپ کے جانے کا۔”

وہ بس دل میں ہی کہہ سکی۔

“مذاق کر رہا تھا یار، تم تو پریشان ہو گئی، اینی وے چلتا ہوں ٹیک کئیر ۔”

وہ گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوۓ بولا۔

“اچھا یاد آیا، بارات یا ولیمے کے ڈریسز لینے ہیں تو تم اگر کوئی سجیشن دینا چاہتی ہو تو دے دو۔”

وہ اسے نظروں کے حصار میں لیتے ہوۓ بولا۔

“نو ، جیسے آپ کی مرضی ہو لے آئیے گا۔”

اس نے سب مکمل اسی پر چھوڑا۔

“اوکے ، ٹیک کئیر باۓ ۔”

وہ گاڑی میں بیٹھ گیا۔

“باۓ ۔”

ارحہ نے کہا، عارش گاڑی لے کر چلا گیا،پانچ منٹ بعد رانیہ آ گئی، دونوں وہاں ہی بیٹھ گئیں۔

“کیسی رہی اس سے ملاقات ؟”

رانیہ نے پوچھا۔

“سب ٹھیک رہا، مگر ایک غلطی ہو گئی۔”

اس نے سر تھاما۔

“کیا مطلب؟ غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔”

رانیہ نے نفی میں سر ہلایا۔

“میں نے اس سے ریکوسٹ نہیں کی کہ عارش بھائی کو نہ بتانا، اب اگر اس نے بتا دیا تو جانتی ہو قیامت آ جاۓ گی۔”

اس نے کنپٹیاں سہلاتے ہوۓ کہا۔

“افففففف ایڈیٹ یہی بات تو کرنے والی تھی۔”

رانیہ نے تاسف سے کہا۔

“آئی نو، تب مجھے سمجھ نہیں آئی تھی یار کہ کیا کہنا ہے اور کیا نہیں ۔”

اس نے دکھ سے کہا۔

“ایسا کرو کال کرو اسے۔”

رانیہ نے کہا تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔

“میں کہہ رہی ہوں پلیز کرو کال، کہو اسے پلیززززز ۔”

اس نے ریکوسٹ کی تو ارحہ نے اس کا نمبر ڈائل کیا۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

وہ لاؤنج میں بیٹھا بےتابی سے ان لوگوں کے آنے کا انتظار کر رہا تھا تب ہی اس کے نمبر پر کال آئی، ارحہ کا نمبر دیکھ کر اس نے گہرا سانس لیا اور کال پک کی۔

“ہیلو اسلام علیکم حنان ۔”

اس نے فوراً کہا۔

“یہ حنان کا نمبر نہیں ہے اور آئندہ اس نمبر پر کال مت کرئیے گا محترمہ گڈ باۓ۔”

اس نے بے رخی سے کہہ کر کال کاٹ دی۔

ارحہ نے دوبارہ کال تو اس کا نمبر بلاک کر چکا تھا۔ تب ہی سب گھر آ گئے۔

“میں بہت تھک گئی ہوں بھئی، ریسٹ کرنے لگی ، کوئی ڈسٹرب نہ کرے مجھے۔”

وہ بطور خاص حنان کو جتا کر گئی۔

” حنان یہ کھانا بھیجا ہے تمہاری بہنوں نے، کچن میں رکھ رہی ہوں کھا لینا۔”

فرح بیگم نے کہا اور رفتہ رفتہ سب اپنے کمروں کی طرف چلے گئے تو وہ چلتا ہوا حنا کے روم کی طرف آیا۔

🔥
🔥
🔥

حنا جونہی روم میں آئی تو کمرے میں اندھیرا تھا، اس نے الجھتے ہوۓ لائٹس آن کی کیونکہ کمرے سے بھینی بھینی مہک آ رہی تھی۔ لائٹس آن کرتے ہی اسے شاندار جھٹکا لگا کیونکہ کمرہ گلاب کے پھولوں سے سجا ہوا تھا ، بیڈ پر پھول پڑے تھے اور درمیان میں سوری کا بڑا سا کارڈ پڑا تھا جس پر دونوں کی کافی تصاویر لگی تھی اور نیچے بڑا سا لکھا تھا۔

I Am ExTreMLy soRrY pArTneR.

حنا مسکرائی تھی یہ جانے بنا کہ وہ دروازے میں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ دیواروں پر مختلف چوڑیوں سے سوری لکھا تھا۔ صوفے کے آگے پڑی ٹیبل پر گلاب کی پتیوں سے سوری لکھا ہوا تھا۔ وہ مسکراتی ہوئی دیوار کے پاس آئی اور چوڑیوں پر ہاتھ پھیرا جن سے سوری لکھا تھا۔ اس کا دل خوشی سے بھر گیا۔

“پارٹنر تمہیں ستانا تو بنتا ہے میرا حق ہے۔”

وہ مسکراتی ہوئی پلٹی تو سامنے حنان تھا، وہ چونکی۔

” یہ کون سا طریقہ ہے کسی کے روم میں آنے کا؟”

اس نے خود کو کمپوز کرتے ہوۓ کہا۔

“یہ کسی نہیں میری بیسٹ فرینڈ کا روم ہے۔”

وہ مسکراتا ہوا اندر داخل ہوا۔

“کل تم۔۔”

اس سے پہلے کہ وہ کچھ مزید بولتی حنان نے اس کے لبوں پر تیزی سے ہاتھ رکھ دیا، چند لمحے محسوس کن خاموش دونوں کے درمیان آئی۔

“مجھے کل کے حوالے سے کوئی بھی طعنہ مت دینا پلیززززز ، ان چند لمحوں کو نکال دو ہماری دوستی کے گزرے وقت سے، میں بہت شرمندہ ہوں، تم مجھے سب سے جانتی ہو حنا اور تمہیں معلوم ہے غصے میں میرے منہ میں جو آتا ہے بنا ایک لمحہ سوچے بک دیتا ہوں، یاربمجھے بہت زیادہ شرمندگی ہے کل کے کہے ایک ایک لفظ پر، حنا مجھے تم پر خود سے زیادہ یقین ہے، بس پلیزززز بھول جاؤ کل جو بھی کہا۔”

اس نے افسوس سے کہا اور ایک گھٹنوں کے بل حنا کے سامنے بیٹھ گیا۔ ٹیبل سے گلاب کی کلی اٹھا لی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *