Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaanch Ki Choriyan (Episode 23)

Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary

“گڈ مورننگ ۔۔”

عارش نے بہت پیارا بکے اسے دیا۔

“تھینک یو، گڈ مورننگ۔”

وہ پھول دیکھ کر مسکراتے ہوۓ اٹھی۔ زندگی کی چھوٹی چھوٹی باتیں ہی زندگی کو حسین بناتی ہیں۔

“نئی زندگی کا پہلا دن مبارک ہو مسز۔”

عارش نے لب اس کے ماتھے پر رکھے۔

“خیر مبارک، آپ کو بھی مبارک۔۔”

وہ گلنار ہوتے گالوں کے ساتھ بولی تھی۔

“خیر مبارک چلو اٹھو نماز پڑھتے ہیں ساتھ میں۔۔”

عارش نے اس کی لٹوں کو کانوں کے پیچھے اڑسا اور خود واش روم چلا گیا۔۔ارحہ نے مسکراتے ہوۓ بکے کو دیکھا تو دل اندر تک سرشار ہو گیا۔ اس بکے پر چھوٹا سا کارڈ پڑا تھا جس پر لکھا تھا۔ “آئم ان لو۔”

اس نے مسکرا کر لب بکے پر رکھ دئیے۔

“بیٹا اللہ کے ہر کام میں بہتری ہوتی ہے مجھے یقین ہے کہ تم عارش کے ساتھ بہت خوش رہو گی۔۔۔”

اس کے کانوں میں تنزیلہ بیگم کی آواز پڑی تھی۔۔

“ماما آپ نے بلکل درست کہا تھا، میں آج صرف ایک دن میں اتنی خوش ہوں کہ خوشی سنبھالے نہیں سنبھل رہی ، ماں باپ کے فیصلے بلاشبہ زندگی سنوار دیتے ہیں،، مجھے حنان سے شاید محبت نہیں تھی،، ہاں میں اس کو اس کی عادات کی وجہ سے پسند تھا،، اسے چھوڑنے کا دکھ مجھے ہوا تھا مگر اب لگتا ہے کہ مجھ سے زیادہ خوش نصیب کوئی نہیں،، اگر وہ میری محبت تھا بھی تو میں یہ سمجھ گئی ہوں کہ لڑکی کی اصل محبت اس کا شوہر ہوتا ہے۔۔۔”

ارحہ پھولوں کو دیکھتے گہری سوچ میں گُم تھی جب عارش نے بالوں سے چھینٹے اس کے چہرے پر مارے تو وہ حال میں لوٹی۔ وہ آج حد سے زیادہ خوش تھی۔

عارش نماز پڑھ کر دعا مانگ رہا تھا اس کے ساتھ ارحہ بھی آنکھیں بند کیے زور وشور سے دعا مانگ رہی تھی۔

“کیا مانگا؟”

عارش بیڈ پر بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا۔

“بہت کچھ۔”

وہ دھیمی سی مسکرائی تھی۔

“اچھا کون سی دعا ریپیٹ کی؟”

وہ جیسے جاننا چاہتا تھا۔

“آپ گھورو گے مجھے اگر بتا دیا تو؟”

وہ منہ بناتی ہوئی بولی۔

“نہیں یار تم بتاؤ؟”

وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

“میں نے دعا مانگی کہ یا اللہ سعد شہید نہ ہو۔”

اس نے کہا تو وہ ہونق بنا اسے دیکھ رہا تھا وہ اس سے ایکسپیکٹ کر رہا تھا کہ جیسے وہ کہے گی جنم جنم ساتھ چلنے کی دعا مانگی ہے مگر یہاں تو گنگا ہی الٹی بہہ رہی تھی۔

” آپ کہو گے کہ شہادت کی سعادت تو خوش نصیبوں کو ملتی ہے جب کہ میں فی الحال کوئی اور صدمہ برداشت نہیں کر سکتی، اوپر سے سعد کی ماما بابا اور دعا اس کے بنا نہیں رہ سکتے ۔”

اس نے تقریر جھاڑ دی۔

“ہاہاہاہاہا اچھا۔”

اس نے واقعی نہیں گھورا تھا ، وہ جیسے جان گیا تھا کہ یہ لڑکی کتنی دیوانی ہے۔

“ہنسنے والی بات تو ہرگز نہیں تھی یہ۔”

اس نے دانت پیسے۔

“اچھا میں بھی دعا کرتا ہوں کہ سعد نہ شہید ہو۔۔”

وہ مسکراہٹ دبا کر بولا تھا۔

“آمین ،، ویسے آپ نے کبھی ڈرامہ دیکھا ہے؟”

وہ ڈریسنگ ٹیبل کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی تھی۔

“ہاں کتنی بار لائیو۔۔”

وہ شرارتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

“عارش بھ،،،”

دانت پیس کر کہتے کہتے اس نے زبان دانتوں تلے دبائی۔

“افففف،، چلو سو بار کہو عارش۔۔۔ “

اس نے حکم دیا۔

“پڑ جاۓ گی عادت دھیرے دھیرے۔”

ارحہ نے سر جھٹکا۔

“نہیں ابھی کہو پلیزززز۔۔۔”

اس نے معصومانہ گذارش کی تو ارحہ سر ہلا کر کہنے لگی۔

“عارش، عارش ، عارش، عارش، عارش عارش۔”

وہ نرمی کے ساتھ کہتے شرما بھی رہی تھی جب کہ عارش بہت خوش ہو رہا تھا۔..

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

حنا کے پیچھے پیچھے حنان بھی کچن میں آ گیا۔ وہ لڑکی جس کا نام صبا تھا وہ سعد لوگوں کی دور پار کی رشتہ دار تھی، نٹ کھٹ شرارتوں کی وجہ سے اسے حنان اچھا لگا تھا اور حنان بچہ نہیں تھا جو سمجھ نہ پاتا، اسی لیے حنان کچن کے دروازے سے ہی پلٹ آیا تھا۔

“ارےےےےے آپ۔۔۔”

صبا مسکرا کر پلٹی تھی اور حنان کو دیکھا تھا۔

“جی ۔”

وہ مختصراً بولا تھا۔

“آپ کو کچھ چاہیے تھا؟”

وہ مسکراتی ہوئی بولی تھی۔

“اگر مجھے کچھ چاہیے ہو گا تو میں حنا سے کہہ دوں گا، آپ اپنا کام کرئیے ، حنا تم پراٹھے بناؤ،

میں آملیٹ بناتا ہوں۔۔۔۔۔”

اس کا ٹکا سا جواب دے کر اس نے حنا کو دیکھا جو آملیٹ کے لیے ٹماٹر دھو رہی تھی۔

“میں پراٹھا بنا دوں ؟؟”

صبا نے چہکتے ہوۓ اسے پھر آفر کی۔

“اس کے لیے ناشتہ میں ہی بناتی ہوں ہمیشہ ، اگر کسی اور کے ہاتھوں کا کرنا ہوتا تو وہ سب سے پہلے جا کر اپنی بہن کو اٹھا لیتا۔۔۔”

حنان کے ریکوسٹ کرنے پر حنا نے دانت پیستے کہا۔

“کیا لگتے ہیں حنان آپ کے؟”

صبا نے تلملاتے ہوۓ پوچھا۔

“جو کسی کے نہیں لگتے۔۔۔۔”

حنا نے گھورتے ہوۓ بتایا۔

نہیں ہوتے ہیں مگر ہوتے ہیں

کچھ رشتے عجیب ہوتے ہیں

“سنو۔”

وہ غصے سے جانے لگی تو حنا اس کے پاس آئی۔

“اس سے دور رہنا، سرپھرا بندہ ہے، گھاس ڈالے گا نہیں الٹا ذلیل کر دے گا۔”

حنا نے دبے لہجے میں وارن کیا تو وہ طنزیہ دیکھتی چلی گئی تھی اور حنا نے حنان کو دیکھا۔

“تم اسے خود سے چپکنے سے کیوں نہیں روک رہے۔۔”

حنا نے گھورا تو حنان ہنسا۔

“میں نے سوچا بیچاری تھوڑی دیر کر لے خوش خود کو۔۔”

وہ ہنسا تھا تو حنا نے بے اختیار اسے دیکھا۔

“حنان فقط یہ سوچ کر کہ وہ لڑکی تمہیں دیکھے گی، میری نیند پرواز کر گئی اور جس دن تم کسی اور کے ہو گے تو میری روح ہی پرواز کر جاۓ گی۔”

اس نے گہرا سانس لے کر دھیان پراٹھے کی طرف کیا۔

اسے لگ رہا تھاا کہ ان دیکھی آگ میں اس کا دل جل رہا ہو۔ جانے کیا رنگ لانے والی تھی یہ دوستی کی داستان۔

کیسے ٹکڑوں میں کوئی شخص سنبھالا جائے

جس نے جانا ہے کہو سارے کا سارا جائے

جب ہے برسات کسی اور کے آنگن کے لئے

اس کا کیچڑ بھی مرے گھر نہ اتارا جائے

ہے بری بات یہ سرگوشیاں محفل کو بتا

سرِ بازار مرا قصہ اچھالا جائے

زندگی میری ہے تو مجھ کو عطا کی جائے

ہے مرا حق تو مجھے اور نہ ٹالا جائے

شور اٹھتا ہے رگ و جاں سے تو دل پوچھتا ہے

خالی زندان سے اب کس کو نکالا جائے

عقل کہتی ہے کہ چل دور ہے منزل تیری

دل یہ کہتا ہے تجھے مڑ کے پکارا جائے

چاہ جینے کی ہے تو ، مشورہ ہے یہ ابرک

آستیں میں بھی کوئی سانپ نہ پالا جائے

اتباف ابرک

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

حنا اور حنان عارش کے گھر آۓ تھے تا کہ وہ اس کی دلہن سے مل سکیں مگر ارحہ میکے گئی تھی۔۔شام کو ریسپشن تھا اس لیے وہ ابھی ماما کے گھر چلی گئی تھی۔ عارش کچھ ضروری کاموں کی وجہ سے رک گیا تھا۔

عارش نے ان لوگوں کو بہت کہا کہ رک جائیں مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا،،، گھر سے کال آ گئی کہ اسریٰ کے سسرال جانا تھا جو کہ آؤٹ آف سٹی تھا اور ان کا جانا بہت ضروری تھا۔ سو وہ معذرت کر کے آ گئے۔

ارحہ کو خوش دیکھ کر تنزیلہ بیگم بھی بہت خوش تھیں، انہیں لگا ایک پہاڑ ان کے دل سے سرک گیا ہو۔۔

رانیہ تو فوراً اس کے آنے کا سن کر آ گئی تھی۔ ارحہ کو خوش دیکھ کر وہ بھی خوش ہو گئی تھی۔ دوستیں تو زندگی کے ہر خوشی و غم کی ساجھی ہوتی ہیں۔

شام کو ریسپشن بھی خیر خیریت سے ہو گیا، شاندار فوٹوشوٹ ہوا جو کہ ایک یاد کی طرح ہمیشہ ساتھ رہنا تھا، ۔ دوسری طرف حنا لوگ بھی ولیمہ اٹینڈ کر کے لوٹ آۓ تھےزندگی پھر سے معمول کی ڈگر پر آ گئی تھی۔

😍
😍
😍
😍
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

“کیا سوچ رہی ہو؟”

حنا کو گم صم پاپ کارن کھاتے دیکھ کر حنان نے پوچھا۔

“شادیاں ختم بھی ہو گئیں ، اکھٹی نہ ہوتیں تو آج عارش بھائی کی بارات ہوتی۔۔۔”

وہ منہ بنا کر بولی۔

“سچی یار۔۔”

وہ باؤل سے پاپ کارن اٹھاتے ہوۓ بولا۔

“حنان بیٹا ایسا کرو کہ اس سنڈے کو عارش کو دعوت پر بلا لو گھر پر،، کیا کہتے ہو ؟؟”

فرح بیگم اور جویریہ بیگم بھی لاؤنج میں آ گئیں۔

“یس شیور۔۔ کرتا ہوں کال اسے۔۔”

وہ مسکرایا تھا تو وہ لوگ باتوں میں لگ گئے۔

🎈
🎈
🎈
🎈
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🌸
🌸
🌷
🌷

ارحہ رسم کے مطابق ایک دن میکے رہ کر آ گئی تھی۔

“کیا کر رہے آپ؟”

وہ فریش ہو کر آئی تو عارش کو لیپ ٹاپ میں سر دئیے دیکھ کر پوچھا۔

“میل کر رہا تھا ، تم بتاؤ کوئی کام تھا؟”

وہ ابرو اچکا کر بولا۔

“نہیں ،، کوفی لاؤں آپ کے لیے؟؟”

ارحہ نے بالوں کو برش کرتے اسے دیکھا۔

“نہیں ایسا کرو کہ بوا سے کہو وہ کھانا لگا دیتی ہیں اور پھر ہم لوگ کوفی پیتے ہوۓ بہت سی باتیں کریں گے۔”

وہ مسکراتے ہوۓ اسے دیکھتے ہوۓ لائحہ عمل بتانے لگا۔۔۔

“میں تو آپ کو کم گو سمجھتی تھی مگر آپ تو خاصے باتونی ہیں۔”

وہ شرارت سے بولی۔عارش سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگا تو ارحہ کو لگا کہ وہ کچھ غلط کہہ گئی ہے۔

“آئم سو سوری،، آئی واز جسٹ کڈنگ۔۔ “

وہ خشک لبوں پر زبان پھیرتے ہوۓ بولی۔

“اففففف اب اس میں سوری والی کیا بات تھی پگلی؟ پتہ ہے میں نے اتنی باتیں کبھی ساری زندگی کسی سے نہیں کی جتنی ان تین چار دنوں میں تم سے کی ہیں، مجھے اچھا لگتا ہے تم سے باتیں کرنا ، تمہاری سننا۔۔”

وہ اٹھ کر اس کے پاس آیا اور گویا ہوا۔

“میں کھانے کا کہہ کر آتی ہوں ۔”

وہ جانے لگی تو عارش نے اس کی کلائی تھامی ، وہ کتنی بھی فرینک سہی مگر پھر بھی اعتماد کھو دیتی تھی اس کے سامنے۔ آج بھی عارش سے ڈر کہیں نہ کہیں دل کے کونے میں تھا۔

“کیا میری شکل ڈراؤنی ہے؟”

عارش نے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔

“تو پھر یار اتنا کیوں ڈرتی ہو مجھ سے؟ مجھے اچھا نہیں لگتا یار جب تم مجھ سے ڈر جاتی ہو، ہاں میں تم پر پہلے تھوڑا غصہ کر جاتا تھا مگر تب میرا تم سے یہ والا رشتہ نہیں تھا۔۔۔ “

وہ کہتا آخر میں ہنسا تھا۔

“اور اب میں تم کو کبھی بھی نہیں ڈانٹوں گا، ہم ایسی زندگی جئیں گے کہ لوگ بے اختیار ماشأاﷲ کہیں گے، خوشیوں اور محبت سے بھرپور۔۔۔”

وہ اس کے چہرے کو دیکھتے ہوۓ بولا۔

“انشاءاللہ آمین۔”

وہ دل سے مسکرائی تھی۔

“ثم آمین۔ چلو اب کہو کہ عارش نہیں ڈرتی میں تم سے۔۔”

عارش کو نئی بات سوجھی۔

“یہ نہیں کہا جاۓ گا۔”

ارحہ نے دھیمی آواز میں کہا۔

“کہنا تو پڑے گا۔”

عارش نے اپنا بازو اس کے گرد حمائل کیا۔

“اچھا کہتی ہوں۔۔ میں نہیں ڈرتی آپ سے۔”

وہ اب کی بار آہستگی سے بولی۔

“نو زیرو۔۔ بولو اونچی آواز میں ،،، عارش نہیں ڈرتی میں تم سے۔۔۔”

اس کا انداز نہ ماننے والا تھا۔

“عارش نہیں ڈرتی میں آپ سے۔”

وہ اب کی بار تھوڑا اونچا بولی۔

“شاباش گڈ گرل،،،،، مسز اچھی لگ رہی ہو۔۔۔۔”

اس نے مسکرا کر کہا اور لب ماتھے پر رکھے۔۔ حیا کے رنگ ارحہ کے چہرے پر بکھرے تھے۔۔۔۔ اس کے جاتے ہی عارش کے سیل پر حنان کی کال آ گئی۔

“ہیلو کیسے ہو؟”

عارش نے خوشگواری سے کہا۔۔

“ااے ون ، تو سنا ڈسٹرب تو نہیں کیا؟

حنان نے پوچھا۔

“بلکل بھی نہیں یار ،، بتا سب کیسے ؟؟ خیریت سے کال کی ہے؟”

عارش نے ٹیرس کی جانب آتے ہوۓ پوچھا۔

“”جناب تو کل فری ہی ہو نا تم اور بھابھی۔۔”

حنان نے لان میں چہل قدمی کرتے ہوۓ پوچھا۔

“ہاں آل موسٹ،، وہ جرمن ڈیلی گیشن کے ساتھ ایک میٹنگ ہے کل دو بجے اور پھر فری ہوں۔۔”

اس نے کل کی پلاننگ سے آگاہ کیا۔

“ہممممم چلو گڈ تو پھر کل ڈنر تم لوگ ہمارے گھر ڈنر کر رہے ہو اور نو ایکسکیوز اوکے۔۔”

حنان نے انوائیٹ کیا۔

“اوکے جو حکم۔۔۔”

وہ ہنسا تھا۔دو ایک باتوں کے بعد کال کاٹ دی۔

🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁

ارے مجھے یاد آیا کہ کل میں نے آفس جانا ہے۔”

عارش نے ارحہ کو بتایا جو لیپ ٹاپ پر ڈرامہ دیکھ رہی تھی۔

“اتنی جلدی؟”

اس نے حیرت سے آنکھیں وا کیں۔

“یسسس کل امپورٹنٹ میٹنگ ہے اور ہاں بتاؤ کس کنٹری گھومنے چلیں؟”

عارش نے فائل ٹیبل پر رکھی۔

“کنٹری نہیں مجھے پاکستان گھومنا ہے۔۔”

ارحہ مسکرائی تھی۔

“بلکل مجھے بھی گھومنا ہے پاکستان ،،،میں نے سوچا کہ تم یہ نہ کہو کہ پاکستان پر ٹرخا رہا ہوں۔۔۔”

وہ سچائی سے بولا تھا تو وہ مسکرائی تھی۔

وہ باکمال بھی ھے اور خوبصورت بھی

میں اس سے عشق نا کرتا تو اور کیا کرتا♥

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *