Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary NovelR50591 Kaanch Ki Choriyan (Episode 14)
Rate this Novel
Kaanch Ki Choriyan (Episode 14)
Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary
“اوووو میرے اللہ ،،، ہر الٹا کام عارش بھائی کے سامنے کیوں ہوتا ہے ، کیا سوچ رہے ہوں گے وہ۔۔”
اس نے روم میں آ کر بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ گہرا سانس لیا۔
“خود کہتے ہیں زبان سے نہیں پھرتے اور خود کہا کہ نہیں جانا گھر آفس کام ہے ، اب کیا لینے آۓ؟؟؟ میں کس منہ سے جاؤں گی ان کے سامنے یار ۔۔۔۔ ۔”
وہ حقیقتاً شرمندہ تھی ، تبھی ڈور نوک ہوا۔
” افففففففف اب ماما کا لیکچر ،آ جائیے ۔”
اسے یہی تھا کہ تنزیلہ بیگم ہوں گی ۔
“ع۔۔۔عارش بھائی آپ ۔؟”
اس نے خشک لبوں پر زبان پھیری ، عارش نے اطمينان سے فائل ٹیبل پر رکھی اور اسے دیکھا۔
“یس میں ، میں سوچ رہا ہوں کہ آج کچھ باتیں طے کر لیں تاکہ آگے کی لائف ایزی ہو جاۓ ، کیا خیال ہے ؟۔”
وہ صوفے پر بیٹھتے ہوۓ اس نظروں کے حصار میں لر کر بولا جب کہ ارحہ کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔
” آئم سوری ، جو نیچے کہا اس کے لیے۔”
اس نے نظریں جھکائیں ۔
“نہیں پلیز ، میں چاہتا ہوں کہ تم جو شکوے دل میں چھپا کر بیٹھی ہو مجھ سے کرو نہ کہ ممانی جان سے،، ان خامیوں یا شکایتوں کو میں نے دور کرنا ہے جو مجھ سے ہیں۔، ویسے کیا کہہ رہی تھی آفس میں ؟؟ کیا آفس میں ہوا آج ؟ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے آج تم کو ڈانٹا بھی نہیں ہے اور الحمد للہ میری یاداشت اتنی ویک بھی نہیں۔”
عارش نے آئی برو اچکا کر پوچھا۔
“وہ ، وہ ماما غصے ہو رہی تھیں تو میں ایموشنل ہو گئی، آئم سوری ۔ “
اس نے بہانہ داغا تبھی عارش کا فون بج گیا۔
“ہاں بولو، اووو سوری میں بھول گیا ، ابھی آتا ہوں۔۔”
اس نے کال پک ہوتے ہی کہا۔
“پھر ایک ڈیٹیل میٹنگ رکھتا ہوں تم سے بھی جلد ہی تاکہ سب شکوے دور ہو سکیں ،، جو جو کہنا ہے سوچ لینا ، مجھے بھی کچھ کلئیر کرنا ہے تم سے ، اب مجھے ایک ارجنٹ میٹنگ کے لیے نکلنا ہے ،باۓ ۔”
وہ تیزی سے اٹھا مگر دروازے کے پاس جا کر پلٹا۔
“اور ہاں آج کی تسلی کے لیے اتنا سن لو کوئی بھی مجھے کوئی رشتہ قائم رکھنے پر فورس نہیں کر سکتا ، کیونکہ عارش اتنا مجبور نہیں ہے ،، اللہ خافظ۔ “
وہ کہہ کر تیزی سے چلا گیا۔ جب کہ وہ اس کے الفاظ میں کھو گئی ۔ تبھی حنان کی کال آ گئی۔
“کیا کروں میں ؟”
اس نے آنکھوں کو نم ہوتا پایا۔
“میں کچھ سوچتی ہوں۔”
اس نے اپنا فون بند کر دیا اور آنسو کو بہنے دیا۔
بے بس ہیں تیرے عشق میں اتنے
ترس سے جاتے ہیں گفتگو کے لیے








“ایک گڈ نیوز ہے میرے پاس ،۔”
حنان نے مسکراتے ہوۓ کہا تو سب نے دونوں کو دیکھا۔۔
“یہی کہ ہادی بھائی پاکستان واپس آ رہے ہیں۔”
حنا نے اعلان کیا۔
“سچی ۔۔۔”
دعا خوشی سے چلائی تو حنا اس کے گلے لگ گئی۔
“اور بھابھی ؟”
اسوہ نے بھی خوشی سے اسے دیکھا۔
“افکورس وہ بھی، تبھی تو زیادہ ایکسائٹمنٹ ہے ۔”
حنا بچوں کی سی خوشی سے بولی۔
” زرنش کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری مل گئی کیا ؟”
فرح بیگم نے پوچھا۔
“جی کچھ ایسا ہی سمجھ لیں ، کہہ رہے تھے کہ بس سارے کاغذات بن گئے تقریباً ۔”
حنان نے اسوہ سے چاۓ کا کپ لیتے ہوۓ کہا۔
“ویسے میری بھابھی بیسٹ ہیں ، ایک بار پاکستان آئیں مگر کبھی بھولی نہیں ہمیں ۔ شی از ویری نائس۔”
دعا نے مسکراتے ہوۓ خوشی سے کہا۔
” پتہ نہیں مجھے کب ایسی بھابھی ملے گی ۔ “
اسوہ نے منہ لٹکایا۔
“اررے فکر نہ کریں، آپ کی بھابھی بھی بیسٹ ہیں۔”
حنا نے مسکرا کر کہا تو حنان نے گھورا۔
” تمہیں کیسے پتہ ؟”
اسوہ حیرانی سے آنکھیں پھیلا کر بولی۔
“افففففففف میرا مطلب تھا کہ آپ اچھی ہیں تو آپ کی بھابھی بھی بیسٹ ہی ہوں گی ۔”
حنان کے گھورنے پر وہ بات بدل گئی ورنہ ارادہ تھا کہ ارحہ کے بارے میں بتا دے گی۔
“او اچھا، ویسے پتہ مجھے کیسی بھابھی چاہیے؟”
اسوہ اشتیاق سے بولی۔
“اسریٰ کی شادی ہے اور تم دونوں یہاں کیا کر رہی ہو؟ گھر ہزار کام ہوں گے ۔”
حنان نے بات کا رخ موڑا۔
“ہم لوگ شاپنگ پر آۓ تھے تو سوچا ملتے ہوۓ چلے جائیں ، شادی میں بزی ہو کر کہاں وقت ملنا۔”
دعا نے اسے آنے کی وجہ بتائی ۔
“ابھی دو دن ہوۓ تم لوگوں کو گئے ، نہیں گھبراتے ہم لوگ ایک ہفتہ تو نکال جایا کرو اور اگر آنا ہی تھا تو بچوں کو لے آتی میں برداشت ہی کر لیتا۔”
حنان ان کو چڑاتا ہوا چلا گیا۔
“کتنا بدتمیز ہے یہ ۔۔ ہادی بھائی آئیں گے تو اس کو لفٹ بھی نہیں کروانی ہم نے ۔”
اسوہ نے دانت پیسے۔
“اچھا کیا شاپنگ کی بتائیں نا۔”
حنا نے ہنستے ہوۓ شاپنگ بیگز دیکھے، تو وہ دکھانے لگیں۔ نٹ کھٹ شرارتیں ہی تو خوشیوں کا حصہ تھی۔
“حنا پلیز چاۓ بنا دو نا؟ میری حنان لے گیا۔”
اسوہ نے کہا تو وہ سر ہلاتی چلی گئی ۔
“تم سب بتا دینے لگی تھی ایڈیٹ ۔”
حنان نے کچن میں آتے اسے گھورا۔
“تو سب کو بتا دینا چاہیے اس سے پہلے کہ دیر ہو جاۓ۔”
کمال کا ضبط تھا حنا کا۔
“یار ابھی نہیں ، پہلے ارحہ تو گھر بات کر لے ۔”
اس نے فریج کا جائزہ لیتے ہوۓ کہا۔
“تو کب کرے گی وہ بات گھر؟”
وہ چاۓ کا پانی چڑھاتے ہوۓ بولی۔
“کہتی ہے کر لوں گی مگر اب تو کال نہیں پک کر رہی ، میسجز کا ریپلائی نہیں دے رہی۔”
اس نے اداسی سے کہا۔
“کیا مطلب ؟ کیوں نہیں دے رہی؟”
اس نے الجھ کر اسے دیکھا۔
“پتہ نہیں ، شاید گھر بات کی ہے تو منا رہی ہے اسی لیے کیونکہ ایک بار میسج کر کے کہا تھا کہ میں تم سے رابطہ کروں گی کچھ دنوں تک۔۔ “
حنان نے مالٹے کو ہوا میں اچھالتے ہوۓ کہا۔
“بیسٹ آف لک۔”
حنا نے مسکرا کر کہا۔
“تھینکس پارٹنر ، مجھے تمہاری ہیلپ چاہیے ، سب کو منانے میں ، ریڈی رہنا۔”
وہ اسے دیکھتے ہوۓ بولا۔
“افکورس آئم ریڈی، چاۓ پیو گے۔ “
اس نے پوچھا۔
“نہیں ، موڈ نہیں ہے اوپر جا رہا ہوں۔”
وہ کہہ کر چلا گیا۔تو حنا چاۓ لے کر لاؤنج میں آئی
“آنٹی ہم نے آپ سے جو کہنا تھا کہہ لیا ہے اب آپ سے بھی گزارش ہے کہ پلیز حنا کا رشتہ کہیں اور نہ ڈن نہ کرئیے گا کیونکہ حنا اس گھر سے کہیں نہیں جاۓ گی۔”
اسوہ کی بات پر حنا کے پاؤں وہیں پر رک گئے۔
“تم فکر ہی مت کرو یار، اب بس ہادی بھائی آ جائیں تو کر دیتے ہیں ڈن ان کا نکاح۔ اور ہماری تو ازل سے ہی خواہش تھی کہ ان دونوں کی شادی ہو۔”
دعا بھی خوشی سے بولی۔
“یعنی ڈن ۔ تو بس اب دیکھیے گا کہ کیسی دھوم دھام سے کرتے شادی ہم۔”
فرح بیگم نے خوشی سے کہا۔
“کیا ہو رہا ہے یہ؟ حنان یقیناً بے خبر ہے ، تائی امی بہت دیر کر دی آپ نے ، بہت زیادہ۔”
اس نے آنسو پونچھے اور اوپر حنان کے روم کی طرف چلی گئی ، قدم بوجھل ہو رہے تھے۔
تم نے انداز محبت دیکھا ہے ،،،،،،،،،،انداز وفا نہیں
پنجرے کھول بھی تو کچھ پرندے جایا نہیں کرتے





اس سے کہو کہ میری سزا ،،،،،کچھ تو کم کرے
میں عادی مجرم نہیں غلطی سے عشق ہوا تھا
وہ کمرے میں جلے پیر کی بلی کی طرح گھوم رہی تھی ۔ رانیہ بھی اسے دیکھ رہی تھی اس نے رانیہ کو بلا لیا تھا مگر کچھ بتا بھی نہیں رہی تھی۔
“کیا سوچ رہی ہو؟”
رانیہ نے اسے دیکھا۔
“رانیہ م، مجھے ڈر لگ رہا ہے بہت ۔”
اس نے لب کاٹتے ہوۓ کہا۔
“کس چیز کا ؟۔جب سے میں آئی ہوں تم بس یہی کہے جا رہی ہو، آخر بتا کیوں نہیں رہی تم مجھے ؟”
رانیہ نے اسے دیکھ کر چڑتے ہوۓ کہا۔
“حنان کو آفس میں دیکھا تھا میں نے ۔”
اس نے گہرا سانس لیا اور بیڈ پر بیٹھ گئی۔
“وٹ؟ آر یو ان یور سینسز ؟؟”
وہ شاکڈ ہوئی تو ارحہ نے سر ہلایا۔
کیا کر رہا تھا وہ آفس؟”
وہ فکرمندی سے بولی۔
“وہ ، وہ آئی تھنک سو عارش بھائی کا بیسٹ فرینڈ ہے ، سب بہت عجیب ہو رہا ہے ، مجھے لگتا ہے میری خاموشی میری دشمن بن جاۓ گی ،، سب نگل جاۓ گی یہ خاموشی، مجھے لگ رہا ہے کہ سب کچھ تباہ ہو جاۓ گا میری زندگی میری قربانی میری محبت میرا مان ،رانیہ پلیز کچھ کرو۔”
اس نے روتے ہوۓ رانیہ کا ہاتھ تھاما۔
” پلیز مت رو یار ،ویسے کسی کو کچھ نہیں پتہ چلے گا مگر تمہاری جذباتی طبیعت کھول دے گی سارے راز۔”
اب رانیہ بھی حقیقتاً پریشان ہوئی۔
“تو کیا کروں میں اب؟؟”
وہ بپھری تھی۔
“یار بزنس میٹنگ ہو گی حنان سے مے بی،، ضروری نہیں بیسٹ فرینڈ ہو یار؟؟”
رانیہ نے قیاس آرائی کی ۔۔۔
“میں آفس میں تھی میٹنگ نہیں تھی ،، ثمر بتا رہی تھی کہ اکثر آتا رہتا ہے جس کا صاف مطلب ہے کہ وہ دونوں دوست ہیں یار ،، مجھے یہ بھی ڈر ہے کہ حنان نے عارش بھائی کو میرا بتا دیا ہو گا۔۔۔ سب برباد۔۔”
اس نے زور سے نفی میں سر ہلایا ۔
“فائن اگر فرینڈ تھا تو وہ منگنی میں کیوں نہیں آیا؟؟”
رانیہ نے اس دیکھ کر الجھ کر پوچھا۔
“میں نے اس دن بتایا تھا نا کہ حنان کہہ رہا ہے دوست کی منگنی میں جا رہا ہوں تب ہی میری چھٹی حس مجھے خطرے کا سائن دے رہی تھی مگر وہ تو اس کی کزن یاد ہے نا حنا جس کا اکثر ذکر کرتا تھا اس کی شاید طبیعت خراب ہو گئی تھی تبھی نہیں آیا۔۔۔”
وہ ہانپتی ہوئی بول رہی تھی۔
“اب اس کا آخری سلوشن یہی ہے کہ اسے سب سچ سچ بتا دو، اس سے پہلے کہ شادی پر تمہیں دلہن کے روپ میں دیکھ کر سب غصے میں برباد کر دے ابھی بتا دو ،،،،میرا یقین کرو اگر تم حنان کو سب بتا دو گی تو وہ سمجھ جاۓ گا، یا پھر میں بات کر کے سمجھا دوں اسے۔”
رانیہ نے اپنی آنکھوں میں آتی نمی کو پیچھے دھکیلا ۔
“نہیں میں کچھ سوچتی ہوں، تم دعا کرو بس”
اس نے کہا تو رانیہ نے اسے گلے لگا لیا۔
ﺗﮑﻠﯿــف ﯾﮧ نہیــــں ﮐﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮ گـــئ
ﺩﺭﺩ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺑﮭﻼﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ
..









زندگی جب کسی شے کی طلب کرتی ہے
میرے ہونٹوں پر تیرا نام مچل جاتا ہے
حنا چلتی ہوئی اس کے روم کے باہر آئی قدم من من وزنی ہو رہے تھے، جس کو بچپن سے چاہا ہو اسے کسی اور کے سپرد کرنا وہ بھ اپنے ہاتھوں سے آسان نہیں ہوتا،، دل کو مارنا پڑتا ہے ، خواہشوں کو دفنانا پڑتا ہے سب سے بڑھ کر بے حس بننا پڑتا ہے۔ بنا کھٹکھٹائے وہ اندر آئی تو وہ ہینڈفری لگاۓ گانا سن رہا تھا،۔ ٹانگ پر ٹانگ رکھے پاؤں کو مسلسل ہلا رہا تھا جب کہ چہرے پر کشن رکھا تھا۔ آنکھوں سے گرتے آنسو گال بھگونے لگے تھے۔
“حنان کہتا ہے کہ وہ مجھ سے پیار کرتا ہے ، پتہ نہیں کیسا پیار ہے مجھ سے کہ پارٹنر مجھ جیسا نہیں چاہیے۔”
اس نے آنسو پونچھ کر گہری سانس لی۔
“حنا بی بریو پلیززززز تمہیں دوستی اور محبت بیک وقت نبھانی ہے، کنٹرول یور سیلف۔۔۔۔”
حنا نے گہرا سانس لے کر چہرے پر ہاتھ پھیرے اور خود کو نارمل کیا ، دماغ میں ابھی بھی جھکڑ چل رہے تھے۔۔
“حنان۔”
وہ بیڈ کے پاس آن کھڑی ہوئی۔
“حنان میری بات سنو۔؟”
وہ پھر بولی جب حنان نے نہ سنا تو اس نے غصے سے ہینڈ فری کھینچ لی۔
“کیا ہوا ہے؟ بارڈر پر حملہ ہو گیا کیا؟”
وہ ہڑبڑا کر اٹھا۔
“اففف چڑیل ڈرا دیا تم نے ، اتنا اچھا گانا تھا۔”
وہ پھر ہینڈفری لگانے لگا۔
“تم کبھی کانوں سے نکال بھی دیا کرو یہ تاکہ باہر کی آوازیں کان میں پڑ جائیں۔”
وہ غصے سے بولی۔
” مجھے فی الحال بس یہ گانا سننا ہے اور کچھ نہیں ۔”
وہ غیر سنجیدہ تھا۔
“تم سنو گانے ، مجھے کل الزام مت دینا کہ میں نے تمہیں خبر دار نہیں کیا تھا۔”
وہ غصے سے کہہ کر جانے لگی ، اسوہ جو روم میں آنے لگی تھی وہیں رک گئی۔
“رکو رکو۔”
حنان نے آگے بڑھ کر اس کا بازو تھاما۔
“کیا ہوا ہے؟”
وہ اس کی نم آنکھیں دیکھ کر بولا۔
“میری بات کو مذاق مت سمجھنا یار۔۔”
اس نے ریکوسٹ کی تو اس نے سر ہلایا۔
” تائی امی اور اسوہ نے تمہارا پروپوزل دیا ہے ۔ “
اس نے دکھ سے کہا تو وہ چونکا۔
“تمہارے لیے۔؟
اس نے یقین دہانی چاہی تو حنا نے سر ہلایا۔
“افففففففف یہ اسوہ کی بچی میرے ہاتھوں ضائع ہو جاۓ گی کسی دن۔”
حنان نے دانت پیس کرکہا۔
“کیا مطلب؟ میں نے تم سے پوچھا تھا نا حنان کہ حنا کیسی لڑکی ہے ایز اے پارٹنر ۔؟”
اسوہ روم میں آئی تو وہ دونوں چونکے۔
“اسوہ یار میرا وہ مطلب نہیں تھا، تمہیں کم ازکم ایک بار مجھ سے ہوچھنا چاہیے تھا رشتہ لے کر جانے سے پہلے۔”
حنان غصے سے اسوہ کو دیکھتے ہوئے بولا۔
“میں خود تائی امی سے جا کر بات کرتی ہوں ۔”
حنا باہر جانے لگی تو اسوہ نے اس کا بازو تھاما۔
“اگر اتنا ہی شوق ہے قربان ہونے کا تو بارڈر پر جاؤ اور جا کر ملک کے لیے قربانی دو، ہم نے تمہارے گھر رشتہ بھجوایا ہے اور ہمیں ان کے باقاعدہ جواب کا انتظار ہے سو براہ مہربانی آئندہ حنان کے سامنے مت آنا اور تمہیں کوئی رائٹ نہیں کہ ہمارے گھر کے معاملے میں بولو جب تک نکاح نہیں ہو جاتا تم اس کے سامنے نہ آنا۔۔۔”
اسوہ تیز لہجے میں بولتی دونوں کو ساکت کر گئی مگر جانتی تھی دونوں کو ایسے ہی ہینڈل کرنا ہے۔۔۔
“تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے نا؟ میں کتنی بار ایک ہی بات کو ریپیٹ کروں یار ، مجھے اچھا نہیں لگتا بار بار یہ کہنا کہ مجھے حنا جیسا پارٹنر نہیں چاہیے۔”
وہ اب کی بار تلخی سے بولا تھا ،، حنا کا دل ہزار ٹکڑوں میں بٹا تھا۔
“آپ سب کو پتہ نہیں کیوں ایک عام سی بات کیوں سمجھ نہیں آتی کہ ہم دوست ہی رہنا چاہتے ہیں اور حنان لڑکی پسند کر چکا ہے سو میرا تو قصہ ہی ختم ۔۔”
حنا نے تپے ہوۓ لہجے میں کہا تو اب کی بار چونکنے کی باری اسوہ کی تھی۔
“کیا؟؟؟”
اسوہ کو ہزار وولٹ کا جھٹکا لگا۔
“جی ہاں اور وہ بھی کب کی..۔۔”
حنا نے کانپتی آواز میں کہا۔
“کون ہے وہ؟”
اسوہ نے دونوں کو دیکھا۔
“وہ ارحہ ہے ، بہت اچھی ہے ،میں ملی ہوں اس سے کافی اچھی ہے اور اس گھر کے لیے سوٹ ایبل ہے۔”
حنا نے اپنے غموں کا چھپا کر مسکرا کر کہا۔
“مجھے پکچر دکھاؤ اس لڑکی کی۔”
اسوہ نے حنان کو دیکھا جو بیڈ پر غصے سےبیٹھا تھا۔
“میرے پاس اس کی کوئی پکچر نہیں ہے۔”
اس نے بنا دیکھے کہا۔
“حنا تم جاؤ مجھے اس سے بات کرنی ہے۔”
اسوہ نے کہا تو حنا نے اسے دیکھا وہ ایسی نہیں تھی۔
“پلیززززز جاؤ تھوڑی دیر کے لیے ۔”
اسوہ نے کہا تو اسے ہتک کا احساس ہوا مگر چلی گئی۔
“حنان میرے بھائی ایک بار صرف ایک بار ، دماغ سے نہیں دل سے سوچو کیا تم حنا کے بنا خوش رہ پاؤ گے ۔”
اسوہ نے کہا تو حنان نے لب بھینچے۔
“دیکھو مجھے لگ رہا ہے کہ تم فقط جلدبازی میں کر رہے ہو سب ، اس لیے تھنک اباؤٹ اٹ۔”
اسوہ نے نرمی سے کہا۔
“اسوہ تم سے بڑا ہوں میں ،، مجھے مت سمجھاؤ۔”
حنان نے سر جھٹک کر کہا۔
“بات بڑے یا چھوٹے کی نہیں ہے حنان ،،، بات میچورٹی کی ہے اور میں تجربے اور میچورٹی میں تم سے آگے ہوں ، اسلیے سوچ لو پلیززززز ۔۔۔”
اس نے منت کی تھی۔
“ارحہ صفدر مجھے پارٹنر کے طور پر پسند ہے۔۔”
وہ بلا کا ضدی تھا ،،،،اسوہ نے گہرا سانس لیا۔
“ٹھیک ہے مما کو کہوں گی اور ہم جائیں گے اس کے گھر۔”
اسوہ نے کچھ سوچ کر کہا۔
“تم سچ کہہ رہی ہو؟”
وہ بے یقینی سے بولا۔
“ہاں تم مجھے اس کا نمبر دو۔”
اسوہ نے اثبات میں سر ہلا کر کہا۔
“اسوہ کوئی غلط حرکت مت کرنا، ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔ “
حنان نے اسے وارن کیا۔
“وٹ دی ہیل ؟ تمہیں اپنی بہن پر بھروسہ نہیں ہے۔”
وہ غصے سے بولی۔
“تم پر ہے مگر تمہاری جذباتی طبیعت پر نہیں ۔”
اس نے فورا کہا اور نمبر اسے سینڈ کیا۔
“تھینکس اب ریلیکس ہو جاؤ۔”
اسوہ کہہ کر چلی گئی تو حنان نے سر ہلایا۔
کٸی منظورِ نظر شخص ہی ہارا ہو گا
تب ہی اعلان ہوا ، کھیل دوبارہ ہو گا










“جاؤ رانیہ کے ساتھ مہندی کا ڈریس لے آؤ۔”
تنزیلہ بیگم نے اسے دیکھا۔
“میرا موڈ نہیں ہے آپ چلی جائیں۔”
اس نے بےرخی سے کہا۔
“ارحہ بیٹا تم خوش تو ہو نا؟ ؟؟”
دادو نے اسے دیکھا۔
“اگر قربانی دینی ہی ہے تو پوری تیاری سے دینا کہ کل اگر خدانخواستہ سب ثبوت تمہارے خلاف بھی جائیں تو تمہارے اپنے ساتھ دے سکیں تمہارا ۔”
اسے رانیہ کی بات یاد ائی۔
“جی دادو ۔ “
وہ مسکرائی تبھی اس کا موبائل بجا ۔ رونگ نمبر تھا۔
“ایکسکیوز می۔”
وہ اٹھ کر باہر آئی ۔
“تنزیلہ بہو مجھے ارحہ خوش نہیں لگ رہی، تجھے یاد ہے وہ تو جانے کیا کیا کرنے کا شوق رکھتی تھی اپنی شادی پر مگر اب بے دلی سے کر رہی ہے سب۔”
دادو نے فکرمندی سے کہا۔
“ماں جی وہ اداس ہے کہ یہ گھر چھوڑ کر جانا ہے ورنہ اور تو کوئی بات نہیں ہے۔”
تنزیلہ بیگم نے ان کو مطمئن کیا۔
“چلو اللہ قسمت اچھی کرے میری بچی کی۔”
دادو نے دعا دی ۔
“آمین۔”
انہوں نے مسکرا کر کہا۔
