Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaanch Ki Choriyan (Episode 29)Part1,2

Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary

“یہ سمجھتـی کیا ہے خود کو؟؟؟ ادھـر جا کـر بیٹھ گئی ہے جیسے مجھے پـرواہ ہے،،،، میـری بلا سے نہ آۓ واپـس۔۔۔”

آج حنا کو گئے تین دن ہو گئے تھے اور حنان کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کر بیٹھے۔

“ماما کہتی ہیں اس دن کی رہتی بھی نیچے اپنے کمــرے میں رہی ہے،، یعنی میری کوئی اہمیت نہیں ۔”

وہ غصـے سے ٹہل رہا تھا۔

“نہیں بات کروں گا اب ،،، کبھی بھی نہیں۔۔”

وہ گرنے کے انداز میں بیڈ پر گرا ، تبھی ہارن کی آواز آئی تو وہ بھاگتا ہوا ٹیـرس پر آیا ،،، حنا کا گمـان ہوا تھا۔

“کہاں تھے تم؟؟”

وہ ڈرائیو پر چڑھ دوڑا۔

“صاحب جی حنا بی بی کو لینے گیا تھا۔”

ڈرائیو کی بات اسے چلچلاتی دھوپ میں مینہ کی مانند لگی،،،،، وہ تیـزی سے بھاگا مگر سیڑھیوں پر جا کر بریک لگائی۔

“نہیں حنان پاگل نہ بن،،،،، ایسے وہ سمجھے گی کہ تجھے اس کا ویٹ تھا، آئی بڑی شوخی۔۔۔”

حنان پر سوچ نظـروں سے سیڑھیوں کی طرف دیکھ رہا تھا کہ شاید اوپر آ جاۓ۔

“حنا کی بچی۔۔۔۔”

جب وہ پانچ منٹ اوپر نہ آئی تو حنان فقط دانت پیس کر رہ گیا۔ اس کا دل جانتا تھا کہ وہ کتنا بے تاب تھا صرف اس کی ایک جھلک دیکھنے کو۔۔۔۔

🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁

“ارحہ بیٹا کیا ہوا ہے؟”

تنزیلہ بیگم نے اسے دیکھا۔۔۔

“ماما کچھ بھی نہیں ۔”

وہ فوراً مسکـرائی۔

“بیٹا میں کافی دن سے نوٹ کر رہی ہوں کہ تم کافی بجھی بجھی ہو،،،، خیریت ہے نا؟”

انہوں نے اس کے بال سلجـھاۓ۔

“ماما ایسا کچھ نہیں ہے،،، بس آپ کو محسوس ہو رہا۔ “

وہ لاڈ سے ان نے گرد بازو حمائل کر کے بولی۔

“اللہ کرے ،،، عـــارش سے بات ہوئی؟”

انہوں نے ابـرو اچـکا کر پوچھا۔

“جی ہوتی رہتی ہے اکثر۔”

وہ دل کے ٹکڑوں کو سنبھالتی ہوئی مسکرائی۔

“چلو اچھا ہے،،، کچھ کھانا ہے؟”

انہوں نے بوسہ دے کر پوچھا۔

“نہیں ابھی سوؤں گی۔”

وہ مسکراتی ہوئی گویا ہوئی۔

“ٹھیک ہے تم ریسٹ کرو میں رات کے کھـانے کا اہتمام کرتی ہوں۔۔۔”

وہ چلی گئیں۔

“ایک کال تک نہیں کی عارش نے،،، کیا یہی تھی محبت جن کے دعوے وہ کرتے تھے،، آپ کے ساتھ زندگی کو جینا سیکھا میں نے،،، سب کچھ پس پشت ڈال دیا فقط آپ کی خاطر،،،، یہ صلہ دیا میری محبت کا۔۔۔”

وہ لیپ ٹاپ کی اسکرین پر ہاتھ پھیرتے گہری سوچ میں گم تھی جہاں عارش اور اس کے ولیمے کی تصویر جگمگا رہی تھی،،، دونوں کتنے خوش لگ رہے تھے۔

“دیکھیے۔”

ارحہ نے ہاتھ اٹھا کر کہا۔

“دکھائیے؟”

عارش ہنسا۔

“یہاں لاؤنج میں یہ ولیمے والی انلارج پکچر لگے گی اور اندر روم میں بارات والی۔۔”

ارحہ نے گھـورتے ہوۓ کہا۔

“نو وے ،،، ولیمے والی روم میں لگے گی۔ “

عارش نے ضد کی۔

“عارش ۔۔۔”

اس نے دانت پیسے۔

“جی عارش کے دل کی ملکہ۔۔۔۔۔”

وہ محبت سے بولا۔

“یہ پکچــر۔۔۔”

اس نے روم کی طرف اشارہ کیا۔

“اچھــــا لگا لو۔۔۔”

وہ مـــان گیا۔

“ہاۓ شکریہ۔۔”

وہ خوشی سے چلائی۔

“بس مسکراتی رہا کرو۔”

وہ اس کے بالوں کو بکھیرتے ہوۓ بولا۔

“آپ سنگ ہیں میرے تو مسکرانا نصیب ہے میرا۔”

وہ بھی محبت سے بولی۔

“ان شاءاللہ ساری زندگی مسکرانا تمہارا نصیب ہے تمہارا۔”

وہ پکچر کو اٹھاتے ہوۓ بولا تو ارحہ نے آمین کہا۔ پرانی یادیں تکلیف دہ تھیں۔ جہاں دونوں کے درمیان کبھی لڑائی نہ ہوئی اور پہلی بار ہی اتنی شدید لڑائی ہوئی ۔ آنسو ٹپ ٹپ کرتے گر رہے تھے۔ دل زخمی تھا۔

🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁

حنان اس دن کا نوٹ کر رہا تھا حنا اسے اوائیڈ کر رہی تھی۔ وہ جب گھر آتا تو حنا کہیں نظر نہ آتی۔ ناشتے کی ٹیبل پر نہ رات کے کھانے پر۔۔ وہ کمرہ جو صبح بکھرا چھوڑ کر جاتا تو واپسی پر صاف ستھرا ملتا۔ صاف پتہ لگتا تھا کہ دل سے صفائی کی گئی ہے۔ حــنا آج بھی صفائی کر کے فریش ہو کر اسی روم میں آ گئی۔ پیلے رنگ کے سوٹ میں وہ نکھری نکھری پر اداس سی لگ رہی تھی۔ وہ بیڈ پر لیٹی تھی،،، آنکھیں موندے وہ گہری سوچ میں گم تھی جب تیز اور جانی پہچانی پروفیوم کی خوشبو اس ک نتھنوں سے ٹکرائی۔ وہ جان چکی تھی حنان یہاں ہی ہے۔ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام تھا مگر اب بھاگنے کی بجاۓ مقابلہ کرنا تھا۔ حنان دراوزے کی چوکھٹ پر کھڑا دروازے سے ٹیک لگاۓ اسے دیکھ رہا تھا۔

اسے معلوم تھا وہ روز آتی ہے یہاں تب ہی وہ آج بے وقت گھر آیا تھا۔ حنا کو اپنے روم میں دیکھ کر لبوں پر تبسم بکھر گئی تھی۔ حنا کی پلکوں کی جنبش بتا رہی تھی کہ اسے بھی آمد کا علم ہو چکا تھا۔ حنا نے آہستگی سے پلیکیں اٹھائیں ۔۔ دشمن جان سامنے کھڑا اسی کو دیکھ رہا تھا،،،، آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔

“کہاں؟”

حنا اٹھ کر جانے لگی جب حنان نے بازو آگے رکھ دیا۔

“تم سے مطلب؟”

حنا نے ابرو اچکائے۔۔

“ہاہاہاہاہا محترمہ حنا حنان آپ کے سارے مطلب مجھ تک ہی آتے ہیں،،، آئی سمجھ۔۔”

وہ اس کی جانب جھـکا،،،حنا کی ایک بیٹ مس ہوئی۔

“پیچھے ہٹو،،، مجھے کام ہے۔”

حنا نے بنا دیکھے کہا۔

“خیـر ایسا کام تو کچھ نہیں کیا تم نے کہ نظریں ہی نہ ملا پاؤ مجھ سے،،،، ویسے کیا تو ہے۔۔”

حنان نے اس کے نظریں چرانے پر چوٹ کی۔

“کیا کِیا ہے میں نے ؟”

وہ فوراً بولی۔

“تم یہ روم چھوڑ کر جا چکی تھی،،، تو میری غیر موجودگی میں یہاں آنا۔”

وہ اس کی جانب دو قدم بڑھا۔

“چھوڑ کر نہیں گئی تھی یہ روم،،،، اپنی ماما کے گھر رہنے گئی تھی مائنڈ اٹ۔۔۔ “

حنا نے دو قدم پیچھے ہٹتے کمال مہارت سے تاثرات چھپا کر جواب دیا۔

“اوووو رئیلی ۔۔۔”

وہ دو قدم مزید آگے بڑھا۔۔

“ہاں،، ہٹو سامنے سے مجھے لنچ بنانا ہے۔”

وہ خشک لبـوں پر زبان پھیرتے ہوۓ بولی۔

“نہ ہٹوں تو؟؟؟”

وہ ابرو اچکاتے ہوۓ بولا۔

“تم مجھے تنگ کر رہے ہو۔”

حنا نے گھورا۔۔

“اور جو تم نے کیا؟؟”

حنان اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ بولا۔

“ک،،،،، کب؟؟؟؟””

حنا ہکلائی۔

“جب،،،،، نہیں کچھ نہیں ،،،،،تم جاؤ۔۔”

اس نے رستہ چھوڑا تو حنا بنا ایک لمحہ کی تاخیر کیے چلی گئی۔ حنا گرنے کے انداز میں بیڈ پر لیٹا۔

“پتـہ تھا مجھے کہ آتی ہو اس روم میں ،،، پانچ دن کی محبت نہ بھلائی جاۓ اور یہ تو بچپن کی ہے۔۔”

اس نے مسـکرا کر بالوں میں انگلیاں چلائیں۔

مریضِ عشق کو دوا چاہیٸے نہ دُعا چاہیٸے

شِفا کے لیٸے فقط اک نگاہِ دلرُبا چاہیٸے

🌾
🌾
🌾
🌾
🌾
🌾
🌾
🌾
🌷
🌷
🌷
🌷

“ارے ارحہ تم۔۔”

ثمر اسے آفــس میں دیکھ کر خوشی سے اٹھی۔

“ہاں میں ،،،بابا کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی،،،، س مجھے آنا پڑا،،،،، باۓ دا وے تم کیسی ہو؟”

وہ مسـکرا کـر بتانے لگی۔

” میں بلکل ٹھیک،،، تم سناؤ۔”

ارحہ کے ساتھ چلتے ہوۓ وہ بولی۔

“اے ون ،،، تم سناؤ بہت خوش ہو گی کـہ عارش کی ڈانٹ نہیں پڑتی اب۔۔۔۔”

ارحہ نے شرارت سے کہا۔

“نہیں یار عارش سر بہت اچھے تھے، اتنے اچھے سے کام سمجھاتے تھے،،، ان کی سیٹ جس نے سنبھالی ہے وہ تو انتہائی ہی کھـڑوس ہیں،،، سیدھے منہ بات نہیں کرتے۔”

ثمر نے کانوں کو ہاتھ لگاۓ۔

“ہاہاہاہاہا چلو اچھـا ہوا تمہیں قدر تو محسـوس ہوئی۔””

ارحہ ہنسی ۔

“یار کچھ نہ پوچھو،۔۔”

اس نے نفی میں سـر ہلایا۔

“اچھا ثمـر مجھے فائل دے دو،،،، میں عارش کے روم میں ہوں ،،،، وہاں ہی دے جاؤ۔۔۔۔”

وہ دوپٹہ سنبھالتی ہوئی چلی گئی۔ عارش کے روم میں آ کر ایسے محسوس ہوا کہ جیسے وہ یہاں ہی موجود ہو،،،، پروفیوم کی خوشـبو ابھی بھی تھی۔

“مسس یو یار،،،،، واپس آ جائیں ناں۔۔۔۔”

وہ اس کی چیئر پر بیٹھ گئی،، آفس کا پہلا دن سے لے کر آخر تک سب یاد آیا۔۔

“ڈراموں کے علاوہ کوئی اور کام کرو تو سمجھ آۓ ناں۔”

عـارش کی آواز کانوں میں گونجی۔۔

“عـارش جب سے آپ گئے ہیں میں نے تو ڈرامے دیکھنے ہی چھوڑ دئیے،،، سب رنگ آپ سے تھے۔۔۔”

اس نے ٹھوڑی ٹیبـل پر ٹکا دی۔

“عارش۔۔۔ پلیزززز کم بیک۔”

وہ آہستگی سے بولی۔

” یہ فائلز۔”

ثمر آ گئی تو وہ سر ہلا کر دیکھنے لگی۔۔۔

ضـــدی ہے آخــــر تھـک ہار کے گـــر جاۓ گی

یہ لڑکی غم سہتے سہتے ایک دن مر جاۓ گی۔

🌾
🌾
🌾
🌾
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🌲
🌲
🌲
🍁

کافی دن گذر گیے تھے۔ حنا ڈنر کی تیاری کر رہی تھی،،،، زرنــش بھی اس کی ہیلپ کر رہی تھی۔۔

“حنا پھوپھو۔۔”

عالی نے منـہ بنایا۔۔

“جی میری جان۔۔۔”

وہ مسـکرائی۔

“آپ کی شادی کب ہو گی۔۔؟”

وہ معصومیت سے بولا۔

“ہــا میـرے لعل ،،،، میری شادی ہو چکی ہے۔۔ “

وہ اس کے گال چوم کر بولی۔

“نہیں توو۔۔۔۔””

وہ فوراً بولا۔

“ہاں تو،،،، جب آپ نے میرون شیروانی پہنی تھی۔۔”

حنا نے اسے یاد دلایا۔

“اوووو بٹ وہ تو حنان چاچو کی تھی نا۔”

وہ جیسے حنا کی عقـل پر ماتم کرنے لگا۔۔

“اووووو تو حنان چاچو کی دلہن کون تھی؟””

حنا نے پوچھا۔

“وہی تو میں ڈھونڈ رہا ہوں مجھے نہیں ملی۔”

وہ روہانسا ہوا۔۔

“”چلو میں تمہیں حنان چاچو کی دلہن دکھاتی ہوں۔”

حنا نے مسـکراتے ہوۓ سیل انلاک کیا۔۔

“یہ دیکھو۔۔۔”

حنا نے مسکرا کر اپنی اور حنان کی پکچر دکھائی۔

“آپ کی شادی ہو گئی ہے نا،، دعـا پھوپھو سچ بول رہی تھیں کہ آپ نے مجھے اپنی شادی پر نہیں بلایا۔۔۔”

وہ رونے لگـا۔

“ارے میرے باپ میری اور حنان کی شادی ہوئی ہے۔۔۔”

حنا نے اس کے آنسو پونچھے۔

“کـیا ہوا عالی۔؟؟”

حنان بھی آ گیا۔

“کہہ رہا ہے کہ میں نے اسے اپنی شادی پر نہیں بلایا۔۔”

وہ ہنسی تھی۔

“”اووو رئیلی ،،، بلایا تو مجھے بھی نہیں ۔۔۔”

وہ عالی کو چھیڑنے لگا۔

“میں آپ سے بھی ناراض ہوں ۔۔۔۔ ،، آپ نے مجھے اپنی دلہن نہیں دکھائی۔۔”

وہ سوں سوں کرتا ہوا بولا۔

“”اوووو اچھا،،،،، چلو آؤ اپنی دلہن دکھاؤں۔”

وہ مسـکراتا ہوا بولا۔

“یہ ہیں تمہارے حنان چاچو کی دلہن۔”

وہ حنا کے گـرد بازو حمائل کر کے بولا جب کہ حنا حیرانی سسے دیکھ رہی تھی۔

“جھوٹے ہیں آپ دونوں۔۔۔”

اس نے منہ بنایا۔

“اارے میرے باپ یہی ہے،،،، نکاح نامہ دکھاؤں؟؟؟”

حنان نے گھورا۔

“آپ نے بولا تھاا کہ آپ کی دلہن پرنسز ہوں گی جب کہ انہوں نے تو کراؤن نہیں پہنا۔۔”

وہ نفی میں سر ہلا کر بولا۔

“ارےےےےےےےےے ہاں،،،،،،،،،، چلوو کل حنان چاچو اپنی پرنسز کے لیے کراؤن لے کے آئیں گے۔۔۔۔”

حنان مسـکرایا۔

“پکا؟؟؟؟”

اس نے ہاتھ آگے کیا۔

“”پکا پرومس ۔۔۔۔”

وہ مسسکرایا۔۔۔

Part 2

حنان کا موڈ کسی بات کو لے کر آف تھا،،، وہ آفـس سے جلدی ہی گھر آ گیا تھا۔

“یہ حنان کیوں جلدی آ گیا؟”

حنا نے سوچا۔

” پوچھتی ہوں؟”

وہ اوپر روم کی طرف چل دی تھی۔

” تم جلدی کیوں آ گئے؟”

حنا نے اسے دیکھا جو شوز پہنے ہی صوفے پر لیٹا ہوا تھا۔

“کیوں میرا گھر ہے،،، نہیں آ سکتا کیا؟”

اس نے تیکھے لہجے میں کہا۔

“میرا وہ مطلب نہیں تھا۔”

حنا نے فوراً صفائی دی۔

“حنا کدھر ہو یار،،، آ بھی جاؤ جو بریانی حنان کے لیے اتنی محنت سے بنائی ہے وہ ذرا سی لاپرواہی سے خراب ہو جاۓ گی،،،، جلدی آؤ۔۔۔”

بھابھی نے اسے آواز دی اور حنا کا دل چاہے کہ اپنا ہی سر پیٹ لے۔

“آئی بھابھی ۔۔۔”

وہ جانے لگی۔

“تمہارا جو بھی مطلب ہے مجھے کوئی سروکار نہیں ،،، میں بہت جلد تمہیں سوچنے کا چھوڑ چکا ہوں ۔۔۔”

وہ کہہ کر واشروم میں چلا گیا جبکہ حنا ساکت رہ گئی تھی۔ آنکھوں کے سامنے زمین آسمان گھومتے نظر آ رہے تھے۔ وہ بمشکل خود کو سنبھالتی کچن میں آئی تھی۔

“حنان کہاں جا رہے ہو؟”

جویریہ بیگم نے اسے تیزی سے جاتے دیکھ کر پوچھا۔

“آنٹی ایک ضروری کام سے جا رہا ہوں ،،

ڈنر تک آ جاتا ہوں۔”

وہ کہہ کر تیزی سے نکل گیا۔ اس کے بعد زرنــش اور حنا نے ٹیبل سجائی۔

“حنان بریانی بھی لو نا؟”

زرنــش بھابھی نے اسے دیکھا۔

“نہیں بھابھی آج میرا موڈ نہیں یہ کھانے کا۔۔”

وہ بطور خاص حنا کو دیکھتے ہوۓ بولا جو جان بوجھ کر انجان بنی بیٹھی تھی۔

“حنان بیٹا حنا تمہارا خیال تو رکھتی ہے نا؟”

شاہد صاحب نے اسے دیکھا۔

“جی چاچو بہت زیادہ۔”

وہ مسـکرایا تھا۔

“چلو اچھی بات ہے۔۔”

وہ مسکراۓ تھے۔

“حنان اب تو آفس میں بھی اتنا کام نہیں ہے تو تم اور حنا کہیں گھوم پھر آؤ۔۔۔”

ہادی نے تجویز دی۔

“ارےے ڈونٹ وری بہت جلد گھماؤں گا دنیا۔۔”

وہ عام سے لہجے میں بولا تھا مگر حنا کو عام نہیں لگا تھا جب کہ زرنــش بھـابھی بھـی الجھی تھیں۔

…..

حنان سگریٹ سلگاۓ بیٹھا ہوا تھا۔ جب حنا روم میں آئی۔

حنا نے بنا ایک لمحہ کی تاخیر کیے سگریٹ منہ سے نکال کر ڈسٹ بن میں پھینک دی تھی۔

“یہ کیا بدتمیزی ہے؟”

وہ غصے سے بولا تھا۔

“آخر کون سا روگ لگ گیا ہے جو تم دسواں سگریٹ پی رہے ہو ،،، بتاؤ مجھے بھی۔۔۔۔”

وہ ایش ٹرے کو دیکھتے ہوۓ ابرو اچکا کر بولی۔

“کیوں تمہیں کیوں بتاؤں ؟”

حنان نے دانت پیسے۔

“کیونکہ حنان میں دوست بھی ہوں تمہاری۔۔۔”

وہ نرمی سے بولی۔

“تم صرف میری بیوی ہو۔”

وہ غصے سے کہہ کر ٹیرس پر چلا گیا۔

“اس کا اب دماغ کس بات پر گھوما ہوا ہے اب۔۔”

حنا نے گہرا سانس لیا۔

“حنا میرے دل کے وہم بڑھتے ہی جا رہے ہیں یار،،، نہیں بتا سکتا تمہیں۔۔۔ “

حنان نے سر ہاتھوں پر گرا لیا۔ یہ انسان کا المیہ ہے کہ وہ جس بات کو سر پر سوار کر لے اس سے باآسانی ہٹتا نہیں ۔

🌾
🌾
🌾
🌾
🌾

عارش اپنے اپارٹمنٹ کے ٹیرس پر کھڑا تھا جب سامنے والے اپارٹمنٹ پر نظر پڑی۔ ایک کپل کھـڑا چاند کو دیکھ رہا تھا۔ عارش نے بھی چاند کو دیکھا تو دل کو جانے کیا ہوا۔ اس نے موبائل ان لاک کیا اور ارحہ کی پکچر نکال لی۔

“کیا تم اب بھی ٹیرس پر کھڑے ہو کر چاند کو دیکھتی ہو گی،، کیا تم اب بھی ستاروں میں ہمارا نام بناتی ہو گی۔۔”

اس نے آرزدگی سے سوچا۔

“ارحہ آئی مس یو سو مچ ۔۔۔”

اس نے انگلی اس کی تصویر پر پھیری۔

“کیا تم کو میری یاد نہیں آتی ،،، ایک لمحے کو بھی وہ وقت نہیں یاد آتا جو ہم نے ساتھ گزارا تھا ،،، تم تو کھلے ڈرامے دیکھتی ہو گی،، کوئی تنگ کرنے والا نہیں ہو گا ،،، تمہیں تو میرے جانے سے فرق نہیں پڑا نا۔۔۔”

وہ دکھ سے سوچ رہا تھا، جب ڈور بیل بجی۔

“جی کون۔۔۔”

ڈور کھولنے پر ایک لڑکی سامنے آئی۔ ھو شکل و حلیے سے ہی پاکستانی معلوم ہو رہی تھی۔

“میں علیحہ ہوں ،،،، یہاں سامنے اپارٹمنٹ میں رہتی ہوں،،، میں نے یہ پاکستانی کھانا بنایا تو نانی نے کہا کہ آپ کو دے آؤں۔۔”

اس نے مسکرا کر کہا۔

“پلیز آئیے۔۔”

اس نے راستہ دیا۔

“آپ کی نانو نے مجھے کہاں دیکھا؟”

عارش نے نا سمجھی سے پوچھا۔

“شاید یہاں آتے جاتے۔۔”

اس نے قیاس آرائی کی تو عارش نے سر ہلایا۔

“آپ پاکستان سے ہیں؟”

علیحہ نے کھانا نکالتے ہوۓ پوچھا۔

“اوووو تب ہی،،، دراصل نانو کو پاکستان بہت یاد آتا ہے تو وہ کافی دنوں سے فورس کر رہی تھیـں کہ کچھ بنا کر دے آؤں ،،، اب سمجھ آئی ان کو پاکستان کی خوشبو آ گئی تھی ،،، خیـر آپ اکیلے رہتے ہیں،، ماما بابا؟”

علیحہ کو تجسس ہوا۔

“دے آر نو مور۔”

وہ بنا دیکھے بولا۔

“اوووو آئم سو سوری۔۔۔”

علیحہ شرمندہ ہوئی۔

“آپ میرڈ ہیں؟”

اس نے مزید پوچھا۔

“شاید۔”

عارش نے آہستگی سے کہا۔

“کیا مطلب؟”

علیحہ نے نا سمجھی سے پوچھا۔

“نتھنگ۔۔”

وہی مغرور انداز۔

“آئی تھنک آپ کی اپنی مسز سے ناراضی چل رہی ہے۔۔”

وہ قیاس آرائی کرنے لگی۔ عارش چپ رہا۔

“ایک بات بتاؤں آپ کو؟”

علیحہ نے کہا تو عارش نے ناسمجھی سے دیکھا۔

“ایک مشرقی لڑکی صرف اپنے شوہر کی ہوتی ہے،، آپ کی لڑائی کی وجہ میں نہیں جانتی مگر ایک بات بتاؤں؟؟ اگر انٹرسٹ ہے تو۔۔”

اس کی عدم دلچسپی دیکھ کر اس نے پوچھا۔

“جی بتائیے؟”

عارش نے سر ہلایا۔

“میں طلاق یافتہ ہوں مگر جس نے مجھے طلاق دی ہے میں اس کے لیے آج تک دعا کرتی ہوں۔۔”

اس کے لبوں پر تلخ مسکراہٹ تھی۔ عارش چونک گیا۔

“پانچ سال پہلے کی بات ہے مجھے کسی سے پیار ہو گیا فیملی میں بولا کہ شادی اسی سے کرنی ہے مگر کوئی نہ مانا اور میری شادی کروا دی کسی اور سے۔ میں اسے شوہر تسلیم نہیں کر سکتی تھی کیونکہ میرا دل کسی اور کے نام کی مالا جھپتا تھا،،،، خیر میں اپنے تئیں کوشش کرنے لگی تھی اس کو بھلانے کی،،،، چھ ماہ گزرے تو میں تیسـری بار اپنی ماما گھر رہنے گئی۔ ایک دن گزرا تو مجھے یوں لگا کہ مجھے اپنے شوہر کی یاد آنے لگی،، ان کی باتیں ہنسی مذاق،،،،، یہ سب میرے لیے ایک انہونی جیسسا تھا،،،، میں گھر واپس آئی میں بہت خوش تھی،، ظاہر ہے مجھے جس سے محبت تھی وہ پاس تھا۔ نکاح کے بولوں سے زیادہ طاقت کسی محبت میں نہیں ۔۔۔ ہماری زندگیاں جیسے بہار بن گئیں۔۔ ایک دن اچانک سے کسسی نے میرے ہزبینڈ کو میری پہلی محبت بلکہ وقتی اٹریکشن کا بتا دیا اور اس نے بنا ایک لفظ کی صفائی مانگے مجھے طلاق دے دی،،، بنا یہ جانے ککہ میں اس کے عشق میں پور پور ڈوب چکی ہوں۔۔ بعد میں وہ بہت پچھتایا مگر اب فائدہ نہ تھا۔۔۔۔ خیر چلتی ہوں دیر ہو گئی۔”

علیحہ اپنی روداد سنا کر برتن اٹھا کر چلی گئی۔ جب کہ عارش کو سوچنے پر مجبور کر گئی۔

🌴
🌴
🌴
🌴
🌴
🌴
🌴
🌾
🌾
🌾
🌾

“یہ حنا کدھر گئی؟”

حنان کی آنکھ کھلی تو حنا روم میں نہیں تھی،،، اس کی تو مانو جان ہی نکل گئی۔

“حنا ،،،، حنا ۔۔”

اس نے سارا روم چیک کیا ، ٹیـرس کہیں نہیں تھی۔ وہ جیسے ہی ٹیرس سے مڑنے لگا تو حنا لان میں دکھائی دی۔

“ایسے کون سے ظلم کے پہاڑ توڑ ڈالے میں نے تم پر ؟ جو تم یوں آدھی رات کو دکھی آتمـہ بنی بیٹھی ہو۔۔۔؟”

وہ غصے سے بولا تھا۔

“میرا دم گھٹ رہا تھا اسی لیے باہر آئی۔۔۔”

وہ بنا چونکے بنا دیکھے بولی۔

“اووو اب تمہارا روم میں دم گھٹنے لگا ہے؟ “

اس کا لہجہ طنزیہ تھا۔

“حنان پلیز،، تم سے بحث کا کوئی موڈ نہیں ہے ، جا سکتے ہو تم ،،،۔ میرا جب دل کرے گا تو آ جاؤں گی۔۔۔”

حنا کی آواز میں نمی تھی۔

” رو رہی ہو تم؟”

وہ اس کے مقابل بیٹھا۔

“نہیں میں کیوں روؤں گی بھلا۔۔”

وہ جنھجھلا کر بولی اور اندر چلی گئی ۔۔ حنان نے بالوں میں انگلیاں چلاتے خود کو ریلیکس کیا۔

🌱
🌱
🌱
🌴
🌴
🌴
🌴
🌴
🌾
🌾
🌾
🌾

“حنان چاچو؟”

عالی نے ناشتے کی ٹیبل پر کہا۔

“جی چاچو کے شہزادے ۔۔۔”

وہ مسکرایا تھا۔

“آپ نے کراؤن نہیں لایا نا؟”

عالی نے کہا تو حنان چونکا۔

“اووو سو سوری،،، میں بھول گیا تھا ،،،، آج آپ کے چاچو پکا یاد سے کراؤن لائیں گے۔۔۔”

اس نے سر پر ہاتھ مار کر کہا تو عالی نے سر ہلایا۔

“بھئی کس کراؤن کی بات ہو رہی ہے؟”

زرنــش نے ابرو اچکاۓ۔

“اٹس سیکرٹ ۔۔۔۔”

وہ فوراً بولا۔

“ہمیں بتانا ہے کہ نہیں ؟”

ہادی نے گھورا۔

“شام کو بتائیں گے۔۔”

حنان ہنسا تھا تو وہ مان گئے۔۔۔

🌴
🌴
🌴
🌾
🌾
🌾
🌴
🌴
🌴

“کیا ہوا حنا ؟”

زرنــش بھابھی نے اسے دیکھا جو بازو پکڑ کر بیٹھی تھی۔

“بھابھی مجھے نہیں پتہ۔۔”

اس نے منہ بناتے ہوۓ کہا۔

“کیا مطلب؟ کیا ہوا ہے بتاؤ نا؟”

زرنــش اس کے پاس بیٹھ گئی۔

“بھابھی آج کتنے دن ہو گئے ہیں لیفٹ آرم پین کر رہا ہے اور اب تو سانس بھی اکھڑنے لگی ہے۔۔۔”

وہ کھانسنے لگی۔

“ک،،،، کب سے ہے یہ؟”

زرنــش شاکڈ سی اسے دیکھ رہی تھی۔

“دو مہینے سے تقریباً۔۔”

اس نے درد سے دوہرا ہوتے ہوۓ کہا۔

“تم یہ میڈیسن کھاؤ ہم پھر ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں۔”

اس نے ایک ٹیبلٹ دی۔

“رات حنان کیوں برہم ہو رہا تھا تم پر؟”

زرنش بھابھی نے کہا تو حنا چونکی۔

“آئم سو سوری مگر میں نے رات ساری گفتگو سن لی۔”

زرنــش نے بتایا تو حنا کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

“حنا پرنسس بتاؤ بھی۔۔۔”

زرنــش نے کہا تو حنا نے سب بتا دیا۔

🌴
🌴
🌴
🌴
🌾
🌾
🌾
🌷
🌷
🌷

حنان گھر آیا تو عالی سو گیا تھا۔ اس نے کراؤن ٹیبل پر رکھ دیا۔ حنا مسکرا کر اس کراؤن کو دیکھ رہی تھی۔ جب حنان روم میں آیا۔

“کسی خوش فہمی میں جانے کی قطعی ضرورت نہیں ،،،، میں یہ عالی کے لیے لایا ہوں ۔۔۔”

حنان نے گھورا۔

“حنان بہت بری لگتی ہوں نا اب میں تمہیں،،، مجھ سے جان بھی چھڑانا چاہتے ہو مگر چھوٹ نہیں رہی تو تم نہ ہی کوئی کوشش کرو اور نہ دعا کیونکہ میں تمہاری زندگی سے اتنی دور چلی جاؤں گی کہ تم یا کوئی اور چاہ کر بھی واپس نہ لا پاؤ گے۔۔۔”

وہ کہہ کر چلی گئی یہ جانے بنا کہ حنان کی تو دنیا ہی ہل گئی تھی۔

“کیوں بولا حنا نے یہ؟”

وہ بالوں کو جکڑ کر بولا۔

“نہیں میں اسے کچھ نہیں ہونے دوں گا۔۔”۔

اس نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔

🌴
🌴
🌴
🌴
🌾
🌾
🌾
🌴
🌴
🌴
🌴

“خدا کرے جو علامات ہیں حنا کو وہ بیماری نہ ہو۔۔۔”

زرنــش نے سر تھاما۔

“یا اللہ پاک اس کی رپورٹس کلئیر آئیں۔۔۔”

زرنش نے ٹہلتے ہوۓ دعا مانگی۔

“مجھے کیوں ڈر لگ رہا ہے۔”

زرنــش نے گہرا سانس لیا اور دعا مانگنے لگی۔

🌴
🌴
🌴
🌴
🌾
🌾
🌾
🌴
🌴
🌴
🌴

“ارحہ بچے ایک سوال پوچھوں؟”

دادو نے اسے دیکھا تو اس نے سر ہلایا۔

“کیا عارش اور تیرے بیچ سب ٹھیک ہے۔”

دادو کے اس سوال پر وہ چونکی اور سر ہلایا۔

“ارحہ مجھے بتاؤ جو بھی بات ہے،،، میں سب ٹھیک کر دوں گی،،،، اگر معاملات چھپاۓ تو مزید نہ بگڑ جائیں۔ “

دادو نے کہا تو ارحہ نے انہیں دیکھا۔

“دادو کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے،،، عارش بچے کی پیدائش کے بعد مجھے طلاق دے دینا چاہتے ہیں،،، دادو مجھے طلاق نہیں لینی۔۔۔ “

وہ ان کو ساری بات بتانے لگی۔

“دادو۔۔۔۔”

دادو کو ایک طرف ہوتا دیکھ کر وہ چلائی۔ دادو کو ہارٹ اٹیک آیا تھا۔

“کاششش نہ بتاتی میں،،، مجھے معلوم تھا کہ دادو ہم دونوں کا صدمہ نہیں سہہ پائیں گی ۔۔”

وہ روتے ہوۓ سوچ رہی تھی۔

“ارحہ جاؤ جلدی عارش کو کال کرو،،، ماں جی اسی کا نام لے رہی ہیں۔۔۔ “

تنزیلہ بیگم کہہ کر چلی گئی تو اس نے کال کی۔

عارش جو ابھی تک علیحہ کی باتوں پر غور کر رہا تھا موبائل بجنے پر بددل ہوا اور ارحہ کا نمبر دیکھ کر اسے حیرت کا جھٹکا لگا۔

“ارحہ ۔۔۔۔”

اس کے لب ہلے اور بنا ایک لمحہ تاخیر کیے کال پک کی۔

“عارش ۔۔۔”

ارحہ روتی ہوئی بولی۔

“کیا کیا ہوا ہے ؟”

ارحہ کی روتی ہوئی آواز اسے بےچین کر گئی۔

“نانو کو ہارٹ اٹیک آیا ہے،،، وہ آپ کو مس کر رہی ہیں پلیز پہلی فلائٹ سے پاکستان آ جائیں۔۔۔”

اس نے التجا کی۔۔

“نانو ،،،، میں آتا ہوں۔۔۔”

اس نے کہہ کر کال کاٹ دی۔

“نہیں نانو کو کچھ نہیں ہو گا۔۔۔”

اس نے خود کو دلاسہ دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *