Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaanch Ki Choriyan (Episode 05,06)

Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary

“کیا سوچ رہی ہو؟؟؟؟؟ مشکل سوال تو نہیں پوچھا میں نے؟؟؟؟؟؟؟”

وہ ابرو اچکا کر سختی سے بولا۔۔۔۔۔۔۔

“کچھ،،، کچھ بھی نہیں ،،،،،،،،،،،”

ارحہ گڑبڑائی ،،،،، ہمیشہ کی طرح اس کے سامنے وہ اعتماد کھو گئی۔۔۔۔۔۔

“اوووکے۔۔۔۔”

اس نے سر ہلایا تو ارحہ فقط مسکرائی۔

کیونکہ اسے ہمیشہ سے ہی عارش سے بہت ڈر لگتا تھا۔۔۔۔۔ ،

” اگر کبھی ایسا کچھ ہوا تو بتا دینا، اوکے میں نانو پاس چلتا ہوں۔”

وہ چلا گیا ۔

“کاش کاش بتا سکتی ۔”

ارحہ نے گہرا سانس لیا۔

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

“ہاۓ پارٹنر ،،،،،،،،،،،”

حنان نے اسے دیکھا جو رائل بلو کلر میں ہم رنگ چوڑیاں پہنے، بالوں کو ہئیر بینڈ میں قید کیے بہت پیاری لگ رہی تھی ،،،،، کانوں میں ٹاپس تھے ۔۔۔

“ہاۓ،،،،، تو کیا خیال ہے؟؟؟؟ کسی کو پتہ تو نہیں چلے گا؟؟؟؟؟؟؟؟”

حنا نے اسے دیکھتے ہوۓ پوچھا۔۔۔۔

“نو ،،،،،نیور ایور۔۔۔۔۔”

وہ مسکرایا تو وہ بھی مسکرائی۔۔۔۔

“رکو،،،،،،”

وہ لپ اسٹک لگانے لگی تو حنان نے کہا

“ہوں ،،،،،،”

اس نے آئینے میں سے ہی حنان کو گھورا۔

“یار،،،،،،، گلوز مت لگاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔”

اس نے ریکوسٹ کی۔۔۔۔۔

“کیوں؟؟؟؟؟؟؟؟؟”

وہ نا سمجھی سے گلوز کو دیکھتے ہوۓ بولی۔۔۔۔

“حنا شاید تمہیں یہ بات بری لگے مگر یار پلیززززز تم ایسے ہی اتنی پیاری لگ رہی ہو کہ نظریں ہٹانا مشکل ہے،،،،،، اور گلوز میں اور بھی پیاری لگو گی تو ڈیفینٹلی یار پارک میں ہزاروں لڑکے تمہیں دیکھیں گے اور مجھ سے برداشت نہیں ہو گا ،،،،،، کوئی میری دوست کو دیکھے میں برداشت نہیں کروں گا سو پلیز نہ لگاؤ۔۔۔۔”

وہ اسے دیکھتے ہوۓ بولا تو حنا نے چونک کر اسے دیکھا ،،،،، یہ حنان کوئی اور ہی تھا ،،،،، یہ شرارتی ، نٹ کھٹ نہیں میچور حنان تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں ،،،، آ جاؤ۔۔۔۔۔”

وہ چلا گیا اور حنا نے گلوز رکھ دیا مگر دل جیسے دغا دے رہا تھا۔۔۔۔

وہ دونوں پارک میں پہنچے تھے،،،، آج ویلنٹائن ڈے تھا اور پارک میں بے حد ہجوم تھا،،،،،، حنان اور حنا نے ان لوگوں کا دن خراب کرنے کا سوچ لیا تھا۔۔۔۔۔۔۔

“دیکھا ،،،،، اتنے کوئی بےغيرت ہیں یہ ،، حنا یہ محبت نہیں ہے ،،،،،، انسان جس سے محبت کرتا ہے نا اسے سات پردوں میں چھپا کر رکھتا ہے اور یہ لوگ،،،،،،،”

حنان اسٹیئرنگ پر دباؤ ڈالتے ہوۓ بولا۔

“مجھے لڑکوں سے زیادہ لڑکیوں پر غصہ ہے،،،،،، کیا ان لوگوں کو ذرا شرم نہیں ہے ؟؟؟؟ یہ ماں باپ کی عزت کو پاؤں تلے روند رہی ہیں ،،،،،،، حنا میں تمہیں وارن کر رہا ہوں کہ اگر کسی سے محبت ہوئی تو مجھے بتانا، میں اس کی تم سے شادی کرواؤں گا ،،، اگر میں نے تمہیں ان لڑکیوں کی طرح کبھی کسی لڑکے سے ملتے دیکھا تو قسم سے موت کے گھاٹ اتار دوں گا، بھلے مجھے کنزرویٹو سمجھو یا جو بھی لیکن یہ بات یاد رکھنا ہمیشہ۔۔۔۔۔۔۔۔”

وہ ایموشنل ہوا تو حنا نے گھورا۔۔۔۔۔

“حنان صاحب مجھے محبت ہو نہیں سکتی کیونکہ آپ ہر وقت میرے سر پر چڑھے رہتے ہیں اور دوسرا انجواۓ کرنے آۓ ہیں ہم ،،،، ایموشنل نہ ہو، بس اللہ پاک ہدایت دے ان کو۔۔۔۔۔۔”

وہ گاڑی سے نکلتے ہوۓ بولی تو وہ بھی نکلا اور پارک کے اندر داخل ہوا..

“افففففف یہ تو سارا پارک ہی فل ہے یار؟؟؟”

حنا نے اسے دیکھا۔۔۔۔

“ہممممممم سو تو ہے،،،،،،،،، اگر ہم اس والے کورنر میں کھڑے ہو کر شور کریں تو سارے پارک میں آواز آۓ گی،۔کیا خیال ہے ؟۔۔۔۔۔”

حنان نے سامنے تھوڑے سے اونچائی والے کورنر کی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔

“یو آر رائٹ۔۔۔۔۔۔۔”

وہ ہنسی اور دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے اس طرف چلے گئے،،،،،، پارک کھچا کھچ بھرا تھا،،،،، ہر طرف کپلز خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔۔۔۔

“جب وسل بجے گی تو ،،،،،،،،”

حنان نے اسے دیکھ کر آنکھ ماری تو وہ متوقع سچویشن سوچ کر ہی ہنس دی.

انہیں باتیں کرتے تقریباً پانچ منٹ ہوۓ جب موبائل پر وسل بجی ۔۔۔

“بھاگو ،،،،، بھاگو پولیس ،،،،،،، سب بھاگو پولیس ۔۔۔۔۔۔۔”

حنان نے شور مچایا اور بھاگنا شروع کر دیا اور اس کی دیکھا دیکھی وہاں موجود سب کپلز نے بھاگنا شروع کر دیا ،،،، تقریباً پانچ منٹ کے اندر اندر سارا پارک خالی تھا ……

“ہاہاہہاہاہاہاہاہا،،،،،،،،،،کتنے بیوقوف تھے رات کو ساری زندگی ساتھ نبھانے کا وعدہ کرنے والے اب دیکھو کیسے ہوا نکلی کہ ذرا سے جھوٹ پر کسی اور کے محبوب کا ہاتھ پکڑ کر بھاگ گئے،،،،”

اس نے ہنستے ہوۓ حنا کے ہاتھ پر ہاتھ مارا وہ بھی ہننس ہنس کر دوہری ہو رہی تھی۔۔۔

“بیچارے جلد بازی میں گفٹس اٹھانا ہی بھول گئے، پتہ نہیں کس کس سے ادھار مانگ کر لیے ہوں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔”

حنا ہنستے ہوۓ پارک کی حالت دیکھ کر بولی۔۔۔۔

“ہاں ایسا کرو سارے گفٹس اٹھاتے ہیں،،،،،، اور کسی یتیم خانے میں دے آتے ہیں کیونکہ زیادہ تر چوکلیٹس ہیں،،،،،، کہو کیا خیال ہے؟؟؟؟؟؟؟”

حنان نے اسے دیکھا جو ابھی بھی اپنے کارنامے پر ہنس رہی تھی۔۔۔۔۔

“یس واۓ نوٹ ،،،،،،”

وہ مسکرائی تو حنان جمع کرنے لگا، لیکم دونوں ابھی بھی ہنس رہے تھے ، یہ سارا دن دونوں نے ایسے پی شرارتیں کرتے گذارا تھا ، اس دن کا شمار بھی اس دن میں ہو گیا تھا جسے دونوں نہیں بھول سکتے تھے۔

،،،،،،،،،

“اسلام علیکم نانو،،،،،،،،”

عارش نے کال کی ۔۔۔

“وعلیکم اسلام،،،،، کیسا ہے میرا بچا؟؟؟؟؟”

وہ محبت سے بولیں۔۔۔۔

“ٹھیک نانو ،،،،آپ کا کیا حال ہے؟،،،،، مامی ،مامو ،ارحہ کیسے ہیں سب ؟؟؟؟؟؟”

وہ گلاس میں پانی ڈالتے ہوۓ بولا۔۔۔۔

“سب اللہ سوہنے کا کرم ہے،،،،،،، تُو آ جا بیٹا ،،،، بڑے دن ہوۓ ملے ہوۓ ۔۔۔۔۔۔”

نانو نے گویا التجا کی ۔۔۔

“نانو جان،،،،،، آج ذرا آپ اپنی پوتی کو بھیجیں میرے گھر،،،،، اسے ڈراپ کرنے آؤں گا تو مل لوں گا آپ سے بھی۔۔۔”

وہ پانی پیتے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔

“ارحہ کو،،،،، کیوں خیر تو ہے؟؟؟؟؟”

وہ حیرانی سے بولیں۔۔۔۔

“ہاں جی ، سب ٹھیک ہے نانو،،،،، دراصل کچھ دوست آ رہے ہیں میرے تو ان کے لئے کھانا بنوانا ہے بس ملازمین کو گائیڈ کر دے گی۔۔۔۔۔”

اس نے فوراً کہا۔۔۔

“اچھا تم گاڑی بھجوا دو کیونکہ تمہاری مامی بازار گئی ہیں تو گاڑی وہ لے گئی ہیں،،،،،، “

نانو نے حامی بھری۔۔۔۔

“اوکے فائن میں بھیجتا ہوں ڈرائیور کو اور نانو لو یو اینڈ جزاک اللہ ۔۔۔۔۔”

وہ آخر میں شرارت سے مسکرایا ۔۔۔۔۔

“اللہ تجھے خوش رکھے،،،،، اللہ خافظ۔۔۔۔ “

نانو نے کال کاٹ دی ۔۔۔۔۔

“رب سوہنے تو عارش کے دل میں ارحہ کے لئے محبت ڈال دے ،،،آمین۔۔۔۔۔”

انہوں نے دل سے دعا مانگی اور ارحہ کو اس کے گھر بھیجا ،،،،،، ارحہ ناچاہ کر بھی چلی گئی ۔۔۔۔۔

“سر نے جو لسٹ دی تھی کھانے کی ، وہ کدھر ہے؟؟؟؟؟؟؟”

ارحہ نے ملازمہ کو دیکھا۔۔۔

“بی بی سر نے کوئی لسٹ نہیں دی ، انہوں نے کہا تھا آپ آئیں گی تو جو کہیں بنا دوں، اب آپ بتا دیں، میں آپ کا ہی انتظار کر رہی تھی۔۔۔”

ملازمہ نے اس کو دیکھا۔۔۔

“حد کرتا ہے یہ بندہ ، کچھ اور بن گیا تو ساری زندگی کا طعنہ بن جاۓ گا، اب مجھے کیا پتہ ان کی پسند نا پسند کا بھلا؟؟؟؟”

اس نے سر جھٹکا ۔۔۔

“حالانکہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے،،،،،”

عارش کی آواز پر وہ اچھل کر پلٹی۔۔

“عارش بھائی آپ ؟؟؟؟”

اُس نے خشک لبوں پر زبان پھیری۔۔۔

” میں بندے کھاتے ہوں ؟”

عارش نے اسے دیکھا تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔

“مجھے دیکھ کر ہر بار تمہاری سانس سولی پر کیوں لٹک جاتی ہے ، میں سمجھا تمہارے سامنے میری شکل ڈریکولا بن جاتی ہے جو تم ڈر جاتی ہو۔”

عارش نے طنز کیا ۔

” سوری آپ اچانک آۓ تو میں ڈر گئی۔”

اس نے لب کاٹتے ہوۓ کہا۔

“اوووو چلو آئندہ پائل پہن لوں گا تاکہ جب آؤں تمہیں دور سے علم ہو عارش آ رہا ہے اور تم ڈرو مت۔۔”

وہ عارش ہی کیا جو سیدھی بات کرے۔۔

“سوری ۔۔”

ارحہ نے کڑوا گھونٹ پیا۔

” اٹس اوکے ،،،، کھانے میں کیا اچھا بنا لیتی ہو؟؟؟؟ رشین اور پلاؤ کے علاوہ ۔۔۔۔۔”

عارش نے اسے دیکھا ، جس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔

“میں سب بنا لیتی ہوں ،،،، جو آپ کہیں گے وہ بنا دوں گی۔۔۔۔۔ “

وہ خود کو کمپوز کرتی ہوئی بولی۔۔۔۔

“ہمممممم تو ایسا کرو کہ کوفتے ، چائنیز ، چکن کڑاہی ، کباب اور میٹھے میں سیلیڈ اور کھیر بنا لو ،،، آسان سی ڈشز بتائی ہیں،،،،،، امید کرتا ہوں اچھی بنا لو گی ،،، باقی میں باہر سے منگوا لوں گا،،،”

عارش نے اسے دیکھا ۔

“اوکے ۔”

اس نے سر ہلایا تو عارش باہر چلا گیا۔۔۔

“بڑی ہی آسان ڈشز ہیں ،،اتنی جلدی کیسے بناؤں میں،،، کہتے ہیں کہ باہر سے منگوا لوں گا باقی ، اب ہاضمے کی گولیاں ہی باہر سے منگوا لیں بس،،،،،،”

وہ بڑبڑا رہی تھی اس سے بے خبر کہ عارش پیچھے کھڑا سن رہا یے ۔۔۔

“اور حکم تو ایسے دے کر گئے ہیں کہ جیسے میں کزن نہیں بیوی ہوں۔۔۔۔۔”

اس نے دانت پیسے۔۔۔

“تو بن جاؤ نا بیوی۔۔۔۔۔”

عارش کی بات پر اس نے دونوں ہاتھ منہ پر رکھے ، شرم سے ڈوب مرنے کا مقام کسے کہتے ہیں اسے ایک لمحے میں سمجھ آ گئی تھی ، اس کے فرشتوں کو بھی نہیں پتہ تھا کہ وہ آ سکتا ہے اور اوپر سے اس کے الفاظ ، ۔۔۔

“کیا ہوا؟؟؟؟؟؟؟”

وہ اس کے سامنے آ کر کھڑا ہوا ، جس کا چہرہ عارش کی بات ، سردی اور شرمندگی سے ٹماٹر کی طرح لال ہو رہا تھا۔۔۔

“آئی مین ،،،،”

وہ شرمندگی سے بول ہی نہ پائی۔۔۔۔

“صفائی کی ضرورت نہیں ہے ،،،،، وقت کم ہے اور تمہیں اکیلے کچھ بھی نہیں کرنا ، ملازمین موجود ہیں،،،،،، بس تم نے سب اپنی نگرانی میں کروانا ہے سو ڈونٹ وری ٹینشن نہ لو۔۔۔۔”

عارش نے اس کے چہرے سے نظریں چرا کر اسے بتایا۔۔۔

“جی اچھا۔۔۔۔۔”

اس نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا۔۔

“اوکے۔۔۔”

عارش کچن سے نکل گیا ۔۔

“تو بن جاؤ نا بیوی ۔۔۔۔”

اس کے کانوں میں عارش کا جملہ بازگشت کرنے لگا تو کانوں سے گرم دھوئیں نکلے ۔۔

“عارش بھائی کیوں کر رہے ہیں ایسی باتیں ؟ اگر حنان کو پتہ چلا تو قتل کر دے گا میرا،،،،، حنان سے تو میں ناراض ہوں ، بات نہیں کرنی کبھی اس سے ، ویلنٹائن ڈے تک وش نہیں کیا؟؟؟؟”

اس نے دانت پیسے اور موبائل اٹھایا اور واٹس ایپ اوپن کیا ، سامنے حنان کا وائس میسج تھا، سب ناراضی بھلائے اس نے آن کیا ، محبت میں انا تو نہیں ہوتی نا ، محبوب سامنے ہو کہاں کی ناراضی ۔۔

“میں جانتا ہوں ارحہ کہ تم ناراض ہو مجھ سے کہ آج ویلنٹائن ڈے وش نہیں کیا،،،،، یار کیا ہے یہ دن ؟ جا کر ہسٹری پڑھو اس کی تم؟ ویلنٹائن ڈے لوگ منانے والے میری نظر میں بے غیرت ہوتے ہیں اور محبت کا کوئی ایک دن تھوڑی نا ہوتا ہے،،،، نیو ائیر ، برتھ ڈے اور بھی جتنے دن آتے کرتا تو ہوں وش ، وہ بھی سب سے پہلے تو آج کیوں ناراضی ہے ،،،،،، بھئی مجھے نفرت ہے اس دن سے ،،،،، سو مجھ سے امید مت کرنا اور تم میری عزت ہو ،،،،،، میں تمہیں اپنی عزت بنا کر لانا چاہتا ہوں نا کہ میں تمہارے ساتھ ہوٹلنگ کرتا پھروں ، سمجھ آگی تو ٹھیک نہیں تو ۔۔۔۔۔ “

اس کے وائس میسج میں ہی سب جذبات موجود تھے ۔۔۔۔۔ارحہ کے اندر تک سکون کی لہر دوڑ گئی ۔۔۔

“افففففف تھینکس یار ،،،،،، میری چوائس تو واقعی اعلٰی ہے،،،،،، اب بس ماما سے بات کرنی ہو گی ،،،،،، مجھے یقین ہے کوئی بھی ایشو نہیں ہو گا۔۔۔۔۔ “

وہ مسکرا کر کھانے کی تیاری کرنے لگی۔

کھانا بناتے بناتے کافی تھکن ہو گئی تھی،،، عارش اس وقت کا گھر نہیں آیا تھا۔۔۔

“کیوں نا میں میرے پاس تم ہو کی لاسٹ ایپی سوڈ دیکھ لوں ؟؟؟؟؟ ہاں جب تک عارش بھائی آتے ، دیکھ لیتی ہوں پتہ نہیں کیا بنے گا ،،،،، دانش نہ مرے اللہ پاک پلیززززز پلیززززز ۔۔۔۔۔۔۔”

وہ بے چینی سے موبائل لئے لاؤنج میں آ گئی ،،،،دونوں پاؤں ٹیبل پر رکھے ریلیکس ہو کر بیٹھ گئی۔۔۔۔

“مجھے ہاتھ مت لگانا اور اگر میں مر جاؤں تو میری قبر پر مت آنا۔۔۔۔۔”

دانش کی بات پر اس نے بے چینی سے منہ پر ہاتھ رکھا ،،، وہ ڈرامہ دیکھنے میں اتنا محو تھی کہ عارش کے آنے کی خبر ہی نہ ہوئی ،،،، عارش لاؤنج سے گذر کر روم میں گیا ،،،، وہ چینج کر کے باہر آیا تو اسے ہچکیوں کی آواز آئی۔۔

“میم ، میم یہ پانی پئیں ،،،،،،”

ملازمہ نے گلاس دیا ۔۔۔۔۔

“کیا ہوا ہے اسے؟؟؟؟؟؟؟”

عارش نے فکرمندی سے ارحہ کو دیکھا جو منہ پر ہاتھ رکھے ہچکیوں کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی ،،،،،،

“سر نہیں معلوم ،،،، موبائل پر لگی تھی کہ ایک دم سے ہی رونے لگی ہیں،،،،،، “

ملازمہ نے عارش کو بتایا۔۔۔

“کیا ہوا ہے؟؟؟؟ ارحہ بتاؤ مجھے؟”

وہ فکرمندی سے اس کے مقابل بیٹھ گیا۔۔

وہ خود پر کنٹرول رکھنے کی کوشش کر رہی تھی مگر جوں جوں یاد آتا کہ فیورٹ کریکٹر مر گیا ہے تو آنسو اندھا دھند بہنے لگتے ۔۔۔

“کچھ نہیں ،،،،،”

وہ پانی کا گھونٹ بھر کر بولی۔۔۔۔

“تو روئی کیوں؟؟ مجھے سچ سچ بتانا؟؟؟”

وہ نا سمجھی سے بولا تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔

” بتاؤ بھی؟”

وہ ابھی بھی اپ سیٹ تھا۔۔۔۔

“دانش مر گیا ہے ۔۔۔۔۔۔”

وہ پھر رو دی تھی اور عارش ساکت نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔

“کون دانش؟؟؟؟؟ “

وہ تھوک نگلتے ہوۓ بولا۔۔۔۔

“بتایا تو آپ ڈانٹیں گے،،،، نہیں بتاؤں گی۔”

وہ معصوميت سے بولی تو عارش کو بہت اچھی لگی۔۔۔

“نہیں ، نہیں ڈانٹوں گا وعدہ ، تم بولو۔۔۔۔۔”

وہ فوراً بولا تھا۔۔۔

“وہ ،،،،۔ وہ ۔۔۔۔ “

بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ پھر رو دی ،،،، اب تو عارش کو شدید گھبراہٹ ہوئی، اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کیا کرے۔۔۔۔

“پلیززززز بتا رہی ہو یا مامی سے پوچھوں کہ دانش کیا لگتا ہے تمہارا۔۔۔۔۔”

وہ اب چڑا تھا۔۔۔۔

“وہ ڈرامے میں آتا ہے۔۔۔۔۔۔”

وہ پھر رو دی اور عارش نے لب اور مٹھیاں بھینچ کر اسے گھورا جو زور و شور سے روۓ جا رہی تھی۔۔۔

“چپ ،،،،، ایک دم چپ۔۔۔۔۔”

وہ اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر غصے سے بولا ،،،،،اثر ہوا تھا ،،،،، وہ سہم کر خاموش ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔

“کیا لگتا ہے وہ تمہارا ؟؟؟؟؟؟”

وہ دانت پیستے ہوۓ بولا ،،، وہ خود پریکٹیکل اور میچور انسان تھا اور امیچورٹی برداشت بھی نہیں کرتا تھا۔۔۔۔

“کرش ہے میرا ۔۔۔”

وہ منمنائی۔

“تم سے بڑا بے وقوف میں نے آج تک نہیں دیکھا وعدہ کیا تھا کہ نہیں ڈانٹوں گا ورنہ بتاتا ، چلو آؤ میرے ساتھ،،، ہر وقت فضول کام ، کبھی کسی کو گالیاں دے رہی ہے تو کبھی رو رہی ہے ، شاباش ہے ، اٹھو بھی ۔۔۔۔”

وہ گھورتا ہوا اٹھ گیا ۔

“یہ ابھی نہیں ڈانٹا ۔۔۔۔”

اس نے پشت کو گھورا اور اٹھ گئی۔۔۔۔ وہ کچن میں آیا اور ملازمہ کو جانے کا اشارہ کیا اور خود چئیر پر بیٹھ گیا۔۔۔

“مجھے سب چیزیں ٹیسٹ کروانا پلیز۔۔”

اس نے کہا تو وہ سر ہلا کر پلیٹ میں نکالنے لگی ، اور وہ خاموشی سے ٹیسٹ کر نے لگا مگر مان گیا کہ کھانا بہترین ہے۔

“بہت مزے کا بنایا ہے ،، اس پر انعام بنتا ہے ،،،،، اس لئے میرے روم کی لیفٹ سائیڈ پر جو روم ہے اس میں ایک ڈریس پڑا ہے جو میں تمہارے لئے لایا ہوں کیونکہ کوکنگ کے دوران یہ ڈریس خراب ہو چکا ہے، نانو نے پھر کہنا کہ میری پوتی کو ایک ڈریس نہیں لے کر دے سکے ، سو جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔”

اس نے کہتے ساتھ صفائی دی کہ کیوں لایا ہوں ۔۔

“وہ روم میں نے تمہارے لئے آلریڈی سیٹ کروا دیا تھا۔۔۔۔سو اب گیسٹ سے فری ہو کر تمہیں ڈراپ کر دوں گا ،،،،،، اوکے۔۔۔۔۔ “

موبائل پر کام کرتے وہ ساتھ اسے انفارم بھی کر رہا تھا۔

“اوکے ، تھینکس۔۔”

وہ مسکراتی ہوئی چلی گئی تو عارش نے موبائل سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا جو جا چکی تھی۔

“اچھی لڑکی ہے نانو کو بول دوں گا آج کہ مجھے قبول ہے ان کی پوتی۔۔”

اس نے گہرا سانس لیا تبھی اس کے فرینڈز آ گئے تو وہ گپ شپ کرنے لگا ، ارحہ فریش ہو کر باہر آئی اور سیدھی ڈرائنگ روم میں پہنچی اب تو اس کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی کہ دوست فقط لڑکے ہوں گے ۔وہاں آ کر اسے شاک لگا ، عارش تو نظریں ہٹانا ہی بھول گیا تھا۔

“اوو بلیک بیوٹی ، اور وہ بھی تیرے گھر،؟

خیر تو ہے نا ؟”

عمر کی بات پر اس کا چہرہ سرخ ہوا ۔

“شٹ اپ ، جاؤ تم ، تمہیں کس نے بولا تھا یہاں آؤ۔ “

عارش عمر کو گھور کر ارحہ کو غصے سء دیکھتے ہوۓ بولا تو وہ بنا کوئی جواب دیے بھاگتی ہوئی چلی گئی۔

قسط_6

“بتا نا کون ہے؟ کیونکہ ہم تو کتنا عرصہ ہو گیا تیرے گھر آتے کوئی لڑکی نہیں دیکھی اور تو اس ٹائپ کا ہے بھی نہیں ۔”

وصی کی بات کا مطلب سمجب کر عارش نے مٹھیاں بھینچی اور اسے ارحہ پر جی بھر کر غصہ آیا ، وہ لوگ کوءی بگڑے نہیں تھے رارش کی طرح ہی سلجھے تھے۔

“میری کزن پلس ہونے والی فیانسی ہے ، اب ہو گئی تسلی، بوا جی کھانا لگائیں۔”

عارش نے ان کو جواب دے کر بوا کو کہا ۔

“اوووو اچھا یعنی بھابھی ہیں ماشأاﷲ ، تو کب کر رہا ہے منگنی ، جلدی بتا۔”

عدیل نے فوراً پرجوشی سے کہا۔

“ابھی نہیں معلوم، بتا دوں گا۔”

وہ رکھائی سے بولا۔

“عارش قسم سے میں نے بھابھی کو غلط نظر سے نہیں دیکھا، میں بس شوکڈ ہو گیا تھا تیرے گھر لڑکی دیلھ کر، تجھے برا لگا آئم سوری مگر وہ میرے لئے قابل احترام ہیں۔”

عمر نے فوراً صفائی پیش کی۔

“عارش بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے یہ، اگر نہیں یقین تو ہم بھابھی سے بھی سوری کر لیتے ہیں ۔”

سرمد نے بھی کہا تو اس نے سر ہلایا۔

“کوئی بات نہیں ، آئی ٹرسٹ یو۔”

وہ مسکرایا تھا تبھی بوا نے کھانا لگنے کی اطلاع دی۔

“بوا آپ ایسا کریں ارحہ کا کھانا اس کے روم میں بھجوا دیں۔ “

اس نے بوا کو کہا اور خود ان کے پاس آ گیا۔۔۔

“کھانا تو بڑا ہی لاجواب ہے اور آئم شیور کہ یہ بھابھی نے بنایا ہے ، ایم آئی رائٹ ؟”

عدیل نے کہا تو وہ مسکرایا تھا اور اثبات میں سر ہلایا ۔

، اسے معلوم تھا کہ کھانا بہت اچھا ہے۔

“واہ بھئی اس کو بیوی بھی سگھڑ ملی اور ایک میرے والی ہے جس کو چاۓ تک نہیں بنانی آتی ۔”

عمر نے منہ لٹکایا تو وہ ہنسا۔۔۔۔

“یاد ہے یونی میں یہ کہا کرتا تھا کہ شادی اس سے کروں گا جو چاہے ان پڑھ ہو مگر کھانا اچھا بناتی ہو۔”

وصی نے کہا تو سب کا قہقہہ بلند ہوا۔

“بھابھی ان پڑھ ہیں کیا؟”

سرمد ازحد حیرانی سے بولا۔

“پڑھی لکھی ہے تسلی رکھو اور فوکس اب کھانا ہو۔”

عارش نے گھورا تو وہ منہ بناتے ہوۓ کھانا کھانے لگے۔

عارش کو ارحہ کی موجودگی میں لگا کہ گھر واقعی جنت نہ ہو ، وہ اتنا بولی نہیں تھی مگر آج گھر اتنا خاموش نہیں تھا جتنا آج سے پہلے ہوا تھا۔اسے کام کرتا دیکھ کر دل اور دماغ نے کہا کہ ہاں یہی ہے وہ لڑکی جس کو اس گھر کی ہی نہیں اس کے دل کی ملکہ بننا چاہیے ۔ وہ آج جیسے کافی مطمئن ہو چکا تھا۔

ان کو الوداع کہہ کر عارش اس کے روم میں آیا تو وہ فوراً کھڑی ہو گئی ۔

” سوری ، مجھے نہیں پتہ تھا کہ میل فرینڈز ہیں صرف۔”

وہ ڈرتی ہوئی بولی۔

” اٹس اوکے ، کھانا کھا لیا تم نے ۔؟

عارش نے اسے دیکھا تو اس نے ہاں میں سر ہلایا۔

“تھینکس ، سارا کھانا ہت اچھا بنا تھا۔”

اس نے شکریہ ادا کیا وہ خوش ہوئی۔

“ویلکم۔”

وہ ریلیکس ہوئی ۔

“اوکے چلو میں تمہیں ڈراپ کر دوں۔”

عارش نے ؔ اس کو گھر ڈراپ کیا اور خود نانو کے روم میں آ گیا ۔ نچپن سے ہی اس کا نانو اور مامو مامی سے لگاؤ تھا،، مامی سے تو لر فرمائش پوری کرواتا تھا۔

“اسلام علیکم مامی کیا حال ہے؟”

وہ تنزیلہ بیگم کے آگے جھکا۔

“۔وعلیکم السلام ، میں ٹھیک تم سناؤ بیٹا؟”

وہ محبت سے ہاتھ پھیر کر بولیں۔

“اللہ پاک کا کرم ہے ۔”

وہ نانو کی گود میں سر رکھتے ہوۓ بولا۔

“کوفی پیو گے بیٹا؟”

تنزیلہ بیگم اٹھتے ہوۓ بولیں۔

” بلکل آپ کے ہاتھ کی بنی کوفی تو میری فیورٹ ہے۔”

وہ فوراً بولا تھا کہ مبادا مامی مکر جائیں ۔

“بلکل ابھی لاتی ہوں ۔”

وہ مسکراتے ہوۓ چلی گئیں۔ عارش نے نانو کا ہاتھ تھام کر آنکھوں پر رکھا ، ان کو دیکھ کر مسکرایا۔ نانو نے بے اختیار مسکرائیں کیونکہ وہ تو مسکراتا بھی کم تھا۔

“کچھ کہنا ہے ؟”

نانو نے اس کو دیکھا تو وہ ان کے سامنے بیٹھ گیا۔

“شادی کرنا چاہتا ہوں، خالی گھر سے مجھے وحشت ہونے لگی ہے ، خاموشی چبھتی ہے اب مجھے۔”

وہ آزردگی سے بولا تھا تو نانو نے گہرا سانس لیا۔

“تبھی چاہتی ہوں بیٹا کہ گھر بسا لے ، آنے والی گھر کی خاموشی توڑ دے گی اور تجھے جوڑ دے گی۔”

نانو نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا۔

“جی نانو جان! اس لئے میں اب راضی ہوں ۔”

وہ آہستگی سے بولا تھا۔

“شاباش میرا بیٹا ۔ تجھے کوئی پسند ہے تو بتا دے۔”

نانو نے خوشی سے کہا۔

“ارحہ صفدر کو میں اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں ، آج اسے اپنے گھر میں دیکھ کر مجھے فیصلہ کرنا آسان ہو گیا ہے ۔ آپ مامو جان اور مامی جان سے بات کر لیں ، مجھے منظور ہے۔”

وہ نرمی سے بولا تھا اور نانو نے خوشی سے بے اختیار اس کا ماتھا چوما تھا ۔

“وہ تجھے بہت خوش رکھے گی ، تیرے دھوپ چھاؤں رویے کو سمجھے گی۔ بس اس پر بلاوجہ غصہ نہ کرنا۔ بڑی معصوم سی اور چڑیا جتنے دل والی ہے۔”

نانو نے ساتھ ہی اسے نصیحت کی ۔

“جی میں جانتا ہوں ۔”

اسے معلوم تھا کہ جیسے وہ ڈراموں کے کرداروں پر روتی تھی ، پتہ نہیں کیوں اسے دل کے قریب لگی تھی ۔ تبھی تنزیلہ مامی کوفی لے کر آگئیں تو وہ مسکرا کر پینے لگا۔

آج اس نے یہیں رہنا تھا ۔ صبح وہ جاگنگ کر کے آیا تو وہ لان میں رکھے جھولے پر بیٹھی چاۓ سے لطف اندوز ہو رہی تھی ۔ کانوں میں ہینڈ فری لگی تھیں لیکن آنکھیں بند کیے وہ لائنوں میں کھوئی ہوئی تھی ، عارش کو اس پل وہ بہت حسین لگی تھی۔ اس نے بے اختیار تصویر لے لی اور فلیش کی آواز پر ارحہ نے آنکھیں کھولی سامنے عارش کھڑا تھا تو وہ چونکی ، عارش کی یہ حرکت اسے چونکا گئی تھی ۔ اس نے ہینڈ فری کانوں سے نکال کر سائیڈ پر رکھیں ، جب کہ عارش نے فلیش پر لعنت بھیجی، پہلی بار تصویر پر بھی راز نہیں رکھ سکا ۔

“وہ ، وہ تم اچھی لگی کسی فطری حسن کی طرح تو پکچر لے لی ، کرتا ہوں واٹس ایپ ۔ “

وہ سر کھجاتا ہوا بولا مگر اسے حقیقتاً شرمندگی ہوئی تھی جب کہ ارحہ ازحد حیرانی سے دیکھ رہی تھی اسے عارش کی نظریں عام نہیں لگی تھیں اور وہ کوئی دودھ پیتی بچی بچی نہیں تھی جو نہ سمجھ پاتی ۔

” سو سوری اگر تمہیں برا لگا تو ،،،”

عارش نے اس کا اڑا رنگ دیکھا تو پھر بولا۔

“نہیں ، عارش بھائی کوئی بات نہیں ۔”

وہ بمشکل مسکرائی تھی اور عارش بھائی پر زور دے کر کہا تاکہ وہ سمجھ جاۓ کہ وہ بھائی ہی سمجھتی ہے۔۔۔

“تھینکس ، میں بریک فاسٹ کر لوں ، سی یو لیٹر۔”

وہ کہہ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا چلا گیا۔

“وہ ۔ وہ تم اچھی لگی تو پکچر لے لی ، کرتا ہوں واٹس ایپ ۔ “

ارحہ کے کان میں آواز گونجی تو اس کا دل بے طرح دھڑکا، اس نے لب کچلے اور گہری سانس ہوا کے سپرد کی۔

اُس کے لفظوں کے مقابلہ میں بھلا کیا کہتا؟

میں نے حیران رہنے میں ہی سہولت دیکھی۔

👇
👇
👇
👇
👇
👇
👇
👇

“ہاۓ کیا سوچا جا رہا ہے۔”

اسوہ کچن میں آئی تو حنا چاۓ کپوں میں نکال رہی تھی ، اسوہ اسے گم صم دیکھ کر بولی تو وہ چونکی۔

“نتھنگ اسپیشل ، ویسے یہ عذرا آنٹی کیوں آئی ہیں؟”

اس نے پوچھا ، عذرا آنٹی سعد لوگوں کی چچی تھیں۔

“تمہیں نہیں پتہ ۔؟”

اسوہ کو حیرانی کا جھٹکا لگا۔

” نہیں کیا ہوا ہے؟ خیریت ہے نا؟”

وہ چونک کر پلٹی۔

“رشتہ لے کر آئی ہیں۔”

اسوہ کیک کا ٹکڑا منہ میں ڈالتے ہوۓ بولی۔

“کس کے لئے؟”

وہ چاۓ کی ٹرالی وہیں چھوڑ کر بولی۔

“کیسا بیوقوفانہ سوال ہے؟ میں اور دعا میرڈ ہیں تو پیچھے کون بچا؟ “

اسوہ نے گھورا۔

“میں ،،،یو مین میرے لئے پروپوزل آیا ہے۔”

وہ آہستگی سے بولی کہ آواز باہر نہ جاۓ۔

“یا افکورس، اریز کا پروپوزل آیا ہے ۔ وہی جو تمہیں اچھا لگتا تھا، جس کی پرسنالٹی سے تم کافی امپریس تھی۔”

اسوہ نے کہا تو اس نے نفی میں سر ہلایا اور ملازمہ کو چاۓ لے جانے کا کہہ کر وہ اسوہ کے پاس آن کھڑی ہوئی۔

“نو ڈاؤٹ، اریز بھائی بہت اچھے ہیں مگر اسوہ میں شادی ایسے انسان سے نہیں کر سکتی جو اتنا سنجید ہو، مطلب میں چاہتی ہوں کہ شادی کسی ایسے انسان سے ہو جو لائف انجواۓ کرنا جانتا ہو ، جو سنجیدہ تو کسی طور نہ ہو، جیسے حنان ہے اور اریز نمبر ون کھڑوس ،، کرئیر کو لے کر سیریس تھا سو بولا تھا۔۔۔”

وہ اسوہ کو دیکھ کر بولی، اسوہ نے بغور اس کا چہرہ دیکھا حنان کے نام پر وہ مسکرائی تھی ، اس کی آنکھیں چمک اٹھی تھیں اور یہ عام بات نہ تھی۔

“ویسے بھی میں اتنی جلدی شادی نہیں کرنا چاہتی، پڑھنا چاہتی ہوں کچھ بننا چاہتی ہوں۔”

جب معلوم ہوا کہ کیا کہہ چکی ہوں تو فوراً صفائی دی۔

“تم حنان کو بولو ، آئم شیور ، ہیلپ کرے گا تمہاری۔”

اسوہ کی بات پر وہ مسکرائی۔

“ارے یو آر رائٹ، میں اسے کہہ دیتی ہوں۔ “

وہ مسکراتی ہوئی کچن سے نکل گئی۔

“واؤ مجھے کچھ نہیں کرنا پڑا، کسی نہ کسی طرح مجھے حنان کو منانا ہے کہ وہ اس سے ہی شادی کرے ، ہمارے گھر کی رونق ہے جانے کیسے لوگ ملیں گے آگے ، بہتر ہے کہ وہ اپنے گھر ہی ریے۔”

اسوہ نے مسکرا کر گہری سانس ہوا کے سپرد کی اور باہر آ گئی ۔

👇
👇
👇
👇
👇
👇
👇

“آ جاؤ حنا۔”

حنا نے اس کے روم کا ڈور نوک کیا تو وہ بولا۔

“تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میں ہوں ؟”

حنا نے اسے دیکھا۔

“تمہاری دستک بلکہ قدموں کی آہٹ تک پہچان لیتا ہوں۔، بولو خیریت ہے؟”

وہ لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹاۓ بنا بولا ، حنا چند ثانیے اسے بنا پلک جھپکے دیکھتی رہی ، دل کو آج حنان کچھ اپنے دل کے تخت پر بیٹھا ہوا محسوس ہوا۔

“کیا ہوا؟”

حنان نے چونک کر اسے دیکھا۔

“وہ۔”

حنا نے خشک لبوں پر زبان پھیری اور بیڈ پر اس کے ساتھ بیٹھ گئی اور دل کی حالت کو سمجھنے لگی۔

“ایک ہیلپ چاہیے تھی؟”

حنا نے جھجھکتے ہوۓ کہا تو وہ چونکا ۔

” بولو۔ ؟ کیا ہیلپ چاہیے؟”

وہ ابرو اچکا کر بولا۔

“مجھے شادی نہیں کرنی۔”

وہ منہ بنا کر بولی۔

“تو مت کرو ، مین کون سا تمہیں ڈولی میں بٹھانے جا رہا تھا ، جو تم یوں منہ بنا کر بول رہی ہو۔ “

حنان ہنستا ہوا شرارت سے بولا۔

“میں سیریس ہوں یار پلیززززز ۔”

وہ اس کی ہنسی سے نظریں چرا کر بولی۔

“میں بھی سیریس ہوں۔”

وہ فوراً لبوں تلے ہنسی دبا کر بولا۔ حنا نے غصے سے اسے گھورا اور پاؤں پٹختی جانے ہی لگی تھی کہ حنان نے بازو تھام لیا اور اپنے سامنے بٹھایا اور لیپ ٹاپ سائیڈ پر کر کے اسے دیکھا۔

“بھروسہ ہے مجھ پر ۔”

حنان نے ہوچھا تو اس نے نا سمجھی سے اثبات میں سر ہلایا ، اسے معصوميت سے سر ہلانا دیکھ کر وہ مسکرایا۔

” تو بھروسہ رکھو کہ میں تمہاری زندگی کا وہ فیصلہ کبھی بھی نہیں ہونے دوں گا حنا جس سے تم خوش نہ ہو یا جو تمہارے حق میں بہتر نہ ہو یہ حنان کا وعدہ ہے تم سے، پھر چاہے کچھ بھی ہو جاۓ”

وہ اس کا ہاتھ تھام کر یقین دلا کر بولا تو وہ مسکرائی۔

” اگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو ۔”

حنا نے گویا اسے ڈرانا چاہا۔

” مشکلات کا تو کیا تمہارے لئے موے تک کا سامنا کر سکتا ہوں ،،،، خیر بتاؤ اب کون آیا ہے کشکول لے کر۔۔”

وہ سنجیدگی سے کہہ کر آخر میں شرارے سے ہنسا۔

“اریز بھائی کا پروپوزل آیا ہے۔”

وہ لب کاٹتے ہوۓ بولی۔

” رئیلی ؟؟؟؟؟؟ واؤ ،،،،پرسنلی پوچھو گی تو سچ یہی ہے کہ اریز از بیسٹ پرسن، تم بہت خوش رہو گی اس کے ساتھ ، میری ذاتی راۓ ہے ۔”

حنان نے کہا تو حنا نے غصے سے اپنا ہاتھ چھڑایا۔

” میں نے راۓ نہیں مانگی بس بتایا ہے تمہیں کہ مجھے شادی نہیں کرنی ابھی، دیٹس اٹ۔”

وہ اٹھ کر ونڈو کے پاس آن کھڑی ہوئی۔

“کسی کو پسند کرتی ہو کیا؟”

حنان نے پوچھا تو حنا کا دل بے طرح دھڑکا۔

“اب تمہیں یہ کیوں لگ رہا ہے؟”

وہ پلٹ کر غصے سے بولی۔

“کیوں ، تمہیں محبت کیوں نہیں ہو سکتی ؟ تم

ہارٹ لیس ہو ؟ دیکھو تم یونی میں پڑھتی ہو ،اگر کوئی پسند ہے تو بتا دو ، ملوں گا اس سے اگر پسند ا گیا تو ، رشتہ میں اپنے ریفرنس سے فیملی کے آگے پیش کروں گا ، ٹرسٹ می ،، چلو ریلیکس ہو کر بتاؤ۔”

وہ اسے یقین دلا کر بولا تو وہ مسکرائی۔

“ایسا کچھ نہیں ہے پارٹنر ، میں بس چند سال شادی نہیں کرنا چاہتی ، مجھے یقین ہے تم ہیلپ کرو گے۔ “

وہ مسکراتی ہوئی بولی۔

“کتنے سال؟”

حنان نے اسے دیکھا تو اس نے انگلیوں کے اشارے سے پانچ کہا ، حنان نے گھور کر نفی میں سر ہلایا تو اس نے ایک انگلی نیچے کر دی ، حنان اس کی حرکت پر ہنسا۔

“یار میں صرف ایک سال ڈی لے کروا سکتا ہوں ، زیادہ کہا تو گھر والوں نے ایک دن میں ہی کروا دینی ہے۔”

اس کی دھمکی کارگر ہوئی۔

“اچھا ایک سال ہی کروا دو۔”

وہ فوراً بولی۔

“اوکے باس آپ کا کام ہو جاۓ گا مگر مجھے میری رقم مل جانی چاہیے۔”

وہ اس کی بات ہر ہنسی تھی تو حنان بھی دل سے مسکرایا تھا۔

“تھینکس آلوٹ حنان، سچی تم بہت اچھے ہو، ہمیشہ میری بہت مدد کی تم نے سو ابھی تمہارے لئے چاۓ اور پکوڑے بنا کر لاتی ہوں۔”

وہ ریلیکس ہو کر بولی اور چلی گئی۔

“پگلی لڑکی ، مجھے ہی نہیں اس گھر کے ہر مکین کو تمہاری خوشی عزیز ہے۔”

حنان کے لئے حنا اور اس کی مسکراہٹ بے حد اہم تھی۔

اور حنا اپنا ہر مسئلہ اسے بتا کر حق ہی ریلیکس ہوتی تھی کیونکہ وہ اس کی ہیلپ دل سے کرتا تھا۔۔۔۔

👇
👇
👇
👇
👇
👇
👇
👇
👇

مارچ کا مڈ تھا سو سردی کا زور ٹوٹ چکا تھا۔ وہ نہا کر لان میں بیٹھی ہوئی تھی، دھوپ میں بیٹھ کر مالٹے کھانا اس کا فیورٹ کام تھا ۔ دھوپ سکون دے رہی تھی تو وہیں بیٹھے بیٹھے سو گئی تبھی عارش کی گاڑی آگئی۔

وہ ناچاہ کر بھی رک گیا ، یہ لڑکی اسے اچھی لگنے لگی تھی ،نظروں کی تپش تھی یا کیا ارحہ کی آنکھ کھل گئی۔ عارش ایک بار پھر جی بھر کے شرمندہ ہوا تھا۔

” میں ابھی ابھی آیا ، سوچا تم سے سلام دعا کر لوں۔”

وہ بمشکل خود پر قابو پاتے ہوۓ بولا۔

“کیسی ہو؟”

وہ اس کے سامنے کرسی پر بیٹھ گیا۔

“الحمد لله ، آپ کیسے ہیں؟

وہ اندرونی ڈر پر قابو پا کر بولی۔

“ٹھیک ٹھاک۔”

وہ ٹوکری سے مالٹا اٹھاتے ہوۓ بولا۔

“ہمممم۔”

اس نے نظریں جھکائیں تو عارش نے اسے دیکھا۔

“نانو سے کوئی بات ہوئی تمہاری؟”

اس نے ابرو اچکا کر پوچھا تو وہ الجھی۔

“آئی می شادی کے ریلیٹڈ، وہ شادی کرنا چاہتی ہیں تمہاری۔”

عارش نے اسے دیکھا تو وہ ازحد حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی، کیونکہ یہ دوسری بار عارش نے اسے بولا تھا۔

“دادو نے آپ سے کب بولا۔؟”

اس نے تھوک نگلتے ہوۓ پوچھا تبھی عارش کا فون بجا اور وہ ایکسکیوز کرتا اوپر چلا گیا۔

“یا اللہ پاک رحم، یہ کیا ہو رہا ہے ؟ دادو کیسے بتاؤں آپ کو کہ مجھے حنان اچھا لگتا ہے، ماما کو بتا دوں اس ے پہلے کے دیر ہو جاۓ۔ “

اس نے گہرا سانس لیا اور چلی گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *