Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary NovelR50591 Kaanch Ki Choriyan (Episode 11)
Rate this Novel
Kaanch Ki Choriyan (Episode 11)
Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary
“کیوں کر رہا ہے حنان میرے ساتھ ایسا؟ میں جانتی ہوں وہ مجھے ہرٹ نہیں کر سکتا مگر ایسا کیا ہواا ہے کہ اس نے یہ تک کہ دیا کہ وہ مجھ سے نفرت کرتا ہے، کس نے اسے میرے خلاف کیا؟ کیا ارحہ نے ؟ نہیں ارحہ ایسی لڑکی نہیں ہے وہ جانتی ہے کہ وہ مجھے فقط اپنا دوست سمجھتا ہے، جینے کے خواب صرف میں نے دیکھے۔ “
حنا روتے ہوۓ بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کر قالین پر بیٹھ گئی اور سر گھٹنوں پر رکھ لیا۔
اسے دوستی چاہیے تھی مجھے پیار ہوگیا
پھر میں اپنے ہی قتل کا گنہگار ہو گیا![]()
“حنا ہم دونوں ہمیشہ یاد رکھیں گے کہ ہم صرف اچھے دوست تھے، دوست ہیں اور دوست رہیں گے کیونکہ میرے نزدیک دوستی بہت معنی رکھتی ہے اور اس دوستی سے زیادہ نہ تم سوچو گی نہ میں ، ہم ہمیشہ دوستی کے بندھن میں بندھ کر سب کو بتائیں گے کہ سچی دوستی ہو تو نسلوں تک ساتھ جاتی ہے ، یعنی میں اپنے بچوں کی شادی تمہارے بچوں سے کروں گا۔”
اسے حنان کی کہی بات یاد آئی تو اس کے دل کو کچھ ہوا۔
“ہاں حنان میں خود پر کنٹرول رکھوں گی اس بار تم آؤ گے تو میں تمہیں فیل تک نہیں ہونے دوں گی ۔ “
وہ گہرا سانس لیتی اٹھی اور چوڑیوں کے پاس آن رکی ۔
“کیا اسے بھولنا اتنا آسان ہے؟ کیا میں اسے بھول پاؤں گی ؟ شاید کبھی نہیں کیونکہ میری تو چوڑیوں پر بھی اس کا لمس باقی ہے ، میں ہار جاؤں گی بلکہ میں ہار چکی ہوں ۔
میں کیسے جیوں گی تمہارے بنا حنان، ہر کام میں تمہاری عادت ہے مجھے تو ، ہر کام میں ۔”
وہ چوڑیوں پر ہاتھ پھیرتی مسلسل رو رہی تھی ۔
چوڑیاں ٹوٹ جاتی ہیں کسی چیز کے ٹکرانے سے
دوست بچھڑ جاتے ہیں کسی اور کے مل جانے سے
“حنا ، حنا کہاں ہو تم ؟”
وہ بھاگتا ہوا آیا ۔
“فرمائیے ؟”
حنا فرائز کا پیکٹ اٹھاتے ہوۓ لاؤنج میں آئی ۔
“یہ دیکھو ، بوجھو کیا ہے ؟”
حنان نے ایک بڑا سا گلاس نما کؤورڈ اسٹینڈ سامنے کیا تو حنا نے فرائز وہیں رکھ کر گھوم کر اس کا جائزہ لیا۔
“آئی تھنک یہ چوڑیاں ہیں، ہیییییں نا؟
اس نے خوشی اور بے یقینی سے کہا۔
“ہاں جی، آج میں کسی کام سے گیا تھا ایک ویلج کی طرف ، وہاں ایک بڑھیا بیچ رہی تھی تو میں نے سب لے لیں اور ایک وقت میں دو بندیوں کو خوش کیا۔”
وہ مسکراتے ہوۓ خوشی سے بولا۔
“تھینک یو سو مچ ، تھینکس آلوٹ ۔”
حنا کی آنکھوں میں نمی آگئی تھی۔
“ارے پگلی رونا کیوں؟ “
وہ نا سمجھی سے بولا۔
“خوشی کے آنسو ہیں یہ ۔”
وہ ہنستے ہوۓ بولی۔
“ایڈیٹ ، آنسو نہیں بہانے خوشی کے بھی نہیں ۔”
وہ اس کے آنسو پونچھتے ہوۓ بولا ۔
“تم دنیا کے سب سے اچھے دوست ہو، سب سے اچھے۔ “
حنا نے مسکرا کر دل سے کہا۔
“اب اسی اسٹیٹمنٹ پر قائم رہنا ۔”
حنان نے کہا تو اس نے ہنستے ہوۓ سر ہلایا ، تبھی حنان اس کی پونی اتار کر اور فرائز اٹھا کر بھاگ گیا۔
“حنان دو مجھے۔”
اس نے پلٹتے ہوۓ گھورا۔
“سوری جانِ حنان نہیں دے سکتا۔”
وہ روم میں جا کر بولا۔
“بہت بہت برے ہو تم حنان۔”
وہ پیر پٹختی ہوئی بولی۔
” حنان کی جان ایک منٹ بھی نہیں قائم رہ سکی اپنی بات پر، سیلفش عورت ۔”
حنان نے مذاق اڑایا
“عورت ہو گے تم ۔”
اس نے غصے سے کہا ، چوڑیوں کو دیکھ کر وہ سب ہی بھول جایا کرتی تھی ، اب بھی یہی ہوا تھا۔
“یا اللہ جی ، میں کس کس پل کو دل سے نکالوں ، میں کس طرح اس دل کو سمجھاؤں ۔”
اس نے آسمان کی جانب مدد طلب نظروں سے دیکھا۔
آئیں گے یاد تمہیں ہم بے انتہا![]()
![]()
تیرے اپنے ہی فیصلے تجھے رلائیں گے






“ناشتہ کر لیں بی بی جی، بڑی بیگم صاحبہ بلا رہی ہیں ۔”
شبانہ نے آ کر اطلاع دی۔
“بولو مجھے بھوک نہیں ہے ۔”
اس نے کھڑکی کے باہر تکتے ہوۓ کہا ۔
“لیکن بی بی جی،،”
شبانہ کی بات کو اس نے کاٹا۔
“شبانہ میں نے کہہ دیا مجھے بھوک نہیں ہے تو نہیں ہے، اب تم جاؤ اور دوبارہ مت آنا۔”
اس کے غصے سے کہنے کے بعد وہ چلی گئی ۔
“کیسے سمجھاؤں گی میں حنان کو ، مجھے کوئی راہ سجھائی کیوں نہیں دے رہی ۔”
اس نے گہرا سانس لیا ، تبھی موبائل ٹون بجی۔
“عارش بھائی کی کال اور وہ بھی اتنی صبح ۔؟”
اس نے ناسمجھی سے گھڑی کو دیکھا جو سات بجا رہی تھی ، عارش تو اسے کال نہیں کرتا تھا ، اس نے موبائل وہیں پٹخ دیا ،وجہ اس کا رشتہ بھجوانا تھا،ورنہ عارش کی خوشی کے لیے وہ دعا خود مانگتی تھی۔
“میں ایک بار بھی آپ لی خوشی کے واسطے دعا نہ مانگتی اگر معلوم ہوتا کہ آپ مجھ میں انٹرسٹڈ ہیں۔”
اس نے بیڈ سے ٹیک لگاتے ہوۓ چہرے پر ہاتھ پھیرے تبھی موبائل بجا، اس نے ہاتھ بڑھا کر موبائل اٹھایا ،چاروناچار اسے کال پک کرنا پڑی۔
“اسلام علیکم !”
کال پک ہوتے ہی عارش نے سلامتی پیش کی ۔
“وعلیکم السلام ، کیسے ہیں آپ عارش بھائی ؟”
اس نے مجبوراً حال احوال پوچھا۔
” رب کا خاص کرم ہے، باۓ دا وے تم کیسی ہو ؟”
وہ ذومعنی لہجے میں بولا تو ارحہ نے گہرا سانس لیا۔ ،
” ٹھیک ہوں ، آپ کو کام تھا کوئی یا نانو سے بات کروا دوں ۔”
وہ کانپتی آواز میں بولی ۔
“نہیں ، مجھے تم سے ہی کام تھا۔”
عارش نے کہا۔
“جی بولیں۔”
وہ کوفت سے بولی ۔
“تم آفس کے لئے ریڈی ہو نا؟”
عارش نے کہا تو اس کے ذہن میں جمھاکا ہوا کہ اس نے تو آفس جانا تھا ۔
“نہیں ۔”
اس کا اتنا کہنا تھا کہ اس کا جیم کی طرف جاتا ہاتھ رکا۔
“نہیں مطلب؟”
وہ بمشکل غصہ ضبط کر کے بولا۔
“اگر بیماری کا بہانہ بنایا تو ابھی پکڑ لے گا یہ بندہ ، کیا کہوں میں؟ مجھ میں نہیں ہے ہمت نہ آفس جانے کی اور نہ عارش بھائی کا سامنا کرنے کی، کیا کہوں ؟”
اس نے سر پر ہاتھ مارا۔
“مس ارحہ آپ سے کچھ پوچھ رہا ہوں؟”
عارش نے اسے چپ دیکھ کر کہا ،لہجہ خاصا طنز کی طرف جا رہا تھا۔
“وہ میری دوست آ رہی ہے۔”
اس کی زبان پھسلی مگر بہانہ ویلڈ لگا۔
“رانیہ ہی ہے نا تمہاری دوست؟”
عارش نے یقین دہانی چاہی۔
“جی ، سب معلوم ہے لگتا ہے میری ہی نگرانی کرتے بس۔”
اس نے آخری جملہ دل میں کہا۔
“تو کون سا اس کا گھر دور ہے ؟ چار گھر چھوڑ کر ہے نا؟ اسے تم ایک یا دو بجے کا ٹائم دو ، میں گھر ڈراپ کر دوں گا، اگر آ نہیں سکتے تو حامی نہیں بھرتے ، انسان کی پہچان اس کی زبان ہونی چاہیے ، میں نے کچھ کام پینڈنگ رکھا ہوا تھا جو تمہیں ہی کرنا ہے آ کر ، آئی ول ویٹ، اللہ خافظ۔ “
اس نے کال کاٹ دی اور ناشتہ کرنے لگا۔
“کس کی کال تھی؟”
تنزیلہ بیگم نے روم میں آ کر اسے دیکھا۔
“آپ کے داماد کا ۔”
وہ جلی بھنی بولی۔
” کیا کہہ رہا تھا؟”
وہ مسکراہٹ دباتے ہوۓ بولیں۔
“کہہ رہا ہے آفس آؤ، جسے صرف اور صرف حکم چلانا چاہتا ہے ، کسی کے جذبات کی قدر ہی نہیں اسے ، کوئی کیسا ہے خبر نہیں، ایک دم مطلبی بندہ ہے ، جسے صرف خود سسے غرض ہے، اسٹون ہارٹ ہے اس کا ، کہا بھی ہے رانیہ آ رہی ہے تو گھنٹے کا لیکچر سنا دیا۔”
وہ غصے سے مگر دھیمی آواز میں بولی۔
“عارش ایک بہت اچھا انسان ہے ۔”
تنزیلہ بیگم نے اس بتایا۔
“کاش کہ وہ کسی کو سمجھ سکتا ، اس صرف طعنے دینے آتے ہیں ،خیر میں آپ کو کیوں بتا رہی ہوں آپ کو کون سا میری پرواہ ہے، آپ کو تو بس عارش بھائی ہی اچھے انسان لگتے ہیں جب کہ حقیقت برعکس ہے ، پتہ ہے ماما مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ آپ کیسی ماں ہیں جنہیں بیٹی کے آنسو کی پرواہ نہیں ۔۔۔”
وہ آنکھیں رگڑتی ہوئی واش روم میں چلی گئی۔
نہ جلاؤ ، نہ دفناؤ ، سر عام سڑک پر پھینک دو
یہ عشق سبھی کا مجرم ہے ____ہر آتا جاتا بدلا لے ![]()
“میری شہزادی یہ فیصلہ تمہاری بہتری کے لیے لیا ہے ، ابھی تو تم اداس ہو سکتی ہو، رو سکتی ہو مگر یقین ہے کہ تم خود ہی کہو گی کہ ماما آپ کا فیصلہ بہترین تھا ، انشاءاللہ آمین۔ “
انہوں نے گہرا سانس لیا اور دعا مانگی۔





وہ بابا کے ساتھ ہی آفس آئی تھی ۔راستے میں جو باتیں بابا نے کی انہی کے متعلق سوچ رہی تھی۔
“ارحہ بیٹا میں نے یہ فیصلہ بہت سوچ کر لیا ہے کہ عارش ایک بہترین انسا ن ہے جس کے سنگ تم ایک بہت اچھی لائف گذار سکتی ہو ، تمہیں کوئی اعتراض ہے تو بتا دو بیٹا ، بنا کی ڈر و خوف کے ۔”
صفدر صاحب نے اسے دیکھا ، اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ باپ کو انکار کرتی۔
“بابا جان مجھے آپ کا ہر فیصلہ منظور ہے ۔”
آنسو کو حلق میں اتارتے ہوۓ اس نے باپ کے آگے سر جھکا دیا ۔ بابا کا مان نہیں ٹوٹنے دیا تھا جب کہ اپنا دل ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو گیا۔
“مجھے یقین تھا کہ میری بیٹی میرا مان نہیں توڑے گی۔” بابا نے مسکر ا کر محبت سے کہا تو وہ فقط مسکرائی ۔
فرمانبردار بیٹیاں اکثر عشق میں بے وفا نکلتی ہیں۔
“تمہیں عارش سر بلا رہے ہیں ۔”
ثمر نے آ کر کہا ، وہ جو گہری سوچ میں گم تھی ۔
“عارش سر بلا رہے ہیں تمہیں ، کہاں گم ہو۔”
ثمر نے اس کا بازو ہلایا تو وہ چونک کر اٹھی ۔
” نہیں کہیں نہیں ، اوکے میں جاتی ہوں ۔”
اس نے گہرا سانس لے کر خود کو نارمل کیا اور چلی گئی۔
“اللہ پاک عارش سر کی قسمت میں اسے لکھ دے آمین ۔”
ثمر نے دعا کی ۔
“یس ۔”
اس نے عارش کا روم ڈور نوک کیا تو وہ بولا۔
“بیٹھو ۔”
وہ ہنوز مصروف تھا یا مصروف ہو رہا تھا۔
“چاۓ یا کوفی؟”
اس نے بنا دیکھے کہا۔
” میں کوفی پی چکی ہوں ۔”
اس نے کوفت سے کہا۔
“اوکے تو یہ ہے کام ،۔”
اس نے لیپ ٹاپ اس کے سامنے رکھا اور اپنا کوفی کا مگ اٹھا کر لبوں سے لگا لیا ، ابھی تک اسے دیکھا نہیں تھا ، کیونکہ اسے دیکھ کر دل کی الگ سی لے اسے حیران پلس پریشان کر دیتی تھی کہ دل بار بار دیکھنے کی خواہش کرتا تھا جو کہ عارش جیسے بندے کو اممیچورٹی لگتی جب کہ اسے نہیں معلوم تھا کہ یہ اممیچورٹی نہیں چھپی محبت ہے ، جب کہ ارحہ کو لگ رہا تھا کہ وہ اگنور کر رہا ہے ، اس لیے وہ بدگمان ہو رہی تھی ۔
“یہ پیپرز ہیں ، یہاں سے دیکھ لینا۔”
اس نے کچھ پیپرز آگے کیے تو ارحہ کا خون کھول اٹھا کیونکہ یہ کام دو بجے تک بھی ختم ہونے والا نہیں تھا۔
“اوکے میں میٹنگ اٹینڈ کرنے جا رہا ہوں ، ٹیک کئیر ۔ “
عارش کلائی پر بندھی گھڑی کو دیکھتا کھڑا ہوا ۔
“اوکے ۔”
ارحہ نے سر ہلایا ۔
“ایڈیٹ ، بیسٹ آف لک بولتے ہیں ۔”
عارش نے کہا تو وہ شرمندہ ہوئی۔
“بیسٹ آف لک ۔”
وہ بنا بحث کیے بولی بلکہ اس کے ساتھ بحث کرتی کب تھی کیونکہ اسے معلوم تھا عارش سے جیتنا مشکل ہے ۔
“تھینکس ، اللہ حافظ ۔”
وہ ایک فائل اٹھا کر چلا گیا۔
“کھڑوس ، اتنا کام کیسے کروں میں ؟ ذرا ترس نہیں آتا اس بندے کو مجھ معصوم پر ۔ “
وہ غصے سے لیپ ٹاپ رکھ کر اٹھی ۔
“سارا قصور ہی میرا ہے نہ اس دن آفس آتی اور نہ ہی وہ کام کرتی ، نہ ہی ان کو پتہ چلتا کہ میں کر سکتی ہوں، اب کرنا تو پڑے گا مجبوری ہے۔”
اس نے دانت پیس کر خود کو کوسا ، کام کرنا اس کی مجبوری تھی سو اس نے کڑوا گھونٹ بھرتے کام کیا۔
دو بجے عارش واپس آیا تو وہ ہنوز لگی ہوئی تھی۔
عارش کی نظریں اس پر ٹک گئیں جو پرپل کلر کے سوٹ میں نہایت پیاری لگ رہی تھی ۔
“تم نے ابھی تک ریسٹ نہیں کیا ؟ آئی میں تب کی لگی ہو تم، بیوقوف میں نے یہ تو نہیں بولا تھا آج کرو سب۔”
عارش نے اس کا مرجھایا ہوا چہرہ دیکھا ، اور لیپ ٹاپ اس کے ہاتھ سے لے کر دیکھنے لگا۔
“اب اگر میں نہ کرتی تو یہ بندہ کہتا کہ کام چور ، اللہ ہی بچاۓ اس سے ،اسس کی ڈرامے بازیوں سے ، “
اس نے دل میں سوچتے ہوۓ سر جھٹکا۔
“عارش بھائی اگر نہ کرتی تو آپ پھر بھی طعنے ہی مارتے، کہ ذرا سا کام دیا تھا وہ بھی نہیں کیا۔ “
اس نے بمشکل ہمت کر کے کہہ دیا تو عارش نے ایک آئی برو اٹھا کر اسے دیکھا کچھ بھی سخت کہنے سے زبان کو روکا کیونکہ اسے الزام لگاتی ارحہ کافی اچھی لگی۔۔
“گڈ جاب۔”۔
عارش نے سراہا۔
“شکریہ ۔”
وہ انگلیاں چٹخاتے ہوۓ بولی۔
“ایک اور بات بھی کرنی تھی تم سے؟”
عارش نے کہا تو اس نے فوراً اسے دیکھا تبھی عارش کا موبائل بجا ، “ممانی کالنگ” دیکھ کر اس نے پک کی۔
“تم نے رانیہ کو کتنے بجے کا ٹائم دیا تھا ؟”
وہ کال سے فارغ ہو کر بولا۔
“دو بجے۔”
اس نے کہا تو عارش نے گھری دیکھی جو سوا دو بجا رہی تھی ۔
“چلو میں ڈراپ کر دوں ، رانیہ نے پہلی بار وقت کی پابندی کی ہے، کچھ انعام تو دینا بنتا ہے۔ ۔ “
عارش طنزيہ بولا تو وہ پیچ و تاب کھا کر رہ گئی۔
“آپ کو کوئی بات کرنی تھی ؟”
ارحہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
“پھر کبھی، چلو اٹھو۔”
عارش نے کہا تو وہ سر ہلاتے ہوۓ اٹھ گئی ۔
“میں کچھ دن آفس نہیں آؤں گی ۔”
اس نے عارش کو دیکھا تو عارش نے اسے دیکھا۔ آنکھوں میں سوال تھے۔
“کیونکہ جتنا کام میں نے آج کیا وہ کم ازکم چار دن کا تھا، اور اس آفس کے اونر کی بیٹی ہونے کے ناطے اتنا کام تو مجھے کرنا ہی نہیں تھا سو۔”
وہ کہہ کر چلی گئی جب کہ عارش ہنس دیا تھا اس کے انداز اور لب و لہجے کی ادا پر۔
آ مل کر ڈھونڈ لیں کوئی وجہ ایک “ہو جانے کی “
“یوں بکھرے بکھرے نہ تم ۔۔اچھے لگتے ہو “نہ ہم “





حنان گھر آیا تو دل میں خواہش جاگی کہ سب سے پہلے حنا کی دکھائی دے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا تو اس کا موڈ خراب ہو گیا تھا مگر سب کی بے لوث محبت پر اس کا دل اش اش کر اٹھا لیکن سب کے درمیان اسے حنا کی کمی بری طرح محسوس ہو رہی تھی۔
گنگناتے راستوں کی دلکشی اپنی جگہ
اور سب کے درمیاں تیری کمی اپنی جگہ
“کیسا گذرا سفر؟”
جویریہ بیگم نے اس کو دیکھا جو صوفے پر لیٹا تھا۔
“بہت تھک گیا ہوں آنٹی ۔”
اس نے انگڑائی لیتے ہوۓ کہا۔
“چلو تم ریسٹ کرو ، بلکہ اپنے روم میں چلے جاؤ۔ “
جویریہ بیگم نے اس کے تھکن زدہ چہرے کو دیکھا۔
“جی جا رہا ہوں ، حنا یونی میں ہے ؟”
وہ ناچاہ کر بھی پوچھ بیٹھا ۔
“ہاں بہت مس کر رہی تھی تمہیں ۔ سچ کہو تو تم نہ گھر ہو تو وہ بھی چپ ہی رہتی ہے ۔”
جویریہ بیگم نے کہا۔
“اہاہاہااہاہا اچھا ۔”
وہ ہنستا ہوا اٹھا۔
“کاششش آنٹی بتا سکتا کہ حنا کتنا بدل گئی ہے ۔”
وہ سیڑھیاں چڑھنے لگا۔
آج وہ بھی نظر نہیں آتے ٠٠٠٠٠٠٠٠
کل جو کہتے تھے ہم تمہارے ہیں …




وہ لوگ گھر آۓ تو رانیہ اور تنزیلہ بیگم لان میں بیٹھ کر چاۓ پی رہے تھے ۔
“اسلام علیکم عارش بھائی ، کیسے ہیں آپ ؟”
رانیہ مسکراتے ہوۓ بولی۔
“الحمد للہ ، میں ٹھیک ، تم سناؤ ؟”
عارش نے خوشدلی سے کہا۔
“اللہ کا کرم ہے؟ ارحہ تم کیسی ہو؟”
رانیہ اٹھ کر گلے لگی تو وہ جذباتی ہو گئی ۔
“چلو میرے روم میں ۔”
وہ رانیہ کو لے گئی جب کہ عارش ممانی سے ملنے لگا۔
“ممانی جان مجھے آپ سے ایک بات پوچھنی تھی؟”
وہ بیٹھ گیا ۔
“ہاں بیٹا پوچھو؟”
انہوں نے اسے دیکھا۔
“کیا ارحہ اپنی مرضی سے راضی ہوئی ہے ؟ آپ لوگوں نے کوئی زور زبردستی یا بلیک میل تو نہیں کیا؟”
عارش نے بلا تمہید بات کی ۔
“نہیں بیٹا ہم کیوں بلیک میل کریں گے، اکلوتی بیٹی ہے میری ، اس کی ہاں سب سے زیادہ اہم ہے .۔ تم نے کیوں پوچھا ہے؟ ارحہ نے کچھ کہا ہے تم سے اس بارے میں ؟”
انہوں نے ڈرتے ڈرتے استفسار کیا۔
“نہیں ، ہماری اس بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی۔”
اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوۓ کہا۔
“تو پھر پرسوں منگنی ڈن ہے نا؟”
انہوں نے اسے دیکھا۔
“جی انشاءاللہ ، میں آپ کو کریڈٹ کارڈ دے دوں گا تو آپ لوگ منگنی کی شاپنگ کر لیجیے گا۔”
وہ مسکرا کر بولا۔
“ارے نہیں بیٹا، یہ گھر کوئی الگ تھوڑی نا ہیں، ۔ “
انہوں نے انکار کیا۔
“ممانی جان میری خوشی ہے۔”
اس نے محبت سے کہا۔
“تو پھر تم خود ہی لے آؤ منگنی کا ڈریس۔”
انہوں نے اسے مشورہ دیا۔۔
“نہیں میں شادی کا لے آؤں گا ،منگنی کا آپ خود لائیں کیونکہ ابھی میں کافی بزی ہوں اور مجھے ارحہ کی چوائس کا پتہ نہیں ہے ابھی سو۔”
وہ سمجھداری سے بولا۔
“اوکے ٹھیک ہے۔”
تنزیلہ بیگم نے مسکرا کر کہا تو عارش کا دل کٹا کہ آج ماں ہوتی تو کتنے ارمان ہوتے اس کے،۔
“عارش بیٹا کیا ہوا؟”
تنزیلہ بیگم نے اسے دیکھا جس کا چہرہ مرجھا گیا تھا۔
“ماما یاد آ گئیں ہیں ، سوچ رہا ہوں کہ مجھے تو اندازہ بھی نہیں دلہن کے لیے کیا کیا لیتے ہیں سو آپ خود دیکھ لیجیے گا ممانی ۔”
انسان کتنا ہی پتھر دل کیوں نہ ہو اسے ماں کی کمی رلا دیتی ہے۔
“تم فکر مت کرو بیٹا، تمہاری ماما کے سارے ارمان ہم خود پورے کریں گے ،۔”
تنزیلہ بیگم نے اسے تسلی دی۔
“شکریہ اور زرنش بھی آ جاۓ گی کچھ شاپنگ وہ دیکھ لے گی ۔”
اس نے ان کو بتایا۔
“یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ وہ آرہی ہے۔”
تنزیلہ بیگم نے کہا تو وہ مسکرا کر باقی ڈسکشن کرنے لگا تھا۔
