Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary NovelR50591 Kaanch Ki Choriyan (Episode 20)Part 1,2
Rate this Novel
Kaanch Ki Choriyan (Episode 20)Part 1,2
Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary
حنا اس کے یوں بیٹھنے اور کلی اٹھانے پر الجھ گئی۔
“آئم رئیلی ویری سوری حنا، مجھے بہت بہت دکھ ہے کل جو میں نے کیا، مجھے معلوم ہے تم ہرٹ ہوئی ہو، سوری۔”
وہ گلاب کی کلی اسے دیتے ہوۓ بولا۔وہ خاموش رہی۔
“حنا یار اگر میں کسی اور کے کہنے پر تم سے صلح کرتا تو تب ناراضی بنتی بھی تھی تمہاری مگر اب بنا کسی اور کی صفائی پر میں صلح کر رہا ہوں ، جس کا مطلب ہے کہ ہماری دوستی بہت بہت مضبوط ہے۔”
وہ اب اس کا ہاتھ تھامے کہہ رہا تھا۔
“اوکے اٹھو۔”
حنا نے سر ہلایا۔
“نہیں پہلے بولو، حنان کل جو تم نے بکواس کی اس پر تم کو معاف کرتی ہوں، پھر اٹھوں گا۔”
اس نے چھوٹے بچوں کی طرح ضد کی تو حنا کا دل سرشار ہو گیا تھا کہ مرد ہو کر بھی اس کے لیے اپنی انا پیاری نہیں تھی ۔
“حنان کل جو تم نے کچھ زیادہ ہی بکواس کی اس پر ایک شرط پر معاف کروں گی۔”
وہ گلاب کی کلی لیتے ہوۓ آخر میں شرارتاً بولی۔
“جی بولیے۔”
وہ دل سے مسکرایا کہ وہ مان گئی تھی۔
“اگر تم مجھے آئسکریم کھلا کر لاؤ گے۔”
اس نے شرط بتائی۔ حنان فوراً کھڑا ہو گیا۔
“نو وے، ایک روپیہ بھی نہیں خرچ کرنے لگا میں، تمہیں راضی کرنے میں آگے کی کافی پیسے خرچ ہو گئے۔”
اس نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
“جھوٹے کہیں کے، گلاب سارے لان میں لگے ہوۓ ہیں، یہ جو چوڑیوں سے سوری لکھا یہ سب میری ہیں، کارڈ جو بنایا وہ بھی میرے مارکرز اور شیٹس۔جھوٹا، کنجوس، ویسے حنان تم واحد بزنس مین جو اس قدر کنجوس مکھی چوس ہو، نہیں ہوتی میں راضی۔”
حنا نے گھورتے ہوۓ سب گنوایا اور سر جھٹکا۔
“میں نے کب کہا کہ یہ سب پیسوں کا آیا، چڑیل۔”
وہ بھی جواباً گھورتے ہوۓ بولا۔
“تو پھر کیوں بولا کہ اتنا خرچہ آیا اور مفت میں تو راضی ہونے نہیں والی۔”
حنا نے گویا قصہ ہی ختم کیا اور رخ موڑ لیا۔
“خرچہ تو آیا ہے۔”
حنان نے چند لمحوں بعد کہا اور ہاتھ ہلایا تو چھن چھن کی آواز آئی۔ حنا فوراً پلٹی اور حنان کے ہاتھوں سے چوڑیوں کا پیکٹ کھینچ لیا۔
“اووو میرے اللہ ، تھینک یو سو مچ۔۔”
اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
“افففف ایک تو تمہاری پاکستانی آنکھوں میں چائنہ کا نلکا فٹ ہے ، ہر وقت نم ہوتی رہتی۔”
اس نے آنسو پونچھتے کوفت سے کہا۔
“تو رلاتے بھی تو تم ہو۔”
اس نے شکوہ کیا۔
“حنا کیا تم نہیں بھول سکتی کل جو کچھ بھی کہا۔۔۔”
وہ دکھ سے اسے دیکھتے ہوۓ بولا۔
“میں بھول چکی ہوں حنان۔”
اس نے مسکراتے ہوۓ کہا تو حنان نے اسے گلے لگا لیا۔
“تھینک یو سو مچ، قسم سے میں ساری رات بے چین رہا کہ تم روئی ہو میری وجہ سے،تھینکس۔”
حنان نے خوشی سے کہا، حنا تو اس کی اس حرکت پر ہی دنگ رہ گئی تھی۔
“آئسکریم پھر بھی چاہیے مجھے۔”
حنا نے لفظ چبا چبا کر اسے باور کروایا۔
“ہاہاہااہا مجھے پتہ تھا کہ یہ ڈیمانڈ ضرور ہو گی، اس لیے میں آلریڈی منگوا چکا ہوں، آ جاؤ میں ہادی اور بھابھی لوگوں کو بلا لاؤں ااور جلدی آنا۔”
وہ کہہ کر تیزی سے چلا گیا۔
“ارحہ کو بھولے وہ میری اتنی پرواہ کر رہا ہے، میرے آنسو اسے بے چین کر گئے ، میری پسند کی پر چیز لایا ، مجھے منانے کے لیے روم تک سجا دیا،کیا یہ صرف دوستی ہے، نہیں حنا اب نہیں بھٹکنا، یہ پرواہ، یہ بے چینی سب دوستی ہی ہے ، دوستی نہیں ہے پھر بھی مان لو کہ یہ بس دوستی ہے۔”
وہ خود کو دلاسہ دیتی چوڑیوں کو محبت سےاسٹینڈ پر رکھ کر باہر چلی گئی تھی۔








“نکمے کہیں کے ، تم نے ذرا بھی شاپنگ نہیں کی۔”
زرنش نے عارش کو گھورا۔
“یار میں بزی تھا اور ماں بھی نہیں ہے جو بیٹے کی شادی کی تیاری کرتی اور ممانی تو شاید ہچکچا رہی ہیں کہ اپنی بیٹی کے لیے اس گھر کی طرف سے کیا لیں۔”
وہ اداسی سے بولا۔
“اچھا اداس مت ہو، تمہاری بہن نہ سہی بہن جیسی تو ہوں، بہت شاپنگ کروں گی۔”
وہ اسے اداس ہوتا دیکھ کر فوراً بولی۔
“ہوں۔”
اسے ماں باپ کی شدت سے یاد آئی تھی۔
” عارش میرے پاس میکے کے نام پر صرف تم تھے اور اب جب تمہاری بیوی آ جاۓ گی تو پھر وہ تمہارے بچے یعنی میرا بھی میکہ بھرا بھرا ہو جاۓ گا، تم کہیں بدل تو نہیں جاؤ گے نا؟ یعنی میں ہوں تو کزن ہی نا۔”
زرنش نے اسے بلیک میل کیا۔
“اففففف میں کیوں بدلوں گا یار، میرے بچوں کی پھوپھو ہو گی تم، ہاہاہاہاہا چلو اب سینٹی نہ ہو ویسے بھی تم اکیلی نہیں ہو تمہارے پاس بہت لونگ فیملی ہے ماشأاﷲ اور جاؤ لسٹ بناؤ، میں دیکھوں یہ حنان اور ہادی کدھر رہ گئے۔”
وہ اس کا سر تھپتھپا کر چلا گیا۔
“اے میرے اللہ اس کو ہر خوشی دینا،آمین ، ساری زندگی محبتوں سے محروم ہی رہا ہے عارش ، ننھیال بھلے بہت اچھا ہے مگر پھر بھی اس گھر کو آباد کر دے، آمین۔”
وہ کہہ کر باہر لان میں آگئی۔
“فنکشن کمبائن ہے کیا؟”
ہادی نے عارش کو دیکھا۔
“نہیں نانو کہتی ہیں کہ ایک دن ادھر میری مہندی کا فنکشن ہو گا اور دوسرے دن ادھر۔”
اس نے بتایا۔
“کیا مطلب، یار کمبائن مزہ آۓ گا نا؟ْ”
زرنش نے منہ لٹکایا۔
“اور کیا تو۔”
حنان نے بھی تائید کی۔
“نانو کہتی ہیں کہ اگر میں نے مہندی کی رات اگر اسے دیکھ لیا تو دلہن بن کر اسے روپ نہیں آۓ گا۔”
اس نے نانو کی منطق پیش کی۔
“کہہ تو وہ ٹھیک رہی ہیں۔”
زرنش نے ایگری کیا۔
“ساری زندگی باہر گذار کر بھی آپ یہ کہہ رہی۔”
حنان شاکی ہوا۔
“ہاں کیونکہ بزرگوں کی باتیں بھلے لوجیکل نہیں ہوتی مگر کوئی نہ کوئی لوجیک ضرور ہوتی ہے۔”
وہ مسکراتے ہوۓ بولی۔
“اس کا ایک حل ہے، اگر یہ وعدہ کر لے کہ یہ اسے کبھی نہیں دیکھے گا تو فنکشن کمبائن ہو سکتا۔”
ہادی نے اپنا آئیڈیا پیش کیا۔
“تجھے یہ اتنا شریف لگتا ہے کہ یہ نہیں دیکھے گا، یہ ایسے کر کے دیکھ لے گا۔”
حنان نے ہنس کر کہتے آنکھوں کی پتلیاں گھما کر کہا۔
“ہاہاہاہاہا ۔”
سب ہنس پڑے۔
“دیکھو عارش، مہندی پر دلہن ویسے بھی اتنی پیاری نہیں لگتی، اس لیے بارات والے دن دیکھنا، وعدہ کرو۔”
زرنش نے اسے قائل کیا۔
“افففففففف یار، نہیں ہوں میں اتنا بے تاب۔۔”
عارش نے گھورتے ہوۓ کہا۔
“اووووووو یعنی بے تابی ہے بھلے تھوڑی ہی۔”
حنان نے شرارت سے کہا تو زرنش ہادی ہنس دئیے۔
“شٹ اپ کمینے۔۔”
عارش جھینپ گیا۔
“اچھا، ہم ابھی دلہن کے گھر چلتے ہیں، میں نے دیکھنا بھی ہے اسے کون ہے جو میرے بھائی کو بے تاب کر چکی ہے اور سب وہاں پر ہی ڈیسائیڈ کرتے ہیں، کیا خیال ہے گائز۔”
زرنش نے مسکراتے ہوۓ ان لوگوں کو دیکھا۔
“نہیں بھئی، میں نہیں جا رہا، اگر مجھے دلہن ہی پسند آ گئی تو عارش ڈولی بیٹھنے سے رہ جاۓ گا۔”
حنان نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
“بے شرم انسان، اس کا دولہا سامنے کھڑا ہے اور عارش ڈولی نہیں بیٹھے گا بلکہ گھوڑی چڑھے گا۔”
ہادی نے اسے شرم دلاتے ہوۓ تصحیح کی۔
“جو بھی ہے، اب میں جا رہا ہوں سعد کی کال آئی تھی، کچھ کام ہے تم لوگ جاؤ۔ “
حنان نے کہا اور دو ایک باتوں کے بعد چلا گیا۔
اس کے بعد وہ لوگ ارحہ کے گھر آۓ۔





ارحہ لان میں بیٹھی ہوئی تھی۔
“حنان نے میری کال پک نہیں کی بلکہ بلاک کردیا، مجھے ڈر لگ رہا ہے جانے کیوں؟ کچھ ہونے والا ہے شاید۔”
وہ گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی۔
“چند دن کی مہمان ہوں میں اس گھر میں ، یہ گھر جہاں میں اتنے مان سے بیٹھتی ہوں کل یہی پرایا ہو جاۓ گا، کون س گھر ہو گا میرا؟ ایک میکہ بن جاۓ گا اور ایک سسرال، کیسے رہوں گی میں سب کے بنا۔”
آنکھوں کے گوشے گیلے ہوۓ اور وہ سر گھٹنوں پر رکھ لر بری طرح رو دی تھی۔ تب ہی عارش لوگ آۓ۔
“یہ، یہ کون؟”
زرنش نے عارش کو دیکھا اور سرگوشی کی۔
“ارحہ ہے یہ۔”
وہ بلکل ریلیکس سا بولا تھا۔
“تو یہ رو کیوں رہی ہے؟ تمہیں ٹینشن نہیں ہو رہی۔”
زرنش نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
“ڈونٹ وری یار، وہ ڈرامے دیکھ کر روتی ہے اس کا لائیو ڈرامہ بارہا دیکھ چکا ہوں میں۔”
وہ ہنستا ہوا ارحہ کی جانب آیا۔ قدموں کی آہٹ پر اس نے سر اٹھایا سامنے عارش کو دیکھ کر وہ حواس باختہ ہوئی، فوراً اٹھ کر آنسو پونچھے۔
“آپ کب آۓ؟”
وہ خود کو کمپوز کرتے ہوۓ بولی۔
“ارحہ کیا ہوا آپ کو؟”
زرنش فکرمندی سے پاس آئی۔
“آئی تھنک دانش کا چہلم ہے آج، تب ہی رو رہی ہے۔۔”
عارش شرارت سے بولا تھا۔
“عارش۔”
ہادی نے گھورا۔
“ہاہاہاہاہا ارحہ یہ میری کزن زرنش ، یہ ہادی اور یہ میرا سویٹ سا بھانجا عالیان ہے اینڈ آپ دونوں کو تو معلوم ہو گیا کہ یہ ڈرامہ کوئین آئی مین کہ ارحہ صفدر ہے۔”
اس نے مسکراتے ہوۓ تعارف کروایا۔
زرنش مسکرا کر گلے ملی۔ ہادی سے بھی دعا سلام کی۔
“یہ کون ہے؟”
عالیان نے پوچھا۔
“بھئی عارش بچہ کنفیوز ہو گیا، بتاؤ اسے۔۔ “
زرنش نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
“عالی یہ تمہاری ممانی ہیں۔”
عارش نے مسکراتے ہوۓ تعارف کروا کر ارحہ کو دیکھا، جس کا ہاتھ مسلنا گواہ تھا وہ ہچکچا رہی تھی۔
“واؤ ممانی آپ بہت پیاری ہیں، آپ اور مامو کھڑے ہوں ہم ایک گروپ پکچر لیتے ہیں ۔ پلیززززز ۔”
عالی نے معصوميت سے اس کا ہاتھ تھام کر کہا۔
“ہاں بھئی ارحہ تمہاری جان ایسے نہیں چھوٹنے والی۔”
زرنش نے ہنستے ہوۓ کہا۔
“بس اتنی سی وش؟ چلو بھئی لے لو پکچر۔۔”
عارش نے عالی کو چھیڑا اور ارحہ کےساتھ کھڑا ہو گیا۔
“آنٹی تھوڑا سا ساتھ ہوں مامو کے۔”
عالی نے فرنٹ کیمرہ آن کیا۔
“ہاں ارحہ آپ سیلفی میں نہیں آ رہی۔”
ہادی نے بھی کہا تو مجبوراً اسے اور پاس ہونا پڑا۔
“واؤ ویری نائس۔”
عالی خوش ہوا تھا۔ ارحہ بھی مسکرائی۔ اس کے بعد وہ لوگ اندر چلے گئے۔ زرنش ارحہ سے مذاق وغیرہ کر کے اسے ہنساتی رہی اور فائنلی فنکشن کمبائن ڈیسائیڈ ہوا۔









“کیا سوچ رہے ہو ؟”
حنا نے حنان کو دیکھا۔ جو پاؤں ٹیبل پر رکھے گہری سوچ میں گم تھا۔ پاؤں مسلسل ہلا رہا تھا۔
“اووں ہوں۔”
اس نے نفی میں سر ہلایا۔
“بتاؤ نا؟ تم کافی الجھے ہوۓ لگ رہے ہو۔ بتاؤ مجھے؟”
اس نے پاس بیٹھتے ہوۓ ضد کی۔
“تم ناراض ہو گی،نہ مجھے روکی گی، وعدہ کرو پہلے ۔”
حنان نےاس کا ہاتھ تھام کر کہا تو حنا نے سر ہلایا۔
“میں ارحہ سے بدلہ لینا چاہتا ہوں۔”
وہ اسے دیکھتے ہوۓ بولا۔
“کیاااا؟”
وہ چلا اٹھی تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
“حنان تمہارا دماغ تو کام کر رہا ہے نا؟”
وہ غصے سے بولی۔
Part 2
“ہاں میرا دماغ، کام کر رہا ہے۔”
وہ اسی پوزیشن میں ریلیکس سا بیٹھا تھا۔
” یہ غلط ہے، کسی لڑکی سے بدلہ لینا اچھی بات نہیں ہے۔”
حنا نے نفی میں سر ہلاتے ہوۓ تاسف سے کہا۔
“میں نصیحتیں سننے کے موڈ میں نہیں ۔”
وہ ریمورٹ سے ٹی وی آن کرتے ہوۓ بولا۔
“حنان وہ مجبور ہو گی ورنہ کون چھوڑتا ہے محبت اپنی۔”
حنا نے دکھ سے اسے دیکھا۔
“کوئی مجبوری نہیں ہوتی، تم بھی انکار کر چکی ہو کتنے پروپوزلز سے؟ وہ بھی بلاوجہ جب کہ اس کے پاس تو سولڈ ریزن موجود تھی نا، اس کی فیملی بھی کنزرویٹو نہیں تھی،، بس اس نے بے وفائی کی ہے۔”
اس نے مسلسل نفی میں سر ہلاتے ہوۓ کہا۔
“میں انکار اس لیے کرتی تھی کہ میرے پیچھے ایک مضبوط ، چٹان نما انسان کھڑا ہوتا تھا، میں انکار کر کے وہاں نہیں رکتی تھی کیونکہ اس انکار کے پیچھے ہونے والے ہنگامے کو سنبھالنے والا حنان تھا، میرے پیچھے تم نہ ہوتے تو گھر والے جس مرضی کے ساتھ رخصت کر دیتے میں مارے مان کے ایک لفظ نہ بولتی۔”
وہ صاف گوئی سے ایک ایک لفظ چبا کر بولی۔
“حنان تم ہی تو کہا کرتے تھے کہ بدلہ کم ظرف لیتے اور آج اپنی باری آئی تو تمہارے اصول بدل گئے؟انا صرف تم مردوں کی ہوتی ہے کیا، اس نے ریجیکٹ نہیں کیا تمہیں بلکہ ریکوسٹ کی تھی اور پلیزز عقل یوز کرو۔”
وہ تیزی سے کہہ کر غصے سے پاؤں پٹختی چلی گئی۔
“حنا تمہیں نہیں بتا سکتا کہ بدلہ میں ریجیکٹ ہونے کا نہیں بلکہ تمہاری آنکھ سے گرے آنسو کا لینا چاہتا ہوں، میں دوستی نبھانا چاہتا ہوں اور کچھ ان کیے وعدے بھی، ہر اس انسان کو رلاؤں گا جس کی وجہ سے تم روؤ گی میں نہیں جانتا ایسا کیوں ہے اپنا درد تو معاف کر سکتا ہوں پر تمہارا نہیں ، اگر تمہاری کلائی پر چوڑیوں نے زخم دیا تھا تو میں نے چور چور کر دیا تھا چوڑیوں کو، اگر زخم کی وجہ میں تھا تو خود کو بھی اسی چوڑی سے زخمی کیا تھا، میں سب دکھوں کو نکالنا چاہتا ہوں تمہاری لائف سے، حنا تم ناگزیر ہو میرے لیے۔۔۔”
اس نے گہرا سانس لے کر خود کو نارمل کیا، ٹی وی کو میوٹ کیا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے تقریباً ایک سال پہلے کا منظر گھوما۔ اس کے چہرے کے تاثرات بدلے تھے۔ سانس ایتھل پتھل ہوئی تھی ، وہ اٹھ کر بھاگتا ہوا کچن میں گیا اور دو گلاس پانی پی گیا تب کہیں جا کر اندر کا خوف تھوڑا کنٹرول میں ہوا تھا۔ اسے یہ واقعی بہت کم یاد آتا تھا مگر جب بھی یاد آتا تھا اس کی حالت غیر ہو جاتی۔
“افففففففف یہ میرے ذہن سے کیوں نہیں نکل جاتا، میں حنا کو کبھی بھی کچھ نہیں ہونے دوں گا، کبھی نہیں۔”
اس نے نفی میں سر ہلایا اور چہرہ ہاتھوں پر گرا کر وہاں ہی چیئر پر بیٹھ گیا۔
“کیا ہوا حنان بیٹا؟”
جویریہ بیگم نے فکرمندی سے اسے دیکھا۔
“کچھ بھی نہیں آنٹی، بس یونہی بیٹھا تھا۔”
اس نے بمشکل خود کو کمپوز کیا۔
“بیٹا تمہارا تو سر تپ رہا ہے۔”
انہوں نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
“جی میں ریسٹ کرتا ہوں ٹھیک ہو جاؤں گا۔۔”
وہ کہہ کر تیزی سے اوپر روم کی طرف چلا گیا۔
“حنان میری بات سنو۔”
وہ باہر آئیں مگر وہ جا چکا تھا۔
“کیا ہوا حنان کو؟”
زرنش لوگ بھی آ گئے تو وہ لاؤنج میں انٹر ہوتے بولی۔
“بیٹا اس کی شاید طبیعت نہیں ٹھیک، سنتا کہاں ہے؟”
انہوں نے جھنجھلاتے ہوۓ اسے بتایا۔
“میں ابھی چیک کرتے ہوں آپ کے داماد کو، ڈونٹ وری۔۔”
زرنش مسکراتی ہوئی شرارت سے بولی اور چلی گئی۔۔
“ماما یہ عارش کی شادی کا کارڈ ہے۔”
ہادی بھی اندر آتے ہوۓ بولا۔
“ہاں رکھو ادھر اور عالی کدھر ہے؟”
انہوں نے پیچھے دیکھا۔
“عالی تو عارش کے گھر ہی ہے، کہتا ہے ادھر ہی رہنا ہے۔ “
اس نے مسکراتے ہوۓ بتایا۔
“اچھا بیٹا اوپر آ جاؤ طبیعت خراب ہے حنان کی۔”
انہوں نے سر ہلاتے ہوۓ کہا اور چلی گئیں۔
زرنش نے ڈور ناک کیا۔ حنان کو کوفت ہوئی۔
“کون ہے؟”
وہ بیزاری سے بولا۔
“حنان میں ہوں زرنش ۔”
اس نے بتایا۔
“اوو بھابھی آپ؟ جی آ جائیں۔”
اس نے لہجے کو خوشگوار بنا کر کہا۔
“کیا ہوا ہے؟ طبیعت ٹھیک ہے ؟”
زرنش نے اسے دیکھ کر پوچھا۔
“جی بس ہلکا سا درد ہے۔”
اس نے بمشکل مسکراتے ہوۓ کہا۔
“ہلکا درد نہیں ہے ،زرنش اس کا سر تپ رہا ہے، چیک کرو۔”
جویریہ بیگم نے فکرمندی سے کہا تو زرنش نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا، اس کا ماتھا واقعی تپ رہا تھا۔
“حنان تم تو بخار میں پھنک رہے ہو، ایک دم بخار کیسے؟”
زرنش نے چونک کر اسے دیکھا۔
“بھابھی اتنا بھی نہیں ہے۔”
حنان نے بمشکل مسکرا کر تسلی دی۔
” ہادی آپ حنا کو میسج کریں میرے کِٹ سے تھرمامیٹر نکال کر لاۓ جلدی۔”
زرنش نے کہا تو ہادی نے فوراً کال کی۔ حنا تو فوراً بھاگتی ہوئی آئی اوپر آئی۔
“کیا ہوا؟”
تھرمامیٹر بھابھی کو دیتے وہ حنان کی طرف آئی۔
“ارے کچھ نہیں ہوا یار۔”
حنان نے سر نفی میں ہلایا۔
“حنان تمہیں تو بہت تیز فیور ہے، ایک دم سے کیسے ہوا؟ ابھی پانچ منٹ پہلے تو تم بلکل ٹھیک تھے۔۔”
حنا نے پریشانی سے کہا۔
“یہ میـڈیسن منگوا لیں، بہتر ہو جاۓ گا۔”
زرنش نے میڈیسن لکھ کر ہادی کو دی۔
“اچھا اب اسے ریسٹ کرنے دیں، ماما ہی از فائن۔”
زرنش نے ان کو تسلی دی تو وہ چلی گئیں۔
“حنان صرف پانچ منٹ پہلے میں نے تمہارا ہاتھ پکڑا تھا، تمہیں ٹمپریچر نہیں تھا تو اب ایک دم کیسے؟”
وہ ازحد پریشان تھی۔
“یار تب بھی تھا، تمہیں فیل نہیں ہوا۔ “
اس نے مسکرا کر نارمل کرنا چاہا۔
“حنان مجھے پاگل نہ بناؤ، انسانوں کی طرح بتاؤ۔”
وہ اب کی بار غصے اور پریشانی سے بولی۔
“حنا کچھ نہیں ہے ایسا یار، میں ریسٹ کرنے لگا ہوں۔ “
اس نے کہہ کر کمفرٹر اوڑھ لیا۔ حنا کی چوڑیوں کی چھن چھن گواہ تھی وہ غصے سے چلی گئی ہے۔
“میں نہیں بتا سکتا حنا ، کسی کو بھی نہیں بتا سکتا۔”
اس نے کنپٹیاں سہلاتے ہوۓ سوچا۔
“اگر میں نے بتا دیا تم کو یا کسی کو تو تم ہمیشہ کے لیے مجھ سے دور ہو جاؤ گی، نہ بتانا میری مجبوری ہے۔”
اس کے سر میں درد سے ٹیسیں اٹھیں۔
کوئی غزل سنا کر کیا کرنا
یوں بات بڑھا کر کیا کرنا
تم میرے تھے تم میرے ہو
دنیا کو بتا کر کیا کرنا
تم عہد نبھاؤ چاہت سے
کوئی رسم نبھا کر کیا کرنا
تم خفا بھی اچھے لگتے ہو
پھر تم کو مانا کر کیا کرنا
تیرے در پہ آ کے بیٹھے ہیں
اب گھر بھی جا کر کیا کرنا
دن یاد سے اچھا گزرے گا
پھر تم کو بھلا کر کیا کرنا







“ایسا کیا ہوا ہے جو اس کو ایکدم سے ہی اتنا تیز فیور ہو گیا، کیا ارحہ کی جدائی کی وجہ سے۔”
اس نے گھٹنوں پر سر رکھتے ہوۓ کہا۔ تبھی گیٹ کھلنے کی آواز آئی تو حنا نے سر اٹھا کر دیکھا۔
ْ”عالی کس کے ساتھ آۓ آپ؟”
وہ اس کی طرف آتی ہوئی بولی۔
“عارش مامو ۔”
وہ اسے ہگ کرتا ہوا بولا۔ عارش بھی آ گیا۔
“اسلام علیکم بھائی کیسے ہیں آپ؟”
وہ مسکراتے ہوۓ بولی۔
“الحمد للہ گڑیا ، تم سناؤ؟”
وہ نرمی سے بولا۔
“جی بلکل ٹھیک، آئیے نا اندر؟”
وہ لاؤنج کی جانب اشارہ کر کے بولی۔
“نہیں نہیں ابھی مجھے ضروری کام سے جانا ہے ، شادی کا کارڈ میں نے بھجوا دیا ہے، ضرور آنا سب پلیززززز ۔”
اس نے مسکراتے ہوۓ انکار کر کے مدعو کیا۔
“یسس شیور، خدا آپ کی قسمت بہت اچھی کرے آمین۔”
اس نے دل سے دعا دی۔
“جزاک اللہ خیر گڑیا، اوکے میں چلتا ہوں۔۔”
وہ مسکرا کر پلٹا تو سامنے زاہد صاحب تھے۔
“اررے اسلام علیکم انکل جی، کیسے ہیں آپ؟”
وہ مسکراتا ہوا ان سے بغلگیر ہوا۔
“چپ کر کے اندر آؤ، بس ایک چاۓ پی لو ساتھ۔”
وہ کہہ کر اندر بڑھ گئے۔
“ہاہاہاہاہا چلیے اب۔۔”
حنا نے ہنستے ہوۓ کہا تو وہ بھی مسکرا کر اندر بڑھ گیا۔۔









“کہہ دیں یہ جھوٹ ہے، کہہ دیں حنا تم اندھی ہو۔۔۔”
سب لاؤنج میں براجمان تھے جب حنا وہاں آ گئی۔۔
“حنا تم اندھی ہو۔”
حنان فوراً بولا تھا۔
“یہ دیکھنے بعد۔۔”
حنا نے کارڈ اسے تھمایا ۔
“حنا تم اندھی ہو۔”
وہ ایک نظر کارڈ کو دیکھ کر بولا۔
“پڑھ کر بولو۔”
حنا نے دانت پیسے۔
“اففففف حنا کیا ہے تم ہی بتا دو، یہ تو ایسے ہی کرے گا۔، بے وقت کے مذاق۔”
جویریہ بیگم نے جھنجھلا کر کہا۔
