Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaanch Ki Choriyan (Episode 31)Part1,2

Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary

“اپنا بہت خیال رکھنا،،، بہت یاد کریں گے ہم لوگ تمہیں،،، خاص طور پر اس کو۔۔۔۔”

رانیہ نے نیناں کو سینے سے لگایا۔

“یہاں آتی رہنا،،، مما کو میری کمی محسوس نہ ہو۔۔۔۔ “

اس نے رانیہ کو دیکھا۔

“یو ڈونٹ وری،،،، مگر میں بہت یاد کروں گی تجھے۔۔۔”

رانیہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

“میں بھی۔۔۔۔”

وہ اداس ہوئی۔

“چلیں۔۔۔”

عارش نے اسے دیکھا۔

“اللہ خافظ۔۔۔۔۔ “

وہ رانیہ کے گلے لگی۔

“اپنا بہت خیال رکھنا،،، آئی لو یو سو مچ ۔۔۔”

ارحہ نے نم ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھا۔

“سیم ہیئر ۔۔۔”

رانیہ نے اس کے آنسو پونچھے ۔

🌴
🌴
🌴
🌴
🌴
🌴

“خیریت سے جانا،،،، کال کرتے رہنا ہم لوگوں کو۔۔۔”

ہادی نے ان دونوں کو دیکھا جو گھومنے پھرنے کے لیے جا رہے تھے۔

“یا شیور۔۔۔۔”

حنا مسکرائی۔

“اور ایک بہت اہم بات حنان پلیز لڑتے مت رہنا۔۔”

زرنــش نے اسے دیکھا۔

“آئی تھنک یہ بات آپ کو اپنی دیورانی پلس نند کو سمجھانی چاہیے۔۔۔”

حنان شرارت سے بولا۔

“نہیں جناب میری نند بہت اچھی ہے۔۔۔”

زرنــش نے پیار سے حنا کو دیکھا۔

“یعنی میں برا ہوں۔۔۔”

حنان نے دکھ سے کہا۔

“ارے رے نہیں ۔۔۔”

زرنــش نے کہا۔

“چلو بھئی گاڑی آ گئی ہے ،،خوب گھومنا پھرنا اور پکس واٹس اپ کرنا۔۔۔۔”

جویریہ بیگم نے مسکرا کر کہا۔

“اللہ خافظ۔۔۔۔۔ “

وہ لوگ چلے گئے ۔

ایک خوشیوں بھری زندگی کا آغاز پھر اسی دوستی کے ساتھ۔ دونوں بے حد خوش تھے۔ دونوں کے قہقہے گھر میں گونجتے تو سب بے اختیار دائمی خوشیوں کی دعا مانگتے۔

🌴
🌴
🌴
🌴
🌴
🌴
🌴
🌴
🌴
🌴

چند سال بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

🌴
🌾
🌴
🌾
🌴
🌾
🌾
🌴

“کیا ہوا علیحہ؟ تم رو رہی ہو؟؟”

ارحہ نے اسے دیکھا تو فکرمندی سے بولی۔

“کچھ نہیں ۔۔۔”

وہ فوراً آنسو پونچھ کر بولی۔

“بتاؤ بھی مجھے؟”

ارحہ نے ضد کی۔

“ارحہ کتنے سالوں سے تم ،عارش بھائی اور نیناں ادھر ہو،،، مجھے عادت ہو گئی ہے تم لوگوں کی،،اس کے بعد تنزیلہ آنٹی صفدر انکل ہر سال آتے ہیں تو سچ کہوں تم سے زیادہ مجھے ویٹ ہوتا ان کا، میری زندگی آپ لوگوں کے بنا نامکمل ہے تو ایک دم سے تم لوگ ہمیشہ کے لیے واپس جا رہے ہو؟ میں کیسے رہوں گی؟؟؟؟”

وہ رونے لگی۔

“علیحہ یار مت رو،،، میں وعدہ کرتی ہوں کہ ہم لوگ ہر سال یہاں تم سے ملنے آئیں گے بلکہ تم بھی آتی رہنا۔۔۔ “

ارحہ کی بھی آنکھیں نم ہو گئیں۔

“سال میں ایک بار آنے اور روز بلکہ ہر لمحہ دیکھنے میں بہت فرق ہے،،،،تم سب تو ٹھیک بٹ میں نیناں کے بنا کیسے رہوں گی؟”

اس کی آنکھیں رو رو کر سرخ ہو چکی تھیں۔

“یار پلیززززز ،،،، تمہاری جب کہو گی نیناں سے بات کروا دوں گی ناں،،، پتہ ہے میں بہت خوش ہوں کیونکہ اتنے عرصے بعد میں پاکستان جا رہی ہوں،،،، رانیہ بہت شدت دے ویٹ کر رہی ہے،، تم اگر ایسے اداس ہو گی تو یار میں کیسے خوش رہ پاؤں گی؟”

اس نے علیحہ کی آنکھیں صاف کیں۔

“کیا ہوا علیحہ ؟”

عارش بھی آ گیا۔

“کچھ بھی نہیں بھائی۔۔۔”

وہ فوراً بولی۔

“پکا ؟؟؟”

عارش نے اسے دیکھا۔

“یس۔۔”

وہ مسکرائی۔

“چلو گڈ تو پھر کوئی دعوت بناؤ نا؟ ہم پرسوں جا رہے پاکستان یا ہم بنائیں ؟؟”

عارش مسکرا کر بولا۔

“آپ کا اور ہمارا گھر الگ تھوڑی نا ہے،،،، ویسے آپ نہ بھی کہتے میں بھی تو میں نے دعوت کرنی تھی۔ “

وہ مسکرائی۔

“دیٹس گریٹ۔۔۔”

عارش مسکرایا۔

“علیحہ آنٹی۔۔۔۔”

نیناں مسکرا کر اس کے گلے لگی۔

“آنٹی کی جان،،،، چلو چلیں۔۔۔”

وہ اسے لے گئی۔

“ہو گئی شاپنگ ؟”

عارش نے ارحہ کو دیکھا۔

“جی۔۔”

وہ مختصراً بولی۔

“اوکے ۔۔”

وہ چلا گیا۔ ارحہ نے اے دیکھا،،، ان سالوں میں عارش نے ارحہ سے کام کے علاوہ کبھی بھی بات نہیں کی تھی۔ اگر اسے محبت نہیں دی تھی تو نفرت بھی نہیں دی تھی ۔ عجیب بیگانہ سا رویہ تھا۔ علیحہ کی وجہ سے کبھی ہنس کر بول لیتا ورنہ ہمیشہ خاموش رہتا مگر نیناں میں اس کی جان بستی تھی۔ نیناں کو ایک لمحہ آنکھ سے اوجھل نہ ہونے دیتا۔ ارحہ بھی خود کو بدل چکی تھی۔ فضول بولنا ، ڈرامے دیکھنا سب چھوڑ چکی تھی۔ اس کی زندگی کا محور بس نیناں تھی۔

🌴
🌴
🌴
🌴
🌴
🌴
🌴
🌴
🌴
🌴

“حنان ۔۔۔۔”

حنا اس کے سر پر کھـڑی چلا رہی تھی۔

“کیا ہے یار؟”

حنا کسمسایا۔

“یار اٹھ جاؤ،،،، بچوں کو اسکول چھوڑ آؤ۔۔۔”

اس نے اب باقاعدہ گذارش کی۔

“تم چھوڑ آؤ نا،،، تبھی گاڑی ڈرائیو کرنا سکھائی تھی۔

“حنان پلیز اٹھو۔۔۔”

حنا نے دانت پیس کر اس کے بال کھینچے۔

“حنا ۔۔”

وہ چلایا۔

“اٹھو جلدی،،، میں ناشتہ لگا رہی ہوں۔ عالی اور فجر بھی تیار ہو چکے ہیں،،، بھابھی ہوسپٹل چلی گئی ہیں۔۔۔”

حنا نے گھورا۔

“کیا؟؟؟؟ ٹائم کیا ہوا؟ سات بج گئے؟ نالائق اٹھایا کیوں نہیں تم نے؟”

حنان بلینکٹ سائڈ پر کرتا ہوا اٹھا۔

“توبہ ہے ویسے حنان ،،، کب کی اٹھا رہی ہوں۔۔۔”

حنا دانت پیستی چلی گئی۔

“گڈ مورننگ میرے شیرو۔۔۔”

حنان نے سب کو باری باری پیار کیا۔

“میری جان کہاں ہے؟”

اس نے حبہ کا پوچھا۔

“وہ بہت مشکل سے سوئی ہے تائی جان پاس ہے۔۔”

حنا نے بچوں کو لنچ باکس پکڑاتے ہوۓ بتایا۔

“میں مل کر آیا۔۔”

وہ جانے لگا۔

“نہیں حنان ،،،، پلیز نہیں وہ اٹھ گئی تو سوۓ گی نہیں۔”

حنا فوراً آگے آئی۔

“تو تمہارا اور کون سا کام ہے؟ یو نو ویل نا کہ میں اس کو دیکھے بنا نہیں جاؤں گا۔۔۔”

وہ حنا کو سائڈ پر کرتا چلا گیا۔

“حنان ۔۔۔”

حنا نے دانت پیسے۔

“حنان کی جان۔۔۔”

حنان نے ہمیشہ محبت والے انداز میں کہا۔

“منان بیٹا آپ کی نوٹ بک یہی رہ گئی ہے۔۔”

حنا نے ٹیبل کی طرف اشارہ کیا۔

“اوو مما ،،، میں بھول گیا۔”

وہ اٹھانے لگا۔ حنا نے مسکرا کر دیکھا۔ زندگی کتنی مکمل ہو گئی۔ منان اور حبہ دو بچے تھے حنا اور حنان کے۔

جبکہ فجر اور عالیان ہادی کے بچے تھے۔

“چلو آ جاؤ چلتے ہیں ان کو ڈراپ کر کے ہم گھوم کر آئیں گے۔۔۔”

حنان نے اس کا ہاتھ تھاما۔

“نہیں بہت شکریہ،،، آفس جاؤ تم۔۔۔ “

حنا باہر آتے ہوۓ بولی۔

“نہیں ناں،،،، مزہ آۓ گا،،، وعدہ ساڑھے نو بجے تک واپس آ جائیں گے۔۔۔”

حنان نے التجا کی۔

“اچھا میں بال سلجھا کر آئی۔۔۔”

وہ جانے لگی تو حنان نے بازو تھام لیا۔

“کھلی زلفیں ہیں جو پسند مجھے تیری

پھر کیوں تم پونیوں پر خرچہ کرتی ہو۔”

وہ محبت سے دیکھتے ہوۓ گنگنایا۔

“حنان بچے سامنے ہیں۔”

حنا بلش ہوتی بولی۔

“سو واٹ؟ اچھا ہے ناں کہ ہم سے محبت سیکھ رہے۔۔۔”

وہ ہنسا۔

“اچھا پانچ منٹ تو دو،،، لوگ کیا کہیں گے.؟؟؟”

حنا نے گذارش کی۔

“تم مجھے اسی حلیے میں پسند ہو بلکہ بے حد پسند ہو،،، سو شرافت سے چلو ورنہ میں اٹھا لوں گا۔۔۔”

حنان نے گھورا۔

“آپ دونوں کے رومینس میں ہمارا اسکول بند ہو جاۓ گا۔۔۔”

عالی نے بیزاری سے کہا ۔

“چلو بدتمیز ۔۔”

حنان ہنستا ہوا بولا۔

“آئی لو یو ۔۔۔۔”

حنان مسکرا کر بولا۔

“چلو۔۔۔”

وہ دلی خوشی چھپا کر بولی،،، حنان کی محبت ہر دن ہر لمحہ بڑھتی ہی گئی تھی۔ اس کی خاطر وہ ہر وقت کچھ بھی کرنے کو تیار رہتا تھا۔ اسے ستانا تنگ کرنا منانا اس کا یہی کام تھا۔۔حنا کو کبھی کبھی یہ سب خواب سا لگتا تھا مگر یہ خواب نہیں یہ زندگی کی خوبصورت ترین حقیقت تھی جس نے دونوں کو جوڑ رکھا تھا۔۔۔

اول میں زمانے میں نہیں کوئی آپ سا

گر ہو بھی تو ہم کونسا تسلیم کریں گے

😍
🌴
🌴
🌾
🌾
🌾
🌴
🌴
🌴

“یا اللہ تیرا شکر ہے۔۔”

ارحہ پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی خوشی سے بولی۔ خوشی اس کے انگ انگ سے چھلک رہی تھی۔۔

“میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ہم واپس آئیں گے،، میں تو سمجھی تھی کہ شاید اب کبھی پاکستان کی ٹھنڈی ہوا نصیب نہ ہو گی۔۔۔ “

وہ خود سے مخاطب تھی۔

“ماما ہم کہاں ہیں اب؟”

نیناں نے اسے خوش دیکھا۔

“ہم پاکستان میں ہیں،،، یہاں ہمارے اپنے ہیں،، اب نانو گھر جائیں گے پھر رانیہ آنٹی کے پاس۔۔۔ “

وہ مسکرا کر بولی۔

“آپ ہیپی ہیں نا؟”

وہ ماں کی خوشی پہچان گئی تھی۔

“ہاں میری جان،،،، آج آپ کی مما بہت خوش ہیں اتنی کہ بتا نہیں سکتی میں آپ کو۔۔۔۔”

وہ اسے بوسہ دیتے ہوۓ بولی۔

“اسلام علیکم مامو جان۔”

عارش صفدر صاحب کے گلے ملا۔

“نانا ابو۔”

نیناں بھاگی۔

🌴
🌴
🌴
🌴
🌴

“اففففف مجھے تو ابھی تک لگ رہا ہے کہ خواب ہے یہ۔۔”

رانیہ خوشی سے چلائی۔:

“آہ،،،، بدتمیز ۔۔”

اس نے چٹکی کاٹی تو رانیہ نے تھپڑ مارا۔

“ویسے تم اور پیاری ہو گئی ہو ماشأاﷲ ۔۔۔”

رانیہ مسکراتے ہوۓ بولی۔

“مجھے چھوڑو،،،، بتاؤ تم حمزہ کو کیوں نہیں لائی ساتھ نہ ہی بلال بھائی کو۔۔۔”

ارحہ نے گھورا۔

“کیوں لاؤں؟؟؟تم آئی تھی ہماری شادی پر۔۔۔”

رانیہ کو اپنا دکھ یاد آیا۔

“میں کیسے بتاؤں یار کہ کیوں نہ آئی میں ؟؟”

اس نے دکھ سے سوچا۔

“تم سے زیادہ مجھے دکھ ہے تمہاری شادی نہ اٹینڈ کرنے کا،،،، اب معاف بھی کر دو۔۔۔”

اس نے منہ بنایا۔

“اگر تم لوگ میرے گھر آؤ گے تو۔۔”

رانیہ نے ابرو اچکاۓ۔۔

“وہ تو افکورس آئیں گے۔۔۔”

وہ مسکرائی۔

“اچھا میں چلتی ہوں،،،، کچھ کام ہے شام میں آؤں گی۔۔۔ “

رانیہ مسکراتی ہوئی چلی گئی۔

“ارحہ ۔۔”

اس کے جاتے ہی عارش آیا۔

“جی۔۔؟”

ارحہ نے اسے دیکھا۔

“میں نے بوا کو کال کر کے واپس بلوا لیا ہے گاؤں سے، کل چلے جائیں گے ہم اپنے گھر۔۔۔”

اس نے بتایا۔

“جی ٹھیک ہے۔۔۔”

وہ سر ہلا کر بولی۔

“اوکے۔”

وہ جانے لگا۔

“نیناں کدھر ہے؟”

اس نے پوچھا۔

“نیناں اور مامی تو علیحہ سے بات کر رہے ہیں۔۔”

عارش نے بتایا ۔

“ارحہ ۔۔”

ارحہ کو چکر آیا وہ گرنے لگا تو عارش نے فوراً آگے بڑھ کر اسے تھاما۔ اس کے لمس پر ارحہ نے اسے دیکھا۔

“کیا ہوا؟ طبیعت تو ٹھیک ہے تمہاری؟؟”

عارش نے فکرمندی سے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔

“جی،،، شاید تھکن کی وجہ سے۔۔”

اس نے کنپٹیاں سہلاتے ہوۓ کہا۔

“تو تم جب کی آئی ہو کون سا ریسٹ کیا ہے؟؟؟ اس وقت کی باتیں کر رہی ہو،، تم ریسٹ کرو میں شبانہ کو کہہ کر پین کلر بھجواتا ہوں۔۔۔”

عارش نے اسے بیڈ پر بٹھایا۔

“تھینکس۔۔”

اس کی اتنی توجہ پر اس کی آنکھیں بھر آئیں۔

“تم ریسٹ کرو۔۔”

وہ چلا گیا۔

“میرا دل آج بھی تمہارے لیے دھڑکتا ہے ارحہ ،، تمہاری ذرا سی تکلیف پر آج بھی میرے دل کی دھڑکن بےترتیب ہو جاتی ہے۔۔”

عارش نے گہرا سانس لیا۔۔

ہم سے جدا ہونے کا تصور بھی نا کرنا

ہم ایسے ستم گر ہیں کے منایا نہیں کرتے

جس در پے گئے ہیں اک بار گئے ہیں

پھر لوٹ کے اس در پے جایا نہیں کرتے

آنکھوں سے پلائو گے تو آجائے گے ہم

پیمانوں سے تو پینے ہم جایا نہیں کرتے

اپنا تو ایک ہی اصول ہے۔۔۔دلبر۔۔۔۔

غور سے سن لو

خود ہی تڑپ لیتے ہیں تڑپایا نہیں کرتے

part 2

“میرے خیال سے ہمیں نیناں کا ایڈمیشن اسی اسکول کروانا چاہیے جہاں زرنــش آپی کے بچوں کا ہوا ہے۔””

ارحہ نے چاۓ کا کپ آگے رکھتے ہوۓ اسے دیکھا۔

“دیکھتا ہوں۔۔۔”

عارش نے مختصراً کہا۔

“عارش وہ شہر کا بہترین اسکول ہو گا یقیناً ۔”

ارحہ نے اسے قائل کرنا چاہا۔۔

“”وہاں حنان کے بچے پڑھتے ہیں اس لیے؟”

عارش کی زبان پھسلی،،، اتنے سالوں میں یہ پہلی بار ہوا تھا کہ حنان کے حوالے سے طعنہ مارا تھا۔ ارحہ کا چہرہ مارے ضبط کے سرخ ہو گیا تھا۔۔۔

“میں گیا تھا آج اسی اسکول کو وزٹ کرنے ، وہاں حنان بھی آیا تھا اپنے بچوں کو لینے شاید، سو میرا اب دل نہیں رہا کہ نیناں کو وہاں ایڈمیشن دلاؤں کیونکہ میں حنان کا سامنا کبھی نہیں کرنا چاہتا۔۔”

عارش نے مزید کہا۔

“جیسے آپ کی مرضی۔۔۔”

ارحہ نے بنا دیکھے کہا اور اٹھ گئی۔

“تمہیں دکھ ہوا کہ میں نے حنان کے بارے میں کہا؟”

اس نے کہا تو ارحہ کے قدم رکے۔

“وہ میرا کچھ نہیں لگتا کہ مجھے دکھ ہو۔۔”

ارحہ کا لہجہ غصے سے بھر گیا۔

“ارحہ مجھے نفرت ہے حنان سے۔۔۔۔”

وہ سخت لہجے میں بولا ،، ارحہ خاموش رہی۔

“وہ میری خوشیوں کا قاتل ہے ،،، بلکہ تم بھی مجرم ہو۔۔ “

اس گھر واپس آ کر عارش کو سب یاد آیا تھا۔

“آپ کی خوشیوں کا قاتل اور مجرم کون ہے؟؟؟ یہ وقت بتاۓ گا آپ کو۔۔۔”

ارحہ نے آنسو گلے میں اتارے۔

“جسٹ شٹ اپ،،، تم اس کی حمایت کر رہی ہو۔۔۔”

وہ غصے سے بولا۔

“عارش رشتے شیشے کی طرح نازک ہوتے ہیں جو ذرا سی بے احتیاطی سے ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں ،،، مجھے ڈر ہے کہ آپ کو جب رئیلائز ہو گا کہیں دیر نہ ہو چکی ہو۔۔”

وہ دکھ سے بولی۔

“تم مجھے بتاؤ گی رشتے نبھانا؟؟ ارحہ تم؟؟”

وہ استہزایہ بولا۔

“نہیں وقت۔۔۔۔”

وہ کہہ کر چلی گئی، عارش مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا۔

“بابا۔۔۔”

نیناں تھوڑی دیر بعد آئی۔

“جی میری جان۔۔”

وہ مسکرایا تھا۔

مما کو کیا ہوا ہے؟”

وہ عارش کو دیکھتے ہوۓ بولی۔

“کیا ہوا ہے؟”

اس نے نا سمجھی سے دیکھا۔

“وہ رو رہی ہیں۔۔”

نیناں نے کہا تو عارش کو مزید غصہ آیا۔

“کچھ نہیں ہوا،،، ان کو علیحہ آنٹی یاد آ رہی ہیں۔۔”

اس نے نیناں کو ساتھ لگایا۔

“آئم آلسو مسنگ ہر۔۔۔”

نیناں اداسی سے بولی۔

“چلو میں شام میں آپ کی ان سے بات کروا دوں گا،،، آپ بوا جی کو کہیے کہ ایک کپ کوفی بھجوا دیں۔۔۔”

اس نے مسکرا کر کہا تو وہ سر ہلاتی چلی گئی۔

“نیناں عام بچوں کی طرح نہیں ہے،،، بچے تو اس عمر میں شوخ شرارتی ہوتے، ہزاروں فرمائشیں کرتے ہیں جبکہ یہ ایسی نہیں ہے جو لا دو چپ چاپ رکھ لیتی ہے،،، یہ سب ارحہ کی وجہ سے ہوا ہے۔۔۔ “

اس نے دکھ سے سوچا۔۔

🌴
🌴
🌴
🌴
🌴
🌴
🌴
🌴

“مما آپ کو پتہ ہے کل میری ٹیچر نے بلایا ہے آپ کو اسکول۔۔”

منان نے ہوم ورک کرتے ہوۓ اسے دیکھا۔

“کیوں؟”

حنا نے اسے دیکھا۔

“پتہ نہیں ۔۔۔”

اس نے کندھے اچکاۓ۔

“”آپ نے کوئی شرارت تو نہیں کی ؟”

حنا نے اسے دیکھا۔

“کی تھی۔”

اس نے سر ہلایا۔

“کتنی غلط بات ہے؟ کب سدھرو گے ۔۔۔۔”

حنا نے گھورا۔

“تو اگر یہی سوال میں آپ سے پوچھوں ؟”

منان معصومیت سے بولا۔

“مطلب؟”

حنا نے آنکھیں دکھائیں۔

“آپ اور بابا بھی تو ہر وقت شرارتیں کرتے رہتے ہیں۔”

اس نے یاد دلایا۔

“منان ۔۔”

حنان نے دانت پیسے۔

“جی منان کی جان۔۔۔”

وہ حنان کے انداز میں بولا۔

“نوٹی بواۓ۔”

حنا نے اسے گلے سے لگایا۔

“لائک یو۔۔۔”

وہ ہنسا۔

“یس۔۔۔”

وہ بھی ہنس پڑی۔

“ملکہ عالیہ خادم آپ کا انتظار کر رہا ہے،،، سینڈوچ بنا کر دو اور پلیززززز جلدی،،، مجھے بھوک لگی ہے۔۔۔ “

حنا صوفے پر دھپ سے بیٹھتے ہوۓ بولا۔

“تم چھوٹے بچے ہو جو سینڈوچ سے بھوک مٹے گی تمہاری ؟چپاتی اور سالن پڑا ہے ،،، کھا لو۔۔۔”

حنا نے منان کی نوٹ بک اٹھاتے ہوۓ گھورا۔

“دل کر رہا ہے میرا اور تم جانتی ہو کہ دل تو بچہ ہے۔۔۔”

حنان نے نوٹ بک اس کے ساتھ سے لی۔

“حنان میرا دل نہیں کر رہا نا یار۔۔۔”

اس نے منہ بنایا۔

“لیکن میرا تو کر رہا ہے نا یار۔۔۔”

وہ اسی کی طرح منہ بنا کر بولا۔

“بہت ضدی ہو تم۔۔۔”

وہ اٹھی۔

“ایک منٹ رکو ،،، یہ کلائی سونی کیوں ہے ؟؟؟؟ ۔۔۔”

حنان نے پوچھا۔

“یہ چوڑیاں اتاری تھی ،،لوشن لگانا تھا۔۔”

اس نے بتایا۔

“اچھا رکنا ،،، میں آیا۔۔۔”

وہ ساتھ والے روم میں گیا جہاں بس حنا کی چوڑیاں پڑی تھیں۔وہ باہر آیا تو اس کے ہاتھ میں میرون کلر کی چوڑیاں تھی وہ اسے پہنانے لگا۔ حنا مسکرائی۔

“ایک ہاتھ خالی اچھا نہیں لگتا۔۔۔”

وہ محبت سے چوڑیوں پر لب رکھ ہر بولا۔

“حنان ۔۔۔”

اس نے گھور کر منان کی طرف دھیان دلایا مگر وہ نوٹ بک پر کچھ ڈرا کرنے میں بزی تھا۔

“آفیشل بیوی ہو تم میری۔۔۔”

حنان نے کندھے اچکاۓ ۔

“آفیشل شرم بھی لے لو تھوڑی۔۔”

وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر پیچھے ہوئی۔

“تم ان ڈائریکٹلی مجھے بے شرم کہہ رہی ہو؟”

حنان نے صدمے سے کہا۔

“نہیں میں تو ڈائریکٹ بول رہی ، تم سمجھو تو۔۔۔”

وہ ہنستی ہوئی چلی گئی۔

“حنا ۔۔۔”

وہ پیچھے آیا۔

“پیچھے مت آنا ورنہ یاد رکھنا میں سینڈوچ نہیں بناؤں گی قسم سے،،، منان کو ہوم ورک کرواؤ شاباش۔۔۔”

حنا سیڑھیاں پھلانگتی ہوئی چلی گئی۔

“حنا آئی لو یو۔۔۔”

وہ اونچی آواز میں بولا۔

“آئی ہیٹ یو۔۔۔”

حنا نے دانت پیسے۔

“یپ نہیں سدھرے گا۔۔۔”

زرنــش بھابھی کو دیکھ کر وہ جھینپ گئی۔

“جب سب بگڑے پن کو چاہتے تو وہ کیسے سدھر سکتا ہے۔۔۔”

وہ ہنستے ہوۓ بولیں۔

“یہ تو ہے،،، حبہ کدھر ہے؟”

حنا نے پوچھا۔

“عالی کے ساتھ کھیل رہی ہے۔۔۔”

وہ مسکرا کر بولیں۔

“اچھا ،، فجر آ جاؤ بیٹا۔۔۔”

فجر کو کچن کے ڈور کے پاس کھڑا دیکھ کر وہ بولی۔

“محترمہ کو سینڈوچ کھانے۔۔”

زرنــش نے منہ بنایا۔

“ڈونٹ وری میں بنا دیتی ہوں،،، ویسے بھی حنان کے لیے بنانے آئی تھی۔”

اس نے مسکرا کر بتایا۔

“اوکے تھینکس یار،،،، میں عالی کو ہوم ورک کروا لوں۔”

وہ مسکرائی۔

“اوپر بھیج دیں،،، حنان کروا رہا ہے منان کو۔۔۔”

حنا نے مسکرا کر اسے پیشکش کی۔

“حنا بہت بہت شکریہ یارا،،، میں تھک گئی تھی بہت،۔۔”

زرنــش ایک دم خوش ہوئی۔

“کوئی بات نہیں ،،، آپ ریسٹ کر لیں۔۔۔”

حنا مسکرائی تو وہ چلی گئی۔

🌴
🌴
🌴
🌴
🌴

ارحہ روم میں آئی تو عارش بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا ،،، سامنے لیپ ٹاپ پڑا ہوا تھا۔ ارحہ کو بنا دیکھے بزی رہا۔

ارحہ اس دن کی اس سے ناراض تھی۔

“بوا جی ایک کپ کوفی دے جائیں پلیززززز ۔”

اس نے آواز دی۔

“کہاں جا رہی ہو؟”

عارش نے اسے اٹھتا دیکھ کر پوچھا۔

“کام ہے کچھ۔”

عجیب روکھا سا رویہ تھا۔ جو اتنے سالوں میں پہلی بار عارش کو لگا تھا مگر وہ نہیں جانتا تھا طعنہ بھی تو پہلی بار مارا تھا۔ عارش تیزی سے اٹھ کر اس کی جانب بڑھا اور اس کی کلائی تھام کر اپنی جانب کھینچا۔

“تم سمجھتی کیا ہو خود کو؟؟؟؟”

ارحہ کا سر اس کے سینے سے ٹکرایا تھا۔

“کیا مطلب؟؟؟؟”

ارحہ نے نا سمجھی سے پوچھا۔

“مجھے اٹیٹیوڈ دکھا رہی ہو،،، کیوں؟؟”

اس کی آنکھوں سے انگارے برس رہے تھے۔

“اتنے سال آپ کا برداشت بھی تو کیا اٹیٹیوڈ ،،، کچھ کہا؟ آج ذرا سا دکھایا تو آپ کو آگ لگ گئی۔۔۔”

ارحہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

“جسٹ شٹ اپ ارحہ ۔۔۔”

وہ سرخ ہوتی آنکھوں سے بولا تھا۔

“میرا بازو چھوڑئیے،،، پلیززززز ۔۔”

اس کی آنکھیں بھر آئیں۔

“ارحہ تمہاری وجہ سے نیناں ایسی ہوئی ہے۔۔”

عارش کی آنکھوں میں دکھ نمایا تھا۔

“کیا مطلب؟ کیسی ؟”

وہ الجھی۔

“وہ بہت کم گو اور سنجیدہ ہے، جب کہ اس کی ایج کی لڑکیاں ایسی نہیں ہوتیں۔۔”

وہ اس کا بازو چھوڑ کر صوفے پر بیٹھ گیا، پہلے والی سختی کا دور دور تک شائبہ نہ تھا۔

“وہ بہت جلد میچور اور عقلمند ہو جاۓ گی،،، وہ بہت گہری باتیں کرتی ہے کبھی کبھی میں اور علیحہ بھی دنگ رہ جاتی تھیں۔۔”

ارحہ نے دکھ سے کہا۔

“مجھے یہی ڈر ہے کہ اگر وہ جلدی میچور ہو جاۓ گی تو یہ ٹھیک نہیں ہے،،، جب بندہ میچور ہوتا ہے تو فکریں کرتا ہے،،،،میں چاہتا ہوں کہ وہ ساری زندگی بے فکر رہے۔”

عارش کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی آئی۔

“وہ سمجھدار ہے بچپن سے ہی،،، یو ڈونٹ وری وہ ہنسنا کھیلنا نہیں بولے گی بلکہ وہ ان لوگوں میں سے ہو گی جو لوجیکل مذاق کرتے ہیں۔۔۔”

ارحہ نے اسے تسلی دی۔

“میں نے تو اسے اس دنیا میں سب سے زیادہ پیار دیا ہے ارحہ تو پھر ایسا کیوں ہوا؟”

وہ اس کے معاملے میں ایکسٹرا پوزیسسو تھا۔

” یہ سب پیار کی کمی نہیں بلکہ بٹے ہوۓ پیار کی وجہ سے ہوا ہے،،، ہم دونوں نے اسے پیار تو حد سے زیادہ دیا مگر اکٹھے بہت کم۔۔۔۔”

ارحہ کہہ کر چلی گئی جب کہ عارش پر سوچ تھا۔

“ایک بٹا ہوا انسان بٹا ہوا ہی پیار دے گا ناں۔۔۔”

عارش نے دکھ سے سوچا۔

🌴
🌴
🌴
🌴
🌴
🌴
🌴
🌴
🌴
🌴
🌴

“ماما کہاں جا رہے آپ لوگ؟”

حنا نے ان لوگوں کو دیکھا۔

“ہم لوگ تمہاری پھوپھو کے گھر،،، سوچا مل آئیں۔۔”

انہوں نے مسکرا کر کہا۔

“مطلب حد ہے،،، میں گھر اکیلی رہوں۔۔۔”

حنا کو تاؤ آیا۔

“تمہیں لے جاتے مگر واپسی پر بچوں کو بھی لانا ہے۔۔۔”

فرح بیگم نے اسے پیار سے دیکھا۔

“نہیں آپ حبہ کو نہیں لے کر جائیں گے۔۔”۔

اس نے فوراً حبہ کو اٹھا لیا۔

“ارے رے گھر تنگ کرے گی نا تمہیں۔۔”

جویریہ بیگم نے اسے کہا۔

“نہیں کوئی تنگ نہیں کرے گی،،، میری بیٹی ہے میں سنبھال لوں گی، ماما کی جان ماما پاس رہے گی۔۔۔”

وہ حبہ کو بوسہ دیتی اندر چلی گئی۔

“لگتا نہیں کہ یہ چند سال پہلے والی حنا ہے جو منان کے رونے پر خود بھی رو پڑتی تھی۔۔۔”

فرح بیگم ہنستے ہوۓ باہر نکلیں۔

“اور کیا تو منان سے زیادہ ہمیں حنا نے تنگ کیا۔۔”

جویریہ بیگم بھی ہنس پڑیں۔

“ماما کی شہزادی نے کیا کھانا ہے؟ نوڈلز بناؤں ؟”

حنا نے اسے شیـلف پر بٹھاتے ہوۓ پوچھا تو حبہ نے سر

ہلایا۔ وہ حنا کی ہی کاپی تھی،،، اسی کی طرح چوڑیوں کی دیوانی تھی اور اسے بھی چوڑیوں کا عادی حنان نے ہی بنایا تھا۔ وہ جہاں بھی جاتا دونوں کے لیے بہت سی چوڑیاں لاتا۔ اسے نوڈلزز کھلا کر حنا نے سلا دیا اور اپنے لیے پاستہ بنانے لگی تبھی گاڑی کی آواز آئی۔

“لگتا حنان ہے۔۔”

اس نے ونڈو سے باہر جھانکا۔

“آپ کا دھیان کدھر ہے

آپ کا مــیاں ادھر ہے”

حنان نے اس کے سر پر ہلکی سی چپت ماری۔

“تم کیوں آۓ؟”

حنا نے پلٹ کر ابرو اچکاۓ ۔

“میں نے سوچا میری جان گھر اکیلی بور ہو رہی ہو گی تو کیوں نا میں مل آؤں جا کر ۔۔”

وہ محبت سے بولا۔

“آپ نے خوامخواه تکلیف کیا؟ میں تو بلکل بور نہیں ہو رہی،،، میں اور میری بیٹی بہت ایک دوسرے کے لیے۔۔۔”

وہ شرارت سے بولی۔

“تم مجھ سے زیادہ چاہتی ہو نا حبہ اور منان کو۔”

حنان نے اسے دیکھا۔

“یہی سوال میں تم سے پوچھوں تو؟”

حنا نے ابرو اچکاۓ ۔

“ایک جتنا،،، یعنی جتنی تم پیاری اتنے بچے۔۔۔”

وہ مسکرایا۔

“جھوٹ،،،، یہ فطری ہے کہ باپ اپنی بیٹی کو سب سے زیادہ چاہتا ہے ،،، تم حبہ سے زیادہ کسی کو نہیں چاہتے۔۔”

اس نے مسکراتے ہوۓ کہا۔

“سہی بولا کہ حبہ کو تم سے زیادہ چاہتا ہوں ،، ویسے تم جیلس نہیں ہوتی کیا؟”

حنان نے استفسار کیا۔

“استغفراللہ،،، میں اپنی بیٹی سے جیلس ہوں گی؟؟”

حنا نے گھورا تو وہ ہنس پڑا۔۔

“کیا کھاؤ گے۔؟”

حنا نے پوچھا۔

“پاستہ۔۔۔”

وہ ہنسا تھا۔

“لو۔۔۔”

حنا نے گھورا۔

“شکریہ،، جان من۔”

وہ مسکرایا ۔

“حنان مجھے یاد آیا یار اسکول جانا منان کی ٹیچر نے بلایا ہے،،،، ضرور جانا۔۔۔۔”

حنا نے پاستہ پلیٹ میں نکالتے ہوۓ کہا۔

“اوکے۔۔۔”

اس نے سر ہلایا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *