Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary NovelR50591 Kaanch Ki Choriyan (Episode 21,22)
Rate this Novel
Kaanch Ki Choriyan (Episode 21,22)
Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary
“حنان پڑھ کے بتاؤ ان کو۔۔”
وہ سر ہاتھوں پر رکھ کر بیٹھ گئی۔
“کیـــــااااااا؟”
حنان چلایا۔
“کیا ہے اس کارڈ میں جو تم لوگ یوں ری ایکٹ کر رہے ہو، بتاؤ حنان ۔؟”
شاہد صاحب نے دونوں کو دیکھا۔
“خود ہی دیکھ لیں۔”
حنان نے ان کو کارڈ تھمایا۔
“اووو ہووو۔”
شاہد صاحب نے نفی میں سر ہلایا۔
“اففففف ہے کیا اس کارڈ میں ؟؟؟؟جو سب شاک میں جا رہے ہو ؟”
فرح بیگم نے جھنجھلاتے ہوۓ کارڈ پکڑا۔
“اووو شِٹ۔۔”
ان کو بھی شاک لگا۔
“کوئی بتاۓ گا ہمیں ؟ آخر کیا ہے کارڈ میں ؟”
جویریہ بیگم نے غصے سے کہا۔
“عارش کی شادی کے فنکشنز ایگزیکٹ ان دنوں میں ہیں ، جن میں اسریٰ کے ہیں۔”
فرح بیگم نے تاسف سے کہا۔
“کیا؟؟ اووو ہوو یہ تو غلط ہو گیا دونوں شادیاں گھر کی ہیں، دونوں نہیں چھوڑ سکتے ، عارش تو اتنے مان سے کہہ کر گیا ہے،، افف یہ تو گڑبڑ ہو گئی۔۔”
وہ بھی دکھ سے بولیں۔
“حنان تم بتا نہیں سکتے تھے عارش کو۔”
زاہد صاحب نے اسے کو گھورا تھا۔
“بابا میں کیسے منع کرتا، مجھے تو کیـا اسے بھی نہیں تھا پتہ کہ یہ دن طے ہوۓ ہی ،،،،،،،،،یہ دن اس کی نانو اور مامو نے ہی ڈیسائیڈ کرنا تھے نا سب۔”
وہ بھی منہ لٹکا کر بیٹھ گیا۔
“تو اب کیا ہو گا؟ ہم تو عارش بھائی کی منگنی پر بھی نہیں گئے، شادی پر بھی نہ گئے تو؟؟؟ اسریٰ کی شادی ہم کسی حال میں نہیں چھوڑ سکتے سب پلاننگ کر چکے ہیں،،، کیا ہو گا؟؟؟”
حنا روہانسی ہوتی ہوئی بولی۔
“میں کچھ سوچتا ہوں فکر نہ کرو تم لوگ ۔۔”
زاہد صاحب نے انہیں تسلی دی۔
“بابا اسریٰ کی شادی دو دن آگے نہیں ہو سکتی ؟؟؟”
اس نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا۔
“نہیں بیٹا، اب تو سب کے گھر کارڈ بھی دے چکے۔”
انہوں نے نفی میں سر ہلا کر کہا۔
“تو ہم ایسا کرتے ہیں بھابھی ادھر ہی ہیں تو ان کو کہتے ہیں کہ عارش بھئی کو بولیے کہ شادی ایک دن آگے کر لیں۔”
حنا نے آئیڈیا دیا۔
“نہیں یـار ان کے بھی کارڈ بٹ چکے ہیں۔۔”
حنان نے بجھے دل کے ساتھ کہا۔
“اچھــا میں سوچ رہا ہوں کہ زرنش کا چلو بھائیوں جیسا ہے عارش تو وہ اسریٰ کی شادی پر تھوڑی دیر کیلیے آ جاۓ گی اور ہم لوگ بھی تھوڑی دیر ہر فنکشن میں حاضری لگوا آئیں گے جب کہ حنان اور حنا تھوڑی زیادہ دیر رہ لیں گے، جب عفت کے گھر رسمیں ہوں گی تو یہاں آ جائیں گے ،،، کیا خیال ہے ؟؟؟”
شاہد صاحب نے سب نفوس کو دیکھا۔
“آخری حل بھی یہی ہے۔”
جویریہ بیگم نے اتفاق کیا تو سب نے تائید میں سر ہلایا۔
“کیا کیا سوچا تھا اور یہ ہو گیا؟”
حنا نے منہ لٹکایا۔
“بیٹا اللہ تعالی کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے۔”
فرح بیگم نے مسکرا کر تسلی دی۔










اسریٰ مایوں بیٹھ گئی تو حنان لوگ زیادہ وقت ادھر گزارنے لگے تھے جب کہ دوسری جانب ارحہ بھی مایوں بیٹھ گئی۔ مایوں کے دن پلک جھپکتے گزر گئے۔
“حنا کی بچی، جلدی کرو یار۔۔”
حنان نے اسے گھورا جو دعا کا ہیئر اسٹائل بنا رہی تھی۔
“دو منٹ صبر نہیں ہے تم میں۔”
حنا نے باہر آتے ہوۓ گھورا۔
” نہیں ہے، عارش لوگ جا چکے ہوں گے، بلہ اس کا نکـاح بھی ہو چکا ہونا،،، یار جلدی چلو۔”
وہ کار اسٹارٹ کرتے ہوۓ بولا، آدھے گھنٹے کے اندر وہ لوگ عارش کے گھر پہنچ گیے تھے۔
“بہت پیــارے لگ رہے ہو ماشأاﷲ ۔ــ”
زرنش نے مسکرا کر اسے دیکھا۔
“تھینکس آلوٹ ڈئیر، میں نانو سے مل کر آیا۔”
وہ باہـر آ گیـا۔
“ماشأاﷲ میــرا بیٹا بہت پیــارا لگ رہا ہے۔”
نانو نے اس کے ماتھے پر بوســـہ دے کـر اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لے بھیـگـی آواز میں کہا۔
“جانتا ہوں ، آپ کو مما یاد آ رہی ہیں، مجھے بھی بہت یـاد آۓ آج دونوں، بہت زیادہ مگر نانو اداس ہو کر ان کو دکھ نہیں دینا چاہتا تھا، اس لیے آپ بھی مسکرا دیں۔”
وہ ماحول کے تناؤ کو دور کرنے کی کوشش کرنے لگا۔
“خوش رہو بیٹا، اب ڈرائیور کو بولو مجھے چھوڑ آۓ ارحہ میرا انتظار کر رہی ہو گی۔”
نانو اسے بوسہ دے کر چلی گئیں۔
“ماشأاﷲ بہت بہت پیاری لگ رہی ہو۔”
زرنش نے مسکرا کر حنا کو دیکھا ، جو ملٹی کلر کے فراک میں ہلکے سے میک اپ کے ساتھ انتہائی پیاری لگ رہی تھی۔ کتنی ہی بے اختیار نظریں اس کی طرف اٹھ رہی تھیں۔ جس پر حنان کو خاصا کو غصہ بھی آ رہا تھا۔
“تھینک یو سو مچ بھابھی۔”
وہ محبت سے بولی۔
“آج تو میرے یار کی شادی ہے، کنگریجولیشنز برو۔”
حنان خوشی سے اس سے بغلگیر ہوا۔
“تھینک یو یار۔”
وہ بھی مسکراتے ہوۓ بولا۔ حنا نے بھی مبارک دی۔ اس کے بعد وہ لوگ ارحہ کے گھر آ گئے، لان وسیع تھا اس لیے لان میں ہی سارا ارینج منٹ ہوا تھا۔ گھر روشنیوں سے جگمگا رہا تھا ۔سب نے شاندار ویلکم کیا تھا ۔
تلاش مجھ کو نہ کر……….دشت ویران میں ![]()
![]()
نگاہ دل سے ذرا دیکھ……….پل پل تیرے پاس ہو






ارحہ پیلے رنگ کے ڈریس میں پھولوں کے زیورات لے ساتھ بےحد پیاری لگ رہی تھی۔ آج اس کا نکاح بھی تھا۔
” میری بیٹی تمہاری زندگی ان پھولوں کی طرح مہکتی رہے، سدا سکھی رہو، کوئی غم پاس نہ بھٹکے۔”
تنزیلہ بیگم نے اس کا ماتھا چوما اور چلی گئیں۔۔
“بہت پیاری لگ رہی ہو یار، اللہ پاک قسمت بھی اچھی کرے، میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہے آج۔”
رانیہ محبت سے اس کا گال چوم کر بولی۔
“یار مجھے بہت گھبراہٹ ہو رہی ہے۔”
ارحہ نے ہاتھ مسلتے ہوۓ کہا۔
“گھبراہٹ کیوں؟ کچھ نہیں ہوتا یار ، بی کونفیڈنٹ ۔۔”
رانیہ نے اس کا ہاتھ دبا کر کہا۔
“صرف چند لمحوں بعد میری زندگی بدل جاۓ گی۔”
وہ آنسو پیتے ہوۓ بولی۔
“ارحہ کوئی بھی اداسی کا منظر نہ سوچنا یار، یہ ہر لڑکی کی زندگی کا خواب ہوتا ہے یار، تھنک پوزیٹیو ۔۔”
وہ مسکراتے ہوۓ سمجھا رہی تھی تب ہی زرنش آ گئی۔
“ماشأاﷲ بہت بہت پیاری لگ رہی ہیں بھابھی صاحبہ۔”
زرنش بھی محبت سے اسے بوسہ دے کر بولی۔
“شکریہ۔”
وہ بلش کر گئی۔
” وا بھئی ابھی جیجو آۓ نہیں اور بلشنگ اسٹارٹ۔”
رانیہ شرارت سے بولی۔
“چلو اس کو گھونگھٹ پہناؤ ، نکاح ہونے لگا ہے اس کا ۔”
زرنش نے بڑا سا دوپٹہ دیا تو رانیہ نے دوپٹہ سیٹ کر کے گھونگھٹ نکالا،پھر اس کا نکاح ہو گیا ، نکاح کے بعد وہ رو دی تھی۔ صرف تین بول سے زندگی بدل گئی تھی۔
“نہیں میری جان، اللہ پاک تیری قسمت اچھی کرے۔”
دادو نے اسے بوسہ دیا ، اس کے بعد عارش سے بھی وعدے لیے گئے، وہ بہت خوش تھا۔ اور حیرت کی بات تھی کہ نکاح میں جب ارحہ کا نام لیا گیا تب حنان حنا کو دیکھ رہا تھا اور اس کا دھیان نہیں گیا۔ اس کے بعد ارحہ کو سہیلیاں اسے آنچل کے ساۓ میں اسٹیج کی طرف لائیں۔اس کا دل دھکک دھک کر رہا تھا۔
“تم نے وعدہ کیا تھا کہ نہیں دیکھو گے بھابھی کو۔”
حنان نے عارش کو گھورا۔
“میرے دشمن، اس نے اتنا بڑا دوپٹہ لٹکایا ہے، نہیں دکھے گی مجھے، کمینہ کہیں کا، ۔”
عارش نے جلے دل کے ساتھ کہا۔
“ہاہاہاہاہا ، دیکھ لے اب تیری ہیں وہ۔”
حنان ہنسا تھا۔
“افففف میرے خدایا! یہ تو حنان ہے ، یا اللہ خیر ۔”
رانیہ کا رنگ اڑ گیا۔
“عارش ہم لوگ چلتے ہیں یار، اسریٰ کی مہندی شروع ہو گئی، ہر امپورٹنٹ رسم میں شریک تھے ہم، اب اجازت ۔۔۔”
حنان نے مسکراتے ہوۓ اجازت طلب کی۔
“تھینک یو سو مچ یار، حنا تمہارا بھی بہت شکریہ۔۔۔۔۔۔ “
عارش نے دونوں کو دیکھا۔
“نو نیڈ، اسٹے بلیسڈ۔”
حنا نے مسکرا کر کہا تو وہ لوگ چلے گئے۔ رانیہ نے شکر ادا کیا تھا۔
“خطرہ ٹلا نہیں ہے ، اگر کل حنان آ گیا تو ،،، کیا کروں میں ؟؟؟ کہیں کچھ غلط نہ ہو جاۓ۔۔”
رانیہ نے اسٹیج کی جانب آتے سوچا۔ اس کے بعد سب رسمیں خیر خیریت سے ہو گئیں۔ سب اسے دوبارہ روم میں لے گئے ۔ عارش اسے ایک نظر بھی نہ دیکھ سکا تھا۔
“نانو پلیززززز ،،، عارش ایک بار اس سے ملنے چاہتا ہے، اب تو نکاح بھی ہو گیا ہے نا؟”
رانیہ اور زرنش کنوینس کر رہے تھے۔
“اچھا ٹھیک ہے۔”
کچھ حیل و حجت کے بعد وہ مان گئیں۔
“جاؤ عارش، میں نے بہن ہونے کا حق ادا کیا ہے۔”
زرنش نے مسکرا کر اسے دیکھا۔
“لیکن زرنش کہوں گا کیا میں ؟”
وہ ابرو اچکا کر بولا۔
“مجھ سے کچھ سن مت لینا گدھے،۔جاؤ اب۔”
زرنش نے اسے دھکیلا۔
“تمہارا دماغ ٹھیک ہے میں نہیں ملوں گی ان سے۔”
ارحہ نے گھورا، اسے تو پسینے آ گئے تھے۔
“اافففففف میں اور زرنش آپی بے وقوف ہیں، دونوں کو ملا رہے ہیں اور آپ دونوں۔۔۔۔”
رانیہ نے دانت پیسے ، تب ہی ڈور نوک ہوا۔
“آ جائیے عارش بھائی۔”
رانیہ مسکراتے ہوۓ بولی اور جانے لگی تو ارحہ بھی ساتھ ہو لی۔
“ن،،، نہیں رانیہ ،،۔ ت ،،تم ن،،،نہی،،،، نہیں جاؤ گی۔۔”
اس نے روہانسے ہوتے منت کی مگر رانیہ چلی گئی۔
“رانیہ۔۔۔۔”
وہ باہر جانے لگی تو عارش نے کلائی تھام لی، یہ غیر ارادی طور پر ہوا ارحہ کے دل کی دھڑکن رکی تھی۔ عارش نے اس کے سامنے آتے ہوۓ مہندی لگے ہاتھوں کو دیکھا، ارحہ کی آنکھیں نم ہونے لگی تھیں۔
“نکاح مبارک۔”
عارش کا لہجہ محبت سے چُور تھا۔ وہ والہانہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا، جو مہندی کے جوڑے میں بلا کی حسین لگ رہی تھی مگر آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
“خیر مبارک کہتے ہیں پگلی۔۔”
عارش نرمی سے بولا۔
“کیا ہوا ارحہ ۔؟”
اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے دیکھ کر وہ بیقرار ہوا۔
“ک، کچھ نہیں ، عارش بھ،،،،”
وہ بھائی بولتے بولتے رک گئی اور زبان دانتوں تلے دبا لی۔
“گڈ گرل، میرے حوالے سے دل میں کوئی بھی وہم ہے تو نکال دو، میں نے دل و دماغ کی مان کر یہ رشتہ بنایا ہے۔۔”
عارش مسکرایا تھا اور انگھوٹے سے آنسو پونچھے۔ ارحہ نے آہستہ سے پلکوں کو جنبش دی، دل کی دھڑکنوں میں اودھم مچا ہوا تھا، وہ اسے دیکھ نہیں پائی تھی،، رشتے کے لحاظ سے شرم و حیا تھی یا کیا تھا وہ سمجھ نہ پائی مگر عارش کا اقرار اچھا لگا تھا۔۔
“تم حسین میرے نام کے بعد ہوئی یا پہلے بھی تھی۔۔”
شرارت سے کہا گیا تھا۔ ارحہ کے چہرے پر حیا کے رنگ بکھرے تھے، عارش کو یہ منظر ایسے لگا تھا جیسے بارش کے بعد آسمان پر قوس قزاح ہو۔ عارش نے چند لمحے اسے دیکھا، اسے معلوم تھا وہ یونہی خاموش رہے گی۔ عارش نے مسکرا کر لب اس کے ماتھے پر رکھ دئیے، کیا کچھ نہ تھا اس کے انداز میں محبت عزت احترام۔ ارحہ کی تو صحیح معنوں میں دھڑکن رکنے لگی۔
“مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم سے ملاقات ہو گی ورنہ کوئی گفٹ ضرور لاتا ،یو آر مائن ارحہ عارش دِس از موسٹ موسٹ موسٹ بیوٹیفل فیلنگ ایور، آئی ہیو نو ورڈز ٹو ایکسپریس مائی فیلنگز مائی وائف، مائی گرل اینڈ مائی ایوری تھنگ، یو آر مائی سول میٹ۔۔”
وہ اس کا ہاتھ تھام کر محبت سے چُور لہجے میں کہتا ہوا ایک لمحہ اسے دیکھ کر چلا گیا۔
اسے کہنا کہ یہ تم ہی تھےجس سے ہم کو محبت ہو گئی تھی![]()
ورنہ ہم خود ہی گلاب ہیں کسی سے خوشبو کی تمنا نہیں رکھتے![]()
اس کے جاتے ہی ارحہ نے گہرا سانس لیا۔ اسے یہ سب خواب لگ رہا تھا ،بے یقینی سے اس نے دروازے کی جانب دیکھا جہاں سے وہ گیا، عارش سے اسے طعنہ مارنے کے علاوہ اور کسی چیز کی امید نہ تھی۔ ہاتھوں اور ماتھے پر ابھی بھی اس کا لمس باقی تھا۔ کمرے میں اس کے پروفیوم کی خوشبو بکھر گئی تھی۔ اس کے لب مسکراۓ تھے۔ خود کو آئینے میں دیکھ کر وہ مسکر دی۔
کیا کرو گے اگر کہہ دوں میں
کـہ اب اچـھے لگتے ہـو مجھے








“کہاں رہ گئے تھے تم لوگ یار؟”
اسوہ نے دونوں کو گھورا۔
“رسم ہو گئی شروع؟”
وہ دونوں اسٹیج کی جانب بڑھے۔
“افکورس۔”
اسوہ بھی ان کے ساتھ آئی۔
“ماشأاﷲ بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔”
انہوں نے یک زبان ہو کر کہا۔
“بہت شکریہ۔۔”
اسریٰ مسکرائی تھی۔ اس کے بعد دونوں نے اسے مٹھائی کھلائی۔ جب بھی اسریٰ کو مٹھائی کھلانے لگتی حنان منہ آگے کر لیتا۔
“نہیں پہلے مجھے ۔۔”
اس کا انداز ضدی بچے کی طرح تھا۔
“جس کی شادی ہے اسے تو کھلا لینے دو۔۔”
حنا نے گھورا۔
” اسے سب کھلا رہے ہیں، مجھے نہیں پتہ مجھے کھلاؤ۔”
حنان نے منہ لٹکا کر اسے دیکھا اور منہ کھول لیا۔۔
“بند کرو مکھی چلی جاۓ گی۔”
سعد (دعا کا ہزبینڈ ) ہنسا تھا۔
“میں ڈانس نہیں کروں گا اگر نہ کھلائی۔۔۔۔”
اس نے دھمکی دی اور دھمکی کام آ گئی۔
“حنا پلیززززز اسے کھــلاؤ پہلے ، میری بہن پلیززززز ۔۔۔۔”
دعا نے ریکوسٹ کی تو حنا نے ایک دو بار اس کے منہ کے پاس لے جا کر پیچھے کر لیا مگر اس نے ہاتھ پکڑ کر کھا لیا، ایسے ہی کتـنی شرارتیـں ہوتی رہیـں۔ سـب کو مزہ بھی حنا اور حنان کـی کمــپنی میـں آتـا تھا۔
“چلو اٹھو اب۔۔”
عمیر ( اسوہ کے ہزبینڈ ) نے اس کا بازو کھینچـا۔
“کیوں جی؟”
حنان اور چپـک کـر بیٹھ گیا۔
“حنان تم نے وعدہ کیا تھا کہ تم اور حنا اسریٰ کی شـادی پـر ڈانس کـرو گے۔۔۔”
اسـوہ نے گھورتے ہوۓ اسے یاد دلایا۔
“آج اسریٰ کی شادی ہے کیا؟؟”
اس نے ٹھوڑی پر سوچنے والے انداز میں ہاتھ رکھ کر باری باری سب کو دیکــھا۔ گویا اسے معلوم ہی نہ ہو۔۔
“نہیں تمہاری۔”
دعـا نے دانـت پیـسے۔
“تو جب اسریٰ کی شادی ہو گی میں ڈانس تب کروں گا نا،، آج تو میری شادی ہے۔۔”
اس نے معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوۓ کہا۔
“حنان بیٹا پلیـز آگے ہی ٹائم کم ہے چلو اٹھو۔۔”
عفت بیگم نے بھی کہا۔ اس وقت یہاں صرف فیملی کے چند لڑکے اورخواتین تھیں۔
“میں نہیں کرنے والی ڈانس۔۔”
حنا نے اریز(جس کا رشتہ آیا تھا ) لوگوں کو کھڑا دیکھا تو فوراً انکار کیا تھا۔
“پیچھے ہٹیے ، کیسے نہیں کرنا ڈانس محترمہ ؟؟؟”
وہ دعا کو سائیڈ پر کرتا ادھر آیا۔
“حنـان میں نہیں کروں گی، وہ دیکھو اریز بھائی اور اسریٰ کے سسرال کے لڑکے بھی ہیں، اچھا نہیں لگتا نا۔۔”
حنا نے آہستگی سے کہا تو حنان نے فوراً دیکھا، سب لوگ گویا اسی انتظار میں تھے، اس نے لب بھینچے۔
“سعـد عمیـر یار ان لڑکوں کو بھیجو یار۔۔۔”
حنان نے بھی سرگوشی کی تو وہ سمجھ گئے۔
“اوکے میـں ان لوگوں کو لے کـر جاتا ہوں ، تم لوگ کرو انجواۓ ،ڈونٹ وری۔”
سعد نے مسکرا کر کہا اور چـلا گیا۔
“اب کیا ہوا؟”
اس نے حنا کو دیـکھا جو لب بھینچے کھڑی تھی۔
“اریز بھائی کے ساتھ جو بلو شرٹ والا لڑکا تھا اس نے پکچر لی ہے میری۔”
حنا نے ماتھے پر بل ڈالے ۔
“ابھی ڈیلیٹ کرواتا میری جان ڈونٹ وری۔”
وہ فوراً غصے سے ادھر گیا۔
“کہاں چلے اب؟”
دعا نے آواز دی۔۔
“سونگ سیٹ کروانے ڈی جے والے سے۔”
وہ جاتا جاتا پلٹا۔
“یو لیسن۔”
وہ لوگ بیٹھے تھے جب حنان ادھر گیا۔
“موبائل دو۔”
وہ لڑکاا سائیڈ پر آیا تو حنان بولا،،،انداز حکمانہ تھا۔
“کیوں؟”
وہ لڑکا الجھا۔
“پکچر ڈیل کرو جو ابھی لی ہے ایک لڑکی کی۔”
حنان نے گھور کر سخت لہجے میں کہا۔
“میں نے نہیں لی۔”
وہ فوراً بولا۔
“فائن اگر تم نے میرے سامنے پکچر ڈیل نہ کی تو میں بھی تمہاری بہن کی پکچر لے لوں گا۔۔۔”
حنان کی آنکھیں سرخ ہوئیں ۔
“رکیے۔”
اس نے حنان کے سامنے پکچر ڈیل کی۔
“ایک سیکنڈ موبائل دو۔”
کہتے ساتھ ہی اس نے موبائل جھپٹ لیا۔
“کر تو دی ہے ڈیلیٹ ۔۔”
اس لڑکے کو تاؤ چڑھا۔۔
“یہ دیکھو، میں بچہ نہیں ہوں اور آئندہ کسی کی بہن کی تصویر نہ لینا ، مکافات عمل نہ ہو جاۓ کہیں۔۔”
حنان نے recently deleted فولڈر نکال کر اس کے سامنے کیا اور پھر وہاں سے ڈیل کر کے اسے وارن کرکے چلا گیا۔ وہ لڑکا پیچ و تاب کھا کر رہ گیا۔
“چلو بھئی اٹھو۔۔”
اس نے حنا کے آگے ہاتھ کیا۔ حنا نے مسکرا کر اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔ دونوں اسٹیج پر تھے۔
“ہمارا ساتھ دینے کیلیے ذرا اور کپلز بھی آئیں۔۔”
حنان نے دعا لوگوں کو کہا۔
“ہاں ضرور آئیں گے ، پہلے ایک سونگ پر تم دونوں کرو۔”
دعا نے کہا تو حنان نے سر ہلایا اور بازو حنا کی کمر کے گرد حمائل کیا، کتنی محبت سے وہ اسے دیکھ رہا تھا، سب نے دل سے دونوں کے ایک ہو جانے کی دعا مانگی کوئی بھی حاسدی نہیں تھا۔
حنا بے بی پنک کلر کے ڈریس میں نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی۔ سب نے اس کی تعریف کی مگر واحد حنان سے جس کے منہ سے وہ تعریف سننا چاہتی تھی مگر وہ ایک لفظ بھی نہیں بولا تھا۔
“حنان لکنگ ہینڈسم ۔۔”
اس وائٹ ڈریس میں دیکھ کر وہ مسکرائی، دل کی دھڑکنوں نے شور مچایا تھا۔
“تھینکس ، اب ہمیں نکلنا ہے جلدی آ جاؤ۔۔”
وہ گاڑی کی چابی انگلی پر گھماتا ہوا بولا۔
“اسریٰ کی بارات تین بجے پہنچ آۓ گی، اس لیے بیٹا کوشش کرنا کہ جلدی آ سکو۔۔۔۔”
عفت بیگم نے ان دونوں کو دیکھا۔
“جی پھوپھو ، ہم کوشش کریں گے۔”
وہ دونوں پھوپھو سے مل کر آ گئے۔








عارش شیروانی میں واقعی کسی دیس کا شہزادہ لگ رہا تھا۔
“ماشأاﷲ ماشأاﷲ بہت ہینڈسم لگ رہے ہو۔”
حنان اس کا کندھا تھپتھپا کر بولا۔
“بہت شکریہ۔”
اس نے سینے پر ہاتھ رکھ کر جھکتے ہوۓ کہا۔
“ویسے بھابھی عارش بھائی بہت خوش لگ رہے ہیں۔”
حنا نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
“ہاں ماشأاﷲ ۔۔۔”
زرنش نے اس کی نظر اتاری۔ اس کے بعد کچھ رسمیں ہوئیں ، جس میں حنان نے عارش کا دماغ کھا ڈالا اور ہادی لوگوں نے بھی بھرپور ساتھ دیا، اس کے بعد بارات ہال کی طرف روانہ ہو گئی۔ہال کے باہر حنان نے یار ہونے کا فرض پورا کیا اور کتنی دیر ڈانس کرتا رہا۔۔
“اگر حنان کو معلوم ہو جاۓ کہ عارش بھائی کی شادی کس سے ہے تو کیا یہ پھر بھی اتنا ہی خوش ہو گا، ہاں شاید اتنا ہی کیونکہ یہ دوسروں کی خوشیوں میں خوش ہونا جانتا ہے، بس میرا اللہ خیر رکھے۔۔”
رانیہ نے حنان کو دیکھا جو اندھا دھند ناچ رہا تھا۔









ارحہ ریڈ اور اسکن کلر کے ڈریس میں کسی اپسرا سے کم نہیں لگ رہی تھی ، اس پر روپ ٹوٹ کر آیا تھا۔ سب نے دل سے تعریف کی تھی۔ وہ آج کل کی نسبت زیادہ نروس ہو رہی تھی اور رانیہ سہیلیوں کے ساتھ مل کر اس کا خوب ریکارڈ لگا رہی تھی۔۔
“بارات آ گئی۔۔۔”
ایک لڑکی نے کہا تو رانیہ کھڑکی سے جھانکنے لگی۔
“آ جاؤ دیکھ لو اپنے ان کو۔”
شرارت رانیہ کے چہرے سے عیاں تھی۔۔
“تم دیکھو جا کر۔۔”
ارحہ تلملائی۔
” اوکے میں جا رہی۔۔”
رانیہ ہنستی ہوئی پھر ونڈو کے پاس چلی گئی۔
“یار دولہا بھائی کافی سنجیدہ لگ رہے آج۔۔۔”
رانیہ نے اسے ڈرایا۔
“ت،،تم سچ بول رہی ہو؟”
اس کے چہرے کی ہوائیاں اڑی۔
“بکواس کر رہی ہے یار،، پہلے دن دولہا سنجیدہ ہی اچھا لگتا ہے مگر دولہا بھائی کی آنکھوں سے خوشی چھلک رہی ہے اور تمہیں ڈر کس بات کا ہے؟؟”
انوش نے مسکرا کر اسے تسلی دی۔
“یار عارش بھائی کے دوست تو پاگلوں کی طرح ناچ رہے یار،، دیکھو اس وقت کے۔۔ “
اصفی نے بھی کہا۔۔۔
“رانیہ بات سنو۔۔”
دوست کے نام پر اسے ایک دوست یاد آیا۔
“حنان نہیں آیا کیا؟؟ آئی مین رات کو بھی اور ابھی؟”
رانیہ کے پاس آتے ہی اس نے ڈرتے ہوۓ پوچھا۔
“نہیں یار نہیں آیا۔۔”
وہ اسے پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔
“او تو اس کا مطلب کہ وہ اس دن واقعی کام سے آیا تھا “ان” کے آفس۔۔”
اس نے گہرا سانس لے کر شکر ادا کیا۔
“مجھے نہیں سمجھ آ رہی کیا کروں میں ؟؟ کیسے حنان کو بتاؤں جا کر ،، یا اللہ جی پلیزز آج کے دن خیر کرنا یا اللہ اس کی زندگی کا سب سے بیسٹ ڈے ہے۔۔۔”
رانیہ نے دل سے دعا مانگ کر آنکھوں کے نم کونے پونچھے، ارحہ نے چونک کر اسے دیکھا۔
“تم روئی کیوں؟”
اس نے الجھ کر پوچھا۔۔
“یار دولہا آ گیا ہے، چند گھنٹوں بعد تم یہ سکھیوں کا دیس چھوڑ کر پیا دیس چلی جاؤ گی، جس ارحہ کے گھر میں دھڑلے سے جب چاہا تب جایا کرتی تھی اب اسی کے گھر ۔۔۔”
رانیہ بری طرح رو دی تو ارحہ نے فوراً اسے ساتھ لگایا۔
“رانی ہماری دوستی ازل سے ابد تک ہے، تم وہاں بھی دھڑلے سے آنا کوئی روک کر تو دکھاۓ؟”
وہ خود کو مضبوط ظاہر کرتی بولی۔
“میری خاطر لڑ جاؤ گی اپنے “ان” سے؟”
رانیہ مے شرارت سے دیکھا۔
“اور نہیں تو کیا؟”
وہ مسکرائی تھی۔
“پکا؟”
رانیہ نے مشکوک نظروں سے دیکھا۔
ْپکا ۔”
وہ دل سے مسکرائی تھی۔
“یار عہد وفا کی لاسٹ ایپی سوڈ کیا ہوگی؟ مجھے لگ رہا کہ سعد شہید جاۓ گا۔۔”
انوش نے قیاس آرائی کی۔
“اللہ نہ کرے انوش ، میری جان ہے اس میں ۔۔”
اس نے دہل کر گھورا۔۔
“شرم کرو شرم،، تمہاری جان صرف عارش بھائی ہونے چاہیئیں، دلہن بن کر بھی ۔۔۔”
رانیہ نے اسے شرم دلانے کی سعی کی تھی۔۔
“چلو چلو رستہ ناپو۔ “
ارحہ نے ناک پر سے مکھی اڑائی۔
“دل سے تو مان چکی ہے نا ان کو جان؟”
اصفی نے چھیڑا تو وہ بلش کر گئی۔ اسی طرح وہ چھیڑتی رہیں تو وہ مسسکراتی رہی۔۔
“حنان ساڑھے تین بج گئے ہیں یار۔۔”
حنا نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔
“اووو ہووو اوکے میں عارش کو بتا کر آتا ہوں۔۔”
وہ فوراً عارش کیطرف آیا۔
“تھینک یو یار تم لوگ آ گئے۔”
وہ مشکور ہوا تھا۔
“دولہا نہ بنا ہوتا تو ایک دھپ مار دیتا تجھے۔”
حنان نے گھورا توو وہ ہنس دیا۔
“بیسٹ آف لک فار نیو لائف برو۔۔”
حنا نے مسکرا کر وش کیا۔
“بہت شکریہ۔”
عارش کے ساتھ چند ایک باتوں کے بعد وہ چلے گئے۔ ارحہ کو اسٹیج پر لایا گیا تو وہ عارش بے ساختہ اس حسن کی دیوی کو دیکھ رہا تھا،، کافی رسمیں کی گئیں۔اس کے بعد رخصتی کا لمحہ آن پہنچا ،کوئی لڑکی کتنی ببھھی خوش کیوں نہ ہو مگر باپ کی دہلیز چھوڑتے روتی ہیں، باپ کے گھر بیٹیاں شہزادیاں ہوتی ہیں، سب خواہشیں بن کہے پوری ہوتی ہیں، باپ کی شہزادیاں، ماں کی جان اور بھائیوں کی دوستیں اور مان ہوتی ہیں ،،، باپ کے گھر وہ ہر طرح کی ذمہ داریوں سے آزاد شہزادیاں ہوتی ہیں جب کہ جب پیا دیس جاتی ہیں تو ملکائیں بن جاتی ہیں ،، ملکہ پر ہزاروں ذمہ داریاں ہوتی ہیں،، ان کی ذرا سی کوتاہی کبھی سارا خوشحال ماحول درہم برہم کر دیتی ہیں، اسی لیے لڑکیوں کو ملکہ نہیں شہزادیاں ہی بننے کا شوق ہوتا ،۔۔باپ کے گھر شہزادیوں کی ہر بڑی غلطی کو اس ریاست کا بادشاہ بنا معافی مانگے ہی الزام اپنے سر لے لیتا ہے مگر یہ تو سنت رسول ﷺ اور زمانے کی ریت ہے کہ بیٹیوں کو اپنا محل چھوڑنا ہوتا ہے،، ارحہ کو باپ کے گلے لگ کر روتا دیکھ کر سب کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں۔ سب نے ساتھ لگا کر اسے حوصلہ دیا تھا، آنکھوں میں ہزاروں خواب لیے وہ عارش کے دل کے ساتھ بھی گھر قدم رکھ چکی تھی۔
سنا ہے چاند ستاروں پر ہے رعب اسکا
سنا ہے وہ کسی عالی جناب جیسا ہے










حنان اور حنا لوگ جب وہاں پہنچے تو ارحہ کی بارات بس آنے والی تھی۔ حنان نے اسریٰ کی مت مار دی تھی، کبھی کچھ کہہ کر تنگ کرتا تو کبھی کچھ۔ بارات آئی تو لڑکیاں تو ایک طرف حنان بھی بارات روک کر کھڑا ہو گیا تھا۔ سب ہال والے ہنس کر حنان کو دیکھ رہے تھے۔
“حنان بس کر دو یار۔۔”
دعا نے اسے گھورا۔
“ایسے کیسے بھئی؟ تم کو کس نے بولا تھا کہ ہیل پہن کر آؤ جب سنبھالی نہیں جاتی،
جاؤ ہمیں رسم کرنے دو۔۔”
حنان نے دعا کو گھورا تھا۔۔
“افففف گدھے یہ رسمیں لڑکیاں کرتی ہیں۔”
اسوہ نے بھی دانت پیسے۔
“بھئی میں حنا کا بیسٹ فرینڈ ہوں تو اس حوالے سے کر رہا ہوں رسم اور دوسری بات لڑکیاں اور لڑکے برابر ہیں اور ہاں دولہا جی آپ کی دلہن بےحد پیاری لگ رہی ہے، جتنی جلدی پیسے دو گے، اتنی جلدی انٹری۔۔”
اس نے لڑکیوں کی طرح ضد کی۔۔
“چلو کتنے چاہیے؟”
دولہے کی بہن بولی۔
“کتنے تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے جتنے مانگوں گا دو گی۔؟؟؟”
حنان نے اسے دیکھا اور مزاحیہ انداز میں کہا۔
“جی آپ مانگیے تو سہی۔۔۔۔”
وہ چہکی۔
“بولو میری جان کتنے مانگیں؟”
حنان نے حنا کو دیکھا۔
“حنان بسس کر دو ۔۔۔۔”
زاہد صاحب نے گھورا تو وہ صرف پچاس ہزار لے کر سائیڈ پر ہو گیا۔۔
“یہ لو اسریٰ ۔”
حنان نے ایک لفافہ اسے دیا۔
“کیا ہے یہ؟”
اسریٰ الجھی۔۔
“تمہارے سسرالیوں سے جو رقم بٹوری ہے۔۔۔”
وہ ہنسا تھا۔ اسی طرح حنا اور حنان کافی دیر مستی کرتے رہے۔
“ایکسکیوز می حنان ۔۔۔”
ایک لڑکی اس کی جانب آئی۔
“جی؟”
حنان اور حنا دونوں پلٹے۔۔
لوگ جب، تیرا نام لیتے ہیں۔
ہم کلیجے کو تھام لیتے ہیں۔
“وہ آپ سے اکیلے میں بات ہو سکتی دو منٹ؟”
اس نے حنا کو دیکھ کر کہا۔
“یس شیور۔۔”
حنا جانے لگی تو حنان نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
” آپ کو جو بات کرنی ہے اسی کے سامنے کریں۔”
حنان نے اس لڑکی کو دیکھا۔۔حنا کا دل سر شار ہوا تھا۔۔
“نتھـــنـگ۔۔۔””
وہ سر جھٹک کر چلی گئی۔۔
“”حنان اس نے پتہ نہیں کیا کہنا ہو گا؟؟”
حنا نے اسے گھورا۔
“چھوڑو یارا، چلو آؤ ہم لوگ پکس لیں۔”
وہ اس کا ہاتھ تھام کر چلا گیا۔
میرے ہاتھوں میں چوڑیاں جس طرح
سجـتا ہے میـرے سـاتھ وہ اس طرح

















گھر آ کر فوٹو شوٹ ہوا تھا، سب نے مل کر کافی رسمیں کی۔ ارحہ تھک گئی تھی۔
“آپـی مـیں چینـج کـر لـوں، بہت تھـک گئی ہـوں میں۔۔”
ارحہ نے زرنش کـو دیکـھا۔
“ارے اتنـی جلــدی ؟؟؟؟”
زرنــش نے چونـک کـر اسے دیکھـا تو اس نے سر ہلایا۔
“یار ابھی تو عارش نے دیکھا بھی نہیں ؟”
زرنــش نے منـہ بنـایا۔
“تو وہ دیکھ چـکے ہیـں نا۔۔”
اس نے دھیـرے سـے کہا۔
“ہـو سکـتـا وہ ابھی اور دیکـھنا چاہـتا ہـو۔”
وہ شراتی نگـاہـوں سے دیکــھتی ہوئی بولـی۔
“ہـمـمممممممم چـلو میـں اسـے بھـیـجـتی ہـوں۔”
وہ باہـر کـی جـانـب مـڑی۔
“”نہـیں آپـی ،، میـں نہیـں تھـکی۔۔۔۔”
وہ فـوراً بولی۔
“”بـی کونفیڈنٹ یار ۔۔”
وہ مسـکـراتـی ہـوئـی چـلی گـئی جبکہ ارحہ نے منہ بنالیا۔
پانـچ منـٹ بـعد عـارش روم میں آیـا تـو وہ آنکـھیں بنـد کـیے ورد کرے جـا رہـی تھی۔ عارش اس کے سامـنے بیـٹھ گـیا۔ کتـنے ہـی لمحـے کے خاموشی کی نظر ہو گئے ارحہ کو چہـرے پـر نـظروں کـی تـپـش محسـوس ہـو رہـی تھی، جـب عـارش کـچھـ نـہ بـولا تو ارحہ نے پـلکـوں کـو ہلـکی سـی جنـبش دی اور ہونـٹ کپـکپا رہے تھے۔ ارحـہ نے آہـستـہ سے پـلیکیـں اٹھـا کر اسـے دیکـھا جـو والـہانہ نظـروں سے دیکھ رہا تھا۔ آنکھوں میں امڈتے جذبوں کی تاب نہ لا کر ارحہ نے نظریں جھکا لی۔
“مسز عارش۔۔”
وہ اسے دیکھتے ہوۓ بولا، اس کی ایک بیٹ مس ہوئی۔
“بہت پیاری لگ رہی ہو، اتنی کہ جیسے اندھیری رات میں چاند چمک رہا ہو۔”
وہ اس کا ہاتھ تھام کر محبت سے بولا تھا۔
“مسز عارش ، آج سے ایک مہینہ پہلے میرے لیے محبت سب سے فضول کام تھا، آج میرے لیے محبت دل کا سکون ہے، میں دنیا کے ان خوش نصیبوں میں سے ہوں جن کو محبت مل جاتی ہے جیون ساتھی کی صورت
میں ، ایک اور بات بتاؤں ؟”
اس نے نہایت خوبصورت انداز میں اقرار محبت کیا۔
ارحہ نے آہستگی سے سر کو جنبش دی تھی۔
“جس دن مجھے احساس ہوا نا کہ مجھے تم اچھی لگنے لگی ہو، اچھی بھی ایسی کہ دل تمہیں دیکھنے کی چاہ کرنے لگا تھا، مجھے سب چڑچڑا رہا تھا کیونکہ اس دن میں انا پرست انسان تھا ،سوچا تھا کہ تمہیں کبھی نہیں بتاؤں گا مگر مسز ان چند دنوں میں ، میں نے یہ ریئلائز کیا کہ محبت اور انا ایک دل میں نہیں رہ سکتی جیسے دو تلواريں ایک میان میں نہیں رہ سکتی۔ تمہیں اس گھر میں کسی چیز کی کمی نہیں ہو گی، نہ محبت نہ کسی آسائش کی، اگر مامو کے گھر تم شہزادی تھی تو یہاں بھی تم شہزایوں کی طرح رہو گی مجھے بدلے میں تم سے بس ایک وعدہ چاہیے؟”
عارش نے محبت سے کہا تھا۔
“کیا؟”
ارحہ نے دل کی دھڑکنوں کو قابو کرتے ہوۓ کہا۔
“تم مجھ سے ہمیشہ وفاداری کرو گی، مجھے کبھی بھی کسی بھی حال میں نہیں چھوڑو گی۔ “
اس نے تائیدی نظروں سے اسے دیکھا۔
“وعدہ۔”
ارحہ نے مسکرا کر سر ہلایا تو عارش دل سے مسکرایا ۔
“تمہاری رونمائی۔”
اس نے نظـروں کو خیرہ کرتا بہت پیارا بریسلٹ دیا۔
“پہنا دوں؟”
اس نے اجازت طلب نظـروں سے دیکھا تو ارحہ نے سر اثبات میں ہلایا تھا۔ عارش نے کلائی پر محبت کی پہلی نشانی سجا دی، ارحہ مطمئن ہوئی تھی۔
“چلیں ڈھونڈھیں یہاں آپ کا نام لکھا ہے۔”
ارحہ نے ہاتھ کی جانب اشارہ کیا تو عارش ڈھونڈنے لگا۔
ایـــک تُـم اور ایـــک مُحــــــبت تُمہــــــاری
بَس ان دونوں لفظـوں میں ہے دُنیا ہمــاری
















حنا سو رہی تھی جب حنان دندناتا ہوا وہاں پہنچا۔ رات اسریٰ کی رخصتی کے بعد وہ سب لوگ باہر چلے گئے تھے، زرنــش لوگ بھی آگئے تھے تو خوب مستیاں کی۔
اب آٹھ بجے تھے اور سب سو رہے تھے۔
“حنا ۔۔۔”
وہ حنا کے سر پر کھڑا تھا۔
“حنا یار مجھے بہت بھوک لگی ہے پلیز ناشتہ بنا دو۔”
وہ منہ لٹکاتا ہوا بولا تھا۔
“حنــــــــا۔۔۔۔۔”
وہ اس کے کان میں چیخا تھا۔
“کیا مسئـــلہ ہے بدتمیـــــز انســــان۔۔۔”
حنا دانت پیستی ہوئی اٹھ بیٹھی تھی۔۔
“مجھے بھوک لگی ہے۔”
وہ منہ بنا کر بولا۔
“مجھے کھا لو۔۔”
حنا نے بالوں کا جُوڑا بناتے ہوۓ غصے سے کہا۔
“مجھے بھوک لگی ہے یار ناشتہ کرنا ہے ، زہر نہیں کھانا، یار پلیزز سب سو رہے ہیں، بنا دو نا۔۔۔”
اس نے گذارش کی تھی۔
“مجھ سے نہیں بنتا یار، کسی ملازمہ سے کہہ دو۔۔”
حنا پھر لیٹنے لگی۔
“حنا میں نے ڈنر نہیں کیا تھا یار ، خود بنا لیتا پر یار
مجھے یہاں کوئی چیز نہیں مل رہی،،، دوسری بات کچن میں ملازمہ کے ساتھ وہی کل والی لڑکی کھڑی ہے اور مجھے عجیب نظـروں سے دیکھتی ہے ، اس لیے جاؤ نا پلیززز دوست بھوک میں کام آتے ہیں۔۔۔”
اس نے منہ لٹکاتے ہوۓ گذارش کی۔
“اچھــــا بنا دیتی ہوں۔۔۔”
لڑکی کا سن کر وہ فوراً اٹھی تھی۔
“میں بھی چلتا ہوں ساتھ۔۔”
وہ بھی ہمراہ ہوا ۔۔
