Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary NovelR50591 Kaanch Ki Choriyan (Episode 28)Part1
Rate this Novel
Kaanch Ki Choriyan (Episode 28)Part1
Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary
جون رویا نہیں رلایا گیا ہوں
بن کر پسند ٹھـکرايا گیا ہوں
ارحہ ٹیرس پر کھـڑی تھی ،،، رات کے دو بج رہے تھے۔ آسمان پر ستارے جگمگا رہے تھے، چاند کی روشنی میں ہر چیز نہا رہی تھی، چاند کو ہمیشہ سے محبوب سے تشبیہ دی جاتی ہے تو آج بھی چاند کو دیـکھ کر ارحہ کو عارش کی یاد آ گئی تھی جو یہ شہر ہی نہیں ملک بھی چھوڑ گیا تھا ،، عارش نے ملازمہ کے ہاتھ اس گھـر کی چابیاں بھیج دی تھیں ، ارحہ کا دل کتنے ٹکڑوں میں بٹا تھا جب کہ دادو اور تنزیلہ بیگم کو بہت خوشی ہوئی۔ آج عارش کو گیے ایک ہفتہ ہو گیا تھا اور اسے یہ سفـر کانٹوں بھرا لگ رہا تھا،،، ہر آہٹ پر اس کا گمان ہوتا تھا،،، کتنی بار فون کو اس آس سے دیکھا شاید عارش کا کوئی میسج آیا ہو مگر جو سب سے بڑی غلطی تھی وہ تھی انا کی،، اس نے عارش کو راضی کرنے کو ایک میسج بھی نہیں کیا تھا اگر وہ ناراض ہوا تھا تو ارحہ بھی روٹھ گئی تھی۔۔
“کیوں کروں میں کوئی میسج یا کال،،، نہ صرف مجھ سے صفائی مانگے بنا گھر سے نکال دیا بلکہ اتنی بڑی خوشی کی خبــر سن کر بھی کوئی ری ایکٹ نہیں کیا ،،،، یہ بھول ہے آپ کی کہ میں اپنی اولاد آپ کو دوں گی ،، عارش بہت پچھتائیں گے آپ ،،، بہت زیـادہ۔۔”
اس کی آنکھـوں سے گرم سیال مادہ بہہ کر اس کے گالوں کو بھگو رہا تھا۔ دل پھٹنے کو آ رہا تھا۔
“کتنے سچے دل سے میں نے آپ کو چاہا تھا آپ اگر میری آنکھوں میں دیکھتے تو اندازہ ہوتا آپ کو،،،ہیٹ یو۔”
وہ ریلنگ کے سـاتـھ بیٹھ کر سر گھٹنوں پر رکھ کر رو دی۔
یہ تم سے کہہ دیا کس نے
کہ تم بن رہ نہیں سکتے
یہ دکھ ہم سہہ نہیں سکتے
چلو ہم مان لیتے ہیں
کہ تم بن ہم بہت روئے
کئی راتیں نہیں سوئے
مگر افسوس ہے جاناں
کہ اب کے تم جو لوٹو گے
ہمیں تبدیل پاؤ گے![]()
بہت مایوس ہو گے تم









حنا کی آنکھ کھلی تو پانچ بج رہے تھے، وہ کسلمندی سے اٹھی اور وضو کر کے باہر آئی، حنان بے خبر سو رہا تھا، کمبل آدھا بیڈ سے نیچے گرا تھا، اس کی لاپرواہی پر حنا نے نفی میں سر ہلا کر کمبل اوپر رکھا ، سلکی بال ماتھے پر بکھـرے ہوۓ تھے، کھـڑی ناک سوتے میں اور بھی مغرور بنا رہی تھی، حنا دنیا و مافیہا سے بے خبر اسے تک رہی تھی۔
“ماشأاﷲ ،،، مجھے نہیں معلوم کہ تم اتنے پیارے ہو یا مجھے اتنے پیارے لگتے ہو ، ہاں میں اب خوش بھی ہوں کہ تم میرے ہو ، یقین ہے جلد مان جاؤ گے انشااللہ۔۔۔”
حنا نے دل ہی دل میں اسے مخاطب کیا اور دبے پاؤں آگے بڑھ کر مہندی لگے ہاتھوں سے اس کے بالوں کو پیچھے کیا تو چوڑیوں نے ایکدم شور مچایا گویا حنان کو آگاہ کرنا چاہا حنا کی جسارت پر۔
“افففففففف یہ چوڑیاں رقیب ہیں میری۔”
اس نے فوراً پیچھے ہٹ کر دم سادھ لیا،، چند لمحے حنان کے سونے کی یقین دہانی پا کر وہ نماز پڑھنے لگی تو حنان نے ایک آنکھ کھول کر اسے دیکھا۔
“کاششششششش پارٹنر میں بتا سکتا کہ میں کیوں تمہیں اذیت دے رہا ہوں۔”
اس نے ماتھے پر ہاتھ رکھا جہاں حنا کا لمس ابھی بھی باقی تھا۔ وہ نماز پڑھ رہی تھی اور وہ اسے دیکھ رہا تھا۔ جونہی حنا نے دعـا کے لیے ہاتھ اٹھاۓ تو چوڑیوں کی کھنکھن پر وہ حال کو لوٹا۔
جب بھی ہاتھ اٹھا کر مانگتی تھی میں تجھے
کہتی تھی زور زور سے آمیـــن میری چوڑیاں۔







“پتـہ ہے ارحہ میں اتنی خوش تیری شادی پر بھی نہیں تھی جتنی خوش یہ سن کر ہو رہی ہوں کہ میں خالـہ بننے والی ہوں ،،، کب آۓ گا وہ دن ۔۔”
رانـیہ چھوٹے بچوں کی طرح خوش ہو رہی تھی۔
“کتنی خوش ہو؟”
اس نے مسـکرا کر استفسار کـیا۔
“اتنی اتـنی کہ آج کچھ بھی کہو میں مان لوں گی۔”
وہ ہنسی اور خوشی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔۔
“اچـھا جی۔”
اس کا دل بجھا کہ عارش نے ہلکی سی خوشی کی رمق بھی نہ دی کہ وہ خوش ہے یہ سن کـــر۔
“ہمممم، ارحہ مگر تم تو مجھے خوش بلکل نہیں لگ رہی۔”
رانیہ نے کھوجتی نظـروں سے دیکـھا ۔
“پاگل ہو کیا؟؟ میں خوش کیوں نہیں ہوں گی؟ تم خالہ بننے کس سن کر اتنی خوش ہو اور میں تو ۔۔”
وہ مسکراتی ہوئی بولی۔ ڈرامے دیکھ کر رونے والی لڑکی زندگی کی تلخیوں کو مسکرا کر جھـیل رہی تھی۔
“پکـا نا؟”
اس نے ابرو اچکا کر پوچھا۔
“افـکورس میری جان پکا۔”
وہ مسـکرا کر اسے تسـلی دینے لگی۔
“عـارش بھائی سے کب بات ہوئی تھی؟”
رانیـہ نے بات کا رخ بدلا تو اس کے چہرے کا رنگ بدلا۔
ْ”عارش سے تو تقریباً ہر گھنٹے بعد۔۔ “
اس نے مسکرانے کی بھـرپـور کوشـش کی۔
“اووو ہـو،،،،، پـتہ ہے میں تمہارے لیے بہت خـوش ہوں ،، شــــــــکر ہے کہ عارش بھائی اتنـے اچھے ہیں۔”
رانـیہ نے مسـکرا کر کہا۔
“ہـــممممم ،، تم سنـــاؤ؟ کیا چل رہا ہے اور ؟؟”
اس نے بات کا رخ بدلا۔
“جـــسٹ بورنگ،،، تم بھی گـھر بیـٹھ گئـی ہو،، کیوں نا ایـسا کیا جاۓ کہ آج کہیں آؤٹـنگ پر چلـیں۔۔:”
رانـیہ نے فوراً پروگـرام بنــــایا۔
“نو ایکسکیوز ،،،،،، جلـــدی سے ریڈی ہو۔۔۔”
رانیہ نے اسے منہ بسورتے دیـکھ کر فوراً گـھورا۔
“اوکـے۔”
وہ اٹھ گئی۔۔۔
کیا ستـــم ہے کہ تیرے بغیــر بھی
سنوریں گے ہنسیں گے جئیں گے ہم












حنا اور حنان کو ہـنی مون کا کہا گیا تو دونوں نے انکار کر دیا اور خوش قسمتی سے کسی نے فورس بھی نہیں کیا تھا،، دونوں میں کوئی بات چیت نہیں ہو رہی تھی۔ آج دعا لوگوں کے گـھر دعوت تھی تو حنا اپنے روم میں ریڈی ہو رہی تھی جب زرنــش بھابھی آ گئیں۔
“حنا تمہارا سامان یہاں کیوں ہے؟ آئی مین یہ تو اوپر حنان کے روم میں ہونا چاہیے تھا نا؟”
زرنــش بھابھی نے ناسمجھی سے اسے دیـکھا۔
“جـی بھـابھی بـس شفـٹ کر لوں گی۔”
اس نے مسکرا کر ان کو مطمئن کیا۔
“اوکے باۓ دا وے بہت پیاری لگ رہی ہو۔”
بھـابھی نے مسـکرا کر کہا جو بلیک کلر کی فراک میں واقعی حسین لگ رہی تھی۔
“شکــــــریہ بھابھی ۔۔۔”
وہ محبت سے بولی۔
“ویلکم ،،، ہادی چلے گئے گاڑی کی طرف تو آ جاؤ تم لوگ بھی،،، میں جا رہی عالی تنگ کرے گا ان کو۔ “
بھابھی نے جاتے ہوۓ کہا تو اس نے سر ہلایا۔ وہ روم میں ہی ٹہلنے لگی جب ہارن کی آواز آئی تو دوپٹہ سنبھالتی باہر آئی۔ ہادی اور زرنــش پیچھلی سیٹ پر براجمان تھے جب کہ حنان کے ساتھ آگے اسے ہی بیٹھنا تھا۔
“خیر سے جاؤ۔”
تائی جان نے اسے بوسہ دیا تو وہ مسـکرا کر گاڑی میں بیٹھ گئـی۔ کتنی خاموشی تھی اس گاڑی میں۔۔۔ حنان کو خاص طور پر محسوس ہوئی تھی۔ ان کے گھـر جا کر بھی حنا خاموش ہی رہی۔
“حنان تمہارا کیـسا رویہ ہے حنا کے ساتھ؟”
اســوہ نے استفسار کیا۔
“کیـا مطلب کیسا؟ تم اچھی طرح جانتی ہو۔”
وہ فوراً بولا۔
“پلیز اپنا رویہ ٹھیک کر لو اس کے ساتھ،، خدا کے لیے وہ تم سے بہت محبت کرتی ہے، دیکھ لو وہ کتنی بجھ سی گئی ہے اور ایک تم ہو کہ۔۔۔۔”
اســوہ نے غصے سے کہا اور چلی گئی تو حنان کی آنکھوں کے سامنے کچھ دن پہلے کا منظر گھوما۔
“حنان آتے ہوۓ بچوں کو لے آؤ، حرم کو ضرور لانا۔۔”
حنا نے اسے کال کی۔
“اچـھا ٹھیـک ہے۔”
حنان نے مسکــرا کـر کہا۔ اس نے الوداعی کلمات کہہ کـر کال کاٹ دی۔
“آنی۔۔”
تقریباً گھـنٹے بعـد افنان لوگ بھی آ گئے۔
“آنی کی جان۔۔۔۔۔”
اس نے تینوں کو گلے لگایا۔
“حرم میرا بچہ میری جان۔۔۔”
اس نے حنان سے حرم کو لیا۔ اس کے بعد بچوں نے کافی رونق لگا دی،،، حنا نے نوڈلز بنا کر دئیے۔
“آنی آپ ہمارے ساتھ کھـیلو نا۔۔۔۔”
افـنان نے حنا کو آ کر کہا۔
“آپ حنان مامو کے ساتھ کھیلو نا،،، میں حرم کو کھلا لوں اور حنان کو زیادہ اچھا کھیلنا آتا۔۔”
حنا لاڈ سے بولی۔
“میں جتنا مرضی پیار جتا لوں ان کی جان تو بس آنی میں ہی بستی ہے۔۔۔”
حنان نے منہ بنایا۔
“ایـسی بات نہیں ہے تم سے بھی بہت پیار کرتے ہیں۔۔”
جویریہ بیگم نے ہنستے ہوۓ کہا۔
“تو آنٹی جن سے پیار ہو ان کو بلا جھجھک بتا دینا چاہیے تا کہ اگلے بندے کو بھی پتہ ہو کہ کون کون چاہتا ہمیں۔”
حنان کی بات پر کچن کی طرف جاتے حنا کے قدم لڑکھڑاۓ
“حنا آر یو اوکے؟”
حنان نےفوراً پوچھا تو اس نے سر ہلا دیا۔
“تم ڈانٹتے بھی تو ہو جبکہ حنا ڈانٹی نہیں ہے۔۔”
فرح بیگم نے اسے وجہ بتائی۔
“ڈانٹوں نہ تو سر پر چڑھ کر لڈیاں ڈالیں۔”
وہ ہنسا تھا۔ تھوڑی دیـر بعد وہ انہیں واپس چھوڑنے جانے لگا تھا۔۔
“چلو سیلـفی لیں۔”
حنان نے مسکرا کر فرنٹ کیمرہ آن کیا اور دو تین سیلفی لیں۔
“چلو بچو بیٹھو تم لوگ گاڑی میں ۔۔۔”
اس نے اشارہ کیا۔
“چلو تم اور حرم کھـڑی ہو ایک سیلفی لوں اور ہاں مسکرانا پلیز تاکہ ڈمپل سامنے آۓ دونوں کا۔”
اس نے کہا تو حنا مسکرا دی۔
” کاش حنان تم صرف میرے ہوتے۔۔۔””
اسے حنا کی آنکھیں اداس دکھیں۔
“چلو حنا آئسکریم کھائیں گے،، لونگ ڈرائیو بھی۔۔”
حنان نے مسکرا کر کہا۔
“نہیں حنان میرا موڈ نہیں ہے،،، تم دھیان سے جاؤ اپنا خیال رکھنا ، میکرونیز رکھ دی ہیں میں نے ۔۔”
حنا حرم کو بوسہ دے کر چلی گئی اور وہ بجھے دل کے ساتھ چلا گیا،،،، بچوں کو آئسکریم کھلائی مگر خود حنا کے بنا دل نہ چاہا۔
مجھے اس بات کا افســوس ساری زندگی رہے گا
میں نے تم سے بات کرنا تمہاری وجہ سے چھوڑا
“کیـا میں واقعی حنا کو چاہتا ہوں؟؟”
اس نے ٹیرس سے نیچے دیکھا جہاں حنا بچوں کے ساتھ بیٹھی تھی تبھی دعا چلی آئی۔۔۔۔
“حنا کب تک ناراض رہو گی مجھ سے؟؟ میں قسم کھـا کر کہتی ہو کہ یہ فیصلہ تمہاری بھلائی کے لیے لیا تھا کیونکہ مجھے تمہاری آنکھوں میں حنان صاف دکھائی دیتا تھا لیکن پھر بھی آئم رئیلی ویری سوری۔۔۔۔”
اس نے حنا کے گـرد بازو حمائل کیـا۔
“کیسے ناراض رہ سکتی ہوں آپ سے؟ جتنا تنگ کیا اس کے لیے سوری۔۔”
حنا نے فوراً کہا۔۔
“میری جان۔۔۔ اچھا یہ بتاؤ کہ حنان کا رویہ کیسا ہے تمہارے ساتھ؟”
دعا نے استفسار کیا۔
“ناراضی ہے تھوڑی بٹ بہتر ہے۔”
اس نے مسکرا کر جھوٹ سے اسے مطمئن کیا۔
“صد شکر بٹ دیکھنا تم جلد ہی ان شاءاللہ بلکل ٹھیک ہو جاۓ گا ،،، پاگل ہے جذباتی ہے نا، تھوڑا غصہ کرے تو سہہ جانا پلیز تم آگے سے ہائپر نہ ہونا۔۔””
دعا اسے سمجھانے لگی۔
ٹوٹ جائیں، تو کب کھــــنکھتی ہیں،،،،،،
لڑکیاں بھی تو چوڑیوں جیسی ہوتی ہیں۔











حادثے اور بھی گراں گزرے ہیں مجھ پر مگر
مرحــلہ تجھ سے بچــھڑنے کا مجھے مار گیا۔
عارش اپنے اپارٹمنٹ کے کچن میں کھڑا کوفی بنا رہا تھا۔
ارحہ کی کتنی یاد آئی اس کا دل جانتا تھا یا خدا۔ کتنی بار دل چاہا کہ سب بھول بھال کر لوٹ جائے واپس۔
“کس کے لیے پلٹوں واپـس؟ اس کے لیے جسے میری ایک ذرا پـروا نہیں ہے، جس نے مجھے منانے کو ایک کال تک نہیں کی،،،، مانتا ہوں تب میں غصے میں تھا مگر بعد میں تو کال کر سکتی تھی نا..۔۔۔۔”
وہ شیلف سے ٹیک لگاۓ کھـڑا تھا۔ سب کچھ تھا اس شہـر میں مگر دل پھر بھی بے سکون تھا۔
“کبھی بھی معاف نہیں کروں گا تمہیں ارحہ ۔۔”
اس کا دل پھر ٹکڑوں میں بٹ رہا تھا۔
کوئی خواہش نہ رھی، حسرتیں بھی مٹ گئی![]()
واہ زنــدگی تو نے مجـھے بے مثــــــــال کر دیا![]()




اسی طرح کافی ہفتے بیت گیے حنان کا رویہ اس کو اندر ہی اندر گھائل کر رہا تھا۔ اس نے ہمیشہ حنان سے محبت وصول کی تھی اور اب یہ سب سہنا آسان تھوڑی تھا۔ حنان کی جانب سے بس خاموشی تھی۔
” کتنے ہفتے بیت گئے ہیں آخر کب تک ایسا چلے گا۔۔”
وہ سیڑھیوں پر بیٹھی تھی۔ جب کچھ پیسے گود میں گرے تو حنا نے بے اختیار اوپر دیکھا تو سامنے حنان تھا۔
“اووو تم ہو ،میں سمجھا کہ شاید کوئی مانگنے والی ہے۔”
حنان کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔
“کیا ہوا حنان کی جان۔۔۔”
وہ اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔ حنا اٹھ کر غصے سے روم میں آ گئی اور صوفے پر بیٹھ کر غصہ ٹھنڈا کرنے لگی۔
“تم سمجھتی کیا ہو خود کو؟”
حنان کو اس پر غصہ آیا وہ خاموش رہی تھی۔
“حنا میں تم سے بات کر رہا ہوں۔”
وہ اب کی بار اونچی آواز میں بولا۔
“بولو۔”
وہ سپاٹ انداز میں بولی۔
“ایک کام کہا تھا وہ بھی نہ کر سکی تم۔””
وہ نفی میں سر ہلا کـر بولا۔
“تو تم کچھ کر لیتے نا؟؟ میں تو بیٹی تھی، مجبور تھی تو حنان تم کیوں چپ کیے ،، کہہ دیتے نا سب کو بلکہ تم کیوں کہتے تمہیں تو ہیـرو بننا تھا سب کی نظـروں میں۔”
وہ ہانپتـی ہوئی بولی۔
“شــٹ اپ حــــــــــــــنا۔۔۔۔”
وہ چلایا تھا۔
“آواز نیچی کرو حنان میں بیوی ہوں تمہاری۔۔۔۔”
وہ آہستہ مگر غصے سے بولی۔
“زبـردستی کی۔”
وہ استہزایہ بولا تھا۔۔
“تو پسـند کی کر لیتے ، اتنی آسانی سے کیـوں چھوڑا ارحہ کو؟ کرتے اسی سے شادی۔”
وہ آنـسو کو پیچھے دھکیلتی غصے سے بولی۔
“شــــٹ اپ۔۔”
حنان نے ہاتھ اٹھایا جو حنا کے گال پر نشـان چھوڑ گیا۔
” تم،،، تم نے مجھے تھپڑ مارا۔”
وہ بے یقـینی سے اسے دیــکھ رہی تھی۔
“میں تمہیں کبھی بھی معاف نہیں کروں گی،،کبھی نہیں۔”
وہ روتے ہوۓ نیچے چلی گئی۔
“حــنا میـری بات۔۔۔۔”
وہ بھاگا مگر وہ سیڑھیاں پھلانگتی ہوئی چلی گئی۔
“افففففف کـــیا کر دیا میں نے،، یہ نہیں کرنا چاہیے تھا، کیوں نہیں رہتا میـرا غصہ بے قابو۔۔۔”
اس نے بالوں کو جکڑا۔
“کیـا کروں اب؟؟؟ صبح کا ویٹ کـرنا ہو گا۔۔”
وہ بے چینی سے صوفے پر بیٹھ گیا۔
