Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary NovelR50591 Kaanch Ki Choriyan (Episode 16)
Rate this Novel
Kaanch Ki Choriyan (Episode 16)
Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary
“ارحہ وہاں آ کر خوش دلی سے ان سے ملی تھی۔سلام دعا کے بعد اس نے گہرا سانس لے کر خود کو نارمل کیا۔۔
“حنان مجھے ایک امپورٹنٹ بات کرنا تھی ۔۔۔”
اس نے تمہید باندھی۔
“ہاں بولو ۔۔”
حنان نے فورا کہا۔
“حنان سچ کہوں تو سمجھ نہیں آ رہی ،، الفاظ بھی نہیں مل رہے مجھے لیکن امید ہے تم سمجھو گے۔”
وی انگلیوں کو چٹخاتے ہوۓ بولی۔
“کیا ہوا ہے؟؟”
حنان کو کسی انہونی کا احساس ہوا۔
” سچ کہوں تو تم اور حنا ہی ایک دوسرے کے لیے بنے تھے ، تم دوست حنا کو کہتے تھے جب کہ تمہاری دوست “میں” تھی اور محبت حنا ہے تبھی تم ہر وقت مجھ سے حنا۔”
ارحہ کی بات ادھوری رہ گئی جب حنان غصے سے غرایا۔
“جسٹ شٹ اپ ارحہ رائٹ ناؤ ،،، یہ امپورٹنٹ بات کرنی تھی تم نے جس کے لیے بلایا تم نے؟؟”
وہ بمشکل غصہ ضبط کرتے ہوۓ بولا تھا۔
“”نہیں کچھ اور ہے۔”
وہ نظریں چرا کر بولی۔۔
“حنان تمہاری اور میری منزل جدا ہو چکی ہے ۔۔”
اس نے نظریں جھکاتے ہوۓ کہا ، تو حنان اور حنا دونوں کو ہزار وولٹ کا جھٹکا لگا۔
” کیا مطلب؟ آپ کھل کر بولیں۔۔۔”
حنا نے خشک لبوں پر زبان پھیرتے ہوۓ کہا۔
“یہ ۔”
اس نے اپنی رنگ کی طرف اشارہ کیا۔
“یہ؟؟”
حنان ساکت تھا۔
“میری منگنی ہو گئی ہے۔”
ارحہ کی بات پر دونوں منہ کھولے اسے دیکھ رہے تھے۔
“میری نیکسٹ منتھ شادی ہے۔”
اس نے آنسو حلق میں اتارتے ہوۓ کہا۔
“تمہارا دماغ درست پوزیشن پر ہے نا؟”
اس نے کنپٹی کی طرف اشارہ کرتے کہا۔۔
“حنان مما نے مجھے فورس کیا اور۔۔”
اس نے مجرموں کی طرح سر جھکایا۔۔
“میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔”
اس نے نفی میں سر ہلایا۔۔
“ارحہ آپ کو کم از کم ایک بار بتانا چاہیے تھا۔۔”
حنا نے بھی دکھ سے لب کھولے۔
“کیا بتاتی اور اس کو غلط فہمی ہے کہ یہ مجھ سے محبت کرتا ہے حنا ، یہ محبت صرف تم سے کرتا ہے اور میں تو کیا کوئی بھی لڑکی یہ بات کبھی برداشت نہیں کر سکتی کہ اس کا جیون ساتھی اس سے زیادہ اہنی کزن دوست کی پرواہ کرے ،، حنان ابھی بھی وقت ہے کہ دل کی آواز سن لو کیونکہ تم مجھے نہیں چاہتے بلکہ مجھ جیسی پارٹنر چاہتے تھے۔۔”
ارحہ رسانیت سے بولی۔
“تم میرے خلوص پر شک کر رہی ہو؟”
اس نے ابرو اچکا کر اس سے استفسار کیا۔
“حنان ساری زندگی فقط میں یہ نہیں سن سکتی کہ تم مخلص ہو، تم نے کبھی نہیں کہا کہ تم مجھے چاہتے ہو تم نے ہمیشہ یہی بولا کہ مجھ جیسی پارٹنر چاہتے ہو۔”
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیسے کنوینس کرے۔
“ایسا کچھ نہیں ہے ارحہ پلیزز ،،،، آپ کو اگر لگتا ہے ایسا ہے تو میں آپ دونوں سے دور چلی جاتی ہوں کبھی درمیان نہیں آؤں گی بٹ آپ اسے نہ چھوڑئیے ، آپ کی فیملی کو منانا ہماری ذمہ داری ہے۔۔”
حنا تڑپتے ہوۓ بولی تھی۔
“اب دیر ہو چکی ہے حنا ،، میری فیملی نہیں مانے گی، میری کزن سے شادی ہے ساری تیاریاں مکمل ہیں ، ہر جگہ یہ خبر پھیل چکی ہے ، اب ناممکن ہے سب۔۔”
ارحہ نے نفی میں سر ہلایا۔
“میں منا لوں گا سب کو ارحہ ،، تم جو کہو گی میں مانوں گا ، بس تم میرا ساتھ دو۔۔۔”
وہ بے قراری سے بولا تھا۔
میں ساری دنیا سے لڑ لوں گا ایک ہاتھ سے
بس میرے دوسرے ہاتھ میں تیرا ہاتھ ہو
“اب کچھ بھی ممکن نہیں ہے پلیز، سمجھنے کی کوشش کرو یار ،،اگر تمہیں میری عزت کا ذرا سا بھی پاس ہے تو بس خاموش ہو جانا،، تم دونوں کو میں ہمیشہ یاد رکھوں گی اپنی دعاؤں میں اور حنا اس کا بہت خیال رکھنا ۔ اگر تم ہرٹ ہوۓ تو آئم سو سوری حنان ۔۔”
اس نے بھیگی آنکھوں نم لہجے میں کہا۔۔
“ارحہ بے وفائی گناہ ہے۔”
حنان نے بیچارگی سے کہا۔
“نا محرم سے بے وفائی اگر گناہ ہے تو ماں باپ سے بے وفائی اور دل توڑنا کیا ثواب ہے ؟؟ ہماری زندگی کے سارے فیصلے ہماری قسمت کی ڈائری میں پہلے ہی درج ہوتے ہیں اور ہم لوگ ہی بھٹک جاتے ہیں ۔ اللہ خافظ۔ “
وہ آنکھیں رگڑتی ہوئی چلی گئی۔
“ارحہ ،،ارحہ بات سنیں۔۔”
حنا جانے لگی تو حنان نے بازو تھاما۔
“جانے دو اسے، وہ بہت پہلے کی جا چکی تھی ، اب تو بس بتانے آئی تھی۔۔”
اس کا لہجہ سرد تھا۔۔
“ایک بار جانے دو مجھے؟؟”
حنا نے گذارش کی ۔۔
“کیا کہو گی تم ؟؟ مجھے بھیک میں ملی محبت نہیں چاہیے ، اور میرے کسی ایکشن سے اس کی عزت پر حرف آۓ گا ، خاموشی حل ہے۔”
اس نے گہرا سانس لیتے کہا۔
سن بات تیری عزت پر آئی اگر کبھی
تو میں محبت سے ہی مکر جاؤں گا۔
“تم رہ لو گے اس کے بنا؟”
حنا نے بازو چھڑانے کی کوشش کرتے ہوۓ کہا۔
“میں اس کے بنا مروں گا بھی نہیں، سو لیٹس گو۔۔ “
حنان غصے سے کہہ کر چلا گیا تو مجبوراً حنا کو اس کی تقلید کرنا پڑی تھی۔ جونہی حنا گاڑی میں بیٹھی تو وہ ریش ڈرائیونگ کرنے لگا ، یہ اس کے شدید غصے کی گواہ تھی ، حنا نے اسے ڈر سے نہیں بلایا تھا کیونکہ اسے معلوم تھا حنان کو غصہ کم آتا تھا مگر جب آتا تھا تو سب ہی بھول جاتا تھا،،، وہ اتنے غصے میں گاڑی چلا رہا تھا کہ سامنے سے آتا ٹرک بھی دکھائی نہ دیا ۔
“تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا ؟؟؟”
حنا نے اسٹیئرنگ پر کنٹرول کر کے گاڑی کو سائیڈ پر روکا۔
“ہاں ہو گیا ہے میرا دماغ۔۔ “
وہ اس کا ہاتھ جھٹک کر غصے سے بولا۔
“حنان پلیزز کول ڈاؤن، غصہ مسئلے کا حل نہیں ۔”
وہ نرمی سے سے بولی۔
“تم تو بہت خوش ہو گی نا؟؟”
وہ جلے کٹے انداز میں بولا۔
“وٹ؟؟ تمہارا دماغ چل گیا ہے یو نیڈ سائیکائٹرسٹ۔۔ “
وہ شاکی ہوئی۔
“ہاں حنا ،، یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ،تم بہت خوش ہو گی کہ مجھ سے میری آئیڈیل چھن گئی ہے ، ظاہر ہے میں نے تمہیں ریجیکٹ جو کیا تھا اس کا بدلہ تو لینا ہو گا نا تم نے مگر تمہیں ریجیکٹ صرف اس لیے کیا کہ مجھے بس دوست کے روپ میں ہی رکھنا تھا تمہیں مگر تم نے میری محبت اور دوستی کا ناجائز فائدہ اٹھایا ،، یو ہیو ٹو پے، تم نے مجھے چیٹ۔۔۔”
وہ غصے سے پاگل ہو رہا تھا۔۔
“جسٹ شٹ اپ حنان ،، جسٹ شٹ اپ۔۔۔”
وہ انگلی اٹھا کر غصے سے چلائی ۔۔
“یو شٹ اپ،، سنا نہیں تم نے ؟؟ اس نے بولا کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں جس کا صاف اور کلئیر مطلب یہی ہے کہ تم نے ہی بدگمان کیا ہے اسے مجھ سے ،،، وہ بار بار یہی کہہ رہی تھی کہ تم اور حنا ایک دوسرے کے لیے بنے ہو تو ایک دم سے کیوں کہے گی وہ؟؟؟”
وہ غصے میں پاگلوں کی طرح بی ہیو کر رہا تھا۔
“اس کی منگنی میں نے کروائی ہے؟؟”
حنا کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوۓ۔
“وہ میری خاطر اسٹینڈ لے لیتی مگر تم نے تو بہت چالاکی سے سارا کھیل کھیلا ہے حنا کہ مجھے بھی خبر نہ ہو سکی ، دوست بن کر زندگی برباد کر دی ، کاش جتنی معصوم تم دکھتی ہو اتنی معصوم ہوتی بھی، میرا قصور تو بتا دو یار ، کیا نہیں کیا میں نے تمہارے لیے ، تمہاری ہر بات کو میں نے اہمیت دی ، ہر کام ہر خوشی پر پہلی ترجیح تمہیں اس دن کے لیے دی ،، اعتبار توڑ ڈالا تم نے میرا۔ میں نے خود سے زیادہ تمہارا یقین کیا۔۔”
وہ ہارا سا بول رہا تھا ، بدگمانی انتہا پر تھی اس کا ایک ایک لفظ حنا کے دل کو ہی نہیں روح کو بھی چھلنی کر چکا تھا ۔ اس کی آنکھ میں ایک بھی آنسو نہیں تھا۔ وہ اس انسان کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی جو اسے اتنا جاننے کے باوجود بھی اعتبار نہیں کر پایا تھا، وہ کیا خاک صفائی دیتی جب وہ کچھ سننا ہی نہیں چاہتا تھا سارے فیصلے وہ تن تنہا بنا صفائی مانگے کر چکا تھا۔
“میں اب تم سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا ، تم نے مجھے بہت ہرٹ کیا ہے حنا ، اب اعتبار نہیں تم پر۔۔ “
حنان نے کہتے ہوۓ گاڑی اسٹارٹ کی۔
“تمہیں مجھ پر اعتبار تھا ہی نہیں کبھی تو میں توڑتی کیا؟؟ کاش کہ دوستی محبت شرارتیں کچھ نہ ہوتا ہم میں ، ہم فقط کزنز ہوتے اور ایک اعتبار ہوتا ، میں تمہیں صفائی نہیں دوں گی حنان میری صفائی وقت دے گا۔۔۔”
اس نے کہہ کر رخ موڑ لیا ، آواز بھاری ہو رہی تھی۔
“کانٹ بیلیو یو۔”
حنان کہہ کر گاڑی ڈرائیو کرنے لگا ، باقی سارا رستہ دونوں کے درمیان خاموشی ہی رہی تھی ۔ حنان نے سی ڈی پلیئر آن کیا تو آگے ساحر علی بھگا کا ost song چل رہا تھا۔
“نہیں کرنا دل نے بھروسہ یار تیرا۔”
ابھی اتنے ہی الفاظ چلے تھے کہ حنان نے غصے سے آف کر دیا تھا اور حنا نے گہرا سانس لیا۔۔
اس کو نزدیک بھی نہیں آنے دیتا اپنے
میں اگر جانتی اس درجہ ستائے گی حیات










وہ لوگ گھر آۓ تو لاؤنج میں ہلچل مچی تھی ۔
“ارے یہ کپل کہاں سے آر رہا ہے۔”
زرنش بھابھی نے شرارت سے کہا۔ حنا بھاگتی ہوئی ہادی سے ملنے لگی تو حنان سے ٹکرا گئی۔
“بھاگا نہیں جا رہا ہادی کہیں پر۔۔۔”
حنان کا لہجہ پتھر کو بھی مات دے گیا۔
“اسلام علیکم بھابھی ، کیسی ہیں آپ؟؟ ۔۔”
وہ زرنش کے گلے لگی۔
وعلیکم ،، تم کیسی ہو سوئٹ ہارٹ ۔۔۔”
وہ محبت سے بولی تھی ۔ حنان ہادی سے مل رہا تھا۔
“اللہ کا شکر ہے ۔۔”
اس نے ان کو بوسہ دیتے ہوۓ کہا۔
“بھائی ، کیسے ہیں؟۔”
وہ ہادی کے گلے لگی ۔
“ارے بھائی کی جان کیسی ہو؟”
اس نے حنا کر سر پر بوسہ دیا ۔
:؟”حنا تم رو رہی ہو؟؟؟”
اسوہ نے کہا تو ہادی نے اسے فکرمندی سے خود سے الگ کیا اور آنسو پونچھتے ہوۓ پوچھا۔
“حنا بچے کیا ہوا؟؟”
سب نے فکرمندی سے کہا۔
“بھائی کو اتنے سال بعد دیکھا تو ایموشنل ہو گئی ۔۔”
اس نے بمشکل خود کو نارمل کرتے ہوۓ کہا۔
“افف ڈرا دیا تھا تم نے ۔”
اسوہ نے گھورا ، سب اس دلیل کو مان گئے تھے جب کہ حنان جانتا تھا کہ یہ وجہ نہیں ہے۔
“یہ دیکھو حنا ۔”
دعا عالیان کو اٹھاۓ آ گئی۔۔
“عالی،، میری جان۔”
وہ اٹھ کر عالیان کو خود میں بھینچ کر بچوں کی طرح خوشی سے پاگل ہو رہی تھی۔
“پہنچانا مجھے؟”
اس نے عالیان کو محبت سے دیکھا۔
“یس حنا پھپھو اینڈ حنان چاچو پک می اپ۔۔”
اس نے حنان کی طرف بازو پھیلاۓ ۔
“آ جاؤ چاچو کی جان۔”
حنان نے بھی خوشی سے اسے گلے لگایا۔
“بھئی کھانا لگا دو ، بھوک لگی ہو گی بچوں کو۔۔ “
بابا نے کہا تو حنا لوگ اٹھ گئیں۔
“بھئی کیسا گزرا سفر؟؟”
حنان نے دونوں کو دیکھا۔
“اللہ کا شکر ہے اچھا گذر گیا۔”
زرنش نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
“ویسے حنان تم ہینڈسم ہو گئے ہو۔۔”
ہادی ہنستے ہوۓ بولا۔
“اچھا جی ، آپ کا شکریہ ۔ “
اس نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
“عالی بہت خوش ہو رہا ہے۔۔”
زرنش نے خوشی سے کہا۔
“بلکل اپنوں کے سنگ رہنے کا جو مزہ ہے وہ کہیں اور کہاں؟”
ہادی مسکراتا ہوا بولا۔
“کھانا لگ گیا ہے۔”
حنا نے اطلاع دی تو وہ لوگ چلے گئے ، جب کہ حنان وہیں بیٹھا رہا ، ماما نے اسے کہا کہ جاؤ حنان کو بھی بلا کر لاؤ تو اسے چاروناچار آنا پڑا ، حنان موبائل میں سر دئیے بیٹھا تھا ، چہرہ نے تاثر تھا۔
“کھانا کھا لو۔”
حنا نے لاؤنج میں آتے کہا، چوڑیوں نے شور مچایا تھا۔
“مجھے بھوک نہیں ہے۔۔”
حنان نے اس کی کلائی کو دیکھتے ہوۓ اجنبیت سے کہا جہاں ارحہ والی چوڑیاں اودھم مچا رہی تھیں۔
“حنان بھوک ہے یا نہیں مگر بھائی اتنے ٹائم بعد آۓ ہیں تو ساتھ بیٹھ جانے میں کوئی حرج نہیں ۔۔”
اس نے بمشکل غصہ ضبط کرتے ہوۓ کہا۔
“اب تم مجھے بتاؤ گی؟ مجھے کیا کرنا ہے کیا نہیں؟”
وہ تلخی سے بولا۔
“بھئی آ بھی جاؤ دونوں ، سب ویٹ کر رہے ہیں۔ “
دعا نے کہا تو دونوں سر ہلا کر ساتھ چل پڑے۔
اس کے بعد شاندار ماحول میں ڈنر کیا گیا ، ڈنر کے بعد چاۓ پی گئی ، حنان نے جان بوجھ کر چاۓ گرا دی۔
“حنا بیٹا جاؤ حنان کو چاۓ بنا دو ۔۔”
جویریہ بیگم نے کہا تو اس نے سر ہلایا۔ وہ چاۓ بنا کر لاؤنج میں آئی تو وہ وہاں نہیں تھا۔
“بیٹا روم میں گیا ہے وہ ، ادھر ہی دے آؤ ۔۔ “
تائی امی نے کہا تو وہ پیچ وتاب کھا کر رہ گئی ۔ دل نہیں کر رہا تھا مگر سب کے سامنے انکار کیسے کرتی اس لیے چاۓ کا کپ اٹھاۓ اس نے روم کی طرف آ گئی۔۔
“آ جاؤ ۔۔”
اس دستک کو تو وہ ہمیشہ سے پہنچانتا تھا۔
“چاۓ ۔”
حنا نے ٹیبل پر رکھی اور جانے لگی تو حنان نے کلائی تھام لی ، حنا کے دل کی دھڑکنوں نے چوڑیوں کے کہنے پر اودھم مچایا تھا۔
“لیو می ۔”
وہ غصے سے بولی تبھی حنان کلائی کو دوسرے ہاتھ میں منتقل کرتے سامنے آیا۔
“یہ چوڑیا ارحہ نے دی تھی نا؟؟”
حنان نے بنا دیکھے کہا تو حنا کو سارا کھیل سمجھ آ گیا۔
“حنان میں ، میں یہ ابھی چوڑیاں اتار دوں گی مگر تم توڑو گے نہیں پلیزز ۔”
اس نے ریکوسٹ کی۔
“کتنا جانتی ہو نا مجھے ؟ بٹ ہو تو دھوکے باز۔”
وہ طنزیہ بولا تھا اور کلائی پر ہاتھ چوڑیوں کی جگہ رکھا تو حنا نے کلائی کھینچی مگر گرفت مضبوط تھی۔
“حنان پلیزززز ،، لیو. ۔۔۔”
اس نے نم ہوتی آنکھوں سے کہا۔
“قسم سے کبھی نہیں پہنوں گی یہ چوڑیاں مگر توڑو نہیں پلیز مجھے تکلیف ہو گی ۔۔”
اس نے لب کاٹتے ہوۓ کہا۔
“اگر ٹوٹی نہ تو مجھے تکلیف ہو گی میری جان۔۔”
اس نے کہتے ساتھ ہاتھ کے نیچے دبی چوڑیوں پر دباؤ ڈالا تو چوڑیاں کرچی کرچی ہوتی نیچے قالین پر بکھر گئی تھی ، کتنی چوڑیوں کے ٹکڑے اس کی کلائی اور حنان کے ہاتھ پر زخم چھوڑ گئے ۔ حنا ساکت سی دیکھ رہی تھی۔
“خون؟”
حنان کو چار سو چالیس وولٹ کا کرنٹ لگا تھا۔۔
