Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary NovelR50591 Kaanch Ki Choriyan (Last Episode)Part 1
Rate this Novel
Kaanch Ki Choriyan (Last Episode)Part 1
Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary
“چلو ہمیں نیناں کے ایڈمیشن کے لیے جانا ہے۔۔”
عارش نے کہا۔
“جی اوکے۔”
وہ اٹھ کر چلی گئی۔
“ارے میری جان تو آج بلکل فیری (پری) لگ رہی ہے۔”
عارش نے مسکرا کر نیناں کو اٹھایا۔
“اور مما؟”
اس نے ارحہ کی طرف اشارہ کیا۔
“آپ بتائیے ؟”
عارش نے ارحہ کو ایک نظر دیکھ کر اس سے پوچھا۔
“ماما میری آئیڈیل ہیں،، اور میں جب بھی مما کو دیکھتی ہوں میرے مائنڈ میں پتہ کیا آتا ہے ؟”
نیناں نے عارش کی گردن کے گرد بازو پھیلاتے ہوۓ کہا۔
“کیا؟”
عارش نے اسے دیکھا۔
“شی از کوئین۔ ایم آئی رائٹ بابا۔۔۔؟”
وہ محبت سے بولی تھی۔
“بابا ؟”
عارش کو خاموش دیکھ کر اس نے پھر پوچھا۔
“یس یو آر رائٹ مائی فیری۔۔۔”
وہ اسے پیار دے کر بولا۔
“چلیں؟”
اس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو ارحہ نے سر ہلایا۔
“ماشأاﷲ شی از ویری جینئس۔۔”
پرنسپل نیناں سے امپریس ہوئی۔ اس کا ایڈمیشن عارش نے اسی اسکول میں کروایا تھا۔
“اوکے آپ اور ماما گاڑی میں بیٹھو، میں آپ کی اسٹیشنری لے کر آیا۔۔ “
عارش کو یاد آیا تو ارحہ اور نیناں نے سر ہلایا۔
“ارحہ ۔۔۔”
حنان جو منان کی ٹیچر سے مل کر واپس جا رہا تھا ان لوگوں کو گاڑی میں دیکھ کر چونکا۔
“اسلام علیکم! کیسی ہو ارحہ ؟”
وہ مسکرا کر ان کی جانب آیا۔
“تم۔۔۔”
ارحہ کا حلق خشک ہوا۔
“یس واٹ اے پلیزنٹ سرپرائز ۔ عارش کدھر ہے؟؟”
وہ خوشی سے بولا۔
“اینڈ یہ تمہاری بیٹی ہے؟”
اس نے مسکرا کر نیناں کو دیکھا۔
“حنان پلیز یہاں سے جاؤ ابھی کے ابھی۔۔”
ارحہ نے گذارش کی۔
“ارحہ میری بات سنو۔۔۔”
اس نے الجھ کر کہا۔
“حنان پلیز عارش آنے والے ہیں میری زندگی مزید جہنم بن جاۓ گی خدا کے لیے چلے جاؤ پلیززززز ۔۔”
اس نے ہاتھ جوڑ دئیے۔
“ارحہ نہیں ،، میں چلتا ہوں۔۔ “
وہ تاسف سے سر ہلاتا چلا گیا مگر ارحہ کے چودہ طبق روشن ہو گئے جب گیٹ پر عارش کو دیکھا۔
عارش کا موڈ سارا رستہ خراب رہا تھا جس پر ارحہ کو شدید ڈر لگا رہا ،،، خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ لگ رہی تھی۔ دل سوکھے پتے کی مانند کانپ رہا تھا۔ اس کے بعد عارش آفس چلا گیا تھا واپس آیا تو نو بج رہے تھے، کوٹ کو دوسرے بازو پر منتقل کرتے ہوۓ وہ اندر داخل ہوا ، وہ بے چینی سے ٹہل رہی تھی۔
“کہاں رہ گئے تھے آپ؟ کب سے ویٹ کر رہی تھی میں آپ کا، کتنا پریشان ہو گئی تھی میں؟؟”
ارحہ بے چینی سے آگے بڑھی۔
“تمہیں کیا لگا سوسائیڈ کر لی؟؟ میں نے تب نہیں کی جب کرنی چاہیے تھی تو اب کیا کروں گا جب جینے کو وجہ بھی ہے نیناں ۔”
وہ تلخی سے بولا تو ارحہ نے خاموش رہنا بہتر جانا۔
“فیـری بیٹا کدھر ہو ؟”
وہ صوفے پر بیٹھتے ہوۓ بولا۔
“وہ چھت پر ہے،،، علیحہ کی کال آئی ہے۔۔”
اس نے بتایا تو عارش روم میں چلا گیا۔
“کھانا لگاؤں ؟”
ارحہ نے کہا تو اس نے سر ہلایا۔ ارحہ کھانا لگا کر اس کا وہیں ویٹ کرنے لگی، پانچ منٹ بعد وہ ٹراؤزر اور ٹی شرٹ میں باہر آ گیا ،۔ کھانا نکال کر دو نوالے ہی کھاۓ جب دھیان ارحہ کی طرف گیا جو فرش کو گھور رہی تھی، پتہ نہیں کیوں اسے بے تحاشہ غصہ آیا۔
یہ کھانا بنایا ہے تم نے ،،؟؟؟؟ تمہارا دھیان کہاں رہتا ہے ،،،،،، اپنے عاشق میں۔۔۔۔۔“
وہ غصے سے چلایا تھا۔۔۔۔
”کھانا تو اچھا ہے،؟؟؟؟میں اور بنا لاتی ہوں۔۔۔۔۔“
وہ آنسو پیتے ہوۓ بولی۔۔۔۔۔
”نہيں کھانا مجھے تمہارے ہاتھ کا بنا زہر۔۔۔۔۔۔“
وہ انگارے برساتی آنکھوں سے دیکھتے ہوۓ بولا۔
”آٸم سو سوری۔۔۔۔۔“
اب غلطی نہيں تھی پھر بھی ہر بار سوری کہنا پڑتا تھا جب کہ صرف اک بار غلطی کی تھی۔۔۔
”میں شادی کر رہا ہوں بہت جلد ،،،،،، میں نے صرف اپنی پرنسس نیناں کے لٸے نہيں کی تھی ابھی تک شادی بٹ اب اور نہيں ،،،،، تم چاہو تو رہ لینا یہاں ورنہ چلی جانا ،،،،،مجھے کوٸی ضرورت نہيں تمہاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
اس کا لہجہ پتھر کو بھی مات دے رہا تھا۔۔۔۔
”ش،،،شادی ،،،،،مگر کیوں،،،،، آپ مجھ سے محبت کرتے تھے نا؟؟؟“
وہ ہکلاتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔۔۔
”محبت نہيں غلطی کی تھی ورنہ تم جیسی گھٹیا عورت میرے قابل نہيں تھی۔۔۔۔۔۔“
اس کے ماتھے کی واضح رگیں اس کے غصے کا پتہ دے رہی تھیں ،،،،، وہ دکھ سے اسے دیکھ رہی تھی ،،،، آنکهوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔۔۔۔
”اب کیا ہوا میں مر گیا ہوں جو سر پر کھڑی یوں روۓ جا رہی ہو،،،،،،،“
وہ سرخ ہوتی آنکهوں سے بولا تھا۔۔
”اللہ نہ کرے،،،،،،،“
اس نے فوراً اس کے لبوں پر ہاتھ رکھا ،،،، وہ اس کی اس حرکت پر چونکا تھا۔۔۔
”اللہ پاک آپ کو میری بھی عمر لگا دے ،،،،،،، زندگی کے کتنے سال گزر گٸے آپ کو میری محبت کا ، میری وفاداری کا یقین نہيں آیا عارش ،،،،،، میں اپنی جان دے کر بھی یقین دلا سکتی ہوں ،،،، پر ڈر ہے کہ کہیں آپ کو دکھ نہ ہو ،،، پچھتاوا نہ ہو ، آپ اذیت سے نہ گزریں اور نیناں کا کیا ہو گا ورنہ آپ کی بے رخی سہتے سہتے میں شوخ و خوش رنگ چوڑیوں سے چور چور ہوٸی چوڑیاں بن گٸ ہوں ،، میں نے خود کو ایک خول میں مقید کر لیا آپکی وجہ سے۔۔۔ یو ہرٹ می ویری مچ ،،،،، کبھی سوچا ہے ایک لمحے کو بھی کہ میں ان سالوں میں سب کیوں ، کیوں سہتی رہی ہوں ،،،، اگر میں آپ کی نہ ہوتی یا آپ کو مجھ پر یقین ہوتا تو بیرون شہر اور بیرون ملک میٹنگز ہر ٹینشن سے آزاد ہو کر اٹینڈ نہ کرنے جاتے ،،،،، آپ کا indirectly مجھ پر یقین مجھے ہمیشہ خوشی دے جاتا مگر direct نفرت کا اظہار کرنا مجھے توڑ جاتا،،،،،، اب تھک چکی ہوں میں ،،،،، ٹوٹ چکی ہوں میں،،،، اب مزید سہنے کی ہمت نہيں مجھ میں،، عارش بس کر دیں میری سزا کو یا اپنے ہاتھوں سے گلا دبا دیں، میں اس گھٹن زدہ ماحول سے تنگ آ گئی ہوں، سانس لیتی ہوں تو ڈر لگتا ہے کہ آپ کو برا نہ لگ جائے ، میں وحشت سے مر جاؤنگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
وہ کہتے کہتے رو دی اور گھٹنوں کے بل نیچے قالین پر بیٹھ گٸ اور وہ حیران و ساکت سا اسے دیکھ رہا تھا ،،،،،الفاظ جیسے ختم ہو گٸے تھے اور وہ بس روۓ جا رہی تھی، آج اس کا حوصلہ ہمت برداشت سب جواب دے گیا تھا۔۔۔۔
“مجھے کوئی ڈرامہ نہیں چاہیے،، جاؤ۔۔۔”
عارش کے دل کو کچھ ہوا تو وہ مزید غصہ کرتا خود ہی دل کو سنبھالتا وہاں سے چلا گیا۔
“میں آپ کو معاف نہیں کروں گی،،، رونا پڑے گا آپ کو ،، ہاں مما بابا نیناں اور رانیہ مجھے معاف کر دینا۔۔۔”
وہ آنسو پونچھتی اٹھی تبھی نیناں آ گئی۔
“بابا کدھر ہیں؟”
نیناں نے ارحہ سے پوچھا۔
“ان کی ایک کال آ گئی ہے،، آپ روم میں آؤ مجھے آپ سے امپورٹنٹ بات کرنی ہے۔۔۔ “
ارحہ نے کہا تو وہ سر ہلا کر چل دی۔ عارش نیناں کی آواز سن کر باہر آ گیا تھا اور اسے وہاں نہ پا کر اس کے روم کی طرف آیا مگر ارحہ کی آواز پر دروازے پر ہی رک گیا اور گفتگو سننے لگا۔
“نیناں میری جان ہو آپ،،، آپ کو پتہ ہے ناں کہ مما سب سے زیادہ آپ کو پیار کرتی ہیں ،،، اس لیے مجھے معاف کر دینا آپ۔۔۔”
اس نے نیناں کو ساتھ لگایا۔
“ماما جی،،، کیوں بول رہی ہیں آپ ایسا ؟”
وہ الجھی۔
“آج میں آپ کو کچھ باتیں بتاؤں گی اگر آپ کو یاد نہ رہیں تو میں لکھ کر دے جاؤں گی ، آپ بہت جینئس ہو سو مجھے یقین ہے کہ سمجھ جاؤ گی آج ہی ،۔۔”
اس نے آنسو حلق میں اتارے، عارش الرٹ ہو گیا۔
“آپ ایک لڑکی ہو، ایک بیٹی ہو، آپ پر بہت ذمہ داریاں ہیں، آپ کے بابا کو بہت مان ہے آپ پر،،، نیناں آپ نے ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی ہے کہ کبھی بھی کسی لڑکے سے فرینڈشپ نہیں کرنی، کسی بھی قیمت پر نہیں ، آپ کو جسٹ اپنی پڑھائی پر فوکس کرنا ہے، اپنے بابا سے کبھی بھی جھوٹ نہیں بولنا نہ ہی کچھ چھپانا ہے،، آپ کے بابا آپ سے بہت پیار کرتے ہیں ان کا بہت خیال رکھنا ، کبھی ناراض مت ہونا اور اگلی بات جو بتانے جا رہی وہ جب آپ بڑی ہو جاؤ گی تب کے لیے ہے،،، نیناں اگر آپ کو کوئی پسند آۓ گا تو آپ سب سے پہلے آپ اپنے بابا کو بتاؤ گی، آپ کو پتہ ہے اگر آپ کسی بھی لڑکے سے فرینڈ شپ کرو گی اور بعد میں کسی کو پتہ چلا تو آپ کی ساری لائف، سب ہیپینس ، سب پیس، سب ریلیشنز ختم ہو جائیں گی، آپ کبھی بھی کسی سے دوستی نہ کرنا۔ میری باتوں کو کبھی نہ بھولنا ، کبھی بھولی تو یاد رکھنا آپ کی مما آپ سے کبھی بھی بات نہیں کریں گی،۔۔۔ “
ارحہ نے نم آنکھوں سے اسے سمجھایا۔ عارش کے دل اور دماغ کسی شکنجے میں آ گئے۔
“بٹ مما آپ کدھر جا رہی ہیں؟”
نیناں نے پوچھا۔
“کہیں نہیں بس یہ یاد رکھنا کہ لڑکے ہزاروں00 سے بھی بات کریں تو بھی کچھ نہیں ہوتا مگر لڑکی فرینڈشپ بھی کرے تو بیٹا ساری زندگی کا طعنہ بن جاۓ گا،، بس اپنا بہت خیال رکھنا ،،،، آج میں تمہارے پاس سو جاؤں نا ؟”
ارحہ نے نیناں کو دیکھا تو اس نے سر ہلایا۔
“مما از ایوری تھنگ از اوکے۔؟؟”
نیناں فکرمندی سے بولی۔
“جی مما کی جان۔۔”
ارحہ نے اسے خود میں بھینچ کر آنسو اس کے بالوں پر بہا دئیے۔
“میں تمہیں ابھی نہیں بتا سکتی مما کی جان،،، شاید کبھی نہیں ،،، کہیں تم بھی اپنے باپ کی طرح نفرت نہ کرنے لگ جاؤ مجھ سے۔، میں اپنے مرنے کے بعد کبھی بھی تمہاری نفرت نہیں سہہ پاؤں گی،،، جانتی ہوں تمہیں میرے بنا جینا محال لگے گا مگر میں اب مزید الزمات کے ساۓ میں نہیں جی سکتی ، میری ہمت ٹوٹ گئی ہے۔۔۔۔”
وہ مسلسل رو رہی تھی۔
وہ درد، وہ وفا، وہ محبت تمام شُد
لے! دل میں ترے قرب کی حسرت تمام شُد
یہ بعد میں کُھلے گا کہ کس کس کا خُون ہوا
ہر اِک بیاں ختم، عدالت تمام شُد
تُو اب تو دشمنی کے بھی قابل نہیں رہا
اُٹھتی تھی جو کبھی وہ عداوت تمام شُد
اب ربط اک نیا مجھے آوارگی سے ہے
پابندیِ خیال کی عادت تمام شُد
جائز تھی یا نہیں، ترے حق میں تھی مگر
کرتا تھا جو کبھی وہ وکالت تمام شُد
وہ روز روز مرنے کا قصہ ہوا تمام
وہ روز دِل کو چِیرتی وحشت تمام شُد
“محسن” میں کُنجِ زیست میں چُپ ہوں پڑا
مجنُوں سی وہ خصلت و حالت تمام شُد













“ارحہ کیوں ایسی باتیں کر رہی تھی؟ کیا کرنے والی ہے وہ؟ کیا وہ جا رہی ہے گھر چھوڑ کر یا خود کو نقصان پہنچانا چاہ رہی ہے ، نہیں وہ ایسا نہیں کر سکتی۔۔۔”
عارش نے گہرا سانس لیتے خود کو نارمل کیا۔
“میرا دل ارحہ کی گواہی کیوں دیتا ہے ہمیشہ سے؟ کیا میں ہی غلط ہوں بس؟ مجھے ایک بار تو صفائی سن لینی چاہیے تھی نا،، شادی کے بعد تو مجھے ارحہ کی محبت میں کوئی کمی بھی نہ دکھائی دی تھی،، کیا میں نے جذباتی فیصلے کر کے اپنی لائف اور حنان سے فرینڈشپ تباہ کر دی،،،، آخر کچھ تو ہے نا ؟؟؟”
وہ ٹیرس پر کھـڑا دور خلاؤں میں گھور رہا تھا۔
“اگر قصوروار میں ہوا تو؟”
دماغ سے پردے چھٹ رہے تھے۔
عجب تقاضے ہیں چاہتوں کے
بڑی کٹھن یہ مسافتیں ہیں
میں جس کی راہوں میں بچھ گیا ہوں
اسی کو مجھ سے شکایتیں ہیں
شکایتیں سب بجا ہیں لیکن
میں کیسے اس کو یقیں دلاؤں
وہ مجھ کو جاں سے عزیز تر ہے
اسے بھلاؤں تو مر نہ جاؤں
میں اس خاموشی کے امتحاں میں
کہاں کہاں سے گزر گیا ہوں
اسے خبر بھی نہیں ہے شاید
میں دھیرے دھیرے بکھر گیا ہوں..!
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
“منان کی ٹیچر نے کیوں بلایا تھا حنان ؟”
حنا نے اسے دیکھا جو ٹی وی دیکھ رہا تھا۔
“حنان ؟”
حنا نے اسے گم صم دیکھ کر اس کا کندھا ہلایا۔
“جی حنان کی جان۔۔”
وہ مسکرا کر خود کو نارمل کرنے لگا۔
“کیا سوچ رہے ہو؟
اس نے استفسار کیا۔
“ایک بوجھ ہے دل پر، اب شئیر کرنا چاہتا ہوں ۔۔”
اس نے حنا کا ہاتھ تھام کر کہا۔
“تم اکثر پوچھا کرتی تھی نا؟ عارش سے بات کیوں نہیں ہوتی مگر میں کہتا یار ہوئی ہے ہر بار جھوٹ کہا۔”
وہ تاسف سے بولا۔
“مجھے معلوم ہے۔۔”
اس نے سر ہلایا تو حنان نے ساری بات گوش گذار کی۔
“میری وجہ سے ان کی لائف تباہ ہو گئی یار،،، میں سمجھا کہ عارش سمجھ گیا ہو گا مگر میں بھول گیا کہ وہ اپنی آئی پر آۓ تو سب تباہ کر دے،،، اس گدھے نے اپنی زندگی کے اتنے حسین سال برباد کر دئیے۔۔۔”
دکھ سے کہہ کر حنان نے چہرے پر ہاتھ پھیرے۔
“کاش تم مجھے سب پہلے بتا دیتے تو آج یہ سب نہ ہوتا،،، ہم کل جائیں گے عارش بھائی کو سمجھائیں گے،،، اب تو وہ بھی تھک گئے ہونگے انہیں بھی کسی بہانے کی ضرورت ہو گی، سب ٹھیک ہو جاۓ گا ڈونٹ وری۔۔۔ “
حنا نے اس کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی۔
“چوڑیوں کی کھنکھن میرے ہر بوجھ کو بانٹ دیتی ہیں۔”
وہ مسکرایا تھا تو حنا نے سر اس کے شانے پر رکھ دیا۔
“حنا ؟”
حنان کی آواز پر اس نے سر اٹھایا۔
“آئی لو یو سو مچ۔۔”
وہ مسکرا کر محبت سے اس کی چوڑیوں پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولا تھا۔
“آئی لو یو ٹو ۔۔”
وہ بھی مسکرا کر بولی ،، جواباً بہت کم وہ کہتی تھی۔
میری چوڑیاں جب کھنــکھتی ہیں تو دل کھڑک جاتا ہے
عالم کیا ہو گا جب ہوں گے تیرے ہاتھوں میں میرے ہاتھ









ناشتے کی ٹیبل پر خاموشی تھی پتہ نہیں کیوں عارش کا دل گبھرا رہا تھا۔ اس نے ٹائی کہ ماٹ ڈھیلی کی اور چیئر پر بیٹھ گئی۔
“ماشأاﷲ میری پری تو چاند کا ٹکڑا لگ رہی ہے۔۔”
عارش نے نیناں کو یونیفارم میں آتے دیکھ کر کہا۔
“ماما۔۔۔”
نیناں نے ماں کے گلے میں بانہیں ڈالیں اور ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ عارش سے پہلے ماں سے ملی تھی اور یہی بات عارش کو وہم میں مبتلا کر گئی۔ ارحہ نے چپکے سے آنسو پونچھے جو مسلسل بہہ رہے تھے مگر عارش نے دیکھ لیا۔
“تمہاری طبیعت ٹھیک ہے؟”
عارش نے پوچھا تو ارحہ نے بنا دیکھے سر اثبات میں ہلایا ،،، عارش کا دل چاہا کہے جھوٹ نہ بولو پلیز۔
“میں نے آپ کے لیے بہت کچھ بنایا ہے، آج لنچ میں سینڈوچ اور نگٹس بناۓ ہیں کھا لینا یاد سے۔۔”
ارحہ نے اسے بوسہ دے کر کہا۔
“ماما آپ رو کیوں رہی ہیں ؟”
وہ الجھی۔
“آپ گاڑی میں بیٹھو بیٹا۔۔۔”
عارش نے اسے کہا تو اس نے سر ہلایا۔
“ایک منٹ پلیز۔”
ارحہ نے گذارش کی۔
“نیناں! آپ اپنا بہت خیال رکھنا،، بہت زیادہ،،، آئی مس یو سو مچ۔۔ “
ارحہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
“ارحہ۔۔۔۔”
عارش گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھا۔
“تمہاری طبیعت ٹھیک ہے؟”
عارش نرمی سے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔
“آئم فائن،،، کچھ نہیں ہوا مجھے۔۔۔”
وہ اس کا ہاتھ جھٹک کر بولی۔
“نیناں آئی لو یو،،، گڈ باۓ۔۔۔”
وہ اسے بوسہ دے کر بولی۔
“لو یو ٹو مما۔۔۔”
وہ بھی اسے پیار دے کر بولی۔
“گڈ باۓ۔۔۔”
وہ چلی گئی، عارش کا دل چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ مت جاؤ افس مگر جانے کیوں وہ چلا گیا۔
“میری بیٹی مجھے معاف کر دینا کہ تم پہلے دن اسکول گئی واپس اؤ گی تو تمہاری ماں نہیں ہو گی۔۔”
وہ پلر کے ساتھ بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
ان جَلتے بُجھتے چراغ کو تیری آ ندھیوں سے گِلہ نہیں
جو سہا ہے میں نے سہا مگر کبھی تُجھ سے کُچھ بھی کہا نہیں
تیری خُوشبوٶں میں میں رچی بسی میں یہ سوچتی رہی دیر تک
وہ قریب میرے رہا مگر کبھی اُس نے مُجھ کو پڑھا نہیں
وہ غزل کی روپ کی شخصیت جو ہسی میں پُھول چُھپائے تھی
وہ گیا تو اس کے مزاج سا مُجھے شخص کوئی مِلا نہیں












“ماما میں اور حنان کسی ضروری کام سے جا رہے ہیں، حبہ اٹھنے والی ہے خیال رکھیے گا۔۔ “
حنا نے فکرمندی سے کہا۔
“ٹھیک ہے جلدی آ جانا اس کا دل نہیں لگتا۔”
جویریہ بیگم نے سر ہلایا تو وہ چلی گئی۔











“بوا آپ نیناں کا خیال رکھیے گا، جو چیز کہے وہی بنا کر دیجیے گا ، سب ریسپیز سکھا دی ہیں آپ کو۔۔”
ارحہ نے بوا کو سمجھایا۔
“آپ کہاں جا رہی ہیں؟”
بوا نے پوچھا۔
“hell”
وہ اداسی سے مسکرائی۔
“جی؟”
بوا نے نا سمجھی سے دیکھا۔
“بوا دوست کے گھر۔۔۔”
وہ چلی گئی۔
“ویلکم مسز، ماما آئی لو یو۔ “
کتنے جملے کانوں میں باز گشت کر رہے تھے۔
