Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary NovelR50591 Kaanch Ki Choriyan (Episode 09,10)
Rate this Novel
Kaanch Ki Choriyan (Episode 09,10)
Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary
اسے مجھ سے محبت نہیں ہے
یہ بات مجھ سے چھپائی جاۓ
وہ لاؤنج میں بیٹھی تھی جب جویریہ بیگم آئیں۔
” تم نے حنان کو کہا کہ اریز کے رشتے سے انکار کر دیں۔”
جویریہ بیگم نے پوچھا تو وہ خاموش رہی۔
” میں کچھ پوچھ رہی ہوں ۔؟؟؟”
انہوں نے غصے کو ضبط کرتے ہوۓ کہا۔
” ماما میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔”
اس نے ناخنوں سے کھیلتے غصہ ضبط کرتے ہوۓ کہا۔
” تو ہم کون سا ابھی شادی کر رہے ہیں،، منگنی ہوتی بس، حنا ایسے اچھے پروپوزل بار بار نہیں ملتے۔”
جویریہ بیگم نے اسے دیکھا ۔
” تو سیدھا سیدھا کہیے نا کہ بوجھ بن گئی ہوں اب آپ لوگوں پر ، کر دیں ہاں جس مرضی کو،، میری بلا سے۔ “
وہ غصے سے کہ کر چلی گئی۔
” حنان نے تمہیں یقین دلایا ہے نا کہ وہ اس کے لئے اریز سے بھی اچھا رشتہ لاۓ گا تو تم بھی ریلیکس ہو جاؤ۔ “
فرح بیگم نے لاؤنج میں آتے ہوۓ کہا ۔
” میں نے تو سوچا تھا کہ آخری ٹرائی کر لوں مگر یہ لڑکی کسی کی نہیں سنتی ، اچھا حنان نہیں آیا ابھی تک؟”
جویریہ بیگم نے بات کا رخ بدلا۔
” ہاں اس کی ابھی ابھی کال آئی تھی اس کی میٹنگ ہے تو اب کراچی جا رہا ہے وہ۔۔ “
انہوں نے بتایا ۔
” ارجنٹ ہی آ گئی ،
چلو اللہ پاک اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔”
جویریہ بیگم نے کہا ۔
” ہاں آمین ، اچھا دعا آ رہی ہے ، میں بچوں کے لئے سینڈوچ بنا لوں اور تم ایسا کرو کہ چائنیز رائس بنا لو۔”
فرح بیگم نے کہا تو انہوں نے سر ہلایا۔
،،،،،،،، ![]()
![]()
![]()
![]()
،،،،،،،،
” ارحہ کدھر ہے ؟”
عارش نے شبانہ کو دیکھا ۔
” وہ تو اپنے روم میں ہیں ، بلاؤں ان کو۔”
شبانہ نے اس کو دیکھا۔
“ہاں بلاؤ بلکہ رکو میں خود جاتا ہوں۔”
وہ اٹھ کر چلا گیا۔
“حنان تم کب واپس آؤ گے ؟”
وہ اداسی سے بولی۔
” میں وہاں ہوتا تو تم کون سا ملتی تھی ۔”
وہ منہ بنا کر بولا ۔
“ہاہاہاہا ، لیکن حنان دل کو یہ تو تسلی تھی نا کہ ہم دونوں ایک شہر ہیں ، دھوپ ، چھاؤں ، بارش دونوں انجواۓ کریں گے اور کراچی اتنی دور۔”
وہ کافی گہرائی سے بولی۔
” تو اب یہ سوچ لو ایک آسمان کے نیچے ہیں ۔ “
وہ مسکراتا ہوا بولا تھا۔
” اچھا حنان کوئی آ رہا ہے آئی کال یو لیٹر ، باۓ۔ “
اس نے کال کاٹ دی۔
“آ جائیں۔”
اس نے دستک پر کہا۔
” عارش بھائی آپ ؟”
اس نے چونک کر دیکھا کیونکہ وہ پہلی بار اس کے روم میں آیا تھا ۔
” ہاں میں ، تم آفس کیوں نہیں آئی آج ؟”
عارش نے نفاست سے سجے ہوۓ کمرے کو دیکھا ۔
” وہ کل تو میں یونہی آئی تھی ، روز تھوڑی نا جانا ہے۔ “
اس نے فوراً بتایا۔
” بٹ وی نیڈ یو ، سو کل سے آفس جانا ہو گا تمہیں بھی، جو کام تمہیں سمجھایا تھا وہ ہی کرنا ہے تمہیں ، تمہارا بزنس پڑھنا کہاں کام آۓ گا۔”
عارش نے کہا تو وہ بے اختیار خوش ہوئی۔
“اوکے ڈن ، میں کل سے آ جاؤں گی ۔ “
وہ مسکراتے ہوۓ بولی۔
” اوکے میں چلتا ہوں ، ٹیک کئیر باۓ۔”
وہ جانے لگا ۔
” آپ بیٹھتے میں کوفی لاتی ہوں۔”
اس نے عارش کو جاتے دیکھ کر کہا۔
” ہمممم لاؤنج میں لے آؤ پھر ۔”
وہ چلا گیا ۔
” بھئی لڑکی آفس جاتی اچھی لگے گی کیا؟”
دادو نے عارش کو گھورا۔
” نانو دیکھیں ارحہ کے اندر ٹیلنٹ ہے سو آپ بے فکر رہیں، آپ کی پوتی بلکل سیو رہے گی اور مامو کی اکلوتی اولاد ہے تو اسے سارے بزنس کو سنبھالنا چاہیے۔”
عارش نے دھیرے سے نانو کو سمجھایا۔
” بھئی ہمیں تم پر یقین ہے اور لڑکیاں گھر سنبھالتی اچھی لگتی ہیں یوں دفتروں میں جاتی نہیں ۔”
نانو نے اسے گھورا۔
“نانو جان ، بلکل درست کہا آپ نے لیکن اس کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے دیں ، عورت کو مضبوط بننا چاہیے ، کل خدا نہ کرے حالات برے ہوں تو اسے کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔”
عارش نے انہیں پس منظر بتایا۔
” بھئی عجیب ہو تم بھی ، شادی کا کہا ہے تو اسے نوکری پر لگا دیا ہے ۔ “
نانو کو تو کسی طور پسند نہیں تھا۔
” شادی کر لوں گا فکر نہ کریں اور آپ کی ارحہ وہاں آرام دہ چئیر پر بیٹھ کر بس لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلانی ہیں گھر موویز ، ڈرامے دیکھ دیکھ کر ہلکان ہو رہی ہے اسی لئے یہ فیصلہ کیا ہے ۔ “
عارش نے مسکرا کر کہا۔
” آج آنے دو تمہارے مامو کو تو کرتی ہوں بات۔”
نانو نے اسے دیکھتے ہوۓ کہا۔
“اوکے لیکن نانو پہلے آپ ارحہ سے پوچھ لینا ، اگر وہ ذرا سا بھی اشارہ کرے کہ نہیں ہے انٹرسٹڈ تو براۓ مہربانی اسے بلیک میل نہ کرنے لگ جانا ، میں اس سے طوفانی محبت نہیں کرتا سو اس بات کا دھیان رکھیے گا کہ اس کی بھی مرضی شامل ہو یہ نہ ہو کہ اس جذبات کا جنازہ نکال دیں ، بلکہ میں خود بھی کروں گا بات۔”
اس نے سوچتے ہوۓ نانو کو کہا ۔
” ارے کر لوں گی بات میں ، مجھے یقین ہے نہیں کرے گی وہ انکار ، بلکہ خوش ہو گی۔”
نانو نے قیاس آرائی کی تبھی ارحہ کوفی لے کر آگئی۔
” یہ رہی آپ کی کوفی عارش بھائی ۔ “
اس نے کپ ٹیبل پر رکھا۔
” تھینکس ،تم نے اپنے لئے نہیں بنائی کوفی ؟”
عارش نے اسے دیکھا ۔
” نہیں ، میں سونے لگی ہوں ۔”
وہ جماہی روک کر بولی۔
“وٹ؟ یہ کون سا وقت ہے سونے کا ، کو ئی روٹین ہوتی ہے کہ جب دل چاہا تب سونے لگ جاؤ۔”
عارش نے اسے گھورا۔
” وہ میرے سر میں پین ہو رہی ہے ، اسی لئے۔ “
اس نے بہانہ بنایا۔
“ادھر آؤ میں مالش کروں ۔۔”
دادو نے فوراً کہا۔
“نہیں دادو ،، میں نے ٹیبلٹ لی ہے ۔ “
وہ فوراً بولی بھلا عارش کے سامنے کہاں تیل لگواتی ۔۔
” میں نے کچھ نہیں سننا ، یہاں بیٹھو ، جانے کب تیل لگایا تھا دماغ بھی خشک ہو رہا ہو گا، شبانہ تیل لاؤ۔”
دادو نے کہا تو اس نے گہرا سانس لیا کہ عارش کے سامنے انکار کرنا ایزی نہ تھا۔۔
“اوکے ۔۔”
وہ چاروناچار نیچے بیٹھ گئی ، تبھی شبانہ تیل لئے آ گئی ، ارحہ نے منہ بناتے ہوۓ بال کھولے ۔
“دیکھو کتنے لمبے بال ہوتے تھے اس کے ، اور اتنے سلکی ہوتے تھے تو اب دیکھو سیمنٹ کی طرح کھردرے ہو رہے۔”
دادو نے کہا تو ارحہ تلملائی۔
” خود بتاؤ تم ؟ کل تمہاری شادی کرنی ہے اور تمہارا شوہر تو دیکھے بھی نہ بالوں کی طرف ۔ “
دادو کی بات پر وہ بلش کی تھی ، اس لئے گردن مزید جھکا گئی ، عارش بظاہر تو فون پر لگا تھا مگر دھیان سارا ان پر تھا۔
” بھئی میں تو اس کے سامنے حجاب میں رہوں گی ۔”
وہ فوراً بولی ۔
” ہاں جیسے وہ تمہارا شوہر نہیں ڈرائیور ہو گا۔ “
دادو کی بات پر اس نے دانت پیسے جبکہ عارش کا فلک شگاف قہقہہ بلند ہوا ۔
“اللہ پاک عارش بھائی کو ایسے ہی ہنساتے رکھنا ، آمین۔ “
وہ دل میں دعا کرتے ہوۓ بولی۔
“بہت اچھا کیا ماں جی ، اس لڑکی کے بال جھاڑو لگ رہے تھے ، منع بھی کیا تھا کہ کلر نہ کرنا پھر بھی،،، اب دیکھیں لگ رکا پہاڑی بکری کے بال ہیں۔ “
تنزیلہ بیگم نے کہا تو ارحہ نے دانت پیسے۔
” تو کلر کیوں کرتی ہو تم ارحہ ؟ “
عارش نے اسے دیکھا۔
” فنکشن تھا یونی میں ۔۔”
وہ منمنائی ۔
“یہ زمانہ جاہليت ہے ، تمہیں سر ننگا کرنے کی اجازت نامحرم کے سامنے کس نے دی ہے؟؟؟؟”
عارش کا انداز خاصا چبھتا تھا۔
” لیکن عارش بھائی ہمیں زمانے کے ساتھ چلنا پڑتا ہے۔”
وہ کمزور سی دلیل دے کر بولی۔
“چاہے سارے کنوئیں کی طرف جائیں ، خیر تمہاری لائف ہے جو مرضی کرو ، میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ “
وہ نفی میں سر ہلاتا ہوا کوفی کا سپ لینے لگا۔۔
“دادو میرا فون بج رہا ہے ،،، میں آتی ۔۔ “
وہ فوراً اٹھ کر بھاگی ۔
“ارے یہ لڑکی۔”
تنزیلہ بیگم نے سر تھاما۔
” اچھا تنزیلہ بیٹا تم ایسا کرو آج ہی بات کر لو ارحہ سے عارش اور اس کے رشتے کی۔ “
دادو نے کہا۔
“عارش راضی ہے؟”
تنزیلہ بیگم نے عارش کو دیکھا۔
” جی میں راضی ہوں مامی۔”
وہ انہیں دیکھتے ہوۓ بولا۔
“اللہ تیرا شکر ہے، اللہ تم دونوں کی قسمت اچھی کرے ۔”
تنزیلہ بیگم نے اس کا ماتھا چوما۔
” آمین ، اور ہم چاہ رہے کہ اس ہفتے کو منگنی ہو جاۓ اور اگلے مہینے کے پہلے ہفتے شادی ، کیا خیال ہے ؟”
دادو نے کہا تو تنزیلہ بیگم نے سر ہلایا۔
” ٹھیک ہے نانو جیسے آپ کی مرضی ۔”
وہ مسکرایا تھا ۔ اس کے بعد نانو اور تنزیلہ بیگم شادی کی تیاریوں پر بات کرنے لگے تو وہ اٹھ کر باہر آ گیا اور زرنش کو کال ملانے لگا۔
” ہیلو ہینڈسم ۔”
زرنش مسکراتے ہوۓ بولی۔
” کیسی ہو؟ میرا شہزادہ کیسا ہے؟”
وہ بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوۓ بولا۔
“سب اے ون ، تم اپنی سناؤ؟”
زرنش نے مسکراتے ہوۓ کہا ،وہ بھی اکیلی بہن تھی ۔ اس کے ماما بابا کی ڈیتھ دو تین سال پہلے ہوئی تھی۔
“سب ٹھیک ، بس نانو شادی ڈن کر رہی ہیں میری ، تم آؤ گی نا ؟”
عارش نے کہا ۔
” دیٹس گریٹ نیوز ،کنگریجولیشنز برو اور کس سے ہو رہی؟ کس کو پٹایا بلکہ کس نے تمہیں پٹایا ،،،بدتمیز بتایا بھی نہیں،، اب بتاؤ جلدی سے مجھے۔۔۔۔”
وہ مسکراتی ہوئی خوشی سے چلائی۔ ۔
“تھینکس اور پٹایا نہیں کسی کو بلکی مامو کی بیٹی ارحہ سے ہو رہی ہے ۔۔”
وہ آنکھیں گھما کر بولا۔
” اوووہ اچھا اس کی پکچر سینڈ کرو پلیز ،، کہیں بچپن میں دیکھی تھی ، اور منگنی کب ہوئی؟؟؟”
اس نے سوالات کی بوچھاڑ کی ۔
” منگنی نیکسٹ ویک ہے اور آؤ گی نا شادی پر ؟؟؟”
اس نے پوچھا ،، آخر ددھیال میں اکلوتی کزن تھی۔
” ہاں نا ، بٹ کب ہے شادی؟”
اس نے بے تابی سے پوچھا۔
“نیکسٹ منتھ،،،، نو ایکسکیوز اوکے۔ “
عارش نے وارن کیا ۔
“ارے واؤ یار ،،،،، نیکسٹ منتھ تو ہم پاکستان آ رہے ہیں ،،،، دیکھنا بہت مزے کروں گی شادی پر۔۔۔۔”
وہ خوشی سے بولی ۔۔۔
“ان شاء الله ،،،چلو اپنا خیال رکھو کرتا ہوں پھر کال۔”
اس نے الوداعی کلمات کہہ کر کال کاٹی۔






“مجھے خود کو سنبھالنا ہو گا ،،، حنان جسٹ فرینڈ ہے میرا اور مجھے اسے کسی بھی قیمت پر کھونا نہیں ہے،، ہم دوست بن کر بھی خوش رہ سکتے ہیں ۔۔ ہاں حنا اب تمہیں اپنے پارٹنر کا ساتھ دینا ہے۔ “
وہ روم میں بیٹھی تھی ، تبھی موبائل پر ٹیون بجی۔
اس نے کوفت سے موبائل اٹھایا تو سامنے حنان کی ویڈیو کال آ رہی تھی ۔
“آفس میں ہے اور ویڈیو کال ؟ چلو دیکھتی ہوں کیا کہتا ہے، فضول ہی چھوڑے گا ۔”
اس نے کال پک کی ۔
” ہاۓ حنان کی جان کیسی ہو ؟”
وہ منہ بناۓ کھڑا تھا۔
” تم کہاں ہو ؟”
وہ ازحد حیرانی سے بولی ۔
“کراچی کے لوگوں کو اپنا دیدار کروانے جا رہا ہوں ۔”
وہ ہنوز اسی پوزیشن میں تھا ۔
“ملے بنا چلے گئے ، کتنے بدتمیز ہو۔”
اس نے بھی منہ بنایا۔
” یار بابا نے بھیج دیا ، حنا میری کسی نے ایک نہیں سنی ، میں نے بہت کہا مگر نہیں سنی میری ، ہاۓۓۓۓ۔”
وہ رونے اور مظلوم ہونے کی اداکاری کرتے ہوۓ بولا۔
“ہاہاہاہاہا ڈرامے باز ۔”
حنا نے کہا تبھی روم کا ڈور کھلا تو افنان اور فاہم آۓ۔
“آنی ۔”
وہ دونوں آن کر گلے لگے ۔
“ارے آنی کی جان ، آنی کے شہزادو ۔ “
حنا نے فوراً ان دونوں کو بانہوں میں بھرا۔
“چلو حنان یار ، بعد میں بات کرتی ہوں۔”
اس نے موبائل دیکھا۔
“ٹھیک ہے اپنا خیال رکھنا یار ۔”
اس نے کہا تو حنا نے مسکراتے ہوۓ کال کاٹ دی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
“ارحہ بیٹا تم اور ابھی تک یہاں بیٹھی ہو۔”
تنزیلہ بیگم نے اسے لان میں بیٹھا دیکھا تو چلی آئیں ۔
جب کہ ارحہ تو خاموش سے چاند کو دیکھ رہی تھی۔
“ارحہ بچے ۔”
تنزیلہ بیگم نے پھر کہا تو وہ چونکی ۔
“جی جی ماما ۔”
وہ ہڑبڑائی ۔
“کدھر گم ہو ؟”
انہوں نے ناسمجھی سے دیکھا۔
“کہیں نہیں ماما ، موسم اچھا تھا تو بیٹھ گئی۔ “
اس نےمسکرا کر خود کو نارمل کیا۔
” اچھا مجھے تم سے امپورٹنٹ بات کرنی تھی۔ “
ماما نے کہا تو اس نے سر ہلا کر ان کو دیکھا۔
“بیٹا میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میری ارحہ اتنی جلدی بڑی ہو جاۓ گی کہ اسے ایک دن کسی کو سونپنا ہو گا ، اکلوتی ہو تو ارمان بھی بہت ہیں۔ “
تنزیلہ بیگم ایموشنل ہو گئیں۔
“ارے ماما کہیں نہیں جا رہی میں ، یہاں ہی ہوں آپ کے پاس ، آپ نہ اداس ہوں ۔ “
اس نے فوراً ماں کے گلے میں بانہیں ڈال کر کہا۔
“بیٹا یہ ریت ہے زمانے کی کہ بیٹیاں پیدا ہی دوسروں کا گھر آباد کرنے کو ہوتی ہیں ، لاڈلی ہو یا اکلوتی سب کو ماں باپ کا گھر چھوڑنا ہوتا ہے۔”
انہوں نے تمہید باندھی۔
“افففففففف رلانے کا ارادہ ہے کیا؟”
اس نے منہ بنایا۔
” ارحہ تمہارا پروپوزل آیا ہے بیٹا ۔”
تنزیلہ بیگم نے کہا تو وہ کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹی ۔
” وٹ؟؟؟؟؟؟ میرا پروپوزل بٹ کس کا؟”
وہ تھوک نگلتے ہوۓ بولی ۔
“عارش کا، میرا یقین کرو بیٹا میری دعائیں رنگ لے آئیں ، عارش نے ماں جی سے خود کہا ہے ،، ماں جی اور تمہارے بابا تو بہت خوش ہیں ۔”
تنزیلہ بیگم نے خوشی سے اسے بتایا جب کہ وہ ساکت سی ماں کو دیکھ رہی تھی ، وہ تو الفاظ ڈھونڈ رہی تھی کہ ماں کو کیسے بتاۓ اور یہاں سب الٹ گیا ۔
” عارش تو ایک ہیرا ہے ، گھر کا بچہ ہے اور تمہاری فکر سے آزاد ہو جاؤں گی کیونکہ کون سا کسی غیر کے گھر جاؤ گی ، مجھے یقین ہے کہ تم خوش رہو گی ۔ “
تنزیلہ بیگم نے پر یقینی سے کہا ۔
” ماما آپ نے کیا کہا؟ آئی مین کیا جواب دیا عارش بھائی کو ؟”
اس نے بمشکل خود کو کمپوز کرتے ہوۓ کہا۔
“افکورس بیٹا ، ہاں کر دی ہے، اس ہفتے منگنی ہے اور پھر اگلے ماہ شادی ۔ “
تنزیلہ بیگم نے اسے پلان بتایا ۔
“ماما میری راۓ بھی نہیں مانگی آپ نے؟”
وہ پھٹ پڑی ۔
“کیا مطلب ؟ ہم تمہارے ماں باپ ہیں،، بہترین فیصلے ہی کریں گے نا ، اور عارش کو کون انکار کر سکتا ہے۔؟”
انہوں نے فوراً اسے دیکھا ۔
“آپ انکار کر دیں پلیززززز ، میں عارش بھائی سے شادی نہیں کر سکتی ، میں کسی اور کو لائک کرتی ہوں۔”
وہ کانپتی آواز میں بولی ۔
“کیا؟”
تنزیلہ بیگم نے چونک کر اسے دیکھا۔
“یس ،،، ماما قسم سے وہ بہت اچھا لڑکا ہے ، اپنے گھر والوں کو بھیجنا چاہتا ہے ۔”
وہ فوراً نے قراری سے بولی ۔
” نہیں ،، میں زبان دے چکی ہوں اور ارحہ میں کسی غیر پر نہیں بھروسہ کر سکتی اپنی اکلوتی اولاد کے لیے تو قطعی نہیں ، ہمیشہ یہ بات یاد رکھنا ۔”
انہوں نے اس کی بات کو کوئی اہمیت نہ دی۔
“ماما میں بہت پیار کرتی ہوں اس سے ، وہ بہت اچھا ہے رانیہ بھی ملی ہے اس سے ، ماما وہ میں جب کہوں گی اگلے دن رشتہ لے آۓ گا۔ ۔”
وہ روہانسی ہوئی ۔
“میری ڈھیل کا اتنا غلط فائدہ اٹھایا تم نے؟”
وہ تلخی سے بولیں۔
“نہیں ماما ، وہ یونی میں اپنی سسٹر کو لینے آیا تھا اور اسے میں پسند آ گئی سو ۔”
وہ فوراً ماں کو صفائی دیتے ہوۓ بولی۔
“شٹ اپ ، یہ بات پہلے بتاتی تو کچھ کرتی میں ، اب دیر ہو چکی ہے ، عارش ہمیں ماں باپ کی طرح سمجھتا ہے اور اس نے بہت مان سے تمہارے بابا سے تمہارا ہاتھ مانگا ہے اور لڑکی کی اصل محبت ہوتا ہی اس کا شوہر ہے۔ “
تنزیلہ بیگم نے سخت لہجے میں کہا ۔
“میں بابا اور دادو سے بات کروں گی ۔”
وہ اٹھتے ہوۓ بولی ۔
“رکو ، ہم نے تمہیں اتنی محبت دی اور یہ صلہ دے رہی ہو تم ؟؟ مجھے سب کے سامنے ذلیل کروانا ہے ، میری تربیت پر انگلی اٹھوانا چاہتی ہو تم؟ ۔”
وہ اسے دیکھتے ہوۓ بولیں۔
“ماما مجھے بس حنان دے دیں ،باقی جو کہیں گی مانو گی میں ، پکا پرومس ۔”
اس نے ننھے بچوں کی طرح حنان کو مانگا ۔
” بس ارحہ ، آئندہ اس لڑکے کا نام تمہارے لبوں پر نہ آۓ اور اگر تم نے انکار کیا نا تو میرا مرا ہوا منہ دیکھو گی ، اور اسے فقط میری دھمکی مت سمجھنا ارحہ ۔”
وہ غصے سے بولیں ۔
” میں خوش نہیں رہ سکوں گی ۔”
اس نے روتے ہوۓ کہا اور چلی گئی ۔
“افففففففففففففف کیسے سمجھاؤں اس لڑکی کو کہ عاعش ایک بہترین انسان ہے اور اس آنکھوں میں ارحہ کے لیے محبت دیکھ کر ہی میں نے ہاں کی ، مجھے مضبوط بننا ہو گا اور اس پگلی کو سمجھنا ہو گا ۔”
انہوں نے گہرا سانس لیا ، وہ مطمئن تھیں ۔







“آنی سیلفی نہیں آ رہی اب ؟”
فاہم نے منہ بنایا ۔
“اپنے باپ کو لوک جو لگا دیا ہے۔”
حنا نے گھورا ۔
“میرے بابا کو کس نے لوک کیا؟”
وہ فوراً بے قراری سے بولا۔
“ارے کسی نے نہیں ،موبائل کا بولا ہے ۔”
حنا نے موبائل ان لاک کرتے ہوۓ کہا ۔
” اب یہ کونٹیکٹس سے کیا کام تھا تمہیں ؟ کل بھی یہی کھولے تھے ، فاہم مار کھاؤ گے تم مجھے سے ۔”
حنا نے دانت پیسے ۔
“اففف بابا کو کال کرنی تھی ۔”
اس نے منہ بنایا ۔
“ابھی آیا نہیں یہاں اور باپ سے دل بھی گبھرا گیا ہے ۔”
حنا نے ناراضی سے کہا ۔
” ایکچوئیلی آنی ، حنان مامو نہیں ہیں تو بور ہو رہے ہیں نا ہم ، افنان بھی تو اسی لئے واپس چلا گیا۔”
اس نے انفارمیشن دی ۔
” اچھا جی ، بڑی بات ہے ۔”
حنا نے ناک سکیڑی ۔
” لو آگئی سعد بھائی کی کال ، کرو بات ، فاہم وہ چیئرز پر چلے جاؤ میرا بچہ میرا حلیہ نہیں سامنے جانے والا۔”
اس نے موبائل اسے دیا اور خود جھولے پر بیٹھ گئی۔
“حنان کو گئے آج تین دن ہو گئے ہیں اور اس نے کال تو دور اس کو میسج بھی نہیں کیا ، حنان کے لئے بس اتنی ہی امپورٹنٹ تھی کیا میں ؟ مجھ سے چند لمحے بات کیے بغیر نہ رہ سکنے والا انسان مجھے ایک میسج نہیں کر سکا، میں نہیں کروں گی اسے کال ۔”
وہ دکھ سے گہرا سانس لے کر بولی ۔
” ارحہ سے بات کرتا ہو گا نا تو ٹائم نہیں ملتا ہو گا ۔”
اس نے نمی کو پیچھے دھکیلا ۔
” یہ حرم کو اٹھاؤ ۔”
دعا بھی لان میں آ گئی ، اس نے حرم کو اٹھایا تو وہ ننھی بچی بہت خوش ہوئی اور ہنسی ، گال پر پڑتا ڈمپل اسے مزید حسین بنا گیا ،حنا کو بھی ٹھوڑی پر ہلکا سا ڈمپل پڑتا تھا جو اسے بہت سوٹ کرتا ۔
” پتہ ہے حرم نے ڈمپل تمہارا چرایا ہے تبھی کیوٹ ہے ۔”
حنان کی کہی بات یاد آئی تو وہ مسکرائی ۔
“دعا ابھی بھی ناراض ہیں آپ؟”
اس نے دعا کے کندھے پر سر رکھا ۔
“تو کیا کروں ؟ اتنا اچھا رشتہ ٹھکرا دیا تم نے ؟ اریز جیسا لڑکا قسمت والوں کو ملتا ہے، حنا ایک کے بعد ایک اچھا رشتہ تم ٹھکرا رہی ہو کیوں یار؟”
دعا نے تاسف سے اسے دیکھا ۔
” آپی ہوتا وہی ہے جو قسمت میں ہوگا اور جو ہو گا دیکھا جاۓ گا ، سعد بھائی کی کال آئی ہے کر لو بات ، تین چار دن ہو گئے دل گھبرا گیا ہو گا۔”
وہ شرارت سے کہتی چلی گئی تو دعا نے نفی میں سر ہلایا اور فاہم کے پاس چلی گئی ۔







ارحہ بھاگتی ہوئی روم میں آئی اور زور سے دروازہ بند کر کے وہاں ہی بیٹھ کر گھٹنوں پر سر رکھ کر رو دی ۔
“میں کیسے سمجھاؤں ماما کو۔”
وہ بالوں کو ہاتھوں میں پکڑتے ہوۓ چلائی ۔
” میں سمجھتی تھی کہ میں وہ واحد لڑکی ہوں گی، جس کو محبت بآسانی مل جاۓ گی مگر آج بیٹی کے معاملے میں میری ماں بھی کنزرویٹو ب گئیں ۔۔”
وہ روتے ہوۓ ہچکیاں لینے لگی ۔
“دیکھیے مسٹر مجھے آپ کہیے تم نہیں ۔”
ارحہ نے ہاتھ اٹھا کر وارن کیا ۔
” میں تم کہوں گا ،جو کرنا ہے کر لو ۔”
وہ بلا کا ڈھیٹ تھا۔
“میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑ رہے آپ۔”
ارحہ نے غصے سے کہا ۔
“ہاں کیا مسئلہ ہے؟”
رانیہ نے بھی کہا۔
“ارے کتنی بار بتاؤں کہ یہ مجھے اچھی لگ گئی ہے ۔”
وہ فوراً گھورتے ہوۓ بولا ۔
“اگر اچھی لگتی ہے تو رشتہ بھجوا دیں۔”
رانیہ نے گویا چیلنج کیا ۔
” تو محترمہ رشتہ ہی بھجوانا چاہتا ہوں۔”
اس نے ارحہ کو دیکھتے ہوۓ کہا۔
“میں نہیں مانتی ۔”
ارحہ نے کہا ۔
” میری آنکھوں میں دیکھو ۔ کیا تمہیں رشتے بھیجنے کے لئے سیریس نہیں لگ رہا ، قسم سے جیسی لائف پارٹنر میرا خواب تھا تم بلکل ویسی ہو ۔ “
حنان نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ کہا ، وہ دعا کو یونی ڈراپ کرنے آیا تھا تو ارحہ اسے دِکھ گئی۔
“گو ٹو ہیل ۔”
ارحہ غصے سے کہہ کر آگے چل دی۔
“یار مجھے سچا لگ رہا ہے۔”
رانیہ نے دل سے کہا۔
” مجھے ٹاپ فلرٹی۔”
اس نے دانت پیسے ۔ پھر ایسے ہی رانیہ کی برین واشنگ اور حنان کی باتوں نے اس کے دل میں جگہ بنا دی، حنان کو جان کر اسے اچھا لگتا تھا ، اسے حنان کی جس بات نے سب سے زیادہ اٹریکٹ کیا تھا وہ تھا حنان کا اس کے لئے پوزیسسو ہونا ، ریسپیکٹ دینا ، وہ نہ کبھی ملنے کو فورس کرتا اور نہ کبھی پکچر مانگی ، ارحہ کو یقین تھا کہ اس کے موبائل میں ارحہ کی ایک بھی پکچر نہیں تھی ، ارحہ کے پوچھنے پر وہ کہتا کہ جو تصویر دل میں ہو اسے موبائل میں نہیں رکھتا۔
“یا اللہ جی ، میں کیا کروں ؟ ایک طرف ماں ہے تو دوسری طرف مان ۔”
اس نے روتے ہوۓ آسمان کو دیکھا اور رانیہ کو میسج کیا کہ کل گھر آؤ اور خود وہی پر بیٹھ گئی ، نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔
“حنان تو ہنگامہ برپا کر دے گا ، نو وے ، وہ مجھے معاف نہیں کرے گا اور نہ میری مجبوری سمجھے گا ۔”
ارحہ نے گالوں پر بہتے آنسو بے دردی سے پونچھے۔
ہم ایک دوسرے کو اچانک کہیں ملے ![]()
ہم ایک دوسرے کے طلب گار ہی نہ تھے۔





“دو دن بیت گئے ہیں میں نے حنا کو کال کتنی بار کی مگر اس نے پک نہیں کی ، کیا وہ مجھے بھول جانا چاہتی ہے، کیا وہ دوستی نہیں نبھانا چاہتی؟ آخر ایسا کیا ہوا ہے؟ میں حنا کو کیسے سمجھاؤں کہ ۔۔۔ ۔”
حنان ساحل پر کھڑا گہری سوچ میں گم تھا ۔
“حنان مجھے بہت شوق ہے کہ میں کراچی ساحل پر جا کر ریت سے گھر بنا کر دیکھوں اور شوق بھی مجھے تمہارے ساتھ جانے کا ہے ۔”
اس کے کانوں میں حنا کی کہی گئی بات گونجی ۔
“پھر وہاں سے حیدرآباد جاؤں اور وہاں سے چوڑیاں لاؤں، پتہ ہے آج میں نے نیوز میں سنا کہ حیدرآباد کی چوڑیاں بہترین اور بہت پیاری ہوتی ہیں ، کتنے لکی لوگ وہاں رہتے ہوں گے نا۔”
وہ بچوں کی سی خوشی سے بولی ۔
“پھر ہم سن سیٹ بھی دیکھیں گے سنا ہے وہ سین کافی دل فریب ہوتا ہے۔”
اسے یاد آیا تو اس نے بے اختیار سورج کی طرف دیکھا جو ڈوبنے کی تیاریوں میں تھا، حنان نے اس منظر کو موبائل کی آنکھ میں قید کیا اور نیچے بیٹھ کر ریت کا گھر بنایا اور اس کی بھی تصویر بنائی ۔
“حنا تم کو میں معاف نہیں کروں گا ، کبھی نہیں ۔”
اس نے لہروں کو دیکھتے ہوۓ گہرا سانس خارج کیا۔
“ایک بار کال کر کے دیکھتا ہوں، میں بس اس کی آواز سننا چاہتا ہوں ۔”
اس نے کچھ سوچ کر لینڈ لائن پر کال کی۔







حنا کافی زیادہ چوڑیاں لاؤنج میں رکھ کر بیٹھی تھی۔
“کون سی پہنوں اس ڈریس کے ساتھ؟”
وہ الجھی ہوئی بیٹھی تھی۔
“حنان ہوتا تو مجھے اتنا کھپنا ہی نہ پڑتا ، اب کس سے پوچھوں میں ؟ میرا خود کا تو دل کرتا ہے کہ ساری ہی ایک ساتھ پہن لوں ۔”
وہ محبت سے چوڑیوں کو دیکھتے ہوۓ بولی ، دعا بھی چلی گئی تھی ورنہ وہ ہی ہیلپ کروا دیتی۔
“کیا میری چوڑیوں سے محبت صرف حنان کی وجہ سے ہے ؟ حنان کو میری یاد نہیں آتی کیا؟ کتنی یادیں وابستہ ہیں مگر حنان بھول گیا ہے ۔ “
وہ آرزدگی سے گہری سانس خارج کر کے بولی تبھی بیل بجی ، وہ بے دلی سے اٹھ کر آئی ۔
“ہیلو ۔”
حنان نے کہا تو حنا کو محسوس کو کہ بعض آوازیں جسم میں جان ڈال دیتی ہیں۔
“حنان۔”
حنا تڑپ کر بولی۔دونوں کو لگا کہ صدیوں بعد ایک دوسرے کی آواز سنی ہو۔ حنان نے اس پکار پر آنکھیں بند کر کے گہرا سانس لیا۔ چند ثانیے خاموشی کی نظر ہو گئے ، شاید دونوں کو سمجھ نہیں آئی تھی۔
“ماما سے بات کرواؤ ؟”
وہ بےرخی سے بولا۔
“وہ اور ماما باہر گئی ہیں ، حنان کیسے ہو؟ کب واپس آؤ گے یار مس یو سو مچ ، پتہ ہے میں بور ہو کر رہ گئی ہوں ، گھر سونا ہو گیا ہے ، آئی مس یو سو مچ۔”
وہ آنکھوں میں آئی نمی کو انگلی سے صاف کرتے ہوۓ بولی ۔
“بٹ آئی ہیٹ یو حنا، ہیٹ یو سو مچ۔”
وہ غصے سے بولا اور کال کاٹ دی ۔
“حنان میری بات ۔۔”
اس سے پہلے کے وہ بات مکمل کرتی ٹوں ٹوں کی آواز سے کال ڈراپ ہو گئی ۔ حنان نے انا مار کر جب اسے کال کی تو آگے سے بنا ایک لمحہ کی تاخیر کے کال ڈراپ کر دی گئی ۔
“حنان ایسا کیوں کر رہا ہے ؟ وہ کہہ رہا تھا کہ ہیٹ یو ، کس نے اسے میرے خلاف کیا ؟”
اس کے گالوں پر نمی بہنے لگی جسے وہ پونچھتی ہوئی اپنی چیخ روکتی ہوئی سیڑھیاں پھلانگتی ہوئی اوپر چلی گئی ، چوڑیاں ڈریس سب وہیں رہ گیا تھا ۔
“حنان کیسے ہو؟ کب واپس آؤ گے یار مس یو سو مچ ، پتہ ہے میں بور ہو کر رہ گئی ہوں ، گھر سونا ہو گیا ہے ، آئی مس یو سو مچ۔”
حنان کے کانوں میں اس کے الفاظ گونجے ۔
“اپنے نمبر پر کال تک نہیں پک کی اور یہاں ،،،، دوغلی نکلی تم بھی حنا۔”
وہ بنا بات کے غصہ کرنے لگا تھا۔ حالانکہ یہ بات تنی بڑی نہیں تھی
