Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaanch Ki Choriyan (Episode 08)

Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary

“اگر تم اس سے محبت کرتے ہو تو اس کے گھر رشتہ کیوں نہیں لے جانے دیتے؟”

اسوہ نے گھورا ۔

” دیکھو اسوہ میں آلریڈی بتا چکا ہوں کہ میں اس سے محبت ایز اے کزن ، ایز اے بیسٹ فرینڈ کرتا ہوں، میرا آج نہیں جب سے ہوش سنبھالا تب سے خود سے وعدہ ہے کہ حنا میری فرینڈ ہی رہے گی اور میں اسے کبھی بھی نہیں کھونا چاہتا ، اس کی شادی ایک بہت اچھے اندان سے کرواؤں گا میرا وعدہ ہے۔”

وہ فوراً صفائی دے کر بولا۔

” تو پھر اس کا کہیں رشتہ کیوں نہیں ڈن ہونے دیتے ؟ “۔

اسوہ نے دانت پیستے ہوۓ پوچھا۔۔۔

” یار وہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی اس لئے۔۔”

وہ اس کے سوالوں سے زچ ہوا۔

” وہ شادی جانتے ہو کیوں نہیں کرنا چاہتی ؟”

اسوہ کی بات پر اس نے بس سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔

” کیونکہ وہ اپنا دل تمہیں دے چکی ہے حنان ۔”

اسوہ نے تاسف سے اسے دیکھا۔

” وٹ ؟ آر یو کریزی ؟ ایسا کچھ نہیں ہے۔ “

حنان نے کرنٹ کھا کر اسے دیکھا اور پھر گہری سانس خارج کر کے آہستہ مگر سخت آواز میں بولا ۔

” حنان مجھے حیرانی ہو رہی کہ تم دیکھ کر انجان بن رہے ہو ، اگر نہیں ہے ایسا کچھ تو روک دو قدم اس کے اور خود کو اس سے دور کر لو۔۔۔”

اسوہ نے اسے دیکھتے ہوۓ کہا ۔

” تم دھوپ میں بیٹھو ، چاۓ پیو اور اپنے منجمد دماغ کو پگھلاؤ کیونکہ ایسا کچھ نہیں ہے۔”

حنان نے اس سے زیادہ خود کو تسلی دی۔

” حنان مجھے حیرانی ہو رہی یے کہ جو بندہ اس کی آنکھوں کا ، چہرے کا ایک ایک رنگ پہچانتا ہے ، وہی محبت کے رنگ کو نہیں پہچان رہا ، اتنا بے مول رنگ نہیں ہوتا یہ کہ تم اسے نظرانداز کر دو۔۔ “

اسوہ نے دکھ سے نفی میں سر ہلایا ، تو حنان کھڑا ہو گیا اور آنکھیں بند کر کے پھر اسوہ کی طرف پلٹا۔

” میری شادی کی بات پر وہ دیکھا نہیں کیسے نارمل بی ہیو کر کھ گئی ہے ، یہ بس تمہارے دماغ کا فتور ہے ۔۔۔”

وہ اسے یاد کروا کر بولا۔

” اپنی خوشی قربان کر گئی وہ تمہاری خوشی پر یا پھر اس کا خواب ہو گا کہ اپنی اور تمہاری مہندی پر ڈانس کرے وہ۔”

اسوہ کی بات پر حنان کو آگ لگی۔

” شٹ اپ ۔”

حنان نے سختی سے کہا۔

” حنان قسم سے مجھے لگ رہا ہے کہ وہ انٹرسٹڈ ہے سچی ، تمہاری قسم ۔۔۔ “۔

اسوہ نے یقین دلانے کی کوشش کی۔

” اسوہ یہ بات تم بھی جانتی اور وہ بھی کہ میں لائف پارٹنر کیسی چاہتا ہوں اور ان کوالیٹیز پر وہ پورا نہیں اترتی ، مجھے میچور ، سنجیدہ لڑکی سے شادی کرنی ہے اور یہ بات میں سب کو ہزار بار باور کروا چکا ہوں ۔”

وہ تلملاتا ہوا بوکھلاہٹ سے بولا۔

” اور اسے تم جیسا پارٹنر چاہیے۔”

اسوہ نے کہا ۔

” اگر وہ دنیا کی آخری لڑکی بھی ہوئی تو میں نہیں کروں گا اس سے شادی ، وہ میری دوست ہے اور میں بس دوست ہی رکھنا چاہوں گا، اگر وہ اس سفر پر چل رہی ہے تو اس میں سراسر اس کا قصور ہے۔ “

وہ کہہ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا اندر چلا گیا۔

” تمہاری شادی تو حنا سے ہی ہو گی میرے شہزادے بھائی ، چاہے مجھے بلیک میل کرنا پڑا یا کچھ بھی ، تمہاری دلہن صرف اور صرف حنا بنے گی۔”

اسوہ نے گہری سانس لی۔

” اگر یہ سب باتیں سچ ہیں تو کیا کروں میں ؟ میں حنا کو کیسے سمجھاؤں ، ایسے تو حنا ٹوٹ جاۓ گی یار ، اگر وہ ذرا بھی انٹرسٹڈ ہے تو بہت نقصان ہو گا ، اہنے دل پر پتھر رکھ کر مجھے حنا کو خود سے دور کرنا ہو گا ، کل یونی ڈراپ کرتے ہوۓ میں اسے اچھی طرح سمجھاؤں گا اور مجھے یقین ہے کہ سمجھ جاۓ گی۔ “

حنان نے ٹھنڈی سانس اندر بھری ، لیپ ٹاپ آگے رکھا مگر کام کی طرف دھیان نہ گیا تو لیپ ٹاپ رکھ کر لیٹ گیا۔

مجھے زندگی میں بناوٹ نہیں آتی

میرا مزاج ،میرا لہجہ ذاتی ہے 🔥

👇
👇
👇
👇
👇
👇
👇

حنا روم میں آئی تو ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے۔ جس شخص کو ہر لمحہ اپنا سمجھ کر چاہا تھا وہ تو نکلا ہی کسی اور کا تھا۔ دروازے کے ساتھ نیچے بیٹھ کر سر گھٹنوں پر رکھ لیا تھا ، آنسو کسی آبشار کی طرح بہہ رہے تھے۔ اپنی محبت کو کھونا آسان نہیں ہوتا۔

“اللہ جی کیوں ہوا ایسا؟ میں تو حنان کی عادی ہو گئی تھی نا ، وہ لڑکی کیوں آئی ہمارے درمیان ، کیوں چھینا اس نے میرے حنان کو مجھ سے ، یا اللہ جی کن کہہ دے میری محبت کو مجھے دے دے، یا اللہ پاک مجھے بچپن سے صرف اس کی عادت ہے ، مجھے اس کے علاوہ کوئی نہیں سمجھتا ، یا اللہ میری تو چوڑیوں کو بھی اس کہ عادت ہو چکی ہے ، نہیں رہ پاؤں گی میں ۔۔۔۔ “

وہ ہچکیوں سے مسلسل رو رہی تھی ، تبھی ڈور نوک ہوا اسے معلوم ہوا تھا کہ وہ حنان ہے مگر اس وقت وہ حنان سے ملنے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھی ، ساری رات اس نے رو رو کر گزار دی ،کیا کیا نہیں یاد آیا تھا۔

” یار اتنی کیوٹ لگ رہی ہو ، ول یو میری می۔”

حنان نے گلاب کی ادھ کھلی کلی اسے دیتے ہوۓ شرارت سے کہا تو وہ ہنس دی تھی۔

“حنا اب تمہاری دوستی کا امتحان ہے تمہیں خاموش رہنا ہو گا فقط اس کی خوشی کی خاطر۔”

اس نے آنسو پونچھ کر ارادہ باندھا.

بڑی وفادار ہیں،،،،،، آنکھیں میری

نہیں کھولیں گی یہ راز راتوں کے

،،،،،،،،،،👇👇👇👇👇

” ایک تو یہ عارش بھائی پتہ نہیں کب گھر واپس جائیں گے ، مجھے دادو سے بات کرنی ہے۔”

وہ ٹیرس پر ٹہل رہی تھی ۔

“اور ماما بھی بیٹھ گئی ہیں ادھر ہی جا کر ۔ “

وہ منہ بنا کر ریلنگ پر بیٹھ گئی۔

“عارش بھائی کہیں دادو سے میرا رشتہ ؟ اففففففف پاگل ہو ارحہ ، ایسا نہیں سوچنا ، ہاں ویسے اس پتھر کے اندر کون سا دل ہے جو محبت کر ے سو ریلیکس ہوں۔”

وہ مالٹے کے چھلکے بنا دیکھے نیچے گرانے لگی جو عارش کے سر پر لگے ، عارش نے غصے سے اوپر دیکھا تو وہ ریلنگ پر ریلیکس سی بیٹھی تھی، وہ مسکرایا ۔

” شاباش ہے تمہیں ، ڈسٹ بن ختم ہو گئے جو چھلکے میرے سر پر گرا دئیے۔”

عارش گھر جا رہا تھا اور جانتا تھا بےخبری میں گرے ہیں یہ چھلکے، ارحہ کی اس کی جانب پشت تھی ، وہ جاتے جاتے اسے دیکھنا چاہتا تھا تبھی یہ کہا اور ارحہ کی تو جان ہی نکل گئی تھی ، فوراً ریلنگ سے اتری تو عارش کی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی۔۔

، “کمرے میں کیا اسپرے کی ہوئی ہے یا کوئی جن بھوت ہے جو یہاں بس ریلنگ ہی بچی ہے یا پھر خود کشی کا ارادہ باندھ کر بیٹھ گئی ہو۔”

۔عارش نے اسے متوجہ نہ پا کر اوپر دیکھتے ہوۓ کہا تو ، اس نے سر پر ہاتھ مارا اور ہاتھ چہرے پر رکھے۔

” یا اللہ جی ،مجھ سے ہر الٹا کام اس کھڑوس کے سامنے کیوں ہوتا ہے اور سونے پر سہاگہ کہ چھلکے بھی عارش بھائی کے اوپر گرے ہیں، ایک اور طعنہ لگ ہاتھ ان کے ، بچ ارحہ اب، ریڈی ہو جا لیکچر کے لئے۔”

ارحہ نے لب کاٹتے ہوۓ گہرا سانس لیا۔

“گوند کے ساتھ کسی نے چپکا دیا ہے تمہیں ؟”

وہ اب بددل ہوا تو وہ فوراً مڑی ۔

” وہ ، وہ میں ایسے ہی بیٹھی تھی ۔”

وہ تھوک نگلتے ہوئے بولی۔

” یہ جگہ ہے بیٹھے کی ؟ محترمہ یہاں سے اگر ذرا سی بھی ہلتی تو تمہاری بوٹیاں بھی نہیں ملنی تھی ۔”

عارش نے گھورا۔

“استغفر الله ، اللہ مالک ہے موت جیسے لکھی ہے ویسے ہی آنی ہے ، مجھے دادو بلا رہی ہیں ، اللہ خافظ۔۔۔۔۔ “

وہ اس کے سوالوں سے بچنے کے لئے اندر بھاگ گئی۔

” پگلی ۔ “

عارش کے لب مسکراۓ ۔

“بہت جلد تم میری ہو گی ، عارش کی مسز بن کر اس کے گھر آ جاؤ گی۔”

وہ مسکراتا ہوا سن گلاسز چڑھاتا چلا گیا۔

خود کو میرا ہی سمجھئے

میرے دل کو بھا گئی ہیں۔

👇
👇
👇
👇
👇
👇
👇
👇

” آج جلدی جا رہی ہو تم یونی ؟”

فرح بیگم نے اسے جاتا دیکھ کر کہا ۔

” جی تائی امی ، آج کام ہے یونی۔”

وہ گاڑی میں بیٹھتے ہوۓ بولی۔

” اوکے، دھیان سے جانا ، اللہ خافظ۔ “

تائی جان نے اس کا ماتھا چوم کر دعا دی تو اس کی آنکھیں بھر آئیں۔

” کتنی نیک بچی ہے ، یا اللہ حنان کو ہدایت دے کہ وہ اس کو ہی زندگی کا ساتھی بناۓ ۔ “

انہوں نے دعا مانگی ۔

👇
👇
👇
👇
👇
👇
👇

حنان اٹھا تو سات بج رہے تھے ، وہ فریش ہو کر باہر آیا تو فرح بیگم کچن میں ناشتہ بنا رہی تھیں ۔

” ماما ناشتہ لگائیے ، میں تب تک حنا کو بلا کر آیا۔”

“حنا تو یونی چلی گئی ہے بیٹا کب کی۔”

فرح بیگم کی بات پر اسے کرنٹ لگا۔

” یونی چلی گئی ؟؟ ماما مجھ سے ملے بنا؟”۔

وہ چونکتا ہوا کچن میں ہوا آیا۔

” ہاں اسے کوئی کام تھا ، ناشتہ لگا دیا ہے تم کرو ، میں تمہارے بابا کو چاۓ دے آؤں۔”

وہ چاۓ اٹھا کر چلی گئیں۔

” کیوں الجھا رہی ہے یہ لڑکی مجھے۔”

وہ اس کا نمبر ڈائل کرتے ہوۓ بڑبڑایا۔

” کہاں ہو تم؟”

کال پک ہوتے ہی وہ بولا۔

“یونی میں ہوں۔”

وہ گہرا سانس لے کر بولی۔

” تم جلدی کیوں چلی گئی ؟”

وہ فوراً غصہ ضبط کرتے ہوۓ بولا۔

” جلدی کہاں ؟؟؟ بہت دیر ہو گئی تھی حنان ۔”

وہ ذومعنی لہجے میں بولی تو حنان نے لب بھینچے۔

” کب واپس آؤ گی؟”

اس نے پوچھا۔

” چار بجے۔”

وہ بالوں کو کانوں کے پیچھے اڑستے ہوۓ بولی۔

“رات جلدی کیوں سوئی تھی؟”

وہ اسے کھونا نہیں چاہتا تھا مگر وہ اسے پانا بھی نہیں چاہتا تھا سو نرمی سے بولا۔

” میں جانتی ہوں میرے یوں سونے پر اپ سیٹ ہو گئے بٹ حنان سچی بہت نیند آ گئی تھی ، رئیلی سوری۔ “

وہ بھی تو اسے کھونا نہیں چاہتی تھی۔

” اوکے فائن ، آج جلدی نہ سونا ورنہ مار دوں گا۔”

وہ دھمکی دیتے ہوۓ بولا۔

” مار تو تم چکے ہو ، دل ،خواہشات ،حنا۔۔۔”

اس نے گہرا سانس لیا اور خود کو کمپوز کیا۔

“کہاں گئی ہو؟”

وہ خاموشی دیکھ کر بولا۔

” سوری وہ سائن کر رہی تھی فائل پر ، تم بھی ریڈی ہو جاؤ یار ، میں چلتی ہو فیس سب میٹ کروانی ہے۔”

اس نے کہا۔

” اوکے ، ٹیک کئیر اینڈ مس یو۔”

اس نے سچائی سے کہا۔

” اللہ خافظ۔ “

اس نے کال کاٹ دی تو حنان ناشتے سے انصاف کرنے لگا۔

” یہ انسان کبھی مجھے خود سے دور نہیں جانے دے گا ، یا الہی کیا کروں میں ۔؟”

اس نے سر تھام لیا ، اس سے سامنا نہ ہو تبھی تو آج وہ صبح صبح نکل آئی تھی گھر سے ، اس کی کال کو چاہ کر بھی وہ اگنور نہ کر سکی۔

ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہيں توڑا کرتے

وقت کی شاخ سے بھی لمحے نہيں توڑا کرتے

👇
👇
👇
👇
👇

” اسلام علیکم بابا جان.. کیا حال ہے؟”

وہ ڈائننگ روم میں آئی تو صفدر صاحب بھی ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھے تھے۔

“وعلیکم اسلام ، بابا کی جان کیسی ہے ؟”

انہوں نے محبت سے اسے دیکھا۔

” کون سے والی؟”

تنزیلہ بیگم کو آتے دیکھ کر وہ شرارت سے بولی۔

” بدتمیز۔”

تنزیلہ بیگم نے اسے گھورا تو وہ ہنس دی۔

” ہاہاہاہا اور سناؤ کیا ایکٹیویٹیز ہیں بھئی؟”

صفدر صاحب نے اسے دیکھا۔

” قائداعظم کا قول الٹا پڑ رہا۔”

وہ منہ بناتے ہوۓ بولی۔

” کون سا قول ؟”

صفدر صاحب نے اسے دیکھا۔

” قائداعظم نے کہا تھا کام ، کام اور بس کام جب کہ یہاں چل رہا بور، بور اور بس بور ، بابا میں بور ہو چکی ہوں۔”

وہ روہانسی ہوئی۔

” تو ایسا کرو کہ آج میرے ساتھ آفس چلو، بوریت دور ہو جاۓ گی ۔”

بابا نے کہا تو اس کی آنکھیں چمک اٹھیں ۔

” سچی۔ْ”

وہ حیرانی سے بولی۔

” مچی۔”

بابا کی بات پر وہ ہنس دی۔

اس کے بعد وہ ریڈی ہو کر بابا کے ساتھ ان کے آفس پہنچی تو بہت ایکسائٹڈ تھی۔

“یہ ہیں ہماری پی اے ، ثمر عباس اینڈ ثمر یہ ہے ہماری پرنسس بلکہ اس آفس کی مالک ۔۔”

بابا نے مسکرا کر کہا۔

“اسلام علیکم میم، ہاؤ آر یو؟”

ثمر نے مسکرا کر پوچھا۔

“الحمد اللہ آئی ایم فائن اینڈ یو؟”

ارحہ نے مسکراتے ہوۓ کہا۔

” آئم آلسو فائن۔”

وہ مسکرائی۔

“ٹھیک ہے ثمر بیٹا ، آپ آفس دکھاؤ اسے اور جب بور ہو تو مجھے بتا دینا۔”

بابا کہہ کر چلے گئے۔

” چلیے میم ۔ “

ثمر نے کہا۔

” یار پہلی بات مجھے میم کہنا بند کرو ، ارحہ نام ہے میرا سو نام لو ، میم سے مجھے دادیوں والی فیلنگز آ رہی ۔”

ارحہ نے اسے دیکھتے ہوۓ کہا تو وہ ہنسی۔

” ہاہاہا اوکے باۓ دا وے یو آر ویری سویٹ۔”

ثمر نے مسکرا کر کہا۔

” شکریہ ، چلو اب ، ایکسائٹمنٹ ہو رہی مجھے ۔”

اس نے بے تابی سے کہا ۔

“ویسے میں اس فلور پر کم ہی آتی ہوں عارش سر ہوتے ادھر تو کافی غصے والے ہیں۔”

ثمر نے ڈرتے ڈرتے کہا جب کہ ارحہ نے نہیں سنا تھا۔

” واؤ یہ تو بہت پیارا ہے۔ “

ارحہ بچوں کی خوشی سے بولی۔

” اووووہ شِٹ ،،،،، یہ ہٹلر کیا کر رہا ادھر۔۔”

ارحہ نے سامنے آتے عارش کو دیکھ کر منہ پھیرا جو موبائل پر کچھ دیکھ رہا تھا تبھی اس نے ارحہ کو نہیں دیکھا تھا ۔

” میری کلاس لگنے والی ہے ،، اللہ بچانا۔ “

ثمر نے خشک لبوں ہر زبان پھیری۔

” مس ثمر ، کہاں تھی کب سے میں کال کر رہا ہوں ، اگر آپ بزی تھیں تو حرا اور عانیہ کہاں ہیں،،،؟”

عارش سخت لہجے میں بولا۔

” سر حرا آج آئی نہیں اور عانیہ سائٹ پر گئی ہے۔”

وہ تھوک نگلتے ہوۓ بولی۔

” اور بہت ذمہ داری کا ثبوت دے رہی ہیں آپ ماشإاللہ ۔”

ایک نظر ارحہ کی پشت کو دیکھتے ہوۓ طعنہ مارا۔

“طعنہ مارے بنا یہ بندہ نہیں رہ سکتا ۔”

ارحہ کی بھی سانس رکی۔

” سر سوری ، ایکچوئیلی مجھے سر نے کہا تھا کہ میں میم کو آفس دکھا دوں۔”

ثمر کے کہنے پر عارش نے ارحہ کو دیکھا۔

” کون ہے یہ؟”

عارش نے کہا۔

” ارحہ ۔ “

ثمر نے کہا تو وہ اس کے سامنے آن رکا۔

“تم ؟؟؟؟ خیریت ؟”

وہ حیرانی سے بولا۔

” جی وہ بس یونہی آ گئی۔”

وہ خود کو کمپوز کرتی ہوئی بولی۔

” آپ جائیں، مجھے فائلز چاہیے اور وہاں ہی بیٹھیے، اور ہاں دو کپ کوفی بھجوا دیجیے گا۔”

اس نے ثمر کو اشارہ کیا تو وہ سر ہلاتی چلی گئی۔

“تمہارا مجھ سے پردہ ہے۔؟”

اس نے ارحہ کو نظروں کے حصار میں لے کر بولا۔

“نہیں تو۔”

اس نے سر نفی میں ہلایا۔

“اچھا میں سمجھا ہے ، خیر چلو آؤ میرے ساتھ ۔ “

اس نے اشارہ کیا تو وہ منہ بناتی چلی گئی۔

” آپ کب سے یہاں بابا کے ساتھ کام کر رہے؟”

وہ اس کے کھلے و ہوادار روم میں آئی۔

” کب سے مطلب ؟ہمیشہ سے انہی کے ساتھ تھا۔”

وہ لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلاتے ہوۓ بولا۔

” ہییییں،،،،،، تو بابا نے بتایا کیوں نہیں کبھی؟”

وہ حیرانی و ناسمجھی سے بولی۔

” تم نے پوچھا کب تھا؟ ڈرامے موویز سے فرصت کب ملی؟؟؟ حالانکہ تم اکلوتی بیٹی تھی سب تمہیں سنبھالنا چاہیے تھا ، بٹ تم کبھی دانش کے لئے رو رہی ہو تو کبھی دانیال کے لئے۔”

وہ طعنہ مارنے سے باز نہیں آیا۔

” آپ کبھی دیکھتے تو رونا آ جانا تھا آپ کو بھی۔”

وہ منہ بناتی ہوئی بولی۔

” اچھا بس کرو ، یہ کچھ کام دے رہا ہوں کرو۔ “

اس نے حکم دیا۔

” مجھے تو آئیڈیا ہی نہیں ۔ “

اس نے فوراً کہا۔

” سارا پروسیجر ساتھ لکھا ہے ، دیکھ لو۔”

اس نے لیپ ٹاپ آگے کیا تو وہ دیکھنے لگی۔

” سمجھ آئی کچھ ؟”

عارش نے اسے دیکھا تبھی ٹی بواۓ آ گیا۔۔

” جی تھوڑی سمجھ آ گئی ہے۔”

اس نے لیپ ٹاپ سامنے رکھتے ہوۓ کہا۔

” گڈ اینڈ نتھنگ از ٹف ، کچھ سمجھ نہ آیا تو میں بتا دوں گا ، کونفیڈنٹ ہو کر کرو۔”

عارش نے کہا تو اس نے سر ہلایا جبکہ عارش نے نظریں اس کے چہرے سے نظریں چرا کر فائلز پر مرکوز کی۔

“خدارا کوئی ان سے اتنا تو پوچھے

کہ کیوں ہم سے نظریں چرانے لگے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *