Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaanch Ki Choriyan (Episode 24)

Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary

آج عارش کا پہلا دن تھا آفس میں اسی لیے ارحہ نے ناشتہ اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا جس پر وہ پھولے نہیں سما رہا تھا۔ وہ اسے گیٹ تک چھوڑنے بھی آئی تھی، لان میں لگی تازہ گلاب کی کلی سے اس نے اسے خدا خافظ کہا تھا۔۔ جس پر اس کی خوشی دوبالا ہو گئی تھی۔ میٹنگ اٹینڈ کر کے وہ آیا تو پانچ بج رہے تھے۔ ارحہ کے لیے وہ گجرے لایا تھا۔ اپنی زندگی کو وہ حسین بنانا چاہتا تھا اور وہ بھی بچوں کی طرح خوش ہوئی تھی۔

عارش نے اسے آکر ہی بتایا کہ زرنش کے گھر دعوت پر جانا ہے تو وہ بہت خوش ہوئی اسے زرنش بہت اچھی لگی تھی۔ پیار کرنے والی اور مخلص۔

“میں کون سا ڈریس پہنوں؟”

ارحہ تین چار جوڑے اٹھا لائی اور کنفیوز سی بولی۔

“سب اچھے ہیں،،،،،،، جو مرضی پہن لو۔”

وہ سب ڈریسز دیکھنے کے بعد بولا۔

“نہیں کوئی ایک بتائیں نا؟”

وہ اس کی پسند کے مطابق ڈھلنا چاہتی تھی۔

“اوکے ،،، یہ پرفیکٹ ہے، جچے گا تم پر۔۔ “

اس نے آف وائٹ اور میرون کلر کا ڈریس فائنل کیا۔

“تھینکس، میں چینج کر کے آتی ہوں ۔۔”

وہ مسکراتی ہوئی چلی گئی۔

“نانو بلکل درست کہتی تھیں کہ شادی کے بعد میری زندگی کی اداسی ختم ہو جاۓ گی،، جب سے ارحہ آئی ہے تو گھر کی خاموشی ختم ہو گئی ہے۔ آج آفس سے پہلی بار گھر آنےکو دل چاہا کہ کوئی میرا ویٹ کر رہا ہو گا، کسی کا چہرہ میرے گھر آنے پر کھل جاۓ گا۔۔”

اس کے اندر خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔

تھوڑی ضدی اور پگلی ہے وہ لڑکی

مگر🥀💋

تا ساتھ تاقیامت نبھانے والی ہے🖤🔥

🌸
🌸
🌸
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁

“حنا وہ لوگ بس آنے والے ہیں بس تم چینج کر لو۔”

زرنــش نے مســـکرا کر کچن میں آ کر کــہا۔

“بــــس بھابھی میں یہ کباب فـــرائی کــر لـوں۔”

اس نے بھی جواباً مســـکرا کر کــہا۔

“ارے نہیں،،،، اتنی جلدی نہـیں تم چینج کرو اور حنان دیکھو کہاں ہے؟”

زرنــش نے سب چیـــزوں کا جائزہ لیـتے ہـوۓ پوچھا۔

“وہ پتہ نہیں،،، کافی دیر سے نظر نہیں آ رہا ، ادھر بھی نہیں آیا ،، آئی تھنک روم میں ہے۔”

اس نے قیاس آرائی کی۔

“نہیں نہیں یاد آیا اس کی کوئی امپورٹنٹ میٹنگ تھی کسی کے ساتھ ، وہ روم میں ہے مت جانا ابھی ادھر۔ “

زرنــش نے سر پر ہاتھ مار کر بتایا۔

“اوکے فائن۔”

وہ چلی گئی۔وہ ریڈی ہو کر اوپر سے عالی کو لینے گئی اور سیڑھیاں اتر رہی تھی جب زرنــش آ گئی۔

“وہ لوگ آ گئے حنان کو بلا لاؤ پلیز اور آ جاؤ تم بھی۔”

زرنــش نے کہا تو وہ سر ہلاتی چلی گئی۔ حنان نے دو منٹ ویٹ کہا تو وہ خود نیچے آ گئی۔

“ویلکم عارش بھائی ، بہت بہت ایکسائٹمنٹ ہے آپ کی مسز سے ملنے کی۔۔۔”

وہ مسکراتے ہوۓ ارحہ کی طرف پلٹی تو اسے ہزار وولٹ کا کرنٹ لگا۔ ارحہ کا حال اس سے دوگنا تھا۔

” ویسے یہ اتفاق ہی تھا کہ شادی کے فنکشنز پر آپ لوگ ارحہ سے مل نہ سکے۔”

عارش نے مسکراتے ہوۓ کہا وہ دونوں ہی شوکڈ تھیں۔

“ماشأاﷲ چاند کا ٹکڑا ہیں آپ کی مسز۔۔۔””

وہ مسکرا کر خود کو نارمل کرتی ارحہ کے گلے لگی۔

“میں حنان کو بلا کر لاتی ہوں ۔۔ “

وہ کہہ کر چلی گئی جب کہ ارحہ بمشکل صوفے پر بیٹھی، دل کی دھک دھک کانوں کے پردے پھاڑ رہی تھی۔۔

“الہی سب خیر کرنا۔”

اس کا دل سوکھے پتے کی مانند کانپ رہا تھـا۔

“حنان میری بات سنو۔”

وہ لاؤنج سے باہر نکلی تو آگے حنان آ رہا تھا۔

“میں پہلے ان لوگوں سے مل لوں، کب کے آۓ ہیں وہ ، تمہاری بات پھر سنتا ہوں،، ۔۔”

وہ کہہ کر بھاگتا ہوا لاؤنج میں چلا گیا۔

“آئیے ویلکم جناب، سوری میٹنگ تھی یار، بزی تھا ورنہ ریسیو بھی کرتا ،باۓ دا وے کیسا ہے تُو؟”

حنان پرجوشی سے بغلگیر ہوتا ہوا بولا۔

“کوئی بات نہیں اے ون تُو سنا؟”

عارش بھی اسی گرمجوشی سے ملا۔

“اور بھابھی آپ سنائیے ؟”

وہ ارحہ کی جانب پلٹا تو اسے صحیح معنوں میں دن ممیں تارے نظر آۓ، ارحہ کا چہرہ آلریڈی دھواں ہو رہا تھا۔

“ماما بھابھی عارش بھائی کے ساتھ بہت سوٹ کرتی ہیں نا ماشأاﷲ ، اللہ پاک بری نظـروں سے بچاۓ ، آمین۔”

حنا نے چہکتے ہوۓ کہا تو حنان اس کی آواز پر حال میں لوٹا اور حنا کو دیکھا ، حنا نے فوراً نـفی میں سر ہلا کر اسے تنبیہہ کی۔۔ حنان سر ہلا کر ایک طرف بیٹھ گیا۔

“ہاں ماشـأاﷲ بہت پیـاری بـچی ہے۔”

فرح بیگم نے بھی مسـکراتے ہوۓ کہا۔

“حنان وہ بہت ان کمفرٹیبل ہو رہی ہے پلیز پلیز ، کچھ ایسا کہہ دو یـار،،،وہ ریلیکس یو جاۓ وہ چاہے جیسے بھی کچھ کہہ دو، تمہارے بھائیوں جیسے دوست کی بیوی ہے۔”

اس نے ٹیکسٹ کیا تو حنان نے ارحہ کو دیکھا جس کے چہرے پر خوف کے ساۓ منڈلا رہے تھے۔

“لگ رہا ہے کہ مسـز عارش ان کمفـرٹیبل فِـیل کــر رہی ہیـں یہاں،۔ آپ ریلیکس ہو کر بیٹھیں یہ گھر آپ کا ہی ہے اور عارش تو میرے لیے بھائیوں جیسا ہے اور اس گھر میں آپ کو وہی مقام و عزت ملے گی جو عارش کو ملی ہے سو آپ ریلیکس ہو جائیں، ایم آئی رائٹ عارش ؟”

اس نے ارحہ کو ان ڈائیریکٹلی سمجھایا کہ ریلیکس ہو جاۓ اور آخر میں عارش کو دیکھا۔

“حنان بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے ارحہ،، ہی از نوٹ مائی فرینڈ ،ہی از مائی برادر۔۔”

عارش بھی سنجیدگی سے بولا، تو ارحہ نے آہستگی سے نظریں اٹھا کر حنــان کو دیکھا جس کی آنکھوں میں نرم تاثر تھا اور بس عزت تھی۔حنان نے سر کو نرمی سے ہلا کر گویا اسے تسلی دی تھی۔ ارحہ واقعی ریلیکس ہوئی۔

اس کے بعد وہ لوگ شاندار ڈنر کر کے چلے گئے تو حنا اس کے روم میں آئی جو ٹیـرس پـر کھـڑا کسـی گـہری سـوچ میـں گم تھا۔ حنا چـھوٹے چـھوٹے قـدم اٹـھاتـی اس کے پـاس آئی۔۔

“حنان آج مجھے فخر ہو رہا ہے کہ میں تم جیسے اچھے انسان کی دوست ہوں، کزن ہوں ، آج تمہاری زبان کا ذرا سا لڑکھڑانا بہت سے انسانوں کو منہ کے بل گرا دیتا۔ “

وہ مسکراتی ہوئی فخر سے بولی۔

“یو نو حنا۔۔؟”

وہ پلٹا تو حنا نے ابرو اچکاۓ۔

“میرے دل کو ذرا تکلیف نہیں ہوئی، ذرا جیلسی بھی نہیں ہوئی ،ذرا غصہ نہیں آیا یہ سوچ کر بھی کہ وہ کسی اور کی ہو گئی ہے، لیکن مجھے اس پـل سے نفـرت ہوئی ہے بلکہ زندگی میں دو پل خود سے ایک بار جب تمہیں ڈانٹا تھا اور دوسری بار آج؟”

اس نے دکھ سے گہری سانس خارج کی۔

“آج کیوں؟”

اس کی آواز کانپی تھی۔

“حنا اس لیے کہ میری وجہ سے آج کسی لڑکی کی آنکھوں میں خوف آیا، میرے لیے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام تھا حنا جب اس کی آنکھوں میں مجھے دیکھ کر ریکوسٹ تھی، واضح ڈر تھا ، ایک مرد کے لیے شرم کی بات ہے یار کہ کوئی لڑکی اس سے ڈرے۔ کہتے ہیں وہ مرد اور گلی کا کتا ایک برابر ہیں جسے دیکھ کر لڑکی رستہ بدل لے اور آج۔۔۔۔”

اذیت اور کرب اس کے چہرے سے عیاں تھا۔

“حنان ایسی بات نہیں ہے، ہر لڑکی کو ایسے موقع پر خوف آتا ہے اور دوسری بات وہ جانتی ہے کہ تم اسے ریسپیکٹ دیتے ہو تبھی تو وہ ریلیکس ہو گئی تھی۔۔”

حنا نے دھیرے سے اسے سمجھایا تھا۔

“اچھا اگر ایسی بات ہے تو تم اسے کال کر لینا اینــڈ سوری کر لینا،،، اوکے؟؟؟”

حنا نے مسکرا کر اس کی تائیـــد چاہــی۔

“تھینکـــــــــــــــــــــــــــــس یار ورنہ میں بہت شرمندہ ااور اپ سیـــــٹ تھــــــــا۔۔””

اس نے مسکرا کر گہرا سانس لیـا۔

“نو نیـــــڈ ویسے آئی پـــــــراؤڈ آف یـو، آج کل کے دور میں کسی کی مینٹلٹــی اتـــــنی اچھی نہیں ہوتـی۔۔”

حنا نے محبت سے اسے دیکھا۔

‏وہ مسکراتی ہے تو مل جاتا ہے مجھے سکون

وہ شخص میرا انتخاب ہے اسے کوئی اداس نا کرے

“شــــــــکریہ ،، اچھا پیپرز ہیں تمہارے گو ، تــیاری کرو اور کسی بھی ہیلپ کی ضرورت ہو بندہ حاضر ہے۔۔ “

وہ سر جھکاتے ہوۓ مسکرا کر بولا۔

“تھینک یو پارٹنر۔”

وہ مسکرا کر پلٹی۔

“ہےےےےےے یو ٹو اینــڈ بیسٹ آف لک میری جان۔”

وہ آخــر میں شرارت سے بولا تھا۔

“ہاہاہاہاہا ۔۔۔”

وہ ہنستی ہوئی چلی گئی۔

اوووو میرے یارا تیری یاریاں

دل کی ســـدا

میری خوشیاں تو ساریاں، نہ ہوں گے جدا

دل کا دل سے ہوا ہے عہد وفـا

وہ گنگنا رہا تھا۔

🌷
🌷
🌷
🌷
🌷
🍁
🍁
🍁
🍁

ایک مہینہ بیت گیا تھا حنا کے پیپرز بھی ہو گئے سو وہ اب بلکل فری تھی،،، آج اسوہ آ گئی تھی۔ حنان آفس سے آ کر ڈنر کر کے روم کی طرف جانے لگا تو ماں کے روم میں آ گیا۔

” اسوہ میــری جـــــــــان،، بڑے دنوں بعد آئی۔۔ “

وہ مسکرا کر خوشی سے بولا۔

“تم نے بڑا کہا جا کر بہن سے مل لوں۔۔”

وہ گلے ملتی ہوئی شکوہ کرنے لگی۔

“یار بہت بزی گذر رہے دن ،، افنان عمار کدھر ہیں؟”

اس نے آگے پیچھے دیکھا۔

“وہ سو گئے ہیں۔”

اس نے اطلاع دی۔

“جلدی؟ اور سناؤ دعا کیسی تھی ؟ حرم اور باقی سب ؟”

وہ اس کے پاس بیٹھتے ہوۓ بولا۔

“سب اے ون،، تم سناؤ کیا چل رہا ہے آج کل ؟”

اسوہ نے پوچھا، فرح بیگم نماز پڑھنے چلی گئیں۔

“سب فٹ۔”

وہ موبائل جیب سے نکالتے ہوۓ بولا۔

“وہ لڑکی جس کا تم نے بتایا تھا،،، کب چلنا ہے اسکے گھر؟”

اسوہ نے اسے دیکھا، حنان کے موبائل پر چلتے ہاتھ رکے۔۔

“وہ ،،، وہ مذاق کیا تھا میں نے ایسا کچھ نہیں تھا۔۔”

اس نے حتی الامکان خود کو نارمل رکھا۔۔۔

“رئیلی ؟؟”

اسوہ نے جانچتی نظروں سے دیکھا۔

“افکورس یار اور ہاں جو نمبر دیا تھا اس پر کال مت کرنا یار میرے فرینـڈ کا ہے اوکےےے۔۔”

اس نے کہہ کر آخر میں تنبیہہ کر کے تائید چاہی۔

“اوکے بٹ حنان پلیزز اب شادی کر لو ناں؟””

اس نے ریکوسٹ کی۔

“کر لوں گا یار ،، تمہارے پاس بس ایک ہی ٹوپک ہے؟”

وہ آخر پر چڑ گیا تھا۔

“تم شادی کے نام پر تو ایسے اچھلتے ہو جیسے۔۔۔”

اسوہ کو غصہ آیا۔

“کر لوں گا یار،، بوڑھا نہیں ہو رہا جو تم فکر میں گھل رہی ہو، جب آتی یہی بات۔”

حنان نے سر جھٹـــــکا۔

“حنان تم بھائی ہو میرے وہ بھی اکلوتے،،، تمہاری شادی میری زندگی کا سب سے بڑا خواب ہے۔۔۔”

اسـوہ نے بلیک میل کیا۔

“اچـھا میـری جان کر لوں گا نا، ابھی مجھے ارجنٹ کال کرنی ہے سو سی یو ،،،گڈ نائٹ۔۔۔”

وہ کہہ کر چلا گیا۔

“شادی تو حنا سے ہی کرنی ہو گی تمہیں چاہے بلیک میل ہی کیوں نہ کرنا پڑا مجھے۔۔۔۔”

اسوہ نے بالوں میں انگلیاں چلاتے سوچا۔

“ماما ایک بات بتا رہی ہوں میں آپ کو اس بدتمیز کو منانے کا کوئی طریقہ نہیں سواۓ بلیک میلنگ کے۔”

اس نے سر ہاتھوں پر گرایا۔

“بیٹا یہ درست طریقہ نہیں ہے۔”

انہوں نے نفی میں سر ہلایا۔

“ماما میرے خیال سے آپ بھول رہی ہیں کہ ہم چاچو سے حنا کا رشتہ مانگ چکے ہیں اور فکر نہ کریں اس کو منانا میرا کام ہے۔ بی ریلیکس۔۔۔”

وہ مسکراتی ہوئی نیچے چلی گئی۔

محبت کے فسانے تو بہت ہیں پر زمانے میں

انہیں ناپا تو جا تا ہے مـــگر تولا نہیں جاتا

🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁

ارحہ اور عارش کی زندگی محبت کی عمدہ مثال تھی۔ وہ لوگ ہنی مون منا کر واپس آ گئے تھے۔۔

“عارش آپ نے وعدہ کیا تھا میرے ساتھ کہ آپ ڈرامہ دیکھـــیں گے،آپ نے نہ دیکھا تو۔۔۔”

ارحہ روہانسی ہو کر بولی۔

“افففف ڈرامہ کوئین چلو۔۔”

عارش اس کو اداس کہاں دیکھ سکتا تھا ۔۔۔

“نام کیا ہے ڈرامے کا؟”

وہ صوفے پر بیٹھتے ہوۓ بولا۔

“کہیں دیپ جلے،آئیں میں آپ کو اسٹوری سمجھاتی ہوں۔”

وہ اسے بتانے لگی۔

“میں نہیں دیکھ رہا کتنا بے شرم ہے یہ انسان بنا بیوی سے صفائی مانگے اسے گھر سے نکال رہا ،،، گھٹیا انسان،،،، کون ایک کاغذ کے بے جان ٹکڑے پر بھروسہ کرتا ہے۔۔”

عارش ذیشان کو لعن طعن کرتا اٹھ گیا۔

“واقعی بے چاری کتنا پیار کرتی ہے اسے اور وہ۔۔۔”

اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

“ارےے یار یہ ڈرامہ ہے وہ ایکٹنگ کر رہے بس۔۔۔”

عارش نے اسے تسـلی دی۔

“ڈرامے بھی تو رئیل لائف سے لیے جاتے ہیں۔۔”

وہ سوں سوں کرتی بولی۔

“چــلو چھوڑو اسے میری جان،، آؤ کوئی اور ڈرامہ دیکھتے ہیں۔”

وہ اس کا دھیان بٹانے لگا۔۔۔۔

“کون سا؟؟”

وہ فوراً سب بھول کر بولی۔

“جو تم کہو گی۔”

وہ محبت سے بولا۔

“یعنی آپ کی کوئی پسند نہیں ؟؟”

وہ ٹھوڑی پر ہاتھ رکھ کر معصومیت سے بولی۔۔

“”ہے نا،،، تم میری پسند ہو تم اور تمہاری ہر پسند میری پســـــند ، اس لیے جو تم کہو گی وہی دیکھیں گے۔۔”

اس کا لہجہ ، اس کا انداز اور الفاظ منہ بولتا ثبوت تھے اس کی سچی محبت کے۔

“تھینکس،،،۔۔۔”

وہ دل سے مسکرائی تھی۔

“چلو تم ڈرامہ سرچ کرو میں کوفی بنا کر لاتا ہوں،، انجواۓ کریں گے ساتھ میں ، بارش بھی ہونے والی ہے، بہت مزہ آۓ گا اور میرے ہاتھ کی کوفی،، آۓ ہاۓۓ۔”

وہ مسـکرا کـر کہتـا آخــر میں شرارت سـے بولا۔

“ہاہاہاہاہا اور اگــر دادو نے دیــکھ لـیا تـو مجھے اوپـر بھیــج دیں گی کہ خــود ڈرامے دیــکھ رہـی اور شـوہر کچـن میــں کـام کـر رہا ہے۔۔”

وہ ہنسی تھی تو عارش بھی ہنس دیا تھا۔

“شــــــــکر ہے اس گھر میـں قہقہے گونجے۔۔”

بوا نے مسـکرا کر دونوں کو دیکھا اور اپنے کوارٹر کی طرف چلی گئیں۔

خود کو باوضـو کیا تیرے تصور سے بھی پہلے

میں نے اس درجـہ تیرے عشق کو پاکیزہ رکھا

🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁

“حنــان میں کچـھ بکـواس کر رہی ہوں۔۔۔۔”

اسوہ نے غصے سے دانت پیسے۔

“تو یہ کون سی نئی بات ہے تم کو عادت ہو چکی ہے بکواس کرنے اور میری مجبوری ہے بکواس سننا۔۔”

وہ سر جھٹک کر بولا۔۔

“حنان اگلے ہفتے تمہارا اور حــنا کا نکاح ہے،،،، چاچو لوگ ہاں کہہ چکے ہیں سو کوئی ڈرامہ نہ کـــرنا۔۔”

اســوہ نے غصـے سے ہاتھ اٹھا کر کہا۔

“کیـــــــــــــــــــا؟؟؟”

حنان کو ہزار وولٹ کا کـرنٹ لگا۔

“جی ہاں۔۔”

اس نے اطمینان سے کہا۔

“اسوہ تم میرے ہاتھوں ضائع ہو جاؤ گی اگر یہ سچ ہوا تو یاد رکھنا مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔۔”

اس نے غصے سے کہا تھا۔

“میں سچ کہہ رہی ہوں حنان اور اگر تم نے انکار کیا تو یاد رکھنا میں ساری زندگی اس گھر میں نہیں آؤں گی،،، دھمکی مت سمجھنا اسے۔۔۔۔”

اسوہ غصے سے چلاائی تھی۔

“تو پھر جاؤ ابھی ہی چلی جاؤ۔۔۔”

وہ دھاڑا تھا۔

“فــائن،،، اب میں تب آؤں گی جب تم حنا سے شادی کے لیے ہاں کرو گے۔۔”

وہ غصے سے سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ کہتی چلی گئی۔

“اسـوہ یہ بے وجہ کی ضـد ہے۔”

حنان آگے آیا۔

“جب مان گئے مجھے کال کرنا،، آ جاؤں گی۔ “

وہ اسے پرے دھکیل کر چلی گئی۔

“ہادی بھائی مجھے گھر ڈراپ کر دیں پلیز اسریٰ آئی ہے تو عمیر کہہ رہے گھر آؤ۔۔۔”

اسوہ کی آواز کانوں میں پڑی تھی۔

“میں نہیں بتا سکتا اسوہ تمہیں کہ میں کیوں نہیں کـر سکتا اس سے شادی،،، تمہیں ہی نہیں بلکہ کسی کو بھی نہیں بتا سکتا۔۔۔”

وہ جھولے پر بیٹھ گیا۔۔

“حنان پلیززززز مجھے بچا لو،، حنان میں گڑھے میں گر رہی ہوں پلیززز بچا لو حنان تم مجھے کھو دو گے۔۔۔”

حنا کی روتی آواز کانوں میں پڑی۔

“حنــــا۔۔۔”

وہ چلاتا ہوا اٹھ بیٹھا۔

“یہ کیسا خواب تھا۔۔۔؟؟؟”

اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔

میں ” آہ ” لکھوں تو ہائے کرے

بےچین لکھوں”بےچین” ہو تُو،،

پھر میں بےچین کا” ب” کاٹوں

تجھے ” چین” زرا سا ہو جائے،،

ابھی”ع” لکھوں تو سوچے مجھے

پھر “ش”لکھوں تیری نیند اُڑے،،

جب”ق” لکھوں تجھے کچھ کچھ ہو⁦

میں”عشق” لکھوں تجھے ہو جائے⁦❤️

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *