Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaanch Ki Choriyan (Episode 26,27)

Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary

“ارحہ نہیں آئی تھی نکاح پر صرف اس لیے کہ میں کچھ کر نہ دوں ایسا کب تک چلے گا، عارش کا تو ساری زندگی اس گھر میں آنا جانا لگا رہے گا ۔ کیوں نا میں ایک وائس میسج ہی کر دوں ارحہ کو، تاکہ وہ ریلیکس ہو جاۓ۔”

ایک ہفتے بعد اس کی شادی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ وہ اور عارش ریلیکس ہو کر آئیں۔

“اسلام علیکم ارحہ ! کیسی ہو؟ ارحہ تم سچ کہتی تھی کہ مجھے تم سے محبت نہیں تھی دوستی تھی۔ ارحہ میں اتنا بےشرم ہر گز نہیں ہوں جو تم سے بدلہ لیتا پھروں یا تم کو ایکسپوز کرتا پھروں اس لیے تم ریلیکس ہو کر میری شادی میں آنا مجھے خوشی ہو گی، ویسے میری شادی حنا سے ہی ہے ۔ اللہ پاک تمہیں عارش کے سنگ ہر خوشی دے آمین۔اب ہر فکر سے آزاد ہو جاؤ باۓ۔”

اس نے وائس میسج بھیج دیا اور خود عارش کے آفس آ گیا کہ کارڈ دے سکے۔۔

“ہاہاہاہاہا میں نے کہا تھا نا بچو کہ تیری شادی حنا سے ہی ہونی ہے اور دیکھ لے،،،، اندر لڈو پھوٹ رہے اور۔۔۔”

عارش ہنستا ہوا بولا۔ وہ حقیقتاً خوش تھا اسکے لیے۔

“شٹ اپ ، میں اوپر صفدر انکل کو یہ فائل دے آؤں۔۔”

اس نے گھورا اور کھڑا ہو گیا۔

“اچـھا مجھے ذرا رحیم خان کا نمبر دینا، مجھے اس سے پروجیکیٹ کے ریلیٹڈ بات کرنی ہے۔”

عارش نے کہا تو حنان نے موبائل ان لاک کر کے دیا۔

” تم ایک بار ایگریمنٹ بھی دیکھ لینا۔”

وہ موبائل دے کر چلا گیا تو عارش نے واٹس ایپ اوپن کیا۔ ارحہ کا نمبر دیکھ کر اسے حقیقتاً شاک لگا۔

“شٹ اپ عارش،، نیگیٹو مت سوچو۔”

اس نے خود کی سرزنش کی اور میسج اوپن کر لیا جو ارحہ نے بھیجا تھا مگر حنان نے ابھی سنا نہیں تھا۔

“وعلیکم اسلام حنان الحمد للہ میں ٹھیک تم کیسے ہو؟ تمہارا میسج سن کر مجھے کتنا سکون ملا اور کتنی تسلی ہوئی میں بتا نہیں سکتی۔قسم سے حنان یو آر بیس،،،، مجھے پہلے شک تھا کہ تم عارش کے دوست ہو مگر اس دن مجھے تمہاری طرح شاک ہی لگا یہ جان کر کہ دوست ہی نہیں بیسٹ فرینڈز ہو تم دونوں اور حنان میں تمہارا شکریہ ادا نہیں کر سکتی جیسے تم عارش کے سامنے انجان رہے جیسے تم مجھے نہیں جانتے۔ اب مجھے اس بات کا بھی یقین ہے کہ تم یہ بات عارش تک کبھی نہیں پہنچنے دو گے کہ ہم کبھی ریلیشن شپ میں رہے ہیں ،، تم دوست ہو ان کے ،، ان کے غصے سے بھی واقف ہو اسی لیے ،،، تمہارے نکاح والے دن پتہ ہے میں کیوں نہ آ سکی۔۔۔”

وہ کیا کچھ اور کہہ رہی تھی عارش کو سنائی نہ دیا۔۔ اس نے چیٹ کلئیرکر دیا اور سر ہاتھوں پر گرا لیا۔

“میری بیوی میری ارحہ جس پر مجھے مان تھا۔ میرا واحد دوست جسے میں نے گھر تک گھسنے دیا دونوں نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا، اتنا بڑا دھوکا۔۔”

عارش نے سر ہاتھوں میں جکڑا۔

“کیا ہوا؟؟”

حنان روم میں آیا تو عارش کو ایسے بیٹھا دیکھ کر پوچھا۔ عارش قدم قدم چلتا ہوا اس تک پہنچا اور نفی میں سر ہلاتے ایک تھپڑ اس کے چہرے پر دے مارا۔

“گیٹ لاسٹ ۔۔”

لہجہ سخت چٹانوں کو مات دے رہا تھا۔

“عارش۔”

حنان گال پر ہاتھ رکھے شاکڈ سا اسے دیکھ رہا تھا۔

“دفع ہو جا حنان یہاں سے۔۔۔ ارے میں تجھے کیوں نہیں پہچان پایا کہ تُو۔۔۔”

عارش تقریباً روہانسا ہو چلا تھا۔

“بتا تو سہی ہوا کیا ہے؟؟”

وہ چلایا تھا۔

“ارحہ اور تیرے ۔۔۔”

وہ آگے کچھ نہ بول سکا۔ دانت لبوں پر گاڑھ لیے۔

“عارش میری بات۔۔۔”

حنان کی بات ادھوری رہ گئی جب وہ دھاڑا۔

“حنان میں نے کہا نکل جا میرے آفس سے یا دھکے دے کر نکلواؤں۔۔۔ ابھی کے ابھی دفع ہو جا۔۔۔”

اس کی آنکھوں میں غصہ مقابل کو جھلسانے کی صلاحيت رکھتا تھا۔ حنان بھاگتا ہوا افس چھوڑ گیا۔

“آااااااااااااا۔”

عارش نے سارے پیپرز بکھیر دئیے اور گھر کی طرف چل دیا، پینتالیس منٹ کا فاصلہ بیس منٹ میں طے کیا۔ گاڑی پورچ میں روک کر وہ اندر آیا تو ارحہ لاؤنج میں صوفے پر لیٹی فرائز کے ساتھ انصاف کرتی ہینڈ فری لگا کر بیٹھی تھی۔ لیپ ٹاپ ٹیبل پر پڑا تھا،،، یقیناً ڈرامہ دیکھا جا رہا تھا۔ عارش بھاری قدم اٹھاتا وہاں پہنچا۔وہ متوجہ نہیں ہوئی تھی۔ عارش کو مزید غصہ آیا۔

“ڈرامے دیکھ دیکھ کر وہی چال چلن آ گیا تم میں ،، وہی دوغلا پن وہی سازشیں۔۔ “

اس نے لـیپ ٹاپ غصے سے دیوار پر دے مارا اور دھاڑا ۔

ارحہ نے شاکڈ ہو کر آگے پیچھے دیکھا،،،، آیا یہ کام اسی کا تھا کہ نہیں ۔ پھر نا سمجھی سے سچویشن سمجھنے لگی۔

“”تم بھی دھوکے باز نکلی،، آئی ہیٹ یو ۔۔۔ “

وہ اس کا چہرہ دبوچ کر چلایا۔

“عـــارش۔۔۔”

وہ تکلیف سے بلبلا اٹھی، ساتھ شاک میں بھی تھی۔

” تم نے اچـھا نہیں کیا ارحہ مگر افسـوس میں تم پر عام مردوں کی طرح ہاتھ نہیں اٹھانا چاہتا ،، جاؤ چلی جاؤ۔۔۔۔”

اس نے جھـٹکے سے اس کا بازو چھوڑا تھا۔

“کیوں؟ کیا ہوا ہے؟”

وہ اس کا بازو پکڑ کر بولی۔

“چلی جاؤ یہاں سے۔۔۔

اس کی دھاڑ سے گھر کے در و دیوار ہل گئے۔

“لیکن آپ بتا کیوں نہیں رہے کہ ہوا کیا ہے؟؟”

وہ روتے ہوۓ پوچھنے لگی۔

“مت پوچھو مجھ سے،، کیا میں نے تم سے شادی سے پہلے نہیں پوچھا تھا کہ ارحہ اگر ایسا کچھ ہے بتا دو،،،، تم نے کہا نہیں ہے جب کہ تم اور حنان ۔۔”

وہ بے بسی سے دھاڑا تھا۔ ارحہ ساکت رہ گئی۔

“عارش نہیں پہلے میری بات تو سن لیں۔۔ “

اس نے صفائی میں کچھ کہنا چاہا۔

“میں نے کہا اس گـھر سے ابھی کے ابھی چلی جاؤ،،، اگر تم نہیں گئی تو میں جان لے لوں گا اپنی۔۔۔”

وہ ٹیبل سے چھری اٹھا کر پاگلوں کی طرح بولا تھا۔

“مجھے ایک موق۔۔۔”

اس کی بات کو عارش نے کاٹا۔

“دفع ہو جاؤ ارحہ،،،، تم نہیں جانتی کہ میں کتنی اذیت سے گذر رہا ہوں ، جس لڑکی کے لیے میری دیوانگی آسمان کی حدوں کی چھونیں لگی اور وہ۔۔۔ “

وہ نیم پاگل ہو چکا تھا۔ارحہ رو رہی تھی۔

“میں جا رہا ہوں ابھی یہاں سے،،، تھوڑی دیر تک گھر آؤں گا اور اگر تم مجھے کہیں دکھائی دی نا تو یاد رکھنا کہ میں بنا ایک لمحہ کی تاخیر کیے خود کی جان لے لوں گا،،، ڈائیورس پیپرز تمہیں جلد بجھوا دوں گا۔۔۔”

وہ کہہ کر چلا گیا جب کہ ارحہ کو اپنے گرد دھماکے ہوتے محسوس ہوۓ۔ آنکھیں پتھرا گئیں تھی۔ اس نے عارش کی گفٹ کی چند چیزیں بیگ میں رکـھیں اور گھر چھوڑا۔

وہ کبھی نہ جاتی اگر وہ دھمکی نہ دیتا، اسکی جذباتیت سے واقف تھی وہ۔ آنکھوں سے گرم سیال مادہ بہہ رہا تھا ، اس کی حسین جنت پل بھر میں چھن گئی تھی۔

“گڈ مورننگ مسز،

حسینائیں جیلس ہوں گی میری مسز سے آج،

مجھے تو ایسا محسـوس ہوتا ہے کہ اگر ایک پل بھی نہ دکھائی دو تم تو میری سانس ہی رک جاۓ گی،

نہیں میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ تم سارا دن نانو لوگوں کے ساتھ گزارو گی مگر شام کو واپس آؤ گی کیونکہ آفس سے آنے پر پہلا چہرہ تمہارا دیکھنا ہوتا ہے اس سے میری ساری تھکن اتر جاتی ہے،

دنیا کی کوئی بھی چیز ہمیں جدا نہیں کر سکتی۔”

اس کے کانوں میں عارش کے وقتاً فوقتاً کہے گئے جملے گونجے، آنکھوں سے آنسو لگاتار بہہ رہے تھے۔ دل تھا کہ بند ہونے کو تھا، آخری بار اس گھر کو دیکھا جہاں ان چند مہینوں میں کتنی یادیں بنا ڈالیں تھیں ، جہاں عارش کی ہنسی اور اس کے قہقہے گونجتے تھے۔ ڈرائیو گاڑی نکال چکا تھا تو وہ میکانکی انداز میں گاڑی میں بیٹھی۔

‏ﺯﺭﺍ ﺳﯽ باﺕ ﻫﻮﺗﯽ ﻫﮯ…ﺗﻮ تنہا ﭼﮭﻮﮌ ﺟﺎﺗﮯ ﻫﯿﮟ..!!💔

ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ….ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﯽ..!!💔

🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁

“یہ بہت غلط ہو گیا ،،،،یہ نہیں ہونا چاہیے تھا،،، نہیں۔۔۔”

حنان بے مقصد گاڑی سڑکوں پر گھوما رہا تھا۔عارش کو کال کی مگر اس نے پک نہیں کی۔۔اس نے ایک بار پھر ٹرائی کی تو عارش آگے سے دھاڑا۔

“تیرا اور میرا اتنا ہی رشتہ تھا حنان ،، گھٹیا انسان آئندہ مجھے کال نہ کرنا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔”

وہ دھاڑا تھا۔

“عارش کبھی آنکھوں دیکھا بھی جھوٹ ہوتا ہے یار ایک بار سن تو لے میری بات۔”

حنان نے ریکوسٹ کی۔

“حنان آئندہ مجھے کال نہیں کرنی، میں نفرت کرتا ہوں تم سے ، شدید نفرت،،، آئندہ مجھے کال کی تو یاد رکھنا میں سب کو بتا دوں گا کہ تم اور ارحہ۔۔۔”

عارش کی آواز میں دنیا جہاں کا غصہ تھا۔

“جسٹ شٹ اپ عارش ،،، تیری ہر جذبے میں شدت پسندی تجھے کہیں کا نہیں چھوڑے گی اس لیے۔۔۔”

حنان کہہ رہا تھا جب دوسری طرف سے کال کاٹ دی گئی۔

” اللہ پاک خیر کرنا،، ارحہ کو اپنے امان میں رکھنا۔”

اس نے دل سے دعا مانگی۔

🌷
🌷
🌷
🌷

عارش بے مقصد سڑکوں پر گاڑی دوڑا رہا تھا ،، اس کے کانوں میں ارحہ کی باتیں ، قہقہے گونج رہے تھے،۔۔۔

“باز آ جاؤ ،،، کام کر رہا ہوں میں ۔۔۔”

عارش لان میں بیٹھا کام کر رہا تھا جب پودوں کو پانی دیتی ارحہ جان بوجھ کر پائپ اس کی طرف کر کے تھوڑے سے چھینٹے ڈال کر رخ موڑ لیتی۔

” اب تم نہیں بچو گی۔”

عارش لیپ ٹاپ رکھ کر اس کے پیچھے بھاگا اور وہ پائپ کا رخ اس کی طرف کر کے اسے گیلا کر گئی۔

“مسز نو پلیز۔۔۔”

عارش نے جیسے ریکوسٹ کی۔

“یو آر لکنگ لائک ویٹ کیٹ ہاہاہاہاہا آئی مین بھیگی بلی،، کیوٹ بھی ۔۔۔”

ارحہ جتنی ہنس رہی تھی،، عارش کو بے اختیار پیار آیا، اس نے بے اختیار اس کی ہنسی کی جھنکار سلامت رہنے کی دعا مانگی۔

“پتہ ہے جب سے تم آئی ہو زندگی میں سب بدل گیا ہے ، میں کبھی بارش میں نہیں بھیگا تھا، تمہارے سنگ بارش میں بھیگا ،، مجھے مہندی نہیں پسند تھی مگر تمہارے ہاتھوں پر ہر وقت مہندی دیکھنے کا تمنائی ہوں۔”

وہ محبت سے بولا۔

” آپ کو لڑکیاں نہیں پسند تھیں اور میں پسند آ گئی۔۔ “

ارحہ مسکراہٹ دانتوں تلے دبا کر بولی۔

” ہاہاہاہاہا بلکل ،، مجھے وہ سب پسند ہے جو میری بیوی کو پسند ہے، مہندی گجرے ڈرامے سب۔”

عارش نے مسکرا کر اس کے ہاتھ سے پائپ لیا اور لمحوں میں ہی اسے بھی بھگو ڈالا۔

“عارش نہیں ۔۔۔”

وہ چلائی۔۔ اب عارش ہنس رہا تھا۔

“محبت کی باتوں میں پھنسا کر اچھا نہیں کیا آپ نے،، میں نے بھی ایسا بدلہ لوں گی کہ آپ کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے، ساری زندگی یاد رکھیں گے۔۔۔”

ارحہ نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔

” تو تم نے لے لیا بدلہ،، میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا ارحہ کبھی بھی نہیں ،،، ہیٹ یو۔۔”

وہ گھر آیا تو گھر کی محسوس کن خاموشی کاٹ کھانے کو دوڑ رہی تھی۔ اس نے نم آنکھوں سے گھر کو دیکھا اور صوفے پر سر ہاتھوں پر گرا کر بیٹھ گیا،، اسے محسـوس ہوا کہ آنکھوں سے نمکین پانی نکل کر اس کے ہاتھ اور گالوں کو بھگو رہا تھا۔۔۔

مجھے احسـاس ہوتا ہے کہ بڑا نقـصان کیا میں نے

محبت کے لیے غلط شخص کا انتخاب کیا میں نے

🌴
🌳
🌲
🌱
🍁
🍂
🍃
🌿
🌾

حنا لاؤنج میں بیٹھی تھی جب زرنش لوگ شاپنگ کر کے آۓ تو وہ منہ پھیر گئی۔

“ہاۓ بھابھی۔”

اسوہ نے شرارت سے اسے دیکھا اور

اس کے پاس آن بیٹھی۔ حنا نے سر جھٹکا۔

“حنا یہ دیکھو،، یہ بارات کے لیے ہم نے پسند کیا ہے بتاؤ کیسا ہے ؟؟ تم پر جچے گا بھی بہت۔ “

دعـا نے مسکرا کر عـروسی ڈریـس اسے دکھایا۔

” کسی کی دوستی میں دراڑ ڈال کر مطمئن ہیں آپ؟؟”

حنا نے غصے سے کہا اور چلی گئی۔

“ہاہاہاہاہا ڈونٹ وری دے ول بی فائن۔”

زرنــش نے ہنستے ہوۓ کہا تو دعـا نے نفی میں سر ہلایا۔

“ہاں یار،، شوخے ہیں دونوں ،،، ماما کو دکھاؤ کہ کیسی ہے جیولری۔”

اسوہ نے کہا تو دعا نے مسکرا کر اسے دیکھا۔۔۔

🍁
🌸
🌴
🌱
🌲
⛅
🌾
🌾
🌾
🌾
🌾
🌾
🌾

ارحہ کو یہاں آۓ دو دن ہو گئے تھے،، عارش نے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا جب کہ گھر پر ارحہ نے یہی کہا تھا کہ وہ یہاں رہنے آئی تھی۔ دل پر بوجھ تھا۔ عارش کو جتنی بار کال کی وہ نہیں پک کر رہا تھا۔۔۔ نانو نے زبردستی عارش کو کال کر کے بلا لیا تھا۔۔

“تم ارحہ سے مل لو ، اپنے کمرے میں ہے۔ “

نانو نے کہا تو وہ ضبط کرتا اٹھ گیا مگر ایک ملاقات ضروری تھی، وہ روم میں آیا تو ارحہ بیڈ کے ساتھ ٹیک لگاۓ قالین پر بیٹھی تھی۔ دراوزے کی آواز پر اس نے ذرا سا سر اٹھا کر دیکھا تو سامنے کھڑے شخص کو بے یقینی سے دیکھا۔ عارش نے بھی آنکھوں کو سیراب کیا تھا۔ یہ محبت کی تلخ حقیقت ہے حالات چاہے جیسے بھی ہوں جب محبوب سامنے آتا ہے تو چاہے چند لمحوں کے لیے ہی سہی مگر مضبوط اعصاب کا انسان بھی دل کی ہی مانتا ہے۔ دل تو محبوب کو دیکھنے کو ملاقات سمجھتا ہے۔

فرض کرو اگر فرصت میں تم کو مل جاؤں

حیرت میں پڑ جاؤ گے یا سینے سے لگا لو گے

“عـارش آپ؟؟؟ مجھے پتہ تھا کہ آپ ضرور آئیں گے۔۔ “

وہ بچوں کی طرح خوش ہوتی اس کے سینے سے جا لگی۔

عـارش کو لگا سب جھوٹ ہو جیسے وہ اس کے گرد بازو حمائل کرنے لگا تھا مگر انا آڑے آ گئی۔ سب مناظر فلم کی طرح یاد آۓ۔سو اسے جھٹکے سے خود سے الگ گیا۔

“بـند کر دو یہ ڈرامے بازیاں،،، میں پرسوں ہمیشہ کے لیے کینیڈا جا رہا ہوں وہ گھـر چونکہ تمہیں حق مہر میں دیا تھا اس لیے طلاق کے بعد وہ گـھر بس تمہارا ہے،، طلاق کے پیپرز تمہیں کل مل جائیں گے۔۔”

اس کا لہجہ پتھر کو مات دے رہا تھا۔ ارحہ کو سانـس گلے میں اٹکتی محسـوس ہوئی۔

“آپ مجھے طلاق نہیں دے سکتے۔”

حکم تھا ، التجا تھی کہ یقین۔ عارش سمـجھ نہ سـکا۔

” پیپرز بن کر آ چکے ہیں،، سائن میں آج کر دوں گا۔۔۔””

اس کا لہجہ ابھی بھی ہر احساس سے عاری تھا۔

“شاید خدا کو بھی ہمارا بچھڑنا منظور نہیں ہے،۔”

ارحہ نے کہا اور الماری کی طرف چلی گئی، عـارش نے الجھتے ہوۓ اسے دیکھا، وہ واپس آئی ہاتھ میں ایک فائل تھی ، اس نے عـارش کو دی اور وہ دیکھنے کے بعد عارش کے چہرے کا رنگ بدلا تھا۔

“یہ۔”

اس نے سر پر ہاتھ پھیرا اور خود کو کمپوز کیا۔

“تو نانو نے مجھے اس لیے بلایا۔”

وہ اپنی کیفیات نہیں سمجھ پا رہا تھا۔ اگر حالات اور ہوتے تو عـارش خوشی سے ناچتا، کیا کچھ نہ کرتا اور آج۔۔۔۔۔

“میں پرسوں جا رہا ہوں،، واپس آؤں گا مگر۔۔۔”

وہ بات کو ادھورا چھوڑ گیا۔

“مگر۔۔؟”

ارحہ نے استفہامیہ اسے دیکھا، اسے تو لگا تھا کہ وہ سب بھول کر اسے سینے سے لگا لے گا مگر وہ تو بے تاثر تھا۔

” اپنی اولاد تم سے لینے۔”

وہ کہہ کر جانے لگا جب ارحہ نے پکارا۔

“ایک ریکوسٹ ہے آپ سے؟”

ارحہ کی بات پر پر وہ رکا مگر پلٹا نہیں۔

“جب تک میں آپ کی اولاد آپ کے حوالے نہ کر دوں تب تک گھر والوں کو ہمارے رشتے کی الجھن کا پتہ نہ چلے۔”

وہ آنسو پر بمشکل بند باندھ رہی تھی۔

“اوکے۔”

وہ چلا گیا تھا۔ ارحہ کو لگا اس کا دل ساتھ لے جا رہا ہو اور عارش کو لگا کہ وہ دل یہیں چھوڑ کر جا رہا ہو۔ ارحہ کی آنکھوں سے پھر بادل برسنے لگے تھے۔

بتاؤ ناں تم سےکہاں رابطہ کیا جاۓ بالفرض

کبھی جو ضرورت ہو تـم سے بات کرنے کی

“نانو میرا جانا ضروری ہے،، کچھ نئے پروجیکٹس ہیں اور اس کا خیال جتنا بہتر آپ رکھ سکتے اتنا میں نہیں ۔۔ “

وہ نانو کو قائل کر رہا تھا۔

“وہ تو ہے پر بیٹا آتے جاتے رہنا اور اس کی فکر نہ کرنا۔”

تنزیلہ بیگم نے کہا وہ تو خوش تھیں کہ پاس ہے ارحہ ۔

“جی ضرور ممانی جان۔”

وہ خود کو پر اطمینان ظاہر کر رہا تھا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ جب لوٹے گا حالات کیا پلٹا کھا چکے ہوں گے۔

تیـــــرے شــہر میـں آۓ،،،،،،،،،،،تو یہ یاد آیا۔

تمہارے شہر سے ہجرت بھی ایک مسئلہ ہے۔

⛅
🌷
🌴
🌱
🍁
🌲
⛅
🌾
🌾
🌾
🌾
🌾

اگلا ایک مہینہ انہوں نے شاپنگ کرنی تھی۔ حنا اور حنان دونوں نے کوئی دلچسپی نہیں لی تھی۔ نکاح کے بعد حنا کا حنان سے کوئی سامنا نہیں ہوا تھا ہاں البتہ ایک بار عالی کو سیڑھیوں سے لینے گئی تو وہ ایک سرد نگاہ ڈال کر چلا گیا تھا۔۔ کھانے کی ٹیبل پر وہ آتی نہیں تھی۔

مایوں کے دوران بھی وہ خاموش رہی تھی۔ حنان زرنــش سے بات کرنے لگا تھا کہ عارش کو کال کر کے سمجھاۓ اور جب وہ اس کے پاس گیا تو اتفاقاً ارحہ اس سے بات کر رہی تھی اور حنان نے جونہی کہا کہ بھابھی اہم بات کرنی ہے تو وہ سمجھ گئی تھی سو حنان کو فوراً کال کر کے اس کو راز رکھنے کی گذارش کی کہ سب سنبھال لے گی سو وہ بھی ریلیکس ہو گیا تھا۔ عارش جاتے وقت زرنش سے مل کر گیا تھا کہ جانا ضروری ہے۔ سو ہی وہ مطمئن ہوئی۔

آج مہندی تھی تو گھر میں ہنگامہ بھی خوب تھا۔ حنا اداس اور نروس ہو رہی تھی،،، دل میں ہزاروں خدشات تھے، حنان اس کا دوست تھا مگر اچانک بلاوجہ ہی نفرت کا روپ دکھانے لگا اور شوہر کے روپ میں وہ کیسا ہو گا یہی سوچ کر اس کی جان نکل رہی تھی۔مہندی کا فنکشن کمبائن تھا۔ سب کزنز دونوں سے بدلہ لینے کا بھرپور ارادہ رکھتے تھے۔ جتنا وہ سب کو ستاتے تھے۔ ڈور نوک ہوا تو سب نے دیکھا سامنے حنان تھا۔

قسط_27

”حنان تم،،،،،“

وہ جو پھولوں کی جیولری پہنے حد درجہ حسین لگ رہی تھی ،،،،لبوں پر بناوٹی مسکراہٹ تھی ،،،،حنان کو دروازے میں کھڑا دیکھ کر چونکی ۔۔۔

”مجھے حنا سے بات کرنی ہے،،،،،“

اس نے ایک نظر سب کو دیکھا۔۔۔

”حنان میری بات۔۔۔۔۔“

اسوہ کی بات منہ میں رہ گٸ۔۔

”اپنی من مانی کر لی تم نے اسوہ،، مجھے پانچ منٹ چاہیے ،،،، نو مور کوٸسچن۔۔۔۔۔۔۔“

اس نے غصے سے مگر دھیمے لہجے میں کہا۔

”چونکہ ایک دن وعدہ کیا تھا تم سے کہ زندگی کے ہر

موقعے پر چوڑیاں میں خود پہناٶں گا ،،،،، صرف وعدہ پورا کرنے آیا ہوں مگر جتنی نفرت تم سے اس وقت ہو رہی ہے بتا نہيں سکتا ،،،،،،،،،،،،،ہاتھ دو۔۔۔۔۔۔۔“

اس کا لہجہ پتھر کو بھی مات دے رہا تھا ،،،، وہ چوڑیاں پہنا کر بنا کچھ کہے جانے لگا تھا ۔۔۔

”حنان۔۔۔۔“

حنا کی آواز پر وہ ایک لمحہ رکا اور پھر چلا گیا ۔۔

”یا اللہ جی۔۔۔۔۔“

اس نے گہرا سانس لیا مگر نظر جونہی نظر چوڑیوں پر پڑی تو لب مسکراۓ تھے اس نے مسکرا کر چوڑیوں پر ہاتھ پھیرا تھا ،،،وہ سچ ہی تو کہتی تھی کہ چوڑیاں میری دوست ہیں۔۔ ۔۔

حنان اسٹیج پر موجود تھا، سب کزنز الٹی سیدھی حرکتيں کر کے اسے تنگ کر رہے تھے۔

“کاششششششش عارش تم یہاں ہوتے۔، ذرا سی غلطی زندگی کو کس موڑ پر لے آئی۔۔ “

وہ افسردہ تھا۔ نظــریں سامنے تھیں مگر دماغ الجھا ہوا تھا۔ سامنے سے حنا کزنز کے ساتھ آ رہی تھی۔ حنان دیـکھ بے شک اسے رہا تھا مگر دھیان ادھر نہیں تھا۔

“ارے بس کر نظر لگاۓ گا کیا؟”

سعـد نے اسے لتاڑا تو اس نے نا سمجھی سے سر ہلایا۔

“ابھی مہندی ہے اور تیـــرا دماغ گھوم بھی گیا۔”

عمـیر بھی ہنسا جب کہ حنان نے گھورا اور سامنے دیکھا جہاں مہندی کے جوڑے میں ،مہندی لگے ہاتھوں پر چوڑیوں کی چھن چھن کے ساتھ آتی حنا حسین نہیں بلکہ آسمان سسے اتری پری لگ رہی تھی۔

“خوش تو حنا بھی نہیں ہے ، کیا کروں میں ؟۔۔”

اس کے حسین چہرے پر سنجیدگی رقم تھی ۔

“شــرم کر شــرم جب دلہن آتی ہے تو کھـڑے ہوتے ہیں۔”

سعد نے اس کی جانب جھکتے ہوۓ کہا۔

“آج بھی ،، آئی مین مہندی ہے۔۔۔”

اس نے ناسمجھی سے پوچھا۔

فٹے منہ،، آدھے پاکستان کی شادیاں کروا دی اور۔۔۔۔۔”

سعد نے گھورا تو حنان کھـڑا ہو گیا۔

“حنان ہاتھ دو اسے۔”

زرنــش بھـابھی نے کہا۔

“دو بھی ،، نکاح میں ہے تمہارے بیٹا۔”

فرح بیگم نے اسے کشمکش کا شکار دیکھ کر کہا۔

“تو کون سـا پہـلے کبھی نہیں پکڑا۔۔”

دعــا نے شرارت سے کہا۔

“ارے پہلے پکڑنے اور آج پکڑنے میں فرق ہے بہت۔۔۔”

رملہ (حنان کی مامو کی بیٹی) نے بھی شرارت سے کہا۔اس نے لب کاٹتے ہاتھ آگے کیا۔ وہ کنفیوز نہیں تھا ، ناراض تھا حنا سے مگر حنا بہت نروس ہو رہی تھی۔

“یہ لگ نہیں رہے دونوں حنا حنان ہیں،، معصومیت سوٹ کر رہی ہے ان پر۔۔۔”

ہادی نے بھی شـرارت سے کہا۔ حنان نے ہاتھ آگے کیا۔

“رکیے۔””

اسریٰ فوراً آگے آئی۔

ْ”ْاب کیا ہے ؟”

اس نے اسریٰ کو گھورا۔

“بڑی جلدی ہے آپ کو ،،، “

شانی (حنان کا مامو زاد) شرارت سسے بولا۔

“اتنی آسانی سے نہیں جانے دیں گے بھئــی آپ کو مزہ چکھانا ہے ،، جیسے ہم سب کو تنگ کیا شادی پر، آج کا دن ہمارا ہے سو بچ کے رہیے گا۔”

اسریٰ نے اسے دھمکایا۔

“روپیہ میں ایک نہیں دینے والا۔”

حنان نے ٹکا سا جواب دیا۔

“ارے اسریٰ بھول گئی کہ یہ دنیا جہاں کا کنجوس بندہ ہے، اس نے پیسے جب نکالے ہمیشہ بس حنا کے لیے نکالے۔۔”

سـعد نے نفی میں سر ہلایا۔ حنا کی ایک بیٹ مس ہوئی۔

“پیسے تو ان کے اچھے اچھے بھی نکالیں گے۔۔”

اسریٰ جیسے سوچ کر آئی تھی۔

“حنان کے ساتھ کون ہے؟”

دعـا نے پوچھا۔

“میں نہیں ہوں۔”

اسوہ نے نفی میں ہاتھ ہلایا۔

“ہاہاہاہاہا یہ تو ایسے حساب ہو گیا جیسے کسی ایجنسی کا اسپاۓ پکڑا جاۓ اور اسے پہنچاننے سے انکار کر دیا جاۓ۔”

اریز ہنستا ہوا بولا۔

“بھئی جلدی کرو ، حنا کا ڈریس ہیوی ہے، تھک گئی ہے۔۔”

زرنــش بھابھی نے حنا کو نروس ہوتا دیکھ کر کہا۔

“ٹھیک ہے ڈن ،، حنان بھائی آپ اس ہتھیلی پر پانچ لاکھ رکھیں اور لے جائیں حنا کو۔”

اسریٰ نے ہتھیلی سامنے کی۔

“ایـــگری ، ایک روپیہ کم نہیں ہو گا اس سے۔”

دعا نے بھی ایگری کیا۔

“حنان ہم نے پیسے تمہاری جیب نہیں دل کے حوالے مانگے ہیں سو شریفوں کی طرح رکھ دو۔”

عمیـر نے اسے شرم دلائی۔

“کـس خوشی میں بھئی؟ نکاح میں قبول ہے میں نے کہا تھا تو پیسے کس خوشی میں تم لوگوں کو دوں۔؟”

حنان نے گھورا، یہ تو طے تھا کہ پیسے وہ نہیں دینے والا تھا۔

“باقیوں کی بار کیا تم نے “قبول ہے” کہتے تھے۔ “

اســوہ نے گھورا۔

“تمہارے جیسی بہن سے بندہ “بہن لیس” ہی اچھا۔ “

اس نے اســوہ کو آنکھیں دکھائیں۔

“ہاہاہاہاہا پیسے دو یا کوئی ٹَرِک آزماؤ۔۔”

ہادی نے بھی کہا۔

“ارےےےےےے مامو جان آپ۔۔؟”

وہ سامنے دیکھتا زور سے چلایا ، سب نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا۔ حنان نے پھرتی سے حنا کا ہاتھ اور کلائی تھام کر اسے اسٹیج کی طرف کھینچا۔ وہ اس افتادہ کے کیے تیار نہ تھی اس لیے حنان کے سینے سے آن ٹکرائی تھی ، جب سب نے مڑ کر حنان کو دیکھا تو حیرت سے آنکھیں وا کیں ، وہ مسکرا کر سب کو دیکھ رہا تھا۔

“یہ فاؤل ہے حنان۔۔۔”

سعد چلایا ، سب کزنز شاکڈ جب کہ بڑے ہنس رہے تھے۔

“خود ہی تو بولا تھا کہ ٹرک آزماؤ۔۔”

وہ معصومانہ انداز میں بولا۔ حنا کو بھی ہنسی آ رہی تھی سب کے چہرے دیکھ کر۔

“نو فئیر گیم کھیلو۔”

دعا آگے بڑھ کر حنا کو پکڑ کر اسٹیج سے اتارنے لگی جب حنان فوراً حنا کے آگے آیا۔ حنا پوری اس کے پیچھے چھپ گئی تھی۔ حنا کو اس پل وہ ڈھال کی طرح لگا تھا۔

“نو ، نو، جو ہونا تھا ہو گیا، وہ میرے نکاح میں ہے ، ابھی اٹھا کر روم میں لے جاؤں تو کوئی روک نہیں سکتا۔”

حنان نے چڑانے والی مسکراہٹ سے کہا۔

“ایسے کیسے لے جاؤ گے؟ سب رسمیں ہوں گی، بد تمیز پہلی رسم میں ہی دغا بازی کر گیا۔۔”

عمیر نے گھورا تھا جب کہ حنان کو اسریٰ کی شکل دیکھ کر ہنسی آ رہی تھی۔

“ہاہاہاہاہا اسریٰ بیٹا ہمت نہیں ہارو۔۔”

اس نے اسریٰ کو اکسایا۔

“ہمیں پہلے ہی یقین تھا کہ آپ بہت کنجوس ہیں، نہیں دیں گے ایک روپیہ بھی۔”

وہ منہ بناتے بولی۔

“کـتنا اچھا ہوں میں،، کسی کا یقین نہیں توڑا۔”

اس کا قہہقہ بلند ہوا۔

“مامو جان آپ سے سمجھا دیں نیکسٹ ایسا نہیں چلے گا۔”

عمیر نے زاہد صاحب کو دیکھا تو وہ ہنس دئیے تھے۔

“دلہن تو فری لے کر جاؤں گا یہ طے ہے۔”

حنان پر یقین تھا۔

“اچھا جـی، ایسا سوچیے گا بھی مت۔۔۔”

اسریٰ نے دانت پیـسے تو وہ بے ساختہ ہنـس دیا۔

“”چـلو بیٹھو اب رسـم کریں۔۔”

فرح بیگم نے مسکراتے ہوۓ حنا کو بٹھایا۔۔مووی میکر ان کی شرارتیں اپنے کیمرے کی آنکھ میں قید کر رہا تھا۔ حنان کی گود میں حرم بیٹھی تھی جو بار بار حنا کی طرف لپک رہی تھی۔

“مجھے دے دو۔”

حنا نے حنان کی جانب دیکھے بنا کہا۔

“رہنے دو۔”

اس کا لہجہ کھردرا تھا مگر حرم تو باقاعدہ رونے لگی۔

“اٹھا لو۔”

حنان نے اسے کہا تو حنا پکڑنے لگی جب حنان کا ہاتھ اس کے ہاتھ سے مس ہوا ، اس کو حرارت سی محسوس ہوئی۔

“تم ٹھیک تو ہو؟”

لہجے میں وہی بیقراری تھی جو ہمیشہ سے تھی، حنا نے چونک کر اسے دیکھا تو اسے بھی یاد آیا کہ ناراضی تھی دونوں کے درمیان سو بنا کچھ کہے وہ جویریہ بیگم کی طرف دیکھنے لگا۔ حنا نے آہستگی سے نظریں جھکا کر نمی کو آنکھوں میں دکھیلا۔ سب بڑے رسمیں کرنے لگے تو ایک بج گیا۔ وہ لوگ رسموں کے بعد ان کو کھـلی چھـوٹ دے کر چلے گئے، اور وہ لوگ بھی ہر رسم دل سے کرنے لگے تھے۔۔

“دیـکھو حنان ! اب کی بار نو بے ایمانی،،، یہ ہے “انگلی پکڑوائی” کی رسم ،، دعـا آپی تمہاری انگلی پکڑیں گی اور تب تک نہیں چھوڑیں گی جب تک تم نیگ نہیں دو گے۔”

شـانی نے اسے رسم سـمجھائی تو اس نے سر ہلایا۔

“چلو دو نیگ؟؟”

دعـا نے اس کے ہاتھ کی انگلی پکڑ لی۔

“کـتنا؟”

حنان نے ان کو دیکھا۔

“تمہاری طبیعت تو ٹھیـک ہے؟”

اسـوہ نے حیرانی سے آنکھیں وا کیں تو اس نے سر ہلایا۔

“چلو دس لاکھ دو؟”

رملہ نے فوراً کہا۔

“یہ کیا؟”

اس نے انگلی چھڑوا کر واسکٹ کے اندر کر لیں۔

“تم لوگوں نے کہا تھا کہ دعا تب تک نہیں چچھھوڑے گی جب کہ میں نے چھڑوا لی ،،،، سسو ڈن۔”

وہ تو تھا ہی بلا کا ڈھیٹ ۔

“دیکھو حنان تم سب رسموں میں فاؤل کر چکے بٹ اس بار نہیں ،، پیسے نہ دئیے تو میں سسونے نہیں دوں گا۔”

عمـیر نے دھمکی دی۔

“مجھے کوئی جلدی نہیں ہے۔”

وہ بازو صوفےکی بیک پر ٹکا کر ریلیکس سا بیٹھ گیا۔

“ارے اســوہ تم ہی اس کو شرم دلاؤ۔”

سعد نے کہا تو اسـوہ بے ساختہ ہنس دی۔

“سچ پوچھیں تو میں سوچ رہی ہوں کہ جو بندہ دس رسموں سے ایسے نکل گیا وہ کل مجھے بہن کی رسم پر اایک روپیہ بھی نہیں دے گا۔”

وہ منہ بنا کر بولی۔

“اچھا سب چھوڑئیے پیسے تو ہم نکلوا لیں گے پہلے حنان اور حنا ڈانس کریں۔”

دعا نے نئی فرمائش سامنے رکھی۔

“ہم نہیں کرنے والے۔”

حنان نے فوراً انکار کیا۔

“ایکسکیوز می، تم دونوں نے وعدہ کیا تھا۔”

اسوہ نے یاد دلایا۔۔

“کـب؟”

حنان نے حیرت سے اسے دیکھا۔

“افففففففف تم نے اور حنا نے بولا تھا کہ ایک دوسرے کی شادی پر کریں گے ڈانـس۔۔۔۔”

اســـوہ نے یاد دلایا۔

“اور اب نو ایکسکیوز ،، تمہاری اور حنا کی شادی ہم سب کا خواب ہے سو پلیززززز ۔۔۔۔”

زرنــش نے بھی کہا تو حنان نے سـر ہلایا اور کھـڑا ہو گیا۔

“مجھ سے نہیں ہو گا۔”

حنا نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔

“تمـاشـا مـت بنوانا،،،،، اٹھو۔”

حنان کا لہجہ پتھر کو مات دے رہا تھاتو بمشکل حنا کھڑی ہو گئی مگر حقیقتاً اس کا دل بلکل نہیں تھا۔۔۔

“واؤ،،،،، چلو باقی کپلز بھی آؤ۔۔”

رملہ نے کہا۔

“اور تم؟؟؟”

حنان نے اسے گھورا۔

“آئم سنگل ،،، سو میں ویڈیو بناؤں گی۔۔۔”

وہ ہنستے ہوۓ بولی تو سب کپلز کی شکل میں آ گئے۔ حنان اور حنا کی شادی کو ان سب نے زندگی کی سب سے بہترین شادی بنا دیا تھا۔۔۔

🌾
🌲
🍁
🌷
🌱
🌴
🍁
⛅

صبح دس بج گئے تو سب آہستہ آہستہ اٹھ رہے تھے۔

“ہزار بار کہا تھا کہ وقت پر سو جانا،،، اب دیکھو اٹھ ہی نہیں رہے ہیں،،، سو بار اٹھا کر آئی ہوں ۔”

جویریہ بیگم نے سر تھاما۔

“ہاں اور کیا تو؟”

عفت بیگم نے بھی کہا۔۔اس کے بعد یکے بعد دیگرے سب اٹھے اور ناشتہ کر کے تیاری کرنے لگے۔ حنا رملہ اور اسریٰ کے ساتھ پارلر چلی گئی تھی۔ سہرا بندی پر بھی حنان نے ایک روپیہ نہیں دیا تھا جس پر اسوہ سمیت سب کا ہی مننہ سوجا ہوا تھا اور حنان مسلسل ہنس رہا تھا۔ بارات نکل چکی تھی ۔ ہر کوئی بے انتہا حسین لگ رہی تھی۔

حنا ریڈ کلر کے لہنگے میں بے حد پیاری لگ رہی تھی۔ ہر کوئی دیکھ کر بے اختیار ماشأاﷲ کہہ اٹھا۔ حنان ببھیی کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا۔۔۔

“بارات آ گئی۔”

رملہ نے خوشی سے چلاتے ہوۓ کہا۔حنا کے دل کی دھڑکن رکنے سی لگی تھی۔ اسے ہلکی ہلکی حرارت سی تھی۔

“رات سے لے کر صبح تک تم نے بہت دغابازیاں کی ہیں اب تب تک نہیں جاؤ گے ، جب تک نیگ نہیں دو گے۔”

دعا اور باقی کزنز نے دوپٹے سے رستہ روک رکھا تھا۔

“رئیلی تو لے کر دکـھاؤو۔۔۔۔۔”

حنان نے چیلنجنگ نگاہوں سے دیکھا۔

“ویـسے کتنے شـرم کی بات ہے کہ رات کا یہ اکیلا جیت رہا ہے،،، آئی مین ایک روپیہ نہیں دیا اس نے۔۔۔۔”

شانی نے منہ بنایا۔

“اب تو پیسے لیے بھی جانے نہیں دیں گے ہم۔””

رملہ نے حتمی فیصلہ سنایا۔۔

“تو میـری جان لو نا؟”

حنان نے اسے ابرو اچکا کر دیـکھا۔

“جب تک تم نیگ نہیں دو گے ہم جانے دیں گے۔”

زرنــش بھابھی نے اسے دھـمکایا۔

“میرے اندر اتنا اسٹیمنا ہے کہ کل تک بھی یہاں کھڑا رہ سکتا ہوں البتـہ تم لوگوں کے ہیوی ڈریسز اور ہیلز دس منٹ میں تھکا دیں گی،،،،،، سیڈ۔”

حنان بلا کا ڈھیٹ تھا۔

“چلو نیگ دیں اب۔۔”

اسریٰ نے اسے دانت دیکھاۓ۔۔۔

“چھپکلی۔”

اس نے دعــا کے پاؤں کی طرف اشارہ کیا ، دعا نے فوراً چلاتے ہوۓ ہوۓ دوپٹہ چھوڑا اور حنان بھاگتا ہوا اسٹیج کی طرف چلا گیا،،،، سب کزنز اس کے پیچھے بھاگ رہے تھے،، ہال میں موجود باقی لوگ ہنس رہے تھے، حنان بھاگتا ہوا اسٹیج پر صوفے پر دھپ سے بیٹھ گیا۔ سعد، عمیر اور اریز ہال کے دراوزے پر بیٹھے ہنس رہے تھے جب کہ اسوہ اور زرنــش کا بھی ہنس ہنس کر برا حال تھا۔ دعا حنان کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی،، جویریہ بیگم بھی ہنس رہی تھیں۔۔

“دغآ باز،، بدتمیزززززز۔۔۔۔ “

دعا غصے سے بولی۔

“دعا آپی ایک آخری موقع ہے ہمارے پاس۔،،، حنا کو اسٹیج پر لانا ہے۔ “

رملہ نے اسے کہا۔۔

“دعـا بیٹا وقت کم ہے سو باقی رسمیں نہیں کر سکتے۔”

شاہد صاحب نے اسے دیکھا تو وہ لوگ سر ہلاتی حنا کوو لینے چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد حنا ان کے سنگ آ رہی تھی۔

“ماشأاﷲ ۔۔۔۔”

سب نے بے اختیار کہا۔

“اب دس لاکھ دو گے تب ہی۔”

دعا اب کی بار سنجیدہ تھی۔

“جتنا تنگ کر لیا سوری۔”

اس نے کہا اور وولٹ نکال کر دعـا کو دیا۔

“دعا وولٹ چیک کرو یقیناً خالی ہے کیونکہ مقابل حنان ہے سو الرٹ رہنا۔”

عمیر نے دعا کو الرٹ کیا تو وہ سر ہلا کر دیکھنے لگی۔

“ارے بھائی ہیںں۔”

وہ حیران ہوئی اور حنا کا ہاتھ حنان کو تھما دیا۔

“اللہ تعالٰی تم دونوں کو ہر خوشی دے آمین۔”

حنا دعا سے ابھی تک ناراض تھی۔

“یہ پیسے تو نقلی ہیں۔۔”

اسریٰ نے دعا کو گھورا۔

“ہــــــــــــــــــیں؟؟؟؟؟؟؟؟”

دعا نے وولٹ دیکھ کر حنان کو دیکھا تو وہ ہنسی چھپا رہا تھا ۔ جب کہ باقی سب ہنس رہے تھے۔

“تمہیں بولا تھا عمیر نے کہ مقابل حنان ہے۔۔۔”

ہادی نے دعا کو کہا تو وہ بس گھور کر رہ گئی۔ اسی طرح رخصتی کا لمحہ آ گیا تھا۔ حنا بہت جذباتی ہو گئی تھی، بھلے گھر نہیں چھوڑنا تھا مگر کمرہ تو چھوڑا تھا۔ گھر آ کر بھی مووی سیشن چلا۔ حنا حنان کے سجے سجاۓ کمرے میں اس کی دلہن کے روپ میں بیٹھی تھی۔

“تمہارے دل کے ہزاروں ارمان ہوں گے سو تم پورے کر لینا مگر جب میں روم میں آؤں تو تم اس حلیے میں نہ ہو۔”

حنان کی بات کانوں میں گونجی تو وہ بنا ایک لمحہ کی دیر کیے اٹھی اور ملازمہ سے کہہ کر ڈریس منگوا لیا۔

“تم تم نے چینج کیوں کیا؟”

اسوہ کمرے میں آ کر بولی۔

“سب آپ کی مرضی سے ہوا ہے اور تھک گئی تھی۔”

اس کا لہجہ غصے سے بھرا تھا۔

“دیکھو حنا ۔۔۔”

اسوہ نے سمجھانا چاہا۔

“آئی نیڈ ریسٹ ۔”

وہ لیٹ گئی تو اسوہ نفی میں سر ہلاتی چلی گئی۔ حنان روم میں آیا تو وہ ڈریسنگ پر جیولری رکھ رہی تھی۔

حنان ڈریسنگ روم میں چلا گیا تو حنا نے دکھ سے آنسو گلے میں اتارے اور صوفے پر لیٹ گئی۔

“مجھے تمہاری کوئی چیز یہاں نہ نظر آۓ۔”

وہ جیولری صوفے کے آگے پھینکتا غصے سے بولا۔

“میری یہاں کوئی چیز نہیں ایون فیس واش بھی نہیں ،، یہ چیزیں ابھی رکھ نہیں سکتی تھی میں سو۔۔”

اس کا لہجہ سپاٹ تھا۔

“نفرت ہے مجھے تم سے حنا، تم میرے سنگ صرف کانٹوں کا سفـر طے کرو گی۔۔”

وہ غصے سے کہتا بیڈ پر لیٹا جبکہ حنا کی آنکھوں سے بس آنسو بہہ رہے تھے۔

کوئی غزل سنا کر کیا کرنا

یوں بات بڑھا کر کیا کرنا

تم میرے تھے تم میرے ہو

دنیا کو بتا کر کیا کرنا

تم عہد نبھاؤ چاہت سے

کوئی رسم نبھا کر کیا کرنا

تم خفا بھی اچھے لگتے ہو

پھر تم کو مانا کر کیا کرنا

تیرے در پہ آ کے بیٹھے ہیں

اب گھر بھی جا کر کیا کرنا

دن یاد سے اچھا گزرے گا

پھر تم کو بھلا کر کیا کرنا

🌾
🌾
🌾
🌾
🌾
🌾
🌾
🌾
🌾
🌾

صبح دستک کی آواز پر حنان کی آنکھ کھلی تو وہ فوراً اٹھا،، حنا بے خبر سو رہی تھی۔

“حنا ۔۔۔”

حنان ہاتھ بڑھا کر اٹھانے لگا مگر رک گیا۔

“حنا اٹھو بھی۔۔۔”

اس نے آگے بڑھ کر بازو تھاما ،،،

“”افففففف اس کو تو بخار ہے۔۔”

وہ فکرمند ہوا۔

“حنا ہمت کرو اور بیڈ پر چلو۔۔۔۔”

اس نے سہارا دے کر بیڈ پر لٹایا اور دروازہ کھولا۔۔

“گڈ مورننگ بیوٹیفل کپل۔”

زرنــش بھابھی نے مسکرا کر کہا۔

“”بھابھی پلیزززز جلدی آئیے حنا کو بہت ہائی فیور ہے۔”

وہ پریشانی سے بولا۔ زرنــش بھاگ کر اندر آائی۔

“”جاؤ اسوہ کو بولو ٹھنڈا پانی لے کر آۓ۔”

بھابھی بھی فکرمند تھیں۔ اس کے بعد سب ادھر جمعع سب پریشان تھے مگر شام تک اس کے بخار کا زور ٹوٹ گیا تھا،،،،، شام کو ولیمہ تھا،،،، حنان البتہ ہنوز شرارتی جب کہ حنا سنجیدہ تھی۔ حنان نے سب کزنز کو گولڈ کے ایک جیسے بریسلٹ دئیے تھے،،،، جس پر وہ سب حد سے زیادہ خوش تھیں جب کہ حنا سے ناراضی برقرارر تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *