Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary NovelR50591 Kaanch Ki Choriyan (Episode 07)
Rate this Novel
Kaanch Ki Choriyan (Episode 07)
Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary
حنا ، حنا کہاں ہو تم؟”
وہ اس کے روم سے ہو کر چلاتا ہوا لاؤنج میں آیا ۔
“عقل کے اندھے یہاں ہوں ، تائی جان اٹھ جائیں گی۔”
حنا نے دانت پیس کر کہا تو وہ کمر پر ہاتھ رکھے اسے گھورنے لگا ۔ یہاں وہ ایک ہینڈسم لڑکا کم لڑاکا ماسی زیادہ لگ رہا تھا۔
” کیا ہے؟ ایسے کیوں گھور رہے ہو؟”
حنا نے ناسمجھی کی ایکٹنگ کی ۔
“میں نے فریج میں آئسکریم اور بریانی رکھی تھی ، کہاں گئی وہ ؟”
حنان نے اسے گھورا۔
“آئسکریم اور بریانی کا کیا کنٹراسٹ ؟”
وہ معصوميت سے بولی۔
“جو بھی ہو، مجھے بتاؤ کیوں کھائی تم نے ؟ باہر سے منگوا لیتی ہاں ، وہ میرے دوست نے ٹریٹ دی تھی۔”
وہ دانت پیستے ہوۓ بولا۔
“اففففف، نہیں کھائی میں نے بھئی۔”
وہ فوراً نفی میں سر ہلا کر بولی۔
“بیٹا اگر تم نے کھائی نہ ہوتی نا تو یوں الزام خاموشی سے برداشت کر نہ رہی ہوتی ، اتنی تم اچھی ۔”
وہ فوراً اس کے پاس بیٹھتے ہوۓ بولا۔
“ہاں میں نے کھائی ہے ،کیا کرو گے تم؟”
حنا نے دانت پیس کر ریمورٹ اٹھایا۔
“تم، حنان ابھی جذباتی ہونے کا وقت نہیں ہے۔”
حنان نے انگلی اٹھا کر کچھ کہنا چاہا تبھی دماغ سے آواز آئی سو وہ ریلیکس ہوا۔
“بھوک لگی ہے مجھے، اور گھر کا کھانا کھانے کا موڈ نہیں ہے یار ، ایسا کرتے ہیں ہم باہر چلتے ہیں، تم ریڈی ہو جاؤ اور پیچ والا ڈریس پہننا۔”
حنان نے پلان بنایا اور پیچ ڈریس کا اس لئے کہا کہ حنا کے سب فرینڈز نے سیم وہی ڈریس پہن کر یونی جانا تھا۔
“حنان وہ تو۔”
اس نے انکار کرنا چاہا۔
” میری خاطر تم اتنا بھی نہیں کر سکتی ، پلیزززز۔ “
حنان نے بلیک میل کیا تو وہ فوراً اٹھ گئی اور پریس کرنے لگی ۔
“اچھا سنو ، پلیز پانی لا دو۔”
وہ آئرن کر رہی تھی جب حنان آیا ، اس کی بات ماننا مجبوری تھی جبھی وہ بنا کوئی بحث کیے چلی گئی۔
“شکل دیکھی نہیں اور آئی میرے جیسے ڈیشنگ بندے کے ساتھ لنچ کرنے والی ، ہووووں۔”
حنان نے اس کی شرٹ پر استری رکھ دی۔
“یہ لو پانی، اب کدھر چلا گیا، حد ہو گئی ۔”
وہ آئی مگر حنان وہاں نہیں تھا ، وہ جونہی پلٹی تو ہزار وولٹ کا کرنٹ لگا کیونکہ شرٹ جل چکی تھی اور اسے پل بھر میں سارا معاملہ سمجھ آ گیا۔
“حنان ، حنان کے بچے کہاں ہو؟”
وہ باہر آئی تو وہ مزے سے بیٹھا ہوا تھا۔
“میری شرٹ کیوں جلائی تم نے؟”
وہ غصے سے ہاتھ ہلاتی چلائی تو چوڑیوں کی کھنکھن سے ماحول میں ایک ارتعاش پیدا ہوا۔
“میری آئسکریم کیوں کھائی تم نے؟”
وہ بھی دوبدو بولا۔
“تو آئسکریم کا اتنا بڑا بدلہ لیا تم نے۔”
وہ غصے سے بولی۔
“کیا ہوا ہے حنا ؟ کیوں گھر سر پر اٹھایا ہوا ہے؟”
فرح بیگم نے کہا تو اس نے فورا غمزدہ شکل بناۓ پلٹی۔
“تائی امی اس نے میری فنکشن والی شرٹ جلا دی ہے، فنکشن بھی کل ہے۔”
وہ روہانسی ہو کر بولی۔
“جھوٹی کل تو نہیں ہے۔”
حنان نے فوراً کانوں کو ہاتھ لگاۓ ۔
“کل ہی ہے ۔”
وہ مصنوعی آنسو پونچھنے لگی۔
“حنان جاؤ ، اسے ویسے کی شرٹ دلا کر دو۔”
فرح بیگم نے حکم صادر کیا۔
” ماما میری بات۔”
اس کی بات ادھوری رہ گئی۔
“حنان ماں کا حکم ہے جاؤ ۔”
انہوں نے ہاتھ اٹھا کر کہا تو حنان نے اثبات میں سر ہلایا۔
“چلو بھی اب ۔”
حنان نے اسے گھورا ۔
“اوکے میں ابھی چادر لے کر آئی تم چلو۔”
حنا ہنس کر کہتی ہوئی اپنے روم کی طرف چلی گئی۔
” کیوں نا میں آج ارحہ کو حنا سے ملوا دوں؟ ہاں یہ آئیڈیا بیسٹ ہے تا کہ ماما بابا کو منانے میں حنا میرا ساتھ دے ، اوکے کرتا ہوں کال ۔”
اس نے پوکیٹ سے موبائل نکال کر اسے کال کی۔
“ہیلو ارحہ کہاں ہو؟”
وہ جو دادو کے روم کی طرف جا رہی تھی ، اس کی کال دیکھ کر رک گئی۔
“گھر ، کیا ہوا ہے؟”
وہ نا سمجھی سے بولی۔
“تم آج سینٹورس آ جاؤ ملتے ہیں ، پلیز جلدی ۔”
حنان کے کہنے پر ارحہ کو حیرانی ہوئی کیونکہ وہ ملنے کو نہیں اصرار کرتا تھا بلکہ ملنا چاہتا نہیں تھا۔
“خیریت ہے؟”
وہ الجھی۔
“ہاں ، حنا کو ملوانا چاہتا ہوں تم سے ، ہم لوگ پہنچ رہے ہیں۔ نو ایکسکیوز ود ان فورٹی منٹس پہنچو، باۓ۔”
اس نےکہہ کر کال کاٹ دی۔
“حنان میری بات تو سنو ، افففف یہ لڑکا، ہر وقت گھوڑے پر سوار رہتا ہے ، اگلا کیا کہتا سنتا نہیں ، کیا کروں۔”
اس نے سر پکڑا پھر کچھ سوچ کر باہر آئی ۔
“ڈرائیور گاڑی باہر نکالو ، میں خود ڈرائیو کر لوں گی ، تم بس گاڑی باہر نکالو۔”
وہ کہہ کر چلی گئی۔






” نہیں مل رہی شرٹ اب کیا کروں میں ؟”
حنا نے اسے گھورا تو وہ کندھے اچکا کر رہ گیا۔
“سیلفش نہ ہو تو۔”
حنا نے گھورا ۔
“اچھا یار نیٹ سے دیکھ کر آرڈر کر لیں گے۔”
حنان نے آئیڈیا دیا تو حنا نے منہ بنایا۔
“آرڈر کچھ کرو اتا کچھ ہے ۔”
وہ سر جھٹک کر آگے بڑھی ۔
“تو کون سا کل ہی فنکشن ہے؟ میں جاؤں گا مے بی کچھ دن تک کراچی تو لا دوں گا ۔”
وہ اب سنجیدگی سے بولا۔
“پکا نا؟ “
حنا نے مشکوک نظروں سے دیکھا۔
“ہاں میری جان پکا ، نہ ملی پھر بھی لاؤں گا ، اچھا چلو کچھ کھا لیں ، میں نے لنچ بھی نہیں کیا۔”
اس نے کہا تو حنا کو ترس آ گیا ۔
“کیا کھاؤ گی ؟”
حنان نے مینیو کارڈ آگے رکھا۔
“کچھ بھی منگوا لو، منہ کی ہلانا ہھ۔”
حنا نے ہنستے ہوۓ کہا تو اس نے ہنس کر سر ہلایا تبھی ارحہ کا ٹیکسٹ آیا تو حنان نے اسے جگہ بتائی۔
“۔اسلام علیکم !”
ارحہ نے کہا تو دونوں نے سلام کا جواب دیا جب کہ حنان کھڑا ہو گیا ، وہ اسے ایسے ہی عزت دیتا تھا۔
“کیسی ہو؟”
وہ مسکرا کر بولا تو حنا کو حیرت کا جھٹکا لگا۔
“ٹھیک ، تم کیسے ہو؟”
وہ مسکرا کر بیٹھ گئی۔
“ٹھیک ٹھاک اینڈ تھینکس فور کمنگ۔”
وہ مسکرا کر بیٹھتے ہوۓ بولا ۔
” نو نیڈ۔ اینڈ آئم شیور شی از حنا ، آئی تھنک آئی شُڈ سے لوور آف بینگلز۔”
ارحہ ہنستے ہوۓ بولی۔
“یسسس افکورس ، اینڈ یو نو شی از آلسو مائی بیسٹ فرینڈ۔”
وہ محبت سے حنا کو دیکھتے ہوۓ بولا۔
“اور حنا شی از ارحہ ، مائی کولج فیلو پلس وائف ٹو بی۔”
وہ مسکرا کر بولا تو حنا کو اپنے ارد گرد دھماکے ہوتے محسوس ہوۓ ۔ دماغ سائیں سائیں کر ریا تھا۔
“میں نے تم سے کہا تھا نا کہ جب بھی کوئی لڑکی پسند کروں گا تو سب سے پہلے تمہیں ہی بتاؤں گا ، سو بتاؤ کیسی لگی تمہیں ارحہ۔”
وہ مسکرا کر راۓ مانگنے لگا ، اگر وہ اس دم اس کے دل کی حالت جان جاتا تو شاید بھول کر بھی کبھی نہ بتاتا کہ وہ ارحہ کو اپنی لائف میں شامل کر چکا ہے۔
“شی از ویری نائس ۔۔۔ مجھے بہت اچھی لگی ہے اور تمہارے ساتھ بھی جچے گی۔”
وہ مسکراتے ہوۓ بولی۔ ٹوٹے دل کے ساتھ مسکرانا کتنا اذیت ناک ہے ، اسے آج معلوم ہوا تھا۔
“حنان تم کھانا آرڈر کرو اور کارڈ دو ، میں آتی ہوں ، تب تک آپ لوگ باتیں کریں۔”
حنا نے کہا تو حنان نے اسے دیکھا۔
“کارڈ کیا کرنا ہے؟”
حنان نے اسے دیکھا ۔
“چاہیے یار۔”
وہ کارڈ اٹھا کر چلی گئی۔ دراصل وہ اس اچانک دھماکے سے فرار چاہتی تھی ۔ اپنے من چاہے انسان کو کسی اور کے ساتھ دیکھنا ضبط کی آخری حد ہوتا ہے۔ اس کا دل چوڑیوں کی طرح کرچی کرچی ہوا تھا۔ جاتے جاتے سامنے کا منظر آنسو کی وجہ سے دھندلا رہا تھا۔
“حنا پلیز بریو بریو بریو۔”
اس نے گہرا سانس لیا اور آنکھیں ملتے ہوۓ آگے بڑھی۔
” کیسی لگی ہے تمہیں ؟ آفت کی پرکالہ ؟”
حنان ہنستا ہوا ارحہ سے پوچھنے لگا۔
“ویری پریٹی اینڈ انوسینٹ، چوڑیوں کی طرح نازک۔”
ارحہ مسکراتے ہوۓ بولی۔
“شکر ہے تم اسے پسند آ گئی ، اب گھر والوں کو منانا آسان ہو گا ، حنا منا لے گی سب کو ۔”
وہ مسکراتا ہوا ریلیکس ہو کر بولا۔
“اور اگر میں حنا کو پسند نہ آتی تو؟ تم مجھے سے شادی نہ کرتے؟”
وہ شاکڈ سی بولی تھی۔
” ارے نہیں یار، وہ میری پسند کو ریجیکٹ نہیں کر سکتی سو ریلیکس ، یہ بتاؤ تم کب گھر بات کرو گی؟”
حنان نے اسے دیکھا تو اسے عارش کا رویہ یاد آیا۔
“پہلے تم تو کر لو گھر بات، میں بھی کر لوں گی۔”
ارحہ نے اسے دیکھا۔
“میں نے کی تو سب نے فورس کرنا ہے اگلے ہی دن تمہارے گھر آنے کو ، سو پلیز ۔”
وہ فوراً بولا۔
“میں کر لوں گی بات جلد ہی، تھوڑا سا ویٹ۔”
وہ آہستگی سے بولی۔
“آخر کتنا ویٹ ، سوری ٹو سے مگر مجھے لگتا ہے کہ یار تم اوائیڈ کر رہی ہو میری اس بات کو۔ “
حنان کی بات پر ارحہ کو کرنٹ لگا مگر ویٹر کے آنے پر وہ چپ کر گئی۔ ویٹر کے جاتے ہی حنا آ گئی۔
“ارحہ یہ گفٹ آپ کے لئے۔۔”
حنا نے مسکرا کر ایک گفٹ پیک اس کے سامنے رکھا۔
“ارے یار اس کی کیا ضرورت تھی؟”
ارحہ نے فوراً چونک کر کہا ۔
“بھئی گفٹس ضروریات کے تحت نہیں دیے جاتے بلکہ اس لئے دیے جاتے ہیں جن کی ضرورت ہو ان کو بتایا جاۓ کہ آپ واقعی اہم ہیں ہمارے لئے۔”
وہ مسکراتے ہوۓ بولی ۔ ارحہ تو ارحہ حنان بھی اس کے جملے سے کافی متاثر ہوا تھا ، اتنا سنجیدہ کب ہوتی تھی۔
“تھینک یو سو مچ ، یو آر ویری سویٹ ۔ “
ارحہ مسکرا کر گفٹ لیتے ہوۓ بولی تو اس نے مسکراتے ہوۓ شکریہ ادا کیا ۔ دل بجھ رہا تھا مگر ارحہ سے جیلسی نہیں ہوئی ۔
اس کے بعد ان تینوں نے کھانا کھایا ۔
” حنا جب حنان نے مجھے کہا کہ تم سے ملوانا ہے تو پھر میں نے آتے ہوۓ چوڑیاں لی تھی تمہارے لئے ، حنان بتاتا تھا کہ تم کتنی دیوانی ہو چوڑیوں کی سو بتاؤ یہ کیسی ہیں ، ایکچوئیلی مجھے تمہاری چوائس نہیں پتہ نا؟”
ارحہ نے بہت پیاری چوڑیاں اسے دی تو حنا تو تھی ہی دیوانی۔ اب بھی چوڑیوں کو دیکھ کر پاگل ہو گئی۔
واؤ یہ تو بے حد پیاری ہیں ۔ بہت بہت شکریہ ، سچی بہت پیاری ہیں ، میں ان کو ہمیشہ سنبھال کر رکھوں گی۔”
حنا خوشی سے تقریباً چلاتے ہوۓ بولی۔
“ہاہاہاہا مائی پلئییر ۔ اس کا مطلب ہے کہ تمہارا دل جیتنا ایزی ہے بس چوڑیاں گفٹ کر دو۔”
ارحہ ہنسی ۔
” یا شیور ۔”
وہ بھی مسکرائی ،اس کے بعد تھوڑی دیر گپ شپ چلتی رہی ۔ تو وقت کی نزاکت کا احساس کرتے وہ لوگ گھر چلے گئے ۔ ارحہ بہت مطمئن تھی یہ جانے بنا کہ اس کا سکون تباہ ہونے والا ہے۔
“کیا سوچ رہی ہو؟”
حنان نے اسے مسلسل خاموش دیکھ کر پوچھا کیونکہ گاڑی میں وہ ہو اور ہنگامہ نہ ہو امپاسبل۔۔
” نتھنگ۔”
وہ گہرا سانس لے کر بولی۔
” ناراض ہو ؟”
حنان نے اسے دیکھا۔
” نہیں یار ۔ “
اس نے نفی میں سر ہلایا۔
“پھر منہ کیوں پھلایا ہوا ہے؟”
حنان نے گاڑی کی اسپیڈ آہسته کرتے ہوۓ پوچھا۔
“سر درد کر رہا ہے۔”
وہ کنپٹیاں سہلاتے ہوۓ بولی۔
“جانتا ہوں تم ناراض ہو کہ اتنا لیٹ کیوں بتایا مگر ٹرسٹ می میں بتانا چاہتا تھا ارحہ کے بارے میں تمہیں ، پھر سوچا کہ پہلے ارحہ گھر بات کر لے پھر ملوا دوں گا ، آئم سو سوری اگر تمہیں برا لگا تو ۔”
وہ منہ بنا کر اسے ایک نطر دیکھ کر بولا۔
“افففف نہیں ہوں ناراض سچی۔ مجھے تو بہت اچھی ہے ارحہ ، بس کوک پی ہے ٹھنڈی تھی تو سر درد کر گیا۔”
وہ کنپٹیاں سہلا کر اسے یقین دلانے لگی ورنہ دل میں جو توڑ پھوڑ ہوئی تھی اس کا شور دماغ میں گھوم رہا تھا۔
” اوکے ہم کوفی پی لیتے ہیں۔”
اس نے مسکرا کر آفر کی ، حنا کی خاموشی گوارہ نہ تھی۔
” نہیں مجھے گھر جانا ہے پلیززززز ، میں سوؤں گی تو ٹھیک ہو جاؤں گی۔۔۔ “
اس نے فوراً سختی سے منع کیا ۔
حنان کو ہزار وولٹ کا کرنٹ لگا تھا کیونکہ حنا ایسے تو بی ہیو کبھی نہیں کرتی تھی۔گھر آتے ساتھ حنا سونے چلی گئی ، جو حنان کو ہضم نہ ہوا۔
” بھئی حنا کہاں ہے؟”
ڈنر ٹیبل پر بابا نے پوچھا۔
” کہہ رہی تھی نیند آئی تھی تو سو گئی ہے۔”
جویریہ بیگم نے کہا تو حنان کو جھٹکا لگا کیونکہ وہ تب تک نی سوتی جب تک حنان واسطے دے کر روم سے نہ نکالتا۔ اور اب حنان کو گڑبڑ کا احساس ہوا۔
“سو رہی ہے ، طبیعیت تو ٹھیک ہے اس کی؟”
اب کی بار تایا ابو بھی فکرمندی سے بولے۔
” جی بلکل ٹھیک ہے ، بس شاپنگ پر گئی تھی تو تھک گئی ہے۔ “
جویریہ بیگم نے تسلی دی۔
” اوو اچھا پھر ٹھیک ہے۔ “
ان کو تسلی ہوئی مگر حنان بے چین ہو گیا۔
وہ اٹھ کر روم میں آیا تو روم لاکڈ تھا۔
” حنا ، حنا دروازہ کھولو۔”
حنان نے کہا مگر بدستور خاموشی رہی۔
وہ الجھتا ہوا چھت پر چلا گیا تبھی کچھ دن پہلے کا منظر نظروں کے آگے گھوما۔۔۔۔۔
حنان اور حنا دونوں لان میں گھاس پر بیٹھے پڑھ رہے تھے مگر صرف گھر والوں کی نظروں میں ۔ کتابیں آگے رکھے پچھلے دو گھنٹوں سے گانے سن رہے تھے ۔ حنا نے حجاب کیا ہوا تھا اور ہینڈ فری ایسے چھپائی ہوئی تھی جبکہ حنان نے ہاتھ ایسے کان پر رکھا ہوا تھا کہ گمان کی گنجائش ہی نہ تھی ۔ اور موبائل پوکیٹ میں پڑا تھا۔
“میں نے چھوڑے ہیں باقی سارے راستے
آیا ہوں بس ۔”
وہ دونوں بیٹھے بیٹھے ڈانس کر رہے تھے تبھی اسوہ نے ہینڈ فری کھینچ لی اس کے کان سے۔
” یہ کیا بدتمیزی ہے ؟”
دونوں نے اسے گھورا ۔
“تم لوگ غالباً پڑھ رہے تھے نا؟”
اسوہ نے مذاق اڑایا ۔
“ہاں تو ابھی سونگ لگایا۔”
حنان فوراً سنبھلتے ہوئےً بولا۔
“ویری فنی ،،،، میں چار بار چکر لگا کر گئی ہوں یہی پیج کھلا ہوا ہے اس وقت کا۔۔۔۔”
اسوہ نے کہا تو دونوں کو خیال آیا کہ پیج تو آگے کرنا یاد ہی نہیں رہا۔
” وہ ہم ریوائز کر رہے تھے۔”
اب کی بار حنا بولی ۔
“پاگل اس کو بنانا جو تم دونوں کو جانتا نہ ہو ، ارے یہ گانا کہاں سے لیا تم دونوں نے اور گروپ میں کیوں نہیں سینڈ کیا ، کمینو۔۔۔۔ “
اسوہ گانا سنتے ہوۓ بولی۔
“ابھی تھوڑی دیر پہلے ڈاؤنلوڈ کیے تھے ، سن کر سینڈ کر دیتے ہم لوگ ۔”
حنا نے منہ بنایا۔
“بڑی بات ہے ، ویسے تم دونوں کچھ زیادہ ہی عادی نہیں ہو گئے ایک دوسرے کے ؟ مطلب کوئی گانا بھی اکیلے نہیں سنتے، سب کام ساتھ، بچ کر رہو اڈیکشن بڑی بری شے ہے اور تم لوگ تو عادی ہو گئے۔”
اسوہ نے کہا ، حنان نے اس کا مطلب سمجھ کر دانت پیسے مگر خاموش رہنا مجبوری تھی۔
“ویسے حنا اپنے دوست کو کہو کہ اب شادی کر لے ، آخر ہمارے بھی کوئی ارمان ہیں۔”
اسوہ کے کہنے پر اس کی بیٹ مس ہوئی مگر وہ مسکرا کر خود کو نارمل ظاہر کرنے لگی۔
“ہاں پارٹنر کر لو شادی اب ، تمہاری مہندی پر ڈانس بھی کرنا ہے میں نے۔”
وہ اندرونی گھبراہٹ پر قابو پا کر بولی۔
“اچھا یار جاؤ ایک کپ چاۓ بنا دو پلیز۔”
اسوہ نے اسے بہانے سے بھگانا چاہا تو وہ سر ہلاتی چلی گئی۔
” تم ابھی تین دن پہلے تو گئی تھی ، آج پھر کیوں آ گئی”
حنان شرارت سے بولا۔
“صحیح کہتے ہیں عمیر کہ قدر کھو دیتا ہے روز کا آنا جانا ، میں بھی آؤں نا مہینے بعد تو قدر محسوس ہو ۔ “
وہ ایموشنل ہو گئی۔
“ارے ارےےےےےےےے مذاق تھا یار۔”
حنان نے فوراً اسے ساتھ لگایا۔
” حنان ایک سوال پوچھوں ؟”
اسوہ نے اسے دیکھا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
“کیا تم حنا سے واقعی محبت نہیں کرتے ہو؟”
اس کے سوال پر حنان مسکرایا۔
” میں بے حد محبت کرتا ہوں حنا سے۔”
وہ محبت سے چور لہجے میں بولا تو اسوہ دل سے مسکرائی۔
