Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaanch Ki Choriyan (Episode 17,18)

Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary

“اوو شٹ یہ خون تو تمہاری کلائی سے نکل رہا ہے ، لگتا ہے چوڑی لگ گئی، رکو میں بینڈیج کرتا ہوں ۔۔”

وہ اپنے ہاتھ کا زخم بھول کر اس کی کلائی دیکھنے لگا۔

“یہ کلائی سے نہیں میرے دل سے خون نکل رہا ہے حنان اور مجھے اب کسی مرہم کی ضرورت نہیں ، خاص طور پر تمہارے ہاتھ کے لگے مرہم سے ۔”

اس نے روتے ہوۓ کہا اور جانے لگی تو حنان نے پھرتی سے اس کا ہاتھ تھاما۔ حنا کے آنسو دل پر گرے تھے۔

“حنان لیو می، تم نے مجھے بہت ہرٹ کیا ہے ، بہت زیادہ، یہ چوڑیاں نہیں چور چور ہوئیں میرا دل چور ہوا ہے اور وہ بھی تم نے اپنے ہاتھ میں لے کر کیا ہے ۔۔”

وہ بے دردی سے گال رگڑتے ہوۓ بولی ۔

“فائن جو ہوا سو ہوا لیکن بینڈیج کیے بنا میں جانے نہیں دوں گا، اس لیے شرافت سے بینڈیج کراؤ۔”

اسے سچ میں حنا کا زخم تکلیف دے رہا تھا۔

“کیوں کرو ؟ تم ہوتے کون ہو؟”

وہ دبے لہجے میں چلائی۔

“سٹاپ کرائنگ حنا۔”

اس نے سرخ ہوتی آنکھوں سے کہا۔

“بند کر دو ہمدردی کا ڈھونگ ،۔ دیکھ لی ہے تمہاری اصلیت میں نے حنان ۔۔”

وہ غصے سے چلاتے ہوۓ بولی اور چلی گئی۔ حنا نے مکا بنا کر دیوار پر مارا اور اپنے ہاتھ کو دیکھا جہاں سے قطرہ قطرہ خون رس رہا تھا لیکن اسے گویا پرواہ ہی نہ تھی۔

“سارا غصہ ، نفرت ایک جانب مجھے اس کی چوڑیاں نہیں توڑنی چاہیے تھیں کبھی نہیں ، وہ چوڑیوں کے معاملے میں کتنی ٹچی ہے ، اس غم کو شاید سینے سے لگا لے ۔۔۔”

وہ لب بھینچے بیٹھ گیا اور بالوں کو ہاتھوں میں جکڑا۔

“وہ بینڈیج نہیں کرے گی اور بینڈیج کے بنا خون نہیں رکے گا ، مجھے خود جانا پڑے گا۔ حنان کِل یور ایگو۔”

وہ اٹھا اور ایک چوڑی کو اٹھا کر اپنی کلائی پر مارا۔

“آآآہ ہ۔۔”

اس نے کراہ لی، کہنی سے بھل بھل خون بہنے لگا اور بینڈیج اٹھا کر اس کے روم کی طرف آ گیا تھا۔

ناراض ہو کر بھی ناراض نہیں رہتے…

❣صاحب❣

ایسی محبت کرتے ہیں تم سے…

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

کچھ دل کی مجبوریاں تھیں کچھ قسمت کے مارے تھے…

ساتھ وہ بھی چھوڑ گئے جو جان سے پیارے تھے…💔

حنا بھاگتی ہوئی روم میں آئی اور صوفے پر بیٹھ گئی ، آنکھوں سے مسلسل آنسو نکل رہے تھے۔

” حنان تم نے اچھا نہیں کیا ، تم نے میری چوڑیاں میرا دل سب سے بڑھ کر میرا مان توڑا ہے۔۔ “

وہ سسکتے ہوۓ بولی ۔

“میں اب تم سے کبھی بھی بات نہیں کروں گی ، تم نے بہت غلط کیا ہے مجھ پر شک بھی کیا ہے۔”

اس نے آنسو بے دردی سے رگڑتے ہوۓ کہا۔

“مجھ سے بدگمان ہوا اور الزام بھی۔”

اس کی ہچکی بندھ گئی تبھی حنان آ گیا ۔

“یہ کون سا طریقہ ہے کسی کے روم میں بنا اجازت آنے کا؟”

وہ غصے سے کھڑے ہوتے بولی تھی۔

“میں لیکچر سننے نہیں آیا؟”

وہ اس کے قریب آیا۔

“چلے جاؤ ادھر سے براہ مہربانی۔”

وہ آنسو پونچھتے ہوۓ بولی اور دروازے کی طرف اشارہ کیا تو حنان نے لب بھینچ کر غصہ ضبط کیا۔۔

“حنا انسانوں کی طرح بینڈیج کروا لو ورنہ یہ دیکھ لو، تمہاری چوڑیاں توڑتے مجھے بھی لگی ہے ، میں بھی نہیں کروں گا بینڈیج بس اتنا یاد رکھنا۔”

اس نے اپنا ہاتھ سامنے کیا جہاں سے خون بہہ رہا تھا۔

“یہ ، تم کرو پہلے، میں بھی کر لیتی ہوں۔”

اس نے تڑپتے ہوۓ کہا۔

“پہلے تم ۔”

حنان نے کہا تو اس نے فوراً کلائی آگے کی جو خون سے سرخ ہو چکی تھی ۔ حنان کو تکلیف ہوئی تھی ۔ اس نے بینڈیج کرتے ہوۓ حنا کو دیکھا جو اس کی کلائی کو دیکھ رہی تھی ۔ درد اس کے چہرے پر رقم تھا ۔

“تھینکس”

اس نے شکریہ کہہ کر اس کے ہاتھ سے آئنمنٹ لے کر حنان کی بینڈیج کرنے لگی ۔ نظروں کا ملن ہوا تھا۔خاموشی نے بہت کچھ کہا تھا ۔

اس کے بعد وہ بنا کچھ کہے چلا گیا تھا۔ حنا نے کلائی کو دیکھا تو بے ساختہ رو دی تھی ۔۔۔

ناراض ہو کر بھی ناراض نہیں رہتے…

❣صاحب❣

ایسی محبت کرتے ہیں تم سے…

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

ارحہ وہاں سے نکل کر سائیڈ ایریا میں کھڑی ہو گئی اور رانیہ کو کال کی ، رانیہ شاپنگ کے لیے آئی تھی تب ہی پانچ منٹ بعد اسے حنان اور حنا وہاں سے جاتے دکھائی دئیے تھے ۔ اس نے رخ موڑ لیا تھا تبھی گاڑی اس کے پاس سے فراٹے بھرتی چلی گئی ۔ اس نے نم آنکھوں سے دھول میں گم ہوتی گاڑی کو دیکھا۔

اے *عشق*!!! اپنا طریقۂ *امتحان* بدل

ہر *محنتی* شاگرد تیرا *فیل* ہوا هــے

“میں آج سب عہد و پیمان اور کشتیاں جلا آئی ہوں ، میرے اللہ مجھے صبر دینا اور حنان کو خوشیاں۔۔”

اس نے اسوہ کا نمبر ڈائل کرتے دعا مانگی اور سلام دعا کے بعد اس نے کال کا مقصد بتایا۔

“میں نے وعدہ پورا کر دیا ہے ، اب آپ آگے سے ہینڈل کر لینا، میرا کام یہاں تک ہی تھا۔ “

اس نے روڈ پر چلتی گاڑیوں کے دیکھتے کہا۔

“بہت بہت شکریہ تمہارا ، آگے میں سنبھال لوں گی۔”

اسوہ نے مسکراتے ہوۓ کہا۔

“بیسٹ آف لک سسو۔”

اس نے دل سے کہا۔

“بہت شکریہ ارحہ اللہ پاک تمہاری قسمت اچھی کرے آمین ثم آمین، اپنا خیال رکھنا اور رونا بلکل نہیں پلیز، مجھے یقین ہے کہ تم بہت خوش رہو گی۔۔”

اسوہ کو ارحہ پر ترس آیا تھا۔

دونوں نے الوداعی کلمات کہہ کر کال کاٹ دی ، وہ ابھی چند لمحے مزید کھڑی ہوئی تھی کہ ایک گاڑی کے ٹائر اس سے تھوڑی آگے چرمراۓ اور پھر گاڑی اس کے پاس آن کھڑی ہوئی، اس نے دیکھا نہیں تھا مگر ڈر لگ گیا کیونکہ شام کے ساۓ گہرے ہو رہے تھے ۔

“تم یہاں؟؟”

عارش حیرانی سے بولا جب کہ ارحہ کو شاک لگا۔

“جی وہ دوست سے ملنے آئی تھی ۔”

اس نے لبوں پر زبان پھیری۔

“سورج ڈوب رہا ہے اور تم پبلک ٹرانسپورٹ کے ویٹ میں کھڑی ہو کیا؟ گھر کوئی گاڑی نہیں کیا؟”

عارش نے گاڑی سے باہر نکلتے ہوۓ پوچھا۔

“نہیں رانیہ کا ویٹ کر رہی تھی ۔ “

اس نے سہمتے ہوۓ کہا۔

“رانیہ کدھر سے آۓ گی؟”

اس نے گھور کر آگے پیچھے دیکھا۔

“اسے کچھ لینا تھا وہ بس آتی ہو گی ، بلکہ وہ آ گئی۔”

رانیہ کو آتا دیکھ کر اس نے شکر کا کلمہ پڑھا۔

“اللہ خافظ۔ “

وہ جانے لگی۔

“رکو ، میری گاڑی میں جا کر بیٹھو۔”

اس نے گویا حکم جاری کیا۔

“جی؟”

اسے شاک لگا تھا۔

“اس گاڑی میں بیٹھو۔”

اس نے طنز کہا اور اپنی گاڑی کی جانب اشارہ کیا۔

“بٹ عارش بھائی رانیہ مجھے لینے آئی ہے۔”

وہ منمنائی ۔

“رانیہ سے بات کر لوں گا میں ، بیٹھو تم۔ “

اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا تو وہ چاروناچار بیٹھ گئی۔

“رانیہ گڑیا تمہاری سہیلی میرے ساتھ جاۓ گی آج۔۔”

اس نے سلام دعا کے بعد کہا۔

“اوکے بھائی بٹ ایک ریکوسٹ ہے ؟”

رانیہ نے سر ہلا کر اسے دیکھا تو اس نے سوالیہ دیکھا۔

“عارش بھائی میں جانتی ہوں آپ میچور ہیں مگر پلیز آپ سے بہت ڈرتی ہے وہ اس لیے پیار سے بات کریئے گا۔۔”

اس نے گذارش کی۔

“اتنا غلط امپریشن ہاہا بٹ یوو ڈونٹ وری کچھ نہیں کہتا تمہاری سہیلی کو اور ہاں گھر پہنچ کر مجھے کال کر دینا کیونکہ اندھیرا پڑ جاۓ گا جاتے جاتے ۔، یہ نمبر میرا۔”

اس نے اپنا کارڈ رانیہ کو دیا اور اللہ خافظ کہ کر اپنی گاڑی کی طرف آ گیا..

“اپنے جیجو اتنے بھی کھڑوس نہیں جتنا ہم نے سمجھا ہوا ہے ان کو، اللہ جی کب مجھے بتاۓ گی ارحہ کے عارش بھائی نے اسے آئی لو یو بولا ہے۔ “

وہ ایکسائٹمنٹ سے گاڑی ریورس کرتے بولی۔

،،،،،

“اللہ جی پتہ نہیں اب کتنے گھنٹے کا لیکچر سنا دیں گے عارش بھائی ، رانیہ سے بھی جانے کیا کہہ دیں۔۔”

اس نے کنپٹیاں سہلاتے ہوۓ گہری سانس لی تبھی دو منٹ بعد عارش آ گیا اور گاڑی ریورس کی ۔ کتنے لمحے خاموشی کی نظر ہو گئے تو ارحہ کو خاموشی سےچبھن سی ہونے لگی تھی ، اس نے موبائل ان لاک کیا اور ایسے ہی اسکرولنگ کرنے لگی تبھی عارش نے فون پکڑ لیا ۔

“اگر حنان کی کال آ گئی تو،، نہیں نہیں ۔۔۔”

اس نے نفی میں سر ہلایا ۔

“عارش بھائی میرا فون دیں ماما اپ سیٹ ہو رہی ہوں گی، پلیز دیں میں ان کو کال کر لوں۔۔ “

اس نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوۓ کہا۔

“میں کرتا ہوں کال ممانی کو، بتاؤ پاسورڈ؟”

عارش نے اسے دیکھا۔

“میں ۔”

اس سے پہلے کے وہ مزید بولتی عارش پھر بولا۔

“پاسورڈ ؟”

اس کا لہجہ سخت تھا۔

“سعد۔۔”

وہ منہ بناتے ہوۓ بولی۔

“سعد؟ کون، کون ہے سعد؟”

عارش بمشکل غصہ ضبط کرتے بولا۔

“آپ کو نہیں پتہ ہونا اس کا ؟”

وہ لب کاٹتے ہوۓ معصوميت سے بولی۔

” اچھا جی ،کیا کرتا ہے؟”

عارش کو اب تاؤ چڑھا۔

“آرمی میں ہوتا ہے کیپٹن ہے۔”

اس نے کہا تو عارش کے ہاتھ کانپے تھے۔

“تم اسے پسند کرتی ہو؟”

عارش کا لہجہ ہر احساس سے عاری تھا۔

” جی بلکہ اسے تو سب ہی پسند کرتے ہیں۔”

وہ لب کاٹتے ہوۓ بولی۔

“کہاں ملا تم کو ؟”

عارش اسٹیرنگ پر دباؤ ڈالتے ہوۓ بولآ۔

“ملا تو نہیں کبھی مجھے، کاش مل جاتا۔ “

وہ آہستگی سے بولی اور آخری جملہ دل میں بولا۔

“پسند کیسے آ گیا پھر ؟”

وہ چڑا تھا۔

” ڈرامے میں آتا ہے نا۔۔ “

ارحہ نم ہوتی آنکھوں سے بولی اور عارش کو جتنا غصہ آیا وہ اس نے کیسے ضبط کیا صرف وہی جانتا تھا۔

“ڈونٹ ٹیل می کہ سعد ڈرامے میں آرمی کیپٹن ہے اور تم اس کے نام سے موبائل پاسورڈ لگا چکی ہو۔۔”

وہ شاکی ہوا۔

“ڈرامے میں ہی آتا ہے ، میں ہی نہیں پورے پاکستان کی لڑکیاں اس پر مرتی ہیں میرا مطلب اس کو بہت پسند کرتی ہیں ، وہ اتنے اچھے طریقے سے بات کرنا ہے دعا سے میں بتا نہیں سکتی آپ کو اور ایک آپ ہیں ہر وقت بہانہ ڈھونڈتے مجھے ڈانٹنے کا۔۔”

وہ نم ہوتی آنکھوں سے معصوميت سے بولی کہ عارش کا سارا غصہ اڑن چھو ہوا اس نے ارحہ کو دیکھا ۔ وہ نہیں جانتا تھا ابھی تو وال پیپر دیکھ کر دھماکہ ہونا باقی ہے جب کہ ارحہ بھی بھول چکی تھی کہ اس نے وال پیپر پر کس کی پکچر لگائی تھی

قسط_18

“پگلی ہے ایک دم ، جو لڑکی ڈرامے کے کرداروں سے اتنا پیار کرتی ہے وہ اصل رشتوں سے کتنا پیار کرتی ہو گی، سچائی اور معصوميت تو اس کے چہرے سے ہی جھلکتی ہے ، میں تو ساری زندگی اس کی نیت و خلوص پر شک نہیں کر سکتا بلاشبہ مجھے ایک سچی لڑکی ملی ہے۔”

وہ مسکراتے ہوۓ اسے دیکھ رہا تھا جو ونڈو سے باہر دیکھ رہی تھی ، گاڑی میں خاموشی دیکھ کر اس نے مڑ کر دیکھا تو عارش مسکرا کر اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔

“کیا ہوا؟”

وہ گڑبڑائی۔۔۔۔

“نتھنگ ۔۔”

اس نے کہہ کر فون ان لاک کیا تو وال پیپر پر پکچر دیکھ کر اسے حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا۔

“یہ کون ہیں؟”

اس نے وال پیپر کو شاکی نظروں سے دیکھا۔

“یہ دوست ہیں۔”

اس کے چہرے کا رنگ اڑا تھا۔

“تمہارے؟”

عارش کو اب حقیقتاً حیرانی ہو رہی تھی۔

“نہیں نہیں آپس میں ۔۔”

اس نے فوراً کہا۔

“نام کیا ہیں؟”

وہ گہری سانس خارج کرتا ہوا اس کو دیکھتے ہوۓ دلچسپی سے بولا۔

“سعد ، شارق ، شازین اور شہریار۔۔”

اس نے نظریں ناخنوں پر جماۓ ہی کہا۔

“اور وہ جو شہوار مرا تھا اس کی نہیں لگائی۔”

اس نے میٹھا سا طنز کیا۔

“شہوار نہیں دانش مرا تھا۔”

وہ تڑپ کر بولی تھی۔۔

“اووو ہاں،، بہت افسوس ہوا۔”

وہ مسکراہٹ دباتے ہوۓ بولا۔

“کاش دانش کی جگہ شہوار مر جاتا نا۔”

اس نے دعا کی۔

“دانش مرا کیوں؟”

عارش نے اسے دیکھا۔

“وہ مہوش کی وجہ سے۔۔”

وہ بتا رہی تھی تبھی تنزیلہ بیگم کی کال آ گئی ۔

“اسلام علیکم مامی جان، میں عارش ہوں۔ “

اس نے مسکرا کر کہا۔

“وعلیکم اسلام بیٹا ، ارحہ کا فون تمہارے پاس؟”

انہوں نے ناسمجھی سے کہا۔

“وہ ممانی ارحہ میرے ساتھ ہے اسی لیے،۔”

اس نے بتایا ۔

“تمہارے ساتھ کیسے؟”

ان کو وہم ہوا کہ کہیں ارحہ پکڑی تو نہیں گئی ۔

“ممانی جان وہ رانیہ کے ساتھ آ رہی تھی، میں گزر رہا تھا ادھر سے، سوچا میں ڈراپ کر دیتا ہوں ۔”

اس نے وجہ بتائی۔

“اوو اچھا چلو ٹھیک ہے بیٹا ۔”

ان کو تسلی ہوئی۔

“اللہ خافظ۔ “

اس نے کال کاٹ دی۔

“مجھے تم سے کچھ امپورٹنٹ باتیں کرنی ہیں ارحہ ۔”

عارش نے اسے دیکھتے ہوۓ کہا۔

“جی ؟”

اس نے عارش فوراً سر اثبات میں ہلا کر اسے دیکھا۔

“میں جو کہوں گا سب کچھ سچ سچ جواب دینا، یہی سمجھنا کہ یہ بات تم مجھے نہیں رانیہ کو بتا رہی ہو ، میں سب باتیں کرنا تو انگیجمنٹ سے پہلے چاہتا تھا مگر تب وقت نہیں مل پایا لیکن شادی سے پہلے ضروری ہیں۔”

عارش نے تمہید باندھی تھی۔

“جی کہیے؟”

اس نے سہمتے ہوۓ اس کو دیکھا۔

“کیا تم اس شادی کے لیے دل سے راضی ہو؟ میرا مطلب کہ تمہیں مامی یا نانو نے فورس تو نہیں کیا؟”

اس نے ابرو اچکاتے ہوۓ پوچھا۔

“کاش آپ یہ سب منگنی سے پہلے یا حنان سے ملاقات سے پہلے ہی پوچھ لیتے تو بتا دیتی۔”

اس کے چہرے پر اداسی آئی۔

“ارحہ ریلیکس ہو کر سب بتاؤ میں تمہارا ساتھ دوں گا مگر شادی کے بعد ایسی کوئی بات سامنے آئی تو اچھا نہیں ہو گا یاد رکھنا۔”

اس کا لہجہ سخت تھا۔

“عارش بھائی ایسا کچھ نہیں ہے میں دل سے راضی ہوں۔”

اس نے نظریں جھکا کر اسے مطمئن کرنے کی کوشش کی ۔۔

“دیٹس گڈ۔”

وہ ریلیکس ہوا تھا بلکہ دل پر پھوہار سی پڑتی محسوس ہوئی تھی ، دل و دماغ ایک دم ہلکے پھلکے ہوۓ ۔

“اب بقول تمہارے میں کھڑوس ہوں ، آفس میں بلا کر تمہیں جسٹ کام کرواتا ہوں ، تم پر غصہ کرتا ہوں ، اس منگنی سے شاید خوش نہیں ہوں اور بھی کتنی ایسی باتیں ہیں تو ان کا ایک ہی جواب ہے ارحہ کہ تم ابھی مجھ سے میری ذات سے بے خبر ہو ، تم ڈرامے دیکھ کر رونے والی لڑکی مجھ سے عمر اور تجربے میں بہت زیادہ چھوٹی ہو ، مرد جب پریکٹیکل لائف میں قدم رکھتا ہے تو وہ ایک دم سے ہی میچور اور پریکٹیکل ہو جاتا ہے جب کہ میں تو ہمیشہ سے ہی ایسا تھا ، خیر یہ باتیں پھر کبھی تفصیل سے سمجھاؤں گا ، فی الحال ایک بات سنو؟”

عارش نے گہرا سانس لیتے ہوۓ کہا۔

“جی بولیں۔”

اس نے دھیرے سے کہا۔

“تم تو ابھی اس منگنی کو قبول نہیں کر پائی۔ اب میں جب بھی تم سے بات کرنا چاہتا ہوں تو تم مجھے آگے سے بھائی بول دیتی ہو تو خود بتاؤ کہ مجھے بھی تو بھائی والی ہی فیلنگز آئیں گی نا؟”

وہ دھیما سا سکراتا ہوا بولا۔

“وہ۔۔””

اس نے ہاتھ مسلتے ہوۓ کہا۔

“میں جانتا ہوں تم نے مجھے بچپن سے ہی بھائی کہتی ہو، ڈیفینٹلی تم سے اتنا بڑا تھا تو مجھے بھائی کہنا چاہیے تھا مگر اب تھوڑا سا چینج لاؤ پلیز۔”

عارش نے التجائی انداز میں کہا۔

“جی آئی ول ٹرائی۔”

اس نے خشک لبوں پر زبان پھیری۔

“تم مجھ سے اگر کچھ کہنا چاہتی ہو تو بلاجھجھک کہہ سکتی ہو،۔کوئی الجھن سلجھنے کو ہے تو۔۔۔”

عارش نے اسے دیکھا۔

“نہیں ۔”

اس نے نفی میں سر ہلایا۔

“ہمممم ، اچھا مجھے یاد آیا۔۔۔”

اس نے گاڑی کی اسپیڈ سلو کرتے کہا۔

“یہ تھیم کیسا روم کا اور فرنیچر وغیرہ سب کیسا یے؟ ۔””

اس نے موبائل اسے دیتے ہوۓ پوچھا۔

“بہت اچھا ہے، یہ کس کا ہے؟”

وہ دھیمی سی بولی۔

“ہمارا ۔۔”

وہ نظروں کے حصار میں لیے بولا۔

“کیا مطلب؟”

ارحہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔

” اب تمہیں ہر بات کا مطلب بتایا کروں ؟کروں مطلب پھر کبھی بتاؤں گا۔۔”

وہ سامنے دیکھتے ہوۓ ممکل ڈرائیونگ پر فوکس کرتے ہوۓ بولا۔

ارحہ نے ناسمجھی سے موبائل کی اسکرین پر بیڈروم کو دیکھا، جو بلاشبہ بہت خوبصورت تھا، اس نے بیک کیا تو حیرت کا جھٹکا اسے بھی لگا ہی لگا مگر بے یقینی بھی تھی ، اس جے عارش کو دیکھا جو مکمل ڈرائیونگ پر فوکس کر رہا تھا ، اس نے پھر موبائل کی اسکرین کو دیکھا جہاں وال پییپر پر عارش نے اس کی اور اپنی پکچر ایڈٹ کر کے لگائی تھی ، یہ پکچر اسی دن کی تھی جب وہ جھولے پر بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ ساکت سی موبائل کو دیکھ رہی تھی ، وہ عارش سے سب ایکسپیکٹ کر سکتی تھی مگر یہ نہیں ۔

گاڑی میں خاموشی دیکھ کر عارش نے گردن گھما کر اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو دانت پیس کر رہ گیا۔ یہ موبائل اس کے راز نہیں رکھتا تھا ، اس نے آج ہی اس کی اور اپنی پکچر وال پیپر پر لگائی تھی اور اب۔

“یہ ، یہ زرنش نے سینڈ کی تھی اور بولا تھا کہ وال پیپر پر لگا کر اسکرین شاٹ سینڈ کر دو ،۔ تبھی لگائی۔”

عارش نے اپنا سیل فون لیتے بہانہ داغا۔

“آئی نو ، آپ یہ کبھی نہیں کریں گے۔”

وہ جو ذرا سی خوش فہم ہوئی ہی تھی ، عارش کے ایک جملے نے اسے تلخ حقیقت میں لا پٹخا۔

“زرنش آپی کب آ رہی ہیں؟”

اس نے آہستگی سے ہوچھا۔

“وہ آج آ گئی ہے۔”

اس نے مسکرا کر کہا۔

“دیٹس گڈ۔”

اس نے کہا۔

“تم ملی ہو کبھی زرنش سے کیا؟”

اس نے استفہامیہ دیکھا۔

“نہیں ، وہ تو پاکستان جسٹ ون ٹائم آئیں اور جب ہمارے گھر آئیں تو میں یونی میں تھی۔ “

اس نے بتایا۔

“او آئی سی، شی از ویری نائس ، بہت فرینک نیچر ہے اس کی ، جو بھی بات کرے دوبارہ بات کرنا چاہے۔۔”

اس نے مسکراتے ہوۓ کہا تو ارحہ نے اسے چونک کر دیکھا۔

عارش نے جب اس کی طرف دیکھا تو وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔

“اس کی وجہ سے مجھے یہ کمی محسوس نہیں ہوئی کبھی کہ میری کوئی بہن نہیں ہے۔”

اس نے جانے کیوں ارحہ کو صفائی دی مگر یہ بات حقیقت تھی کہ وہ زرنش کو سگی بہنوں جیسا تسلیم کرتا تھا۔

“آپ چلیں گے اندر؟”

اس نے گاڑی روکی تو ارحہ نے اسے دیکھا۔

” میں نے ہارن اسی لیے دیا ہے کہ مجھے اندر جانا ہے ،گاڑی اندر ہی جا رہی ہے۔”

عارش نے کھلتے گیٹ کو دیکھا اور اسے بھی آگاہ کیا۔

“یہ بندہ پتہ نہیں کیا سمجھتا ہے خود کو۔”

اس نے رخ موڑ لیا ۔ گاڑی کے رکتے ہی وہ اندر کو بھاگی۔

“مجھے نہیں کہنا چاہیے تھا کہ زرنش کی وجہ سے پکچر لگائی ہے، عارش ہے تو بھی عقل سے پیدل ۔”

اس نے گاڑی سے باہر نکلتے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوۓ سوچا ۔ جب لاؤنج میں آیا تو مکمل خاموشی تھی۔ وہ نانو کے روم کی طرف چلا گیا۔

“اسلام علیکم نانو۔”

اس نے ان کے گلے میں بانہیں ڈالیں۔

ْ”وعلیکم اسلام ، میری جان میرے شہزادے کیسے ہو ؟”

انہوں نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔

“آپ کی دعائیں ہیں۔”

وہ محبت سے بولا۔

“اور سناؤ شادی کی تیاری کی کہ نہیں ؟”

نانو نے اسے بیڈ پر لیٹتے دیکھا تو پوچھا۔

“زرنش آ گئی ہے آج تو وہ دیکھتی ہے اور باقی بارات اور ولیمے وغیرہ کے میں انشاءاللہ دو دن تک لے آؤں گا۔”

اس نے اطلاع دی۔

“اچھا ٹھیک ہے اور آج ادھر ہی رہو بیٹا ، کچھ باتیں کرنی ہیں تم سے ، جاؤ فریش ہو لو ،میں بھی نماز پڑھ لوں۔”

نانو نے کہا تو وہ سر ہلاتا چلا گیا۔

“نانو میں بتا نہیں سکتا آپ کو کہ میں کتنا خوش ہوں، مجھے لگتا ہے کہ جیسے میری زندگی میں جو خلا تھا وہ بس اب پر ہونے جا رہا ہے۔”

اس نے مسکراتے ہوۓ بالکونی کے ٹیرس کی ریلنگ سے ٹیک لگاتے ہوۓ آسمان کو دیکھا۔

“کیا مجھے ارحہ سے محبت ہونے لگی ہے؟ ہاں شاید ہونے نہیں لگی بلکہ ہو چکی ہے۔”

اس نے مسکراتے ہوۓ اس کے روم کی طرف دیکھا جس کا ڈور لاک تھا۔

“سعد شہوار ہاہاہاہاہا انہی کے گرد گھومتی ہے زندگی اس کی، سویٹ ہے بہت لیکن ڈرتی کیوں ہے مجھ سے اتنا؟”

اس نے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوۓ کہا۔

“کب آۓ گا وہ دن جب وہ میری ہو گی، اس پر حق ہو گا میرا ، وہ سعد دانش کی نہیں میری باتیں کیا کرے گی ، مجھ سے ہر بات بلاجھجھک بولا کرے گی۔”

اس نے ٹھنڈی ہوا کو اندر اتارتے ہوۓ کہا۔

“ابے عارش تو گیا کام سے،، انف یار پاگل نہ بن۔”

اس نے خود کی سرزنش کی مگر دل کہاں سننے والا تھا۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

حنان روم میں آیا مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ کچھ ایسا ہی حال حنا کا بھی تھا۔دونوں کو نہیں پتہ چلا کہ کب سوچتے سوچتے نیند کی وادی میں گم ہو گئے۔

حنان اٹھا تو نو بج رہے تھے۔ ہمیشہ کی طرح گڈ مورننگ کا میسج حنا کو کیا اور جب رات کا منظر آنکھوں کے سامنے لہرایا تو اسے ہزار وولٹ کا کرنٹ لگا ۔

“میں ، میں نے کیا کیا ؟ او شٹ یہ کیا کر دیا میں نے ؟ مجھے حنا کے ساتھ اتنا برا بی ہیو نہیں کرنا چاہیے تھا، میں نے ارحہ کا غصہ اس پر نکال دیا اور وہ کہہ دیا جو مجھے کبھی بھی نہیں کہنا چاہیے تھا، افففففففف کیوں میری عقل پر پردہ پڑ گیا تھا، فضول میں بکواس کر دی اتنی، کتنا رلایا اسے، کیوں غصے میں آپے سے باہر ہو جاتا ہوں میں ، سوری کہہ دیتا ہوں، کیا میرا سوری کہنا اس کی تکلیف کا ازالہ کر سکے گا، ہماری دوستی سچی ہے میں اسے کیسے بھی کر کے منا ہی لوں گا۔”

اس نے حنا کے نمبر پر کلک کیا جہاں میسج سین ہو چکاا تھا مگر نو ریپلائی دیکھ کر اسے تکلیف ہوئی تھی۔

“حنا آئم سو سوری، پلیززززز ریپلائی می۔۔”

اس نے پھر میسج کیا مگر ہنوز نو ریپلائی ، وہ فریش ہونے کے لیے اٹھ گیا تاکہ اس کو منا سکے۔ قالین پر چوڑیوں کے ٹکڑے پڑے تھے۔

“ارحہ میں کبھی معاف نہیں کروں گا تمہیں ،تمہاری ووجہ سے میں نے جتنا حنا کو ڈانٹا اور جتنا وہ روئی تمہیں ایک ایک آنسو کا حساب دینا ہو گا۔۔”

اس کی آنکھوں کے سامنے اس کا روتا چہرہ آیا تو دل میں ارحہ کے لیے نفرت ہی بڑھ گئی۔

سمجھ کر چاند جس کو آسمان نے دل میں رکھا ہے

میرے محبوب کی ٹوٹی ہوٸی چوڑی کا اک ٹکڑا ہے

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

حنا اونلائن ہوئی تو لاشعوری طور پر حنان کے ممیسج کی منتظر تھی ، حنان کا میسج آیا تو اسے لگا کہ جیسے جلتے دل پر پھوہار سی پڑی ہو۔ مگر اس نے ریپلائی نہیں دیا اور آنکھیں نم ہو گئیں۔سوری کا میسج دیکھ کر اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ اب منانے بھی آۓ گا۔ دعا لوگ صبح ہی گھر جا چکی تھیں اور آج زرنش لوگوں نے جانا تھا۔

حنان نیچے آیا تو حنا عالی کو ریڈی کر رہی تھی۔

“حنا میری بات سنو۔”

وہ اس کے پاس آیا تو حنا اسے اگنور کرتی چلی گئی، حنان لب بھینچ کر رہ گیا۔

“بھابھی آپ عالی کو شوز پہنائیے پلیز، میں آتی ہوں ۔ “

وہ کہہ کر چلی گئی۔

“عالی۔”

وہ اسے گال پر بوس دیتے بولا۔

“ہیرو ریڈی ہو جاؤ تم نے نہیں جانا کیا؟”

زرنش لاؤنج میں آتی بولی۔

“کہاں جا رہے آپ لوگ؟”

حنان نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔

“اسوہ لوگوں کے گھر۔”

اس نے عالی کو شوز پہناتے ہوۓ کہا۔

“سب جا رہے کیا؟”

اس نے ابرو اچکاۓ۔

“ہاں سب جا رہے ہیں سواۓ حنا کے، وہ کہہ رہی ہے اس کی طبیعت ناساز ہے۔”

زرنش بھابھی نے بتایا۔

“اوو یعنی میں اسے منا سکتا ہوں۔”

وہ دل میں مسکرایا۔

“زرنش بیٹا ریڈی ہو۔”

فرح بیگم لاؤنج میں آ گئیں۔

“جی تائی امی ریڈی ہوں۔”

وہ مسکرائی۔

“حنان تم کب اٹھے؟”

انہوں نے اسے دیکھا۔

“ابھی ابھی آپ ناشتہ لگوا دیں، میں نہیں جا رہا، کسی دوست کی طرف جانا ہے مجھے۔”

وہ کہہ کر چلا گیا۔

سب جانے کو ریڈی تھے ، حنان پورچ میں آیا سب گاڑیوں میں بیٹھ رہے تھے۔

“ارے گڑیا تم بھی جا رہی؟”

ہادی نے حنا کو آتے دیکھ مسکرا کر کہا۔حنان کو جھٹکا لگا۔

“جی بھائی۔”

وہ مسکرا کر حنان کو اگنورکرتی گاڑی میں بیٹھ گئی، حنان پیچ و تاب کھا کر رہ گیا۔ گاڑیاں گھر سے نکل گئیں۔

“کتنی آسانی سے بےوقوف بنا گئی مجھے، میں کیا اب گھر میں بیٹھ کر مکھیاں ماروں اور مکھیاں بھی نہیں ۔”

وہ سیڑھیوں پر منہ لٹکاتا بیٹھ گیا۔

“آئیڈیا ۔”

اس کی آنکھیں چمکی اور اٹھ کر اندر بھاگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *