Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary NovelR50591 Kaanch Ki Choriyan (Episode 30)Part 1,2
Rate this Novel
Kaanch Ki Choriyan (Episode 30)Part 1,2
Kaanch Ki Choriyan by Zoya Chuadhary
“یہ میڈیسن کھا لو تم،،، طبیعت سنبھل جاۓ گی۔”
زرنــش نے اسے ٹیبلٹ دی۔
“اب اللہ کرے کہ تمہاری رپورٹس بھی کلئیر آجائیں ۔۔”
زرنــش دھیـرے سے بولی۔
“میری دعا ہے کہ میری رپورٹس ایسی ہیں کہ بس صف ماتم بچھ جاۓ،،،، میں چلی جاؤں بس۔”
حنا نے دکھ سے سوچا۔
“کـیا ہوا؟”
حنان روم میں آیا۔
“”اتنے مت لاپرواہ اور اجنبی بنو حنان کہ موت کی بھی خبر نہ مل پاۓ،،، میں چلتی ہوں حنا گڈ نائٹ۔۔”
زرنش اسے گھور کر حنا کو کہتی چلی گئی۔
“کیوں بولا بھابھی نے ایسسا؟”
وہ شاکڈ سا تھا۔
“وہ مذاق کر رہی تھیں؟،، اور ہو سکتا جو وعدہ میں نے کیا اسے پورا کرنے کا وقت قریب ترین آ گیا ہو۔۔۔۔”
وہ کروٹ لے کر بولی۔
“کیا مطلب؟”
اس کا دل دہلا۔۔
“یہ میڈیسن کھا کر مجھے نیند آ جاتی ہے۔۔۔۔”
وہ سو گئی۔
“کیوں کرتی ہے یہ ایسی باتیں ؟؟؟”
وہ اٹھ کر لان میں آ گیا۔۔













“ہیلو جی ڈاکٹر حمزہ حنا کی رپورٹس آ گئیں؟”
زرنــش نے بے تابی سے پوچھا۔
“آپ سے ریکوسٹ ہے پلیززززز کہ جتنی جلدی پاسبل ہو پاۓ رپورٹس منگوائیں۔۔۔”
وہ فکر مند تھی۔
“جی تھینکس پلیزززز ،،، میں کل ملتی ہوں ہاسپٹل میں آپ سے،،، ان رپورٹس کے متعلق پتہ نہ چلے کسی کو۔”
اس نے الوداعی کلمات کہہ کر کال کاٹ دی۔
“کیا ہوا بھابھی،،، اپ سیٹ کیوں ہیں آپ؟؟”
حنان نے سامنے آتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
“اپ سیٹ؟؟ نہیں تو۔۔۔۔”
اس نے مسکرا کر مطمئن کرنا چاہا۔
“آر یو شیور۔۔۔؟”
حنان نے دیکھا تو اس نے سر ہلایا۔
“بھابھی حنا کو کیا ہوا؟؟ آپ نے میڈیسن کیوں دی؟”
اس نے ہچکچاہٹ سے کہا۔
“عالی رو رہا ہے آئی جسٹ کم۔۔۔”
وہ چلی گئی۔
“فیور ہی ہو گا۔۔۔”
اس نے خود کو تسلی دی۔










“کیسی ہیں اب دادو؟”
ارحہ نے صفدر صاحب کو دیکھا۔
“وینٹیلیٹر پر ہیں۔۔”
انہوں نے گہرا سانس لیا۔
“اللہ کرے کہ ٹھیک ہو جائیں دادو۔۔”
ارحہ کی آنکھوں میں نمی آنے لگی۔
“ان شاء اللہ ۔۔”
انہوں نے اسے تسلی دی۔ تبھی عارش آ گیا۔ ارحہ نے دیکھا جو کافی اجڑا اجڑا سا لگ رہا تھا،،۔
“عارش بیٹا ۔۔”
صفدر صاحب بغلگیر ہوۓ۔
“نانو کیسی ہیں؟”
وہ ارحہ کو اگنور کر کے بولا۔
“وہ آئی سی یو میں ہیں۔۔”
انہوں نے سامنے اشارہ کیا۔
“ڈاکٹر آصف یہ عارش ہے اسے جانے دیجیئے اندر۔۔”
صفدر صاحب نے کہا ۔
“نانو،،، نانو میں عارش ،،، نانو آنکھیں کھولیں۔۔”
وہ بے قرار تھا۔
“آ گئے،، ار۔۔۔۔ارحہ ک۔۔۔۔کو بھ۔۔۔۔بھی بل۔۔۔بلاؤ۔۔۔ “
انہوں نے ماسک اتار کر کہا تو عارش نے چونک کر دیکھا۔
“جی دادو۔۔۔”
ارحہ بھی بھاگتی ہوئی اندر آئی۔
“م۔مجھے سب پ۔۔۔تہ چ۔۔ل گیا ہ۔۔۔ہے،،، ب۔۔۔بیٹا میں ہاتھ جو۔۔۔۔ڑتی ہوں ،،،، اسے نہ چھ۔۔۔۔وڑنا،،،، عا۔۔۔رش۔۔۔ “
ان کی سانس اکھڑنے لگی۔
“دادو آپ بس ریلیکس کریں۔۔۔”
عارش نے ان کے ہاتھ پر بوسہ دیا مگر انہوں نے نفی میں سر ہلایا تھا۔
“ع۔۔ارش ۔۔۔”
انہوں نے ارحہ کا ہاتھ تھاما اور عارش کو بھی اشارہ کیا۔۔
“جی نانو۔۔۔”
اس نے فوراً ہاتھ ان کو دیا، جو انہوں نے ارحہ کے ہاتھ پر رکھا تھا ،، دونوں چونکے تھے حالات اور ہوتے تو شاید لمس محسوس بھی کرتے۔
“عارش نا۔۔۔۔نو کی لاج رکھ۔۔۔۔نا ارحہ کو ک۔۔۔۔بھی بھی نہیں چھ۔۔۔۔وڑنا،،،، بیٹا وہ بہ۔۔۔۔ت پیا۔۔۔ر کر۔۔۔۔تی ہے۔۔ نانو کا وعد۔۔ہ یا۔۔۔۔۔د رکھنا۔ نہ۔۔۔”
ان کی گردن ایک سائیڈ پر لڑھک گئی۔۔
“نانو ،،، دادو۔۔۔”
دونوں چلاۓ۔۔۔
“ڈاکٹر۔۔۔”
وہ چلایا تبھی وہ الرٹ ہوۓ ۔
“دادو آنکھیں کھولیں نا،،،، دادو پلیززززز ۔۔۔”
ارحہ ان کا چہرہ ہاتھوں میں لیے روئی۔
“ارحہ باہر چلو،،،ّ ڈاکٹر کو چیک اپ کرنے دو۔۔ “
عارش نے اسے شانوں سے تھاما۔
“نہیں ،،نہیں ،،میں نہیں جاؤں گی،، دادو۔۔۔”
وہ ادھر لپکی۔
“نہیں کچھ نہیں ہو گا دادو کو۔۔۔”
وہ اسے ساتھ لگا کر باہر لے آیا۔۔
“ارحہ مت رو بچے۔۔۔”
تنزیلہ بیگم نے اسے ساتھ لگایا۔
“آئم سوری۔۔”
ڈاکٹر آصف نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو عارش کے قدم لڑکھڑائے۔ صفدر صاحب وہاں ہی بیٹھ گئے۔
“دادو۔۔۔۔”
ارحہ چلائی۔۔ عارش کی آنکھوں کا منظر دھندلانے لگا۔ وہ آئی سی یو کی جانب بھاگی جب عارش نے اس کا بازو پکڑ کر نفی میں سر ہلایا۔
“مجھے جانا ہے پلیز۔۔۔”
وہ گڑگڑائی۔
“مامی آپ گھر لے جائیں اسے ،،،، اس کی کنڈیشن بہتر نہیں ہے ،،، میں اور مامو نانو کو لے آتے ہیں۔۔۔ “۔
اس نے اپنے آنسو پونچھتے ہوۓ کہا،تو وہ لوگ چلے گئے۔














“حنا آ بھی جاؤ بھئی۔۔۔”
دعا نے آواز دی۔
“آ گئی۔۔”
وہ دعا کا لایا ہوا فراک پہن کر باہر آ گئی مگر حیرت کی بات تھی کہ اس کی کلائیوں پر چوڑیاں نہیں تھی۔
“تم نے چوڑیاں نہیں پہنی؟”
اسوہ کو شاک لگا۔
“نہیں یہ آستینیں تنگ ہیں تو اسی لیے نہیں پہن سکی۔۔”
وہ بمشکل مسکرائی۔۔
“اوو اوکے۔۔۔”
اسوہ مسکرائی جب کہ حنان کو واقعی دکھ ہوا تھا کیونکہ وہ تو کیسے بھی کرے کے چوڑیوں کو ضرور پہنا کرتی تھی۔ اس نے گہرا سانس لیا۔
“بھئی عالی کہاں ہے کراؤن ،،،، دو حنان چاچو کو وہ پہنا دیں اپنی پرنسس کو۔۔۔”
اسوہ نے مسکرا کر کہا۔
“مما دو بھی۔۔۔”
اس نے زرنــش کو دیکھا۔
“ہممم یہ لو۔۔۔”
زرنش نے حنان کو تھمایا۔۔۔ عالی کی ضد پر ہی ایک چھوٹا سا فنکشن رکھا گیا تھا۔۔
“ایک منٹ،،، حنا یہ کراؤن کبھی اتارے گی نہیں ۔۔۔”
اسوہ نے کہا۔
“تمہارا دماغ خراب ہے جب کام کرنے ہوں گے تب۔”
دعا نے گھورا۔
“کراؤن کا بوجھ نہیں ہوتا ،،، چلو پہناؤ حنان ۔۔۔”
اس نے حنان کو اشارہ کیا جو حنا جے مقابل کھڑا تھا۔۔
حنان نے مسکرا کر کراؤن اسے پہنایا۔
“واؤ۔۔۔ دیٹس امیزنگ۔۔۔”
سب نے تالیاں بجائیں۔
“ویسے عالی رومینٹک بہت ہو گا۔۔۔”
ہادی ہنسا تھا۔
“یس بلکل۔۔۔”
دعا بھی ہنسی۔
“چلو کیک کھلاؤ دونوں ایک دوسرے کو۔۔۔”
اسوہ نے مسکرا کر کہا تو دونوں نے کھلایا۔
“عالی اب تو تمہیں اعتراض نہیں نا کہ ہم نے تمہیں نہیں بلایا ہے میری اور حنا کی شادی پر۔۔۔”
حنان ہنسا تھا۔
“نو۔۔”
وہ اسے کِس کر کے بولا تھا۔ اسی طرح وہ لوگ بیٹھ کر گیمز کھیلنے لگے ،،،۔۔۔۔













“نانو،،،، اتنی بھی کیا ناراضی عارش سے کہ آپ اتنی دور چلی گئی چھوڑ کر۔۔۔”
وہ روم میں بیٹھا تھا۔ کمرے میں مکمل اندھیرا تھا۔
“لائٹ بند کر دو۔۔۔”
اس نے کسی کے روشنی کرنے پر ہاتھ آنکھوں پر رکھا۔
“عارش۔۔۔”
ارحہ کی آواز پر اس نے ہاتھ پیچھے کیا،،، اسے آۓ چار دن ہو گئے تھے اور وہ پہلی بار اس روم میں آئی تھی۔
“کیوں آئی ہو تم یہاں؟”
لہجہ پتھر کو مات دے رہا تھا۔
“آپ نے کھانا نہیں کھایا ۔۔۔”
وہ نرمی سے بولی۔
“چلی جاؤ یہاں سے،،، تم قاتل ہو نانو کی،،،، تمہاری وجہ سے نانو کی ڈیتھ ہوئی نہ تم ان کو بتاتی اور نہ وہ،،، ایک نانو ہی تو تھیں اور وہ بھی چلی گئیں۔۔۔”
وہ رو دیا تھا۔ ارحہ نے بھی آنسو کو بہنے دیا۔
“آپ درست کہہ رہے ہیں کہ میں ہی قاتل ہوں،،،، کاش دادو کی جگہ میں مر جاتی ،،، کاشششششش ،،،،،
میں یہ تکلیف نہیں سہہ پا رہی۔”
وہ روتے ہوۓ بولی تو عارش نے گہرا سانس لیا۔
” رونا تمہارے لیے ٹھیک نہیں ہے،،، میں کھانا کھا لوں گا۔۔”
اس نے بنا دیکھے کہا تو ارحہ بھی چلی گئی۔
“نانو کس امتحان میں ڈال گئی آپ مجھے۔۔۔”
اس نے آنسو پونچھے۔۔۔













“حنان ،،، حنان ۔۔۔۔ “
حنا کی دبی دبی آواز نکلی۔
“کیا ہوا حنا ۔۔۔؟؟؟”
حنان نے فوراً لیمپ آن کیا۔
“میری سانس۔۔۔”
اس کی سانسیں اکھڑ گئیں۔
“کیا ہوا؟؟؟”
وہ اسے فوراً ساتھ لگاتے ہوۓ بولا۔
“میں بھابھی کو بلاتا ہوں۔۔۔”
وہ کال کرنے لگا۔۔
“حنان وہ ٹیبلٹ دو۔۔”
اس نے اکھڑتی سانس کے ساتھ کہا۔
“یہ لو،،، بھابھی حنا کی طبیعت ٹھیک نہیں پلیزززز جلدی آئیے۔۔۔”
حنا کو میڈیسن دے کر بھابھی کو کہا۔
“حنا لمبی سانس لو۔۔۔”
وہ بہت پریشان تھا۔
“کیا ہوا؟”
ززرنش اور ہادی آ گئے۔
“”حنا یہ میڈیسن کھاؤ۔۔۔۔۔”
وہ ٹیبلٹ نکالنے لگی۔
“یہ کھا چکی ہے۔”
حنان فوراً بولا۔
“اوکے ڈونٹ وری ٹھیک ہو جاۓ گی۔۔۔”
زرنــش نے مسـکرا کر تسلی دی۔
“لیکن حنا کو کیا ہوا ہے؟”
ہادی نے الجھ کر کہا۔
“کچھ نہیں stomach پرابلم ہے ۔۔”
زرنــش نے حنا کے بال سہلاتے ہوۓ کہا۔
“حنا بیٹا اگر طبیعت نہیں ٹھیک تو ہوسپٹل لے جائیں۔””
ہادی نے اسے دیکھا۔
“نہیں بھائی اب بہتر ہے۔۔”
اس نے سر ہلایا تو وہ لوگ مطمئن ہو کر چلے گئے۔
“تم لیٹ جاؤ۔۔۔”
اس نے کہا تو حنا لیٹ گئی جب کہ وہ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔۔ فکر مندی اور پریشانی چہرے پر عیاں تھی۔
“ان شاء اللہ کچھ نہیں ہو گا اسے۔”
حنان نے اس کا ہاتھ تھاما اور اپنے دل پر رکھا۔
“چوڑیاں بھی نہیں پہنتی اب یہ۔۔”
اس کی سونی کلائی دیکھ کر وہ دکھ سے بولا۔
“اے اللہ میری مدد کر۔۔۔”
اس نے گہرا سانس لیا۔











“ارحہ بی بی آپ کو عارش صاحب بلا رہے ہیں۔۔”
شبانہ نے آ کر کہا۔
“مجھے؟؟؟؟؟ اچھا کہاں ہیں وہ؟؟”
ارحہ چونک کر بولی۔
“وہ اپنے روم میں ہیں۔”
شبانہ نے بتایا تو وہ سر ہلاتی چلی گئی۔
“آ جاؤ۔۔”
اس نے ڈور ناک کیا تو عارش نے کہا۔
“آپ نے بلایا؟”
ارحہ نے دیکھا تو اس نے سر ہلایا۔
“ارحہ پیکنگ کر لو،،،،، ہم لوگ ایک ہفتے تک کینیڈا شفٹ ہو رہے ہیں۔۔۔”
وہ ہر احساس سے عاری لہجے میں بولا۔
“کیا؟؟؟؟ مما بابا یہاں اکیلے ؟؟”
ارحہ چونکی۔
“میں ان سے بات کر چکا ہوں،،،، وہ میرے اس فیصلے پر خوش ہیں۔۔۔”
عارش نے بنا دیکھے کہا۔
“ایک ریکوسٹ ہے۔۔”
ارحہ نے ہچکچا کر کہا۔
“بولو۔۔”
عارش نے کہا۔
“میں چاہتی ہوں کہ بےبی کی پیدائش یہاں ہی ہو اس کے فوراً بعد ہم لوگ شفٹ ہو جائیں گے،،، ابھی ماما بابا دادو کے صدمے میں ہیں ان کو ہماری ضرورت ہے۔”
ارحہ نے کہا تو عارش نے اسے دیکھا۔
“اوکے۔۔”
وہ مان گیا۔
” تھینکـس۔۔۔ “
وہ چلی گئی۔
الزام محبـــــت سے تیــــــــرا شہر چــــــــھوڑ دیا
ورنہ یہ چھوٹی سی عمر پردیس کے قابل نہ تھی
Part 2
“میں تو بزی ہو گئی تھی عارش کی نانو کی ڈیتھ کی وجہ سے،،، رپورٹس کہاں ہیں؟؟؟”
اس نے ریسپشنسٹ کو دیکھا۔
“یہ ہیں۔۔۔”
اس نے اسے نکال کر دیں۔
“کیا ہوا ڈاکٹر زرنــش ؟؟”
اس کا اڑتا رنگ دیکھ کر وہ فوراً اٹھی۔
“نتھنگ۔۔”
زرنــش نے بمشکل کہا۔۔
“پیشنٹ آپکی کیا لگتی ہے؟”
اس نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“کزن ہے میری۔۔”
زرنــش نے گہرا سانس لیا۔
“ڈاکٹر مقدس اور حمزہ کہاں ہیں،؟”
اد نے بے تابی سے پوچھا۔۔۔
“وہ دونوں راؤنڈ پر ہیں۔۔”
اس نے بتایا۔
“اوکے ان کو میرے روم میں بھیجیے گا۔۔شکریہ۔۔”
وہ کہہ کر چلی گئی۔
“گھر اگر یہ خبر پتہ چلی تو قیامت برپا ہو جاۓ گی،،،،، سب حنا کو کتنا چاہتے ہیں؟؟؟؟ کیا یہ صرف حنان کی بے رخی کا نتیجہ ہے۔۔۔ “
زرنــش سر ہاتھوں پر گراۓ بیٹھی تھی۔ زرنــش نے ہادی کے بہن بھائیوں کو دل سے قبول کر کے بہن بھائیوں کا درجہ دیا تھا ،،، اس کے ماں باپ کو اپنے ماں باپ سمجھا تو حنان کو بھی سگا بھائی ہی سمجھا،،، اسی لیے وہ آج حنا کےلیے بے حد پریشان تھی۔







“ارحہ بیٹا کھانا کھا لو۔۔۔۔”
تنزیلہ بیگم نے اسے دیکھا جو پلر کے ساتھ ٹیک لگاۓ بیٹھی ہوئی تھی۔
“مما دل نہیں کر رہا پلیز،،،آپ لوگ کھا لیں۔۔۔۔۔”
اس نے نفی میں سر ہلایا۔
“ماں جی کو گیے تین چار مہینے گزر گئے ہیں اور تم دونوں نے اس روگ کو سینے سے لگا لیا ہے،،، وہ اللہ کی امانت تھیں بیٹا ،،اللہ نے لے لیں ،،،،، تمہیں چاہیے کہ تم عارش کو بھی سنبھالو مگر تم تو خود ابھی تک سنبھل نہیں رہی ،،، بیٹا عارش کو زیادہ دکھ ہوا ہے،،، تمہارے بابا بتا رہے تھے کہ وہ آفس میں صرف ضرورتاً بولتا ہے ،،، مانا وہ کم گو تھا مگر شادی کے بعد کافی بدل گیا تھا،،، اب تمہیں اس کی اور اسے تمہاری ضرورت ہے،، چند ایک مہینے ہو ہمارے پاس تو خوش رہو نا ؟؟؟”
انہوں نے بال سہلاتے پیار سے کہا۔
“ہر لمحہ داددو کی آواز کان میں گونجتی ہے،،،، کبھی کچھ کہتی کبھی کچھ ۔۔۔ “
وہ نم آواز میں بولی۔
“نانو کو تو ہم لوگ مرتے دم نہیں بھول سکتے مگر رونا تمہارے لیے ٹھیک نہیں ہے،،،، ممانی جان ڈاکٹر ہر بار کہتے ہیں کہ یہ بہت ویک ہے،،،، براہ مہربانی آپ ہی اس کا خیال رکھیے۔۔۔۔۔”
عارش مے اسے کہہ کر تنزیلہ بیگم کو دیکھا۔
“بیٹا کچھ کھاتی ہے نہیں میں کیا کروں۔؟؟”
تنزیلہ بیگم نے سر ہلایا۔
“آپ کھانا لائیے،،، میں دیکھتا ہوں کیسے نہیں کھاتی۔۔”
اس نے ممانی کو دیکھا تو وہ مسکرا کر سر ہلاتہ چلی گئیں کہ اتنے وقت بعد عارش نے دلچسپی دکھائی تو سہی جب کہ ارحہ تو شاکڈ سی اسے دیکھ کیا رہی تھی۔
“تم کھانا نہ کھا کر،،، سب کو ستا کر ثابت کیا کرنا چاہتی ہو؟؟؟
یہ کہ تمہیں نانو کی ڈیتھ کا زیادہ دکھ ہے؟؟؟؟ “
وہ رکھائی سے بولا۔۔
“مجھے کسی کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ مجھے دادو کے جانے کا کتنا دکھ ہے؟”
وہ بنا دیکھے بولی۔
“جتنا دکھ مجھے ہے اتنا تمہیں ہو بھی نہیں سکتا،،، مگر میں تو کھانا کھا رہا ہوں،،، آفس بھی بھی جا رہا ہوں سب کام اسی معمول سے کر رہا ہوں۔۔۔ “
اس نے غصے سے کہا۔
“اس سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ ایک دن اگر ارحہ بھی مر گئی تو آپ اسی معمول سے کام کریں گے،،،، نانو کی بار آہ آنسو بہا لیتے ہیں،،، ارحہ کی بار آپ کہیں گے کہ چلو اچھا ہوا کہ بوجھ سر سے اترا ۔۔۔۔”
ارحہ آنسو پیچھے دھکیلتی چلی گئی جب کہ عارش ساکت کھڑا تھا۔
کوئی بات تو ہے اس میں ففیض۔
ہر خوشی لٹا دی جس پر ہم نے










“میں کہیں غلط تو نہیں کر رہا؟ کیا میں اللہ پاک کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرا رہا ہوں نعوذباللہ ،،،،،
غیب کا علم تو صرف اللہ کے پاس ہے۔۔۔۔”
وہ چھت پر کھڑا غور و فکر کر رہا تھا جب پاؤں کے ساتھ کوئی چیز لگی ،، اس نے کوفت سے دیکھا مگر چودہ طبقروشن ہو گئے جب سانپ پاؤں پر دکھائی دیا۔
“آاہ۔۔۔۔”
وہ چلایا اور بچاؤ کیا۔ جب ہنسنے کی آواز آئی۔
“عالی بھاگو۔۔۔۔”
اس نے عالی کو پیچھے کیا۔
“ہاہاہاہاہا چاچو آپ ڈر گئے یہ تو آرٹیفیشل ہے۔۔۔”
عالی زور سے ہنسا۔
“رئیلی؟؟؟؟”
حنان کی سانس بحال ہوئی۔
“یس۔۔۔ویسے پرنس تو نہیں ڈرتا اور آپ؟؟؟”
عالی پھر ہنسنے لگا۔
“جوتے کھاؤ گے۔۔”
حنان اس کے پیچھے بھاگا تو وہ نیچے چلا گیا۔۔
“چیک کر لوں کہ آرٹیفیشل ہی ہے نا؟”
اس نے دور سے ہی پتھر مارا تو وہ بے سود پڑا رہا۔
“آرٹیفشل ہہ ہے،،،،،،آئیڈیا۔۔”
اس نے دماغ میں کچھ کلک ہوا اور اس نے سانپ کو ہاتھ میں اٹھایا اور روم میں آ گیا۔۔آگے پیچھے دیکھا تو حنا روم میں نہیں تھی،،، اس نے دبے پاؤں چلتے ، وہ نقلی سانپ ٹیبل پر موجود واز پر ایسے رکھا کہ جیسے وہ واز سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا ہو۔۔
“ڈن،،، اب آۓ گا مزہ جب مجھ سے ہیلپ مانگے گی۔۔۔ “
وہ مسکرا کر موبائل لے کر بیڈ پر بیٹھ گیا۔ تقریباً پانچ منٹ بعد حنا روم میں آئی،، حنان دل ہی دل میں ہنس رہا تھا،،، اس نے ترچھی نگاہ کر کے دیکھا تو حنا بیڈ پر بیٹھنے لگی تھی۔ وہ بددل ہوا۔
“رکو۔۔۔۔”
وہ تقریباً چلایا ،،، حنا نے چونک کر دیکھا۔
“وہ ٹیبل پر ہینڈ فری پڑی ہیں ،،،دینا پلیز۔۔۔”
حنان کو بہانہ سوجھا۔ حنا چونکی کیونکہ وہ تو اپنے کام خود کرنے کا عادی تھا جب سے ناراض ہوا تھا،،، ملازم کو کہہ دیتا مگر حنا کو کبھی نہ۔۔
“اوکے۔۔۔”
وہ سر ہلاتی ٹیبل کی طرف چلی گئی۔ حنان موبائل سائیڈ پر رکھ کر الرٹ ہو گیا۔۔ حنا جیسے ہی واز کے اوپر سے ہینڈ فری لینے جھکی اس کے چودہ طبق روشن ہو گئے،،،، سرخ آنکھوں والا سانپ اسے دیکھ کر واز سے نکلنے لگا۔
“حنان سانپ۔۔”
وہ چلائی مگرر ہل نہ سکی۔
“حــــــــــــنان ۔۔۔۔۔۔۔”
حنان کو ادھر آتا دیکھ کر حنا نے نفی میں سر ہلایا اور نیچے فرش پر گر گئی۔
“حنا ،،،،”
اب کی بار ہوش اڑنے کی باری حنان کی تھی۔
“حنان کی جان ،،،، پلیززززز آنکھیں کھولو یہ سانپ نقلی ہے،،، حنا ۔۔ ماما ہادی بھابھی جلدی آئیں۔۔۔۔”
وہ دروازے میں کھڑا ہو کر چلایا تو وہ لوگ بھاگتے ہوۓ آۓ۔۔
“اسے ابھی کے ابھی ہوسپٹل لے کر چلیے۔۔۔”
زرنش چلاتے ہوۓ بولی تو ہادی نے فوراً اسے اٹھایا جب کہ حنان نے اندھا دھند ڈرائیونگ کرتے اسے ہوسپٹل پہنچایا،،، سب کی حالت غیر تھی۔
“کیا ہوا؟؟؟”
زرنــش کو باہر آتا دیکھ کر ہادی نے فوراً پوچھا۔
“بلڈ سپلائی نہ ہونے کی وجہ سے دل کام کرنا رک گیا۔۔۔”
زرنش نے حنان کو جن نظروں سے دیکھا وہ شرمندہ ہو کر سر جھکا کر کھڑا ہو گیا۔
“آپ میرے روم میں آئیے۔۔۔”
اس نے ہادی کو کہا تو وہ سر ہلاتا ساتھ چل پڑا۔
“الہی اسے ٹھیک کر دے،،، یا اللہ اسے ایک بار آرام دے میں اسے کبھی نہیں ستاؤں گا،،، یا اللہ پاک اسس کی تکلیف مجھے مار دے گی اسے ٹھیک کر دے۔۔۔۔”
اس کی آنکھ سے نکلتے آنسو ہلکی بڑھی شیو میں جذب ہونے لگے تھے۔
“کیا ہوا ؟”
ہادی نے اسے دیکھا۔
“آپ بیٹھیے تو۔۔۔”
اس نے صوفے کی طرف اشارہ کیا اور رپورٹس تھمائی۔
“میں پڑھنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں یار بتا دو۔۔۔؟”
اس نے گذارش کی۔
“حنا ہارٹ پیشنٹ ہے،،، اس کے دل کا وال بند ہے۔۔”
زرنــش نے دکھ سے بتایا۔
“کیـــــا؟”
ہادی کی ہولناک چیخ باہر تک گئی، حنان بھاگ کر ادھر آیا مگر گفتگو سن کر رک گیا۔
“یہ کب کی رپورٹس ہیں؟؟ تم نے ہمیں کیوں نہیں بتایا؟؟”
ہادی نے چہرے پر ہاتھ پھیرتے خود کو ریلیکس کیا۔
“یہ ایک دو ماہ پہلے کی رپورٹس ہیں،، میں نے فقط اس لیے نہ بتایا کہ آپ سب لوگ بھی پریشان ہوتے،،، میں میڈیسن کے ذریعے ہینڈل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ “
زرنــش نے بتایا۔
“کیا سلوشن ہے اس کا؟”
آج اپنی لاڈلی بہن کے لیے اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
“سرجری از لاسٹ اوپشن،، جس سے اس کی لائف سیف ہو سکتی ہے۔۔۔۔”
زرنــش کی آواز لڑکھڑانے لگی،، حنان دروازہ دھکیل کر روم میں آیا۔
“تم۔۔۔۔۔”
زرنــش چونکی۔۔
“مجھے رپورٹس دکھائیے؟”
حنان کا لہجہ بے یقینی سے بھرا تھا۔
“حنان۔۔۔”
زرنــش بولنے لگی تھی مگر ہادی نے دے دی۔
“یہ نہیں ہو سکتا۔”
حنان نے نفی میں سر ہلایا اور وہاں ہی سر پکڑ کر بیٹھ گیا، ہادی آنسو پیتا چلا گیا۔
“میرا ایک چھوٹا سا مذاق اسکی جان نہیں لے سکتا ،،، نہیں اسے کچھ نہیں ہو گا۔۔۔”
وہ چلایا تھا۔
“حنان ۔۔۔”
زرنــش نے دکھ سے کہا۔
“آپ نے کیوں چھپائی اتنی بڑی بات ہم سب سے،،،، بھابھی آپ کو ہمیں بتانا چاہیے تھا۔۔۔”
اس کی آنکھ سے گرتا آنسو رپورٹس پر گرا۔
“حنان وہ ٹھیک ہو جاۓ گی۔۔۔”
زرنش نے اسے تسلی دی۔۔
“نہیں ،،، نہیں بھابھی وہ نہیں ٹھیک ہو گی،،،، مجھے معلوم ہے ،،، میں اسے طلاق دے دیتا ہوں پھر مجھے یقین ہے کہ وہ بلکل ٹھیک ہو جاۓ گی ،،، میرا نام ہی اس کی جان کا عذاب ہے ناں۔۔۔ “
اس کی آنکھوں سے آنسو گر پڑے۔۔
“حنان۔۔۔۔؟؟؟”
زرنــش ساکت رہ گئی۔
“ہاں بھابھی۔۔۔”
وہ اثبات میں سر ہلا کر بولا۔
“آج میری بہن اس حال میں پہنچی ہے تو تم کہہ رہے ہو کہ اسے طلاق دینا چاہتے ہو۔؟؟؟”
ہادی صدمے میں تھا۔
“کہاں ہے حنا ؟؟؟”
تبھی دعا لوگ آ گئے۔۔
“کیسی ہے حنا ؟؟؟”
اسوہ نے بے قراری سے پوچھا۔
“اگر میری بہن کو کچھ ہوا نا؟؟؟؟ یاد رکھنا حنان کہ میں تمہیں معاف نہیں کروں گی کبھی بھی۔۔۔”
دعا حنان کا گریبان پکڑ کر چلائی۔
“تمہیں لگتا ہے کہ حنا کو کچھ ہوا تو میں زندہ رہ پاؤں گا،،،،؟؟؟؟ اس کے بچنے کا بس ایک ہی حل ہے؟”
وہ دکھ سے بولا تھا۔
“کیا؟؟؟”
ہادی نے پوچھا۔
“طلاق۔۔۔”
وہ کرسی کا سہارا لے کر کھڑا ہوا۔۔
“کیا؟؟؟؟”
شاہد صاحب کو صدمہ لگا۔
“تمہارا دماغ تو درست ہے نا؟؟؟”
زاہد صاحب نے اس کے چہرے پر تھپڑ مارا۔
“بابا چاچو۔۔۔”
سب آگے بڑھے۔
“بابا میرا یقین کرئیے کہ اگر میں نے اسے چھوڑ دیا نا تو وہ ٹھیک ہو جاۓ گی،،،، اللہ کی قسم میں بہت بہت چاہتا ہوں اسے۔۔۔۔”
وہ تھپڑ کا اثر لیے بنا بولا۔
“تم۔۔۔”
اس سے پہلے کہ فرح بیگم کچھ کہتیں شاہد صاحب نے روکا۔
“حنان تمہیں کیوں لگتا ہے ایسا؟؟؟”
انہوں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“کیونکہ نجومی نے کہا تھا۔۔۔”
اس نے آہستگی سے کہا۔
“کیا کہا تھا؟؟؟”
سب شاکڈ سے اسے دیکھ رہے تھے۔
“بابا اس نے کہا تھا کہ اگر میری اور حنا کی شادی ہوئی تو حنا زیادہ عرصہ سروائیو نہیں کر سکے گی۔۔۔”
وہ کانپتے لبوں سے بولا تھا۔
“وٹ؟؟؟؟؟ ، تم ایک نجومی پر خدا سے زیادہ یقین رکھتے ہو،،،، تمہیں شرم نہیں آئی؟؟”
وہ تقریباً چلاۓ تھے۔
” بابا سنیں،،،،،،،دعا اسوہ تمہیں یاد ہے نا کہ ہم لوگ پکنک پر گئے تھے ،،، وہاں ایک نجومی آیا تھا۔۔۔؟”
اس نے یاد دلانے کی کوشش کی ۔۔
“کب ؟؟؟ ہمیں تو نہیں یاد؟”
اسوہ نے دعا کو دیکھا۔
“اف یار جب ہم لوگ لیک جھیل پر گئے تھے تم لوگوں کی شادی کے ایک مہینہ بعد،،،، جب میں نے حنا کے لیے چوڑیوں سے نام لکھا تھا۔۔۔۔”
اس نے یاد دلایا تھا۔
“وہ۔۔۔”
دعا نے یاد آنے پر کہا تو اس نے سر ہلایا۔
“حنان وہ نجومی نے نہیں کہا تھا،،، وہ ایک مذاق تھا،،، وہاں بیٹھا لڑکا یونہی مذاق کر رہا تھا اور ہم نے اسے کہہ دیا کہ یہ کہنا اور تم۔۔۔۔ “
اسوہ نے ماتھے پر ہاتھ مارا۔
“کیا مطلب؟؟”
حنان نے اسے دیکھا۔
“مطلب یہ کہ تمہارا ایمان اللہ پاک پر اتنا کمزور کیوں ہے؟؟؟ تم نے ایک نجومی کی بات پر یقین کیا بجاۓ اللہ پاک کے؟؟؟؟ تمہیں شرم آنی چاہیے کہ تم نے فقط اس ایک بات کو کے کر حنا پر زندگی تنگ کر دی؟ آج حنا جس حال میں ہے تمہاری وجہ سے ،،، شرم نہیں آئی تمہیں؟؟؟”
فرح بیگم نے اسے غصے سے کہا۔
“مجھ پر حنا کی محبت غالب آگئی تھی،،، مجھے کچھ بھی نظر نہیں آیا تھا ماما مجھے لگا تھا کہ اتنی محبت کرتا ہوں کہیں سچ میں اسے کھو نہ دوں۔۔”
اس کی آواز رندھی۔
“اللہ نے حنا کو آج یہ تکلیف دے کر تمہیں بتایا کہ جیسا تم نے گمان کیا ویسا ہی دینا چاہا،، جاؤ جا کر اللہ پاک سے معافی مانگو،،، حنا کی زندگی خطرے میں ہے۔۔۔ “
زرنــش نے کہا تو وہ سر ہلاتا چلا گیا۔
“بابا اسے کچھ نہیں کہیے گا کچھ قصوروار ہم بھی ہیں،، ہمیں نہیں معلوم تھا کہ یہ اتنا سیریس لے جاۓ گا ہم نء تو بس مذاق کیا تھا۔۔”
اسوہ شرمندگی سے بولی۔
“بس دعا کرو کہ حنا ٹھیک ہو جاۓ۔۔۔”
وہ نم آنکھوں سے بولے۔
“زرنــش حنا ؟”
انہوں مے زرنــش کو دیکھا۔
“میں ادھر ہی جا رہی تھی،،، بتاتی ہوں۔”
وہ چلی گئی۔
“ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ سرجری ہی سلوشن ہے بس۔۔۔”
اس نے پانچ منٹ بعد ادھر آ کر کہا۔۔
“اوکے تو کرئیے لیکن میری بیٹی کو کچھ نہ ہو۔۔۔”
جویریہ بیگم نے روتے ہوۓ کہا۔
“اللہ پاک پر یقین کامل رکھیے ماما۔۔”
زرنــش نے کہا اور چلی گئی۔
“میری پھولوں جیسی بیٹی اتنی تکلیف کیسے سہے گی۔۔”
فرح بیگم نے سر ہاتھوں پر گرایا سب ہی نم آنکھوں سے دعا کے لیے رب کے حضور حاضری لگا رہے تھے۔۔۔












“اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔”
اس کے کانوںن میں آواز پڑی تو بے اختیار وہ مسجد کی جانب چل پڑا۔
” اسْتَغْفِرُالله ۔”
اس نے دکھ سے کہا۔
“اے میرے اللہ تو مجھے معاف کر دے،، میں غلطیوں پر غلطیاں اور گناہ کرتا رہا ،،،،، یا رب تو غفور و رحیم ہے ،،، اپنے اس گناہ گار بندے کو بس ایک بار معاف کر دے،،، یا اللہ حنا کی محبت میں ڈر گیا تھا میں ،،، یا اللہ تو ناراض ہے مجھ سے مجھ سے راضی ہو جا ،،،۔ میں تیری ناراضی کا بوجھ نہیں سہہ پاؤں گا،،، اللہ جی میری دوست کو زندگی کی نوید دے دے ۔۔۔۔”
اس نے نماز کے بعد روتے ہوۓ سجدے میں سر رکھ کر اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا۔ دل ہلکا ہونے پر اس نے دوبارہ گاڑی کا رخ ہوسپٹل کی طرف کیا۔۔۔










“ارحہ کدھر ہے؟؟”
عارش نے تنزیلہ بیگم کو دیکھا۔
“بیٹا وہ لان میں ہے۔۔”
انہوں نے مسکرا کر کہا۔تو وہ سر ہلاتا ادھر آ گیا۔ ارحہ لان میں چیئر پر بیٹھی تھی ،،، چہرہ کافی اداس لگ رہا تھا۔ عارش کے دل کو کچھ ہوا۔
“ارحہ۔۔۔”
عارش نرمی سے بولا۔
“آپ؟؟”
ارحہ چونک کر کھڑی ہوئی۔۔
