Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gumaan Se Agy (Episode 9)

Gumaan Se Agy By Umme Hania

گڑیا۔۔۔ گڑیا اٹھ جاو۔۔۔ عصر اور مغرب کے درمیان سونا نحوست پھیلانا ہوتا ہے۔۔۔ تمہیں سمجھا سمجھا کر مر گئ ہوں میں۔۔۔ پتہ نہیں کس پر گئ ہے یہ لڑکی جو مجال ہو اس کی صحت پر رتی برابر فرق پڑ جائے میری باتوں کا۔۔۔ ہر کام اسنے کہے سے الٹ ہی کرنا ہوتا ہے۔۔۔ فاطمہ صحن سے چیزیں اکھٹی کرتی مسلسل گڑیا کو ڈانٹ رہی تھی۔۔

وقت پڑ لگا کر اڑا تھا۔۔۔ چار سال پہلے بی بی خانم بھی انہیں چھوڑ خالق حقیقی سے جا ملی تھی۔۔۔ اسکے بعد سے فاطمہ کی زندگی میں کچھ آسانیاں آ گئ تھیں۔۔۔ پے در پے بچیوں کی پیدائش کے باعث جو اس سے غیر مصنفانہ سلوک روا رکھا جاتا تھا وہ اب ختم ہو گیا تھا۔۔ اب وہ اپنے گھر کی بلاشرکت غیر مالکن تھی۔۔۔ رقیہ کیساتھ برابر کی حصہ دار۔۔۔ تیزی سے جوانی کی دہلیز کو چھوتی بیٹیوں کو دیکھ اسنے شوہر کو دھکے چھپے الفاظ میں حالات کی نزاکت کا احساس دلایا تھا جس کا نتیجہ چند روز بعد گھر کے درمیان دیوار کی صورت ظاہر ہوا تھا۔۔۔ دونوں بھائیوں کے پورشنز الگ الگ ہو گئے تھے جس کے باعث اب فاطمہ کی فکروں میں کافی حد تک کمی آ گئ تھیں۔۔۔ اسکی بیٹیاں اب اپنے گھر میں بنا کسی روک ٹوک کے کھل کے سانس لے سکتی تھیں۔۔۔ ہس بول سکتی تھیں۔۔

زنیرہ اور عمیرا جس قدر اسکی فرماں بردار اولاد تھیں گڑیا اتنی ہی خودسر اور منہ پھٹ تھی۔۔۔ وہ دونوں جتنی صابر اور خاموش طبیعت تھیں گڑیا اتنی ہی بدلحاظ اور حاضر جواب۔۔۔ ان سب چیزوں سے تو وہ بچپن سے ہی مالا مال تھی مگر وقت کیساتھ ساتھ اسکی ان صلاحیتوں کو مزید چار چاند لگ گئے تھے۔۔۔

ہر وقت جلتی کڑھتی اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے باوجود اسکا غصہ ٹھنڈا ہونے کا نام نا لیتا تھا۔۔۔

زنیرہ اور عمیرا دونوں پڑھائی میں بہت تیز تھیں جبکہ گڑیا ان دونوں کا الٹ تھی۔۔۔ زنیرا پرائیویٹ بی اے اور عمیرا پرائیویٹ ایف اے کی تیاری کر رہی تھی جبکہ مابدولت گڑیا صاحبہ آٹھویں کے سکول ٹیسٹ میں بری طرح فیل ہوئی تھی اور اسی کا غصہ اب فاطمہ بار بار اس ہر اتار رہی تھی۔۔۔

اب تو لوگ بھی کہنے لگے ہیں کہ فاطمہ کی سب سے چھوٹی بیٹی نہایت منہ پھٹ اور خود سر ہے جسے کسی بڑے چھوٹے کا بالکل بھی لحاظ نہیں۔۔۔

نہیں تو کیا ہم لوگوں سے لے کر کھاتے ہیں جو ان کی باتوں کو سر پر سوار کریں۔۔۔ لوگوں کے پاس اور کام ہی کیا ہے سوائے دوسروں کی زندگیوں کا تجزیہ کرنے کے۔۔۔ اپنے گھر تو انہیں دکھائی دیتے ہی نہیں۔۔۔

بس اسکی برداشت یہیں تک تھی ۔۔ جہاں لوگوں کا ذکر آیا وہ کمر کستی کمرے سے نکلی تھی۔۔۔ ریشم سے لمبے گھنے کمر سے نیچے تک جاتے بال پشت پر بکھرے تھے۔۔ ساحرانہ آنکھیں ابھی بھی نیند کے خمار میں خمار آلود تھی۔۔۔ دودھ ملائی سی رنگت پر تیکھی ستوان ناک اور پنکھری سے نازک ہونٹ اس پر اسکے اندازو اطوار دیکھنے والوں کو ٹھٹک کر اسے دیکھنے پر مجبور کرتے تھے۔۔۔ اب بھی وہ ماتھے پر ان گنت بل سجائے کمر پر ہاتھ رکھتی ماں کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔

بس ۔۔۔۔ یہ زبان دراضی کبھی بند مت کرنا۔۔۔ فاطمہ اسے تاسف سے دیکھتی بس کو لمبا کھینچتی گویا ہوئی۔۔۔۔

تو آپ کیوں مجھے لوگوں کی باتیں بتاتیں ہیں۔۔۔ جو لوگ میرے باپ کو تحقیرانہ نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور جنہیں میرے باپ کا احساس نہیں ان کے لئے میرے پاس کوئی لحاظ نہیں ایک کہیں گئے تو چار سنیں گئے بھی۔۔۔ کسی کے زر خرید نہیں ہیں جو انکی باتیں سنیں۔۔۔ جو میرے باپ کو باتیں سنائے گا میں اسکا ایسے ہی منہ توروں گئ۔۔۔ وہ سر جھٹکتی نخوت سے کہتی صحن میں بچھی چارپائی پر آ کر نیم دراز ہوئی جو ابھی ابھی صحن دھونے کے بعد زنیرا بچھا کر گئ تھی۔۔۔

کیچڑ میں پتھر مارنے سے دامن اپنا ہی خراب ہوتا ہے کتنی مرتبہ سمجھاوں تجھے۔۔۔ وہ کیچڑ میں ہی ہوں ماں جس میں اگر لوگ پتھر ماریں گئے تو اپنا آپ داغدار کریں گئے۔۔۔ یا اللہ مجھے صبر دے میرے مالک۔۔ اس لڑکی کی زبان کے آگے خندق ہے۔۔۔ فاطمہ اسکی حاضر جوابی پر بے بسی سے اپنا سر تھام کر رہ گئ۔۔۔

سوائے بکواس کرنے کے تمہیں کوئی دوسرا کام نہیں آتا۔۔۔ اپنی انہیں کرتوتوں کی وجہ سے تم فیل ہوئی ہو۔۔۔ آہ۔۔۔ جیسے کسی نے انی پوری قوت سے دل میں پیوست کر دی ہو۔۔۔ وہ بلبلا کر اٹھی تھی۔۔۔

اچھاااااا۔۔۔۔ اب ہوگئ ہوں فیل۔۔۔ کیا کروں پھر اب۔۔۔ مر جاوں کیا۔۔۔۔ فیل ہو گئ ہو فیل ہوگِی ۔۔۔

جیسے فیل نہ ہوگئ ہوں کسی کبیرہ گناہ کی مرتکب ہو گئ ہوں۔۔۔ وہ غم و غصے سے پھٹ پڑتی گھسیٹ کر چپل ارستی واپس اندر چلے گئ۔۔۔

دیدہ دلیری تو دیکھو زرا اس ناہجار کی۔۔۔ ایک چوری اوپر سے سینہ زوری۔۔۔ کل سے تو زینب بی بی کے پاس جائے گئ قرآن کی تفسیر کے لئے زرا تجھے بھی بڑے چھوٹے کا فرق معلوم ہو ناجانے کس چیز کی آگ ہے تیرے اندر۔۔۔ یہ سرکشی لے کر اگلے گھر گئ نا تو دو دن میں وہ تیرے سارے کس بل نکال دیں گئے۔۔۔ خود تو باتیں سنے گی ہی سنے گی الٹا ماں کا نام بھی ڈبوئے گی کہ بیٹی کی تربیت تک نا کر سکی ماں۔۔ فاطمہ بولتے بولتے ہانپنے لگی تھی۔۔۔ یہ لڑکی یونہی اسکا خون بلند فشار رکھتی تھی۔۔

*****

وہ لاکھ پراعتماد اور بہادر سہی مگر تھی تو ایک لڑکی ہی جس کے لئے اسکی عزت کسی نازک آبگینے کی مانند ہوتی ہے۔۔۔ اور پھر شمائل جیسی لڑکی جس نے خود کو سینچ سینچ کر رکھا ہو۔۔۔ بظاہر وہ خود کو جتنا بھی مضبوط اور بہادر ظاہر کر دیتی مگر حقیقت یہ ہی تھی کہ نوفل جیسے انا پرست کی دھمکیوں پر وہ ایک دفعہ تو ہل گئ تھی۔۔۔ اب وہ سنجیدگی سے آگے کا لائحہ عمل تیار کر رہی تھی۔۔۔ یہ تو یقینی بات تھی کہ وہ کوئی وار کرنے والا تھا اور یقیناً اسکا وار ہونا بھی کاری تھا۔۔۔ انسان ہمیشہ اپنی غفلت میں ہی مرتا ہے۔۔۔ اور وہ اپنے حریف سے غافل نہ تھی۔۔۔ پہلے سے بہت چوکنی اور مشتاق ہو چکی تھی۔۔۔ اب بھی وہ رات کے دو بجے ضحی کے لیپ ٹاپ پر اپنا کام مکمل کر کے نوفل درانی کے سوشل اکاونٹس سے اسکی سرگرمیوں کو دیکھتی اسکی سوچ تک پڑھ لینا چاہتی تھی۔۔۔ تھک ہار کر اسنے گہری سانس خارج کرتے سر بیڈ کراون سے ٹکایا۔۔۔

لیپ ٹاپ بند کرنے سے پہلے اسکی نظر آنے والی نئ میل پر پڑی۔۔۔ بنا توقف کے اسنے میل کھولی۔۔۔ میل ایک منٹ پہلے ہی اسے موصول ہوئی تھی یعنی کہ میل بھیجنے والا بھی اسکی طرح آدھی رات کو جاگ رہا تھا۔۔۔ یقیناً خود کی قیمت بڑھانے والے یونہی اپنی نیندوں کی قربانیاں دیتے خود کو پالش کرتے ہیں۔۔۔۔

یہ اسکی کل دوپہر میں کی جانے والی میل کی جوابی میل تھی۔۔۔ جس میں اسنے اپنی یونیورسٹی کے آئی ٹی کے ٹاپ سٹوڈینٹ احمر کے نام ایک پیغام چھوڑا تھا۔۔

اسلام علیکم۔۔۔ احمر شیخ۔۔۔ میرا نام شمائل حسن ہے اور میں آپ ہی کی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہوں۔۔۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ لوگوں کو ویب ڈیولپنگ اور ایپ ڈیولپنگ کی سروس مہیا کرتے ہیں۔۔۔ میں اس بارے میں تھوری بہت بنیادی معلومات رکھتی ہوں۔۔۔ دراصل میں آپکے ساتھ کام کر کے اپنا تجربہ بڑھانا چاہتی ہوں اگر آپ اجازت دیں تو میں بلامعاوضہ آپکی دی ہر اسائمنٹ۔مکمل کرنے کو تیار ہوں۔۔۔ یوں آپکو آپکے کام میں مدد مل جائے گئ اور مجھے بھی تجربہ حاصل ہو جائے گا۔۔۔

مختصر سے متن میں لکھی گئ اس تحریر کے بارے میں وہ پر امید نہیں تھی کہ اس کی جوابی میل آئے گئ۔۔۔ مگر اب اس میل کو پڑھ کر وہ شدید حیرت کا شکار تھی جس میں احمر شیخ نے صبح دس بجے اسے کینٹین میں بلایا تھا۔۔۔ میل پڑھ کر ایک مسکراہٹ نے اسکے ہونٹوں کو چھوا تھا۔۔۔ کیا پتہ اسکا کام بن جاتا۔۔۔

********

گڑیا آج ماں کے بارہا ڈانٹنے پر منہ بسورتی زینب بی بی کے گھر جا رہی تھی ۔۔۔ بے زاریت اور غیر دلچسپی اس کے ایک ایک انداز سے بخوبی ظاہر ہورہی تھی راستے میں وہ جہاں پر سےگزرتی لوگ ٹھٹھک کر اسے دیکھتے لیکن آگے بھی گڑیا تھی جس کی زبان کے جوہر دکھانے سے پہلے اس کی آنکھوں کے تیکھے وار ہی مقابل کو نظریں جھکا دینے پر مجبور کر دیتے تھے۔۔۔

تم زرا جلدی نہیں چل سکتی زرا تیز قدم اٹھاؤ۔۔۔ سامنے ہی نکڑ پر لڑکوں کا ایک ٹولہ دیکھتے اس کے ساتھ جاتی عمیرا نے اس کی بازو پر چٹکی کاٹتے اسے آہستہ آواز میں ڈپٹا ۔جبکہ ڈانٹ کا اثر الٹا ہی ہوا تھا۔۔۔۔ زرا دو منٹ رکو ۔۔۔وہ اپنی بازوں پر موجود عمیرا کے ہاتھ کو جھٹکتی خونخوار نگاہوں سے لڑکوں کے اس ٹولے کی جانب بڑھی جو انہیں سر سے لے کر پاؤں تک ایکسرے کرتی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔

ایسی کیا خاص بات ہے میرے جسم کی بناوٹ میں جو تمہارے گھروں میں موجود تمہاری بہنوں کی اجسام کی بناوٹ میں نہیں ہے جو تم لوگوں یوں دیدے پھاڑے دیکھ رہے ہو۔۔۔ اس کی زبان کے آگے واقعی خندق تھی یا کم از کم اس وقت عمیرہ کو تو ایسا ہی لگ رہا تھا شرمندگی سے اس کا دل چاہا کہ وہ کہیں غائب ہو جائے۔۔۔ ے

اتنے لڑکوں سامنے وہ جس دیدہ دلیری سے مخاطب ہوئی تھی اس نے ان لڑکوں کو بگلیں جھانکنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔

اس غیر متوقع صورتحال پر عمیرا کے جسم پر کپکپی طاری ہونے لگی تھی وہ اتنی ہی کم ہمت اور تھوڑے دل کی مالکن تھی جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر گھبرا جاتی وہ تو جہاں پر یوں لڑکوں کو کھڑا کر دیکھتی اپنی رفتار میں تیزی بھرتی اس مقام سے جلد سے جلد آگے بڑھ جاتی تھی کجاکے اب یوں ان لڑکوں کے سامنے آکر خود سے بات کرنا۔۔۔ چلو یہاں سے وہ گڑیا کی بازو کھینچ کر باقاعدہ اسے گھسیٹتی اپنے ساتھ لیجا رہی تھی ۔۔۔آئندہ میں کبھی زندگی میں تمہارے ساتھ کہیں نہیں جاؤں گی آج گھر جاتے ہی تمہاری امی سے شکایت لگاؤں گی۔۔۔ پھر وہاں سے زینب بی بی کے گھر جانے تک وہ مسلسل گڑیا کو باتیں سناتی آئی تھی ایسی باتیں جو گڑیا صبح شام اپنے کھانوں کے ساتھ کھاتی آئی تھی اس لیے اب وہ ان باتوں کو ذہن پر سوار کرنا چھوڑ چکی تھی ۔

******

گڑیا قرآن پاک بند کر کے اندر رکھ کر ادھر میرے پاس آؤ زینب بی بی نے اسے تمام بچوں کے درمیان غیر دلچسپی سے بیٹھے دیکھ اپنے پاس بلایا۔۔۔ زینب بی بی کا شمار محلے کے معزز ترین افراد میں ہوتا تھا وہ خود بے اولاد تھیں لہذا وہ محلے کے بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دیتی تھیں۔۔۔ فاطمہ نے گڑیا کے حوالے سے اپنے خدشات ان کے سامنے رکھیں تو گڑیا کو اپنے پاس بلانے کا فیصلہ بھی ہے زینب بی بی کا اپنا تھا ۔۔۔

اب بتاو کیا مسئلہ ہے تمہارا کیوں پڑھائی میں دل نہیں لگ رہا گڑیا کے اپنے پاس آنے پر زینب بی بی نے اسے اپنے پاس بیٹھنے۔کو جگہ دی اور نرم لہجے میں گویا ہوئی ۔۔۔ کیوں ماں کو اتنا ستاتی ہو بیٹا،۔۔ا تم بہت پیاری بیٹی ہو اور اچھی بیٹیوں کو یہ سب کرنا زیب نہیں دیتا۔۔

میں انہیں نہیں ستاتی زینب بی بی مجھے غصہ صرف ان لوگوں پر آتا ہے جو خواہ مخواہ دوسروں کی زندگیوں میں دخل اندازی کرتے ہمیشہ کسی نہ کسی کی ٹوہ لینے کی کوشش میں سرگرداں رہتے ہیں بس اسی وجہ سے امی مجھ سے نالاں رہتی ہیں اور اب اگر میں فیل ہو گئی ہوں تو اس میں میرا تو کوئی قصور نہیں اور وہ میرے فیل ہونے کو اپنے سر پر سوار کر بیٹھی ہیں۔۔۔ وہ چارپائی پر بچھی چادر کے پرنٹ پر انگلیاں پھرتی آہستگی سے گویا ہوئی ۔۔

بیٹا یہ فیل ہونا کیا ہوتا ہے فیل ہونا کچھ نہیں ہے ۔۔ خواہ مخواہ ہی لوگوں نے اسے سر پر سوار کیا ہوا ہے زینب بی بی کے کہنے پر اس نے جھٹکے سے سراٹھاتے انہیں دیکھا یہ وہ کیا کہہ رہی تھیں بھلا۔۔ جب ایک چیز تمہیں آتی نہیں ایک چیز کے بارے میں تم نا واقف ہو۔۔۔۔ ایک ایسا کام جس کی تمہیں الف ب بھی نہیں پتا تو ظاہر سی بات ہے اللہ تمہیں اس کام میں فیل کرے گا۔۔۔ تاکہ تم اپنے اس کام میں بہتری لا سکو۔۔ تو فیل ہونے کو اتنا ذلیل قسم کا لفظ کیوں بنایا ہوا ہے ۔۔کہ فیل ہو گیا۔ ۔۔۔ فیل ہونا کچھ نہیں ہوتا پتر یہ اللہ اپنے بندوں کو فیل کرتا ہے تاکہ وہ اپنے آپ میں بہتری لائیں اپنے کام میں نکھار پیدا کریں ۔۔۔ کیونکہ فرض کرو اگر کیسے بھی کرکے تم اس مقام سے نکل جاؤ تو آگے کوئی بری بلا تمہیں مار ڈالے گی۔۔۔ تمہیں بڑے طوفانوں کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرنے کی خاطر چھوٹے مقام پر فیل کیا جاتا ہے۔۔۔ ایسی ہار جو تمہیں شک میں مبتلا کر دے اور ایسی جیت جو تم میں تکبر پیدا کردے۔۔۔ ایسی ہار جو تمہیں بنی اسرائیل بنا دے اور ایسی جیت جو تمہیں فرعون بنا دے ان دونوں سے بچنا پتر۔۔۔ ہار میں اپنے رب پر یقین اور جیت میں عاجزی کبھی نا چھوڑنا۔۔

اور میری ایک نصیحت ہمیشہ یاد رکھنا بیٹا ۔۔۔ لوگوں کو زبان سے جواب دینا بند کر دے ۔۔۔ کتنے لوگوں کو تو جواب دے گی۔۔۔ کس کس کے ساتھ پورا اترے گی ۔۔۔ لوگوں کو جواب اپنے عمل سے دے کہ جو لوگ آج تیرے باپ کی طرف انگلیاں اٹھاتے ہیں اسے تحقیقرانہ نگاہوں سے دیکھتے ہیں اس کی طرف دیکھ کر ہس کے گزر جاتے ہیں ۔۔۔کل وہی لوگ تیری بدولت تیرے باپ کے سامنے سر جھکائے سلام کر رہے ہوں۔۔۔

اپنے عمل میں وزن ڈال بیٹا ۔۔۔زبان سے اگر اپنا نقطہ نظر واضح کرنے نکلے گی تو گلی کا کتا بھی تیری بات پر ایمان نہیں لائے گا۔۔۔ عمل کو اپنا عمل سے اپنی بات ثابت کر۔۔۔ جو بولتا ہے بولنے دے صرف اپنے کام پر دھیاں رکھ اپنے عمل سے اسے اس کی بات کا جواب دے۔۔۔ صبر اور برداشت پیدا کر اپنے اندر ۔۔۔۔خاموش ہو جا ۔۔۔ اتنا صبر پیدا کر لے اپنے اندر کے کوئی تجھے تھپڑ بھی مار دے تو اسے مسکرا کر دیکھ کے کوئی بات نہیں میں اس سے بھی بہتر کروں گی آج تیرا وقت ہے۔ کل میرا وقت ہوگا تو تو جھک کر ملنے آئے گا مجھ سے۔۔۔ خود کو اتنا قیمتی اور انمول بنا لیں ۔۔۔ کبھی خود کو کسی سے کمتر نہ سمجھنا پتر ۔۔۔۔تیرے اندر وہ طاقت ہے کہ تو دنیا فتح کر سکتی ہے اپنی زندگی کے مقصد کو پہچان اپنی سمت کا تعین کر ۔۔۔ تیرے اندر یہ جو لاوا پک رہا ہے نہ اسے ایک سمت فراہم کر کیونکہ اگر یہ بنا کسی سمت کے بے شتر مہار بہتا چلا گیا تو بہا لے جائے گا تجھے۔۔۔۔ تباہ و برباد کر دے گا سب کچھ اسے سمت فراہم کر ۔۔۔ شیرنی بن بیٹا شیرنی۔ ۔۔ تو کسی سے کم نہیں اور میری آج کی بات لکھ کر رکھ لے اپنے پاس پوری تیاری اور بزرگوں کی دعاؤں کے ساتھ میدان میں اترے گی تو کبھی نہ ہارے گی زندگی میں ۔۔۔ ماں کو کبھی دکھ نہ دی ۔ ماں کی کبھی کسی بات کا جواب پلٹ کرنا دی ماں کو ہمیشہ خوش رکھی۔۔۔۔ ماں کی دعائیں تجھے فرش سے عرش تک پہنچا دیں گئی ماں کا دل تیری طرف سے ٹھنڈا ہوگا تو یہ دنیا بھی تیری آخرت بھی تیری ۔۔۔۔۔زینب بی بی کی باتوں میں اتنی تاثیر تھی جو اسکے دل کے اندر تک اترتی اسے سوچ کی ایک نئ سمت فراہم کر رہی تھیں۔۔۔۔

***”*”*