Gumaan Se Agy By Umme Hania Readelle50343 Gumaan Se Agy (Episode 6)
No Download Link
Rate this Novel
Gumaan Se Agy (Episode 6)
Gumaan Se Agy By Umme Hania
بیٹیوں کی ماوں کو اپنی آنکھیں ہر وقت کھلی رکھنی چاہیے۔۔۔ آفتاب کا کہا یہ جملہ فاطمہ نے اپنے پلو سے اچھے سے باندھ لیا تھا۔۔۔ اپنا عظیم نقصان کروانے کے بعد بھی اگر وہ نا سمبھلتی تو شاید اس جتنا بے وقوف دوسرا کوئی نا ہوتا۔۔۔
اس روز کے بعد سے سب نے فاطمہ میں ایک واضح تبدیلی محسوس کی تھی وہ فاطمہ جو سب کی کڑوی کسیلی باتیں خاموشی سے بنا کچھ کہے سنتی تھی اور اپنے کام سے کام رکھتی تھی وہ اب اپنی بیٹیوں کے حق میں بولنے لگی تھی ۔۔۔ ۔ اپنی بیٹیوں کا سارا چارج اس نے اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا ۔۔۔ ہمیشہ ساس کو اور گھر کے ایک ایک فرد کو خوش کرنے کی خاطر اپنی تمام ذاتی چیزوں کو پس پشت ڈالنے والی فاطمہ نے اپنی زندگی کی پہلی ترجیح میں اپنی بیٹیوں کو شامل کرلیا تھا ۔۔۔ وہ کسی بھی کام میں کتنے بھی انہماک سے مگن کیوں نہ ہوتی لیکن اگر اس کی بیٹیوں میں سے کوئی اسے آواز دیتی یا گر کر چوٹ لگوا بیٹھتی تو وہ سب کام چھوڑتی لپک کر بیٹی کو تھامتی۔۔۔ اسے خاموش کرواتی اس کی چوٹ سہلاتی اسے بہلا پھسلا کر دوبارہ سے کسی کھیل میں مصروف کر کے پھر سے اپنے کام کی طرف متوجہ ہوتی۔۔۔۔
یہ سب باتیں اس کی ساس سمیت گھر کے ہر فرد کو بہت کھلتی تھی جس کا برملا اظہار وہ طعنوں اور کوسنوں کی صورت اٹھتے بیٹھتے کرتے رہتے تھے مگر اب فاطمہ نے ان کی باتوں کا اثر لینا اور انہیں سر پر سوار کرنا چھوڑ دیا تھا ۔۔۔ ۔
فاطمہ کی اس روش پر سب سے زیادہ رقیہ جلتی بھنتی تھی کیوں کہ ہر کام میں ڈنڈی مارنے کی اس کی عادت اب بری طرح متاثر ہو کر رہ گئ تھی ۔۔۔ کیونکہ فاطمہ یا تو محض اپنے حصے کا کام کرتی یا پھر وہ کام ہی چھوڑ کر اگلے دن پر ڈال دیتی جسے کرنے کی خاطر اس روز رقیہ نے کوئی نہ کوئی بہانہ بنایا ہوتا ۔۔۔۔
اپنی بیٹیوں کے معاملے میں اس نے چیل سی نگاہ رکھنی شروع کر دی تھی لمحے بھر کو اس کی بچیاں اگر اس کی آنکھوں سے اوجھل ہو جاتی تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ پہلے بچیوں کی خیریت معلوم کرنے کو انہیں ڈھونڈتی۔۔۔۔ وہ انہیں باقاعدہ خود سکول چھوڑنے جاتی اور کام کے درمیان میں سے وقت نکال کر انہیں سکول سے واپس بھی خود ہی لینے جاتی ۔۔۔
بہت سے کام اس کے شیڈول کی اس تبدیلی کے باعث متاثر ہوتے جس پر خانم بی بی بھڑک اٹھتی لیکن اب اس نے پرواہ کرنا چھوڑ دی تھی ۔۔۔۔
اس روز بھی وہ صبح صبح ہی صحن میں جھاڑو لگا رہی تھی آفتاب اور جاوید اپنے اپنے کاموں پر جا چکے تھے ۔۔۔ خانم بی بی ناشتے کے بعد صحن میں موجود اپنے تخت پر بیٹھی چائے پی رہی تھی پاس ہی شمشیر اور عتیق بھی بیٹھے تھے جب انہوں نے اپنے کمرے کے سامنے صحن میں چٹائی بچھا کر بیٹھتی زنیرہ اور عمیرا کو اپنی کتابوں کیساتھ مصروف دیکھ زنیرہ کو آواز لگائی۔ ۔۔
اے زنیرہ ادھر آ ذرا یہ دکان سے مجھے سودا تو لاکر دے ۔۔۔بی بی خانم کی آواز پر زنیرہ جھٹ سے اپنی کتابیں بند کرتی اٹھی تھی جبکہ صحن میں جھاڑو لگاتی فاطمہ کے ہاتھ خانم بی بی کی آواز پر ٹھٹھکے تھے ۔۔۔
اماں وہ پڑھ رہی ہے آپ عتیق یا شمشیر میں سے کسی سے منگوا لیں ۔۔۔۔
اور تم جلدی سے اپنا ہوم ورک مکمل کر کے مجھے دکھاؤ فاطمہ کی سختی سے کہنے پر زنیرا ویسے ہی نیچے بیٹھتی اپنی کاپی پر جھکی تھی جب کے آپنی بات کاٹے جانے پر بی بی خانم کو لمحوں میں غصہ آیا تھا۔۔۔۔
یہ جو دو گز بھری لمبی زبان ہوتی جا رہی ہے نہ تمہاری فاطمہ میں کہے دیتی ہوں اسے یہیں پر روک لو ورنہ مجھے اچھے سے کاٹنی آتی ہے ۔۔ خون سفید ہوگیا ہے اب تم میری ہی پوتیوں کو میرے سے منہ زوری کرنا سکھاؤں گی ۔۔۔ آنے دو۔۔۔۔ آنے دو ذرا آفتاب کو تمہارے سارے کس بل نکلواتی ہوں۔۔۔
تم جو بات بات پر میرے سر کے بالوں کو آرہی ہوں ہر بات پر مجھے جواب دینا سیکھ رہی ہوں ۔۔۔ ۔ میں نے آپ کو جواب نہیں دیا اماں میں نے بس یہی کہا ہے کہ جب گھر میں لڑکے موجود ہیں تو پھر بچیوں کو دکان پر بھیجنے کی بھلا کیا تک بنتی ہے۔۔۔
خانم بی بی کف اڑاتی اسے بول رہی تھی گویا بس نہ چل رہا ہوں کے اس کی گردن ہی مروڑ دیتی جو بے زبان گائے سے اب زبان چلانا سیکھ رہی تھی جب فاطمہ . صحن کے آخری حصے میں بھی جھاڑو لگاکر کوڑا اٹھاتی گویا ہوئی اور ہاتھ دھو کر اپنے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔
نا تو تو بھی جن لیتی ایک بیٹا تجھے کس نے روکا تھا لے دے کر ہماری جڑوں میں بیٹھ گئ اور بیٹیوں کی لائنیں لگا کر رکھ دی نا میں پوچھتی ہوں کس بھرتے پر تو میرے منہ کو آ رہی ہے۔۔۔ اوقات کیا ہے تیری۔۔۔ ایک بیٹا تو تو اس گھر کو دے نا سکی اور باتیں کرتی ہو۔۔۔
خانم بی بی کو کہاں پسند آیا تھا اس کا یوں منہ زور ہو کر انہیں جواب دینا وہ بھی اپنے بازو چڑھاتی میدان میں اتری تھیں اور اس کی دکھتی رگ پر یوں ہاتھ رکھا تھا کہ وہ بلبلا اٹھی تھی۔۔۔
وار واقعی قاری تھا فاطمہ نے لب بھینچ لئے ۔۔۔ اندر آکر مجھے اپنا کام چیک کرواؤ وہ بچیوں کے پاس سے گزرتے رندھی ہوئی آواز میں کہتی اندر بڑھ گئ۔۔۔
لیکن اب خانم بی بی کی زبان کے آگے خندق تھا انہیں کچھ کہہ کر فاطمہ نے بھلا جانا کہاں تھا اب وہ پے درپے اپنے پاس موجود تمام نشتروں کا استعمال کرتی اس کے دل کو اچھے سے چھلنی کر رہی تھی ۔۔۔
شکر نہیں کرتی یہ کہ اسے ابھی تک رکھا ہوا ہے ہم نے گھر میں۔۔۔ نہ میں پوچھتی ہوں اس کے پلے ہے کیا ۔۔۔۔ میری ہی مت ماری گئی تھی جو سو ہیروں کو چھوڑ کر اس ایک کوئلے کو اپنے ہیرے سے بیٹے کے لیے ڈھونڈ کر لائی۔۔۔
ارے میرے بیٹے کو رشتوں کی کمی تھوڑی نہ ہے ایک چھوڑ سو کی لائن لگی پڑی ہے ۔۔۔۔ وہ مسلسل اپنے دل کی بھڑاس نکال رہی تھی جبکہ اندر بیٹھی بچوں کے کام چیک کرتی فاطمہ نے ضبط کی انتہاوں کو چھونے کے باوجود بہہ نکلنے والے خاموش آنسوؤں کو ہاتھ کی پشت سے صاف کیا۔۔۔۔
*******
سر کیا میں دو منٹوں کے لیے آپ کا لیپ ٹاپ استعمال کر سکتی ہوں۔۔۔ پرنسپل صاحب کے سامنے کرسی پر براجمان آہستہ آہستہ اپنا اعتماد بحال کرتی شمائل پرنسپل صاحب سے مستفسر ہوئی تو انہوں نے کچھ دیر تک سوچنے کے بعد اسے اجازت دیتے اپنا لیپ ٹاپ اس کے سامنے کھسکایا۔
لمحے کی تاخیر کیے بنا شمائل نے اپنے بیگ سے کچھ تلاشا اور پرنسپل صاحب کی ہی یو ایس بی کو استعمال کرتے اسے لیپ ٹاپ سے کنیکٹ کیا ۔۔۔
کچھ ہی فاصلے پر بیٹھے پرنسپل صاحب اور پروفیسر صبیحہ اسے حیرت و دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔۔۔
کچھ لمحے تک لیپ ٹاپ کے کی پیڈ پر انگلیاں چلانے کے بعد اس کے آنکھوں میں ایک مخصوص چمک ابھری تھی۔۔۔
یہ لیں سر میری بے گناہی کا ثبوت اس نے ہاتھ پر ہاتھ مارتے مسکرا کر لیپ ٹاپ کی سکرین پرنسپل صاحب کی جانب کی اور اس پر چلتی ایک ویڈیو کو پاز کر کے شروع سے دوبارہ سے چلایا۔۔۔ پرنسپل صاحب اور پروفیسر صبیحہ ایک دوسرے کی جانب دیکھتے حیران سے لیپ ٹاپ کی سکرین کی جانب جھکے جہاں پر ایک منظر چل رہا تھا جس میں علایہ چور نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھتی کلاس روم میں داخل ہوئی کلاس میں اکا دکا ہی سٹوڈنٹ تھے سب ہی اپنی اپنی سرگرمیوں میں مشغول تھے کوئی بھی علایہ کی جانب متوجہ نہ تھا جب اس نے آنکھ بچا کر پرفیسر صبیحہ کے بیگ کی بیرونی زپ سے وہ بریسلیٹ نکالا اور اسے ہاتھ کی مٹھی میں بند کرتی ایک دفعہ پھر سے چور نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھتی شمائل کے بیگ کی جانب آئی اور آنکھ بچا کر اس کے بیگ کی بیرونی زپ کو کھولتے اس نے بریسلیٹ وہاں پر رکھا اور ویسے ہی زپ بند کر کے کلاس سے باہر نکل گئی اس کے کلاس سے جانے کے کچھ ہی لمحوں بعد شمائل واپس کلاس میں داخل ہوئی۔۔۔ اس کے کچھ دیر بعد پروفیسر صبیحہ کے وہاں آ کر اپنا بیگ چیک کرنے اور پھر کچھ دیر بعد پرنسپل صاحب کے وہاں پر آنے اور سب کی تلاشی شروع ہونے کے مناظر چل رہے تھے لیکن شمائل نے وہاں پر ویڈیو بند کر دی۔۔۔
پرنسپل صاحب اور پروفیسر صبیحہ حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
سر میرے خیال سے اب تو آپ کی غلط فہمی دور ہو گئی ہو گی کہ یہ چوری میں نے نہیں کی۔۔۔۔
وہ سب تو ٹھیک ہے بیٹا مگر یہ ویڈیو شمائل کی جانب دیکھتی پروفیسر صبیحہ نے حیرت و تعجب کے ملے جلے تاثرات سمیت اپنی بات ادھوری چھوڑی۔۔۔ میم یہ جگہ جگہ پر گھاٹ لگائے بیٹھے ایسے شکاری اور فتنہ پرور لوگوں سے خود کو محفوظ رکھنے کی ایک ادنیٰ سی اختیاطی تدبیر ہے جس کی افادیت آج سے پہلے مجھ پر نہ کھلی تھی مگر آج یہ میرے خوابوں کو ٹوٹنے سے بچانے کا سبب بنی ہے۔۔۔
ہمیں آپ پر فخر ہے شمائل بیٹا اور ہم آپ سے انجانے میں روا رکھے جانے والے اپنے ناروا سلوک کے لیے معذرت خواہ ہیں پرنسپل صاحب کے لہجے میں پشیمانی تھی جسے دیکھ کر شمائل مسکرا دی اور اس کا اپنے رب پر یقین مزید پختہ ہوگیا کہ وہ جسے چاہتا ہے عزت سے نوازتا ہے جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔۔۔کسی کے مقدر میں ذلت و رسوائیاں بھرنا یہ اپنی طاقت کے نشے میں سر مست فرعوں کا کام نہیں۔۔۔
اچھا انہیں تو تم نے اس ویڈیو کے بارے میں کچھ نہیں بتایا مگر مجھے تو بتا دو ۔۔۔ ہونق بنی ادھ کھلے منہ سے شمال کے منہ سے ویڈیو کی بابت جانتی حرا نے حیرت سے استفسار کیا تو شمائل پوری جان سے مسکرا دی۔۔۔ ہر بات جاننے کے لیے نہیں ہوتی ڈیئر کچھ باتوں کو صیغہ راز میں ہی رہنے دینا چاہیے۔ ۔۔
شمائل نے بیڈ سے اترتے لیپ ٹاپ کو اس کی جگہ پر رکھتے چارجنگ پر لگایا۔۔۔۔ میں تو خوامخواہ ہی تمہارے بارے میں فکر مند ہو رہی تھی تم تو پوری گھنی میسنی ہو حرا نے اسکے ساتھ ہی بیٹھ سے اترتے اسکے پاس آتے اسکی کمر میں دھموکا جڑا۔۔۔
آہ ہ ہ۔۔۔ وہ کراہ کر رہ گئ
چلو میرے ساتھ بدتمیز انسان باہر موسم دیکھو کتنا اچھا ہو رہا ہے کچھ دیر تم بھی انجوائے کر لو اکیلی بیٹھی نجانے دماغ میں کون سی کچھڑیاں پکاتی رہتی ہو اور کسی کو بھنک تک نہیں لگنے دیتی ہمیں تو صرف اپنا نامہ اعمال ہی دکھاتی ہو ۔۔۔ حرا کو اس سے اچھی خاصی چڑ ہو رہی تھی جو ویڈیو والی بات گول کر گئی تھی اور وہ اتنی دیر تک اس کے لئے فکر و پریشانی میں ہلکان ہوتی رہی تھی اس لئے وہ اسکی کراہ نظر انداز کرتی اسے اسکی بازو سے کھینچتی باہر لیجانے لگی ۔۔۔
ہاں چلو میری بھی ایک ہی نشست میں بیٹھ بیٹھ کر اب تو کمر بھی اکڑنے لگی ہے۔۔۔۔ ویسے اگر تمہیں شام کی شفٹ میں کسی جاب کے بارے میں کسی ویکنسی کا علم ہوا تو مجھے بتانا ۔۔۔ شمائل اسکے ساتھ باہر گراونڈ میں آتی ہلکے پھلکے انداز میں گویا ہوئی۔۔۔ باہر نکلتے ہی خوشگوار ہواوں کے تھپیروں نے انکا استقبال کیا۔۔۔ گراونڈ میں پہلے ہی بہت سی لڑکیاں ٹولیوں کی صورت موسم انجوائے کر رہی تھی۔۔۔ شمائل ایک بار پھر سے خاموشی سے ان لڑکیوں کا تجزیہ کرنے لگی۔۔۔
اسے یہ کام خاصا دلچسپ لگتا تھا اپنے آپ میں مگن رہنے کی بجائے دوسروں کا تجزیہ کر کے ہر پل کچھ نا کچھ سیکھتے اپنی مینٹل گروتھ کی صلاحیت کو بڑھانا اور ادھر تو پھر مواقع بھی زیادہ تھے کیونکہ وہاں ہر بیک گراونڈ سے تعلق رکھنے والی لڑکی تھی۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے میرا کزن اسی شہر میں پوسٹڈ ہے اس سے کہوں گئ اگر کہیں کوئی ویکنسی ہوئی تو بتا دے گا۔۔۔ حرا کے کہنے پر اسنے محض سر ہلانے پر اکتفا کیا۔۔۔۔ وہ چاہ کر بھی اسے یہ بتا نا پائی کہ اسے جاب کی کتنی اشد ضرورت ہے۔۔۔
گھر میں اسنے یونیورسٹی آنے کی خاطر جھوٹ بولا تھا کہ اسکی سکالرشپ میں ہاسٹل کے اخراجات کے ساتھ ساتھ اسکے ٹرانسپورٹ اور کھانے کے تمام اخراجات بھی شامل ہیں۔۔۔ کیونکہ اگر وہ ایسا نا کہتی تو شاید اسے یونیورسٹی آنے کی اجازت کبھی نا ملتی کیونکہ گھر کے حالات اسکے سامنے تھے اسکا باپ یہ سب اخراجات برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا تھا۔۔۔اور وہ سیدھے سادھے لوگ اسکے جھوٹ کو سچ سمجھ بیٹھے تھے۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کہ اسنے گھر میں جھوٹ بولنے کیساتھ اسی وقت تہہ کر لیا تھا کہ وہ پڑھائی کیساتھ کوئی جاب کر کے اپنے سبھی اخراجات کا بوجھ خود اٹھا لے گئ اور اب گھر سے اپنے ساتھ لائی گئ رقم جو اسکی کافی دیر کی جمع پونجھی پر مشتمل تھی لیکن اسکے باوجود وہ اتنی نا تھی کہ ہاسٹل کے اخراجات کے ساتھ وہ ایک مہینے کے لئے اپنے تین وقت کے کھانے کا انتظام ہی کرسکتی ۔۔۔ وہ بھی اب تیزی سے ختم ہونا شروع ہوگئ تھی۔۔ اسے جلد از جلد اپنے لئے کسی نوکری کی تلاش تھی وہ کسی بھی قسم کی نوکری کرنے کو تیار تھی کیونکہ اسے اپنے خوابوں کیساتھ کوئی سمجھوتا منظور نہیں تھا۔۔۔ تیزی سے ختم ہوتی رقم کیوجہ سے اسکی پریشانی فطری تھی۔
******
اب کیوں موڈ بنایا ہوا ہے تم نے نکال تو لیا ہے تمہیں اس میس سے۔۔۔ نوفل ضامن اور علایہ تینوں موسم انجوائے کرنے کو باہر نکلے تھے درحقیت وہ علایہ کے بگڑے موڈ کو نارمل کرنے کی کوشیش میں ہلکان تھے جو چوری والے واقع کے بعد سے اسکا مسلسل خراب تھا۔۔۔ اب بھی ایک آئسکریم پارلر میں آئسکریم کھاتے نوفل نے اس سے کہا جو پھولے منہ کیساتھ آئسکریم کپ میں آئسکریم سٹک چلا رہی تھی۔۔۔
نوفل نے درمیان میں کود کر معاملہ رفع دفع کروایا تھا اور ہرجانے کے طور پر پچاس ہزار روپے دیتے بات کو وہیں دباتے انکے گھروالوں تک بات کو پہنچنے سے روکا تھا۔۔۔ اسکےساتھ ساتھ اسنے یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ علایہ نے ایسا محض شرارت کے موڈ میں کیا تھا۔۔۔ پرنسپل صاحب نے ایک لمبے لیکچر کے بعد انکی جان خلاصی کی تھی۔۔۔
کیا خاک نکالا ہے تم نے مجھے اس میس سے۔۔۔ تم تصور بھی کر سکتے ہو اس رسوائی کا جو مجھے تمہاری بدولت فیس کرنی پڑی ہے۔۔۔ پروفیسر صبیحہ کی وہ بات کہ میں کیسے جانتی تھی کہ انکا ڈائمنڈ بریسلیٹ انکے بیگ کی بیرونی زپ میں ہے اور انکا سر پر ہاتھ مارتے تاسف سے یاد کرنا کہ اوہ ہو۔۔۔ میں نے تمہارے سامنے ہی تو وہ اتار کر وہاں رکھا تھا۔۔۔ تصور کر سکتے ہو تم کہ تب مجھے کس قدر شرمندگی ہوئی۔۔۔دل چاہ رہا تھا کہ ابھی زمین پھٹے اور میں اس میں سما جاوں۔۔۔۔ کیا وہ دوبارہ کبھی مجھ ہر اعتبار کریں گئ۔۔۔ علایہ کا غصہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا یکدم ہی وہ آئسکریم سٹک کو آئسکریم کپ میں پٹختی تیز لہجے میں گویا ہوئی۔
یار اب مجھے کیا پتہ تھا کہ بازی پلٹ جائے گئ میں نے تو اس ذلت و رسوائی کو شمائل حسن کی قسمت میں رقم کرنا چاہا تھا نوفل نے گہرا سانس خارج کرتے خود کو ڈھیلا چھوڑا ۔۔۔ مگر وہ لڑکی بہت شاطر ہے ناجانے کیسے اسنے خود کو بے گناہ ثابت کیا ہے ۔۔۔ چلو خیر۔۔۔ حریف برابر کا ہو تو مقابلہ کرنے میں بھی مزا آتا ہے۔۔۔ اب وہ لڑکی بھی میری چڑ بن چکی ہے اسکی نگاہوں میں بے بسی کی انتہا . دیکھنے کا شدید خواہش مند ہوں۔۔۔ اسے بھی توڑ مروڑ کر اپنے آگے جھکنے پر مجبور نہ کر دیا نا تو میرا۔۔۔۔
بس کردو نوفل بس کردو۔۔۔۔ وہ کسی غیر مری نقطے کو دیکھتا سنجیدگی سے کہہ رہا تھا جب علایہ نے بے ساختہ اسکی بات کاٹی۔۔۔۔ تم نے خوامخواہ میں اس لڑکی کو حواسوں پر سوار کر لیا ہے ورنہ اس دن کا ٹکراو محض اتفاق تھا اور بس۔۔۔۔ خیر تم اب جو بھی کرو میرے سے کوئی امید مت رکھنا میری طرف سے صاف جواب ہے۔۔۔ میں پہلے ہی مروت میں بہت رسوا ہو چکی ہوں مزید کا یارانہ نہیں۔۔۔۔ وہ حتمی انداز میں چبا چبا کر کہتی وہاں سے اٹھ کر چلے گئ۔۔۔ نوفل اسے سنجیدگی سے دیکھتا اسکے کہے الفاظ کی گہرائی جانچ رہا تھا جبکہ ضامن اپنا سر تھام کر رہ گیا اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ علایہ کی ہاں میں ہاں ملائے یا نوفل کا ساتھ دے۔۔۔۔
*******
