Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gumaan Se Agy (Episode 5)

Gumaan Se Agy By Umme Hania

اسکا دکھ بہت بڑا تھا۔۔۔ وہ اس صدمے سے نکل ہی نا پا رہی تھی۔۔۔ اسے لگا وہ اندھی ہوگئ ہے جسے کچھ دکھائی نا دے رہا ہو۔۔۔ گویا ہر جانب محض سمیرا کی تصویر نقش ہو کر رہ گئ ہو۔۔۔ وہ جہاں دیکھتی اسے سمیرا ہی دکھائی دیتی کبھی ہستی کبھی کھلیتی کبھی اسکے ساتھ چھوٹے چھوٹے کام کرواتی۔۔۔ آنکھ لگتی تو اسے سمیرا کی ہی چیخ و پکار سنائی دیتی تو وہ ہربڑا کر اٹھ بیٹھتی۔۔۔۔ ناجانے اس ننھی جان نے دم توڑنے سے پہلے کتنی اذیت سہی ہوگئ اس نے کتنی بار ماں کو مدد کے لئے پکارا ہوگا۔۔۔۔ کیا ظالموں کو اس ننھی سی جان پر ترس نہیں آیا۔۔۔۔ اگلا سارا دن بھی اسکا مدہوشی میں سمیرا کے تصورات میں غشی کے عالم میں ہی گزرا تھا اب بھی وہ خواب میں سمیرا کی پکار پر ڈر کر اٹھی تھِی اشک ایک بار پھر سے آنکھوں سے بہہ نکلے تھے وہ وہیں گھٹنوں میں سر دیتی سسک اٹھی تھی جب ایک ڈھار سے دروازہ کھولتا آفتاب اندر داخل ہوا۔۔۔

کیا کر رہی ہو تم فاطمہ۔۔۔ مر گئ ہے سمیرا اب واپس نہیں آئے گئ اور تمہارا سوگ ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔۔۔ وہ خاصا غصے میں تھا اسنے فاطمہ کو اسکی دونوں بازوں سے پکڑتے اچھا خاصا جھنجھوڑا تھآ۔۔۔

فاطمہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے شوہر کا یہ روپ دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ تمہاری وجہ سے ہوا ہے یہ سب ۔۔۔۔

سائیں۔۔۔۔ فاطمہ کے لبوں سے سرسراتا ہوا لفظ ادا ہوا۔۔۔ ہاں تمہاری وجہ سے ہوا ہے یہ سب فاطمہ ۔۔ بیٹیوں کی ماوں کو اتنا لاپرواہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔ ہر گز نہیں۔۔۔ وہ اسکے بازو چھورٹا وہیں زمین پر بیٹھتا پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا۔۔۔

کیوں نا تم جان پائی فاطمہ کہ تمہاری بیٹی پچھلے چار پانچ گھنٹوں سے غائب ہے۔۔۔ کیوں نا تمہیں یاد رہا فاطمہ۔۔۔ کیوں تم نے تنہا اسے چلچلاتی دھوپ میں باہر بھیجا۔۔۔ کیا تم نہیں جانتی یہاں جگہ جگہ درندے گھاٹ لگائے شکار کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔۔۔

بیٹیوں کی ماوں کو اتنی غفلت زیب نہیں دیتی فاطمہ۔۔۔ باپ کا کام کمانا ہے وہ چوبیس گھںٹے گھر میں رہ کر بیٹیوں کی پہراہ داری نہیں کر سکتا یہ ماں کا کام ہے۔۔۔ پیشے کے لحاظ سے آفتاب کسان تھا جو کھیتی باڑی کرتا تھا مگر کاشت کے دنوں کے علاوہ وہ بڑھی کا کام جانتا تھا اور عام دنوں میں گاوں میں موجود آڑے پر جا کر ٹھیکے پر کام کرتا تھا وہ محنتی تھا کچھ اسکا ماننا تھا کہ اسکا رب اسے اسکی بیٹیوں کی قسمت کا نواز رہا ہے یہ ہی وجہ تھی کہ اپنے بھائی کی نسبت اسکی آمدنی دوگنی تھی۔۔۔

کم سن کم عمر اور نا بالغ بیٹی کی ہر خطا اسکی نہیں اسکی ماں کی خطا ہوتی ہے۔۔۔ وہ تو معصوم اور کچے ذہن کی مالک ہوتیں ہیں مگر تم تو سمجھ دار ہو ہر اونچ نیچ جانتی ہو

اب بھی ہوش کے ناخن لو فاطمہ سمیرا اپنی اتنی ہی زندگی لکھوا کر آئِ تھی اسے جانا ہی تھا اور وہ چلے گئ لیکن تمہارے پاس ابھی تین اور بیٹیاں ہیں۔۔۔ یہ دیکھو میرے جڑے ہوئے ہاتھ میں اپنا ایک عظیم اثاثہ کھو چکا ہوں مزید کی ہمت نہیں ۔۔۔ وہ میرے جگر کا ٹوٹہ تھی فاطمہ اسکا غم مجھے راتوں کو سونے نہیں دیتا مگر ہم اپنی زمہ داریوں سے منہ نہیں موڑ سکتے۔۔۔

بیٹیوں کی ماوں کو بیٹیوں کے معاملے میں چیل سی نگاہ رکھنی چاہیے۔۔۔ تمہاری زندگی کی پہلی ترجیح تمہاری بیٹیاں ہونی چاہیے باقی سب بعد میں۔۔۔

وہ ٹوٹا بکھرا شخص اسے کس جانب متوجہ کر رہا تھا جس کے بارے میں وہ خود سے سوچ ہی نا پائی تھی۔۔۔ اسکی کہی ایک ایک بات سچ تھی اسے آج یہ دن اسکی غفلت نے دکھایا تھا۔۔

اسنے سراسیمگی کی حالت میں ادھر ادھر دیکھتےاپنی بیٹیوں کو تلاشنا چاہا جنہیں وہ کل سے سمیرا کے غم میں نظرانداز کرتی آئی تھی۔۔۔۔

*******

رضا اور حور کی ملاقات اکیڈمی میں ٹرینینگ شروع ہونے کے دوسرے دن ہوئی تھی۔۔۔ پہلی پوزیشن پر آنے والی امیدوار کے بارے میں سب کا تجسس اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا لیکن اسکا ایک فائدہ جو رضا کو ہوا وہ یہ تھا کہ اسے دوسری پوزیشن ہر ہوتے ہوئے وہاں پہلی پوزیشن والے امیدوار جتنا پروٹوکول ملا تھا ۔۔۔ حور کی غیر موجودگی میں وہ ہر دلعزیز بن گیا تھا محفل کی جان۔۔۔ وجاہت میں وہ پہلے ہی اپنی مثال آپ والے مصرے میں پورا اترتا تھا۔۔۔ چہرے کے تیکھے مغرور نقوش اسے سینکڑوں میں ممتاز بناتے تھے ۔۔۔ وہ پہلے ہی ضرورت سے زیادہ ہنڈسم تھا مزید اسکی قابلیت سونے پر سہاگہ تھی۔۔۔

وہ اپنے کامن میں چند با اثر ترین خاندان کے سپوتوں میں سے ایک تھا۔ ۔۔ ہمیشہ سے ہی ہر جگہ نمایاں رہا تھا مگر یہاں ٹرینینگ کے دوسرے ہی روز اسکا تختہ بغیر کسی بغاوت کے دن ڈیہارے الٹا دیا گیا تھا جب حور پورے حق سے وہاں اپنی جگہ لینے آ موجود ہوئی تھی۔ ۔۔

پہلی پوزیش پر آنے والی امیدوار کے بارے میں اگر کسی کا یہ خیال تھا کہ وہ خراب اور الٹے دماغ کیساتھ وہاں آئے گئ تو حور سے ملنے کے بعد سبکی یہ غلط فہمی دور ہو گئ تھی کیونکہ وہ ایک ملنسار اور خوش مزاج لڑکی تھی۔ ۔۔ حور کی جو تصویر رضا نے اخبار میں دیکھی تھی وہ حقیقت میں اسے اس تصویر سے کہیں زیادہ خوبصورت لگی اور اخبار میں اسکی تصویر دیکھ کر وہ جس شش و پنج میں مبتلا تھا اسے اکیڈمی میں پہلی نظر دیکھتا ہی پہچان گیا تھا۔ ۔۔ ۔ یہ وہ لڑکی تھی جس کیساتھ ماضی میں اسکے تعلقات کبھی خوشگوار نہیں رہے تھے۔ ۔۔۔ آج اسے اکیڈمی میں یہاں اس مقام پر دیکھ کر اسے ایک بڑا دھچکا لگا تھا اور ایسا ہی ایک دھچکا حور کو بھی اسکی ذات کے حوالے سے لگا تھا۔۔۔ ۔ حور بھی اسے پہلی ہی نظر میں پہچان چکی تھی اور اسکا رضا کو پہلی بار دیکھ کر ٹھٹھک کر رکنا اور پھر نظر انداز کر کے آگے بڑھ جانا اس چیز کا واضح ثبوت تھا۔ ۔۔۔ وہ سوائے ایک رضا کے کامن کے ہر شخص سے بہت اچھے سے ملی تھی اور یہ ہی چیز رضا کو ناجانے کیوں مگر بہت بری محسوس ہوئی تھی۔ ۔۔

حور کی کئ خصوصیات جو وہ پہلے اسے تعصب کی نگاہ سے دیکھنے کے باعث دیکھ نہیں پایا تھا وہ اب کھل کر اس پر واضح ہونے لگی تھیں کیونکہ اب وہ آہستہ آہستہ کلاس کا فوکل پوائنٹ بنتی جا رہی تھی۔ ۔۔۔ ۔ وہ بہت کم کم پوائنٹس پر بولتی تھی مگر ان پوائنٹس پر بولتی تھی جہاں دوسرے سبھی سٹودینٹس بحث کر کر کے بغیر کسی لوجیکل اختتام کے بیٹھ جاتے تو تب وہ ان پوائنٹس پر جامع اور مفصل انداز میں یوں بولتی تھی کہ تمام الجھے ہوئے دھاگوں کو بل در بل کھول کر پلیٹ میں رکھتی انہیں یوں پیش کرتی کہ کچھ پلوں کے لئے باقی سبھی سٹودینٹس کو اپنا آپ نہایت چغد اور احمقانہ محسوس ہوتا۔ وہاں آنے والا ہر شخص اپنے اپنے علاقے اور اپنے فیلڈ میں غیر معمولی ذہانت اور بہتریں کارکردگی کا حامل تھا یوں مارکس کے لحاظ سے حور اور کامن کے باقی افراد میں کوئی خاص فرق نا تھا مگر ان سب میں جو چیز اسے سب میں ممتاز بناتی تھی وہ اسکا ہر بات کو گہرائی میں جا کر سمجھنا اور اسکا لیزر شارپ فوکس تھا۔ ۔۔۔ وہ کسی کی بھی بات کاٹ کر جذباتی انداز میں اپنے دلائل نہیں دیتی تھی بلکہ وہ بہت دیر تک سکون سے پہلے دوسروں کی بات سنتی اور پھر نہایت پرسکون انداز میں اپنی اختلاف رائے پیش کرتی تھی۔ ۔۔ کم از کم اس معاملے میں حور اپنے کامن کی باقی لڑکیوں سے بہت مختلف تھی۔ ۔۔ رضا اس لڑکی میں موجود یہ تمام صفات دیکھ انگشت بدنداں رہ گیا تھا۔ ۔۔ ۔ ایسے ہی تو وہ لڑکی اسے ناکوں چنے نہیں چبوا گئ تھی کچھ تو تھا اس میں۔ ۔۔۔ حور محض نام کی نہیں بلکہ سچ کی حور ہے یہ تبصرہ رضا نے اپنے کامن کے کسی دوسرے لڑکے کی زبانی سنا تھا اور یہ تبصرہ سن کر وہ عش عش کر اٹھا تھا۔ ۔۔۔

*****

آج موسم خاصا خوشگوار تھا سر شام ہی بادلوں نے غول در غول یوں آسمان پر قبصہ جمایا تھا کہ جاتے سورج کا اپنی کرنوں کو سمیٹنا اور اسکا میٹیالا پن سب بادلوں کے سرمئ پن میں چھپ گیا تھا۔ ۔۔ ٹھنڈی میھٹی باد صبا کے جھونکے ہر زی روح کو جھومنے پر مجبور کر رہے تھے باد صبا کے جھونکوں کے سنگ جھومتی درختوں کی شاخیں اور لہلاہاتے پتے ایک خوبصورت سماں باندھ رہے تھے۔

کمرے کی کھلی کھڑی سے باد صبا کے جھونکے اندر تک آتے وہاں خاصا پرسکون ماحول بنا گئے تھے ایسے میں جب ہاسٹل کی سبھی لڑکیاں موسم۔انجوائے کرنے باہر نکلی تھیں تو ان میں سے وہ واحد تھی جو بیڈ پر چوکری مارے سامنے دو تکیوں کو اوپر تلے رکھے ان پر لیپ ٹاپ رکھے بائیں کہنی ہائیں ٹانگ پر رکھے اور اسی ہاتھ کی ہتھیلی پر چہرا ٹکائے ہونٹ چباتی دوسرے ہاتھ کی شہادت کی انگلی کو لیپ ٹاپ کے کی پیڈ پر چلاتی نہایت منہمک سی سکرولنگ کر رہی تھی۔۔۔

آنکھوں میں واضح سوچ کی پرچھائیاں تھی وہ دماغی طور پر لیپ ٹاپ کی سکرین پر ابھرتی معلومات میں اسقدر کھو گئ تھی کہ وقتی طور پر وہ وہاں سے کٹ کر رہ گئ یہ ہی وجہ تھی کہ وہ حرا کا کمرے میں آنا اور اپنے پاس آ کر بیٹھنا محسوس ہی نا کر پائی ۔۔۔۔ حرا نے اسکا انہماک دیکھتے نظریں لیپ ٹاپ کی سکرین پر ٹکاتے اسکے انہماک کی وجہ تلاشنی چاہی اور کچھ پلوں کے لئے وہ بھی حیرت زدہ سی رہ گئ کیونکہ شمائل حسن وہاں فیسبک سے نوفل درانی کے بارے میں معلومات حاصل کر رہی تھی۔۔۔

تو اسکا مطلب ہے کہ نوفل درانی کچھ زیادہ ہی تمہارے حواسوں پر سوار ہو چکا ہے حرا ایک گہرا سانس خارج کرتی بیڈ کراون سے ٹیک لگا گئ۔۔۔

شمائل چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ حریف کو ہلکا لینے سے وہ آپ پر بازی لیجا سکتا ہے اس لئے اسے حواسوں پر سوار رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔۔۔۔ شمائل نے اپنی آنکھیں مسلتے لیپ ٹاپ شٹ ڈاون کیا۔۔۔ یہ لیپ ٹاپ بھی اسکی روم میٹ کا تھا جس سے اسکو یہ آسانی ہو گئ تھی کہ اسے جب ضرورت ہوتی وہ اسے استعمال کر سکتی تھی اور وہ زیادہ تر ہوتا بھی شمائل کے ہی زیر استعمال تھا کیونکہ اسکی روم میٹ ضحی اسے بہت کم استعمال کرتی تھی۔۔۔۔

میرا صبح سے سوچ سوچ کر برا حال ہے کہ پرنسپل کے دفتر کیا واقع رونما ہوا کہ پوری بازی ہی پلٹ گئ۔اور تم اتنی پرسکون ہو۔۔۔ یونیورسٹی میں بھی حرا نے شمائل سے ایک دو مرتبہ واقع کی بابت دریافت کرنا چاہا مگر وہ مصروفیت کا کہتی ٹال گئ اسنے پے در پے اپنی کلاسز مکمل یکسوئی سے اٹینڈ کی تھیں ۔۔۔ واپس ہاسٹل آ کر حرا کو اب اسکے پاس آنے کا وقت ملا ۔۔ حرا کے کہنے پر شمائل کے سامنے آج دوپہر کے مناظر کسی فلم کی مانند چلنے لگے تھے۔۔۔۔

******

وہ بہت ضبط سے نوفل کی الفاظی سنتی آگے بڑھی تھی اب تو شبہے کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی بلاشبہ یہ کام نوفل درانی کا تھا۔۔۔۔ وہ بہت مشکل سے اپنا اعتماد بحال کرنے کی کوشیش کر رہی تھی۔۔۔۔

مس شمائل حسن آپ نے ہمیں بہت مایوس کیا ہے ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ اتنی برائٹ سٹوڈنٹ سکالرشپ پر اس یونیورسٹی میں آنے والی طالب علم اتنا گھٹیا کام کرے گی ۔۔۔۔ آپ نے دن دہاڑے ہماری ایک قابل احترام پروفیسر کی چوری کر کے ہمیں ہمارے فیصلے پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کیا ہے ان کا اشارہ شمائل کی اسکالرشپ کی جانب تھا شمائل خاموشی سے سر جھکائے ان کی ہر بات سن رہی تھی۔۔۔۔ ہمیں نہایت افسوس کے ساتھ یہ بات کہنی پر رہی ہے کہ ہم ایسے اسٹوڈنٹس کو مزید اپنی یونیورسٹی میں زیر تعلیم نہیں رکھ سکتے اس لیے آپکو بنا وارننگ لیٹر کے یونیورسٹی سے نکالا جا رہا ہے۔۔۔ شمائل نے جھٹکے سے سر اٹھا کر نم آنکھوں سمیت پرنسپل صاحب کو دیکھا ۔۔۔۔

سر کیا مجھے اپنی صفائی میں کچھ کہنے کا موقع ملے گا اس کی آواز بھرا گئی تھی ۔۔۔ یونیورسٹی سے نکالے جانے کا تصور ہی اسے ادھ موا کیے دے رہا تھا ۔۔۔

سب کچھ آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد بھی کیا یہاں پر صفائی کی کوئی گنجائش بچتی ہے پرنسپل صاحب کا جلال دیدنی تھا ۔۔۔ بعض دفعہ آنکھوں دیکھی اور کانوں سنی بات بھی جھوٹی ہوتی ہے سر ۔۔۔ اس کے تحمل سے کہنے پر پرنسپل صاحب کئ لمحوں کے لئے اسے خاموشی سے دیکھتے رہے گویا اسکے لہجے میں موجود سچائی کا معیار جانچ رہے ہوں ۔۔۔ ۔ ٹھیک ہیں آپ کے پاس محض پانچ منٹ ہے جو کچھ کہنا ہے ان پانچ منٹوں میں ہی کہئے اور یہاں سے جائیے بالآخر پرنسپل صاحب ایک فیصلہ کرتے گویا ہوئے۔۔۔

سر آپ عمر میں مجھ سے بڑے ہیں اور آپ نے مجھ سے زیادہ دنیا دیکھی ہے زندگی کو گزارنے کا اور لوگوں کو پرکھنے کا تجربہ بھی آپ کے پاس مجھ سے زیادہ ہے ۔۔۔ تو ایسے میں آپ یہ بات بہت اچھے سے سمجھ سکتے ہیں کہ ایک عادی مجرم کبھی بھی چوری کر کے سامان اپنے پاس نہیں رکھے گا اور وہ بھی بالخصوص تب جب سامنے سے چیکنگ ہو رہی ہو اور سامان اس کے پاس ہو تو وہ کبھی بھی مطمئن ہو کر نہیں بیٹھ سکتا ۔۔۔ وہ جلد از جلد اس سامان کو اپنے پاس سے غائب کرتا اس چیز کو کسی دوسرے کے سر تھوپنے کی کوشش کرے گا اور ایسے حالات میں ایک ایسا انسان ہی مطمئن رہ سکتا ہے جس نے چوری نہ کی ہو لیکن بالکل غیر متوقع طور پر وہ چیز اس کے پاس سے نکل آئے اس کا مطلب یہی نکلتا ہے کہ اس شخص کو ٹریپ کیا گیا ہے پھنسایا گیا ہے ۔۔۔۔ آہستہ آہستہ اس کا اعتماد واپس بحال ہو رہا تھا ۔۔۔

سر اگر آپ میرے ساتھ تعاون کریں اور مجھے پانچ منٹ دیں تو میں باقاعدہ اس بات کو ثابت کر سکتی ہوں وہ ملتجانہ گویا ہوئی ۔۔۔ سر اس یونیورسٹی میں پڑھنا میرا خواب ہے اور اس خواب کی تعبیر حاصل کرنے کے لیے میں نے محاورتاً نہیں حقیقتاً دن رات ایک کئے ہیں ۔۔۔۔

ٹھیک ہے بیٹھو پر نسپل صاحب کھوجتی نگاہوں سے مسلسل اسے دیکھ رہے تھے جب اس کا ملتجانہ انداز دیکھتے ایک ٹھنڈی سانس خارج کرتے اسے بیٹھنے کو کہتے خود بھی اپنی کرسی پر بیٹھے ۔۔۔۔

*******