Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gumaan Se Agy (Episode 15)

Gumaan Se Agy By Umme Hania

شمائل کے اعصاب مفلوج ہونے لگے تھے۔۔۔ یہ کیا ہو رہا تھا اسکے ساتھ۔۔ اسکے بدن پر چیونٹیاں رینگنے لگی تھیں۔۔۔اسے لگا اسکی روح جسم کا ساتھ چھوڑ دے گئ۔۔۔ اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا بالکل ویسا ہی اندھیرا جو اسے اپنی قسمت پر چھاتا محسوس ہو رہا تھا۔

وہ بہت مشکل سے اپنے ہواس یکجا رکھے ہوئے تھی اسے ہارنا نہیں تھا۔۔

ٹھیک ہے مجھے تمہاری ڈیل منظور ہے لیکن معاوضہ میں طے کروں گی۔۔۔ اس نے تیزی سے دماغ چلاتے خود پر حاوی ہوتے عدنان کو روکنے کی سعی کرنے کی خاطر بعجلت کہا۔۔ لمحے کے ہزارویں حصے میں وہ سارے سود و زیاں کا حساب کر چکی تھی جس حالت میں نہتا وہاں پر کھڑی تھی اسے اپنا آپ کمپوز کرنے میں اور کوئی حکمت عملی اپنانے کے لیے کم سے کم بھی کچھ سیکنڈ کا وقت درکار تھا۔۔۔ شمائل کی بات سن کر جہاں عدنان کے چہرے کو ایک مکروہ مسکراہٹ نے چھوا وہیں نوفل ٹھٹھک کر سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔اسے اس لڑکی کے اتنے جلدی ہتھیار ڈال دینے کی امید نہ تھی ۔۔۔۔

تم جیسا کہو گے میں ویسا کرنے کو تیار ہوں۔۔۔ شمائل لمحوں میں خود کو کمپوزڈ کرتی مضبوط قدم اٹھاتی میکز کی جانب آئی جہاں پر اس کا بیگ اور فائل پڑا تھا۔۔۔

لیکن جیسا کہ تم نے کہا کہ ہمارا یہ عمل صیغہ راز میں رہے گا تو اس اکیڈمی میں میں ایک کلاس کے سامنے تمہارے پاس یہاں آئی ہوں تو ایسے میں یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمارا یہ عمل سے بغیر کسی کی نظروں میں آئے صیغہ راز میں رہے وہ واپس اپنی کرسی پر پرسکون ہو کر بیٹھتی اسکی جانب دیکھتی سنجیدگی سے گویا ہوئی۔۔۔

ارے میری شہزادی بس اتنی سی بات ۔۔۔تو اس کے لئے تم بے فکر رہو اس وقت یہ پوری اکیڈمی خالی ہے سوائے مینیجر کے اس وقت یہاں پر کوئی نہیں۔۔۔ وہ لڑکیاں بھی واپس جا چکی ہیں تو تمہارا اور میرا یہ عمل کسی کی نظروں میں نہیں آئے گا ۔۔۔ وہ بھی خباست سے مسکراتا وہی واپس اس کی کرسی کے سامنے میز پر آکر ٹکا ۔۔۔ لیکن یہاں اکیڈمی میں یہ سب کچھ تمہیں کچھ غیر مناسب نہیں لگ رہا اور وہ بھی مینیجر کی موجودگی میں۔۔۔ میں کیسے تمہاری باتوں پر یقین کروں کہ یہ سب صیغہ راز میں رہے گا اور باہر اسکی بھنک تک نہیں جائے گی ۔۔۔ شمائل نے چہرے کے زاویے بگھاڑتے کھل کر اپنی ناپسندیدگی ظاہر کی وہ اس وقت اس سے یوں ڈیل کر رہی تھی جیسے اس میدان کی پرانی کھلاڑی رہ چکی ہو۔۔۔

کیا تم نے مجھے اتنا ہی پاگل اور بے وقوف سمجھ رکھا ہے ۔۔۔

وہ مسکراتا ہوا اس کے پاس سے اٹھا اور سامنے دیوار کے پاس جاتے اس نے اپنے بائیں ہاتھ کا مخصوص وزن دیوار پر ڈالا تو دیوار دو حصوں میں بٹی جس میں سامنے سے ایک درمیانے سائز کا دروازہ نمودار ہوا دروازہ کھولتے ہی وہاں سے سیڑھیاں نیچے کو جا رہی تھی وہ مسکراتا ہوا واپس اس کی جانب پلٹا۔۔۔

نیچے پورا سیٹ آپ بنایا گیا ہے جہاں تم جیسی پریاں بلا ناغہ میرا دل بہلاتی ہیں اور مینجر بھی اپنا ہی بندہ ہے وہ مسکراتا ہوا پھر سے اس کی جانب بڑھا اب کے شمائل بھی کھل کر مسکراتی اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔۔ کھڑے ہوتے ہی اس نے ٹیبل سے اٹھایا کرسٹل کا گلدان پوری قوت سے عدنان کے سر پر مارا تھا جہاں سے یکدم خون کا فورا پھوٹا تھا۔۔ عدنان وہیں سر پر ہاتھ رکھتا مغلظات بکتا نیچے کو جھکا وار اس کی بے خبری میں کیا گیا تھا اسی لئے قاری ثابت ہوا تھا ۔۔۔ شمائل نے اسے سنبھلنے کا موقع دیے بنا دو تین دفعہ پھر سے پوری قوت سے گلدان اس کے سر پر مارا اور اپنا بیگ اور فائل اٹھاتی وہاں سے سرپٹ باہر کو بھاگی۔۔۔۔ وہاں سے میلوں دور بیٹھا نوفل درانی اس لڑکی کی اسقدر جرات پر حق دق رہ گیا تھا اسے پہلے ہی کچھ گڑبڑ محسوس ہو رہی تھی۔۔۔

لمحے کے ہزارویں حصے میں اس نے بیڈ سے اپنا موبائل اٹھایا اور مینیجر کا نمبر ملانا شروع کیا کیوں کہ عدنان تو خود اس وقت ہوش سے بیگانہ ہو رہا تھا ۔۔۔

وہ لڑکی عدنان کے کمرے سے نکل کر بھاگ رہی ہے اسے روکو کسی بھی صورت وہ لڑکی اکیڈمی سے باہر نہیں جانی چاہیے۔۔۔ میں بس ابھی وہاں پہنچ رہا ہوں۔۔۔

مینیجر کے فون اٹھاتے ہی وہ گویا ہوا ساتھ ہی ساتھ وہ لیپ ٹاپ پیچھے دھکیلتا بعجلت جوتا گھسیٹ کر پہنتا باہر کو بھاگا۔۔۔آج اسے ہر حالت میں اس ڈرامے کا ڈراپ سین کرنا تھا۔۔۔

اس لڑکی کو اس کی اوقات یاد دلانی تھی وہ کسی صورت اسے معاف کرنے کو تیار نہ تھا۔۔۔

فون سنتے ہی مینجر کے ہاتھ پاؤں پھولے تھے وہ بنا سوچے سمجھے عدنان کے کمرے کی جانب بھاگا لیکن اس نے جانے سے پہلے بجلی کے تمام مین سوئچ اٹھاتے لفٹ کو ناکارہ بنایا تھا۔۔۔

کمرے سے نکلتے ہی شمائل بجلی کی تیزی سے لفٹ کی جانب بھاگئی لفٹ میں سوار ہوتے ہی اس نے لگاتار گراونڈ فلور کا بٹن دباتے لفٹ کو بند کرنا چاہا لیکن ابھی لفٹ کے دروازے مکمل طور پر بند بھی نہ ہوئے تھے جب چار سو اندھیرا پھیل گیا یہ بھی اسکے لئے ایک غیبی مدد ہی تھی اگر لفٹ بند ہونے کے بعد ناکارہ ہوتی تو وہ اس میں پھنس سکتی تھی اور باآسانی انکے ہاتھ لگ جاتی۔۔۔ساتھ ہی اسے اپنے پیچھے قدموں کی آواز آنا شروع ہوئی تو وہ بنا سوچے سمجھے ڈھرکتے دل کیساتھ لفٹ سے نکلتی باہر کو بھاگئی اس وقت اسے صرف اپنی جان اور عزت بچا کر یہاں سے نکلنا تھا۔۔۔۔ وہ اس اکیڈمی میں نئ تھی آج اس کا یہاں پر دوسرا دن تھا وہ صحیح طریقے سے یہاں کے راستوں سے بھی ناواقف تھی لیکن پھر بھی وہ اندھادھند سیرھیوں سے نیچے بھاگنے لگی خاموشی اور سناٹے میں دھپ دھپ سیڑھیوں سے اترنے کی آواز گویا اس کے ہر راز کو افشاء کر رہی تھی ۔۔۔ وہ جتنی تیزی سے بھاگ رہی تھی اتنی ہی تیزی سے اپنے پیچھے آتے ایک ہیولے کو بھی محسوس کر رہی تھی۔۔۔ بوکھلاہٹ میں کبھی آگے کو بھاگتی کبھی پیچھے آتے ہوئے ہیولے کا خود سے فاصلہ ناپتی وہ پیر رپٹنے کے باعث بری طرح زمین بوس ہوئی تھی ۔۔۔۔ گرنے سے اس کے گھٹنے اور کہنیاں بری طرح چھلی تھیں براہ راست منہ زمین پر ٹکرانے سے منہ کے اندر خون کا ذائقہ گھل گیا تھا مگر وہ ہر تکلیف کو نظر انداز کرتی اسی جوش اور اسی تیزی سے اٹھی تھی۔۔۔

جلدی سے بھاگتی وہ سامنے نظر آتے ریسپشن ٹیبل کے ہیلوے کے پیچھے جا کر چھپی جب سیڑھیوں کے اختتام پر اس نے ایک ہیلولے کو رکتے اور اسے ڈھونڈتے پایا ۔۔۔

خوف وہراس سے اس کا حلق سوکھ کر کانٹا بن گیا وہ سینے ہر ہاتھ رکھے زور زور سے سانس لیتی منتشر سانسوں کو بحال کر رہی تھی ۔۔۔ یہ اتنا اندھیرا کیوں ہے یہاں اور وہ لڑکی ملی کہ نہیں۔۔۔ اندھیرے میں گونجتی اس آواز نے گویا اس کے تن مردہ سے مزید روح کھینچ لی ہو اسکا سانس حلق میں ہی اٹکنے لگا تھا ۔۔۔ اس آواز کو وہ سینکڑوں میں پہچان سکتی تھی تو گویا یہ سب کچھ نوفل درانی کی سازش تھی ۔۔۔۔

سر میں ابھی لائٹ چلاتا ہوں دراصل لفٹ نکارہ کرنے کے لئے لائٹ بند کی تھی میں نے ۔۔۔مینیجر نوفل کو وہاں موجود دیکھ بوکھلاہٹ میں ایک جانب بھاگا کچھ ہی لمحوں میں ہر جانب روشنی چھا گئی ۔۔۔شمائل مزید سمٹ کر اس ڈیسک کے ساتھ چمٹی۔۔۔۔ کہاں ہے وہ لڑکی اسے نوفل درانی کی کرحت و روبدانہ آواز سنائی دی اس کا جسم سوکھے پتے کی مانند لرزنے لگا تھا ۔۔۔

مجھے ایک منٹ دیں سر ابھی سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کرکے اس لڑکی کی لوکیشن چک کرتا ہوں کیونکہ یہ بات تو طے ہے کہ وہ لڑکی یہیں کہیں چھپی ہے ابھی اکیڈمی سے باہر نہیں نکلی وہ شخص نوافل درانی کو بتاتا سسٹم روم کی جانب بڑھا ۔۔۔ یا اللہ میری مدد کر۔۔۔ حور کی روح پھر سے فنا ہونے لگی تھی اسکا وہاں چھپے رہنا بھی موت تھا وہاں سے بھاگنا بھی موت تھا۔۔۔ چھپے رہنے کی صورت وہ لوگ جلد اسکی لوکیشن دیکھتے اسے آ دبوچتے ۔۔۔ بھاگنے کی صورت بھی بہت رسک تھا۔۔۔۔ لیکن اسے ڈوبنے سے پہلے ہاتھ پاوں تو مارنے ہی تھے۔۔۔ اسنے اپنی پوری ہمت مجتمع کی اور ان کے وہاں سے جاتے ہی وہ اندھا دھند وہاں سے بھاگتی بیرونی دروازہ عبور کر گئی صد شکر تھا کہ وہ دروازہ کھلا تھا ۔۔۔

اس کی وہاں سے غیر موجودگی اور بھاگنے کو ان لوگوں نے سکرین پر دیکھا تھا ۔۔۔

شٹ ۔۔۔وہ لڑکی نکل گئی ۔۔۔ چلو اس کا پیچھا کرنے سے پہلے عدنان کو دیکھتے ہیں وہ لوگ وہاں سے سیدھا عدنان کے کمرے کی جانب بھاگے ۔۔۔

عدنان بہت حد تک خود کو سنبھالتا آفس سے ملحقہ واش روم میں اپنے سر پر مسلسل پانی ڈالتا بہت حد تک خود کو کمپوز کر چکا تھا ۔۔۔ ابھی یہ وقت یہاں پر بیٹھ کر کچھ بھی سوچنے کا نہیں ہے عدنان تم سے ایک لڑکی قابو نہیں کی گئی تف ہے تمہاری مردانگی پر ۔۔ وہ اس کے سر پر کھڑا بنا اسکی حالات کی پرواہ کئے اپنے اندر کی کھولن نکال رہا تھا۔۔۔ عدنان نے اسے گھور کر دیکھا۔۔

اب مجھے یوں فضول میں گھورنا بند کرو۔۔۔بعجلت ایک کام کرو سب سے پہلے اپنی ڈریسنگ کرواو اور فوراً فام میں واپس آو۔۔۔کیونکہ وہ لڑکی زیادہ سے زیادہ بھاگ کر بھی اپنے ہاسٹل ہی جائے گی ۔۔۔تمہیں فوراً پلان بی پر کام کرنا ہوگا۔۔۔ اور میرے خیال سے پلان بی پہلے پلان کی نسبت زیادہ کامیاب رہے گا۔۔۔ بڑی بدنامی گرینڈ رسوائی۔۔۔ اسنے کھڑے کھڑے اگلا پلان سیٹ کیا تھا اور قہقہ لگاتا خود ہی محظوظ ہوا تھا وہ آج اسے کوئی رعایت دینے کو تیار نہ تھا ۔۔۔

آج اس ڈرامے کا ڈراپ سین ہر حالت میں ہو کر رہے گا اس کے لہجے میں ازدہوں سی پھنکار تھی ۔۔۔۔۔

******

گڑیا اپنے قول کی پکی نکلی تھی۔۔۔ اسنے خود سے کیا ہر وعدہ ایفا کیا تھا۔۔۔ اسنے خود میں پلٹے لاوے کو سمت فراہم کی تھی اور دن رات کا فرق مٹاتے اپنی پڑھائی پر اپنی جان وار دی تھی یہ۔اسکی سب کچھ بھلا کر محض اپنی پڑھائی کو ہی اپنی ترجیحات میں شامل کرنے کا نتیجہ تھا کہ آج اسنے میٹرک میں بورڈ ٹاپ کیا تھا ۔۔۔۔ اسکی کامیابی چھوٹی نا تھی۔۔۔۔ بورڈ ٹاپ کرنا بچوں کا کام نا تھا۔۔۔۔ اسکی خوشی دیدنی تھی۔۔۔ سکول میں ہر جانب اسی کے چرچے ہونے لگے تھے۔۔۔ سکول کی پرنسپل نے باقاعدہ اسے گلے سے لگاتے اسکی حوصلہ افزائی کی تھی۔۔ اپنی اسقدر کامیابی پر گڑیا کی آنکھیں بار بار نم ہو رہی تھیں۔۔ جاگتی آنکھوں سے اسنے جو خواب دیکھا تھا آج اسکی پہلی سیڑھی پر وہ قدم رکھ چکی تھی۔۔۔ سکول چونکہ سیکنڈری تھا اسی لئے میٹرک کے بعد فرسٹ ایئر کی کوچنگ کلاسز شروع ہو چکی تھیں۔۔۔

اس روز چھٹی کے وقت باپ کو اپنے رزلٹ کی خوشخبری سناتی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔ آفتاب نے نم آنکھوں سے اسے خود سے لگائے اسکا سر تھپتھپایا۔۔۔

گھر بھر میں اس خبر نے خوشی کی لہر دوڑا دی تھی لیکن لوگوں سے بھلا گڑیا کی خوشی کہاں دیکھی جاتی تھی۔۔۔

ارے فاطمہ لڑکیوں کو زیادہ نہیں پڑھانا چاہیے۔۔۔ دماغ خراب ہو جاتا ہے۔۔۔ آخر کرنا کیا ہوتا ہے انہوں نے اتنا پڑھ لکھ کر۔۔۔ رہنا تو بیٹیاں ہی یے نا یہ ڈگڑیاں لے کر بیٹا تو بن نہیں جانا۔ اور پھر کرنا تو چولہا ہانڈی ہی ہے نا اور دس جماعتیں پڑھ کر بھی برتن ہی مانجھنے ہیں تو کیا وہ بنا پڑھے نہیں مانجھے جاتے۔۔۔۔ ارے میں تو کہتی ہوں انکے لئے رشتے دھونڈ اور انہیں وقت رہتے انکے گھروں کا کر ۔۔۔ پر تو بھی بھلا کیا کر سکتی ہے منہ زور اور خودسروں کے گھر بھی بھلا رشتے آتے ہیں۔۔۔۔ حسب معمول رقیہ بروقت رنگ میں بھنگ ڈالنے وہاں آ موجود ہوئی تھی۔۔۔ اور خوب بھر بھر کر دل کی بھراس نکال رہی تھی۔۔۔ گڑیا نے خون آشام نگاہوں سے اپنی تائی کو دیکھا۔۔۔

تائی یہاں اس گاوں کے لڑکوں نے کونسے جھنڈے گاڑ لئے جو انکی مثالیں دی جا رہی ہیں یہاں آخر پانچویں میں فیل ہو کر ہر چونک میں کھڑے ہو کر آتی جاتی لڑکیوں کو تاڑنے کے ٹھیکے ہی لئے ہیں انہوں نے۔۔۔ گڑیا کے براہ راست اسکے بیٹوں پر طنز کرنے پر وہ بلبلا کر سیدھی ہوئی ۔۔۔ اے لڑکی زبان سمبھال کر بات کر۔۔۔ انہیں پانچویں فیل لڑکوں کی غلامی قبول کرتے انہیں کے گھر کے برتن مانجھنے ہیں تم لوگوں نے پر افسوس یہاں تو وہ پانچویں فیل لڑکے بھی اس گھرانے کی جانب تھوکتے نہیں جہاں یہ گزبر لمبی زبانیں لئے لڑکیاں پھرتی ہوں۔۔۔ رقیہ کے لہجے میں بھرپور تحقیر و نفرت تھی جو گڑیا کو سر تا پیر جھلسا کر رکھ گئ۔۔۔

ارے تائی آپ نا فکر نہ کریں میرے اللہ نے اس گھر کے بارے میں ایسا سوچنے والوں کے چہرے پر ٹکا کر جوتے لگانے ہیں۔۔۔ میری بہنوں کی ٹکر کا رشتہ پورے گاوں میں نہیں انکے لئے واقعی شہزادے گلفام ہی آنے ہیں اور جب انہوں نے آنا ہے نا تو ان پانچویں فیل آواراہ لڑکوں کی ماوں نے منہ میں انگلیاں دابے حسرت سے میری بہنوں کی قسمت دیکھنی ہے۔۔۔ وہ گڑیا تھی جو ناجانے کیا سوچ کر ضبط کئے بیٹھی تھی آج تائی کی جھلساتی باتوں پر وہ اندر کی ساری کھولن بنا لحاظ ملحوظ خاطر رکھے انہی پر نکال کر کمرا نشین ہوگئ تھی جبکہ پیچھے رقیہ کا مخصوص واویلہ شروع ہو گیا تھا وہ اچھے سے جانتی تھی کہ شام تک یہ بات مرچ مصالحہ لگا کر گاوں کے ایک ایک فرد تک زبان زد عام ہونی تھی۔۔

اپنے کمرے میں آتی وہ پلنگ ہر نیم دراز ہو کر لمبے لمبے سانس بھرتی خود کو کمپوز کرنے لگی۔۔۔۔ یہ بات سچ تھی زنیرا کے لئے بہت بہتریں رشتہ آیا تھا۔۔۔ اسکا باپ ٹھیکے پر لکڑی کا کام شہر کرنے جاتا تھا اسکے کام میں اتنی نفاست اور ہاتھ میں اتنی صفائی تھی کہ لوگ دور دور سے اسے اپنی کوٹھیوں اور دفتروں میں کیبنٹ اور لکڑی کا کام کروانے کے لئے بلواتے تھے۔۔۔ چھ ماہ پہلے وہ شہر ایک کوٹھی میں لکڑی کا کام کرنے گیا تھا جہاں وہ کام زیادہ ہونے کے باعث مسلسل پندرہ دن قیام پزیر رہا تھا۔۔۔ وہاں اس کوٹھی کے ڈرائیور سے اسکی اچھی سلام دعا ہوگئ تھی۔۔۔ وہاں کام مکمل ہونے کے بعد بھی جب آفتاب شہر کام کی غرض سے جاتا اس سے ضرور ملتا۔۔۔ اس ڈرائیور کا بیٹا خوبرو پڑھا لکھا اور پڑائیویٹ کالج کا پروفیسر تھا جسکے لئے انہیں ایک سلجھی ملنسار اور خوش اخلاق لڑکی کی تلاش تھی۔۔۔ اسی لئے آفتاب کے دوست نے اسکے سامنے دست سوال دراز کیا تھا آفتاب تو کتنے ہی پل ساکت رہ گیا تھا اسکے اتنی عاجزی سے زنیرہ کا ہاتھ مانگنے پر۔۔۔ اسے اور کیا چاہیے تھا بھلا۔۔۔

پچھلے ہفتے اسکے ساتھ جا کر فاطمہ اور گڑیا لڑکا دیکھ آئی تھیں۔۔۔ گڑیا کو اپنا ہونے والا بہنوئی بہت پسند آیا تھا ۔۔ سلجھا ہوا پڑھا لکھا اسکے گاوں کےلڑکوں سے بالکل مختلف جو عورت کو پاوں کی جوتی سمجھتے تھے۔۔۔ اچھے ملنسار لوگ تھے گھر بھی اچھا خاصا تھا انکا۔۔۔ وہ بھی چپکے سے آکر زنیرہ کو پسند کر گئے تھے۔۔۔ فاطمہ نے سختی سے انہیں دھندوڑا پیٹنے سے منع کیا تھا وہ بات پکی ہونے کے بعد گاوں والوں کو زنیرا کی شادی کا کارڈ ہی بھیجنا چاہتی تھی۔ مگر آج گڑیا ضبط کا دامن چھوڑتی دھکے چھپے انداز میں اپنی تائی کو بہت کچھ باور کروا گئ تھی۔۔۔

******