Gumaan Se Agy By Umme Hania Readelle50343 Gumaan Se Agy (Episode 3)
No Download Link
Rate this Novel
Gumaan Se Agy (Episode 3)
Gumaan Se Agy By Umme Hania
ہیلو گرینی۔۔۔۔ وہ تیکھے و مغرور نقوش کا مالک جسے دیکھ کر کسی شہزادے کا گمان ہوتا تھا۔۔۔ اس وقت یونیورسٹی جانے کے لئے مکمل طور پر تیار ڈائینیگ ٹیبل پر آتا جھک کر گرینی سے ملا ۔۔۔ یہ اس دنیا میں وہ واحد ہستی تھیں جن کا احترام نوفل درانی کرتا تھا۔۔۔۔
ارے میرا شہزادہ ۔۔۔ جگ جگ جیو۔۔۔ گرینی نے محبت سے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے اسکا ماتھا چوما ۔۔۔
بیٹھو ناشتہ کرو۔۔۔۔ نہیں گرینی۔۔۔۔ مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔۔ آج مجھے یونیورسٹی میں بہت اہم کام ہے۔۔۔ دعا دیں کہ آج آپکا پوتا اپنے مقصد میں کامیاب ہو۔۔۔۔ کچھ دیر پہلے والے خوشگوار لہجے میں سنجیدگی در آئی تھی چھپاک سے اس شعلہ جوالہ کا مکھرا تصور کی آنکھ میں ابھرا تو اندر ایک حشر بھرپا کر گیا تھا۔۔۔
اللہ تمہارے ہر جائز مقصد میں تمہیں کامیاب کرے۔۔۔۔ گرینی نے صدق دل سے دعا دی تھی۔۔۔۔ ڈائینیگ ٹیبل پر اس وقت سوائے ان دونوں کے کوئی نا تھا جس کا سیدھا سا مطلب یہی تھا کہ اسکے ممی اور ڈیڈی گھر نہیں تھے۔۔۔ نوفل کی ان سے ملاقات ہوئے کئ کئ دن گزر جاتے تھے۔۔۔۔ وہ گھر پر ہوتا تو اسکے والدین کے پاس وقت نا ہوتا۔۔۔۔ اگر انکے پاس وقت ہوتا تو نوفل گھر پر نا ہوتا۔۔۔۔شازو نادر ہی وہ سب اکھٹے گھر ہوتے تھے۔۔۔ اب تو یہ معمول ہی بن چکا تھا وہ سب ہی اب اس چیز کے عادی ہو گئے تھے۔۔۔ سبھی اپنی اپنی زندگیوں میں مگن تھے۔۔۔ کسی کو کسی کی زندگی سے کوئی غرض نا تھی۔۔۔
یہ آدھی ادھوری دعا مت دیا کریں گرینی۔۔۔ جائز نا جائز کیا ہوتا ہے آپ بس مجھے دعا دیں کہ میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوں۔۔۔ وہ دادی کی دعا پر چونک کر سوچوں کے بھنور سے باہر نکلا تھا ن
انکی دعا نے اسے خاصا بدمزا کیا تھا۔۔۔ دعائیں کبھی آدھی ادھوری نہیں ہوتیں نوفل۔۔۔ دعا یا تو ہوتی ہے یا ہوتی ہی نہیں۔۔۔ ناجائز مقاصد کے حصول کے لئے گڑگڑا کر مانگی گئ دعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں جیسے اگر کوئی حقدار نا ہو تو بار بار کی دی گئ بددعائیں بھی اسکا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں کیونکہ اللہ سب کا ہوتا ہے۔۔۔ اور اللہ وہ واحد ہستی ہے جس کے لئے تیرا میرا نہیں چلتا۔۔۔۔
اس کے لئے اسکے سبھی بندے برابر ہیں جیسے ایک ماں کے لئے اسکی ساری اولاد برابر ہوتی ہے۔۔۔ اللہ بھی اپنے کسی بندے کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دیتا۔۔۔
افف۔۔۔ اچھا گرینی یہ بحث اگر چلی تو بہت طول پکڑ جائیگی اسے ہم پھر کسی وقت کے لئے موقوف کرتے ہیں۔۔۔ فلحال مجھے دیر ہو رہی ہے مجھے اجازت دیں۔۔۔۔ گرینی کا اسقدر فلسفی جواب ہمیشہ کی طرح اس کے اوپر سے گزر گیا تھا۔۔۔ وہ ایک ٹھنڈی آہ بھرتا ان سے اجازت لیتا بروقت وہاں سے نکلا تھآ۔۔۔۔
********
اماں مجھے بھی بوٹی کھانی ہے۔۔۔ مجھے بھی دیں نا۔۔۔۔ سر شام ہی صحن میں دستر خواں بچھا کر بی بی خانم اپنے تینوں پوتوں سولہ سالہ شمشیر تیرا سالہ ارسلان اور دس سالہ عتیق کو بیٹھائے کھانا ڈال کر دے رہی تھی۔۔۔ آج گھر میں آلو گوشت پکا تھا اور یہ بی بی خانم کی اپنے پوتوں سے خاص الخاص محبت ہی تھی کہ وہ اس معاملے میں انکی ماں پر بھی بھروسہ نا کرتی تھی اور ایسے کسی بھی پکوان کے پکنے پر ان تینوں کو بلخصوص اپنے پاس بیٹھاتے اپنی زیر نگرانی کھانا کھلواتی تھی۔۔۔۔ اب بھی وہ بوٹیوں سے کٹوریاں بھر بھر کر ان تینوں کے سامنے رکھتی انہیں محبت سے اچھے سے کھانے کو بول رہی تھی۔۔۔ جبکہ وہ تینوں بہنیں ایک سائیڈ پر کھڑی للچائی نظروں سے بی بی خانم کے پاس پڑے سالن کو دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔ ان تینوں میں سے زنیرہ سب سے بے صبری واقع ہوئی تھی اب بھی وہ مزید خود پر ضبط نا کرتے ہونٹوں پر زبان پھیرتی بی بی خانم سے گویا ہوئی تو بی بی خانم نے اسے ان نگاہوں سے دیکھا جیسے اسے سالم نگل جانے کا ارادہ ہو۔۔۔
تم تینوں یہاں کیا کر رہی ہو منحوس ماریوں اب کیا میرے بچوں کے کھانا پر بھی نظر لگاو گئ۔۔۔
امان بھوک لگی ہے بوٹی کھانی ہے۔۔۔ زنیرہ انکے غصیلے لہجے کی کاٹ کو محسوس کئے بنا معصومیت سے کہتی مزید دو قدم آگے بڑھی۔۔۔۔ یا شاید وہ عمر ہی ایسی تھی جو لہجوں کو سمجھنے سے نا آشنا تھی مگر جو بھی تھا سمیرا اور عمیرا دونوں بی بی خانم کا بگڑا لہجہ دیکھ وہیں کھڑی کپکپا اٹھی تھیں۔۔۔ عمیرا نا محسوس انداز میں سمیرا کی جانب کھسکی جبکہ سمیرا نے بھی اسے ساتھ لگاتے اپنا اور اسکا دونوں کا ڈر زائل کرنا چاہا۔۔۔۔
جاو دفع ہو جاو یہاں سے۔۔۔ تمہاری ماں فارغ ہو گئ تو اس سے کھانا مانگنا ۔۔۔۔ بی بی خانم نے ہاتھ سے جانے کا اشارہ کرتے ماں کا حوالہ دے کر جان چھڑوائی۔۔۔
وہ تینوں ہی آس بھری نگاہوں سے ماں کے پاس کچن میں بھاگیں۔۔۔ فاطمہ نے روٹیاں بناتے ساس کی ہر بات حرف با حرف سنی تھی درمیان میں وہ آنکھ چرا کر ساس کا لال بھبھوکا چہرا اور بچیوں کا للچایا اور اترا ہوا چہرا دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ بچیوں کا للچانا اسکے دل پر گویا نشتر چلا رہا تھا۔۔
امی مزید کتنی دیر ہے ہمیں بھوک لگی ہے۔۔۔ بوٹی دو نا۔۔۔ اسکے پاس ہی کچن میں کھڑی وہ تینوں پسینہ پسینہ ہوتی یہ ہی بات کوئی دسویں بار پوچھ چکیں تھیں فاطمہ انہیں نظر انداز کرتی مسلسل لکڑیوں کے چولہے پر توی پر پے در پے روٹیاں بناتی چپکے سے کئ بار اپنے خاموش بہہ جانے والے آنسو صاف کر چکی تھی۔۔۔ وہ ایک اوپن کچن تھا جسکی چھت نا تھی محض چار دیواری کر کے اسے کچن کی شکل دی گئ تھی۔۔۔
وہ خاموش تھی کیونکہ جانتی تھی کہ بی بی خانم نے اپنی جان چھڑوانے کو ان معموم جانوں کو اسکے سر کیا تھا ورنہ ہانڈی تو ابھی تک بی بی خانم کے پاس ہی پڑی تھی۔۔۔
مزید آدھے گھنٹے بعد سب کے کھانا کھا لینے کے بعد رقیہ ہانڈی کچن میں رکھ کر گئ تو فاطمہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ بیتابانہ ہانڈی کی جانب بڑھی کہ بچیوں کو بوٹیاں دے کر کچھ اسکی بھی ٹرپتی بلکتی ممتا کو سکون ہو۔۔۔ وہ سوچ کر بیٹھی تھی کہ وہ اپنے حصے کی بوٹی بھی ان میں ہی تقسیم کر دے گی مگر ہانڈی کا دھکن اٹھاتے ہی دل دھک سے رہ گیا اس میں محض چند بچے کچھے آلو اور شوربہ ہی تھا۔۔۔ ایک آہ سی دل سے نکلی تھی۔۔۔ اسنے گم صم سے انداز میں سالن کٹوریوں میں ڈال کر بچیوں کے آگے رکھا تو سب سے پہلے اچھل کر واویلا مچانے والی زنیرہ ہی تھی۔۔۔ مجھے نہیں یہ کھانا مجھے بوٹی دو وہ اپنی موٹی موٹی معصوم آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو بھر لائی تھی۔۔۔
آج یہ ہی کھالو بیٹا میں کل آپکو بوٹیاں بنا دوں گئ۔۔۔ فاطمہ نے اسے پیار سے پچکارانا چاہا۔۔۔ مجھے نہیں کھانی اس کے ساتھ روٹی آپ خود ہی کھائیں۔۔۔ زنیرہ منہ بسورتی ہاتھ کی پشت سے آنسو رگڑتی وہاں سے اٹھ کر بھاگ گئ تھی سمیرا نے واویلا نہیں مچایا تھا مگر موٹے موٹے آنسو اسکی بھی آنکھوں میں بہنے کے لئے مچل رہے تھے چھوٹی بہن کی پیروی کرتی وہ بھی کھانا چھوڑتی باہر نکل گئ تھی اب اسکے پاس محض عمیرا ہی کھڑی رہ گئ تھی وہ بھی دونوں بہنوں کی دیکھا دیکھی باہر جانا چاہتی تھی مگر چھوٹی ہونے کے باعث فاطمہ نے اسے بہلا لیا تھا اور اب اسے گود میں بیٹھائے آنسو پیتی اسے کھانا کھلا رہی تھی۔۔۔۔
گڑیا کے رونے کی آواز پر وہ اسے گود سے اتارتی اندر کی جانب بھاگی۔۔۔
رات کو آفتاب گھر آیا تو عمیرا سو چکی تھی جبکہ سمیرا اور زنیرہ ماں سے ناراضگی کے باعث چھت پر جانے والی سیڑھیوں پر بیٹھیں کھیل رہی تھیں۔۔۔
اے فاطمہ آفتاب کے لئے روٹی لا۔۔۔ صبح سے تھکا ہارا گھر آیا ہے۔۔۔
آفتاب حسب معمول گھر آ کر ماں کے پاس ہی تخت پر بیٹھا جب بی بی خانم نے فاطمہ کو آواز لگائی۔۔۔ وہ پہلے ہی گڑیا کو سلا کر آفتاب کے لئے کھانا لانے کی غرض سے کچن میں جا چکی تھی ساس کی آواز پر مزید ہاتھوں میں تیزی در آئی۔۔۔
جب تک آفتاب ہاتھ دھو کر واپس آیا فاطمہ تخت پر ہی اسکا کھانا لگا چکی تھی۔۔۔ بی بی خانم نے پاس ہی رکھا بوٹیوں سے بھرا کٹورا اٹھا کر آفتاب کے سامنے رکھا تو بے ساختہ فاطمہ کا دل بھر آیا۔۔۔
بچیوں نے کھانا کھایا۔۔۔۔ آفتاب نے پہلا نوالا توڑنے سے پہلے فاطمہ کی جانب دیکھتے استفسار کیا۔۔۔ ارے پیٹ بھر کر کھا کے بیٹھی ہیں میں نے خود اپنے پاس بیٹھا کر کھلایا ہے انہیں اب بس تیرا ہی حصہ پڑا ہے۔۔۔ تو کھا میرا بچہ۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ فاطمہ کوئی جواب دیتی بی بی خانم چاپلوسانہ انداز میں گویا ہوتی بیٹے کے سر پر ہاتھ پھیرتی اسے کھانے کو اکسانے لگی۔۔۔
فطمہ کا جی بھر کر مکدر ہوا اور وہ بنا کسی بحث کے بھاری دل سے وہاں سے پلٹ آئی۔۔۔
سمیرا۔۔۔ زنیرا۔۔۔ عمیرا۔۔۔ آفتاب کی آواز لگانے پر سیڑھیوں پر بیٹھ کر کھیلتی وہ دونوں اپنا کھیل وہیں چھوڑ چھاڑ بھاگ کر باپ کے پاس پہنچی۔۔۔
ابا مجھے بھی بوٹی کھانی ہے۔۔۔ آفتاب کے انہیں پیار کر کے پاس ہی بیٹھانے پر زنیرہ نے اپنے معصوم ہاتھوں سے باپ کا چہرا اپنی جانب کرتے اسے متوجہ کرنا چاہا۔۔۔
ارے بیٹا انکی بات نا سن تو۔۔۔ یہ تو کھا چکی اب باپ کے بھی حصے پر بھی نظریں جمائے بیٹھی ہیں نگوڑ ماریاں۔ ۔ بی بی خانم دانت پیستی گویا ہوئی۔۔۔
کوئی بات نہیں اماں۔۔۔ آفتاب نے نوالے تورٹے باری باری ان دونوں کے منہ میں ڈالنے شروع کئے تو خانم بی بی تن فن کرتی وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔ ان کے لئے اب یہ منظر ناقابل برداشت تھا۔۔۔
آفتاب نے ان دونوں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا اور انکے ماتھے کے بوسے لیتا اب خود بچے ہوئے شوربے سے کھانا کھانے لگا تھا۔۔۔
دور کھڑی فاطمہ نے نم مگر مسکراتی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا تھا۔۔۔۔
*******
آج ہاسٹل سے یونیورسٹی کی جانب جاتے ناجانے کیوں اسکا دل اسقدر گھبرا رہا تھا۔۔۔ وہ بار بار اسے اپنا وہم گردانتی بارہا جھٹلا چکی تھی مگر ناجانے دل کو کیسی بے چینی لگ چکی تھی جو سمجھ سے بالاتر تھی۔۔۔
آج حرا بھی خرابی طبیعت کے باعث اس کیساتھ یونیورسٹی نہیں جا رہی تھی۔۔۔ وہ سب کچھ اللہ پر چھوڑتی درود شریف کا ورد کرتی یونیورسٹی کی جانب رواں تھی۔۔۔ اسکا ماننا تھا کہ کوئی بھی پریشانی یا مشکل اللہ کی جانب سے ہوتی ہے تو ایسے میں مدد بھی محض اسی سے طلب کرنی چاہیے۔۔۔ ہاسٹل سے یونیورسٹی کا فاصلہ پیدل بامشکل پانچ منٹ کا تھا اس لئے وہ پیدل ہی یونیورسٹی جا رہی تھی۔۔۔
یونیورسٹی میں سب کچھ صحیح تھا اسکا سامنا آج نوفل درانی سے بھی نہیں ہوا تھا۔۔۔ دو کلاسز اٹینڈ کر لینے کے اب وہ زرا خود کو بہلا سکی تھی لیکن تیسری کلاس کے دوران ایک عجیب سی ہربونگ مچ گئ تھی۔۔۔ انکی پروفیسر ایک نفیس سی خاتون تھی۔۔۔ پروفیسر صبیحہ۔۔۔۔ اس وقت پریشانی انکے چہرے سے ہوادیدہ تھی۔۔۔ دو لڑکیوں سمیت پرنسپل صاحب خود وہاں تشریف لائے تھے۔۔۔۔
تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوتے شمائلہ نے معاملے کی اصل وجہ جانی چاہیے ۔۔۔
Respected students…
جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ پروفیسر صبیحہ ہماری بہت قابل احترام اور معزز پروفیسر ہیں ۔۔ لیکن ناقابل فہم طور پر ہمیں یہ دشواری پیش آئی ہے کہ گزشتہ آدھے گھنٹے کے دوران پروفیسر صبیحہ کا ڈائمنڈ بریسلیٹ انکے بیگ سے غائب ہے۔۔۔
ہم کسی پر شک نہیں کر رہے لیکن حالات کا تقاضہ یہی ہے کہ اب ہمیں نا چاہتے ہوئے بھی سبھی طالب علموں کی تلاشی لینی ہوگی کیونکہ اب یہ ناگزیر ہو چکا ہے ۔۔۔
لہذا امید ہے کہ آپ سب ہمارے موقف کو سمجھیں گے اور ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے پرنسپل صاحب نے نہایت مودبانہ انداز میں اپنا مدعہ کلاس کے سامنے بیان کیا ۔۔۔۔
پرنسپل صاحب کے ساتھ آئیں دونوں لڑکیاں آ کر کلاس کے سبھی طالبعلموں کی تلاشی شروع کر چکی تھی ۔۔۔
پہلے ہی رو میں پانچویں نمبر پر شمائل بیٹھی تھی لڑکیوں کو اپنی جانب بڑھتا دیکھ اس نے بھرپور تعاون کرتے اپنا بیگ اٹھا کر خود ہی تلاشی کیلئے ان کی جانب بڑھایا تھا۔۔۔۔
کچھ دیر کی تلاشی کے بعد جب اس لڑکی نے اس کے بیک کی بیرونی زپ سے وہ ڈائمنڈ بریسلیٹ باہر نکالا تو وہاں موجود ہر نفوس کو جیسے سانپ سونگھ گیا ۔۔۔
حیرت زدہ تو شمائل خود بھی رہ گئی تھی یہ سب کیا ہوا تھا اور کیسے ہوا تھا لمحوں میں اس کا ذہن کہاں کہاں نہ پرواز کر گیا تھا ۔۔۔۔
دوسری کلاس کے بعد وہ تیسری کلاس لینے کے لئے اس کلاس میں آئی تھی ۔۔۔ کلاس میں آتے ہی اس نے اپنا بیگ۔ وہاں رکھا اور خود بھی بیٹھنے ہی والی تھی جب دو لڑکیاں اس کے پاس آئیں وہ ان لڑکیوں کو نہیں جانتی تھی وہ لڑکیاں اس سے اسائنمنٹ کے بارے میں باتیں کرتی اسے کلاس روم سے باہر تک لے گئی تھی یہ ایک نارمل بات تھی جیسے کوئی کلاس میٹ اس سے کسی چیز کے بارے میں پوچھ رہا ہو۔۔۔
وہ محض چار سے پانچ منٹ تک ہی کلاس سے باہر رہی تھی مطلب جو واردات ہوئی تھی وہ انہیں چار سے پانچ منٹوں کے درمیان ہی ہوئی تھی ۔۔۔۔
او میرے خدا شمائل کا سر چکرانے لگا تھا وہ اتنی لا پروائی کیسے بھرت سکتی تھی ۔۔۔۔ حرا کی سب بھی باتیں درست تھی کے سمندر میں رہتے ہوئے مگرمچھ سے بیر نہیں پالا جاتا ۔۔۔۔ سب کچھ جانتے بوجھتے وہ اس قدر لاپروا کیوں ہوگئی ۔۔۔
حرا کے تمام بدترین خدشات حقیقت کا روپ دھارے اس کے سامنے آن کھڑے ہوئے تھے ۔۔۔ گویا صبح سے گھبراتے بے چین دل کی وجہ اسے اب سمجھ میں آئی تھی ۔۔۔ سب طالب علم اس پر جملے کسنے لگے تھے وہاں چہ مگوئیاں ہونے لگی تھیں۔۔۔
لمحے میں شمائل کی آنکھیں نم ہو اٹھی تھیں۔ ۔۔۔ بے بسی سی بے بسی تھی ۔۔۔ ذلت و رسوائی اس کے سامنے پورے قد سے آن کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔
مس شمائل آپ آفس میں پہنچیں آپ سے بات کرنی ہے پرنسپل صاحب سنجیدگی سے گویا ہوتے پروفیسر صبیحہ کے ساتھ وہاں سے نکل گئے تھے
جب کہ شمائل بھی تھوک نگلتی مرے مرے قدم اٹھاتی ان کے پیچھے ہی کلاس سے باہر نکلی۔۔۔۔
کلاس سے نکلتے ہی اس کا پہلا ٹاکر ہی نوفل درانی سے ہوا تھا جو سامنے ہی دیوار کے ساتھ ایک ادا سے کھڑا فاتحانہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
مٹھیاں بھینچتے شمائل نے خود کو نوفل سے کچھ سخت سست کہنے سے روکا ۔۔۔۔ آنکھیں جھپک جھپک کر اس نے اپنے آنسوؤں کو بہنے سے روکنے کی کوشش ۔۔۔۔
یہ رئیس زادہ اس کا مستقبل بری طرح سے داؤ پر لگا چکا تھا ۔۔۔۔
Good bye sweet girl…
نوفل کے قریب سے گزرتے اس نے نوفل کے شوخ لہجے میں کسا فقرا سنا تو خون کے گھونٹ پی کر رہ گئ۔ ۔۔ ابھی وہ بے بس تھی۔ ۔۔ ابھی وقت اس وقت کے فرعون کا تھا تو مصلحت کا تقاضا یہ ہی تھا کہ ابھی خانوش رہا جاتا۔
*********
