Gumaan Se Agy By Umme Hania Readelle50343 Gumaan Se Agy (Episode 7)
No Download Link
Rate this Novel
Gumaan Se Agy (Episode 7)
Gumaan Se Agy By Umme Hania
آج فاطمہ کی طبیعت صبح سے ہی کچھ بوجھل بوجھل تھی جس کے باعث وہ بعجلت اپنے کام مکمل کرتی کچھ دیر آرام کرنے کی غرض سے لیتی تھی لیکن لیٹتے ہی وہ خود سے غافل ہوتی نیند کی وادیوں میں اتر گئی۔۔۔
کچھ دیر کی نیند لینے کے بعد وہ یکدم ہر بڑا کر اٹھی تھی۔ ۔۔۔ نہ جانے کیسی گھبراہٹ اور بے چینی تھی جس نے دل کا احاطہ کیا تھا ۔۔۔ اسنے بے چین نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا گڑیا اور عمیرا اس کے پاس ہی محو استراحت تھی جب کہ زنیرا کمرے میں کہیں نہ تھی زنیرا کو وہاں کمرے میں موجود نا پا کر اس کا دل دھک سے رہ گیا ۔۔۔۔ کہاں گئ زنیرہ۔ ۔۔۔بدترین خدشات کے ناگ ذہن میں سر ابھارنے لگے تھے۔۔۔ لمحے کی تاخیر کیے بنا وہ بستر سے اتری اور حواس باختہ سی ننگے پاؤں ہی کمرے سے باہر بھاگی۔ ۔۔ باہر چلچلاتی دھوپ اور دوپہر کے باعث ہر ذی روح اپنے اپنے کمروں میں محو استراحت تھا ایک مرتبہ پھر سے وہی منظر دیکھ کر اس کا دل کرلا اٹھا تھا وہ متوحش نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھتی زنیرا کو تلاش رہی تھی جب اٹاری کے پیچھے بنے چھوٹے سے لکڑیاں جمع کر کے رکھنے والے کمرے سے اسے کسی کی کن من کی آوازیں آئیں ۔۔۔ پے در پے اعصاب شکن حالات و واقعات سے گزرتے اس کی حسیات پہلے ہی بہت تیز ہو چکی تھیں لمحوں میں آواز کےتعاقب میں وہ اس کمرے کے سامنے گئ۔۔۔ اندر کا منظر دیکھ کر گویا جیسے کسی نے اسکے جسم سے ایک ہی جھٹکے میں روح کھینچ لی ہو ۔۔۔ اس کی آنکھیں اس منظر پر یقین کرنے سے انکاری تھی ۔۔۔ اندر رقیہ کا سب سے بڑا بیٹا شمشیر عمیرا کو اپنی گود میں بٹھائے چاکلیٹ کھول کر دے رہا تھا لیکن اس کا دوسرا ہاتھ بری طرح سے اس کے پورے جسم پر سرایت کر رہا تھا اس کی آنکھوں سے ٹپکتی ہوس و درندگی دیکھ فاطمہ تھرا گئ تھی۔۔۔
زنیرہ۔۔۔۔ تم یہاں کیا کر رہی ہو غم و غصے سے اس کی آواز پھٹ پڑی تھی ۔۔۔۔ آواز پر جہاں زنیرا اچھلی وہیں پر شمشیر کے چہرے کی رنگت بھی فق ہوئی تھی۔۔۔ امی وہ شمشیر بھائی مجھے چاکلیٹ دے رہے تھے زنیرہ معصومیت سے کہتی ماں کے سامنے آئیں تو وہ ایک جھٹکے میں اس کی معصوم بازو کو جھکڑتی کہر آلود نگاہوں سے شمشیر کو دیکھتی اسے کھینچتی ہوئی کمرے میں لے کر آئی۔۔۔
کمرے میں لا کر زنیرہ کا ہاتھ چھوڑتی وہ اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپاتی سسک سسک کر رو دی تھی اس کا دل ابھی تک سوکھے پتے کی مانند کانپ رہا تھا ۔۔۔۔ جو منتظر وہ دیکھ کر آئی تھی وہ اس کے لیے ناقابل یقین تھا اسے باہر کی دنیا سے نہیں سب سے پہلے اپنے گھر کے بھیڑیوں سے اپنی بچیوں کو بچانا تھا ۔۔۔۔ یہ سوچ کر ہی اس کی روح کانپ اٹھتی تھی کہ اگر وہ کچھ لمحے مزید لیٹ ہو جاتی یا سوتی رہ جاتی تو اس کی معصوم بیٹی کا کیا ہوتا واقعی بیٹیوں کی ماں کو اتنی غفلت زیب نہیں دیتی۔۔۔ بے بسی کے آنسو متواتر اس کا چہرہ بھگو رہے تھے ۔۔۔ وہ سنجیدگی سے اپنے اور اپنی بچیوں کے مستقبل کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔۔۔ وہ اس گھر میں اپنا اور اپنی بچیوں کا مقام اچھے سے جانتی تھی ۔۔۔ اگر وہ اس بات کو کھولتے شمشیر کی شکایت اس کی ماں یا اپنی ساس کے سامنے لگا بھی دیتی تو وہ جانتی تھی کہ کوئی اس کی بات پر یقین نہیں کرنے والا تھا۔۔۔ خانم بی بی کو اپنے پوتے پوری دنیا سے زیادہ عزیز تھے عین ممکن تھا کہ وہ فاطمہ کو ہی غلط قرار دیتی اسے ہی چار باتیں سنا دیتی ۔۔۔۔ زندگی مزید مشکل سے مشکل ترین ہوتی جا رہی تھی۔ ۔۔ باہر کے بھیڑیوں سے بچنا تو پھر بھی کچھ آسان تھا لیکن چوبیس گھنٹے گھر میں نقب لگائے بیٹھے بھیڑیوں سے بچنا اسے دنیا کا سب سے مشکل ترین کام لگا۔۔۔ لیکن ان سب چیزوں کے باوجود وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بھی نہیں بیٹھ سکتی تھی۔۔۔ زنیرہ ادھر آؤ میرے پاس بیٹا اسنے اپنے آنسوؤں کو ہاتھ کی پشت سے رگڑ کر صاف کرتے اپنے پاس کھڑی ہراساں سی زنیرہ کو بلایا ۔۔۔
بیٹا میری بات غور سے سنو ۔۔۔ کچھ سوچتے ہوئے وہ گویا ہوئی اسے سب سے پہلے اپنے اور اپنی بیٹیوں کے درمیان اعتماد کی ایک فضا قائم کرنی تھی تاکہ اس کی بچیاں بلا جھجھک اس سے اپنا کوئی بھی مسئلہ شیئر کر سکتیں۔۔۔۔
بیٹا آپ نے آج سے اکیلے باہر نہیں جانا اگر آپ دکان سے بھی کوئی چیز لینے گئی تو آپ نے عمیرا کے ساتھ جانا ہے اور ساتھ ہی واپس آنا ہے۔۔۔
دوکان پر بھی آپ نے زیادہ دیر نہیں رکنا راستے میں آپ کو اگر کوئی بلائے تو آپ نے کسی کی بات نہیں سننی نہ ہی راستے میں اگر آپ کو کوئی کچھ کھانے کو دے تو آپ نے کچھ لے کر کھانا ہے اس کے باوجود اگر کوئی زبردستی آپ کو کوئی چیز کھانے کو دے تو آپ نے وہیں پر شور مچا دینا ہے ۔۔۔ اگر کوئی بھی آپ کے چہرے پر پیار کرے یا اپنے ساتھ لگائے تو آپ نے اسے دھکا دیتے ہوئے پیچھے ہٹانا ہے اس شخص کے پاس نہیں رکنا اور امی کے پاس آکر امی کو سب کچھ بتانا ہے ٹھیک ہے بیٹا ۔۔۔ وہ نہایت نرمی اور محبت سے اسے گود میں بیٹھائے اسکے بال سہلاتی آسان لفظوں میں اس کے ننھے سے ذہن کی برین واشنگ کر رہی تھی۔۔۔
زنیرہ معصومیت سے ماں کی باتیں سنتی سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔ فاطمہ نے بیٹی کے معصوم سے چہرے کو دیکھتے اسے کھینچ کر خود میں بھینچا
*******
ایک عجیب سی قنوطیت اور بیزاری رضا کا احاطہ کیے ہوئے تھی اور وجہ ہمیشہ کی طرح حور ہی تھی ۔۔۔ وہ دن با دن اکیڈمی میں چھاتی جا رہی تھی ہر کسی کی زبان ہر حور ہی کا نام تھا۔۔۔۔ اس کی بیزاری کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ حور کے باعث پس منظر میں جا رہا تھا یا حور اکیڈمی میں اس سے اگلے درجے پر مسلسل قائم تھی بلکہ اس کی بیزاری کی وجہ حور کو لے کر اس کے مسلسل بدلتے جذبات تھے۔۔۔۔ اگر ان دونوں کے درمیان موجود ماضی کے تلخ حالات و واقعات کی آہنی دیوار کو پاٹنے کی کوشش رضا نے نہیں کی تھی تو ایسی کوئی کوشش حور نے بھی نہیں کی تھی ۔۔۔ اس کامسلسل رضا کو نظر انداز کرکے کامن کے ہر دوسرے شخص سے بات چیت کرنا اور علیک سلیک بڑھانا رضا پر مسلسل قنوطیت اور بیزاری پیدا کر رہا تھا۔۔۔
وہ خود ہی اپنی اس بدلتی کیفیت سے بہت پریشان تھا بھلا وہ لڑکی اس کے لیے اتنی اہمیت کی حامل کب سے ہوگئی تھی جس کا نظر انداز کرنا اس پر اثر انداز ہو رہا تھا ۔۔۔
دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس نا قابل تسخیر شخص نے اپنی انا کو قدموں تلے کچلتے زندگی میں پہلی مرتبہ خود سے کسی کی جانب قدم بڑھاتے اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہا تھا گو کہ ماضی کے حالات و واقعات کے بعد یہ خاصا مشکل ترین امر تھا لیکن اب یہ کرنا ناگزیر ہوچکا تھا۔۔۔
ہیلو ۔۔۔۔اپنے بدلتے جذباتوں کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس روز اس نے حور کو میس کی جانب جاتے دیکھ اس کے پاس آتے خود سے اسے مخاطب کیا۔۔۔۔۔
ہیلو۔۔۔ حور نے نارمل انداز میں جواب دیا حور کو لے کر اگر اس کے دل میں کوئی غلط فہمی تھی کہ وہ اس سے اس کے ماضی کے حوالے سے یا اس کے حور کیساتھ ماضی میں روا رکھے جانے والے ناروا سلوک کے حوالے سے کوئی طعنہ دے گی یا اس سے بات نہیں کرے گی تو وہ حور کے مثبت رویے کے باعث دور ہوگئی تھی ایک پل کیلئے تو اسے گمان گزرا کے شاید حور نے اسے پہچانا ہی نہیں مگر اگلے ہی پل وہ اسکے پچھلے رویے کو یاد کرتے اور اسکے مسلسل خود کو نظر انداز کرنے کے عمل کو یاد کرتا خود ہی اپنی سوچ کو جھٹک چکا تھا۔۔۔۔ رضا کے اس ابتدائی قدم سے یہ ہوا تھا کہ ان کے درمیان رسمی بات چیت کا سلسلہ جاری ہو گیا تھا وہ کامنز کے لحاظ سے آپس میں بات چیت کرنے لگے تھے اور یہ ایک خوش آئند ہ بات تھی ،۔۔ابھی تو رضا اس لڑکی سے اپنے دل کے جذبات شیئر کرنے سے بھی ڈرتا تھا کیونکہ ماضی میں وہ جو اس کے ساتھ کر چکا تھا اس کے بعد قوئی امکان تھا کہ وہ اس کے جذبات کو اس کے منہ پر مارتی پھر سے اس سے قطع تعلق کر لیتی ۔۔۔ ابھی اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ ان کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری ہوگیا تھا باقی وہ اچھی امید پر قائم تھا کہ شاید وہ اس پیاری سی لڑکی کے دل پر نقش اپنے برے اثرات کو مٹانے میں کامیاب ہو پاتا جو فلحال اسے ناممکن ہی لگ رہا تھا۔
******
رات بھر وہ اپنے کام میں مصروف خاصی دیر سے سوئی تھی اور اسی لیے وہ صبح اٹھنے میں تاخیر کا شکار ہو گئی تھی جس کے باعث اب وہ یونیورسٹی کے لیے لیٹ ہوتی بعجلت بنا ناشتہ کیے ہاسٹل سے نکلی تھی یونیورسٹی پہنچتی وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتی اپنی کلاس کی جانب بڑھ رہی تھی جب ایک دم ہی نوفل درانی اس کے سامنے آتا اس کا راستہ روک گیا ۔۔۔ شمائل اسے حیرت سے دیکھ کر رکی کیونکہ اگر وہ مزید ایک قدم بھی اٹھاتی تو سیدھا اس کے سینے سے جا ٹکراتی۔۔۔
ایسا پہلی بار ہوا تھا جب نوافل درانی نے اس کا راستہ روکا تھا اسی لیے یہ بات اس کے لئے خاصی حیرانی کا باعث تھی۔ ۔۔ راستہ چھوڑو میرا مسٹر وہ ماتھے پر بل ڈالتی نخوت سے گویا ہوئی اور اس لڑکی کا یہی اٹیٹیوڈ اور دبنگ انداز نوافل درانی کو اسکے مد مقابل آنے پر اکساتا تھا۔ ۔۔ نہ چھوڑوں تو وہ اس سے چڑانے کے انداز میں دونوں ہاتھ سینے پر باندھنا گویا ہوا ۔۔۔
مقصد کیا ہے تمہاری ان چھچھوری حرکتوں کا۔۔۔ وہ بہت مشکلوں سے خود پر ضبط کیے کھڑی تھی ورنہ دل تو چاہا تھا کہ لمحوں میں اس رئیس زادے کا چہرہ بگاڑ کر رکھ دیتی۔۔۔۔
دیکھو لڑکی مجھے بات گھما پھرا کر کرنے کی عادت نہیں ہے سیدھی اور کھری بات کرنے کا عادی ہوں۔ ۔۔نوفل نے اپنے بائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے اپنا ماتھا کھرچہ۔ ۔۔ اور سیدھی سی بات یہ ہے کہ مجھے تم سے خاصی چڑ ہو چکی ہے اور مجھے جس سے چڑ ہو جاتی ہے پھر جب تک میں اس کو تباہ و برباد نہ کر دوں تو مجھے سکون نہیں ملتا تو میں تمہیں نہایت نرمی اور آرام سے وارن کر رہا ہوں کہ تمہارے حق میں بہترین بات یہ ہی ہے کہ تم عزت سے اس یونیورسٹی کو چھوڑ کر چلی جاؤ کیونکہ میں مزید تمہارا چہرہ اس یونیورسٹی میں برداشت نہیں کر سکتا ۔۔ ورنہ دوسری صورت اگر تم اپنی ضد پر اڑی رہی تو بہت جلد تمہیں ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑے گا۔۔۔ کیونکہ نوفل درانی کو تمہاری شکل سے بھی نفرت ہے وہ شمائل کی آنکھوں میں دیکھتا بہت ٹھنڈے لہجے میں اندر کی کھولن نکالتا گویا ہوا۔ ۔۔
تم مسٹر ایکس وائے زید۔ ۔۔۔تمہیں اتنی خوش فہمی میں مبتلا ہونے کو کس نے کہہ دیا کہ اگر تمہیں مجھ سے نفرت ہے تو میں تم پر مری جا رہی ہوں۔۔۔ عجیب تحقیرانہ انداز تھا جو نوافل درانی کو آگ ہی لگا گیا ۔۔۔ اور تمھیں یہ کس نے کہہ دیا کہ میں تمہاری گیدڑ بھبکیوں سے ڈر جاؤں گی ۔۔۔
تمہارا تو وہ حشر کروں گا کہ آئینے میں اپنی شکل دیکھنے سے ڈر جاو گئ۔ ۔۔ نوافل کی آنکھوں میں اس لڑکی کی بد زبانی کے باعث خون اتر آیا تھا ۔۔۔کانفیڈنس اچھا ہوتا ہے مسٹر مگر اوور کانفیدینس وہاں لیجا کر مارتا ہے جہاں پانی تک نصیب نہیں ہوتا۔ ۔۔ شمائل بھی بنا لحاظ کے لفظ چبا چبا کر گویا ہوئی۔ ۔۔۔
تم جیسے لوئر مڈل کلاس لڑکیوں کو اپنی اوقات نہیں بھولنی چاہیے یوں لمحوں میں مسل کر رکھ دونگا تمہیں۔ ۔۔وہ چٹکی بجاتے شعلے برساتی نگاہوں سے اسے دیکھتا تنفر و نفرت سے گویا ہوا۔ ۔۔ اور تم جیسے امیر باپ کی بگڑی اولاد کو باپ کے پیسے پر مان کرتے خدائی دعویٰ کرنے سے پہلے فرعون کے موجودہ حالات نہیں بھولنی چاہیے۔ ۔۔۔ وہ بھی شمائل حسن تھی ادھار رکھنا جس نے سیکھا ہی نا تھا اسی کے انداز میں ہاتھ سینے پر باندھتی اس کی آنکھوں میں دیکھتی چیلنجنگ انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
بہت پچھتاؤ گی تم لڑکی۔ ۔ تمہیں منہ چھپا کر خودکشی کرنے پر مجبور نہ کر دیا نہ تو کہنا کہ میرا نام نوفل درانی نہیں۔۔۔
یہ تو وقت ہی بتائے گا نوفل درانی کہ کون منہ چھپانے پر مجبور ہوتا ہے۔۔۔ اس لڑکی کا منہ زور نداز اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے چیلنج کرنا اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونا ہر بات پر ٹکرا توڑ جواب دینا اسے جلد از جلد اس کے ساتھ کچھ غلط کرنے پر اکسا رہا تھا ۔۔۔
اور آج کے بعد تو اب بات عزت پر آ چکی تھیں اور اسے اس دو کوڑی کی لڑکی کو بتانا تھا کہ آخر اس کی اوقات ہے کیا۔ ۔۔ وہ ایک مصمم ارادہ کرتا وہاں سے گیا تھا ۔۔۔
*****
ہے پرنسیس تمہارے لئے ایک خوشخبری ہے ۔۔۔ شمائل نے پہلی دو کلاسسز نہایت خراب موڈ کے ساتھ لی تھیں وہ پہلے ہی صبح لیٹ ہو چکی تھی مزید کسر نوفل درانی سے ٹکراو نے پوری کر دی تھی ۔۔ اب بھی وہ اگلی کلاس سے پہلے کچھ دیر تک اپنے دماغ کو پرسکون کرنے کے لئے کینٹین میں آئی تھی جب اس کے پیچھے ہی آتی حرا اپنی کتابوں کو میز پر پٹختے دھپ سے اس کے ساتھ ہی کرسی پر بیٹھتی گویا ہوئی۔ ۔۔
ہمم۔ ۔۔ کیا بات ہے۔ ۔ وہ جیسے کسی گہری سوچ سے ابھری تھی۔ ۔۔ وہ بعد میں بتاتی ہوں پہلے تم بتاو ہوا کیا ہے ۔۔۔ حرا اسے ذہنی طور پر غیر حاظر پا کر سیدھی ہو کر بیٹھی ۔۔۔ کچھ نہیں تم بتاو۔ ۔
بس تمہاری یہ ہی حرکتیں مجھے اچھی نہیں لگتی شمائل۔ ۔۔ سب کچھ اپنے اندر ہی چھپائے رکھتی ہو ایک میں ہی ہلکان ہوتی رہتی ہوں تمہارے پیچھے۔ ۔۔ ورنہ تم تو شاید مجھے دوست ہی نہیں سمجھتی۔ ۔۔ حرا لمحوں میں برا مناتی منہ بنا کر کرسی سے اٹھتی کتابیں سمیٹنے لگی ۔ ۔۔ اچھا بیٹھو تو بتاتی ہوں۔ ۔۔ شمائل نے ہار مانتے اسکا بازو کھینچ کر اسے کرسی پر بیٹھایا اور مختصراً اسے اپنے اور نوفل کے ٹکراو کے متعلق بتایا۔ ۔۔
شمائل تمہیں میں نے بتایا تھا نا کہ وہ اچھا انسان نہیں ہے تمہیں اس سے دور رہنا چاہیے خدارا تم اس سے ایکسکیوز کر کے معاملہ رفع دفع کرلو ۔۔۔ لمحوں میں حرا گھبرا اٹھی تھی۔۔۔
اچھا۔ ۔۔ اب اس گھٹیا شخص سے ڈر کر بنا غلطی کے اس سے ایکسکیوز کر لوں۔ ۔ کل اس جیسا سر پھر کوئی اور آجائے تو اس سے ایکسیوز کر لوں اور پرسوں ایسا ہی کوئی اور آ جائے۔ ۔۔ مطلب پوری زندگی میں بنا غلطی کے ایکسکیوز ہی کرتی رہوں۔۔۔ ہے نا۔ ۔۔ وہ میز پر تھوڑا سا آگے کو جھکتی تلخی سے گویا ہوئی جبکہ حرا حق دق سی اسکا تلخہ انداز و لب و لہجہ سن رہی تھی۔ ۔۔
تمہیں پتہ ہے یہ ہم جیسی لڑکیوں نے ڈر ڈر کر اور دب دب کر ہی ان جیسے بگڑے رئیس زادوں کو شہہ دی ہے۔ ۔۔ تمہیں پتہ پرندہ اپنے پروں سے نہیں بلکہ حوصلوں سے اڑتا ہے۔ ۔۔ ساری بات ہی حوصلے کی ہوتی ہے حوصلوں میں جان ہونی چاہیے جو ہونا ہے ہو کر رہنا ہے۔ ۔۔ گیڈر اور بھگوروں کی طرح ڈر ڈر کر اور بھاگ بھاگ کر زندگی گزارنے سے بہتر ہے کہ شیر کی مانند سامنا کر کے ایک ہی دن میں کھیل ختم کر دیا جائے۔ ۔۔ جن کے خواب بڑے ہوں نا اور خوابوں میں جان ہو تو پھر وہ ان آندھیوں سے نہیں ڈرا کرتے
۔۔ نوفل درانی جیسے گھمنڈی اور گھٹیا لوگوں کی کمی نہیں ہے ہمارے معاشرے میں ۔۔۔ ایک سے دامن بچھاو گئے دس اور ملیں گئے۔ ۔۔ اب میں ایک ایک کی خاطر یونیورسٹی چھوڑنے لگی تو ہو گئے میرے خواب پورے۔ ۔۔ انتخاب انسان کی اپنا ہوتا ہے حرا۔ ۔۔ چاہیے تو دو کمروں کے مکان میں پوری زندگی گزار دے چاہیے تو ایک دنیا کو فتح کر لے۔ ۔۔ فیصلہ انسان کا اپنا ہوتا ہے۔ ۔۔ مگر جب محدود ذرائع اور محدود وسائل میں رہتے بڑے خواب دیکھ کر انہیں تعبیر میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا جائے تو سب کچھ بڑا ہوتا ہے ۔۔ پھر مسافتیں بھی بڑی ہوتی ہیں دشمن بھی بڑے ہوتے ہیں۔ ۔۔ سیاستیں بھی گرم ہوتی ہیں شازشیں بھی بڑی ہوتی ہیں اور وار بھی گہرے ہوتے ہیں۔ ۔۔ ایسے میں حوصلے بھی بلند ہونے چاہیں۔ ۔ ساحل پر کھڑے ہوکر سمندر کی گہرائی ناپنا بہت آسان ہے حرا۔ ۔۔ مزا تو تب ہے جب مخالف چلتی لہروں کو چیر کر سروائیو کیا جائے۔ ۔۔
جیسے کسی خواب دیکھنے والے کو ایک شیطان نے کہا کہ طوفان سے ڈر کر رہنا ۔۔۔کہیں ایسا نا ہو کہ تو گر جائے۔۔۔ تو اس خواب دیکھنے والے نے کہا کہ وہ طوفان میں خود ہی ہوں جس سے ڈرنا چاہیے۔ ۔۔۔ یعنی کہ خود ایک طوفان بنو کہ بڑی سے بڑی طاقت آپ سے ٹکرا کر غرق ہو جائے۔۔۔
غلامی کی زندگی سے موت بہتر ہے۔ ۔۔ تمہیں کیا لگتا ہے حرا میں ان گیڈروں سے ڈر کر بیٹھ جاوں گئ۔ ۔۔ دو دو روپے کے مسلوں پر بیٹھ کر رونے لگوں گئ۔ ۔۔ یقین مانو حرا میرے پاس زندگی میں حل کرنے کے لئے اس سے بڑے مسائل موجود ہیں۔ ۔ جب میں نے ان پر ہمت نا ہاری تو یہاں پر ہمت ہاروں گی جس مسلے کو میں مانتی ہی کچھ نہیں۔ ۔۔
ابھی تو ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہے اور تم کہتی ہو کہ میں یہیں اپنی روحانی خود کشی کرلوں۔ ۔۔۔ کیوں ڈروں میں۔۔۔ اپنی جیت بھی میں خود ہوں اپنی ہار بھی میں خود ہوں۔ ۔۔۔ کیوں میں اپنے دشمن کو یہ تاثر بھی دوں کہ میں اس سے ڈر گئ۔ ۔۔ آپ کا جذبہ آپکی آواز کا روب آپکے دشمن کو آدھی موت سے نواز دیتا ہے۔ ۔۔ جتنے مرضی ٹوٹے ہوں آپ مگر کبھی بھی اپنے دشمن پر اپنی کمزوری ظاہر نہ ہونے دینا۔ ۔۔ ہمیشہ خود کو اس کے لئے ایک معمہ رہنے دینا ۔۔ سوچنے دیں اسے کہ اسکے حریف کا کمزور پہلو کیا ہے۔ ۔۔ کبھی اپنے دشمن کو میٹھی نیند نہ سونے دو کہ آپکا حریف آپ سے ڈر گیا۔ ۔۔ عذاب بن جاو اپنے دشمن کے لئے اتنا خود کو چھپا لو ۔۔۔
جب اللہ کہتا ہے کہ زمین کے چاروں دروازے بند ہوں تو پانچواں دروازہ میں خود ہوں۔ ۔۔ تو مجھ سے دل لگی لگا کر تو دیکھ میں بلاوں کے بیچ سے ایسے دروازے نکالوں گا کہ عقل دھنگ رہ جائے گئ۔ ۔۔ یقین کامل ہونا چاہیے اپنے رب پر۔ ۔۔ ہر برے سے برے حالات مشکل اور پریشانی میں رجوع اسکی کی طرف ہونا چاہیے۔۔ ڈر بھی اسی ہستی کا ہونا چاہیے اندھا اعتماد بھی اسی ہستی پر ہونا چاہیے۔ ۔۔ مسلوں پر بیٹھ کر رونا ہی یے تو تہجد میں سجدے بھگوں نہ پھر دیکھو کیسے کیسے حل نکالتی ہے اسکی ذات۔ اپنی طرف سے کام مکمل کرو نا باقی اسکا کام اسکی ذات پر چھوڑ دو۔ ۔۔ گیڈروں کی طرح ڈر ڈر کر مرنے سے بہتر یے کہ پھر ابھی مر جایا جائے۔ ۔۔ یہ دنیا بہت ظالم ہے حرا سالم نگل جائے گی یہ اگر اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ نا کیا گیا تو۔ ۔۔
حرا تو گم صم سی اسکا ایک ایک حرف سنتی اسے اپنے اندر اتارنے کی کوشیش کر رہی تھی۔ ۔۔ جو اب بات مکمل کرتی ایک ہی سانس میں پانی کا پورا گلاس خالی کر گئ تھی۔ ۔۔ ۔ ہمیشہ خاموشی سے دوسروں کا تجزیہ کرنے والی آج اس پر یوں کھلی تھی کہ حرا اسکی سوچ پر دنگ رہ گئ تھی۔ ۔۔ بھلا کوئی لڑکی بھی اتنی با حوصلہ اور با عظم ہو سکتی تھی۔ ۔۔ وہ ابھی تک انگشت بدنداں تھی۔ ۔
******
