Gumaan Se Agy By Umme Hania Readelle50343 Gumaan Se Agy (Episode 25)
No Download Link
Rate this Novel
Gumaan Se Agy (Episode 25)
Gumaan Se Agy By Umme Hania
پھر کیا بھلا۔۔۔ میں بھی تو کوئی اتنا آسان ہدف نہیں ہوں نہ۔۔۔۔ کہ عدنان ملک کے لیے اتنا ہی تر نوالہ ثابت ہو جاؤ کہ جب اس کا دل چاہے وہ مجھے سالم نگل جائے۔۔۔۔
وہ چھٹی کا دودھ یاد دلایا نہ کہ پورا خاندان میرے آگے ہاتھ جوڑ معاملے کو دبانے کے لیے کھڑا تھا ۔۔۔ اس واقعہ نے میری فین فالوینگ اتنی برہا دی ہے کہ وہ بچارے میری فین فالوینگ سے ہی ڈر گئے ۔۔۔
ان کے خلاف انسٹا پر لگائی جانے والی میری ایک پوسٹ ان کی اتنی مشکل سے بحال کی گئی عزت کا پاسہ کیسے پلٹ سکتی تھی اس کا انہیں بخوبی اندازہ تھا لہذا مجھے بھپھرنے سے روکنے کے لیے انہیں ہر صورت اپنے بیٹے کو ہی دبانا تھا ۔۔۔
خیر ابھی مجھے اس نک چڑھے کہ اتنی فکر بھی نہیں ہے خود ہی آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔ ابھی تو میرے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اس ظالم اور بے رحم معاشرے میں سروائیو کرنے کے لئے عزت سے سر اٹھا کر جینے کے لیے مجھے ایک نام ایک مقام مل چکا ہے۔۔۔ ایک محفوظ پناہ گاہ ہے اس وقت میرے پاس جہاں پر مجھے معاش کی کوئی فکر نہیں اور میرے لئے اتنا کافی ہے۔۔۔ باقی رہ گئی بات عدنان ملک کی تو اگر تو وہ میرے ساتھ سمجھوتا کرنے پر آمادہ ہوا تو بہت بہتر نہ ہوا تو وہ اپنی زندگی میں آزاد ہے ۔۔۔۔ اگر میرا ماضی داغدار ہے تو دودھ کا دھلا تو عدنان ملک بھی نہیں اور پھر یہ تو اللہ تعالی کا بھی فرمان ہے کہ نیک مردوں کیلئے نیک عورتیں برے مردوں کے لیے بد عورتیں۔۔۔ بلاشبہ اب میں اپنی پرانی زندگی کو چھوڑ چکی ہو لیکن جوڑی اللہ نے بھی چن کر بنائی ہے اب اس رشتے کو کس حساب سے چلانا ہے اس کا مکمل طور پر اختیار میں عدنان ملک پر چھوڑتی ہوں۔۔۔
اگر اسے اس رشتے میں کوئی دلچسپی نہیں تو میری جوتی کو بھی اس بات کی پرواہ نہیں ہے ۔۔۔
میں اس کی ذمہ داری ہوں اور اسے اپنی ذمہ داری مرتے دم تک نبھانی ہوگی ہے ہنس کر یا رو کر ۔۔۔ پری کی باتیں سنتی وہ ایک گہرا سانس خارج کرکے رہ گئی بلاشبہ پری کا عدنان سے نکاح ہو چکا تھا اسے معاشرے میں ایک مقام مل چکا تھا لیکن ابھی اس کے امتحانات ختم نہیں ہوئے تھے اور شاید زندگی اسی کا نام تھی وہ دل سے پری کی دائمی خوشیوں کے دعا گو تھی
******
شمشیر کی اچانک موت کا سن کر اس کی دونوں بہنیں زنیرا اور عمیرا ہنگامی طور پر شہر سے وہاں پہنچ چکی تھیں۔۔۔ ان دونوں سے ملنے کے بعد گڑیا زنیرہ کے بیٹے کے ساتھ کھیلنے میں مصروف ہوگئی وہ گول مٹول سا بچہ ویسے بھی خالہ کی جان تھا۔۔۔۔ وہ سب دیوار پار شمسیر کا آخری دیدار کرنے گئے تھے فاطمہ نے گڑیا کو بھی ساتھ چلنے کو کہا تھا مگر وہ سنی ان سنی کرتی ابان کے ساتھ کھیلتی رہی کبھی اسے سیریلیک کھلاتی کبھی اس کا منہ دھوتی وہ اسی میں گم تھی۔۔۔ عمیر اور فرقان جنازہ پڑھنے کے بعد واپس جا چکے تھے جبکہ ان دونوں بہنوں کا ابھی یہاں مزید قیام کا ارادہ تھا ۔۔۔ فاطمہ گڑیا کی آج کی حرکت سے کافی جلی بھنی بیٹھی تھی کیونکہ وہاں اس گھر میں بھی کئی لوگوں نے گڑیا کی غیر موجودگی کو محسوس کرتے اس بات کو اچھالا تھا ۔۔۔ اور اس بات کا اظہار فاطمہ گھر واپس آنے کے بعد اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے باتوں باتوں میں کئی مرتبہ اسے کروا چکی تھی مگر وہ بھی آنکھیں کان سب بند کئے محض ابان کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھی۔۔۔۔
آلے میلا پالا کاکا۔۔۔ خالہ کی جان۔۔۔ شونا بے بی۔۔۔ کھانا کھائے گا۔۔۔ ابان کاکا چائے پیئے گا۔۔۔ آلے لے لے لے۔۔۔۔ ماں کی جھڑکیوں اور کوسنوں کو بھرپور نظر انداز کیے وہ ابان کو چارپائی پر لیٹائے اس کے دونوں ہاتھ پکڑے اس کے سینے سے لگائے اسکے ساتھ کھیلنے میں مشغول تھی ۔۔۔ فاطمہ اسے خونخوار نگاہوں سے گھورتی اندر بڑھ گئی ۔۔۔
ابا مجھے آگے پڑھنے کےلیے شہر یونیورسٹی جانا ہے ۔۔۔ رات کے کھانے کے وقت جب سب صحن میں بیٹھے اکٹھے کھانا کھا رہے تھے تب اچانک گڑیا کی بات پر جہاں آفتاب کا نوالہ منہ کی جانب لے جاتا ہاتھ ٹھٹھک کر رکا وہیں فاطمہ نے خون آشام نگاہوں سے بیٹی کو گھورا ۔۔۔
یہ جوتا پکڑاو ذرا مجھے اس کا دماغ تو میں ٹھیک کرتی ہوں بدبخت نے پہلے آج زرا کم ذلیل کروایا ہے نہ ہمیں پوری برادری میں جو ایک نیا شوشا لے کر بیٹھ گئی ہے ۔۔ وہاں سب جان بوجھ کر اسکی غیر موجودگی کی بات کو اچھال رہے تھے اور یہ میرے سو مرتبہ کہنے پر بھی دس منٹ کے لئے بھی وہاں نہ جا سکی ۔۔۔ اباااا۔۔۔۔ فاطمہ کے حقیقتاً جوتا اٹھا کر اس کے پیچھے لپکنے پر وہ بھاگ کر ابا کے پیچھے جا چھپی۔۔۔
زنیرا اور عمیرا حیرت سے منہ کھولیں یہ سب دیکھ رہی تھیں جب کہ آفتاب اب بپھری ہوئی بیوی کے آگے ہاتھ کرتے بیٹی کا بچاؤ کر رہے تھے ۔۔۔
کیا کر رہی ہو فاطمہ جوان بیٹی پر ہاتھ اٹھاؤں گی۔۔۔۔ آپ ہٹ جائیں سامنے سے سائیں۔۔۔ یہ لڑکی آخر چاہتی کیا ہے پہلے اس کے سکول جانے پر کیا لوگوں نے کم جینا حرام کیا تھا ہمارا جو اب یہ شہر لڑکوں کے ساتھ پڑھنے جانا چاہتی ہے ارے برادری کیچڑ بھرے جوتے ہمارے سروں میں مارے گی۔۔۔
یہ اتنی خود سر تو کبھی نہ تھی جتنی اب ہو چکی ہے اور میں پوچھتی ہوں کیا تکلیف تھی اسے جو آج مرے ہوئے بھائی کا چہرہ تک نہ دیکھنے گی۔۔۔ ارے زندہ لوگوں سے تو کینہ نفرت بغض ہوتا ہے لیکن مردوں سے ایسے بیڑ بھلا کون پالتا ہے ۔۔۔
کیا یہ اتنی ہی بے حس ہو گئی ہے کہ اس کے اندر سے ہر احساس تک مر چکا ہے ۔۔۔
ہاں ہوں میں بے حس۔۔۔ ہر احساس سے عاری ایک لڑکی اور وہ گھٹیا شمشیر۔۔۔۔ نہیں ہے وہ میرا بھائی۔۔۔۔۔ اور وہ گھٹیا شخص میرا بھائی کبھی ہو بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔بہت اچھا ہوا اس کے ساتھ وہ اس سے زیادہ دردناک موت ڈیزرو کرتا تھا۔۔۔
ماں کے مسلسل کوسنوں پر وہ پھٹ پڑی تھی ۔۔۔
ضبط کی طنابیں چھوٹ گئی تھی۔۔۔ اس کی برداشت کی حد بس یہیں تک تھی جو کے ختم ہوچکی تھی وہ چیخ چیخ کر بولتی وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی ۔۔۔
وہ سب تعجب سے اس کا اس قدر عجیب رویہ دیکھ رہے تھے اور پھر وہ بلکتی سسکتی ان سب پر ہر حقیقت عیاں کرتی چلی گئ تھی ۔۔۔
ماضی میں شمشیر کی بے غیرتی سے لے کر عتیق کی بے حیائی تک۔۔۔ سب حرف با حرف ان سب کے گوش اتارتی چلی گئی تھی ۔۔۔
رقیہ کی بے حسی سے لے کر آفتاب کی جائیداد پر نظر رکھنے تک وہ اپنی ہر محرومی پر دل کھول کر سسکی تھی ۔۔۔
گڑیا کے انکشافات پر وہاں موجود ہر شخص کو سانپ سونگھ گیا تھا ۔۔۔ سب ساکت و جامد کسی برف کے مجسمے کی طرح اپنی اپنی جگہوں پر فریز ہو چکے تھے گویا کسی نے قوت گویائی ہی سلب کر لی ہو ۔۔۔اپنوں کے چہرے اسقدر مکروہ بھی ہوا کرتے ہیں وہ اس بات پر اعتبار کرنے سے انکاری تھے۔۔۔ آفتاب وہیں چارپائی پر ڈھتے پھوٹ پھوٹ کر رو دیے تھے معصوم بیٹی کا غم ان کا دل چیر گیا تھا گویا وہ یکدم ہی بہت سال پیچھے جا پہنچے ہوں۔۔۔
ابا مجھے کسی کی پروا نہیں ۔۔۔کون کیا کہتا ہے کیا کرتا ہے۔۔۔ کس انداز میں کرتا ہے مجھے کسی کی رتی برابر پروا نہیں۔۔۔ مجھے محض آپ کی اجازت درکار ہے اور میں انشاءاللہ ضرور یونیورسٹی پڑھنے جاؤں گی ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں عظم تھا لہجے میں چٹانوں سی سختی تھی ۔۔۔ آفتاب نے نم آنکھوں سے اپنا کپکپاتا ہاتھ اٹھا کر اس کے سر پر رکھا تو فاطمہ نے سسکتے ہوئے بیٹی کو سینے سے لگا لیا۔۔۔
جا نیک بختے خدا تجھے تیرے ہر مقصد میں کامیاب کرے ۔۔۔ میں تجھے یقین اور اعتبار کے دھاگوں میں باندھ کر اس فضا میں اڑنے کو کھلا چھوڑتی ہوں۔۔۔ آج تک تیری ماں نے تیرے ہر فیصلہ کا انحراف کیا ہے آج میں تیرے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہوتی ہوں میری شہزادی۔۔۔ ان بے حسوں سے نمبٹنے کو تیری ماں ہے۔۔۔ جا میری بچی تو کر تیاری۔۔۔ تو جائے گی شہر پڑھنے۔۔۔ تو بدلے گی اس گاوں کی قسمت۔۔۔ تو کرے گی خآتمہ یہاں سے جہالت کا۔۔ تو یہاں علم کی روشنی پھیلا کر یہاں نئ تاریخ رقم کرے گی گڑیا۔۔۔ جا اللہ تجھے تیرے مقصد میں کامیاب کرے۔۔۔
بس میری بچی باپ کی عزت کو کبھی رلنے نا دینا باپ کا مان برقرار رکھنا تیری ماں ہر قدم پر تیرے ساتھ ہے۔۔۔ فاطمہ بیٹی کو سینے سے لگائے اسکی پیٹھ تھپتھپاتی کہہ رہی تھی۔۔۔ اور سائیں واقعی شریعیت کے یہ ہی احکام ہیں کہ بیٹا نا ہونے کے صورت آدھی جائیداد بیٹیوں کے حصے آتی ہے اور باقی کی آدھی جائیداد بھائیوں کے بیٹے یعنی کے بھتیجوں کے حصے جاتی ہے لیکن ایسا صرف اصل حقدار کے مرنے کے بعد ہوتا ہے اپنی زندگی میں حقدار چاہیے تو اپنی ساری جائیداد بیچ دے یا کسی کے بھی نام کروا دے۔۔۔ خدا آپکو سو سال کی زندگی دے سائیں مگر ان بے حسوں نے تو آپکی زندگی میں ہی آپکی جائیداد پر نظر رکھ کر گھٹیا منصوبہ بندی شروع کر دی۔۔۔ خدا آپکی عمر دراز کرے سائیں مگر میری التجا ہے آپ سے کہ اپنی حیاتی میں ہی اپنی جائیداد تینوں بیٹیوں میں برابر تقسیم کرکے انکے نام لگوا دیں میں اپنی بیٹی کے مجرموں کو اپکی جائیداد سے ایک پھوٹی کوڑی تک جاتی نہیں دیکھ سکتی۔۔۔ اس ماں کے دل پر اس وقت کیا گزر رہی تھی شاہد ہی وہ کبھی اپنا درد کسی کو دکھا سکتی۔۔۔ آفتاب گم صم سے بیوی کی باتوں پر غور کر رہے تھے اپنوں کے روپ انکے سامنے تھے ایسے میں بیوی کا یہ مطالبہ انہیں اتنا بھی بےجا نا لگا ۔۔۔
آور یوں شروع ہوا تھا حور شمائل حسن عرف گڑیا کا اگلا سفر جہاں وہ آنکھوں میں ہزاروں خواب اور اونچے عظائم لئے یونیورسٹی داخل ہوئی تھی۔۔۔ مگر نوفل نامی جونک مسلسل اس سے چمٹ کر رہ گئ تھی۔۔۔ وہ اپنوں کی ڈسی تھی مگر یہاں آ کر اس پر انکشاف ہوا کہ غیروں کے وار اپنوں سے بھی کاری ہوا کرتے ہیں لیکن وہ تھی کون۔۔ گڑیا جس نے آنکھ ہی ناموافق حالات میں کھولی تھی جو چار سال کی عمر سے ہی حق مانگتی نہیں تھی بلکہ چھین لیتی تھی۔۔۔ جسنے ہارنا سیکھا ہی نا تھا۔۔۔ زیست کے اب تک کے سفر میں وہ بارہا ٹوٹی تھی بارہا گری تھی مگر ہر بار گرنے پر وہ نئے حوصلے سے کھڑی ہوتی ہر بار ٹوٹنے پر اپنی کرچیاں اپنے ہاتھوں سے چن کر پھر سے جوڑلیتی۔۔۔ تو ایسے ٹوٹ ٹوٹ کر جڑے انسان کو ٹورنے کا کس میں دم تھا جسے ٹوٹنے سے ڈر ہی نا لگتا ہو۔۔۔ ایسے گر گر کر اٹھنے والے کو گرانے کی کیا تدابیر کرنی جو گرنے سے ڈرتا ہی نا ہو۔۔۔ جس کے ارداے مضبوط اور اللہ پر ایمان پختہ ہو اسے بھلا کون ہرا سکتا تھا۔۔۔ ایسی چٹانوں سے جو ٹکرائے گا وہ خود ریزہ ریزہ ہو جائے گا۔۔۔ کیوبکہ وہ بدلے میں دوسرے کو مارتی نہیں تھی بلکہ بلاوں کی مانند اسکا خون چوس لیتی تھی جیسے عدنان ملک کا چوس گئ تھی۔۔۔ وہ بے حس تھی ہاں وہ احساس سے عاری لوگوں کے لئے بے حس ہی تھی۔۔۔ جیسے اب وہ نوفل درانی کے لئے ثابت ہونے والی تھی۔۔۔ اب اگر ایک پھندا نوفل درانی شمائل حسن کے لئے تیار کر رہا تھا تو وہ بھی اسکا خون چوسنے کو پنجے گاڑ چکی تھی دیکھنا یہ تھا کہ ابکی بار دو طاقیں ٹکراتیں تو ریزہ ریزہ کون ہوتا۔
*****
آج بہت دنوں بعد شمائل زرا فرصت سے لیپ ٹاپ لئے اپنا پینڈنگ کام کرنے بیٹھی تھی۔۔۔ اپنے پلان کے بارے میں وہ احمر سے تفصیلاً بات کر چکی تھی۔۔۔ اسنے شمائل کا پلان سن کر اسکی کافی حوصلا افزائی کرتے اسکی بھرپور مدد کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔۔۔ اسی مقصد کے تحت وہ اب احمر سے گائیڈ لائن لے کر ارٹیفیشل انٹیلیجنس کے رولز اینڈ ریگولیشنز کے مطابق پچھلا اکھٹا کیا سبھی دیتا فیڈ کر رہی تھی۔۔۔ لگاتار ایک ہی نشست میں بیٹھے کام کرتے اسے کافی دیر ہو گئ تھی۔۔۔ کندھوں میں پڑنے والے کھنچاو کے باعث وہ کام بند کرتی زرا سیدھی ہو کر بیٹھی۔۔۔ کام کرتے وہ یونہی منہمک ہو جایا کرتی تھی کہ ارد گرد کا ہوش بھلا دیتی تھی۔۔۔ آج تو پھر اسنے کافی دنوں بعد کام کیا تھا اسکے شیڈیول کے حساب سے اسکا کام پہلے ہی بہت تاخیر کا شکار ہو چکا تھا اور اب وہ جلد از جلد اسے مکمل کرنا چاہتی تھی۔۔۔ مگر اب غیر ہوتی اپنی حالت دیکھ اسنے کام پر کچھ دیر آرام کرنے کو ترجیح دی۔۔۔۔ لیپ ٹاپ شٹ ڈاون کرنے سے پہلے یکدم اسکے دماغ میں ایک جھماکا ہوا اسنے جلدی سے بیڈ سے اترتے اپنے بیگ سے یو ایس بی نکالی اور اسے لیپ ٹاپ سے کنیکٹ کیا۔۔۔ ہینڈ فری کان میں لگائے وہ اب اس یو ایس بی میں سیو واحد ریکارڈنگ سن رہی تھی مگر جیسے جیسے وہ ریکارڈنگ سن رہی تھی اسکی آنکھیں حیرت سے وا ہوتی جا رہی تھیں۔۔ تو مطلب اسے زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی نوفل درانی اپنے لئے پھنڈا خود تیار کر رہا تھا اسے تو صرف اس پھنڈے کو کسنا تھا۔۔۔ اسنے بے ساختہ کھڑی پر وقت دیکھا اسے جو کرنا تھا ابھی کرنا تھا کیونکہ آڈیو میں رات کی یہ ہی ٹائمنگ مینش تھی۔۔۔
Now ur game is over Nofil Raza Durani…
۔۔۔
وہ ایک عظم سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئی
*****
