Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gumaan Se Agy (Episode 8)

Gumaan Se Agy By Umme Hania

اس روز کے بعد سے فاطمہ نے خود کو بہت پابند کر لیا تھا ۔۔ وہ بہت چوکنی ہوگی ہر ہر آہٹ پر ٹھٹھک جاتی. ۔۔ ہر ہر وقت بیٹیوں پر نظر رکھنے والی۔۔۔ اس نے بیٹیوں سے اپنا رشتہ اتنا مضبوط کر لیا کہ وہ اپنی چھوٹی بڑی ہر بات بلاجھجھک آکر ماں سے شیئر کرتیں۔ فاطمہ بھی ان کی باتیں مکمل یکسوئی اور توجہ سے اسطرح سے سنتی کہ یہ بچیوں کا پسندیدہ مشغلہ بن گیا وہ سکول سے آتے ہی بستے پھینکتیں ماں کو اپنے پورے دن کی روداد سنانے لگتیں۔ ۔۔

وقت تیزی سے پر لگائے اڑ رہا تھا۔ ۔۔ اس کی سب سے چھوٹی بیٹی گڑیا بھی اب چار سال کی ہو چکی تھی ۔۔۔ شکل و صورت سے اس کی تینوں بیٹیاں ماں پر گئی تھیں دودھ ملائی سی رنگت اور تیکھے نقوش کی حامل بچیاں اپنے آپ ہی ہر کسی کے لیے کشش کا باعث بنتی تھیں۔ ۔۔ وہ تینوں ہی ایک سے بڑھ کر ایک تھی لیکن سب سے چھوٹی گڑیا تینوں کو مات دے گئی تھی ۔۔۔ محض چار سال کی عمر میں ہی وہ سامنے والے کو لاجواب کر کے رکھ دینے کی صلاحیت رکھتی تھی ۔۔ غصے میں وہ اپنی دادی خانم بی بی پر گئی تھی بات سہنا جس نے سیکھا ہی نہ تھا اتنی سی عمر میں وہ اپنے ساتھ سخت لہجہ اپنانے والے کو چھٹی کا دودھ یاد دلادیتی۔۔۔ حق تلفی وہ سہتی ہی نہ تھی چیز نہ ملنے پر وہ چیز کو جھپٹ کر چھین لیا کرتی یا اگر کوئی کام اس کے مزاج کے خلاف ہو جاتا تو پھر وہ رو رو کر چیخ و پکار سے اور ضد کر کر کے پورا گھر اس طرح سے سر پر اٹھالیتی کہ جب تک اس کی ضد پوری نہ ہو جاتی وہ معاف نہیں کرتی تھی ۔۔۔۔

پورا گھر حتی کہ ہر کسی کو جوتے کی نوک پر رکھنے والی خانم بی بی بھی اس کے آگے ہار مان جاتی تھیں۔ ۔۔

دادی مجھے بہت بھوک لگی ہے اس لئے سب سے پہلے کھانا مجھے ڈال کر دیں۔ اس روز بھی گھر میں بریانی پکی تھی اور حسب معمول خانم بی بی پتیلہ اپنے پاس رکھے سب سے پہلے اپنے پوتوں کے لیے کھانا ڈال رہی تھی جب گڑیا کمرے سے باہر نکلتی ان کے پاس آتی تخت پر چڑھی اور چوکری لگا کر بیٹھتی گویا ہوئی۔۔۔

اے پڑے ہٹ۔ ۔۔۔پہلے کھانا بھائیوں کوکھانے دے پھر تیری باری آئےگی خانم بی بی ناک سے مکھی اڑاتی نخوت سے گویا ہوئی اور ایک مرتبہ پھر سے کھانا پلیٹوں میں ڈالنے لگی ۔۔۔ دادی کچھ خدا کا خوف کریں چھوٹے بچوں کا دل توڑنے کا مطلب ہے اللہ تعالی کو ناراض کرنا پہلے بچوں کو چیز دینی چاہیے بچوں کو خوش کرنے سے اللہ تعالی خوش ہوتا ہے کیا آپ اللہ کو خوش نہیں کریں گی آپ اللہ کو ناراض کرنا چاہتی ہیں ۔۔۔ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے معصوم ہاتھوں کو اٹھاتی ان سے اشارہ کرتی اپنی آنکھیں پوری کھول معصوم سا چہرا بناتی اتنی معصومیت سے گویا ہوئی کہ خانم بی بی اسے گھور کر دیکھنے لگی ۔۔۔۔

یہ تجھے ہمیشہ اپنے مطلب کی بات پر ہی اللہ کیوں یاد آجاتا ہے خانم بی بی نے اسے کڑے تیوروں سے دیکھا۔۔۔۔ دادی آپ مجھے کھانا دے رہی ہیں یا نہیں وہ جھٹکے سے تخت سے اترتی دونوں ہاتھ اپنی کمر پر رکھے دادی کے سے انداز میں بھرپور غصے سے گویا ہوئی۔ ۔۔

یہ لے میری ماں پہلے تو کھا لےخانم بی بی نے غصے سے چاول پلیٹ میں ڈالتے پلیٹ اس کے آگے کھسکائی۔ ۔۔ لو دادی اتنے سے چاولوں سے میرا کیا بنے گا اس میں اور ڈالیں۔۔۔۔ اس نے آنکھیں تیڑھی کرتے ناقدانہ نگاہوں سے پلیٹ دیکھتے کہا۔ ۔۔۔خانم بی بی نے غصے سے اس میں کچھ چاول اور ڈالے۔۔۔ اسے اٹھا اور شکل غائب کر لے اپنی یہاں سے۔۔۔ جا رہی ہوں دادی اتنا غصہ تو مت کرو وہ پلیٹ اٹھاتی جاتے جاتے بھی تلقین کرنا نا بھولی تھی۔ ۔۔

زنیرا آپی عمیرا آپی آجائیں چاول کھاتے ہیں کمرے میں آتے ہی وہ بیڈ پر چڑھتی بیڈ کے وسط میں پلیٹ رکھتی دونوں بہنوں کو آواز لگانے لگی ۔۔۔

فاطمہ نے نم آنکھوں سے اپنے آنگن کے سب سے ننھے پھول کو دیکھا جس کی خود سری اور بغاوت کبھی کبھار اسے اندیشوں میں دھکیل دیتی جبکہ کبھی کبھار وہ اس کی ایسی حرکتوں پر مسکرا دیتی تھی

*******

تم مجھے شاید کوئی خوشخبری دینے والی تھی لیکن پھر بنا کچھ بتائے ہی واپس چلی آئی۔ ۔۔ شمائل حرا کے پاس آتی اس کے پاس ہی بیڈ پر بیٹھی۔ ۔۔

زہے نصیب تمہیں بھی کہیں فرصت ملی ہمارے کمرے کا چکر لگانے کی۔ ۔۔۔ اسے دیکھتی حرا خوش گوار حیرت سے موبائل بند کر کے سائیڈ پر رکھتی سیدھی ہو کر بیٹھی۔ ۔۔

اور یہ حقیقت بھی تھی ہاسٹل میں قیام پذیر ہونے کے بعد یہ شمائل کا حرا کے کمرے میں پہلا چکر تھا کیونکہ اس سے پہلے اس کی دنیا محض یونیورسٹی اور ہاسٹل کے ایک کمرے تک ہی محدود تھی ہر وقت متحرک رہتے وہ کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتی دوسری سرگرمیوں سے زیادہ تر اجتناب ہی برتتی تھی ۔۔۔

بس مصروفیت ہی بہت ہے۔۔۔ وقت ہی نہیں ملتا کہیں آنے جانے کا۔۔۔ وہ شوخی سے گویا ہوئی تو حرا بھی تیوری چڑھاتی سیدھی ہوئی۔ ۔۔۔ ہاں تم اتنی ہی بل گیٹس کی جانشین نا۔ ۔۔۔ اس کے بارے میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ اگر اس کے کچھ ڈالرز بھی اس کی جیب سے نیچے گر جائے تو وہ جھک کر انہیں نہیں اٹھاتا کہ جتنی دیر وہ ان پیسوں کو اٹھانے میں لگائے گا اتنی دیر میں وہ اس سے دوگنی رقم کما سکتا ہے ۔۔۔ وہ تمسخرانہ گویا ہوئی یعنی کہ حد ہو گئی ایک بس تم ہی رہ گئی ہو اس دنیا میں مصروف رہنے والی باقی ہم سب تو پھر فضول ہی ہیں ۔۔۔۔

اس بارے میں میں اپنی رائے محفوظ رکھنا چاہوں گی ہر کسی کے ترجیحات کے پیمانے الگ ہیں تو اسی لحاظ سے ان کی مصروفیات کی وجوہات بھی الگ ہیں ۔۔۔

میری زندگی کی ترجیحات کی بنیاد پر میری مصروفیات کی وجوہات تھوڑی الگ ہیں۔ ۔۔ وہ وہیں بیڈ پر کہنی کے سہارے نیم دراز ہوتی حرا کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر لطف اندوز ہونے کے انداز میں گویا ہوئی۔ ۔۔

اور بل گیٹس کے بارے میں تم نے ابھی جو کچھ بھی کہا تمہاری ان باتوں سے میں سو فیصد متفق ہوں ۔۔۔ بل گیٹس کا وقت اتنا ہی قیمتی ہے کہ اس سے چند منٹوں کی ملاقات کے لیے لوگ کروڑوں روپے ادا کرنے کو تیار ہیں ۔۔۔ لیکن ایسا کیوں ہے اگر اس کی ہسٹری اٹھا کر پڑھیں تو پتہ چلے گا کہ وہ ایک سرکاری ماسٹر کا بیٹا ہے۔ ۔ پھر ایسا اس میں کیا ہے جو لوگ اس کے ایک ایک منٹ کے لئے کروڑوں روپے دینے کو تیار ہیں۔ ۔۔ وہ سیدھی ہو کر بیٹھتی بھویں اٹھاتی سوالیہ گویا ہوئی۔۔۔

ایسا اس لئے ہے کیونکہ اس نے اپنے پچھلے چند سالوں میں دن رات کا فرق مٹاتے اتنی محنت کی ہے کہ اس نے اپنا لوہا منوا لیا۔۔۔ وہ کسی اور پلانینٹ سے آیا ہوا کوئی ایلین تو نہیں ہے بلکہ اسی سرزمین پر رہنے والا دو آنکھ دو کان اور دو ہاتھوں پر مشتمل انسان ہی ہے ۔۔۔ جب وہ کر سکتا ہے تو پھر ہم کیوں نہیں ۔۔۔ اس نے اپنی زندگی کے ایک ایک ممنٹ کو قیمتی بنایا ہے خود کو پالش کر کے اپنی قیمت بڑھائی ہے تراشا ہے اسنے خود کو۔۔ اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کو بہتر سے بہترین استعمال کرتے ہوئے ۔۔۔ اگر اس کے ایک منٹ کی قیمت کروڑوں میں ہے تو ہمارے تو ایک دن کی قیمت پانچ سو روپے بھی نہیں ۔۔۔ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو دس دس ہزار پر کولہو کے بیل کی طرح کام کرتے ہیں۔۔۔ ایسا کیوں ہے ۔۔۔کیوںکہ ہم وقت کی قدر نہیں کرتے اس کو بہترین طریقے سے استعمال کرنے کی بجائے اسے جی بھر کے فضول کاموں میں ضائع کرتے ہیں ۔۔۔ پہلے ہم وقت کو ضائع کرتے ہیں پھر وقت ہماری زندگیوں کو ضائع کرتا ہے پھر پیچھے صرف حسرتیں بچتی ہیں کہ کاش میں ایسا کر لیتا کاش میں ویسا کر لیتا۔۔۔ اگر آج سے ہم اپنی زندگی کی ترجیحات کا اچھے سے تعین کر کے اس پر کام شروع کریں اور اس کے لیے دن رات کا فرق مٹا دیں کسی ایک واضح مقصد کو پکڑ کر اپنی ساری توجہ اس پر لگا دیں فصول کی چیزوں ۔۔۔یوٹیوب ۔۔۔۔فیس بک۔۔۔ گیمز ۔۔۔سوشل میڈیا میں یہ نہیں کہتی کہ یہ سب فضول ہے یہ سب بہت اچھے پلیٹ فارمز ہیں اگر انہیں صحیح سے استعمال کیا جائے تو ۔۔۔۔ لیکن اگر ان پر وقت بر باد کیا جائے تو یہ خود کو برباد کرنے. کے مترادف ہے ۔۔۔ اگر ہم ان سب چیزوں سے اپنی توجہ ہٹا کر اپنے ایک ایک لمحے کو کارآمد بنائیں تو آج نہیں تو کوئی پانچ سال بعد یا زیادہ سے زیادہ دس سال بعد ہم بھی اس مقام تک پہنچ سکتے ہیں جب ہمارے ایک ایک لمحے کی قیمت کروڑوں میں ہوگی ۔۔۔ اپنے آپ کو قیمتی بنانا یا اپنی قیمت بڑہانا یا خود کو بے مول کرنا یہ سب انسان کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے اسکے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ ۔۔۔۔

ہاں یہ بات درست ہے کہ میرا زیادہ تر وقت مصروفیت میں گزرتا ہے میرے پاس لوگوں سے سوشل ہونے کے لیے زیادہ وقت نہیں ہے اور یہ صرف تم نہیں بہت سارے لوگ میری اس روش پر مجھ پر طنز کر چکے ہیں لیکن مجھے لوگوں کی پروا نہیں ۔۔۔ میری زندگی کے مقاصد بڑے ہیں اس لحاظ سے عمل بھی پھر بڑے ہی کرنے پڑتے ہیں ۔۔۔

ہاں آج میں کچھ نہیں ہوں لیکن میرے خواب بڑے ہیں میرے عزائم بڑے ہیں میرے پاس ایک سے ایک بڑھ کر ایک آئیڈیاز کی بھرمار ہے اور وہ آئیڈیاز وقت مانگتے ہیں مجھے اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے اپنے خوابوں پر کام کرنا ہے بالکل اسی طرح جیسے ایک معمار ایک عمارت کھڑی کرنے کے لئے اس پر کام کرتا ہے لیکن اس کے لیے وقت درکار ہے ۔۔۔

میں تو اپنے آئیڈیاز بھی کسی پر عیاں نہیں کرتی کیونکہ بااثر لوگ آپ کے آئیڈیاز کو استعمال کرتے کہیں کے کہیں پہنچ جاتے ہیں لیکن مجھ سے محدود وسائل رکھنے والے لوگ پھر ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں ۔۔ میرے پاس آج محدود وسائل ہیں اور میں ان محدود وسائل کو بھی بروئے کار لاتے ہوئے محدود پیمانے پر اپنے خوابوں کی بنیاد رکھ رہی ہوں جانتی ہوں سفر لمبا ہے مسافت لمبی ہے بہت زیادہ ۔۔وقت درکار ہے ان سب کے لئے۔ ۔۔ لیکن پر امید ہوں کہ ایک وقت آئے گا جب میں بھی اس دنیا میں اپنا لوہا منوا لوں گی ۔۔۔۔

سوری یار میرا مقصد تمہیں تکلیف پہنچانا بالکل نہیں تھا میں نے تو وقت کی قلت کی یہ شکایت محض بات برائے بات ہی کی تھی اس کو یوں لمحوں میں سنجیدہ ہوتا دیکھ حرا نے جلدی سے اپنی غلطی مانتے بات سنبھالنی چاہیے ۔۔۔

چلو میں تمہیں وہ خوشخبری سناتی ہوں جو میں تمہیں پہلے دینے والی تھی اسے مسکراتا دیکھ کر حرا بھی مسکرا کر اسکا ہاتھ تھپتھپاتی بیڈ سے نیچے اتری۔ ۔۔

یہ لو کارڈ یہ ایک اکیڈمی کا کارڈ ہے تمہاری جاب کا کام بن گیا ہے۔۔۔۔ یہاں پر شام میں ایک انگلش کی ٹیچر کی ضرورت ہے تم یہاں جاکر انٹرویو دے سکتی ہو۔ ۔

حرا نے دراز سے ایک کارڈ نکال کر شمائل کی جانب بڑھایا تو اس نے خوشی سے تمتماتے چہرے کے ساتھ کارڈ کو تھامتے اسے الٹ پلٹ کر دیکھا اس کے چہرے پر حقیقی خوشیوں کے رنگ ابھر آئے تھے جب سے وہ ہاسٹل آئی تھی تب سے یہ اس کے لئے پہلی خوشی کی خبر تھی ۔۔۔ یا شاید یہ اسے خوشی کی خبر لگی تھی آگے قسمت کے پنوں میں کیا تھا رقم کون جانے

*********

اور تم جیسے امیر باپ کی بگڑی اولاد کو باپ کے پیسے پر مان کرتے خدائی دعویٰ کرنے سے پہلے فرعون کے موجودہ حالات نہیں بھولنی چاہیے۔۔۔ ٹریڈ میل پر اسکے دوڑتے قدموں میں مذید برق رفتاری بھر گی تھی۔۔۔ جبرے بھینچے ماتھے کی رگیں تن گئ تھیں۔۔۔ آنکھوں میں وحشت کیساتھ ساتھ خون بھی اترا ہوا تھا۔۔

تبھی فضا میں ارتعاش بھرپا کرتی فون کی رنگ ٹیون کی آواز نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا تو وہ ٹریڈ میل سے نیچے اترا۔۔۔

پاس ہی ملازم تولیہ اور جوس کا گلاس تھامے الرٹ کھڑا تھا۔۔۔

دوسرے ملازم نے بعجلت اسکا موبائل اسے لا کر تھمایا۔۔۔ اسنے ایک ہاتھ سے تولیہ پکڑتے چہرے پر بہتا پسینہ صاف کیا جبکہ دوسرے ہاتھ سے موبائل پکڑتے کان سے لگایا۔۔۔

ہاں جگر کام ہو گیا تیرا۔۔۔ چڑیا جال میں پھسنے کو تیار بیٹھی ہے۔۔۔ اکیدمی کا کارڈ اس تک پہنچ گیا ہے جس کی تصدیق وہ اکیڈمی فون کر کے کام کی نوعیت کے بارے میں پوچھ کر کروا چکی ہے اس سے کل کا ٹائم فکس ہوا ہے۔۔۔ کل وہ آ رہی ہے انٹرویو دینے۔۔۔۔ ابھی تک جو تو نے کہا وہ ہوگیا اب آگے کا لائحہ عمل بھی بتا دے۔۔۔ ائیر پیس سے ابھرتی آواز اسکے انگ انگ میں سرمستی بھرتی جا رہی تھی۔۔۔ چہرے کے اعضلات کچھ ڈھیلے پڑے ۔۔۔ بھینچے جبروں کی جگہ عنابی لبوں پر ایک دلکش مسکراہٹ میں لی تھی۔۔۔

اتنی بھی کیا جلدی ہے آگے کے لائحہ عمل کی ابھی اس لوئر مڈل کلاس کو جاب کا سن کر خوش تو ہو لینے دو۔۔۔ زرا دو دن جاب کر تو لینے دو۔۔۔ تیسرے دن تو وہ خود ہی چہرا چھپا کر خودکشی کرنے کو جگہ ڈھوندے گی۔۔۔

شمائل حسن زرا تمہیں بھی تو پتہ چلے کہ پہاڑ سے ٹکرائیں تو کیسے وجود ریزہ ریزہ ہوتا ہے۔۔۔ میں بھی تمہارا ریزہ ریزہ ہوا وجود دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔ بے بسی کی انتہا پر کھڑا دیکھنا چاہتا ہوں تمہیں۔۔۔ تم مجھے فرعون کی مثالیں دے رہی تھی نا اب تمہیں بتاتا ہوں کہ اصل فرعون دراصل ہے کیا اور وہ کیا کر سکتا ہے۔۔۔ فون بند کرتے وہ خود سے بڑبڑایا گو کہ اس بد دماغ لڑکی کا تصور ہی اسکے انگ انگ میں شرارے دوڑا گیا تھا

******†۔