Gumaan Se Agy By Umme Hania Readelle50343 Gumaan Se Agy (Episode 21)
No Download Link
Rate this Novel
Gumaan Se Agy (Episode 21)
Gumaan Se Agy By Umme Hania
شمائل نے دھرکتے دل کیساتھ وہیں کھڑے کھڑے حرا کو مختصر الفاظ میں میسج ٹائپ کیا جس میں اسنے حرا کو مختصراً اپنی بات بتا کر وہاں آ کر اسکی مدد کرنے کی درخواست کی۔۔۔ کیونکہ اس وقت یونیورسٹی میں صرف وہی تھی جو اسکی مدد کر سکتی تھی۔۔۔ تبھی میسج بپ کی آواز پر اسکا دل اچھل کر حلق میں آ گیا اسنے سرعت سے موبائل سائلنٹ کیا اور ہراساں نظروں سے دروازے کی جھری سے باہر نوفل کو دیکھنا چاہا کہ کہیں وہ تو اسکی میسج بپ سے اسکی جانب متوجہ نہیں ہو گیا لیکن خیر رہی کیونکہ اسکی میسج بپ اتنی بھی اونچی نا تھی۔۔۔
نوفل درانی ۔۔۔ تبھی اسے حرا کی آواز سنائی دی تو وہ دل کڑا کرتی بلی کی چال چلتی دروازے سے زرا باہر کو نکلی۔۔۔ نوفل ماتھے پر بل ڈالے حرا کی جانب متوجہ ہوا ۔۔۔ یہ اسائمنٹ آپکی ہے۔۔۔۔ حرا نے ایک اسائمنٹ اسکی جانب بڑھائی۔۔۔ نہیں یہ میری نہیں ہے اسنے اسئمنٹ کو الٹ پلٹ کر دیکھنے کے بعد نوفل نے اسے واپس تھمایا۔۔۔ شمائل نوفل کو حرا کے ساتھ مصروف دیکھ کر اللہ کا نام لیتی بنا آواز چلتی کمرے سے باہر نکلی وہ ابھی کاریڈور کے سرے تک پہنچنے والی تھی جب نوفل واپس پلٹا۔۔۔ موڑ مڑ جاتی تونوفل کی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتی۔۔۔
مم۔۔۔مگر اس پر نام تو آپکا لکھا ہے۔۔۔ اس سے پہلے کی نوفل بیزارہت سے رخ پلٹتا حرا چلا کر کہتی سرعت سے اسکے سامنے ہوئی۔۔۔ نوفل نے نا پسندیدگی سے اس چپکو لڑکی کو دیکھا۔۔۔ محترمہ اس یونیورسٹی میں محض ایک میں ہی نوفل نامی شخص نہیں ہوں ابکے وہ زرا سختی سے گویا ہوا۔۔ اوہ اچھا۔۔۔ مجھے لگا آپکی ہے۔۔ کوئی بات نہیں۔۔۔ حرا کی جان میں جان واپس آئی تھی کیونکہ شمائل کاریڈور عبور کر گئ تھی۔۔۔
کاریڈور عبور کرتے ہی حور نے سرپٹ ڈور لگا دی۔۔ وہیں ایک کلاس میں داخل ہوتے اسنے زرا اپنا سانس بحال کیا۔۔۔ نوفل درانی اب اس تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔۔۔ اتنی بڑی یونیورسٹی میں وہ بھلا اسے کیسے ڈھونڈتا۔۔۔ تبھی اسکے موبائل کی سکرین روشن ہوئی تو اسنے جلدی سے کال اٹھائی۔ یونیورسٹی کے باہر بائیں جانب میں تمہارا سلور گاڑی میں انتظار کر رہی ہوں۔۔۔ پولیس اہلکار باہر ہی ہیں مگر اس وقت ان دونوں لڑکوں میں سے کوئی باہر نہیں اور میرا نہیں خیال کہ پولیس تمہیں پہچانتی ہو گئ۔۔۔ تم جلد از جلد باہر پہنچو۔۔۔ فون پری کا تھا اسکی بات بہت حد تک اسکا حوصلہ بڑھا گئ تھی مگر یہ بہت رسکی کام تھا۔۔۔ پولیس کے کچھ اہلکار اسے دیکھ چکے تھے اگر ان میں سے کوئی اسے پہچان جاتا تو۔۔۔ اور اگر عین وقت میں وہاں عدنان یا نوفل آ جاتا تو۔۔۔۔ وہ ناخن چباتی مسلسل کچھ سوچ رہی تھی۔۔۔ تبھی ایک خیال آنے پر اسنے دوبارہ حرا کا نمبر ملایا۔۔۔ ٹھیک دو منٹ بعد حرا وہاں موجود تھی۔۔۔۔ یہ لو عبایہ مگر اختیاط سے جانا محفوظ جگہ پر پہنچتے ہی مجھے اپنی خیریت بتانا۔۔۔ حرا تو پہلے ہی بہت کمزور دل تھی مزید یہ صورتحال دیکھتے اسکے ہاتھ پاوں کانپنے لگے تھے۔۔۔ شمائل نے عبایا جھپٹتے اسے بعجلت پہنا۔۔۔ بس تم دعا کرنا ۔۔۔ جلدی جلدی الٹا سیڈھا عبایا پہن کر وہ بعجلت اسکی بات کاٹتی ہراساں نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھتی باہر نکلی۔۔۔
یونیورسٹی کے گیٹ کے پاس دیکھتے ہی یکدم اسکا دل گویا اچھل کر حلق میں آگیا ہو۔۔۔ سامنے ہی عدنان کے ساتھ ضامن اور علایہ بھی کھڑے تھے جبکہ اب وہاں پولیس کی موجودگی کے باعث سٹودینٹس کا جمگھتا بننے لگا تھا۔۔۔ وہاں سے گزرنا رسکی تھا مگر وہاں رہنا اس سے بھی زیادہ رسکی تھا آخر ڈکیٹی کا اتنا مضبوط کیس تھا وہ لوگ اسے تلاشنے کو کوئی نا کوئی منصوبہ بنا ہی لیتے وہاں سے گزرنا مشکل تھا تو وہاں رکنا موت تھا۔۔۔ لمحوں میں اسنے سود و زیاں کا حساب لگایا وہاں سے گزرنے کے پچاس فیصد چانسسز تھے مگر وہیں رکنے میں سو فیصد موت تھی۔۔۔
وہ مسلسل آیت الکرسی کا ودر کرتی اپنی ساری ہمت مجتمع کرتی مکمل اعتماد کیساتھ
مضبوط قدم اٹھاتی گیٹ کی جانب بڑھی وہ اپنے کسی عمل سےبھی مشکوک نہیں لگنا چاہتی تھی۔۔۔ چہرا وہ پہلے ہی نفاست سے کیے نقاب سے کے پیچھے چھپا چکی تھی۔۔۔
وہ لڑکی ابھی یونیورسٹی میں ہی ہے۔۔۔ یونیورسٹی کے باقی گیٹ بند کروا دیئے گئے ہے۔۔۔ نوفل اسے ڈھونڈ رہا ہے اور اگر وہ یہاں سے بھاگنے کی کوشیش کرے گی بھی تو اسے گزرنا یہاں سے ہی ہے آج اسکی فرار کے سبھی راستے بند ہیں۔۔۔ عدنان کے قریب پہنچنے پر اسے ضامن سے بات کرتے عدنان کی آواز سنائی دی تو بے ساختہ اسکے قدم لڑکھڑائے مگر وہ بر وقت سمبھلتی تیزی سے اسکے قریب سے گزری۔۔۔ وہ ضامن سے باتوں میں اسقدر مشغول تھا یا وہ شمائل کو عبایہ میں دیکھنے کی توقع نہیں کر سکتا تھا جو اسکا دھیاں پاس سے گزرتی لڑکی پر نا گیا۔۔۔ گیٹ سے نکلتے ہی وہ تیزی سے پولیس اہلکاروں کے پاس سے گزرتی سلور گاڑی کی جانب بڑھی۔۔۔ پری بھی اسے دیکھ چکی تھی اس لئے فورا گاڑی اسکی طرف لائی وہ کپکپاتے ہاتھوں سے گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھتی سر سیٹ کی پشت سے ٹکاتی لمبے لمبے سانس لیتی اپنا توازن بحال کرنے لگی۔۔۔ آنکھوں میں امڈی نمی کو اسنے ضبط سے پیچھے دھکیلا کیونکہ یہ وقت رونے کا نہیں بلکہ رلانے کا تھا اور وہ انہیں ایسا رلانے کا ارادہ رکھتی تھی کہ وہ دبارہ کسی لڑکی کو کمزور جاننے کی حماقت کبھی نا کرتے۔
*******
ارے فاطمہ آج میں بڑے مان سے تم لوگوں کے گھر کچھ مانگنے آئی ہوں۔۔۔ شام کے وقت رقیہ انکے گھر آئی تو شومئ قسمت آفتاب بھی گھر ہی تھا اور اسے یہ وقت ان سے بات کرنے کو مناسب لگا۔۔۔ رقیہ کے انداز سے وہ دونوں ٹھٹھکے۔۔۔۔ جی بھابھی کہیے۔۔۔ فاطمہ نے مروت نبھاتے مسکرا کر کہا۔۔۔
میں اپنے عتیق کے لئے گڑیا کا ہاتھ مانگنے آئی ہوں اور میں ہاں سن کر ہی واپس جاوں گی۔۔۔ ارے بیٹی بنا کر رکھوں گی گڑیا کو آخر اپنا خون ہے میرا۔۔ آج غیر متوقع طور پر رقیہ کی زبان سے پھول جڑ رہے تھے کہیں تو وہ اپنے بیٹوں کے لئے فاطمہ کی بیٹیوں کا نام تک سننے کی روادار نا تھی اور کہیں وہ آج اسکے در پر سوالی بن کر آئی تھی فاطمہ کیساتھ ساتھ آفتاب نے بھی اسے الجھ کر دیکھا جو ہاتھوں پر سرسوں جما رہی تھی۔۔۔
بس تم مجھے ہاں کرو میں ابھی گڑیا کے ہاتھ پر شگن رکھ کر اسے اپنے عتیق کی امانت بنا کر چھوڑ کے جاوں گی اور جلد ہی پوری تیاری کیساتھ شادی کی تاریخ لینے آوں گی۔۔۔ ارے بھابھی ہمیں سوچنے کا وقت تو دیں یہ کام اتنی جلد بازی میں نہیں ہوتے ۔۔۔ آفتاب نے اسکی جلد بازیاں ملاخظہ کرتے بیوی کی جانب دیکھتے کہا ۔۔۔۔
اندر اپنے نوٹس بناتی گڑیا نے سانس روکے باہر ہوتی ساری بات سنی تھی لمحوں میں اسکا میٹر گھوما تھا ساری مصلحتیں بالائے طاق رکھتے اسکے اندر کی باغی و خودسر لڑکی انگرائی لے کر جاگی تھی وہ پوائنٹر وہیں پھینکتی طیش میں جوتا پہنتی باہر کو نکلی ابھی تو وہ شمشیر کی بے غیرتی نہیں بھولی تھی کجا کہ تائی کا یہ عمل۔۔۔
ارے آفتاب کیسی بات کر رہے ہو۔۔۔ سوچنے سمجھنے کا کام غیروں میں ہوتا ہے اپنوں میں بھلا کیا سوچنا عتیق تمہارا اپنا خون ہے تم اسے بچپن سے جانتے ہو تو۔۔۔
جی بالکل ابا اسے بچپن سے جانتے ہیں اسی لئے یہ بھی جانتے ہیں کہ آپکے ہونہار بیٹے کے لئے انکی نالائق بیٹی کا کوئی جوڑ نہیں بنتا آپ نے ہمارے لئے اتنا سوچا آپکا بہت بہت شکریہ لیکن ہماری طرف سے نہ ہے۔۔۔ لحاظہ آپ اپنے لائق فائق سپوٹ کے لئے کہیں اور رشتہ دیکھ سکتی ہیں۔۔۔گڑیا نے صحن میں آتے ہی بنا ادب لحاظ رکھے طیش میں انکی بات کاٹتے کہا تو رقیہ نے ضبط سے مٹھیاں بھینچی۔۔۔ دل تو چاہا کہ لمحوں میں اس منہ پھٹ چنڈال کو اسکی اوقات دیکھا دے مگر وہ ابھی جذباتیت میں آ کر کوئی کام خراب نہیں کرنا چاہتی تھی اس لئے ضبط سے غصہ پی گی۔۔۔ ایک دفعہ یہ شادی ہو جاتی تو وہ دھنکے کی چوٹ پر اسکے سبھی کس بل نکال لیتی۔۔۔
کنواری لڑکیاں اس معاملے میں بولتی اچھی نہیں لگتی۔۔۔ تم دونوں اس بارے میں اطمیئنان سے سوچ لو میں صبح پھر آوں گی۔۔۔ رقیہ شہد آگیں لہجے میں پہلے گڑیا اور پھر ان دونوں سے کہتی باہر کو بڑھی۔۔۔ اس معاملے میں آپکو صبح تو کیا کبھی بھی آنے کی ضرورت نہیں۔۔ اسے باہر جاتے دیکھ گڑیا نے چلا کر کہا۔۔۔ رقیہ اسکی بکواس پر سر جھٹکتی دہلیز پار کر گئ کیونکہ جانتی تھی کہ اگر وہ وہاں رکتی تو ضرور کام خراب ہو جاتا اور ابھی وہ کوئی بدمزگی نہیں چاہتی تھی۔۔۔
بدزبان بد لحاظ تیری اتنی جرات کہ تو باپ کے ہوتے منہ بھر کے جواب دے۔۔۔ رقیہ کے گھر سے نکلتے ہی فاطمہ نے طیش سے اسکی جانب بڑھتے اسکے چہرے پر پوری قوت سے تماچہ دے مارا تھا۔۔۔ گڑیا لڑکھڑا کر پھٹی پھٹی نگاہوں سے ماں کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
اور ماریں مجھے امی۔۔۔ جان سے مار دیں چاہیں تو زندہ درگو کر دیں مگر اتنا ظلم مت کریں مجھ پر۔۔۔ مجھے بے حسوں کے گھر نا دیں۔۔۔ لمحے میں اسکا سکتا ٹوٹا تھا اور وہ ڈھاریں مار مار کر روتی پھٹ پڑی تھی۔۔۔
ابا۔۔۔ میں آپکی گڑیا ہوں۔۔ آپکی بیٹی۔۔۔ آپکی شہزادی۔۔۔ وہ ماں کو چھوڑ چارپائی پر بیٹھے بے بسی سے سر ہاتھوں میں تھامے باپ کے قدموں میں ڈھیر ہوتی انکے دونوں ہاتھ تھامتی التجائیہ گویا ہوئی۔۔۔
جب جہاں جس سے چاہیں نکاح پڑھوا دیں میں منہ سے ایک حرف تک نہیں نکالوں گی مگر مجھے نا قدروں کے گھر بھیجنے کا سوچیے گا بھی مت۔۔۔
بیٹتی یا بیٹا پیدا کرنا ہم انسابوں کے بس کا کام نہیں مگر یقینا کل کو بیٹی پیدا کرنے پر آپ میرا آسیہ جیسا حال ہوتے نہیں دیکھ سکیں گے۔۔۔
اور امی۔۔۔ وہ اپنے آنسو رگڑ رگڑ کر صاف کرتی اٹھ کھڑی ہوتی ساکت کھڑی ماں کی جانب بڑھی۔۔۔ آپ اسے بے غیرتی کہیں بد لحاظی کہیں بد زبانی کہیں یا منہ پھٹ ہونا مگر مجھے اپنا ہمسفر بالکل اپنے باپ جیسا چاہیے۔۔۔۔ جو بیٹیوں کو زحمت نہیں بلکہ رحمت مانے۔۔۔ جسکی بیٹیاں باپ کی شہزادیاں ہوں۔۔۔ جو خود زمانے کی ہر سرد و گرم خود پر سہتے اپنی بیٹیوں کو اپنے سائے تلے ہر آفت و مصیبت سے محفوظ رکھے وہ ایک دفعہ پھر بھل بھل بہتے آنسو پر بند باندھے بنا بہتی آنکھوں سمت کہتی اندر کو بھاگی۔۔۔ فاطمہ بیٹی کی باتیں سنتی ساکت سی وہیں بچھی چارپائی پر ڈھنے کے انداز میں بیٹھی۔۔۔ وہ خود بھی کبھی اپنی گڑیا بے قدروں میں دینے کا سوچتی بھی نا۔۔۔ آسیہ والا واقعہ اسے بھی خون کے آنسو رلا گیا تھا مگر گڑیا کا شدید رد عمل اسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر گیا تھا۔۔۔۔
*****
کہاں چھوڑوں تمہیں۔۔۔۔ میرا نہیں خیال کے تمہارا ہاسٹل جانا محفوظ ہوگا ۔۔ گاڑی روڈ پر فڑاتے بھرتی جا رہی تھی۔۔۔جبکہ شمائل ابھی تک سر سیٹ کی پشت سے ٹکائے آنکھیں مونڈے بیٹھی تھی جب ڈرائیو کرتی پری گویا ہوئی۔۔۔ اگر تم چاہو تو جب تک یہ معاملہ ٹھنڈا نہیں پڑ جاتا تم میرے فلیٹ پر رک سکتی ہو ۔۔ شمائل کے اسے خالی خالی نگاہوں سے دیکھنے پر وہ کندھے اچکاتی بولی لیکن شمائل کے پاس فلحال اس سے بہتریں کوئی آپشن نا تھا۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد وہ پری کی معیت میں اسکے فلیٹ میں داخل ہوئی وہ ایک چھوٹا سا دو بیڈ روم پر مشتمل فرنشڈ فلیٹ تھا۔۔۔
کافی دیر تک وہیں لاوئنج کے صوفے پر بیٹھی وہ ناخن چباتی مسلسل اسی واقع کے متعلق سوچتی رہی تھی۔۔۔ وہ پل پل حرا سے رابطے میں تھی۔۔۔۔ اور اسی سے اسے پتہ چلا تھا کہ شمائل کی یونیورسٹی میں موجود ریپوٹیشن کو دیکھتے انہوں نے یہ بات کھلنے نہیں دی تھی کہ پولیس یہاں شمائل کو اریسٹ کرنے آئی ہے شاید اس سے انہیں قابل اعتماد پرنسپل اور پروفیسرز کی شمائل کے حق میں موصول ہوتی گواہی سے کیس کمزور ہونے کا خدشہ تھا لحاظہ انہوں نے پرنسپل صاحب سے یہ کہہ کر کہ عدنان کی اکیڈمی سے پچاس لاکھ کی ڈکیٹی کے بعد ایک لڑکی یہاں چھپی ہے جس کے لئے یہاں پولیس آئی ہے وہاں چیکنگ کی اجازت لی تھی اور پھر یونیورسٹی کا چپہ چپہ چھان مار کر شمائل کو تلاشا گیا تھا صد شکر تھا کہ شمائل پہلے ہی وہاں سے جا چکی تھی۔۔۔ نوفل درانی کے سورس بہتریں تھے۔۔۔ اسکی پلانینگ پاور فل تھی ہر چیز وقت اور موقع کے حساب سے بہتر سے بہتریں تھی مگر سب ناکام ہوا تھا۔۔۔
کیونکہ سورس تو فرعون کے بھی بہتریں تھے۔۔۔ حضرت موسی کو پکڑنے کی پلانینگ اسکی بھی پاور فل تھی مگر ناکام گئ تھی کیونکہ سب سے بڑا پلینر تو اوپر بیٹھا ہے جو آخری وقتوں میں کھیل پلٹ دیتا ہے ۔۔ راستے تب بھی بہت تھے حضرت موسی کو سمندر پار کروانے کے مگر اللہ نے حکم دیا کہ ایے موسی پانی میں اپنا عصا پھینک۔۔۔ اس سے اس پاک ذات نے واضح کر دیا کہ بنا کوشیش کے فرشتے مدد کو نہیں اتریں گے۔۔۔ اللہ انسان کو اسکے گمان کے مطابق ہی عطا کرتا ہے اور سورہ نجم کی آیت جو اسکی فیورٹ آیت تھی جو ہمیشہ اسکی ہمت بندھاتی کہ انسان کو ہمیشہ وہی ملتا ہے جس کی وہ جستجو کرتا ہے۔۔۔ اس آیت میں اتنی طاقت تھی جو اسے کبھی ہارنے نہیں دیتی تھی۔۔۔ اسکا ایمان تھا کہ اسکے رب کی کہی ایک ایک بات حرف با حرف سچ ہے۔۔۔ اسے وہی ملنا تھا جسکی اسنے کوشیش کرنی تھی اور یہ ہی سوچتے ہمیشہ اسنے اونچا سوچا تھا اور جو سوچا تھا جس کی جستجو کی تھی وہ پایا بھی تھا چاہیے دیر سے سہی چاہیے کسی اور وقت میں ہی سہی مگر اس پاک کتاب کا لکھا حرف حرف ہر شک و شبہے سے بالاتر ہے۔۔۔ آج اسکا اپنے رب پر یقین اور پختہ ہو گیا تھا اب اس پر سجدہ شکر واجب تھا ۔۔۔
وہ وضو کرتی وہیں بنا جائے نماز کے شکرانے کے نوافل ادا کرتی اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو گی تھی۔۔۔ پری گم صم سی اسے دیکھے گی وہ اسکے فلیٹ میں اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہونے والی پہلی لڑکی تھی بلاشبہ پری کی آنکھیں اس منظر پر بے ساختہ نم ہوئیں وہ اسے اس جگہ پر اس پاک ہستی کا نام لینے سے روک دینا چاہتی تھی مگر اسکی محویت دیکھتی لب بھینچ کر رہ گئ۔۔۔
لو کھانا کھاو۔۔۔ اسکے نماز سے فارغ ہو کر صوفے پر بیٹھنے کے بعد پری کھانے کی ٹرے اٹھائے وہیں چلی آئی۔۔۔ کھانے سے ناراضگی اچھی نہیں ہوتی بلاشبہ پیٹ بھرا ہو تو ہی دماغ بھی کام کرتا ہے اسکی کھانے میں عدم موجودگی دیکھتے پری نے اسے ٹوکا۔۔
جب مجھے کھانے کی طلب ہوگی تب میں کھا لوں گی فلحال تم یہ بتاو تم ہمارے پلین پر کب عملدرامد ہوگی۔۔۔ اب یہ کام جلد از جلد لائحہ عمل میں لانا نہایت ضروری ہو گیا ہے۔۔۔ شمائل کھانے کی ٹرے ہاتھ سے پیچھے کھسکاتی اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ جس پر پری قہقہ لگاتی ہس دی۔۔۔ میری بھولی منہ بولی بہن۔۔۔ پلان پر کب کام شروع کریں گے نہیں بلکہ اس پر کام کب کیا۔۔۔
پری زاد کی سروس بری کوئیک ہوتی ہیں۔۔۔ لحاظہ خوش ہو جاو کہ پلان کا ایک حصہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے اب بس اسکا دوسرا حصہ باقی ہے۔۔۔ پری نے صوفے سے اٹھتے سٹینڈ سے لیپ ٹاپ اٹھایا۔۔۔ شمائل حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی جب اسنے واپس اسکے پاس صوفے پر بیٹھتے لیپ ٹاپ کی چند کیز دباتے اسکی سکرین شمائل کی طرف کی۔۔۔
اوہ مائے گاڈ پری زاد۔۔۔ یہ تم نے کب کیا۔۔۔ اٹس پرفیکٹ۔۔۔لیپ ٹاپ کی جانب دیکھتے لمحے میں چہرے پر چھائی پزمردگی شادابی میں بدلی تھی۔۔۔۔ وہ خوشی سے چہک اٹھی تھی۔۔۔ اس بات کو تم چھوڑو بس اس پلان کے دوسرے حصے کو پایا تکمیل تک پہنچانے کے لئے مجھے آج شام تک کا وقت دے دو ۔۔۔ مجھے امید ہے کہ پھر کل صبح تک تم اگلا سٹیپ اٹھا سکو گی ۔۔۔ ویسے آگے کیسے یہ سب کرنا ہے کیا تمہارے پاس اسکے متعلق کوئی پلان ہے۔۔۔ مطلب بہتریں صنعت کار اور ہائی سوسائٹی کے سپوتوں کے خلاف ایکشن لینا کوئی اتنا بھی آسان کام نہیں۔۔۔ پری نے اب اسے سنجیدگی سے اگلی درپیش صورتحال کا تجزیہ کروانا چاہا۔۔۔
فکر مت کرو پری۔۔۔ جس اللہ نے ابھی تک تمام راستے بنائے ہیں انشاءلله وہ آگے بھی بنا دے گا وہ کسی غیر مری نقطے کی جانب دیکھتی گویا ہوئی۔
______
