Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gumaan Se Agy (Episode 13)

Gumaan Se Agy By Umme Hania

حور کے لیے رضا کا رویہ ناقابل برداشت ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔ اس کے رضا کو دو ٹوک بنا لگی لپٹی رکھے بنا کسی لحاظ کے جواب دینے کے باوجود بھی اس کی مستقل مزاجی تھی کہ بڑھتی ہی جا رہی تھی ۔۔۔

وہ اپنے ہر ہر معاملے میں بھرپور ہٹ دھرمی دکھاتا اسے زچ کئے دے رہا تھا۔۔۔حور نے اس سے معمولی علیک سلیک بھی ختم کر دی تھی وہ جہاں اسے دیکھتی ماتھے پر بل ڈالتی اسے نظر انداز کرتی وہ راستہ ہی بدل دیتی لیکن رضا کو تو جیسے اظہار محبت کے بعد سے حور کو تنگ کرنے کا پرمٹ حاصل ہو گیا ہو۔۔۔ اسکے جذبات حور پر آشکار کیا ہوئے وہ اس معاملے میں کھل کر اسکے سامنے آ گیا تھا۔۔۔ محض چند ہی دنوں میں وہ حور کو ناک تک عاجز کر چکا تھا۔۔

رات کو سونے سے پہلے اور صبح اٹھنے کے بعد وہ لامتناہی میسجز حور کو سوری اور محبت کے اظہار کے بھیجتا لمحے لمحے بعد بجتی سیل فون کی نوٹیفیکیشن بیل اسکے ارد گرد موجود سبھی لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرواتی تھی ۔۔۔ مگر حور نے بھی اسے نظر انداز کرنے کی ٹھانی تھی جب میسجز آنے شروع ہوتے وہ فورا اسکا نمبر بلاک کر دیتی مگر وہ بھی اپنے نام کا ایک ہی تھا ہر بار وہ اسے ایک الگ نمبر سے میسجز کرتا اب اسنے میسجر کرنے کا وقت بھی بڑھا دیا تھا پہلے محض صبح و شام آنے والے میسجر اب وقفے وقفے سے سارا دن آتے رہتے۔۔۔ اگر ایک دن میں وہ اسکے سترہ نمبر بلاک کردتی تو دو منٹ کے اندر اندر وہ نئے نمبر سے میسجز کرنا شروع کردیتی۔۔۔ اپنا نمبر بند کرنے کا رسک وہ لے نہیں سکتی تھی اس سے اسکے بہت سے کام رک جاتے۔۔۔

تھک ہار کر اسنے موبائل کے نوٹیفکیشن ہی آف کر دیئے پورا ایک دن اسنے سکون سے گزارا لیکن شام میں موبائل چیک کرنے پر وہ بہت سی ضروری چیزوں کے بارے میں نوٹیفکیشن بیل بند ہونے کے باعث بروقت مطلع نہیں ہو پائی تھی۔۔۔ اپنی عقل کا ماتم کرتے اسنے نوٹیفکیشن بیل آن کی اور ساتھ ہی فون ٹون ٹون۔۔۔ کی مستقلاً آواز سے گھونج اٹھا۔۔۔

وہ بے بسی سے سر تھام کر رہ گئ۔۔۔ یہ شخص اس کے لئے وبال جان ثابت ہو رہا تھا۔۔۔ زندگی میں اسنے خود کو اتنا بے بس تصور کبھی نہیں کیا تھا جتنا اب کر رہی تھی۔۔۔

اسنے جو رضا کو اسکے ہر عمل پر نظر انداز کرنے کا ٹھانا تھا اب وہ سنجیدگی سے اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کر رنے کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔۔

اب اسے نظر انداز کر کے کام نہیں بننا تھا اب وہ اس سے مل کر بات کر کے بات ختم کرنا چاہتی تھی۔۔ اسنے کچھ سوچتے ہوئے گہری سانس خارج کی کہ بحرحال رضا اتنی سیدھی کھیر بھی نا تھی جو آسانی سے کھائی جا سکتی۔۔۔ یقینی بات تھی کہ وہ اسے تگنی کا ناچ نچانے والا تھا۔

******

گڑیا سکول سے واپس گھر آئی تو اسے گھر میں کسی غیر معمولی خاموشی کا احساس ہوا ۔۔۔ کیا بات ہے آپا ۔۔۔میرے پیچھے سے گھر میں کچھ ہوا ہے کیا اس نے اپنا بستہ پلنگ پر پھینکتے گم صم سی بیٹھی زنیرا سے دریافت کیا کیوں کہ اسے صحن میں کہیں بھی اماں یا عمیرا دکھائی نہیں دی تھی۔۔۔

زنیرا کے خاموشی اور سنجیدگی سے اسے دیکھتے رہنے پر گڑیا کو شدت سے کسی انہونی کا احساس ہوا اس کا دل زور سے دھڑکا تھا ۔۔۔

کیا بات ہے آپا دیکھیں مجھے سچ سچ ساری بات بتا دیں ۔۔۔۔مجھ سے کچھ بھی چھپانے کی ضرورت نہیں ہے وہ آپا کے پاس ہی پلنگ پر بیٹھتی اس کے دونوں ہاتھ تھام کر تشویش زدہ لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔ بتائیں نہ آپا میرا دل گھبرا رہا ہے خدارا مجھے بتا دیں کہ میرے پیچھے سے کیا ہوا ہے اس کے لہجے میں اندیشے پنپ رہے تھے ۔۔

ایک آنسو زنیرہ کی آنکھ سے ٹوٹ کر گرا تھا اور وہ رفتہ رفتہ گڑیا کو صبح درپیش سارا واقعہ سناتی گئ ۔۔ تایا اور تائی کی بےحسی اور خودغرضی کی چادر میں لپٹے نشتر۔۔۔ باپ کا جھکا سر ۔۔۔ ماں کی بے بسی ۔۔ باپ کے بے بس آنسو۔۔۔ گڑیا کو لگا اس کا دل غم سے پھٹ جائے گا ۔۔۔ اس کے اندر ایک لاوہ پک رہا تھا جو کسی بھی پل پھٹ کر بہہ نکلنے کو تیار کھڑا تھا ۔۔۔ وہ لوگ ہوتے کون تھے انہی کے گھر میں آکر اسی کے باپ کو ذلیل کر کے جانے والے ۔۔۔مٹھیاں بھینچتی خون آشام نگاہوں سے ایک جھٹکے میں وہ کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔

کہاں جا رہی ہو گڑیا۔۔۔ تمہیں خدا کا واسطہ ہے ہم لوگ پہلے ہی بہت بد نام ہو چکے ہیں زبان زد عام ہو گئے ہیں ہمارے قصے۔۔۔ خدارا اب ایسا کچھ مت کرنا کہ ہمارا لوگوں میں مزید تماشا بنے ۔۔۔

اسے جارحانہ تیوروں سمیت باہر نکلتے دیکھ زنیرا ایک جھٹکے سے ہوش میں آتی التجائیہ گویا ہوئی۔۔۔

گڑیا نے ضبط سے مٹھیاں بھینچتے آنکھیں کرب سے بند کی۔۔۔

بیٹا یہ جو تیرے اندر ایک لاوا پک رہا ہے نہ اسے یونہی شتر بے مہار بہنے دیے گی تو یہ تباہی مچا دے گا ہر طرف۔۔۔ ہوا کے دوش پر زینب بی بی کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تو اس نے آہستہ سے بند آنکھیں کھولیں۔۔۔ اس لاوے کو ایک سمت فراہم کر ۔۔۔ زبان سے لوگوں کو جواب دینا چھوڑ دے۔۔۔کتنوں کے ساتھ پورا اترے گئ تو۔۔۔ زبان سے اپنی بات سمجھانے نکلے گی تو گلی کا کتا بھی تیری بات پر اعتبار نہیں کرے گا عمل سے اپنی بات ثابت کر ۔۔۔۔

زینب بی پی کے الفاظ اس کے اندر جلتے بھڑکتے جذبات کو مزید ابھار رہے تھے ایک جھٹکے سے وہ واپس پلٹی اور بیڈ پر ڈھنے کے انداز میں بیٹھتی سسک اٹھی تھی۔۔۔

کپڑے تبدیل کر لو گڑیا میں تمہارے لیے کھانا لاتی ہوں ۔۔۔ اسے یوں بے بسی سے بیٹھ کر روتا دیکھ زنیرا نرمی سے گویا ہوئی۔۔۔

ابھی مجھے بھوک نہیں ہے آپا لگے گی تو میں خود ہی کھانا کھا لوں گی آپ فکر مت کریں ۔۔کچھ دیر تک رو کر دل کا غبار ہلکا کر لینے کے بعد اس نے سیدھے ہوتے ایک عظم سے اپنے آنسو صاف کیے ۔۔۔

زنیرہ کے سر ہاں میں ہلا کر باہر نکل جانے کے بعد اس نے جھٹکے سے اپنا بستہ کھینچتے اسے کھولا ۔۔۔اس لاوے کو ایک سمت فراہم کر بچے ۔۔۔ ان نے سختی سے آنکھیں میچ کر کھولی وہ اب اس لاوے کو ایک سمت ہی فراہم کرنا چاہتی تھی۔۔۔اگلے چار گھنٹوں تک مسلسل ایک ہی نشست میں بیٹھی اپنا کام کرتی نا صرف وہ اپنی دہرائی مکمل کرچکی تھی بلکہ ہر ہر کتاب کے دو دو ٹاپک مزید بھی تیار کر چکی تھی ۔۔۔ چار گھنٹوں بعد بھوک نے اپنے ہونے احساس پوری جزئیات سے دلایا اور کندھوں میں پڑنے والے کھچاو کے ساتھ ساتھ سر اور آنکھوں پر بڑھنے والے بوجھ کے باعث وہ پنسل کتاب کے اندر رکھے اسے بند کرتی اسی پر سر ٹکا گئ۔۔۔

میرے باپ پر انگلیاں اٹھانے والے ظالموں ایک دن تم لوگوں کو بھی اپنے باپ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہ کر دیا تو کہنا کہ میرا نام بھی گڑیا نہیں ۔۔۔

بے بسی کے آنسو اس پر حملہ آو ہوئے تھے۔۔ اس وقت اس میں اتنی ہمت نہ تھی کہ اٹھ کر کھانا ہی کھا سکتی دکھتے سر کے ساتھ وہ وہیں سر رکھے آنکھیں موند گی۔۔۔

*****

شمائل کی قسمت آج بھی اسکا ساتھ دے گئ تھی۔۔۔ اکیڈمی میں عدنان کے مینجر نے اسکا انٹرویو لیا تھا کیونکہ عدنان اپنی کسی سرگرمی کے چکر میں آج وہاں موجود نہ تھا۔۔۔ اسکا مینجر چونکہ اسکے ہر کارنامے سے آگاہ تھا اور وہ اس نئ آنے والی لڑکی کے بارے میں بھی معلومات رکھتا تھا اس لئے اسنے عدنان سے فون کال پر مزید اپ ڈیٹ لیتے اسے انٹرویو میں پاس کرتے اس جاب کا اہل ٹھہرایا تھا اور کل سے اسے جاب شروع کرنے کی ہدایات دی تھی۔۔۔

اس جاب کو حاصل کر کے وہ خوش تھی۔۔۔ نوفل درانی کے حوالے سے بھی وہ زرا پرسکون ہو گئ تھی کیونکہ اب دوبارہ اسکا سامنا نوفل درانی سے نہیں ہوا تھا مزید اسنے کوئی پیش قدمی بھی نہیں کی تھی ۔۔۔

واپسی پر وہ ہسپتال سے باقی رہتا ڈیٹا مکمل کر کے ہاسٹل لوٹی تھی واپس آتے آتے اسے رات کے آٹھ بج گئے تھے اور وہ خاصا تھک چکی تھی۔۔۔

ہاسٹل میں آج بون فائر تھا جسکی وجہ سے وہاں رات کے اس وقت بھی دن کا سمان تھا۔۔۔ شمائل نے اس ہنگامے سے بچ کر اپنے کمرے میں جانا چاہا لیکن حرا نے اسے راستے میں ہی دبوچ لیا۔۔۔

مصروف لوگوں کبھی کبھار اپنی مصروفیت ترک کرتے ماحول کا حصہ بھی بن جانا چاہیے ۔۔۔ وہ اسکے گلے میں بازو حائل کرتی اسکے نا نا کرنے کے باوجود بھی اسے باہر صحن میں لے آئی جہاں بون فاِئر کا انتظام تھا۔۔۔۔

خبردار جو آج تم اپنی مصروفیت کا رونا روتی فنگشن ختم ہونے سے پہلے اٹھ کر یہاں سے گئ تو۔۔۔ شمائل کو کچھ کہنے کے پر تولتے دیکھ حرا نے آنکھیں نکالتے انگشت اٹھا کر وارن کیا۔۔۔ اسکا حتمی انداز دیکھتے شمائل ایک گہرا سانس خارج کر کے رہ گئ ۔۔۔ کئ بار اپنے سے وابسطہ مخلص لوگوں کی خوشی کی خاطر اپنے ہی بنائے اصولوں پر سمجھوتا بھی کرنا پر جاتا ہے وہ بھی اسکی بات مانتی خاموشی سے بیٹھ گئ تو حرا بھی کچھ پر سکون ہوئی۔۔۔ شمائل اپنے پسندیدہ مشغلے یعنی کے لوگوں کو خاموشی سے آبزرو کرنے میں مصروف ہو چکئ تھی۔۔۔

تیز آواز میں چلتا میوزک۔۔۔ اجتماعی اور انفرادی سیلفیاں لیتی خوش باش لڑکیاں۔۔۔ قہقے۔۔ لاپرواہیاں ۔۔۔ بے فکرا پن۔۔۔۔

یہ قوم کا مستقبل کن کاموں میں وقت تباہ کر رہا تھا۔۔۔ کیا انہیں وقت کی اہمیت کا بالکل احساس نہ تھا۔۔۔ کیا انہیں رتی برابر پرواہ نہ تھی کہ وہ کیا کھو رہی ہیں کہ یہ وقت جو ریت کی مانند ہاتھوں سے پھسل رہا تھا وہ کبھی انکے پاس پلٹ کر واپس نہیں آئے گا۔۔۔ کیوں لوگ کنویں کے مینڈک بنے اپنے مدار سے اپنے کمفرٹ زون سے نکلنے کو تیار نہ تھے۔۔۔ کیوں لوگ برسوں سے چلی آ رہی ایک ریت کہ کسی بنے بنائے پلیٹ فارم پر چند ہزار کی نوکری کرنے سے آگے بڑھتے اپنا کوئی پلیٹ فارم اسٹیبلش کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔۔۔

شاید صبر کی کمی یا نالج کی کمی کے باعث۔۔۔ لیکن یہ دونوں ہی چیزیں ناممکن تو نہیں تھیں۔۔۔ آج کے جدید دور میں تو ہر چیز تک رسائی باآسانی ممکن تھی۔۔۔ کسی بھی چیز کے بارے میں نالج تو محض ایک کلک کی دوری پر تھا۔۔۔ پھر کیا وجہ تھی۔۔۔ شاید آرام طلبی اور کام چوری اس قوم کی نس نس میں سرائیت کر گئ تھی بالکل ایسے جیسے سلطنت مغلیہ کے اعلی عہدیداروں میں سرائیت کر گی تھی۔۔۔ جب تک وہ چوست و چابند رہے اپنے ہر کام میں مںنظم اصول پسند اور پہاڑوں سے ٹکرا کر انہیں ریزہ ریزہ کر دینے والے تب تک وہ پوری دنیا پر حکمرانی کرتے رہے جیسے ہی انکی اگلی نسل عش و عشرت میں پر کر آرام طلبی کے ہمراہی بنی اپنے اصل سے ہٹی وہ زوال پزیر ہوگئے۔۔۔ شاید ہمارے بھی ترقی نہ کرنے کے پیچھے یہ ہی وجہ تھی۔۔۔ وہ ایک جگہ پر بیٹھی باریک بینی سے ارد گرد کا مشاہدہ کرتی مسلسل یہ ہی سوچ رہی تھی جب حرا کے متوجہ کرنے پر چونکی جو اسے کھانے کے لئے بلا رہی تھی

*********

اسکی آنکھ صحن سے آتی آوازوں پر کھلی تھی۔۔۔ نیند سے جاگنے کے باعث ابھی اسکے دماغ نے ماحول سے مانوس ہوتے کچھ وقت لیا تھا لیکن ماحول سے مانوس ہوتے ہی اسکا دماغ ان ساری باتوں کو سمجھنے لگا جو محلے کی ایک خاتوں اسکی ماں سے کر رہی تھی جنہیں سنتی وہ ماتھے پر بل ڈالتی ایک جھٹکے سے آٹھ بیٹھی ۔۔۔

ارے فاطمہ جب اولاد ہی منہ زور ہو جائے تو بھلا ماں باپ بھی کیا کر سکتے ہیں۔۔۔ ویسے برا نا منانا تمہاری یہ بیٹی شروع سے ہی باغی فطرت کی حامل تھی اب بھی اپنی ضد منواتے اسے باپ کے جھکے سر اود سفید ہوتے بالوں کا بھی احساس نہ رہا۔۔۔ ارے قرب قیامت کی نشانیاں ہیں سب۔۔۔ خون سفید ہو گیا ہے۔۔۔ اللہ کسی کی بیٹی کو اتنا منہ زور نہ بنائے۔۔۔ ارے میری بھی تو بیٹی ہے رمشہ مجال ہے جو میری بات سے انحراف کر جائے۔۔۔ وہ عورت جوش و خروش سے شاید نہیں یقیناً گڑیا کی ہی شان میں قصیدے پڑھ رہی تھی۔ کمرے میں بیٹھی گڑیا نے کرب سے ہونٹ بھینچتے اپنے آنسو پیچھے دھکیلے۔۔۔ ناجانے لوگ جینے کیوں نہیں دیتے تھے۔۔ دوسروں کے گھروں میں مداخلت کر کے انہیں کونسی تسکین حاصل ہوتی تھی۔۔ یہ سفر واقعی بہت خار دار تھا۔۔۔۔ جگہ جگہ بار بار اسے لہو لہاں کرتا ہوا۔۔۔ اسکی ہمت سفر کے آغاز میں ہی ٹوٹنے لگی تھی۔۔۔۔ ناجانے کب جا کر وہ اس مقام پر پہنچتی جب وہ لوگوں کی زبانوں کو بند کروا دینے کے قابل ہوتی۔۔۔ جب اسکے باپ کو اس ہر فخر ہوتا ۔۔۔ ناجانے وہ لمحہ اسے کب نصیب ہوتا جب اسکے باپ کی آنکھوں میں اس کے لئے چمک ہوتی اس لمحے کو پانے کے لئے وہ اپنی پوری زندگی تیاگنے کو تیار تھی ۔۔۔۔ہاں گڑیا اتنی ہی محبت کرتی تھی اپنے باپ سے۔۔۔ شاید اپنے آپ سے بھی زیادہ شاید پوری دنیا سے زیادہ۔۔۔ وہ اس ایک لمحے کو پانے کے لئے اپنا آپ مٹا سکتی تھی ہر حد سے گزر سکتی تھی۔۔۔۔۔

فاطمہ زنیرا کے لئے کوئی رشتہ دھونڈ کر اسکے ہاتھ پیلے کردو اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے کہیں گڑیا کی خودسری تمہاری دوسری بیٹیوں کے سامنے رکاوٹ نہ بن جائے۔۔۔ وقت رہتے انہیں انکے گھر کا کر دو۔۔۔ ویسے تو میں نے رقیہ سے بھی بات کی تھی کہ جب لڑکے گھر میں موجود ہیں تو پھر باہر ڈھونڈے کا فائدہ۔۔۔ وہ اپنے شمشیر کے لئے زنیرا کا ہاتھ مانگ لے۔۔۔ مگر وہ تو کانوں کو ہاتھ لگانے لگی۔۔۔۔ بھئ اپنے بیٹوں کی شادیوں کے لئے اسکا معیار بہت بلند ہے۔۔۔ مزید اسکا کہنہ یہ ہے کہ وہ ایسی ماں کی بیٹی سے اپنے بیٹوں کی شادی ہرگز نہیں کرے گی جس نے بیٹیوں کی لائنیں لگا دی ہوں کہ اسکی بیٹیاں بھی ماں کے نقش قدم پر چلتی محض بیٹیاں ہی پیدا کریں گئ۔۔۔

وہ عورت مسلسل زہر اگل رہی تھی۔۔۔ جبکہ اندر بیٹھی گڑیا کی ہمت اب جواب دینے لگی تھی۔۔۔ جب تک بات اسکی ذات تک محدود رہی وہ خاموشی سے سہتی رہی مگر اب باہر نکل کر اس عورت کا منہ بند کروانا ناگزیر ہو گیا تھا۔۔

اسکی تائی نے تو ایسے تیروں سے وار کیا تھا جو ان تک پہچنے سے پہلے راستے میں ہی گر گئے تھے مگر وہ عورت تائی کی باتیں اسکی ماں کو بتاتی گویا ان گرے ہوئے تیروں کو پوری قوت سے اسکی ماں کے سینے میں پیوست کر رہی تھی۔۔۔۔ وہ کیسے نہ بلبلاتی۔۔

اسکی تائی کو اپنے آوارہ بیٹے دکھائی نہیں دیتے تھے جبکہ اسکی ہیرا صفت بہنیں اسے اپنے معیار کی نہ لگتی تھیں۔۔۔ گڑیا کا دل چاہا کہ ابھی تائی کے سامنے جاتی اسے باور کرواتی کہ انکے آوارہ بیٹے اسکی بہنوں کے قابل نہیں۔۔۔

آپ فکر مت کریں خالہ۔۔۔ میری بہنوں کے رشتوں کے سبب اللہ بہت جلد بہت بہتر اور اچھی جگہ پر بنا دے گا۔۔۔ میری بہنوں کے معیار کے لڑکے تو اس پورے گاوں میں کہیں نہیں۔۔۔ کمرے سے باہر نکلتے وہ با آواز بلند گویا ہوئی تو اس عورت کیساتھ ساتھ فاطمہ بھی چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔

پہلی بات کہ کنواری لڑکیوں کے منہ پر شادی اور لڑکوں کی باتیں زیب نہیں دیتی پر تمہاری تو بات ہی الگ ہے تم ان سب سے مبرا ہو ۔۔۔ وہ عورت منہ بناتی طنزیہ گویا ہوئی۔۔۔ دوسری بات کہ زیادہ اچھے معیار دیکھنے لگی تو بہنوں کیساتھ ساتھ خود بھی باپ کی دہلیز تھامے بیٹھی رہو گئ۔۔۔

فاطمہ تمہاری بیٹی کی زبان ضرورت سے زیادہ ہی لمبی ہے۔۔۔ چلتی ہوں میں۔۔ بہت کام ہیں مجھے۔۔۔ بات یوں درمیان میں کاٹے جانے پر وہ عورت خاصا بدمزہ ہوئی تھی اسی لئے سر جھٹکتی وہاں سے اٹھتی گویا ہوئی اس کے جانے کے بعد فاطمہ سر تھام کر بیٹھی رہ گی حالات اسکی سمجھ سے بالاتر ہوتے جا رہے تھے جبکہ گڑیا سب کچھ نظر اندازکرتی کچن کی جانب کچھ کھانے کو بڑھی کیونکہ اب اسکا بھوک سے برا حال تھا۔

********