Gumaan Se Agy By Umme Hania Readelle50343 Gumaan Se Agy (Episode 19)
No Download Link
Rate this Novel
Gumaan Se Agy (Episode 19)
Gumaan Se Agy By Umme Hania
تقریبا آدھے گھنٹے کے جان غسل انتظار کے بعد احمر کا فون اسے آیا تھا ۔۔۔اس نے بنا تاخیر کے فون اٹھایا کام ہوگیا ہے شمائل۔۔۔۔ وکیل نے تمہاری عبوری زمانت کروا دی ہے لیکن صرف ایک ہفتے کی۔۔۔ اگلے ہفتے تمہاری ضمانت کینسل ہو جائے گی۔۔۔ شمائل نے بے ساختہ آنکھیں بند کرتے اپنے رب کا شکر ادا کیا ۔۔۔ اسکے پاس اس میس سے نکلنے کو ایک ہفتہ تھا ۔۔۔ اسے جو کرنا تھا اسی ہفتے میں۔کرنا تھا۔۔۔
آپکا بہت بہت شکریہ احمر اگر کبھی زندگی میں موقع ملا تو میں آپکا یہ احسان ضرور۔چکاوں گی ۔۔۔
زرا پرسکون ہوئی تھی تو اب بھوک زوردارنہ انداز میں حملہ آور ہوئی تھی۔۔۔ سب سے پہلے اسنے ہر کام کو بالاتر رکھتے میس کا رخ کیا۔۔۔ پیٹ بھر کر ناشتہ کرنے کے بعد وہ اب ہاتھ میں ایک کارڈ تھامے اس سے نمبر دیکھ کر موبائل میں ڈائل کر رہی تھی۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔ دوسری جانب فون اٹھائے جاتے ہی اسنے سلامتی بھیجی۔۔۔۔ اب اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ مخاطب سے کیا بات کرے کیونکہ وہ اسکے نام تک سے نا بلد تھی ۔۔
مس میں وہ ہوں جو تین دن پہلے آپ کے ایکسیڈینٹ ہونے پر آپکو ہسپتال لے کر گئ تھی۔۔ شمائل نے ماتھے پر ہاتھ پھیرتے تعارف کے مراحل طے کئے۔۔۔
اوہ اچھا ۔۔۔ کیسی ہو تم پیاری لڑکی۔۔۔ دوسری جانب سے بھرپور حیرت نما خوشی کا اظہار کیا گیا۔۔۔
آپکا نام۔۔۔ شمائل نے شش وپنج سے دریافت کیا۔۔ پری ذاد۔۔۔ تم بتاو تمہیں میری یاد کیسے آئی۔۔۔ کھنکتا بھرپور لہجہ اسکے اس روز کے ردعمل سے بالکل میل نہیں کھا رہا تھا۔۔۔
میں آپ سے ملنا چاہتی ہوں۔۔۔ شمائل ہمت پکڑتے گویا ہوئی۔۔۔ مجھے سے ملنے کی خواہش کوئی شریف زادی تو کر نہیں سکتی۔۔۔ خیریت ہے نا۔۔۔ حیرت و انبساط میں ڈوبی آواز ایئر پیس سے ابھری۔۔۔
یہ تو آپ سے ملوں گی تو ہی بتاوں گی۔۔۔ میں ٹھیک ایک گھنٹے بعد آپ سے ریسٹورنٹ میں ملوں گی ایڈریس میں آپکو سینڈ کرتی ہوں۔۔۔ شمائل کا انداز بے حد پراسرار تھا ۔
******
واو آپی موبائل تو آپکا بڑا خوبصورت ہے۔۔۔ موجیں ہیں بھئ آپکی تو۔۔۔ پہلے زنیرہ آپی اور اب آپ۔۔۔ گڑیا پلنگ پر اونڈھے منہ لیٹی ٹانگیں جھلاتی عمیرا کا موبائل دیکھ رہی تھی تبھی کمر پر پڑنے والے دھموکے سے کراہ کر سیدھی ہوئی۔۔ بد تمیز لڑکی عمیر کو کمرے میں تم لے کر آئی تھی نا۔۔۔ تمہیں ذرا ڈر نہیں لگا اگر تمہیں کوئی دیکھ لیتا تو۔۔۔ مصروفیت بھرے دن کے بعد عمیرا کو اب وقت ملا تھا گڑیا سے حساب بے باک کرنے کا تو اب وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھے آنکھیں چندھی کئے اسکے سر پر کھڑی تھی۔۔۔
تبھی موبائل پر بیل بجی تو عمیرا یوں بدک کر پیچھے ہٹی جیسے سانپ دیکھ لیا ہو۔۔۔ ارے آپی آپکی کال آ رہی ہے۔۔ فون اٹھائیں۔۔۔ گڑیا نے اسکے ہوائیاں اڑے چہرے کو دیکھتے خط لینے والے انداز میں کہا تو وہ گھبرائی سی اسی سے مدد طلب کرنے لگی۔۔
اب کیا کروں گڑیا۔۔۔ میں کیسے ان سے بات کروں اور کیا بات کروں ۔۔۔ وہ بھی تب جب امی ابھی سرے سے اس فون کے بارے میں کچھ جانتی ہی نہیں۔۔۔ وہ رونکھی صورت بنائے مسلسل فون کو گھور رہی تھی جو کہ بج بج کر چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔
آپ رکیں میں کچھ کرتی ہوں۔۔ بلآخر گڑیا کو بہن پر ترس آیا تو خود ہی کال اٹھا کر فون کان سے لگایا۔۔۔
اسلام علیکم عمیر بھائی کیسے ہیں آپ۔۔۔ فون اٹھاتے ہی وہ عمیر کو اچھے سے باور کروانے کو کہ وہ عمیرا نہیں چہکتی ہوئی خود ہی گویا ہوئی۔۔۔
آپی نا دراصل کچن میں رات کے کھانے کی تیاری کر رہی ہیں آپ ان سے رات دس بجے کے بعد بات کر لیجیئے گا۔۔ ادھر ادھر کی چند باتیں کرنے کے بعد اسنے عمیر کو کال کے لئے وقت بتایا تو عمیرا اسے گھور کر رہ گئ کیونکہ کال چلنے کے دوران اسے کچھ کہہ تو سکتی نہیں تھی۔۔۔
چلیں پیاری اپیا۔۔۔ آپکا یہ مسلہ بھی حل کرتے ہیں۔۔۔ فون سننے کے بعد وہ فون کو واپس اسکے ڈبے میں ڈالتی جوتا پہنتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ کہاں۔۔۔۔ عمیرا اسکی جلدبازیاں دیکھتی ہونق بنی گویا ہوئی۔۔۔ باہر امی کے پاس۔۔۔ اس فون کا مسلہ حل کرنے تاکہ آپ بھیا سے بات کر سکیں۔۔۔ وہ باہر جاتی جاتی رک کر پلٹی۔۔۔
پاگل ہو تم ۔۔۔ باہر ابا بھی ہیں۔۔۔ تم ابا کے سامنے بات کرو گی۔۔۔ عمیرا کا اسکی عقل پر ماتم کرنے کو دل چاہا۔۔۔
تو ابا بھی تو ہمارے ہی ہیں۔۔۔ اور آپکو کیا لگتا ہے امی ابا سے پوچھے بنا آپکو اجازت دے دیں گی۔۔۔ اچھی بات یے ابا کے سامنے ہی بات ہو جائے۔۔۔ اسنے کندھے اچکاتے کہا تو عمیرا کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے۔۔۔ مم۔۔۔ میں نہیں جا رہی باہر۔۔۔
ٹحیک ہے مرضی آپکی میں تو چلی۔۔ وہ گڑیا تھی جس نے کبھی بڑی سے بڑی بات کو سر پر سوار نہ کیا تھا تو اتنی سی بات کی کیا ٹینشن لیتی۔۔۔ وہ جا چکی تھی مگر عمیرا وہیں کھڑی ناخن چباتی کمرے کے ادھ کھلے کواڑ سے اچک اچک کر باہر کا منظر دیکھ رہی تھی جہاں ابا چولہے کے پاس ہی فرشی نشست پر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے اور امی بھی پاس ہی بیٹھی تھیں۔۔ تبھی اسنے گڑیا کو وہاں جا کر پر سکون انداز میں بیٹھتے دیکھا۔۔
امی یہ موبائل فون ہے اسنے بڑے سکون سے وہ ڈبہ ماں کے پاس فرش پر رکھا اور پاس پڑی چنگیر سے روٹی اٹھا کر امی کی ہی پلیٹ سے سالن لے کر کھانے لگی۔۔۔
یہ کہاں سے آیا۔۔۔ امی نے ماتھے پر بل ڈالے اسے دیکھا جبکہ آفتاب بھی ہاتھ روکے بیٹی کو دیکھنے لگے۔۔۔ یہ مجھے عمیر بھیا نے دیا تھا عمیرا آپی کو دینے کے لئے وہ کہہ رہے تھے کہ وہ امریکہ جا کر بھی آپی سے بات کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔ وہ بنا انکی جانب دیکھے بڑی رغبت سے کھانا کھا رہی تھی۔۔۔ جبکہ ابا اسکی بات سن کر ایک گہری سانس خارج کرتے آخری نوالا لے کر اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔۔ ویسے امی اس میں اتنی کوئی معیوب بات بھی نہیں نکاح تو ہو ہی چکا ہے تو دونوں بات کر سکتے ہیں۔۔۔ آخر شرعی حق رکھتے ہیں دونوں ہم انہیں روک نہیں سکتے۔۔ یہ تم اتنی بڑی بڑی باتیں کہاں سے سیکھ رہی ہے۔۔۔ کنواری لڑکیوں کو ایسی باتیں ذیب نہیں دیتی ۔۔ پھٹکار برستی ہے چہرے پر ۔۔ اللہ معصومیت چھین لیتا ہے۔۔۔ فاطمہ نے بیٹی کو پٹر پٹر بولتے دیکھ اڑے ہاتھوں لیا تھا۔۔۔
جج۔۔۔جی ۔۔۔ امی ۔۔۔ زندگی میں پہلی مرتبہ گڑیا کی زبان اٹکی تھی۔۔۔ معاملہ ایسا تھا جس پر وہ ماں کے سامنے بحث نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ وہ اس معاملے میں اپنے گاوں کے سخت اور کٹر اصول جانتی تھی۔۔۔
عمیرا کو بھیجو میرے پاس۔۔۔ وہ بعجلت بڑے بڑے نوالے لے کر کھانا مکمل کرتی اٹھی تو امی کی آواز پر سر ہلاتی اندر کی جانب بھاگی۔
*****
بس جوتے پڑوانے کی کسر رہ گئ تھی آپی ۔۔۔ آپ نے بھی ناجانے کون سے بدلے چن چن کر لئے ہیں مجھ سے۔۔۔ گڑیا کمرے میں آتی دھپ سے بیڈ پر گرتی منہ بسور کر گویا ہوئی۔۔۔ جائیے آپکا بلاوا آیا ہے۔۔۔ اگر آپ پہلے ہی امی سے خود ہی بات کر لیتیں تو میری اتنی درگت نا بنتی۔۔۔ حالانکہ امی اتنی جلاد صفت کبھی بھی نہیں رہی کہ ہم ان سے کوئی بات نا کر پائیں۔۔۔
گڑیا کی باتیں سن کر وہ مرے مرے قدم اٹھاتی باہر ماں کے پاس آئی۔۔۔ جی امی آپ نے بلایا۔۔۔ اسکے منمنا کر پوچھنے پر امی نے کھانے کی طرف اشارہ کرتے اسے بیٹھنے کو کہا اور اسے سالن ڈال کر دیا تو وہ خاموشی سے کھانا کھانے لگی۔۔۔ اس موبائل کا پتہ ہے تمہیں۔۔۔ امی کے پوچھنے پر اسنے جھکا سر ہاں میں ہلایا۔۔ یہ عمیر نے گڑیا کو دیا تھا پتہ نہیں وہ اس سے پوچھ رہی تھیں یا بتا رہی تھیں وہ سمجھ نا پائی مگر۔وہ ماں سے جھوٹ نہیں بول سکتی تھی یہ بات طے تھی۔۔۔ اس لئے نم آنکھوں سے سر جھکائے نفی میں ہلا گئ۔۔۔
مطلب۔۔۔ فاطمہ بیٹی کی اس حرکت پر الجھی۔۔۔ مطلب کہ فون انہوں نے گڑیا کو نہیں بلکہ مجھے خود دیا تھا۔۔ پھر وہ آہستہ آہستہ ماں کو ساری بات بتاتی چلی گئ۔۔۔ جسے سن کر فاطمہ سر تھام کر رہ گئ۔۔۔ اس گڑیا کا دماغ تو میں ابھی سیٹ کرتی ہوں۔۔۔ کیا سوچ کر یہ ہر کام میں ٹانگ اڑاتی پھرتی ہے۔۔۔ فاطمہ غصے سے اٹھنے لگی تھی جبکہ عمیرا نے بے ساختہ انکے گھٹنے پر ہاتھ۔رکھتے انہیں منت بھرے انداز میں دیکھتے روکا۔۔
نہیں امی پلیز آپ اسے کچھ مت کہیں۔۔۔ اسنے جان بوجھ کر کچھ نہیں کیا۔۔ اگر آپ اجازت نہیں دیں گی تو میں اس فون کو دوبارہ ہاتھ تک نہیں لگاوں گی۔۔۔ بیٹی کے ملتجی لہجے پر فاطمہ نے ایک گہری سانس خارج کی۔۔۔ ٹھیک ہے اگر اسکی یہ ہی مرضی ہے تو ایسے ہی صحیح۔۔ آج نہیں تو کل جانا تو اسی کے گھر ہے۔۔۔ فاطمہ کے اجازت دینے پر عمیرا کو اپنے سر سے ایک بوجھ ہٹتا مجسوس ہوا۔
*****
کیا۔۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔ وہ تفتیش سے پہلے ہی اپنی ضمانت کیسے کروا سکتی ہے۔۔۔ نوفل درانی غصے سے پھٹ پڑتے دماغ کیساتھ مسلسل ادھر سے ادھر چکر لگا رہا تھا۔۔۔ جب سے اسے شمائل کی ضمانت کا پتہ چلا تھا اسکا بس نہ چل رہا تھا کہ کیا سے کیا کر دیتا جیسے بھی کر کے اس کی ضمانت کینسل کروا وہ غصے سے پھنکارتا مزے سے ناشتہ اڑاتے عدنان کے سامنے آکر پھٹ پڑا ۔۔۔۔ او بھائی اگلے ہفتے سے پہلے ضمانت کینسل نہیں ہو سکتی اس لئے سکون سے بیٹھ اور تو بھی ناشتہ کر اب جو بھی ہو سکتا ہے اگلے ہفتے ہی ہو سکتا ہے ۔۔۔ عدنان کا اتنا ٹھنڈا انداز اسے آگ ہی لگا گیا ۔۔۔ سن میرے بھائی یہاں سب بکتا ہے ایس ایچ او سے لے کر ایس پی ڈی ایس پی حتی کہ کمشنر بھی۔۔۔۔
پیسہ لگاؤ اور جیسے بھی کر کے اس کی ضمانت کینسل کروا وہ بھی اس کے علم میں لائے بنا وہ اس کے سامنے موجود میز پر زوردارانہ انداز میں ہاتھ مارتے اس کی آنکھوں میں دیکھتے چبا چبا کر گویا ہوا ۔۔۔
یہ کام کل صبح تک ہو جانا چاہیے اور یاد رکھنا کہ اس کے علم میں لائے بنا۔۔۔ اور اسکی لاعلمی میں اسے اریسٹ کروانا پھر میرا کام ہوگا ۔۔۔۔ اس وقت اس کی آنکھوں میں ایسی سردمہری تھی کہ ان آنکھوں میں دیکھتا عدنان بھی ایک پل کو لرز کر رہ گیا نہ جانے اس لڑکی سے یہ اسکی کیسی چڑ تھی جو اس کے اندر لگی آگ کو بجھنے ہی نہیں دے رہی تھی
****
