Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gumaan Se Agy (Episode 4)

Gumaan Se Agy By Umme Hania

حور سے اسکا غائبانہ تعارف کوئی اتنا پرانا بھی نا تھا گزرے دنوں کی ہی بات تھی جب وہ اپنے سی ایس ایس کے امتحانات کے نتائج دیکھ رہا تھا۔ ۔۔

وہ ایک شاندار اکیڈمی ریکارڈ کا حامل سٹودینٹ تھا۔ ۔

اسکا آئی کیو کمال تھا۔ ۔۔ اسکی

Learning abilities تھی بہتریں

اور ان تمام خصوصیات کیساتھ اسنے زندگی میں پہلی مرتبہ کسی چیز کو سنجیدگی سے لیتے اپنا سو فیصد سی ایس ایس کے امتحانات کی تیاری پر لگایا تھا لیکن اس کے باوجود وہ سی ایس ایس کے تحریری امتحانات میں دوسرے نمبر پر رہا تھا یہ اسکے لئے شدید جھٹکا تھا۔۔۔

پہلے نمبر پر کون تھا اس چیز کا تجسس اس میں لا شعوری طور پر ابھرا تھا اور تب پہلے نمبر پر ایک لڑکی کو دیکھ کر اسکی مردانہ انا پر ایک قاری ضرب لگی تھی۔۔۔

وہ تہہ کر چکا تھا کہ وہ باقی جگہ پر امپروومنٹ دیکھا کر حور نامی شخصیت سے اپنی پوزیشن تبدیل کر لے گا۔۔۔ مگر یہاں بھی اسکا ارادہ محض ارادہ ہی ثابت ہوا کیونکہ چند ہفتے بعد شروع ہونے والے انٹیلجینس انٹرویو اور سائیکولوجیکل ٹیسٹ کے دوران بھی وہ سر توڑ کوشیشوں کے باوجود بھی تحریری امتحان کے نتائج کو تبدیل نہیں کر پایا تھا۔۔۔

لاشعوری طور پر وہ ہر ٹیسٹ کے دوران اس حور نامی لڑکی سے ملنے کا خواہشمند تھا مگر قدرتی طور پر انکا سامنا کہیں نا ہو پایا۔۔۔

فائنل رزلٹ میں پہلے دس امیدواروں کی لسٹ میں سے محض پہلی دو پوزیشنر پر موجود امیدوار ہی ایسے تھے جنہیوں نے اپنی پوزیشنز کو برقرار رکھا تھا باقی سبھی امیدواروں کی پوزیشنز فائنل رزلٹ میں بدل چکی تھی اور پہلے بیس امیدواروں میں سے سوائے ایک حور نامی شخصیت کے اور کوئی لڑکی نا تھی اور یقینی طور پر ہیڈ آف ڈا ٹیبل پر ایک لڑکی کو دیکھنا رضا کیساتھ ساتھ باقی تمام پاکستانی مردوں کی انا پر بھی ایک تازیانہ تھا۔۔۔

رضا کو اس ایک ان دیکھے وجود سے جیسے چڑ سی ہونے لگی تھی۔۔۔ وہ ہر جگہ نمایاں رہا تھا۔۔۔ دادو تحسین حق سمجھ کر وصولتا رہا تھا مگر اس جگہ پر کوئی اس سے بھی اوپر تھا اس سے بھی ایک قدم آگے یہ چیز وہ ہضم نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔۔ اس کا خیال تھا کہ اسکے اور حور کی پرسنٹ ایج میں پوائنٹ کے بعد کچھ مارکس کا فرق ہوگا لیکن اسکی یہ خوش فہمی بھی محض خوش فہمی ثابت ہوئی کیونکہ اسکی اور حور کی پرسنٹ ایج میں واضح فرق تھا اور دوسری پوزیشن حاصل کرنے کے بعد یہ اسکی انا پر ایک اور قاری ضرب تھی۔۔۔

حور کو دیکھنے کا اتفاق اسے ایک اخبار میں ہوا تھا جہاں پر اسکا انٹرویو سی ایس ایس کی ٹاپر کے طور پر چھپا تھا۔۔۔ وہ ایک خوبصورت چہرا تھا۔۔۔ ایسا چہرا جسے کوئی آگر ایک بار دیکھتا تو دوسری بار ضرور اسے دیکھنے کی خواہش کرتا۔۔۔۔ رضا کو وہ چہرا بہت شناسا لگا جیسے وہ اس لڑکی کو پہلے سے جانتا ہو۔۔۔ مگر آخری حد تک سوچ کے پرندے دوڑا لینے کے بعد بھی اسے یاد نا آسکا کہ اسنے حور کو کہاں دیکھا ہے۔۔۔

اسنے انٹرویو میں چھپے حور کے ایک ایک سوال کا جواب نہایت دلچسپی سے پڑھا تھا ۔۔۔ ان سوالات کے جوابات پڑھے بنا بھی رضا کو اس لڑکی کی قابلیت اور ذہانت پر کوئی شبہ نا رہا تھا۔۔۔ مگر یہ اکیدمی میں اپنے حریف سے ملاقات سے پہلے اسے جج کرنے کی ایک لاشعوری کوشیش تھی۔۔۔

اس کے بعد وہ ڈی ایم جی کی ایلوکیشن پر ایک مرتبہ پھر سے پہلے نمبر پر تھی۔۔۔رضا کے کامن کے سترہ لوگ ڈی ایم جی میں جا پائٙے تھے اور سترہ ایلائٹ کے اس گروپ میں وہ محض ایک لڑکی تھی۔۔۔ اور یہ تیسری بار تھا جب اخبار میں رضا کا نام اسکے نام کے نیچے تھا۔۔۔ اور یہ ہی چیز رضا کے اندر ایک ان دیکھی رقابت کو پیدا کر رہی تھی۔۔۔۔

******

آج نوفل درانی کے لئے جشن کا دن تھا اسکی پلانینگ سپر ہٹ گئ تھی۔۔۔ اس لڑکی کی آنکھوں میں نمی اور جھکا سر اسکے اندر ایک عجیب سرشاری کی کیفیت پیدا کر رہی تھی۔۔۔ وہ اس لڑکی کو بے بسی کی ایسی ہی انتہاوں کو چھوتا دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔ شمائل کی آنکھوں کی نمی اسکے اندر بھرکتے شعلوں پر ٹھنڈی پھوار کی مانند گر رہی تھی۔۔۔۔ اب شمائل حسن کا یہ یونیورسٹی میں آخری دن تھا یہ طے شدہ بات تھی۔۔۔ نوفل درانی کے روم روم میں سکوں کی لہریں سرائیت کرتی جا رہی تھیں۔۔۔ آخر کیا سوچ کر اس لڑکی نے نوفل درانی کے گریبان پر ہاتھ ڈالا تھا۔۔۔ کیا وہ اپنی اوقات بھول گئ تھی اگر ہاں تو نوفل درانی ایسے لوگوں کو انکی اوقات یاد کروانا اچھے سے جانتا تھا۔۔۔

آخر اس محترمہ کی اوقات تو اتنی ہی تھی کہ نوفل درانی کے ایک ہی وار میں بے طرح ڈھ گئ تھی۔۔۔۔ وہ قہقے لگاتا محظوظ ہو رہا تھا جب یکدم علایہ بھاگتی ہوئی اسکے پاس آئی۔۔۔

دیکھو نوفل میں نے جو بھی کیا تمہارے کہنے پر اور اپنی دوستی نبھانے کی خاطر کیا۔۔۔ مگر اگر اس سب کا میرے کیریر پر کوئی اثر پڑا تو یاد رکھنا میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔ علایہ کا گھبرایا اور ہراسان چہرا نوفل کو شدت سے کچھ غلط ہونے کا احساس دلا گیا ۔۔۔۔ لمحے میں اسکے چہرے کی مسکراہٹ سمٹی تھی۔۔۔

کیا مطلب۔۔۔

مطلب یہ کہ وہ لڑکی شمائل ہماری سوچ سے زیادہ تیز ہے۔۔۔ مجھے نہیں پتہ کہ اسنے کیا کیا مگر ساری بازی پلٹ چکی ہے۔۔۔ علایہ بات کرنے کے دوران بار بار لبوں پر زبان پھیرتی پیچھے پلٹ کر دیکھ رہی تھی۔۔۔

ناجانے کیا کر کے اسنے اپنا سارا ریکارڈ کلیئر کروا لیا ہے اور ستم یہ کہ وہ پورے سٹاف کے سامنے یہ ثابت کر چکی ہے کہ چوری اسنے نہیں بلکہ میں نے کی ہے اور خود کو بچانے کی خاطر عین موقع پر بریسلیٹ اسکے بیگ میں ڈال دیا۔۔۔

وہ بری الزمہ ہوگئ ہے۔۔۔ پرنسپل صاحب نے پورے سٹاف کے سامنے اس سے معذرت کی ہے اور مجھے آفس میں بلوایا گیا ہے۔۔۔ کیا تم تصور کر سکتے ہو اس رسوائی کا جو میں تمہاری وجہ سے فیس کروں گی میرا تو سٹاف کا سامنا کرنے کے خیال سے ہی شرم سے ڈوب مرنے کا دل چاہ رہا ہے کجا کہ بات یونیورسٹی میں پھیلی تو۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔ کچھ کرو نوفل۔ میں تمہیں بتا رہی ہوں نوفل اگر بات بڑھی تو میں تمہارا نام لینے سے دریغ نہیں کروں گئ۔۔۔ وہ بے بسی و ہتک اور غصے کے ملے جلے تاثرات سمیٹ انگشت اٹھا کر نوفل کو وارن کرتی وہاں سے چلے گئ تھی۔۔۔ جبکہ نوفل کے چہرے پر بھی پریشانی کے سائے لہرانے لگے تھے۔۔۔ اسنے اس لڑکی کو ہلکا لیا تھا وہ واقعی اسکی سوچ سے زیادہ شاطر تھی۔۔۔ مگر سب سے اہم بات تو یہ ہی تھی کہ وہ انکی پلانینگ سے آگاہ کیسے ہوئی اور اگر ہو گئ تھی تو اسنے وہ بریسلیٹ چیکنگ سے پہلے اپنے بیگ سے کیوں نا نکالا۔۔۔۔ سب سے بڑی بات کہ وہ اتنی آسانی سے علایہ پر چوری کیسے ثابت کر گئ تھی حالانکہ انہوں نے تو بہت اختیاط سے کام لیا تھا۔۔۔۔ انگلیوں کے نشان تک نا چھوٹیں اسی غرض سے گلوز کا استعمال کیا گیا تھا تو پھر۔۔۔۔

کیا شمائل حسن کوئی بھوت تھی یا تنتر منتر جانتی تھی۔۔۔ کیا چیز تھی وہ۔۔۔ وہ جتنا اس عام سی لڑکی کے بارے میں سوچ رہا تھا اتنا ہی الجھتا جا رہا تھا وہ لڑکی اسکے حواسوں پر سوار ہونے لگی تھی۔۔۔ نوفل کو اپنے ماتھے پر ننھے ننھے پسینے کے قطرے نمودار ہوتے محسوس ہوئے۔۔۔ ابھی تو اسے سب سے پہلے علایہ کو اس مس سے نکالنا تھا جہاں وہ اسکے باعث پھنسنے والی تھی۔

*****،*

جھکے سر اور نم آنکھوں کے ساتھ پرنسپل کے دفتر جانے والی شمائل حسن مسکراتی آنکھوں اور اٹھے سر کیساتھ وہاں سے نکلی تھی۔۔۔

کلاس کی دوسری لڑکیوں کے ذریعے حرا تک یہ بات پہنچ گئ تھی اور وہ بنا اپنی طبیعت کی پرواہ کئے پہلی فرصت میں وہاں پہنچی تھی۔۔۔۔

تم ٹھیک ہو شمائل۔۔۔ وہ کافی دیر سے اسکے آفس سے نکلنے کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔ جیسے ہی وہ آفس سے باہر نکلی حرا دوڑ کر اس تک پہنچی تھی۔۔۔ میں تو ٹھیک ہوں مگر تم یہاں کیسے شمائل اسے غیر متوقع طور پر وہاں دیکھ کر ٹھٹھکی۔۔۔

یہ اہمیت نہیں رکھتا فلحال تم مجھے یہ بتاو کہ ہوا کیا تھا اور۔۔۔ حرا کی بے چینی فطری تھی اسکا بس نا چل رہا تھا کہ لمحوں میں اس سے الف تا یے بات جان لے۔۔۔

حوصلہ رکھو حرا سب بتاوں گئ مگر کلاس لینے کے بعد ۔۔۔ شمائل کے اتنے ٹھنڈے انداز میں کہنے پر حرا نے تعجب سے اس لڑکی کو دیکھا جو بڑے سے بڑے مسلے کو سر پر سوار نہیں ہونے دیتی تھی یا شاید وہ اپنا آپ کسی پر ظاہر نا کرتی تھی۔۔۔

بے ساختہ حرا کو اس پر رشک آیا جو اتنا بڑا حادثہ ہونے کے باوجود بھی مکمل یکسوئی سے اگلی کلاس لینے چل دی تھی۔۔۔

دور کھڑے نوفل نے اسے شان سے جاتا دیکھ مٹھیاں بھینچی تھی۔۔۔ نوفل درانی کے مد مقابل آنے کی جسارت خود شمائل حسن نے کی تھی اب خمیازہ تو اسے بھگتنا ہی پڑے گا اور اگلی بار نوفل درانی کا وار اتنا کاری ضرور ہوگا کہ وہ چاہ کر بھی خود کو بچا نا پائے گئ۔۔۔ نوفل درانی کے دماغ نے ابھی سے آگے کے تانے بانے بننے شروع کر دیئے تھے۔۔۔

******

آج ان بے حسوں کے گھر میں صف ماتم بچھی تھی۔۔۔۔ فاطمہ اپنی اس ننھی کلی کو یوں مرجھائے موت کی آغوش میں لیٹے دیکھ اس سے لپٹ لپٹ کر دھاریں مار کر رو دی تھی۔۔۔ سمیرا کو اس حالت میں دیکھ اسکا کلیجہ پھٹ رہا تھا۔۔۔۔

ہائے میری معصوم بچی۔۔۔۔ اسکا غم ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔ اندھیر مچا تھا وہاں اندھیر کم از کم فاطمہ کو تو ایسے ہی لگا ۔۔۔۔

آج صبح سے گرمی روزمرہ کے مطابق کچھ زیادہ ہی تھی صبح کے آٹھ بجے ہی دھاتی گولا سر پر آن کھڑا ہوتا مستقل مزاجی سے آگ برسانے لگا تھا گویا شام سے پہلے وہ وہاں سے ہلنے کو تیار نہ ہو۔۔۔۔ آج فاطمہ نے گھر بھر کے کپڑے دھونے کی خاطر مشین لگائی تھی یہ کام فاطمہ اور رقیہ دونوں کے سر واجب الادا تھا مگر رقیہ طبیعت خرابی کے باعث آرام کر رہی تھی جو کہ اکثر ایسے موقع پر اسکی ہو ہی جاتی تھی۔۔۔۔ فاطمہ صبح صبح ہی اس کام میں مشغول ہو گئ تھی کہ اسکے پاس انکار کا کوئی جواز نا تھا۔۔۔

درمیان میں گڑیا کے بار بار رونے سے وہ اسکی جانب متوجہ ہو جاتی سمیرا زنیرا اور عمیرا کو کبھی ناشتہ کرواتی اور کبھی انکی کوئی ضروریات پوری کرتی یوں اسکا کام لمبا ہی ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔ اللہ اللہ کر کے گڑیا سوتی تو وہ تیزی سے کام نپٹانے کی کوشیش کرتی وہ اٹھ جاتی تو اسکا کافی وقت گڑیا کے ساتھ صرف ہو جاتا۔۔۔۔

سمیرا صبح سے ہی اپنے ننھے ننھے معصوم ہاتھوں کیساتھ ماں کیساتھ مل کر کام کروا رہی تھی۔۔۔ چیز یہاں سے اٹھا کر وہاں رکھنا اور بالخصوص اس آگ برساتی گرمی میں فاطمہ کو بار بار پانی پلانا۔۔۔ فاطمہ کو اس کی موجودگی سے کافی آسانی ہوئی تھی۔۔۔۔

تقریباً دس ساڑھے دس بجے تک چھوٹی تینوں بچیوں کو نہلا کر انہیں کھانا کھلا کر وہ سلا چکی تھی جبکہ سمیرا ابھی تک وہیں اسکے ساتھ کام کروا رہی تھی۔۔ جب اچانک کام کرواتے وہ گویا ہوئی۔۔

امی میں دکان سے چیز لے آوں۔۔۔ لے آو۔۔۔۔ فاطمہ نے بے دھیانی میں اسے کام میں مگن ہی جواب دیا ۔۔۔ سبھی بچوں کے سونے کے بعد اب اسے جلد سے جلد کام مکمل کرنے کا موقع ملا تھا وہ بچوں کے اٹھنے سے پہلے کام مکمل کرنا چاہتی تھی۔۔۔

وہ ہر چیز بھلائے بس کام میں مگن تھی تقریباً دو بجے کے قریب اسکا کام مکمل ہوا تھا سب بکھیرا سمیٹ کر خود نہا کر اسے کمرے میں آتے آتے اسے تین بج گئے تھے۔۔۔ بچے سو کر اٹھ چکے تھے اور اب وہیں بیٹھے کھیل رہے تھے جبکہ گڑیا بھی انکے ساتھ کلکاریاں مارتی کھیل رہی تھی۔۔۔ مگر سب کے درمیان سمیرا کو نا پا کے اسکا دل دھک سے رہ گیا تھا۔۔۔

سمیرا کہاں تھی۔۔۔ وہ تو دس ساڑھے دس بچے دکان پر گئ تھی اور اب دوپہر کے تین بج رہے تھے۔۔۔۔ دل ڈوب کر ابھرا تھا گردن میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی تھی۔۔۔

زنیرہ سمیرا کہاں ہے۔۔۔۔ اسنے حفظ ماتقدم کے طور پر زنیرہ سے پوچھآ۔۔۔۔ پتہ نہیں امی ۔۔۔۔ اس جواب نے اسکے جسم سے روح کھینچ لی تھی۔۔۔

وہ کپکپاتی ٹانگوں سمیٹ باہر صحن میں آئی سبھی گھروالے اپنے اپنے کمروں میں بند کواڑوں کے پیچھے محو استراحت تھے۔۔۔

وہ کسی کو بھی جگا کر سارا معاملہ سمجھاتے مزید دیر نہیں کر سکتی تھِی۔۔۔۔ وہ بعجلت اندر سے چادر اٹھاتی بنا کسی کی پرواہ کئے خود ہی گھر سے باہر نکلی۔۔۔۔ ہر طرف چلچلاتی دھوپ میں ہو کا عالم تھا ہر جانب سناٹا چھایا تھا ہر زی روح اس عالم میں اپنے گھروں میں گھسے محو استراحت تھا۔۔۔

سوکھے ہونٹوں پر لب پھیرتے اور خزاں رسید پتے کی مانند کپکپاتے دل کیساتھ اسکے قدم مزید تیز ہو گئے تھے اسے راستے میں کہیں سمیرا دکھائی نا دی۔۔۔

دکان تک پہنچ کر گویا جیسے کسی نے اسکے دل کو مٹھی میں لے کر زور سے مسلا ہو کیونکہ دکان بھی اس ہو کے عالم میں بند تھی۔۔۔ اسکا دل وہیں چوپال میں بیٹھ کر دھاریں مار مار کر رونے کو چاہا۔۔۔

بہتے آنسووں کیساتھ وہ انہیں قدموں پر واپس گھر کی جانب بھاگی۔۔۔۔

اماں۔۔۔ اماں۔۔۔۔ اسنے بدحواسی میں چیختے ہوئے ساس کے کمرے کا دروازہ ڈھرڈھرایا تھا۔۔۔

یا وحشت۔۔۔ کیا موت آن پڑی ہے۔۔۔ بی بی خانم خاصے غصے میں کمرے سے باہر نکلی ۔۔

بی بی خانم میری سمیرا۔۔۔۔۔ اسنے سسکتے ہوئے بی بی خانم کو مختصراً سارا ماجرا کہہ سنایا۔۔۔

ایک کام تم سے دھنگ سے نہیں ہو سکتا فاطمہ۔۔۔۔ تم ماں ہو ۔۔۔ مائیں اتنی بھی غیر زمہ دار ہوتی ہیں بچی صبح سے غائب ہے اور تمہیں پنے آپ سے فرصت نہیں کہ خیال ہی رکھ سکو کہ بچی کہاں ہے۔۔۔

تو طے ہوا وہاں اس گھر میں سبھی غلطیاں روز اول سے ہی اسکے کھاتے میں جلی حروفوں میں کندا تھی۔۔۔۔ بھرائی آنکھوں سے وہ محض ساس کا چہرا ہی دیکھ کر رہ گئ کہ ہر غلطہ ہر گناہ اسی کے نامہ اعمال میں درج تھآ۔۔۔

اسکی پہلی غلطی یہ ہی تھی کہ اسنے چار بیٹیاں پیدا کئیں ۔۔۔ اسکی دوسری غلطی یہ تھی کہ وہ اس گھر کو اس گھر کا نام لیوا ایک وارث نہ دے پائی ۔۔۔۔ اسکی تیسری غلطی یہ تھی کہ وہ ساس کو خوش کرنے کی خاطر دن رات ہر چیز اپنی اولاد حتی کہ اپنا آپ بھی نظر نداز کٙئے کولہوں کے بیل کی مانند جتی رہتی تھی۔۔۔۔ وہ اپنی غیر ہوتی حالت کے ساتھ کسی سے بحث کرنے کی ہمت بھی خود میں مفقود پاتی تھی۔۔۔

دل میں نشر سے چبھ رہے تھے ۔۔۔ باقی سب گھر والے بھی صحن میں جمع ہو گئے تھے اسنے رقیہ کے سب سے چھوٹے بیٹے عتیق کو آفتاب کو بلانے کے لئے بھیجا۔۔۔

لمحوں میں یہ بات پورے گاوں میں جنگل میں آگ کی مانند پھیلی تھی۔۔۔۔ آفتاب بھی بیٹی کا سنتا حواس باختہ سا گھر بھاگا چلا آیا ۔۔۔۔۔

اسنے گاوں کا کونہ کونہ چھان مارا تھا مگر سمیرا کا کہیں کچھ پتہ نا چل رہا تھا۔۔۔ بے بسی سی بے بسی تھی۔۔۔ بلآخر جاتے دن اور آتی رات کے ملاپ کے وقت جب پرندے جوک در جوک اپنے گھروں کی جانب محو پرواز تھے تب سمیرا کی لاش گاوں کے پاس سے گزرتے کھالے سے ملی تھی اور اسکی حالت ایسی تھی کہ بے ساختہ اسکی جانب دیکھتے آفتاب کی اپنی آنکھیں جھک گئ تھیں۔۔۔۔

اسکی حالت اپنے ساتھ ہوئے ظلم کی چیخ چیخ کر داستان سنا رہی تھی۔۔۔۔ معصوم ننھی بیٹی کو اس حالت میں دیکھ کر فاطمہ پر غشی طاری ہو رہی تھی۔۔۔۔ اسکا دل چاہا کہ بیٹی کیساتھ وہ بھی مر جائے کیا کرے گی وہ اسکے بنا جی کر۔۔۔۔۔

نہیں ۔۔۔ ایسا مت کرو۔۔۔ کہاں لے جا رہے ہو اسے تنہا۔۔۔ وہ بہت چھوٹی ہے۔۔۔ وہ تو اندھیرے سے بہت جلدی ڈر جاتی ہے۔۔۔ بہت کمزور دل ہے میری بیٹی۔۔۔ وہ تو چھوٹی چھوٹی باتوں پر میری جانب تکتی ہے۔۔۔ اسے مت لے کر جاو۔۔۔ کیا کرے گی وہ تنہا وہاں۔۔۔۔ اسے بھوک لگی تو کون کھانا دے گا اسے۔۔۔ اسے مت لے کے جاو۔۔۔ مجھے بھی ساتھ لیجاو میری بچی کے۔۔۔ میں نہیںنننن رہ ہ ہ ہ سکتی اکیلی ی ی ی ی۔۔۔ نہین ۔۔۔ میری شہزادی ی ی ی ی۔۔۔ میری بچی ی ی ی ی ی۔، وقت رخصت وہ یوں دھاریں مار کر روی تھی کہ۔خانم بی بی جیسی سخت دل عورت کی آنکھ نم کر گئ تھی۔۔۔ آج وہ لٹ گئ تھی۔۔۔۔ دن دوپہر اسکی گود اجاڑ دی گئ تھی۔۔۔ اسے بھری دنیا میں کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا کچھ سجھائی نہیں دے رہا۔۔۔۔ دنیا کہ لئے وہ بیٹی تھی پر اس کے لئے وہ اسکی کل کائنات تھی۔۔۔ دل کو کھینچ لگ رہی تھی جو اندر سینے میں ایک بے بس پنچھی کی مانند پھڑپھڑا رہا تھا۔۔۔ صبر کر بیٹی صبر۔۔۔ کسی نے اسے ساتھ لگاتے صبر کی تلقین کی تھی۔۔۔ مگر ہر بات پر صبر کرنے والی اپنے اوپر ہوئی ہر زیادتی کو خاموشی سے سہہ جانے والی کو آج لگا کہ جیسے وہ صبر کے نام سے ہی پہلی مرتبہ آشنا ہوئی ہو۔۔۔ یہ وار بہت کاری تھا یہ ضرب اسے ریزہ ریزہ کر گئ تھی۔۔۔ صابرو شاکر اس بندی کی زبان پر آج اپنی بیٹی کے مجرم کے لئے بددعائیں تھیں۔۔۔

مسلسل گریہ و زاری سے ایک مرتبہ پھر سے اس پر غشی طاری ہو گئ تھی مجمعے میں ہلچل مچ گئ تھی۔۔۔

******