Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gumaan Se Agy (Episode 2)

Gumaan Se Agy By Umme Hania

نومولود بچی کا رو رو کر گلا سوکھ چکا تھا جب آفتاب نے نم آنکھیں پونچھتے آگے بڑھ کر اس ننھی جان کو اٹھا کر سینے سے لگایا۔۔۔

بس کر جا بے غیرتا چوتھی بیٹی ہے یہ بیٹا نہیں جسے یوں خود سے لپٹائے پیار کر رہا ہے۔۔۔ جاوید ناجانے کس وقت گھر آیا تھا لیکن چھوٹے بھائی کو بیٹی کو سینے سے لگائے حقارت و تنفر سے اسے دیکھتا گویا ہوا۔۔۔۔

آفتاب بحث میں پڑتا بات کو مزید طول نہیں دینا چاہتا تھا۔۔۔ اس لئے خاموشی سے بچے کو اٹھائے کمرے کی جانب بڑھا ۔۔۔ بس زن مرید ہی بنے رہنا بے غیرت انسان زرا جو کبھی غیرت جاگے تیری۔۔۔ اس منحوس عورت سے ملا ہی کیا ہے تجھے آج تک۔۔۔ بیٹیوں کی لائینیں لگا کر رکھ دی بدبخت نے۔۔۔ ایک بیٹا جو یہ دیے سکی ہو تجھے۔۔۔ نا میں کہتی ہوں رکھا کیوں ہوا ہے تو نے اسے ۔۔۔ابھی تین کاغذ پکڑا اس منحوس کے ہاتھ میں اور ان منحوسیت کی پوتلیوں کو بھی ساتھ ہی چلتا کر اسکے۔۔۔ تجھے رشتوں کی کمی نہیں ہے۔۔۔۔ میں کل ہی شمو کو تیری بیوی بنا لاوں گئ۔۔۔

بی بی خانم کو یہ بیٹے کا یہ طرز عمل ایک آنکھ نا بھایا تھا۔۔۔ اسے تو آفتاب کا بیٹیوں کو پیار کرنا انکے لاڈ اٹھانا بھی نہایت ناگزیر گزرتا تھا مگر وہ بھی ناجانے کس پر گیا تھا جو خاندان کے مردوں کے اوصاف میں سے ایک صفت نا تھی اس میں۔۔۔

نا تو باقیوں کی طرح وہ چھوٹی چھوٹی بات پر بیوی کو دھنک کر رکھتا تھا اور نا ہی کسی اور کو بلخصوص اپنی ماں کو بھی اسے ہاتھ لگانے دیتا تھا۔۔۔

شوہر کی طرف داری کیساتھ ساتھ پے در پے بیٹیوں کی پیدائش نے فاطمہ کو مزید بی بی خانم کی نگاہوں میں معتوب ٹھہرایا تھا اسی لئے وہ ہر وقت انکے عتاب کا نشانہ بنی رہتی تھی وہ الگ بات کہ بات صرف زبانی کوسنوں اور بددعاوں تک ہی رہتی ۔۔۔

آفتاب تو اپنے سامنے کسی کو بھی اپنی بچیوں کو افف تک نہیں کہنے دیتا تھا۔۔۔۔ وہ ایک محنتی انسان تھا اور بساط بھر کام سے واپسی پر ضرور بچیوں کے لئے کچھ نا کچھ لے کر آتا۔۔۔۔ بچیاں بھی سارا دن گھٹن زدہ ماحول میں رہتی سر شام ہی باپ کے انتظار میں رہتیں جیسے ہی آفتاب گھر داخل ہوتا وہ تینوں کھل اٹھتی تھیں۔۔۔

یہ لو فاطمہ بچی کو بھوک لگی ہے اسے دودھ پلاو۔۔۔۔ آفتاب نے کمرے میں داخل ہوتے ہونٹ بھینچے تکلیف کی شدت کو برداشت کرتی بامشکل بیڈ پر بیھٹی بیوی کی جھولی میں بیٹی کو لٹایا تو اسکے آنسو مزید شدت اختیار کر گئے تھے۔۔۔

مجھے معاف کر دیں سائیں میں آپکو بیٹا نہیں دے سکی۔۔۔۔ بیوی کی شکستہ و دلبرداشتہ نمی گھلی آواز پر آفتاب نے تڑپ کر اسے دیکھا۔۔۔

کیسی باتیں کرتی ہو فاطمہ۔۔۔ یہ تو رب کی دین ہے اس پر انسانوں کا زور بھلا کہاں چلتا ہے۔۔۔ بیٹی تو رحمت ہے نا۔۔۔ میرے اللہ نے مجھے مزید ایک رحمت سے نوازا ہے۔۔۔ میں اسکی ناشکری نہیں کرسکتا۔۔۔ آواز کیساتھ ساتھ آنکھ اسکی بھی نم تھی مگر وہ مرد تھا ضبط کر گیا تھا۔۔۔

دنیا کہاں کسی دین کو مانتی ہے سائیں دنیا کے لئے تو بیٹی رحمت نہیں زحمت ہے۔۔۔۔ یہ دنیا جینے نہیں دیتی۔۔۔ اسکے بہتے خاموش آنسو چہرے سے پھسل پھسل کر گرتے بچی کے چہرے کو بگو رہے تھے۔۔۔

دنیا کے وار بہت کاری ہوتے ہیں فاطمہ یہ واقعی جینے نہیں دیتی مگر دنیا کے کہنے پر مرا بھی نہیں جاتا۔۔۔ ہمت تو پکڑنی ہو گئ اپنے لئے نہیں تو اپنی بیٹیوں کے لئے ہی سہی۔۔۔۔ وہ خود اس وقت اعصاب شکن مراحل سے گزر رہا تھا ماں اور بھائی کیساتھ ساتھ گاؤں والوں کا رویہ بھی اس کے ساتھ خاصہ قابل مذمت تھا ۔۔۔۔ اسے دیکھتے ہی لوگ آپس میں چہ مگویاں کرنے لگتے تھے گویا بیٹیوں کا باپ ہونا اس کے لئے جرم بن گیا تھا ۔۔۔ ایسے واقعے وہاں گاؤں میں آئے دن ہوتے تھے جہاں شوہر عورت کو بیٹیاں پیدا کرنے کے جرم میں طلاق دیتا اپنے گھر سے فارغ کر دیتا تھا یہ ان کے لئے ایک غیرت مندانہ عمل تھا ۔۔۔۔مرد وہاں اپنی غیرت اور مردانگی ایسے ہی چھوٹی چھوٹی بات پر عورت پر ہاتھ اٹھا کر ظاہر کرتے تھے۔۔۔

یہاں بھی لوگ آفتاب سے ایسی ہی امید لگائے بیٹھے تھے لیکن آفتاب کی خاموشی اور بچیوں سے لگاؤ اب انہیں آفتاب کو ان کی نظروں میں خاصہ مضاحکہ خیز بنا رہا تھا ۔۔۔

کچھ نام سوچا ہے تم نے بچی کا آفتاب نے موضوع بدلنے کی خاطر بیوی سے دریافت کیا ۔ میری تو سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مفلوج ہوگئی ہیں سائیں نام کیا خاک سوچو گی فاطمہ نے بچی کا منہ صاف کیا جو کہ دودھ پیتی پیتی سو چکی تھی اور اسے اپنے پاس ہی بیڈ پر لٹایا ۔۔

گڑیا کیسا نام ہے بالکل میری شہزادی کی شخصیت سے میل کھا رہا ہے آفتاب کی آنکھیں ایک بار پھر سے بھر آئی تھی اس نے بالکل حوروں جیسی سرخ و سپید رنگت کی حامل گول مٹول سی بچی کو دیکھتے پدرانہ شفقت کے ہاتھوں مجبور ہو کر کہا۔۔۔۔

ایک دم باہر سے آتی آوازوں پر وہ دونوں باہر کی جانب متوجہ ہوئے جہاں پر اب محلے کی عورتیں بی بی خانم کے پاس ان کے گھر چوتھی بیٹی کی پیدائش کا افسوس کرنے آرہی تھی اور بی بی خانم بھی سینہ کوبی کرتی ان سب سے ہمدردیاں بٹور رہی تھی۔۔۔

آفتاب کے لیے اب یہ سارا عمل نہ قابل برداشت ہوتا جا رہا تھا اس لیے وہ فاطمہ سے نظریں چراتا چپ چاپ اٹھ کر باہر نکل گیا کیونکہ اگر ایسا نا کرتا تو ایک بار پھر سے زن مرید جیسے القابات سے نوازا جاتا۔۔۔۔۔۔ جبکہ بے بسی کے شدید احساس تلے دبتے فاطمہ کی آنکھوں سے بے آواز آنسو پھر سے بہنے لگے تھے ۔۔۔۔ وہ دیکھ سکتی تھی کہ اس کے لئے آگے زندگی کن مشکلات کا شکار ہو سکتی تھی زندگی تو آسان نہیں رہی تھی لیکن وہ اپنے رب کی شکر گزار تھی جس نے اسے ایک قدر دان اور عزت کرنے والے شوہر کا ساتھ عطا کیا تھا ۔۔۔۔ جس کا ہاتھ تھام کر چلتے کئ کھٹن مسافتیں بھی ہمت سے کٹ گئ تھیں وہ شخص واقعی اسکے لئے اور اسکی بیٹیوں کے لئے سایہ دار شجر ثابت ہوا تھا جس کے سائے تلے وہ خود کو پرسکون محسوس کرتیں تھیں۔ ۔۔

******

سورج تیزی سے اپنی مٹیالی کرنوں کو سمیٹتا رختے سفر باندھ رہا تھا ۔۔۔ وہ اپنے کمرے میں سنگل بیڈ پر ٹانگیں لٹکا کر بیٹھی دیوار میں نصب کھڑکی کے کھلے پٹوں سے باہر سہانی شام کے اترنے کا منظر نہایت غیر دلچسپی سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ درحقیقت وہ دیکھ باہر رہی تھی لیکن ذہن کسی اور سوچ میں الجھا ہوا تھا ۔۔۔ دماغی طور پر اس کا ذہن صبح ہوئے نوفل سے ٹکرا والے واقعے میں ہی الجھ کر رہ گیا تھا جو بار بار اس کے اندر اشتعال انگیزی کو بڑھاتا ہے اس میں دوڑتے لہو میں ابال ڈال رہا تھا ۔۔۔۔۔ ٹانگ پر ٹانگ جمائے اس کا مسلسل ہلتا پاوں اس کے اندر کی اضطراری کیفیت اور شدید ہیجان کو ظاہر کر رہا تھا۔۔۔۔۔

دیکھئیے آپ یہاں بیٹھیے اور پانی پئیں وہ لڑکی جس کا نام حرا تھا وہ اس کی بازو کو کھینچتی اس مجمعے کو چیرتی اسے گراؤنڈ کے ایک طرف لے کر آتی گھاس پر بٹھا کر اپنی بوتل کا ڈھکن کھولتی اسے پیش کر چکی تھی ۔۔۔۔ شمائل بھی اپنے حواس بحال کرتی اس سے بوتل پکڑ کر ایک سانس میں ہی چڑھا گئی ۔۔۔۔

آپ فریشر ہیں۔۔۔۔ میرا نام حرا ہے میں بھی یہاں پر نئ ہوں ۔۔۔۔لیکن میری کزن یہاں پر ہم سے سینئر ہے جو لڑکا ابھی آپ سے ٹکرایا اس کا نام نوفل ہے اور وہ میری کزن کا کلاس فیلو ہے ۔۔۔ وہ اسے پانی پی کر کچھ پر سکون ہو کر بیٹھتا دیکھ کہنے لگی ۔۔۔۔ پہلے ہی دن میری کزن نے مجھے وارن کر دیا تھا کہ غلطی سے بھی اس شخص سے الجھنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ ایک امیر باپ کی اولاد ہے۔۔۔۔ جس کی وجہ سے اس کے لئے حرام حلال سب جائز ہے ۔۔۔ وہ ایک نہایت گھمنڈی اور سر پھرا شخص ہے جو بات ایک بار تھان لیتا ہے اسے کر کے ہی دم لیتا ہے ۔۔۔ آپ مجھے دیکھنے میں اچھے گھر کی لگتی ہیں اور میں آپ کو اس شخص سے بحث کرتا دیکھ رہ نہیں پائی اس لیے بنا کسی کی پرواہ کیے آپ کو وہاں سے کھینچ لائی کیونکہ میرے خیال سے اس سے الجھ کر آپ غلط کر رہی ہیں کیونکہ کہتے ہیں کہ کیچڑ میں کنکر پھینکنے سے دامن اپنا ہی گندا ہوتا ہے اس گھمنڈی شخص کا کچھ نہیں جائے گا لیکن وہ اختیارات و امارت کی فراوانی کے باعث ان کا غلط استعمال کرتا آپ کے پاس کچھ رہنے نہیں دے گا ۔۔۔۔ اس لیے میرا آپ کو مخلصانہ مشورہ یہی ہے کہ آپ جتنا ہو سکے اس سے دامن بچا کر رکھیں اس سے کنارہ کشی اختیار کئے رکھیں کیونکہ وہ پہلے بھی کئی لڑکیوں کی زندگی برباد کر چکا ہے۔۔۔۔ شمائل نے اس کی ہر بات تحمل اور خاموشی سے سنی تھی نہ کوئی تائید اور نہ ہی تردید وہی آنکھیں اور کان کھلے رکھنے اور منہ بند رکھنے والی نصیحت پر عمل پیرا تھیں۔۔۔ حرا اس کے سپاٹ چہرے سے اس کے اندر کا حال جاننے میں ناکام رہی تھی ۔۔۔۔۔

آپ چلے میرے ساتھ کلاس کا وقت ہونے والا ہے مجھے تمام کلاس اور ان کے شیڈیول کے بارے میں علم ہے میں آپ کو بھی گائید کرتی ہوں ۔۔۔۔ حرا کے آٹھ کھڑے ہونے پر وہ بھی خاموشی سے اپنی چیزیں سمیٹتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی اس کے بعد اس نے صبح کے واقعے کو بنا سر پر سوار کیے ایک کے بعد دوسری کلاس پوری یکسوئی سے لی تھی ۔۔۔۔ حرا اس کی کلاس فیلو تھی اور اس کا تعلق اوکاڑہ سے تھا جس کے باعث وہ اس کے ساتھ ہی ہاسٹل پزیر تھی لیکن وہ اس کی روم میٹ نہیں تھی ۔۔۔۔ آج کے پورے دن میں دوبارہ اس کا نوفل سے سامنا نہیں ہوا تھا لیکن وہ اس گھمنڈی شخص کو اپنے ذہن سے نکال بھی نہیں سکی تھی یہی وجہ تھی کہ اب ہاسٹل میں اپنے بیڈ پر بیٹھی بھی وہ مسلسل اس شخص کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔۔۔ اس کا سارے کا سارا سامان ویسے کا ویسا ہی بیگوں میں مقید اس کے نظر کرم کا منتظر پڑا تھا۔۔۔

ایک بات تو تھی کہ وہ اس گھمنڈی شخص کے ساتھ ایک یونیورسٹی میں نہیں پڑھ سکتی تھی ۔۔۔ لاہور کی پنجاب یونیورسٹی میں اس کا داخلہ میرٹ کی بنیاد پر سکالرشپ پر ہوا تھا تو یہ بات بھی تھی کہ وہ کسی بھی صورت یونیورسٹی چھوڑ کر نہیں جا سکتی تھی کیونکہ اس کے سوا اس کے پاس کوئی دوسرا آپشن نا تھا۔ ۔۔

لیکن نوفل درانی یونیورسٹی چھوڑ کر جا سکتا تھا اسی صورت وہ وہاں پر پرسکون ہو کر اپنا سلسلہ تعلیم جاری رکھ سکتی تھی لیکن نوفل درانی جیسا امیر باپ کا بیٹا اس کے کہنے پر یونیورسٹی چھوڑ کر کیوں جاتا مطلب کے اسے نوافل درانی کو کسی بھی طرح اس یونیورسٹی سے نکلوانا تھا مگر کیسے ۔۔۔ یہ سوچنا ابھی باقی تھا اسکے زرخیز دماغ میں منصوبوں کی کمی نا تھی لیکن وہ جو بھی کرتی وہ جلد اپنے منصوبے پر عمل پیرا ہونے کی خواہشمند تھیں ۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ نوفل درانی اسے زک پہنچانے کو کوئی انتہائی قدم اٹھاتا اس سے پہلے ہی اسے اپنے لئے حفاظتی بار بنانی تھی۔

*******

نوفل درانی ایک مشہور صنعت کار اور گزشتہ پرائم منسٹر کا اکلوتا بیٹا ۔۔۔۔ دولت جدی پشتی جن کے گھر کی لونڈی تھی۔ ۔۔ بے جا اختیارات دولت کی ریل پیل ضرورت سے زیادہ لاڈ پیار اور آسائشات و تعشات نے اس کی شخصیت پر اپنی گہری چھاپ چھوڑی تھی ہر طرح کی غلط عادات اس کے خون میں رچ بس گئی تھی ۔۔۔ اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ ان غلط عادات کو اس سوسائٹی میں غلط قرار نہ دیا جاتا تھا بلکہ ان کے لیے وہ ایک عام سی بات تھی۔۔۔۔۔ نائٹ کلب جانا شراب نوشی کے ساتھ ساتھ اور بھی تمام اخلاقیات کی پستی کو چھوٹی عادات وہاں کے ٹرینڈ میں شامل تھی ۔۔۔۔

ایس ایچ او سے لےکر ایس پی تک ان کی جیب میں تھے تمام ڈاکٹرز ان کے ایک حکم پر قتل کیس کو خودکشی کے کیس میں تبدیل کر دیتے تھے۔ ۔۔ نوفل درانی جس چیز کی خواہش کرتا وہ اس کے قدموں میں ڈھیر کر دی جاتی تھی جس چیز کو چھونا چاہتا چھو کر سونا بنا دیتا تھا ۔۔۔ اس کے لئے کچھ اس کے اختیار سے باہر نہ تھا وہ ایک با اختیار اور طاقت کے نشے میں سرمست ایسا ہاتھی تھا جس کے لئے کچھ ناممکن نہ تھا تو ایک ایسے شخص کے لئے ایک معمولی سی لڑکی کا اس کے گریبان کو پکڑنا اس کے اندر آتشِ آلاو بھرکا چکا تھا جس کی تپش ہر پل بڑھتی شمائل کو جھلسا کر رکھ دینے کی شدت سے خواہشمند تھی ۔۔۔۔

جب تک وہ اس لڑکی کو نیست و نابود نہ کر دیتا وہ سکون سے نہیں بیٹھ سکتا تھا اس کے اندر دہکتے آلاو پر ٹھنڈی پھواڑ صرف اس لڑکی کی ذلت و رسوائی کے باعث ہی پر سکتی تھی ۔۔۔

اب بھی وہ سپورٹ کار کار پورچ میں کھڑا کرتا نہایت جارحانہ انداز میں اندر داخل ہوا تھا اس کا یہ جارحانہ انداز دیکھتے کسی ملازم نے بھی اس کی جانب بڑھنے کی غلطی نہیں کی تھی۔۔۔۔

کئی کئی سیڑھیاں ایک ہی بار میں پھلانگتا وہ اوپر اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تھا اس کا اضطراب کسی صورت کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔۔۔۔ اسے یہ شکست قطعی قطعی منظور نہ تھی ۔۔۔۔

جیب سے موبائل نکال کر اس نے کھٹا کھٹ ایک نمبر ڈائل کرتے کان سے لگایا دوسری ہی بیل پر فون اٹھا لیا گیا تھا ۔۔۔۔

کیا اپڈیٹ ہے اس لڑکی کے بارے میں ۔۔ فون کے اٹھائے جانے کا تعین کرتے ہی وہ بے تابی سے گویا ہوا۔ ۔۔

ہاتھ ہولا رکھو جگر۔ ۔۔ تم نے دو دن کا وقت دیا تھا۔ ۔۔ دوسری جانب سے خاصہ محظوظ کن قہقہ برآمد ہوا تھا۔ ۔۔ بکواس نہیں کرو سیدھا مدعے کی بات پر آو اشتعال انگیزی میں وہ یونہی سب بچی کچھی اخلاقیات بھی بھول جاتا تھآ۔ ۔۔ ٹھیک ہے اسکی مکمل پروفائیل میں تمہیں ابھی میل کرتا ہوں دیکھ لو۔ ۔۔ اس کے گرم دماغ اور بدلتے موڈ کو دیکھتے ضامن نے سیدھے سے بات کرنے کو ہی ترجیح دی ۔۔۔

ضامن کی بات سنتے اسے کچھ حوصلہ ہوا تھا موبائل بند کرکے بیڈ پر پٹخ کر وہ فریش ہونے کی نیت سے واش روم کی جانب بڑھا ۔ ۔۔

کچھ ہی دیر میں وہ باتھ لے کر ٹراوزر کے اوپر سلیو لیس شرٹ پہننے تولیے سے گیلے بالوں کو رگڑتا واپس کمرے میں آیا تھا ۔۔۔ ٹراوزر شرٹ میں اس کی دراز قامت واضح تھی سلیو لیس شرٹ سے چھلکتے مظبوط بازوں پر مچھلی کے ابھار واضح دکھائی دے رہے تھے۔ ۔۔

وہ اپنی فٹنس اور ظاہری خوبصورتی کے حوالے سے خاصا کانشیئس شخص تھا ۔۔۔۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ہر دم محفل کی جان رہتا۔ ۔۔ نازک دل اس کے قدموں میں لپٹنے کو ہمہ وقت تیار رہتے تھے وہ ان کی ایک نظر التفات کو حاصل کرنے کی خاطر بیتابانہ اس کے گرد پروانے کی مانند گردش کرتے رہتے اور یہ ہی چیز اس کی خود سری اور بد دماغی کو ساتویں آسمان پر پہنچانے میں پیش پیش تھی۔ ۔۔

اور وہ خود وہ شخص تھا جو اپنی خوبصورتی اپنے سٹیٹس اور اپنی امارت کو خوب خوب کیش کرواتا زندگی کے مزے لوٹ رہا تھا ۔۔۔۔

بال بنا کر اس نے انٹرکام اٹھا کر ملازم سے فریش جوس منگوایا اور خود صوفے پر بیٹھتا ٹانگیں کانچ کی میز پر رکھتا لیپ ٹاپ پر برآمد ہونے والی میل چیک کرنے لگا ۔۔۔۔ میل پڑھتے اسکے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ ابھری تھی۔ ۔۔

ہنہہ۔ ۔۔ شمائل حسن۔ ۔۔۔۔ لوئر میڈل کلاس بیک گڑاونڈ۔ ۔۔ شکالرشیپ پر یونیورسٹی آنے والی محترمہ ۔۔۔ اور چلی ہے مجھ سے پنگا لینے۔ ۔۔۔ وہ لیپ ٹاپ بند کرتا طمانیت سے مسکراتا سیدھا ہوا تھا۔ ۔۔ سب کچھ اسکی دسترس میں تھا۔ ۔۔۔ ایسا کیا تھا اسکے پاس جو اسے نوفل درانی کے قہر سے بچا پاتا۔ ۔۔۔

طمانیت سے مسکراتے وہ میز سے موبائل اٹھاتا اس پر ایک نمبر ڈائل کرنے لگا تھا ۔۔ ہیلو زامن آدھے گھنٹے میں علایہ کو لے کر میرے گھر پہنچو۔ ۔۔ شمائل حسن کے لئے پھنڈا میرے پاس تیار ہے بس تم دونوں سے ڈسکس کر کے فائنل کرنا باقی ہے۔ ۔۔ صبح جو ذلت و رسوائی اسکی قسمت میں رقم کی جائے گئ اسکے بعد وہ اپنے ہونے پر بھی پچھتائے گئ۔ ۔۔۔ اسکے لہجے میں اژدہوں سی پھنکار تھی۔ ۔۔ لہجہ اٹل اور ارادے مصمم تھے جیسے وہ کسی بھی صورت اپنے ارادوں سے ایک انچ ہٹنے کو تیار نہ ہو۔ ۔۔۔ ڈئیر شمائل حسن تمہیں اب ذلت و رسوائی کی اتھاہ گہرائیوں سے تمہارا باپ بھی نہیں بچا پائے گا۔ ۔۔

ملازمہ کے دروازہ ناک کر کے اندر آنے پر وہ اسکی جانب متوجہ ہوا۔ ۔۔۔ گرینی جاگ رہی ہیں یا سو گئ۔ ۔۔ ڈش سے جوس کا گلاس اٹھاتے وہ ملازمہ سے مستفسر ہوا۔ ۔۔۔ جی وہ ابھی میڈیسن لے کر سوئی ہیں۔ ۔۔۔

ہممم۔ ۔۔ چلو ٹھیک ہے پھر صبح ہی ملاقات ہو گئ ان سے۔ ۔۔۔

******

شمائل تم سمجھنے کی کوشیش نہیں کر رہی۔ ۔۔۔ دیکھو وہ ایک گھٹیا انسان ہے ایسے انسانوں سے کسی بھی قسم کی گڑاوٹ کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ۔۔ تم اس سے معافی مانگ کر معاملہ رفع دفع کر لو۔ ۔۔ رات کے وقت ہاسٹل کی سبھی لڑکیاں ہاسٹل کی چھت پر براجماں ایک دوسرے کو ڈیئر دیتی نئ نئ ملنے والی آزای کو کھل کر انجوائے کر رہی تھیں جبکہ شمائل نے انکا ساتھ دینے سے صاف انکار کر دیا تھا اب بھی وہ تنہا اپنے کمرے میں بیٹھی کسی گہری سوچ کی عمتیق گہرائیوں میں گم تھی جب حرا اسکے پاس آئی۔ ۔۔

دن بھر کے ساتھ سے ان کے درمیاں ایک بے تکلفی کا رشتہ استوار ہو چکا تھا شمائل اپنی من مونی صورت اور نڈر انداز کے باعث اسے بہت پسند آئی تھی اور اسی باعث اب وہ اسے سنجیدگی سے آگے کے حالات سے آگاہ کر رہی تھی۔ ۔۔

معافی مانگتی ہے میری جوتی۔ ۔۔۔ میں اس گھٹیا شخص پر تھوکوں نا اور تم کہتی ہو اس سے معذرت کر لوں۔ ۔۔ سپاٹ چہرے پر غم و غصے کے تاثرات ابھرے تھے جیسے وہ شعلے اگلتی نگاہوں سے ہی سب بھسم کر دینے کے در پر ہو۔ ۔۔۔

شمائل غصہ مت ہو خدارا میری بات سمجھنے کی کوشیش کرو ۔۔۔۔ سمندر میں رہتے مگرمچھ سے بھلا کیسا بیڑ پالنا۔۔۔ شمائل کو غصے سے کھولتا دیکھ حرا مزید دھیمی پڑتی اسے موقع محل کی نزاکت سمجھانے لگی۔ ۔۔

مجھے تمہارے خلوص پر کوئی شبہ نہیں ہے حرا مگر میں ایسا مر کر بھی نہ کروں۔ ۔۔ غلطی بھی اس گھٹیا شخص کی۔ ۔۔۔ بھرے مجمعے میں اسنے میرے کردار پر انگلی اٹھائی اور معافی بھی میں جا کر اس سے مانگوں۔ ۔۔۔ تمہیں یہ سب مضاحکہ خیز نہیں لگتا۔ ۔۔ وہ بیڈ سے اٹھتی کھڑی کے پاس جاتی مڑ کر طنزیہ گویا ہوئی۔ ۔۔۔

میں تمہاری سبھی باتوں سے متفق ہوں شمائل۔ ۔۔۔ وہ بھی اٹھ کر اسکے پاس ہی کھڑی کے پاس آئی باہر کالا آسمان سفید مکیش کی چادر اوڑھے خوبصورت منظر پیش کر رہا تھا جس کے وسط میں چودھویں کا چاند پورے استحقاق سے براجماں تؑھا۔ ۔۔

مگر بالفرض اگر کل کو وہ شخص اپنے کسی گھٹیا پن پر اتراتا تمہیں زک پہنچانے کی کوشیش کرتا ہے تو پھر تمہارے پاس اپنے دفاع کے لئے کیا ہے۔ ۔۔ حرا کے لہجے میں شمائل کے لئے پریشانی و حراس واضح تھا۔ ۔۔ کچھ دیر تک شمائل بے تاثر چہرا لئے کھڑی رہی پھر پورے اعتماد سے اسکی جانب مری تھی۔ ۔۔۔

Do you worry dear….

میں اکیلی ہرگز نہیں ہوں۔۔۔۔ میرے ساتھ میرا اللہ ہے۔۔۔۔ اور جس کے ساتھ اسکا اللہ ہو تو پھر وہ ان گیڈر بھبھکیوں سے ڈرا نہیں کرتے۔۔

وہ حرا کی نگاہوں میں دیکھتی مکمل اعتماد سے گویا تھی آنکھوں میں وہی مخصوص چمک ابھری تھی جو اسکی آنکھوں کو ہیروں کی مانند چمکتا بنا دیتی تھی۔۔۔۔ لہجے کی پختگی اور یقین ایک پل کو حرا کو لاجواب کر گئے تھے۔۔۔ اللہ تمہارے اس یقین کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔۔۔ آمیں۔۔۔ حرا صدق دل سے اس کے لئے دعا گو تھی۔۔۔

*******